بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ أَبِي إِسْحَاقَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 186
صفحہ 10 از 10
حدیث نمبر: 1619 مسند احمد
يَزِيدُ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1619]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 582، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى معشر.
الحكم: صحيح لغيره، م: 582، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى معشر.
حدیث نمبر: 1620 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ، وَرَجُلٌ يَتَتَرَّسُ، جَعَلَ يَقُولُ بِالتُّرْسِ هَكَذَا، فَوَضَعَهُ فَوْقَ أَنْفِهِ، ثُمَّ يَقُولُ هَكَذَا، يُسَفِّلُهُ بَعْدُ، قَالَ: فَأَهْوَيْتُ إِلَى كِنَانَتِي، فَأَخْرَجْتُ مِنْهَا سَهْمًا مُدَمًّا، فَوَضَعْتُهُ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ، فَلَمَّا قَالَ: هَكَذَا، يُسَفِّلُ التُّرْسَ، رَمَيْتُ، فَمَا نَسِيتُ وَقْعَ الْقِدْحِ عَلَى كَذَا وَكَذَا مِنَ التُّرْسِ، قَالَ: وَسَقَطَ، فَقَالَ بِرِجْلِهِ، فَضَحِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَحْسِبُهُ قَالَ: حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ: قُلْتُ: لِمَ؟ قَالَ: لِفِعْلِ الرَّجُلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو ڈھال سے اپنے آپ کو بچا رہا تھا، کبھی وہ ڈھال کو اپنی ناک کے اوپر رکھ لیتا، کبھی اس سے نیچے کر لیتا، میں نے یہ دیکھ کر اپنے ترکش کی طرف توجہ کی، اس میں سے ایک خون آلود تیر نکالا اور اسے کمان میں جوڑا، جب اس نے ڈھال کو نیچے کیا تو میں نے اسے تاک کر تیر دے مارا، اس سے پہلے میں تیر کی لکڑی لگانا نہ بھولا تھا، تیر لگتے ہی وہ نیچے گر پڑا اور اس کی ٹانگیں اوپر کو اٹھ گئیں، جسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنے ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے، میں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: اس آدمی کی اس حرکت کی وجہ سے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1620]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة محمد بن محمد بن الأسود.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة محمد بن محمد بن الأسود.
حدیث نمبر: 1621 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِهَذَا الدُّعَاءِ، وَيُحَدِّثُ بِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مصعب کہتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ان پانچ کلمات کی تاکید فرماتے تھے اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» اے اللہ! میں بخل اور کنجوسی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، میں بزدلی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، میں گھٹیا عمر کی طرف لوٹائے جانے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، دنیا کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1621]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2822.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2822.
حدیث نمبر: 1622 مسند احمد
حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّي ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّي ، وَأَبُو سَعِيدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: قَدْ قُلْتَ هُجْرًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ حَدِيثًا، وَإِنِّي حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ثَلَاثًا، وَاتْفُلْ عَنْ شِمَالِكَ ثَلَاثًا، وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَلَا تَعُدْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے لات اور عزی کی قسم کھا لی، میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا کہ تم نے بےہودہ بات کہی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے ابھی نیا نیا اسلام قبول کیا ہے، میری زبان سے لات اور عزی کے نام کی قسم نکل گئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین مرتبہ یہ کہہ لو: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ» اور بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دو، اور «اَعُوْذُ بِاللّٰهِ» پڑھ لو، اور آئندہ ایسے مت کہنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1622]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1623 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أُسَامَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ ، سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" خَيْرُ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ، وَخَيْرُ الرِّزْقِ مَا يَكْفِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین ذکر وہ ہے جو خفی ہو، اور بہترین رزق وہ ہے جو کفایت کر سکے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1623]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف. راجع للتفصيل: 1477.
الحكم: إسناده ضعيف. راجع للتفصيل: 1477.
حدیث نمبر: 1624 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ جَوَارٍ، قَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُنَّ عَلَى صَوْتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَبَادَرْنَ، فَذَهَبْنَ، فَدَخَلَ عُمَرُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ:" قَدْ عَجِبْتُ لِجَوَارٍ كُنَّ عِنْدِي، فَلَمَّا سَمِعْنَ حِسَّكَ بَادَرْنَ فَذَهَبْنَ"، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِنَّ، فَقَالَ: أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ وَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُنْتُنَّ أَحَقَّ أَنْ تَهَبْنَ مِنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُنَّ عَنْكَ يَا عُمَرُ، فَوَاللَّهِ إِنْ لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ بِفَجٍّ قَطُّ، إِلَّا أَخَذَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قریش کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں اور ان کی آوازیں اونچی ہو رہی تھیں، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اندر آنے کی اجازت ملی تو ان سب نے جلدی جلدی اپنے دوپٹے سنبھال لئے، جب وہ اندر آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرا رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو اسی طرح ہنستا مسکراتا ہوا رکھے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تو تعجب ان عورتوں پر ہے جو پہلے میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، لیکن جیسے ہی انہوں نے تمہاری آواز سنی، جلدی سے پردہ کرلیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے اپنی جان کی دشمن عورتو! واللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے زیادہ اس بات کے حقدار ہیں کہ تم ان سے ڈرو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑ دو، کیونکہ اللہ کی قسم! شیطان جب تمہیں کسی راستے سے گذرتا ہوا دیکھ لیتا ہے، تو اس راستے کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1624]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3294، م: 2396.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3294، م: 2396.