بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ أَبِي إِسْحَاقَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 186
صفحہ 6 از 10
حدیث نمبر: 1539 مسند احمد
عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، أَبِي ، الْمُجَالِدُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ , وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جَاءَتْهُ جُهَيْنَةُ، فَقَالُوا: إِنَّكَ قَدْ نَزَلْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَأَوْثِقْ لَنَا، حَتَّى نَأْتِيَكَ وَتُؤْمِنَّا، فَأَوْثَقَ لَهُمْ، فَأَسْلَمُوا، قَالَ: فَبَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ وَلَا نَكُونُ مِائَةً، وَأَمَرَنَا أَنْ نُغِيرَ عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ إِلَى جَنْبِ جُهَيْنَةَ، فَأَغَرْنَا عَلَيْهِمْ، وَكَانُوا كَثِيرًا فَلَجَأْنَا إِلَى جُهَيْنَةَ، فَمَنَعُونَا، وَقَالُوا: لِمَ تُقَاتِلُونَ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ؟، فَقُلْنَا إِنَّمَا نُقَاتِلُ مَنْ أَخْرَجَنَا مِنَ الْبَلَدِ الْحَرَامِ، فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: مَا تَرَوْنَ؟، فَقَالَ بَعْضُنَا: نَأْتِي نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُخْبِرُهُ، وَقَالَ قَوْمٌ: لَا، بَلْ نُقِيمُ هَاهُنَا، وَقُلْتُ أَنَا فِي أُنَاسٍ مَعِي: لَا، بَلْ نَأْتِي عِيرَ قُرَيْشٍ فَنَقْتَطِعُهَا، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْعِيرِ، وَكَانَ الْفَيْءُ إِذْ ذَاكَ مَنْ أَخَذَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْعِيرِ، وَانْطَلَقَ أَصْحَابُنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ، فَقَامَ غَضْبَانًا مُحْمَرَّ الْوَجْهِ , فَقَالَ:" أَذَهَبْتُمْ مِنْ عِنْدِي جَمِيعًا، وَجِئْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ؟ إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الْفُرْقَةُ، لَأَبْعَثَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلًا لَيْسَ بِخَيْرِكُمْ أَصْبَرُكُمْ عَلَى الْجُوعِ وَالْعَطَشِ"، فَبَعَثَ عَلَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَحْشٍ الْأَسَدِيَّ فَكَانَ أَوَّلَ أَمِيرٍ أُمِّرَ فِي الْإِسْلَامِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قبیلہ جہینہ کے لوگ آئے اور کہنے لگے کہ آپ لوگ ہمارے درمیان آکر قیام پذیر ہو گئے ہیں اس لئے ہمیں کوئی وثیقہ لکھ دیجئے تاکہ جب ہم آپ کے پاس آئیں تو آپ پر ہمیں اطمینان ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں وثیقہ لکھوا دیا، بعد میں وہ لوگ مسلمان ہو گئے۔ کچھ عرصہ بعد ماہ رجب میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں روانہ فرمایا، ہماری تعداد سو بھی نہیں ہوگی، اور ہمیں حکم دیا کہ قبیلہ جہینہ کے پہلو میں بنو کنانہ کا ایک قبیلہ آباد ہے، اس پر حملہ کریں، ہم نے ان پر شب خون مارا لیکن ان کی تعداد بہت زیادہ تھی، چنانچہ ہم نے قبیلہ جہینہ میں پناہ لی لیکن انہوں نے ہمیں پناہ دینے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ تم لوگ اشہر حرم میں قتال کیوں کر رہے ہو؟ ہم نے جواب دیا کہ ہم ان لوگوں سے قتال کر رہے ہیں جنہوں نے ہمیں بلد حرام سے شہر حرام میں نکال کر ان کی حرمت کو ختم کیا تھا۔ پھر ہم آپس میں ایک دوسرے سے مشورہ کرنے لگے کہ اب کیا کیا جائے؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چل کر انہیں ساری صورت حال سے مطلع کرتے ہیں، بعض لوگوں نے کہا کہ نہیں، ہم یہیں ٹھہریں گے، چند لوگوں کے ساتھ میری رائے یہ تھی کہ ہم لوگ قریش کے قافلے کی طرف چلتے ہیں اور ان پر حملہ کرتے ہیں، چنانچہ لوگ قافلہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس وقت مال غنیمت کا اصول یہ تھا کہ جس کے ہاتھ جو چیز لگ گئی، وہ اس کی ہو گئی، ہم میں سے کچھ لوگوں نے جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی اس کی خبر کر دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے میں آ کر کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہو گیا، اور فرمایا کہ تم لوگ میرے پاس سے اکٹھے ہو کر گئے تھے، اور اب جدا جدا ہو کر آ رہے ہو، تم سے پہلے لوگوں کو اسی تفرقہ نے ہی ہلاک کیا تھا، میں تم پر ایک ایسے آدمی کو امیر مقرر کر کے بھیجوں گا جو اگرچہ تم سے زیادہ بہتر نہیں ہوگا لیکن بھوک اور پیاس کی برداشت میں تم سے زیادہ مضبوط ہوگا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن جحش اسدی رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا، جو اسلام میں سب سے پہلے امیر تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1539]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، المجالد ضعيف وزياد بن علاقة لم يسمع من سعد .
الحكم: إسناده ضعيف، المجالد ضعيف وزياد بن علاقة لم يسمع من سعد .
حدیث نمبر: 1540 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، زَائِدَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُقَاتِلُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ لَكُمْ، ثُمَّ تُقَاتِلُونَ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ لَكُمْ، ثُمَّ تُقَاتِلُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ لَكُمْ، ثُمَّ تُقَاتِلُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ لَكُمْ" , قَالَ: فَقَالَ جَابِرٌ: لَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ، حَتَّى يُفْتَتَحَ الرُّومُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا نافع بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ جزیرہ عرب والوں سے قتال کرو گے اور اللہ تمہیں ان پر فتح عطاء فرمائے گا، پھر تم اہل فارس سے جنگ کرو گے اور اللہ تمہیں ان پر بھی فتح عطاء فرمائے گا، پھر تم رومیوں سے جنگ کرو گے، اللہ تمہیں ان پر بھی فتح عطاء فرمائے گا، اور پھر تم دجال سے جنگ کرو گے اور اللہ تمہیں اس پر بھی فتح نصیب فرمائے گا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتح روم سے پہلے دجال کا خروج نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1540]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2900، هذالحديث من مسند نافع بن عتبة، ليس من مسند سعد .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2900، هذالحديث من مسند نافع بن عتبة، ليس من مسند سعد .
حدیث نمبر: 1541 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُ اللَّهُ لَكُمْ، وَتَغْزُونَ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ لَكُمْ، وَتَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ لَكُمْ، وَتَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُ اللَّهُ لَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا نافع بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ جزیرہ عرب والوں سے قتال کرو گے اور اللہ تمہیں ان پر فتح عطاء فرمائے گا، پھر تم اہل فارس سے جنگ کرو گے اور اللہ تمہیں ان پر بھی فتح عطاء فرمائے گا، پھر تم رومیوں سے جنگ کرو گے، اللہ تمہیں ان پر بھی فتح عطاء فرمائے گا، اور پھر تم دجال سے جنگ کرو گے اور اللہ تمہیں اس پر بھی فتح نصیب فرمائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1541]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2900، هذالحديث من مسند نافع بن عتبة .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2900، هذالحديث من مسند نافع بن عتبة .
حدیث نمبر: 1542 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , أَنَّ أَصْحَابَ الْمَزَارِعِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يُكْرُونَ مَزَارِعَهُمْ بِمَا يَكُونُ عَلَى السَّوَاقِي مِنَ الزُّرُوعِ، وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِمَّا حَوْلَ النَّبْتِ، فَجَاءوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَصَمُوا فِي بَعْضِ ذَلِكَ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكْرُوا بِذَلِكَ، وَقَالَ:" أَكْرُوا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں کھیتوں کے مالکان اپنے کھیت کرائے پر دے دیا کرتے تھے اور اس کا عوض یہ طے کر لیا کرتے تھے کہ نالیوں کے اوپر جو پیداوار ہو اور جسے پانی خود بخود پہنچ جائے وہ ہم لیں گے، یہ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچا اور بعض لوگوں کا اس میں جھگڑا بھی ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرح کرائے پر زمین لینے دینے سے منع فرما دیا، اور فرمایا: سونے چاندی کے بدلے زمین کو کرایہ پر لیا دیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1542]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عبدالرحمن بن لبيبة ضعيف ومحمد بن عكرمة مجهول .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عبدالرحمن بن لبيبة ضعيف ومحمد بن عكرمة مجهول .
حدیث نمبر: 1543 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، وَيَعْقُوُبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , وَيَعْقُوُبُ , حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ يَعْقُوبُ: ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ، فَلْيُغَيِّبْ نُخَامَتَهُ، أَنْ تُصِيبَ جِلْدَ مُؤْمِنٍ أَوْ ثَوْبَهُ فَتُؤْذِيَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص مسجد میں تھوک دے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے چھپا دے تاکہ وہ کسی مسلمان کے جسم یا کپڑوں کو لگ کر اس کی اذیت کا سبب نہ بن جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1543]
حکم دارالسلام
إسناده حسن .
الحكم: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 1544 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، زَيْدِ بْنِ عَيَّاشٍ ، سَعْدٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَيَّاشٍ ، قَالَ: سُئِلَ سَعْدٌ عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ فَكَرِهَهُ، وَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، فَقَالَ:" يَنْقُصُ إِذَا يَبِسَ"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَلَا إِذَاً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے ان سے پوچھا: کیا تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا جائز ہے؟ انہوں نے اس کو ناپسندیدہ سمجھا اور فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی کسی شخص نے یہی سوال پوچھا تھا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کیا ایسا نہیں ہے کہ تر کھجور خشک ہونے کے بعد کم رہ جاتی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ایسا ہی ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1544]
حکم دارالسلام
إسناده قوي .
الحكم: إسناده قوي .
حدیث نمبر: 1545 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ , يبَلَغَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم اس شخص کا ہے جس نے کسی چیز کے متعلق سوال کیا جو حرام نہ تھی لیکن اس کے سوال کے نتیجے میں اس چیز کی حرمت کا حکم نازل ہو گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1545]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7289، م: 2358 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7289، م: 2358 .
حدیث نمبر: 1546 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرِضْتُ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا شَدِيدًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا، وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَتَصَدَّقُ بِمَالِي كله؟، قَالَ:" لَا"، قَالَ: فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟، قَالَ:" لَا"، قُلْتُ: فَالشَّطْرُ؟، قَالَ:" لَا"، قَالَ: قُلْتُ: الثُّلُثُ، قَالَ:" الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلَّا أُجِرْتَ فِيهَا، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي، قَالَ:" إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي، فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ، إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ" يَرْثِي لَهُ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6733، م: 1628 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6733، م: 1628 .
حدیث نمبر: 1547 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، سَعْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ سَعْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِعَلِيٍّ:" أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى"، قِيلَ لِسُفْيَانَ:" غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي"، قَالَ: قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے - سوائے نبوت کے - جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1547]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3706، م: 2404. وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، لكنه توبع .
الحكم: حديث صحيح، خ: 3706، م: 2404. وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، لكنه توبع .
حدیث نمبر: 1548 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، سَعْدًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، سَمِعَهُ مِنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ، فَقَالُوا: إِنَّهُ لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي، قَالَ:" آلْأَعَارِيبُ؟ وَاللَّهِ مَا آلُو بِهِمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ"، فَسَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ: كَذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ اہل کوفہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ میں تو پہلی دو رکعتیں نسبتا لمبی کرتا ہوں اور دوسری دو رکعتیں مختصر کر دیتا ہوں، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں جو نمازیں پڑھی ہیں، ان کی پیروی کرنے میں، میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے آپ سے یہی امید تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1548]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 755، م: 453 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 755، م: 453 .
حدیث نمبر: 1549 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا، مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآن کریم کو عمدہ آواز کے ساتھ نہ پڑھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1549]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبيد الله بن أبى نهيك لا يعرف .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبيد الله بن أبى نهيك لا يعرف .
حدیث نمبر: 1550 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، عُمَرَ ، لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَطَلْحَةَ ، وَالزُّبَيْرِ ، وَسَعْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ: لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَطَلْحَةَ ، وَالزُّبَيْرِ ، وَسَعْدٍ , نَشَدْتُكُمْ اللَّهَ الَّذِي تَقُومُ بِهِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، وَقَالَ مَرَّةً: الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ، أَعَلِمْتُمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّا لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم اور واسطہ دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، کیا آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1550]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3094، م: 1757 بدون ذكر طلحة .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3094، م: 1757 بدون ذكر طلحة .
حدیث نمبر: 1551 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، بَكْرِ بْنِ قِرْوَاشٍ ، سَعْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ قِرْوَاشٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" شَيْطَانُ الرَّدْهَةِ يَحْتَدِرُهُ"، يَعْنِي رَجُلًا مِنْ بَجِيلَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پہاڑ یا چٹان کے گڑھے کی برائی اور نقصان یہ ہے کہ قبیلہ بجیلہ کا آدمی بھی بلندی سے پستی میں جا پڑتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1551]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، بكر بن قرواش مجهول، والانقطاع بين العلاء وبين أبي الطفيل .
الحكم: إسناده ضعيف، بكر بن قرواش مجهول، والانقطاع بين العلاء وبين أبي الطفيل .
حدیث نمبر: 1552 مسند احمد
سُفْيَانُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي عَيَّاشٍ ، سَعْدٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ ، قَالَ: سُئِلَ سَعْدٌ عَنْ بَيْعِ سُلْتٍ بِشَعِيرٍ، أَوْ شَيْءٍ مِنْ هَذَا، فَقَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَمْرٍ بِرُطَبٍ، فَقَالَ:" تَنْقُصُ الرَّطْبَةُ إِذَا يَبِسَتْ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَلَا إِذَنْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے ان سے پوچھا: کیا بغیر چھلکے کے جو کو عام جو کے بدلے بیچنا جائز ہے؟ انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی کسی شخص نے تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے کا سوال پوچھا تھا، تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کیا ایسا نہیں ہے کہ تر کھجور خشک ہونے کے بعد کم رہ جاتی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ایسا ہی ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1552]
حکم دارالسلام
إسناده قوي .
الحكم: إسناده قوي .
حدیث نمبر: 1553 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، سَعْدًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا ، يَقُولُ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَوَعَى قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ , فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ"، قَالَ: فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ، فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: وَأَنَا سَمِعَهُ أُذُنَايَ، وَوَعَى قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات میرے ان کانوں نے سنی ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا ہے کہ جو شخص حالت اسلام میں اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا باپ قرار دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے میرے بھی کانوں نے سنا ہے اور دل نے اسے محفوظ کیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1553]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4326، م: 63 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4326، م: 63 .
حدیث نمبر: 1554 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الطِّيَرَةِ، فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ: مَنْ حَدَّثَكَ؟ فَكَرِهْتُ أَنْ أُحَدِّثَهُ مَنْ حَدَّثَنِي، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَ، إِنْ تَكُنِ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ، فَلَا تَهْبِطُوا، وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَفِرُّوا مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بدشگونی کے بارے پوچھا تو انہوں نے مجھے ڈانٹ دیا اور فرمایا: تم سے یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ میں نے ان صاحب کا نام لینا مناسب نہ سمجھا جنہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تھی، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی، بدشگونی اور مردے کی قبر سے اس کی کھوپڑی نکلنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی۔ اور جب تم کسی علاقے میں طاعون کی وباء پھیلنے کا سنو تو وہاں مت جاؤ، اور اگر تم کسی علاقے میں ہو اور وہاں طاعون کی وباء پھوٹ پڑے تو وہاں سے راہ فرار مت اختیار کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1554]
حکم دارالسلام
إسناده جيد، خ: 3473، م: 2218 .
الحكم: إسناده جيد، خ: 3473، م: 2218 .
حدیث نمبر: 1555 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ:" الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ، فَالْأَمْثَلُ، حَتَّى يُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى قَدْرِ دِينِهِ ذَاكَ، فَإِنْ كَانَ صُلْبَ الدِّينِ ابْتُلِيَ عَلَى قَدْرِ ذَاكَ، وَقَالَ مَرَّةً اشْتَدَّ بَلاَؤُه وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى قَدْرِ ذَاكَ، وَقَالَ مَرَّةً: عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، قَالَ: فَمَا تَبْرَحُ الْبَلَايَا عَنِ الْعَبْدِ، حَتَّى يَمْشِيَ فِي الْأَرْضِ يَعْنِي: وَمَا إِنْ عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ"، قَالَ أَبِي، وَقَالَ مَرَّةً، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ سخت مصیبت کن لوگوں پر آتی ہے؟ فرمایا: انبیاء کرام علیہم السلام پر، پھر درجہ بدرجہ عام لوگوں پر، انسان پر آزمائش اس کے دین کے اعتبار سے آتی ہے، اگر اس کے دین میں پختگی ہو تو اس کے مصائب میں مزید اضافہ کر دیا جاتا ہے، اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس کے مصائب میں تخفیف کر دی جاتی ہے، اور انسان پر مسلسل مصائب آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ زمین پر چلتا ہے تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1555]
حکم دارالسلام
إسناده حسن .
الحكم: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 1556 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ، قُتِلَ أَخِي عُمَيْرٌ، وَقَتَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، وَأَخَذْتُ سَيْفَهُ، وَكَانَ يُسَمَّى ذَا الْكَتِيفَةِ، فَأَتَيْتُ بِهِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" اذْهَبْ، فَاطْرَحْهُ فِي الْقَبَضِ"، قَالَ: فَرَجَعْتُ وَبِي مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ مِنْ قَتْلِ أَخِي، وَأَخْذِ سَلَبِي، قَالَ: فَمَا جَاوَزْتُ إِلَّا يَسِيرًا، حَتَّى نَزَلَتْ سُورَةُ الْأَنْفَالِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَخُذْ سَيْفَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن میرے بھائی عمیر شہید ہو گئے اور میں نے سعید بن عاص کو قتل کر دیا اور اس کی تلوار لے لی، جس کا نام «ذَا الْكَتِيفَةِ» تھا، میں وہ تلوار لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جا کر یہ تلوار مال غنیمت میں ڈال دو۔ مجھے اپنے بھائی کی شہادت کا جو غم تھا اور مال غنیمت کے حصول کا جو خیال تھا، اسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا، ابھی میں تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ سورہ انفال نازل ہو گئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جا کر اپنی تلوار لے لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1556]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا الإسناد ضعيف لأن محمد بن عبيد الله لم يدرك سعداً .
الحكم: حسن لغيره، وهذا الإسناد ضعيف لأن محمد بن عبيد الله لم يدرك سعداً .
حدیث نمبر: 1557 مسند احمد
جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، سَعْدًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ، فَقَالُوا: لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لَهُ، فَقَالَ:" أَمَّا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدْ كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ، أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ"، فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاقَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ اہل کوفہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو پہلی دو رکعتیں نسبتا لمبی کرتا ہوں اور دوسری دو رکعتیں مختصر کر دیتا ہوں، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں جو نمازیں پڑھی ہیں، ان کی پیروی کرنے میں، میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے آپ سے یہی امید تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1557]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 755، م:453
الحكم: إسناده صحيح، خ: 755، م:453
حدیث نمبر: 1558 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ ، أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ ، سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِدَهْمٍ أَوْ بِسُوءٍ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ کسی ناگہانی دھوکے یا برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جیسے پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1558]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1387 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1387 .