بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1552
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1552
حدیث نمبر: 1552 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُفْيَانُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي عَيَّاشٍ ، سَعْدٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ ، قَالَ: سُئِلَ سَعْدٌ عَنْ بَيْعِ سُلْتٍ بِشَعِيرٍ، أَوْ شَيْءٍ مِنْ هَذَا، فَقَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَمْرٍ بِرُطَبٍ، فَقَالَ:" تَنْقُصُ الرَّطْبَةُ إِذَا يَبِسَتْ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَلَا إِذَنْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے ان سے پوچھا: کیا بغیر چھلکے کے جو کو عام جو کے بدلے بیچنا جائز ہے؟ انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی کسی شخص نے تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے کا سوال پوچھا تھا، تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کیا ایسا نہیں ہے کہ تر کھجور خشک ہونے کے بعد کم رہ جاتی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ایسا ہی ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1552]
حکم دارالسلام
إسناده قوي .
الحكم: إسناده قوي .
← پچھلی حدیث (1551) باب پر واپس اگلی حدیث (1553) →