بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1529
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1529
حدیث نمبر: 1529 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ الْأَسْلَمِيُّ ، الْمُطَّلِبِ ، عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ الْأَسْلَمِيُّ عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَهُ ابْنُهُ عَامِرٌ , فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، أَفِي الْفِتْنَةِ تَأْمُرُنِي أَنْ أَكُونَ رَأْسًا؟ لَا وَاللَّهِ حَتَّى أُعْطَى سَيْفًا إِنْ ضَرَبْتُ بِهِ مُؤْمِنًا نَبَا عَنْهُ، وَإِنْ ضَرَبْتُ بِهِ كَافِرًا قَتَلَهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ التَّقِيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمر بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے بھائی عامر مدینہ منورہ سے باہر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے بکریوں کے فارم میں چلے گئے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: بیٹا! کیا تم مجھے شورش کے کاموں کا سرغنہ بننے کے لئے کہتے ہو؟ واللہ! ایسا نہیں ہو سکتا کہ میرے ہاتھ میں تلوار پکڑا دی جائے اور میں اس سے کسی مومن کو قتل کر دوں تو وہ اس کی خبر اڑا دے، اور اگر کسی کافر کو قتل کر دوں تو وہ بھی اس پر پل پڑے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتے ہیں جو متقی ہو، بےنیاز ہو، اور اپنے آپ کو مخفی رکھنے والا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1529]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، والإسناد فيه قلب، فالذي روى القصة هو عامر بن سعد، والذي جاء إلى سعد يأمره أن يكون رأساً هو عمر بن سعد، وقد تقدم على الصواب من غير هذا الطريق برقم: 1441 .
الحكم: حديث صحيح، والإسناد فيه قلب، فالذي روى القصة هو عامر بن سعد، والذي جاء إلى سعد يأمره أن يكون رأساً هو عمر بن سعد، وقد تقدم على الصواب من غير هذا الطريق برقم: 1441 .
← پچھلی حدیث (1528) باب پر واپس اگلی حدیث (1530) →