بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1534
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1534
حدیث نمبر: 1534 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مَخْرَمَةُ ، أَبِيهِ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، سَعْدًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , حَدَّثَنِي مَخْرَمَةُ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا ، وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُونَ: كَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَفْضَلَ مِنَ الْآخَرِ، فَتُوُفِّيَ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُهُمَا، ثُمَّ عُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ تُوُفِّيَ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ الْأَوَّلِ عَلَى الْآخَرِ، , فَقَالَ:" أَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي؟" , فَقَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَانَ لَا بَأْسَ بِهِ , فَقَالَ:" مَا يُدْرِيكُمْ مَاذَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ؟" , ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ:" إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَوَاتِ كَمَثَلِ نَهَرٍ جَارٍ بِبَابِ رَجُلٍ، غَمْرٍ عَذْبٍ، يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، فَمَا تُرَوْنَ يُبْقِي ذَلِكَ مِنْ دَرَنِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں دو بھائی تھے، ان میں سے ایک دوسرے سے افضل تھا، اس افضل شخص کا پہلے انتقال ہو گیا اور دوسرا بھائی اس کے بعد چالیس دن تک مزید زندہ رہا، پھر وہ بھی فوت ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جب ان کا تذکرہ ہوا تو لوگوں نے پہلے کے افضل ہونے کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ دوسرا بھائی نماز نہیں پڑھتا تھا؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا خبر کہ اس کی نمازوں نے اسے کہاں تک پہنچا دیا؟ پھر فرمایا کہ نماز کی مثال اس جاری نہر کی سی ہے جس کا پانی میٹھا اور شیریں ہو، اور وہ تمہارے گھر کے دروازے پر بہہ رہی ہو، اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غوطہ لگاتا ہو، تمہارا کیا خیال ہے، کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل کچیل باقی رہے گا؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1534]
حکم دارالسلام
إسناده قوي .
الحكم: إسناده قوي .
← پچھلی حدیث (1533) باب پر واپس اگلی حدیث (1535) →