بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 142
صفحہ 5 از 8
حدیث نمبر: 22597 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ مَعَهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور کوئی سورت ملاتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں بھی سنا دیتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے فجر کی نماز میں پہلی رکعت لمبی پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22597]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
الحكم: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22598 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِي ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفُرْسَانِهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ الْحُلْمَ يَكْرَهُهُ، فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْهُ، فَلَنْ يَضُرَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ " جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی اور شہسوار تھے " نے فرمایا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس لئے جو شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ خواب دیکھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22598]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2392، م: 2261
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2392، م: 2261
حدیث نمبر: 22599 مسند احمد
هَاشِمُ ، الْمُبَارَكِ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو پلانے والا خود سب سے آخر میں پیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22599]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 681، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 681، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22600 مسند احمد
هَاشِمٌ ، الْمُبَارَكُ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ التَّفْرِيطُ فِي النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نیند میں تفریط نہیں ہوتی، اس کا تعلق تو بیداری کے ساتھ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22600]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 681، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 681، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22601 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَمْرِو بْنِ سُلَيْمِ بْنِ خَلْدَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمِ بْنِ خَلْدَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: دَخْلَتُ المَسْجِدُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم جالس بين ظهراني الناس فجلست، فقال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُكَ جَالِسًا وَالنَّاسُ جُلُوسٌ، قَالَ: " وَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے میں بھی جاکر مجلس میں بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہیں بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو بیٹھے ہوئے دیکھا اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے نظر آئے اس لئے میں بھی بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک دو رکعتیں نہ پڑھ لے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22601]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 444، م: 714
الحكم: إسناده صحيح، خ: 444، م: 714
حدیث نمبر: 22602 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنِّي لَأَقُومُ فِي الصَّلَاةِ أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اوقات میں نماز پڑھانے کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور میرا ارادہ ہوتا ہے کہ لمبی نماز پڑھاؤں گا لیکن پھر کسی بچے کے رونے کی آواز سنائی دیتی ہے تو اپنی نماز مختصر کردیتا ہوں تاکہ اس کی ماں کیلئے یہ چیز دشواری کا سبب نہ بن جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22602]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 707
الحكم: إسناده صحيح، خ: 707
حدیث نمبر: 22603 مسند احمد
عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانُوا مُحْرِمِينَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا، فَبَصُرَ بِصَيْدٍ، فَأَخَذَ سَوْطًا، فَحَمَلَ عَلَيْهِ، فَأَصَادَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ تَزَوَّدْنَا مِنْهُ، فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانًا كَانَ مُحِلًّا أَوْ حَلَالًا، فَأَصَابَ صَيْدًا، وَإِنَّهُ أَكَلَ مِنْهُ وَأَكَلْنَا مَعَهُ، وَمَعَنَا مِنْهُ , قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چند صحابہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا ان میں ایک آدمی کے علاوہ باقی سب محرم تھے اس آدمی کو ایک شکار نظر آیا اس نے اپنا کوڑا پکڑ کر اس پر حملہ کیا اور اسے شکار کرلیا پھر اس نے بھی اسے کھایا اور ہم نے بھی کھایا اور ہم نے اس میں سے کچھ زاد راہ کے طور پر بچا بھی لیا جب ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچے تو عرض کیا یا رسول اللہ! فلاں آدمی احرام کی حالت میں نہیں تھا اس نے شکار کیا جسے اس نے بھی کھایا اور ہم نے بھی اور اب بھی ہمارے پاس اس میں سے تھوڑا سا گوشت موجود ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسے کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22603]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1821، م: 1196
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1821، م: 1196
حدیث نمبر: 22604 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي قَتَادَةَ الْحَارِثِ بْنِ رِبْعِيٍّ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْحَارِثِ بْنِ رِبْعِيٍّ ، قَالَ:" بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَيْفِ الْبَحْرِ فِي بَعْضِ عُمَرِهِ إِلَى مَكَّةَ، وَوَعَدَنَا أَنْ نَلْقَاهُ بِقُدَيْدٍ، فَخَرَجْنَا وَمِنَّا الْحَلَالُ وَمِنَّا الْحَرَامُ، قَالَ: فَكُنْتُ حَلَالًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ: وَفِيهِ هَذِهِ الْعَضُدُ قَدْ شَوَيْتُهَا وَأَنْضَجْتُهَا وَأَطْيَبْتُهَا، قَالَ:" فَهَاتِهَا قَالَ فَجِئْتُهُ بِهَا، فَنَهَسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اپنے کسی عمرے کے موقع پر سیف البحر کی طرف لشکر کے ساتھ روانہ فرمایا اور ہم سے یہ طے کرلیا کہ مقام "" قدید "" میں ملاقات ہوگی چنانچہ ہم روانہ ہوگئے ہم میں سے کچھ لوگ محرم اور کچھ غیر محرم تھے غیر محرموں میں میں بھی شامل تھا پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا کہ اس میں سے یہ دستی بچی ہے جسے میں نے خوب اچھی طرح بھون کر پکایا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے لے کر آؤ میں وہ لے کر حاضر خدمت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے دانتوں سے نوچ کر کھانے لگے (کہ یہ زود ہضم ہوتا ہے) جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حالت احرام میں تھے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22604]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1821، م: 1196، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 1821، م: 1196، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22605 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي مُحَمَّدٍ نَافِعٍ الْأَقْرَعِ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ مَوْلَى بَنِي تَمِيمٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ نَافِعٍ الْأَقْرَعِ مَوْلَى بَنِي غِفَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، مِثْلَ حَدِيثِ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، لَمْ يَزِدْ وَلَمْ يَنْقُصْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22605]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22606 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبُو قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مِنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ، فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ أَوْ فَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ، لَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي" , فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَآنِي، فَقَدْ رَآنِي الْحَقَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے وہ عنقریب مجھے بیداری میں بھی دیکھ لے گا یا یہ کہ اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22606]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6993، م: 2266
الحكم: حديث صحيح، خ: 6993، م: 2266
حدیث نمبر: 22607 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَبِي ، ابْنُ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، نَافِعٍ الْأَقْرَعِ أَبِي مُحَمَّدٍ ، أَبُو قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ حَدَّثَ , عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ أَبِي : وَحَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ الْأَقْرَعِ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى بَنِي غِفَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ مُسْلِمٌ وَمُشْرِكٌ، وَإِذَا رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُرِيدُ أَنْ يُعِينَ صَاحِبَهُ الْمُشْرِكَ عَلَى الْمُسْلِمِ، فَأَتَيْتُهُ فَضَرَبْتُ يَدَهُ، فَقَطَعْتُهَا، وَاعْتَنَقَنِي بِيَدِهِ الْأُخْرَى، فَوَاللَّهِ مَا أَرْسَلَنِي حَتَّى وَجَدْتُ رِيحَ الْمَوْتِ، فَلَوْلَا أَنَّ الدَّمَ نَزَفَهُ لَقَتَلَنِي، فَسَقَطَ فَضَرَبْتُهُ فَقَتَلْتُهُ، وَأَجْهَضَنِي عَنْهُ الْقِتَالُ، وَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَسَلَبَهُ، فَلَمَّا فَرَغْنَا وَوَضَعَتْ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَسَلَبُهُ لَهُ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ قَتَلْتُ قَتِيلًا ذَا سَلَِب، فَأَجْهَضَنِي عَنْهُ الْقِتَالُ، فَلَا أَدْرِي مَنْ اسْتَلَبَهُ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا سَلَبْتُهُ فَأَرْضِهِ عَنِّي مِنْ سَلَبِهِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: تَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ، يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تُقَاسِمُهُ سَلَبَهُ، ارْدُدْ عَلَيْهِ سَلَبَ قَتِيلِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ فَارْدُدْ عَلَيْهِ سَلَبَ قَتِيلِهِ" , قَالَ أَبُو قَتَادَةَ فَأَخَذْتُهُ مِنْهُ فَبِعْتُهُ، فَاشْتَرَيْتُ بِثَمَنِهِ مَخْرَفًا بِالْمَدِينَةِ، وَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ اعْتَقَدْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے میدان جنگ میں ایک مسلمان اور ایک مشرک دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا پھر اچانک ایک مشرک پر نظر پڑی جو اپنے مشرک ساتھی کی مسلمان کے خلاف مدد کے لئے آگے بڑھ رہا تھا میں نے اس کے پاس پہنچ کر اس کے ہاتھ پر وار کیا جس سے اس کا ہاتھ کٹ گیا اس نے دوسرے ہاتھ سے میری گردن دبوچ لی اور بخدا! اس نے مجھے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک مجھے موت کی دستک محسوس نہ ہوئی اور اگر اس کا خون اتنا زیادہ نہ بہتا تو وہ مجھے قتل کر کے ہی دم لیتا بہرحال وہ گرگیا اور میں نے اسے مار کر قتل کردیا اور خود بدحال ہوگیا ادھر اہل مکہ میں سے ایک آدمی اس کے پاس سے گذرا اور اس کا سارا سازوسامان لے کر چلتا بنا۔ جب ہم لوگ فارغ ہوئے اور جنگ کے شعلے بجھ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی کافر کو قتل کیا ہو اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے ایک شخص کو قتل کیا ہے جس کے پاس بہت زیادہ سازوسامان تھا لیکن میں اسے قتل کرنے کے بعد بہت بدحال ہوگیا تھا اس لئے مجھے پتہ نہیں چل سکا کہ اس کا سامان کون اتار کرلے گیا ایک آدمی " جو اہل مکہ میں سے تھا " کہنے لگا یا رسول اللہ! یہ سچ کہتا ہے اس کا سامان میں لے گیا تھا اس لئے آپ اس کے سامان کے حوالے سے انہیں میری طرف سے کچھ اور دے کر خوش کر دیجئے (اور یہ سامان میرے پاس ہی رہنے دیں) یہ سن کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر " اللہ کے راستہ میں قتال کرتا ہے " کا سامان تقسیم کرنا چاہتے ہو؟ اسے اس کا سامان واپس کرو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر نے سچ کہا تم اس کے مقتول کا سامان واپس کردو، چنانچہ میں نے اسے حاصل کر کے آگے فروخت کردیا اور اس کی قیمت سے میں نے مدینہ منورہ میں ایک باغ خرید لیا جو کہ سب سے پہلا مال تھا جسے میں نے خریدا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22607]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2100، م: 1751، والرجل المبهم فى إسناده الأول هو نافع الأقرع، وأسقط ابن إسحاق فى إسناده الثاني الواسطة بين يحيى بن سعيد و نافع الأقرع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2100، م: 1751، والرجل المبهم فى إسناده الأول هو نافع الأقرع، وأسقط ابن إسحاق فى إسناده الثاني الواسطة بين يحيى بن سعيد و نافع الأقرع
حدیث نمبر: 22608 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ، فَلَمَّا صَلَّى، دَعَاهُمْ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، إِذَا أَتَيْتُمْ الصَّلَاةَ، فَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا سَبَقَكُمْ فَأَتِمُّوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ کچھ لوگوں کے دوڑنے کی آواز سنائی دی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر انہیں بلایا اور پوچھا کہ کیا ماجرا تھا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم جلدی جلدی نماز میں شریک ہونا چاہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسا مت کیا کرو، جب نماز کے لئے آیا کرو تو اطمینان اور سکون کو اپنے اوپر لازم رکھا کرو جتنی نماز مل جائے اتنی پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22608]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 635، م: 603
الحكم: إسناده صحيح، خ: 635، م: 603
حدیث نمبر: 22609 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَبَا نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، مَنْ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَمَّارٍ حِينَ جَعَلَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ، وَجَعَلَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ، وَيَقُولُ:" بُؤْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ، تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھ سے بہتر آدمی نے مجھ سے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب خندق کھودنے لگے تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے سر کو جھاڑتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ ابن سمیہ! افسوس کہ تمہیں ایک باغی گروہ شہید کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22609]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2915
الحكم: إسناده صحيح، م: 2915
حدیث نمبر: 22610 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبُو قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَرْوَ , أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو قَتَادَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابن سمیہ! تمہیں ایک باغی گروہ شہید کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22610]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل الحسن بن يحيى، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل الحسن بن يحيى، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22611 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، هُشَيْمٌ ، الْحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الْحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي سَفَرٍ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا , فَقَالَ:" إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَمَنْ يُوقِظُنَا لِلصَّلَاةِ؟" فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: فَعَرَّسَ بِالْقَوْمِ، فَاضْطَجَعْنَا، وَاسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ، وَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَالَ:" يَا بِلَالُ، أَيْنَ مَا قُلْتَ لَنَا؟" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مِثْلُهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ، وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ" , ثُمَّ أَمَرَهُمْ، فَانْتَشَرُوا لِحَاجَتِهِمْ وَتَوَضَّأَ، فَارْتَفَعَتْ الشَّمْسُ، فَصَلَّى بِهِمْ الْفَجْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر پر روانہ ہوئے رات کے وقت ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر تھوڑی دیر کے لئے پڑاؤ کرلیں تو بہتر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ تم نماز کے وقت سوتے رہے تو ہمیں نماز کے لئے کون جگائے گا؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں جگاؤں گا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پڑاؤ کرلیا اور ہم سب لیٹ گئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی اپنی سواری سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور ان کی آنکھ بھی لگ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھ اس وقت کھلی جب سورج طلوع ہوچکا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو جگا کر فرمایا بلال! وہ بات کہاں گئی جو تم نے ہم سے کہی تھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھ پر ایسی نیند کبھی طاری نہیں ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا اپنے قبضے میں رکھا اور جب چاہا واپس لوٹا دیا پھر لوگوں کو حکم دیا تو وہ قضا حاجت کے لئے منتشر ہوگئے وضو کیا اور جب سورج بلند ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں نماز فجر پڑھا دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22611]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 595
الحكم: إسناده صحيح، خ: 595
حدیث نمبر: 22612 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَسَّانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَهُ فِي طَلِيعَةٍ قِبَلَ غَيْقَةَ , وَوَدَّانَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَأَبُو قَتَادَةَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ، فَطَلَبَ مِنْهُمْ سَوْطًا، فَلَمْ يُنَاوِلُوهُ، فَاخْتَلَسَ سَوْطَ بَعْضِهِمْ، فَصَادَ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَأَكَلُوهُ، ثُمَّ لَحِقُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالْأَبْوَاءِ، قَالُوا: إِنَّا صَنَعْنَا شَيْئًا لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَقَالَ:" أَطْعِمُونَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک دستے کو غیقہ اور ودان کی طرف بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم محرم تھے لیکن ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا تھا اچانک مجھے ایک جنگلی گدھا نظر آیا میں نے ان سے کوڑا پکڑانے کی درخواست کی لیکن انہوں نے محرم ہونے کی وجہ سے میری مدد کرنے سے انکار کردیا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اچک کر ان میں سے کسی کا کوڑا پکڑا اور اس گورخر کو شکار کرلیا لوگوں نے اسے کھایا اور جب مقام ابواء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو عرض کیا کہ ہم نے ایسا کام کیا ہے جس کی حقیقت ہمیں معلوم نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہمیں بھی اس میں سے کھلاؤ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22612]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1821، م: 1196، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل صالح بن أبى حسان، فقد اختلف فيه
الحكم: حديث صحيح، خ: 1821، م: 1196، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل صالح بن أبى حسان، فقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 22613 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبَانُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22613]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
الحكم: إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
حدیث نمبر: 22614 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ ،" أَنَّهُ قَتَلَ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ، فَنَفَّلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ وَدِرْعَهُ، فَبَاعَهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک کافر کو قتل کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا سازوسامان اور زرہ انہیں دے دی جسے انہوں نے پانچ اوقیہ کے عوض بیچ دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22614]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2100، م: 1751، إسناده حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 2100، م: 1751، إسناده حسن
حدیث نمبر: 22615 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَبُو صَخْرٍ ، يَحْيَى بْنَ النَّضْرِ الْأَنْصَارِيّ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ النَّضْرِ الْأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ لِلْأَنْصَارِ: " أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارِي، وَالْأَنْصَارَ شِعَارِي، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبَةً، لَاتَّبَعْتُ شِعْبَةَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ، لَكُنْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمَنْ وَلِيَ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَمَنْ أَفْزَعَهُمْ، فَقَدْ أَفْزَعَ هَذَا الَّذِي بَيْنَ هَاتَيْنِ" , وَأَشَارَ إِلَى نَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برسر منبر انصار کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یاد رکھو! لوگ میرے لئے اوپر کا کپڑا ہیں اور انصار میرے لئے نیچے کا کپڑا ہیں (جو جسم سے ملا ہوتا ہے) اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کے راستے پر چلوں گا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا، اس لئے جو شخص انصار کے معاملات کا ذمہ دار بنے اسے چاہئے کہ ان نیکو کاروں سے اچھا سلوک کرے اور ان کے گنہگاروں سے تجاوز کرے اور جو شخص خوفزدہ کرتا ہے وہ اس شخص کو خوفزدہ کرتا ہے جو ان دو ستونوں کے درمیان ہے یعنی خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات کو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22615]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل أبى صخر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل أبى صخر
حدیث نمبر: 22616 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبُو الْخَلِيلِ ، حَرْمَلَةَ بْنِ إِيَاسٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: سُئِلَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ وَأَنَا شَاهِدٌ , عَنِ الْفَضْلِ فِي صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَقَالَ: جَاءَ هَذَا مِنْ قِبَلِكُمْ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، حَدَّثَنِيهِ أَبُو الْخَلِيلِ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ كَلِمَةً تُشْبِهُ عَدْلَ ذَلِكَ، قَالَ: " صَوْمُ عَرَفَةَ بِصَوْمِ سَنَتَيْنِ، وَصَوْمُ عَاشُورَاءَ بِصَوْمِ سَنَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے مشابہہ کوئی کلمہ فرمایا کہ عرفہ کا روزہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے اور یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22616]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه والاختلاف فيه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه والاختلاف فيه