بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 142
صفحہ 1 از 8
حدیث نمبر: 22517 مسند احمد
هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، قَتَادَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ , فَقَالَ: " كَفَّارَةُ سَنَتَيْنِ" وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ" كَفَّارَةُ سَنَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یوم عرفہ (نو ذی الحجہ) کے روزے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے پھر کسی نے یوم عاشورہ کے روزے کے متعلق پوچھا تو فرمایا یہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22517]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1162
الحكم: إسناده صحيح، م: 1162
حدیث نمبر: 22518 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، أَبِي مُحَمَّدٍ ، أَبُو قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ جَلِيسٍ كَانَ لِأَبِي قَتَادَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى قَتِيلٍ، فَلَهُ سَلَبُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مقتول پر کوئی گواہ پیش کر دے (کہ اس کا قاتل وہ ہے) تو مقتول کا سارا سامان اسی کو ملے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22518]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22519 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ أَبُو إِسْمَاعِيلَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ أَبُو إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي يَحْمِلُ أُمَامَةَ أَوْ أُمَيْمَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ، وَهِيَ بِنْتُ زَيْنَبَ، يَحْمِلُهَا إِذَا قَامَ، وَيَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ، حَتَّى فَرَغَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی امامہ یا امیمہ بنت ابی العاص کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے یہاں تک کہ اسی طرح نماز سے فارغ ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22519]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 516، م: 543، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 516، م: 543، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22520 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا , يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَيُطَوِّلُ فِي الْأُولَى، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، يُطَوِّلُ فِي الْأُولَى، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرماتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں سنا دیتے تھے اس میں بھی پہلی رکعت نسبتہ لمبی اور دوسری مختصر فرماتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے کہ پہلی رکعت لمبی اور دوسری اس کی نسبت مختصر پڑھاتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قراءت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22520]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
الحكم: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22521 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُخْلَطَ شَيْءٌ مِنْهُ بِشَيْءٍ، وَلَكِنْ لِيُنْتَبَذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (کھجور کی مختلف اقسام کو) ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ علیحدہ علیحدہ ان کی نبیذ بنائی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22521]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5602، م: 1988
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5602، م: 1988
حدیث نمبر: 22522 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ، أَوْ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، أَوْ يَسْتَطِيبَ بِيَمِينِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ چھونے سے یا دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22522]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 153، م: 267
الحكم: إسناده صحيح، خ: 153، م: 267
حدیث نمبر: 22523 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ ، عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ ، عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں (بطور تحیۃ المسجد) پڑھ لینی چاہئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22523]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 444، م: 714
الحكم: إسناده صحيح، خ: 444، م: 714
حدیث نمبر: 22524 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ، فَإِذَا رَكَعَ وَسَجَدَ، وَضَعَهَا، وَإِذَا قَامَ، حَمَلَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھتے ہوئے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی امامہ کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22524]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 516، م: 543
الحكم: إسناده صحيح، خ: 516، م: 543
حدیث نمبر: 22525 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا، غَيْرَ أَنِّي لَا أُزَمَّلُ، حَتَّى لَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَحَدَّثَنِي , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَمَنْ رَأَى رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يُخْبِرْ بِهَا، وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ" , قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: فَإِنَّهُ لَنْ يَرَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات مجھے ڈراؤنے خواب نظر آیا کرتے تھے لیکن میں انہیں اپنے اوپر بوجھ نہیں بناتا تھا یہاں تک کہ ایک دن حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی میں نے ان سے یہ چیز ذکر کی تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس لئے جو شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ خواب دیکھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22525]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2261
الحكم: إسناده صحيح، م: 2261
حدیث نمبر: 22526 مسند احمد
سُفْيَانُ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، أَبِي مُحَمَّدٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي مُحَمَّدٍ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَصَابَ حِمَارَ وَحْشٍ يَعْنِي: وَهُوَ مُحِلٌّ، وَهُمْ مُحْرِمُونَ , فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک گورخر کا شکار کیا جبکہ وہ احرام میں نہیں تھے اور دیگر تمام حضرات محرم تھے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22526]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1823، م: 1196
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1823، م: 1196
حدیث نمبر: 22527 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، أَبِي مُحَمَّدٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ جَلِيسُ أَبِي قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ:" بَارَزْتُ رَجُلًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَلَبَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی غزوہ حنین کے موقع پر میں نے ایک آدمی کو لڑنے کی دعوت دی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا سازوسامان انعام میں مجھے دے دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22527]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22528 مسند احمد
سُفْيَانُ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَتْنِي امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ كَانَ يُصْغِي الْإِنَاءَ لِلْهِرِّ فَيَشْرَبُ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا " أَنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بلی کے لئے برتن کو جھکا دیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے فرمایا ہے یہ ناپاک نہیں ہوتی کیونکہ یہ تمہارے گھروں میں بار بار آنے والا جانور ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22528]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على إسحاق بن عبدالله بن أبى طلحة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على إسحاق بن عبدالله بن أبى طلحة
حدیث نمبر: 22529 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، وَابْنِ عَجْلَانَ ، عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , وَابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْلِسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں (بطور تحیۃ المسجد) پڑھ لینی چاہئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22529]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 444، م: 714
الحكم: إسناده صحيح، خ: 444، م: 714
حدیث نمبر: 22530 مسند احمد
سُفْيَانُ ، دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ ، أَبِي قَزْعَةَ ، أَبِي الْخَلِيلِ ، أَبِي حَرْمَلَةَ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ ، عَنْ أَبِي قَزْعَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: " صِيَامُ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ السَّنَةَ وَالَّتِي تَلِيهَا، وَصِيَامُ عَاشُورَاءَ يُكَفِّرُ سَنَةً ," قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ أَبِي: لَمْ يَرْفَعْهُ لَنَا سُفْيَانُ، وَهُوَ مَرْفُوعٌ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ یوم عرفہ (نو ذی الحجہ) کا روزہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22530]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه والاختلاف فيه، ولجهالة أبى حرملة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه والاختلاف فيه، ولجهالة أبى حرملة
حدیث نمبر: 22531 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، سُفْيَانُ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، فَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22531]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه والاختلاف فيه، ولجهالة أبى حرملة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه والاختلاف فيه، ولجهالة أبى حرملة
حدیث نمبر: 22532 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، وَابْنِ عَجْلَانَ ، عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , وَابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ يَعْنِي: حَامِلُهَا فَإِذَا رَكَعَ، وَضَعَهَا، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ السُّجُودِ رَفَعَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی امامہ بنت العاص کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22532]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 516، م: 543
الحكم: إسناده صحيح، خ: 516، م: 543
حدیث نمبر: 22533 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22533]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
الحكم: إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
حدیث نمبر: 22534 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ، فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا تَمَسَّحَ، فَلَا يَتَمَسَّحَنَّ بِيَمِينِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ چھونے سے یا دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22534]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 153، م: 267
الحكم: إسناده صحيح، خ: 153، م: 267
حدیث نمبر: 22535 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، حَرْمَلَةَ بْنِ إِيَاسٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ سَنَتَيْنِ مَاضِيَةً وَمُسْتَقْبَلَةً، وَصَوْمُ عَاشُورَاءَ يُكَفِّرُ سَنَةً مَاضِيَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوم عرفہ (نو ذی الحجہ) کا روزہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22535]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الاضطرابه والاختلاف فيه، ولجهالة أبى حرملة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الاضطرابه والاختلاف فيه، ولجهالة أبى حرملة
حدیث نمبر: 22536 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنِ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ ، قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ، قَالَ: " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ قَالَ:" الْمُؤْمِنُ اسْتَرَاحَ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالْفَاجِرُ اسْتَرَاحَ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو فرمایا یہ شخص آرام پانے والا ہے یا دوسروں کو اس سے آرام مل گیا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! اس کا کیا مطلب؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بندہ مؤمن دنیا کی تکالیف اور پریشانیوں سے نجات حاصل کر کے اللہ کی رحمت میں آرام پاتا ہے اور فاجر آدمی سے لوگ، شہر درخت اور درندے تک راحت حاصل کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22536]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6513، م: 950
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6513، م: 950