بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 142
صفحہ 8 از 8
حدیث نمبر: 22657 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَّا، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالُوا: لَا وَاللَّهِ مَا تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ , قَالَ: فَهَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ؟ قَالُوا: نَعَمْ، ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا , قَالَ: فَهَلْ تَرَكَ لَهَا قَضَاءً؟ قَالُوا: لَا وَاللَّهِ مَا تَرَكَ لَهَا مِنْ شَيْءٍ , قَالَ: فَصَلُّوا أَنْتُمْ عَلَيْهِ , قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَضَيْتُ عَنْهُ، أَتُصَلِّي عَلَيْهِ؟ قَالَ: إِنْ قَضَيْتَ عَنْهُ بِالْوَفَاءِ، صَلَّيْتُ عَلَيْهِ , قَالَ: فَذَهَبَ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَضَى عَنْهُ، فَقَالَ: أَوْفَيْتَ مَا عَلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی فوت ہوگیا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ وہ اس کا جنازہ پڑھا دیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا واللہ اس نے کچھ نہیں چھوڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا اس نے اپنے اوپر کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا جی ہاں اٹھارہ درہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لئے بھی کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا واللہ اس نے کچھ نہیں چھوڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تم خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لو، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر میں اس کا قرض ادا کر دوں تو کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس کا پورا قرض ادا کردو تو میں اس کا جنازہ پڑھا دوں گا چنانچہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے جا کر اس کا قرض ادا کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا سارا قرض ادا کردیا؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22657]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وفي ضوء طريق أخرى، فهي منقطعة لأن عبدالله بن أبى قتادة لم يسمعه من أبيه
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وفي ضوء طريق أخرى، فهي منقطعة لأن عبدالله بن أبى قتادة لم يسمعه من أبيه
حدیث نمبر: 22658 مسند احمد
الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبُو قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو قَتَادَةَ أَوْ حَدَّثَنَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَيُطِيلُ فِي الْأُولَيَيْنِ، وَفِي الْعَصْرِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرماتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں سنا دیتے تھے اس میں بھی پہلی رکعت نسبتہ لمبی اور دوسری مختصر فرماتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے کہ پہلی رکعت لمبی اور دوسری اس کی نسبت مختصر پڑھاتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قرأت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22658]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح