بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 142
صفحہ 7 از 8
حدیث نمبر: 22637 مسند احمد
مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ هُوَ الرَّقِّيُّ ، الْحَجَّاجُ ، قَتَادَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ هُوَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ وُضِعَ لَهُ وَضُوءٌ، فَوَلَغَ فِيهِ السِّنَّوْرُ، فَأَخَذَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالُوا: يَا أَبَا قَتَادَةَ، قَدْ وَلَغَ فِيهِ السِّنَّوْرُ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " السِّنَّوْرُ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ، وَإِنَّهُ مِنَ الطَّوَّافِينَ أَوْ الطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کبشہ بنت کعب جو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے نکاح میں تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ان کے یہاں آئے کبشہ نے ان کے لئے وضو کا پانی رکھا اسی دوران ایک بلی آئی اور اسی برتن میں سے پانی پینے لگی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے برتن ٹیڑھا کردیا، یہاں تک کہ بلی سیراب ہوگئی انہوں نے دیکھا کہ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو فرمایا بھتیجی! کیا تمہیں اس سے تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں! انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے یہ ناپاک نہیں ہوتی کیونکہ یہ تمہارے گھروں میں بار بار آنے والا جانور ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22637]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، تفرد الحجاج عن قتادة بن عبدالله الأنصاري، والحجاج مدلس، وقد عنعن، لكنهما توبعا
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، تفرد الحجاج عن قتادة بن عبدالله الأنصاري، والحجاج مدلس، وقد عنعن، لكنهما توبعا
حدیث نمبر: 22638 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ، وَإِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا تَمَسَّحَ أَحَدُكُمْ مِنَ الْخَلَاءِ فَلَا يَتَمَسَّحَنَّ بِيَمِينِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پیئے تو برتن میں سانس نہ لے جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے اور جب پیشاب کرے تو دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو نہ چھوئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22638]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5630، م: 267
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5630، م: 267
حدیث نمبر: 22639 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مَعْبَدِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبُو قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مَعْبَدِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا أَبُو قَتَادَةَ وَنَحْنُ نَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا , فَقَالَ: شَاهَتْ الْوُجُوهُ، أَتَدْرُونَ مَا تَقُولُونَ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" , قَالَ عَفَّانُ: وَقَدْ قَالَ لِي: مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے لوگو! میرے حوالے سے کثرت کے ساتھ حدیث بیان کرنے سے بچو اور جو میری طرف نسبت کر کے کوئی بات کہے تو وہ صرف صحیح بات کہے اس لئے کہ جو شخص میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22639]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى محمد بن معبد، واختلف على حماد فى تسمية ابن كعب بن مالك
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى محمد بن معبد، واختلف على حماد فى تسمية ابن كعب بن مالك
حدیث نمبر: 22640 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُحَدِّثُ , أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22640]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى محمد بن معبد، واختلف على حماد فى تسمية ابن كعب بن مالك
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى محمد بن معبد، واختلف على حماد فى تسمية ابن كعب بن مالك
حدیث نمبر: 22641 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي" , يَعْنِي: لِلصَّلَاةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22641]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
الحكم: إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
حدیث نمبر: 22642 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ النَّوْشَجَانِ وَهُوَ أَبُو جَعْفَرٍ السُّوَيْدِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّوْشَجَانِ وَهُوَ أَبُو جَعْفَرٍ السُّوَيْدِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ؟ قَالَ:" لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا" , أَوْ قَالَ:" لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سب سے بدترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! انسان نماز میں کس طرح چوری کرسکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس طرح کہ رکوع و سجود اچھی طرح مکمل نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22642]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وتكلم فيه الإمام على بن المديني
الحكم: حديث صحيح، وتكلم فيه الإمام على بن المديني
حدیث نمبر: 22643 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيه
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَن أَبِيه ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22643]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وتكلم فيه الإمام على بن المديني
الحكم: حديث صحيح، وتكلم فيه الإمام على بن المديني
حدیث نمبر: 22644 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَبَا سَلَمَةِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا , فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس لئے جو شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ خواب دیکھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22644]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5747، م: 2261
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5747، م: 2261
حدیث نمبر: 22645 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٌ ، وَعَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ , وَعَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْرُجُ وَهُوَ حَامِلٌ ابْنَةَ زَيْنَبَ عَلَى عُنُقِهِ، فَيَؤُمُّ النَّاسَ، فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی امامہ یا امیمہ بنت ابی العاص کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے یہاں تک کہ اسی طرح نماز سے فارغ ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22645]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 516، م: 543، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، خ: 516، م: 543، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 22646 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، سَمِعَ أَبَاهُ أَبَا قَتَادَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الرُّطَبُ وَالزَّهْوُ جَمِيعًا، أَوْ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا، وَقَالَ: انْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (کھجور کی مختلف اقسام کو) ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ علیحدہ علیحدہ ان کی نبیذ بنائی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22646]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5602، م: 1988
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5602، م: 1988
حدیث نمبر: 22647 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ أَخْبَرَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ، وَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ، فَلَا يَسْتَنْجِيَنَّ بِيَمِينِهِ" , وقَالَ أَبُو عَامِرٍ:" وَلَا يَمَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پیئے تو برتن میں سانس نہ لے جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے اور جب پیشاب کرے تو دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو نہ چھوئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22647]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 153، م: 267
الحكم: إسناده صحيح، خ: 153، م: 267
حدیث نمبر: 22648 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ يُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، فَيُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ، وَيُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الْفَجْرِ، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرماتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں سنا دیتے تھے اس میں بھی پہلی رکعت نسبتہ لمبی اور دوسری مختصر فرماتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے کہ پہلی رکعت لمبی اور دوسری اس کی نسبت مختصر پڑھاتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قرأت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22648]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
الحكم: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22649 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، هَاشِمٌ ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي، وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو اور اپنے اوپر سکون و اطمینان کو لازم کرلو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22649]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 909، م: 604
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 909، م: 604
حدیث نمبر: 22650 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: " أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ كَفَّارَةَ سَنَتَيْنِ مَاضِيَةٍ وَمُسْتَقْبَلَةٍ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ قَالَ:" لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ:" ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ:" وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ" , قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ:" وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟" قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ:" أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ كَفَّارَةَ سَنَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اگر کوئی آدمی ہمیشہ روزے رکھے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کا روزہ رکھنا اور نہ رکھنا دونوں برابر ہیں سائل نے پوچھا دو دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا کیسا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کی طاقت کس میں ہے سائل نے پوچھا کہ دو دن ناغہ کرنا اور ایک دن روزہ رکھنا کیسا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی نظروں میں یہ قابل تعریف ہو، سائل نے پوچھا کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا کیسا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ تو میرے بھائی حضرت داؤد علیہ السلام کا طریقہ ہے سائل نے پیر اور جمعرات کے روزے کے حوالے سے پوچھا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی، ہر مہینے میں تین روزے رکھ لینا اور پورے ماہ رمضان کے روزے رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے سائل نے پوچھا یوم عرفہ کے روزے کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس سے گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے سائل نے یوم عاشورہ کے روزے کا حکم پوچھا تو فرمایا اس سے گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22650]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1162
الحكم: إسناده صحيح، م: 1162
حدیث نمبر: 22651 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبِي الْعُمَيْسِ ، عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، الزُّرَقِيِّ يُقَالُ لَهُ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ , حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الزُّرَقِيِّ يُقَالُ لَهُ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي وَابْنَتُهُ عَلَى عَاتِقِهِ، وَقَالَ مَرَّةً: حَمَلَ أُمَامَةَ وَهُوَ يُصَلِّي، وَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَوْ يَسْجُدَ وَضَعَهَا، فَإِذَا قَامَ أَخَذَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی امامہ یا امیمہ بنت ابی العاص کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے یہاں تک کہ اسی طرح نماز سے فارغ ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22651]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 516، م: 543
الحكم: إسناده صحيح، خ: 516، م: 543
حدیث نمبر: 22652 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبِي الْعُمَيْسِ ، عَامْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، الزُّرَقِيِّ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ , عَنْ عَامْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں (بطور تحیۃ المسجد) پڑھ لینی چاہئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22652]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 444، م: 714
الحكم: إسناده صحيح، خ: 444، م: 714
حدیث نمبر: 22653 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا زمانے کو برا بھلا مت کہا کرو، کیونکہ اللہ ہی زمانے کا خالق ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22653]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح،
الحكم: إسناده صحيح،
حدیث نمبر: 22654 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، الْحَجَّاجِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُثْمَانَ الصَّوَّافَ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُثْمَانَ الصَّوَّافَ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَذَلِكَ الصُّبْحُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرماتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں سنا دیتے تھے اس میں بھی پہلی رکعت نسبتہ لمبی اور دوسری مختصر فرماتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے کہ پہلی رکعت لمبی اور دوسری اس کی نسبت مختصر پڑھاتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قرأت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22654]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
الحكم: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22655 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الصَّوَّافِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ، وَإِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، فَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا بَالَ، فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پیئے تو برتن میں سانس نہ لے جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے اور جب پیشاب کرے تو دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو نہ چھوئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22655]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 153، م: 267
الحكم: إسناده صحيح، خ: 153، م: 267
حدیث نمبر: 22656 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ
قَالَ: قَالَ: يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ، وَإِذَا شَرِبَ، فَلَا يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ، وَإِذَا أَخَذَ، فَلَا يَأْخُذْ بِشِمَالِهِ، وَإِذَا أَعْطَى فَلَا يُعْطِي بِشِمَالِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی طلحہ رحمہ اللہ سے مرسلاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ بائیں ہاتھ سے نہ کھائے جب پیئے تو بائیں ہاتھ سے نہ پیئے جب کوئی چیز پکڑے تو بائیں ہاتھ سے نہ پکڑے اور جب کوئی چیز دے تو بائیں ہاتھ سے نہ دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22656]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 267
الحكم: إسناده صحيح، م: 267