بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 142
صفحہ 6 از 8
حدیث نمبر: 22617 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِي قَتَادَةَ ، عَفَّانُ ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، وَكَانَ يُسْمِعُنَا الْأَحْيَانَ الْآيَةَ، قَالَ: وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ , قَالَ: وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطِيلُ فِي الثَّانِيَةِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ" , قَالَ عَفَّانُ: وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور کوئی سورت ملاتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں بھی سنا دیتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے فجر کی نماز میں پہلی رکعت لمبی پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22617]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
الحكم: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22618 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِي قَتَادَةَ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ" , قَالَ: وحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کشمش اور کجھور سرخ کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22618]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5602، م: 1988
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5602، م: 1988
حدیث نمبر: 22619 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا" , قَالَ: وحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَؤُلَاءِ الثَّمَانِ كَلِمَاتٍ وَزَادَ كَلِمَتَيْنِ:" مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کی نماز جنازہ پڑھائی میں بھی موجود تھا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ دعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ موجود اور غیر موجود چھوٹوں اور بڑوں اور مرد و عورت کو معاف فرما۔ ابو سلمہ نے اس میں یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ اے اللہ! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت عطاء فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22619]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف فيه على يحيى بن أبى كثير
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف فيه على يحيى بن أبى كثير
حدیث نمبر: 22620 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22620]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو إبراهيم وأبوه لا يعرفان، وقد اختلف فيه على يحيى بن أبى كثير
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو إبراهيم وأبوه لا يعرفان، وقد اختلف فيه على يحيى بن أبى كثير
حدیث نمبر: 22621 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ صِيَامَ عَرَفَةَ؟ قَالَ: " أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ صَوْمَ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یوم عرفہ کے روزے کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے بارگاہ الٰہی سے امید ہے کہ اس سے گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے سائل نے یوم عاشورہ کے روزے کا حکم پوچھا تو فرمایا مجھے بارگاہ الٰہی سے امید ہے کہ اس سے گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22621]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1162
الحكم: إسناده صحيح، م: 1162
حدیث نمبر: 22622 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22622]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
الحكم: إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
حدیث نمبر: 22623 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، أَبُو قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ , أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ وَكَانَ يَأْتِيهِ يَتَقَاضَاهُ، فَيَخْتَبِئُ مِنْهُ، فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَخَرَجَ صَبِيٌّ فَسَأَلَهُ عَنْهُ، فَقَالَ: نَعَمْ هُوَ فِي الْبَيْتِ، يَأْكُلُ خَزِيرَةً، فَنَادَاهُ يَا فُلَانُ اخْرُجْ فَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ هَاهُنَا، فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا يُغَيِّبُكَ عَنِّي؟ قَالَ: إِنِّي مُعْسِرٌ وَلَيْسَ عِنْدِي , قَالَ: آللَّهِ إِنَّكَ مُعْسِرٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَبَكَى أَبُو قَتَادَةَ ، ثُمّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ " مَنْ نَفَّسَ عَنْ غَرِيمِهِ، أَوْ مَحَا عَنْهُ، كَانَ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا ایک آدمی پر قرض تھا وہ اس سے تقاضا کرنے کے لئے جاتے تو وہ چھپ جاتا ایک دن وہ اس کے گھر پہنچے تو ایک بچہ وہاں سے نکلا انہوں نے اس بچے سے اس کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ ہاں! وہ گھر میں ہیں اور کھانا کھا رہے ہیں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس کا نام لے کر اسے آواز دی کہ باہر آؤ، مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم اندر ہی ہو وہ باہر آیا تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم مجھ سے کیوں چھپتے پھر رہے ہو؟ اس نے کہا کہ میں تنگدست ہوں اور میرے پاس کچھ نہیں ہے انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم کھا کر کہو کہ تمہارے پاس کچھ نہیں ہے؟ اس نے کہا کہ واقعی ایسا ہی ہے اس پر حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے مقروض کو مہلت دے دے یا اس کا قرض معاف کر دے تو وہ قیامت کے دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22623]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1563
الحكم: إسناده صحيح، م: 1563
حدیث نمبر: 22624 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، رَجُلًا ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا ، قَالَ سَعْدٌ: كَانَ يُقَالُ لَهُ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، وَلَمْ يَكُنْ مَوْلًى يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي قَتَادَةَ : أَنَّهُ أَصَابَ حِمَارَ وَحْشٍ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبَقِيَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟ قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدُ، فَقَالَ: أَبَقِيَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟ قَالَ: فَأَكَلَهُ , أَوْ قَالَ:" فَكُلُوهُ" ، فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ: مَعْنَى قَوْلِهِ لَا بَأْسَ بِهِ، قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک گورخر کا شکار کیا جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچے تو اس کے متعلق سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حالت احرام تھے انہوں نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ بچا ہے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول فرمایا یا لوگوں کو کھانے کی اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22624]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1821، م: 1196
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1821، م: 1196
حدیث نمبر: 22625 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَقْرَءُونَ خَلْفِي؟ قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کیا تم میرے پیچھے نماز میں قرأت کرتے ہو؟ لوگوں نے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسا مت کیا کرو الاّ یہ کہ سورت فاتحہ پڑھ لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22625]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين سليمان التيمي وعبدالله بن أبى قتادة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين سليمان التيمي وعبدالله بن أبى قتادة
حدیث نمبر: 22626 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاكَ" , ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ لَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاكَ إِلَّا الدَّيْنَ، كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کی راہ میں حال ہی میں شہید ہوجاؤں کہ میں ثواب کی نیت سے ثابت قدم رہاہوں آگے بڑھا ہوں پیچھے نہ ہٹا ہوں تو کیا اللہ اس کی برکت سے میرے سارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگر تم اسی طرح شہید ہوئے ہو تو اللہ تمہارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا کچھ دیر گذرنے کے بعد اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی جواب دیا لیکن اس میں یہ استثناء کردیا کہ " قرض کے علاوہ " اور فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی مجھے اسی طرح بتایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22626]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1885
الحكم: إسناده صحيح، م: 1885
حدیث نمبر: 22627 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرماتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں سنا دیتے تھے اس میں بھی پہلی رکعت نسبتہ لمبی اور دوسری مختصر فرماتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے کہ پہلی رکعت لمبی اور دوسری اس کی نسبت مختصر پڑھاتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قرأت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22627]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
الحكم: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22628 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22628]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
الحكم: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22629 مسند احمد
رَوْحٌ ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي قَتَادَةَ ، يَحْيَى ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَنْتَبِذُوا الرُّطَبَ وَالزَّهْوَ، وَالتَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَتِهِ" , قَالَ يَحْيَى : فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ فَأَخْبَرَنِي , عَنْ أَبِيهِ بِذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کشمش اور کجھور سرخ کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22629]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5602، م: 1988
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5602، م: 1988
حدیث نمبر: 22630 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى بِأَرْضِ سَعْدٍ بِأَصْلِ الْحَرَّةِ عِنْدَ بُيُوتِ السُّقْيَا، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَكَ وَعَبْدَكَ وَنَبِيَّكَ دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ مِثْلَ مَا دَعَاكَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ، نَدْعُوكَ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ وَثِمَارِهِمْ، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ، وَاجْعَلْ مَا بِهَا مِنْ وَبَاءٍ بِخُمٍّ، اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمْتَ عَلَى لِسَانِ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور حرہ میں پانی کے گھاٹ کے قریب حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی زمین میں نماز پڑھی، پھر فرمایا اے اللہ! تیرے خلیل، بندے اور نبی ابراہیم علیہ السلام نے تجھ سے اہل مکہ کے لئے دعاء مانگی تھی اور میں تیرے بندہ، نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تجھ سے اہل مدینہ کے لئے اس طرح دعاء مانگ رہا ہوں کہ تو ان کے صاع مد اور پھلوں میں برکت عطاء فرما، اے اللہ! ہماری نظروں میں مدینہ کو بھی اس طرح محبوب بنا جیسے مکہ مکرمہ کی محبت ہمیں عطاء فرمائی ہے اور یہاں کی وباؤں کو " خم " کی طرف منتقل فرما اے اللہ میں مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام کی زبانی مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22630]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22631 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَبَاحٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَبَاحٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ لَمَّا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّوْا، قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلُّوهَا الْغَدَ لِوَقْتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کے لئے کھڑے ہوئے نماز پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کل بھی اس نماز کو اس وقت پڑھنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22631]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 681
الحكم: إسناده صحيح، م: 681
حدیث نمبر: 22632 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٌ ، بَكْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا عَرَّسَ بِلَيْلٍ، اضْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ، وَإِذَا عَرَّسَ قَبْلَ الصُّبْحِ، نَصَبَ ذِرَاعَيْهِ، وَوَضَعَ رَأْسَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کبھی رات کے وقت کہیں پڑاؤ ڈالتے تو دائیں پہلو پر لیٹا کرتے تھے اور اگر صبح صادق سے تھوڑی ہی دیرپہلے پڑاؤ کیا ہوتا تو اپنی کہنیوں کو زمین پر ٹکا کر اپنا سر دونوں ہتھیلیوں کے درمیان رکھ لیتے تھے (تاکہ نیند نہ آئے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22632]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 683
الحكم: إسناده صحيح، م: 683
حدیث نمبر: 22633 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22633]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
الحكم: إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
حدیث نمبر: 22634 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ فَلَا يَتَمَسَّحَنَّ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ، فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي إِنَائِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پیئے تو برتن میں سانس نہ لے جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو نہ چھوئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22634]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 153، م: 267
الحكم: إسناده صحيح، خ: 153، م: 267
حدیث نمبر: 22635 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، حَرْبٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ رَأَى رُؤْيَا تُعْجِبُهُ فَلْيُحَدِّثْ بِهَا، فَإِنَّهَا بُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ رَأَى رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا، وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ وَيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس لئے جو شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ خواب دیکھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22635]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6986
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6986
حدیث نمبر: 22636 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حُمَيْدَةَ ، كَبْشَةَ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ ، عَنْ كَبْشَةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ أَبَا قَتَادَةَ أَصْغَى الْإِنَاءَ لِلْهِرَّةِ، فَشَرِبَتْ، فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ؟ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کبشہ بنت کعب جو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے نکاح میں تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ان کے یہاں آئے کبشہ نے ان کے لئے وضو کا پانی رکھا اسی دوران ایک بلی آئی اور اسی برتن میں سے پانی پینے لگی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے برتن ٹیڑھا کردیا، یہاں تک کہ بلی سیراب ہوگئی انہوں نے دیکھا کہ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو فرمایا بھتیجی! کیا تمہیں اس سے تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں! انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے یہ ناپاک نہیں ہوتی کیونکہ یہ تمہارے گھروں میں بار بار آنے والا جانور ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22636]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين