بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 142
صفحہ 2 از 8
حدیث نمبر: 22537 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِغَيْلَانَ الْأَنْصَارِيِّ؟ فَقَالَ بِرَأْسِهِ: أَيْ نَعَمْ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِهِ فَغَضِبَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيتُ , أَوْ قَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ قَالَ: وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً، قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ صَامَ الْأَبَدَ؟ قَالَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ" , قَالَ: صَوْمُ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ؟ قَالَ:" وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟!" قَالَ: إِفْطَارُ يَوْمَيْنِ وَصَوْمُ يَوْمٍ؟ قَالَ:" لَيْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَوَّانَا لِذَلِكَ" , قَالَ: صَوْمُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ؟ قَالَ:" ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ" , قَالَ: صَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؟ قَالَ:" ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَأُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ" , قَالَ:" صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ" , قَالَ: صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ؟ قَالَ:" يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ" , قَالَ: صَوْمُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ:" يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان کے روزے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناراض ہوئے اور یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رسول مان کر راضی ہیں اور اسی پر ہم نے بیعت کی ہے پھر ایک دوسرے آدمی یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہی اٹھ کر پوچھا یا رسول اللہ! اگر کوئی آدمی ہمیشہ روزے رکھے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کا روزہ رکھنا اور نہ رکھنا دونوں برابر ہیں سائل نے پوچھا دو دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا کیسا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کی طاقت کس میں ہے سائل نے پوچھا کہ دو دن ناغہ کرنا اور ایک دن روزہ رکھنا کیسا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی نظروں میں یہ قابل تعریف ہو، سائل نے پوچھا کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا کیسا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ تو میرے بھائی حضرت داؤد علیہ السلام کا طریقہ ہے سائل نے پیر اور جمعرات کے روزے کے حوالے سے پوچھا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی، ہر مہینے میں تین روزے رکھ لینا اور پورے ماہ رمضان کے روزے رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے سائل نے پوچھا یوم عرفہ کے روزے کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس سے گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے سائل نے یوم عاشورہ کے روزے کا حکم پوچھا تو فرمایا اس سے گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22537]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1162، وذكر الخميس وهم، صوابه بدونه
الحكم: إسناده صحيح، م: 1162، وذكر الخميس وهم، صوابه بدونه
حدیث نمبر: 22538 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، ابْنٌ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي ابْنٌ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي، مَنْ قَالَ عَلَيَّ، فَلَا يَقُولَنَّ إِلَّا حَقًّا أَوْ صِدْقًا، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے لوگو! میرے حوالے سے کثرت کے ساتھ حدیث بیان کرنے سے بچو اور جو میری طرف نسبت کر کے کوئی بات کہے تو وہ صرف صحیح بات کہے اس لئے کہ جو شخص میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22538]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22539 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنَا الْآيَةَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَحْيَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں بھی سنا دیتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22539]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
الحكم: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22540 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَامِرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، الزُّرَقِيِّ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز میں دوران تشہد بیٹھتے تو اپنا ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھتے اور انگلی سے اشارے کرتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22540]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22541 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ , أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: صَوْمُ الِاثْنَيْنِ؟ قَالَ:" ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَأُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22541]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1162
الحكم: إسناده صحيح، م: 1162
حدیث نمبر: 22542 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبَاهُ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ ، كَانَ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاكَ" , ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ عَنْكَ خَطَايَاكَ إِلَّا الدَّيْنَ، كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کی راہ میں حال میں شہید ہوجاؤں کہ میں ثواب کی نیت سے ثابت قدم رہا ہوں آگے بڑھا ہوں پیچھے نہ ہٹا ہوں تو کیا اللہ اس کی برکت سے میرے سارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگر تم اسی طرح شہید ہوئے ہو تو اللہ تمہارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا کچھ دیر گذرنے کے بعد اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی جواب دیا لیکن اس میں یہ استثناء کردیا کہ " قرض کے علاوہ " اور فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی مجھے اسی طرح بتایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22542]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1885
الحكم: إسناده صحيح، م: 1885
حدیث نمبر: 22543 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ، دِينَارَانِ قَالَ:" أَتَرَكَ لَهُمَا وَفَاءً؟" قَالُوا: لَا , قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" , قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا اس نے اپنے پیچھے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں! دو دینار، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو، اس پر حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس کا قرض میرے ذمے ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22543]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وفي ضوء طريق أخرى فهي منقطعة لأن عبدالله بن أبى قتادة لم يسمعه من أبيه
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وفي ضوء طريق أخرى فهي منقطعة لأن عبدالله بن أبى قتادة لم يسمعه من أبيه
حدیث نمبر: 22544 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیع وشراء میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچا کرو کیونکہ اس سے سودا تو بک جاتا ہے لیکن اس کی برکت ختم ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22544]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1607، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 1607، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22545 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبَا قَتَادَةَ السَّلَمِيَّ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ السَّلَمِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیع وشراء میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچا کرو کیونکہ اس سے سودا تو بک جاتا ہے لیکن اس کی برکت ختم ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22545]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1607، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 1607، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22546 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي قَتَادَةَ ، عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ إِنْ لَا تُدْرِكُوا الْمَاءَ غَدًا، تَعْطَشُوا" , وَانْطَلَقَ سَرَعَانُ النَّاسِ يُرِيدُونَ الْمَاءَ، وَلَزِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَالَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتُهُ، فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَمْتُهُ، فَادَّعَمَ، ثُمَّ مَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَنْجَفِلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَدَعَمْتُهُ، فَانْتَبَهَ، فَقَالَ:" مَنْ الرَّجُلُ؟" قُلْتُ: أَبُو قَتَادَةَ , قَالَ: مُذْ كَمْ كَانَ مَسِيرُكَ؟ قُلْتُ: مُنْذُ اللَّيْلَةِ , قَالَ:" حَفِظَكَ اللَّهُ كَمَا حَفِظْتَ رَسُولَهُ"، ثُمَّ قَالَ: لَوْ عَرَّسْنَا فَمَالَ إِلَى شَجَرَةٍ، فَنَزَلَ، فَقَالَ: انْظُرْ هَلْ تَرَى أَحَدًا؟ قُلْتُ: هَذَا رَاكِبٌ، هَذَانِ رَاكِبَانِ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةً، فَقَالَ:" احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا" فَنِمْنَا، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، فَانْتَبَهْنَا، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَارَ، وَسِرْنَا هُنَيْهَةً، ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالَ:" أَمَعَكُمْ مَاءٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، مَعِي مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ:" ائْتِ بِهَا" , فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ:" مَسُّوا مِنْهَا، مَسُّوا مِنْهَا" , فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ، وَبَقِيَتْ جَرْعَةٌ، فَقَالَ:" ازْدَهِرْ بِهَا يَا أَبَا قَتَادَةَ، فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ" , ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ، وَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ، ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْنَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَقُولُونَ إِنْ كَانَ أَمْرَ دُنْيَاكُمْ، فَشَأْنُكُمْ، وَإِنْ كَانَ أَمْرَ دِينِكُمْ، فَإِلَيَّ" , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا , فَقَالَ:" لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ، فَصَلُّوهَا، وَمِنْ الْغَدِ وَقْتَهَا" , ثُمَّ قَالَ:" ظُنُّوا بِالْقَوْمِ" , قَالُوا: إِنَّكَ قُلْتَ بِالْأَمْسِ:" إِنْ لَا تُدْرِكُوا الْمَاءَ غَدًا، تَعْطَشُوا" , فَالنَّاسُ بِالْمَاءِ , فَقَالَ:" أَصْبَحَ النَّاسُ وَقَدْ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَاءِ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ، فَقَالَا: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَسْبِقَكُمْ إِلَى الْمَاءِ وَيُخَلِّفَكُمْ وَإِنْ يُطِعْ النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، يَرْشُدُوا" , قَالَهَا ثَلَاثًا , فَلَمَّا اشْتَدَّتْ الظَّهِيرَةُ، رَفَعَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْنَا عَطَشًا، تَقَطَّعَتْ الْأَعْنَاقُ، فَقَالَ:" لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ"، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا قَتَادَةَ، ائْتِ بِالْمِيضَأَةِ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: احْلِلْ لِي غُمَرِي يَعْنِي: قَدَحَهُ فَحَلَلْتُهُ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَجَعَلَ يَصُبُّ فِيهِ، وَيَسْقِي النَّاسَ، فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَحْسِنُوا الْمَلَأَ، فَكُلُّكُمْ سَيَصْدُرُ عَنْ رِيٍّ" , فَشَرِبَ الْقَوْمُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَبَّ لِي، فَقَالَ: اشْرَبْ يَا أَبَا قَتَادَةَ" , قَالَ: قُلْتُ: اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ" , فَشَرِبْتُ، وَشَرِبَ بَعْدِي، وَبَقِيَ فِي الْمِيضَأَةِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهَا، وَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثُ مِائَةٍ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَأَنَا أُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ، فَقَالَ: مَنْ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ , قَالَ الْقَوْمُ أَعْلَمُ بِحَدِيثِهِمْ، انْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ فَإِنِّي أَحَدُ السَّبْعَةِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَلَمَّا فَرَغْتُ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ أَحَدًا يَحْفَظُ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرِي..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم پانی تک نہ پہنچے تو پیاسے رہ جاؤ گے چنانچہ جلد باز لوگ پانی کی تلاش میں نکل گئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہی رہا اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اونگنے لگے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری سے جھکے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جگائے بغیر سہارا دے دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر سیدھے ہوگئے پھر اپنی سواری پر جھکے تو میں نے آپ کو جگائے بغیر سیدھا کیا یہاں تک کہ آپ اپنی سواری پر سیدھے ہوگئے پھر پہلے سے بھی زیادہ جھکے یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ گرپڑیں میں پھر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سہارا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا کون ہے؟ میں نے عرض کیا ابو قتادہ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم کب سے اس طرح میرے ساتھ چل رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں ساری رات سے اسی طرح آپ کے ساتھ چل رہا ہوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائے جس طرح تم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت کی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا خیال ہے کہ ہمیں پڑاؤ کرلینا چاہئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک درخت کے قریب پہنچ کر منزل کی پھر فرمایا تم کسی کو دیکھ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا یہ ایک سوار ہے یہاں تک کہ سات سوار جمع ہوگئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم ہماری نماز کا خیال رکھنا چنانچہ ہم لوگ سو گئے اور سورج کی تمازت نے ہی ہمیں جگایا ہم بیدار ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوار ہو کر وہاں سے چل دیئے ہم بھی آہستہ آہستہ چل پڑے، ایک جگہ پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! میرے وضو کے برتن میں تھوڑا سا پانی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ لے آؤ میں وہ پانی لایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس سے وضو کرو۔ چنانچہ سب لوگوں نے وضو کیا اور اس میں سے کچھ پانی بچ گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس وضو کے پانی کے برتن کی حفاظت کرو کیونکہ اس سے عنقریب ایک عجیب خبر ظاہر ہوگی پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ نے دو رکعتیں پڑھیں (سنت) پھر صبح کی نماز پڑھی (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوار ہوئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سوار ہوئے ہم میں سے ایک آدمی نے دوسرے سے کہا کہ ہماری اس غلطی کا کفارہ کیا ہوگا جو ہم نے نماز میں کی کہ ہم بیدار نہیں ہوئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا کہہ رہے ہو؟ اگر کوئی دنیوی بات ہے تو ٹھیک ہے اور اگر کوئی دینی مسئلہ ہے تو مجھے بھی بتاؤ، ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم سے نماز میں تفریط ہوگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ سونے میں کوئی تفریط نہیں بلکہ تفریط تو جاگنے میں ہوتی ہے۔ اگر کسی سے اس طرح ہوجائے تو اسے چاہیے کہ جس وقت بھی وہ بیدار ہوجائے نماز پڑھ لے اور جب اگلا دن آجائے تو وہ نماز اس کے وقت پر پڑھے پھر فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ دوسرے لوگوں نے کیا کیا ہوگا؟ انہوں نے عرض کیا کہ کل آپ نے خود ہی فرمایا تھا کہ اگر تم کل پانی تک نہ پہنچے تو پیاسے رہ جاؤ گے چنانچہ لوگ پانی کی تلاش میں ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ جب لوگوں نے صبح کی تو انہوں نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہ پایا لوگوں میں موجود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے پیچھے ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں پیچھے چھوڑ جائیں اور خود پانی کی طرف سبقت لے جائیں اگر وہ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات مان لیں گے تو وہ ہدایت پاجائیں تین مرتبہ فرمایا پھر ہم لوگوں کی طرف اس وقت پہنچے جس وقت دن چڑھ چکا تھا اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا لوگ کہنے لگے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں تو پیاس نے ہلاک کردیا اور گردنیں ٹوٹنے لگیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم ہلاک نہیں ہوئے پھر فرمایا اے ابو قتادہ میرا چھوٹا پیالہ لاؤ میں وہ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ف [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22546]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 683
الحكم: إسناده صحيح، م: 683
حدیث نمبر: 22547 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ..
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 681
الحكم: إسناده صحيح، م: 681
حدیث نمبر: 22548 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 681
الحكم: إسناده صحيح، م: 681
حدیث نمبر: 22549 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ أَبِي قَتَادَةَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا،" فَرَأَى كَوْكَبًا انْقَضَّ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: إِنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نُتْبِعَهُ أَبْصَارَنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اپنے گھر کی چھت پر حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے اسی دوران ایک ستارہ ٹوٹا لوگ اسے دیکھنے لگے تو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمیں اس کے پیچھے اپنی نگاہوں کو دوڑانے سے منع کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22549]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22550 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ، فَقَالَ: " فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پیر کے روزے کے حوالے سے پوچھا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس دن میری پیدائش ہوئی اور اس دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22550]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1162
الحكم: إسناده صحيح، م: 1162
حدیث نمبر: 22551 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ ، أَبُو قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ , قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ فَوَجَدْتُهُ قَدْ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْأُمَرَاءِ، وَقَالَ: " عَلَيْكُمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ، فجَعْفَرٌ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ، فعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيُّ" , فَوَثَبَ جَعْفَرٌ، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَأُمِّي، مَا كُنْتُ أَرْهَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَيَّ زَيْدًا، قَالَ:" امْضُوا فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّ ذَلِكَ خَيْرٌ" , قَالَ: فَانْطَلَقَ الْجَيْشُ فَلَبِثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ , وَأَمَرَ أَنْ يُنَادَى الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَابَ خَبْرٌ أَوْ ثَابَ خَبْرٌ شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ , أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ جَيْشِكُمْ هَذَا الْغَازِي، إِنَّهُمْ انْطَلَقُوا حَتَّى لَقُوا الْعَدُوَّ، فَأُصِيبَ زَيْدٌ شَهِيدًا، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ" , فَاسْتَغْفَرَ لَهُ النَّاسُ ," ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَشَدَّ عَلَى الْقَوْمِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا، أَشْهَدُ لَهُ بِالشَّهَادَةِ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَأَثْبَتَ قَدَمَيْهِ حَتَّى أُصِيبَ شَهِيدًا، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْأُمَرَاءِ، هُوَ أَمَّرَ نَفْسَهُ" , فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَيْهِ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ هُوَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِكَ، فَانْصُرْهُ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مَرَّةً فَانْتَصِرْ بِهِ" , فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ خَالِدٌ سَيْفَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْفِرُوا فَأَمِدُّوا إِخْوَانَكُمْ وَلَا يَتَخَلَّفَنَّ أَحَدٌ" , فَنَفَرَ النَّاسُ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ مُشَاةً وَرُكْبَانًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خالد بن سمیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں عبداللہ بن رباح آئے میں نے دیکھا کہ ان کے پاس بہت سے لوگ جمع ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " جیش امراء " نامی لشکر کو روانہ کرتے ہوئے فرمایا تمہارے امیر زید بن حارثہ ہیں اگر زید شہید ہوجائیں تو جعفرامیرہوں گے اگر جعفر بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ انصاری امیر ہوں گے اس پر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میرا خیال نہیں تھا کہ آپ زید کو مجھ پر امیر مقرر کریں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم روانہ ہوجاؤ کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس بات میں خیر ہے؟ چنانچہ وہ لشکر روانہ ہوگیا کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور " نماز تیار ہے " کی منادی کرنے کا حکم دیا اور فرمایا ایک افسوس ناک خبر ہے کیا میں تمہیں مجاہدین کے اس لشکر کے متعلق نہ بتاؤں؟ وہ لوگ یہاں سے روانہ ہوئے اور دشمن سے آمنا سامنا ہوا تو زید شہید ہوگئے ان کے لئے بخشش کی دعاء کرو لوگوں نے ایسا ہی کیا پھر جعفر بن ابی طالب نے جھنڈا پکڑا اور دشمن پر سخت حملہ کیا حتٰی کہ وہ بھی شہید ہوگئے میں ان کی شہادت کی گواہی دیتا ہوں لہٰذا ان کی بخشش کے لئے دعاء کرو پھر عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا پکڑا اور نہایت پامردی سے ڈٹے رہے حتیٰ کہ وہ بھی شہید ہوگئے ان کے لئے بھی استغفار کرو پھر خالد بن ولید نے جھنڈا پکڑ لیا گو کہ کسی نے انہیں امیر منتخب نہیں کیا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی انگلی بلند کر کے فرمایا اے اللہ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے تو اس کی مدد فرما اسی دن سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا نام " سیف اللہ " پڑگیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے کوچ کرو اور کوئی آدمی بھی پیچھے نہ رہے چنانچہ اس سخت گرمی کے موسم میں لوگ پیدل اور سوار ہو کر روانہ ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22551]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 22552 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا زمانے کو برا بھلا مت کہا کرو، کیونکہ اللہ ہی زمانے کا خالق ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22552]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22553 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِي ، حَيْوَةُ ، أَبُو الصَّخْرِ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ ، يَحْيَى بْنَ النَّضْرِ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِي ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الصَّخْرِ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّهُ حَضَرَ ذَلِكَ، قَالَ أَتَى عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أُقْتَلَ أَمْشِي بِرِجْلِي هَذِهِ صَحِيحَةً فِي الْجَنَّةِ وَكَانَتْ رِجْلُهُ عَرْجَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" , فَقُتِلُوا يَوْمَ أُحُدٍ هُوَ وَابْنُ أَخِيهِ وَمَوْلًى لَهُمْ، فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْكَ تَمْشِي بِرِجْلِكَ هَذِهِ صَحِيحَةً فِي الْجَنَّةِ"، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا وَبِمَوْلَاهُمَا فَجُعِلُوا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ جن کے پاؤں میں لنگراہٹ تھی " نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور شہید ہوجاؤں تو کیا میں صحیح ٹانگ کے ساتھ جنت میں چل پھر سکوں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! پھر غزوہ احد کے دن مشرکین نے انہیں، ان کے بھتیجے اور ایک آزاد کردہ غلام کو شہید کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ان کے پاس سے گذرے تو فرمایا میں تمہیں اپنی اس ٹانگ کے ساتھ صحیح سالم جنت میں چلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں پھر نبی کئے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں اور ان کے غلام کے متعلق حکم دیا اور لوگوں نے انہیں ایک ہی قبر میں دفن کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22553]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22554 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا" , قَالَ يَحْيَى: وَزَادَ فِيهِ أَبُو سَلَمَةَ:" اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا، فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کی نماز جنازہ پڑھائی میں بھی موجود تھا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ دعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ موجود اور غیر موجود چھوٹوں اور بڑوں اور مرد و عورت کو معاف فرما۔ ابو سلمہ نے اس میں یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ اے اللہ! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت عطاء فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22554]
حکم دارالسلام
حديث أبى قتادة غير محفوظ، وأصح شيء فى هذا الباب حديث عوف بن مالك
الحكم: حديث أبى قتادة غير محفوظ، وأصح شيء فى هذا الباب حديث عوف بن مالك
حدیث نمبر: 22555 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ لِجِنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا، فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ قَامَ فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا غَيْرُ ذَلِكَ، قَالَ لِأَهْلِهَا: شَأْنُكُمْ بِهَا، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب کبھی نماز جنازہ کے لئے بلایا جاتا تو پہلے اس کے متعلق لوگوں کی رائے معلوم کرتے تھے اگر لوگ اس کا تذکرہ اچھائی کے ساتھ کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوجاتے اور اس کی نماز پڑھا دیتے اور اگر برائی کے ساتھ تذکرہ ہوتا تو اس کے اہل خانہ سے فرما دیتے اسے لے جاؤ اور خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی نماز نہ پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22555]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22556 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيه
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيه ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22556]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح