بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22611
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22611
حدیث نمبر: 22611 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، هُشَيْمٌ ، الْحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الْحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي سَفَرٍ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا , فَقَالَ:" إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَمَنْ يُوقِظُنَا لِلصَّلَاةِ؟" فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: فَعَرَّسَ بِالْقَوْمِ، فَاضْطَجَعْنَا، وَاسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ، وَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَالَ:" يَا بِلَالُ، أَيْنَ مَا قُلْتَ لَنَا؟" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مِثْلُهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ، وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ" , ثُمَّ أَمَرَهُمْ، فَانْتَشَرُوا لِحَاجَتِهِمْ وَتَوَضَّأَ، فَارْتَفَعَتْ الشَّمْسُ، فَصَلَّى بِهِمْ الْفَجْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر پر روانہ ہوئے رات کے وقت ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر تھوڑی دیر کے لئے پڑاؤ کرلیں تو بہتر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ تم نماز کے وقت سوتے رہے تو ہمیں نماز کے لئے کون جگائے گا؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں جگاؤں گا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پڑاؤ کرلیا اور ہم سب لیٹ گئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی اپنی سواری سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور ان کی آنکھ بھی لگ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھ اس وقت کھلی جب سورج طلوع ہوچکا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو جگا کر فرمایا بلال! وہ بات کہاں گئی جو تم نے ہم سے کہی تھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھ پر ایسی نیند کبھی طاری نہیں ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا اپنے قبضے میں رکھا اور جب چاہا واپس لوٹا دیا پھر لوگوں کو حکم دیا تو وہ قضا حاجت کے لئے منتشر ہوگئے وضو کیا اور جب سورج بلند ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں نماز فجر پڑھا دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22611]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 595
الحكم: إسناده صحيح، خ: 595
← پچھلی حدیث (22610) باب پر واپس اگلی حدیث (22612) →