بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ كَلَدَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 152
صفحہ 7 از 8
حدیث نمبر: 20493 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، سَعِيدٌ أَبُو عُثْمَانَ فِي مُرَبَّعَةِ الْأَحْنَفِ ، مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ أَبُو عُثْمَانَ فِي مُرَبَّعَةِ الْأَحْنَفِ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا اقْتَتَلَ الْمُسْلِمَانِ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں گے اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20493]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 31، م: 2888، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سعيد أبى عثمان
الحكم: حديث صحيح، خ: 31، م: 2888، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سعيد أبى عثمان
حدیث نمبر: 20494 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَحِبَنِي وَرَآنِي، حَتَّى إِذَا رُفِعُوا إِلَيَّ وَرَأَيْتُهُمْ اخْتُلِجُوا دُونِي، فَلَأَقُولَنَّ رَبِّ أَصْحَابِي أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے پروردگار! میرے ساتھی ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20494]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، والحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، والحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20495 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ الْكِنْدِيُّ ، سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ ، زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَكْرَمَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الدُّنْيَا، أَكْرَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الدُّنْيَا، أَهَانَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دنیا میں اللہ کے مقرر کردہ بادشاہ کی عزت کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کی تکریم فرمائے گا اور جو دنیا میں اللہ کے مقرر کردہ بادشاہ کی توہین کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اسے رسوا کرے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20495]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سعد بن أوس ضعيف وزياد بن كسيب مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، سعد بن أوس ضعيف وزياد بن كسيب مجهول
حدیث نمبر: 20496 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبُو بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرَةَ :" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ، وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّةَ فِي الذَّهَبِ، وَالذَّهَبَ فِي الْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا"، فَقَالَ لَهُ ثَابِتُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: يَدًا بِيَدٍ؟ فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے صرف برابر سرابر ہی بیچنے کا حکم دیا ہے اور یہ حکم بھی دیا ہے کہ چاندی کو سونے کے بدلے یا سونے کو چاندی کے بدلے میں جیسے چاہیں بیچ سکتے ہیں (کمی پیشی ہوسکتی ہے) [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20496]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2182، م: 1590
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2182، م: 1590
حدیث نمبر: 20497 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَشْعَثُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَصَلَّى بِبَعْضِ أَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَتَأَخَّرُوا، وَجَاءَ آخَرُونَ فَكَانُوا فِي مَكَانِهِمْ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَصَارَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتِ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز خوف میں ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تو چار رکعتیں ہوگئیں اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوگئیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20497]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20498 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ ، حميد بن عبد الرحمن ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَرَجُلٌ في نفسي أفضل من عبد الرحمن: حميد بن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" أَوْ قَالَ:" أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟" قَالَ: قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" أَوْ قَالَ:" أَوَ تَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ ذَو الْحِجَّةِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَتْ الْبَلْدَةَ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ، لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ، أَلَا لَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دینے کے لئے اونٹ پر سوار ہوئے ایک آدمی نے اس کی لگام پکڑ لی پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ آج کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے۔ کہ ہم یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حسب سابق خاموش رہے پھر فرمایا کیا یہ شہر حرم نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری جان اور مال اور عزت آبرو ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسا کہ اس شہر میں اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۔ یاد رکھو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا تم میں سے جو موجود ہے وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچا دے کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1741، م: 1679
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1741، م: 1679
حدیث نمبر: 20499 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ يَخْطُبُ إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَصَعِدَ إِلَيْهِ الْمِنْبَرَ، فَضَمَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ، وَقَالَ: " ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ عَلَى يَدَيْهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے کہ حضرت امام حسن بھی آگئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سینے سے لگا لیا سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20499]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2704، وهذا إسناده ضعيف، مؤمل وابن جدعان ضعيفان، لكنهما توبعا
الحكم: حديث صحيح، خ: 2704، وهذا إسناده ضعيف، مؤمل وابن جدعان ضعيفان، لكنهما توبعا
حدیث نمبر: 20500 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِي بَكْرَةَ ، وَحُمَيْدٌ ، وَيُونُسُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ ، حَسَنٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، وَيُونُسَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، وَحُمَيْدٌ ، وَيُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ"، قَالَ فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ:" مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ" ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَيُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو سائل نہ پوچھا کہ سب سے بدترین انسان کون ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20500]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وله طريقان: الطريق الأولى، فيها على بن زيد، وهو ضعيف، والطريق الثانية، فيها عنعنة الحسن البصري، فيحسن الحديث بمجموعهما
الحكم: حديث حسن، وله طريقان: الطريق الأولى، فيها على بن زيد، وهو ضعيف، والطريق الثانية، فيها عنعنة الحسن البصري، فيحسن الحديث بمجموعهما
حدیث نمبر: 20501 مسند احمد
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن، لكنه متابع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن، لكنه متابع
حدیث نمبر: 20502 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا وَلَدٌ، ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا، تَنَامُ عَيْنَاهُ، وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ"، ثُمَّ نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ، فَقَالَ:" أَبُوهُ رَجُلٌ طُوَالٌ، ضَرْبُ اللَّحْمِ، كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ، وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَّةٌ طَوِيلَةُ الثَّدْيَيْنِ"، قَالَ: أَبُو بَكْرَةَ فَسَمِعْنَا بِمَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ، فَذَهَبْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ، فَإِذَا نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمَا، فَقُلْنَا: هَلْ لَكُمَا وَلَدٌ؟ فَقَالَا: مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا وَلَدٌ، ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ، أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا، تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمَا فَإِذَا الْغُلَامُ مُنْجَدَلٌ فِي قَطِيفَةٍ فِي الشَّمْسِ، لَهُ هَمْهَمَةٌ، قَالَ: فَكَشَفْتُ عَنْ رَأْسِهِ، فَقَالَ: مَا قُلْتُمَا؟ قُلْنَا: وَهَلْ سَمِعْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّهُ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي ، قَالَ حَمَّادٌ: وَهُوَ ابْنُ صَيَّادٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کے ماں باپ تیس سال اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں یہاں کوئی اولاد نہ ہوگی پھر ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو کانا ہوگا اس کا نقصان زیادہ ہوگا اور نفع کم اس کی آنکھیں سوتی ہوں گی لیکن دل نہیں سوئے گا پھر اس کے والدین کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا اس کا باپ ایک لمبے قد کا آدمی ہوگا اور اس کا گوشت ہلتا ہوگا اس کی ناک بھی لمبی ہوگی ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے طوطے کی چونچ اور اس کی ماں بڑی چھاتی والی عورت ہوگی کچھ عرصے کے بعد ہمیں پتا چلا کہ مدینہ میں یہودیوں کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے میں اور زبیر بن عوام اسے دیکھنے کے لئے گئے اس کے والدین کے پاس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بتایا ہوا حلیہ ان دونوں نے پایا وہ بچہ ایک چادر میں لپٹا ہوا پڑا ہوا تھا اس کی ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی ہم نے اس کے والدین سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے تیس سال اس حال میں گزارے کہ ہمارے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا پھر ہمارے ہاں یہ ایک کانا بچہ پیدا ہوا جس کا نقصان زیادہ اور نفع کم ہے جب ہم وہاں سے نکلے تو ہم اس کے پاس سے گزرے وہ کہنے لگا تم لوگ کیا باتیں کررہے تھے ہم نے کہا تم نے وہ باتیں سن لیں؟ اس نے کہا جی ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا وہ ابن صیاد تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20502]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20503 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبُو بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: وَفَدْنَا مَعَ زِيَادٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَفِينَا أَبُو بَكْرَةَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَيْهِ لَمْ يُعْجَبْ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرَةَ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا، فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ:" أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا؟" فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ، فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ، فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ، فَاسْتَاءَ لَهَا، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَسَاءَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ:" خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ"، قَالَ: فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا، فَقَالَ زِيَادٌ: لَا أَبَا لَكَ، أَمَا وَجَدْتَ حَدِيثًا غَيْرَ ذَا؟! حَدِّثْهُ بِغَيْرِ ذَا، قَالَ لَا وَاللَّهِ، لَا أُحَدِّثُهُ إِلَّا بِذَا حَتَّى أُفَارِقَهُ، فَتَرَكَنَا ثُمَّ دَعَا بِنَا، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرَةَ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فَبَكَعَهُ بِهِ، فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا، فَقَالَ زِيَادٌ لَا أَبَا لَكَ، أَمَا تَجِدُ حَدِيثًا غَيْرَ ذَا؟! حَدِّثْهُ بِغَيْرِ ذَا، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ، لَا أُحَدِّثُهُ إِلَّا بِهِ حَتَّى أُفَارِقَهُ، قَالَ: ثُمَّ تَرَكَنَا أَيَّامًا ثُمَّ دَعَا بِنَا، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرَةَ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَكَعَهُ بِهِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: أَتَقُولُ الْمُلْكَ؟ فَقَدْ رَضِينَا بِالْمُلْكِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا اے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نیک خواب بہت اچھے لگتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے چنانچہ حسب معمول ایک دن پوچھا کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں نے دیکھا ہے میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا جس میں آپ کا حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے وزن کیا گیا تو آپ کا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کا عمر سے وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کا عثمان سے کیا گیا تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر وہ ترازو اٹھا لیا گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت پر خواب بوجھ بنا اور فرمایا اس سے خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا حکومت دے دے گا۔ اس پر ہمیں گدی سے پکڑ کر باہر نکال دیا گیا زیاد کہنے لگا کہ تمہارا باپ نہ رہے کیا تمہیں اس کے علاوہ کوئی حدیث نہیں ملی جو تم اس کے سامنے بیان کرتے انہوں نے فرمایا کہ نہیں واللہ میں اس کے علاوہ ان سے کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا یہاں تک کہ ان سے جدا ہوجاؤں اس پر اس نے ہمیں چھوڑ دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا پھر حضرت معاویہ نے فرمایا تم حکومت کہتے ہو ہم اس پر راضی ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20503]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، لكن له طريق أخري يتقوي بها
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، لكن له طريق أخري يتقوي بها
حدیث نمبر: 20504 مسند احمد
هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ خَيْرُ النَّاسِ؟ قَالَ: " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ"، قَالَ: فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ:" مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بدترین انسان کون ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20504]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20505 مسند احمد
أَبَا بَكْرَةَ
وَبِإِسْنَادِهِ: وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ نُعَزِّيهِ مَعَ زِيَادٍ، وَمَعَنَا أَبُو بَكْرَةَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا لَمْ يُعْجَبْ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرَةَ ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا، وَإِنَّهُ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ:" أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا؟" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا رَأَيْتُ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ، فَوُزِنْتَ فِيهِ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ وُزِنَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ، ثُمَّ وُزِنَ فِيهِ عُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ، فَاسْتَآلهَا لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيْ أَوَّلَهَا، فَقَالَ: " خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ"، قَالَ: فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ عُدْنَا، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرَةَ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَكَعَهُ بِهِ، فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا، فَلَمَّا كَانَ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ عُدْنَا، فَسَأَلَهُ أَيْضًا قَالَ: فَبَكَعَهُ بِهِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: تَقُولُ إِنَّا مُلُوكٌ؟ قَدْ رَضِينَا بِالْمُلْكِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا اے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نیک خواب بہت اچھے لگتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے چنانچہ حسب معمول ایک دن پوچھا کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں نے دیکھا ہے میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا جس میں آپ کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے وزن کیا گیا تو آپ کا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کا عمر سے وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کا عثمان سے کیا گیا تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر وہ ترازو اٹھا لیا گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت پر خواب بوجھ بنا اور فرمایا اس سے خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا حکومت دے دے گا۔ اس پر ہمیں گدی سے پکڑ کر باہر نکال دیا گیا زیاد کہنے لگا کہ تمہارا باپ نہ رہے کیا تمہیں اس کے علاوہ کوئی حدیث نہیں ملی جو تم اس کے سامنے بیان کرتے انہوں نے فرمایا کہ نہیں واللہ میں اس کے علاوہ ان سے کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا یہاں تک کہ ان سے جدا ہوجاؤں اس پر اس نے ہمیں چھوڑ دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا پھر حضرت معاویہ نے فرمایا تم حکومت کہتے ہو ہم اس پر راضی ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20505]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20506 مسند احمد
أَبُو بَكْرَةَ
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا، لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کی مہک پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت کی مہک کو حرام قرار دے دیتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20506]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20507 مسند احمد
أَبُو بَكْرَةَ
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَرِدَنَّ الْحَوْضَ عَلَيَّ رِجَالٌ مِمَّنْ صَحِبَنِي وَرَآنِي، فَإِذَا رُفِعُوا إِلَيَّ وَرَأَيْتُهُمْ اخْتُلِجُوا دُونِي، فَلَأَقُولَنَّ أُصَيْحَابِي أُصَيْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے پروردگار! میرے ساتھی! ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20507]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20508 مسند احمد
أَبُو بَكْرَةَ
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَنْ يَلِي أَمْرَ فَارِسَ؟" قَالُوا: امْرَأَةٌ، قَالَ: " مَا أَفْلَحَ قَوْمٌ يَلِي أَمْرَهُمْ امْرَأَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فارس کا حکم ران کون ہے؟ لوگوں نے بتایا ایک عورت نے فرما دیا وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20508]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20509 مسند احمد
أَبُو بَكْرَةَ
وَقَالَ: أَبُو بَكْرَةَ جِئْتُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم راكع قد حفزني النفس، فركعت دون الصف، فلما قضى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ:" أَيُّكُمْ رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ؟" قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20509]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20510 مسند احمد
أَبُو بَكْرَةَ
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ، أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا؟!" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ"، ثُمَّ قَالَ:" أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ جُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ خَيْرًا مِنَ الْحَلِيفَيْنِ مِنْ تَمِيمٍ وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ" يَمُدُّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ" أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا؟!" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ" فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کے نزدیک اسلم اور غفار قبیلے کے لوگ بنواسد اور بنوغطفان سے بہتر ہوں تو کیا وہ نامراد اور خسارے میں رہیں گے لوگوں نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ ان سے بہتر ہیں پھر فرمایا یہ بتاؤ اگر جہینہ اور مزینہ بنوتمیم اور بنوعامر " جو دونوں حلیف " ہیں سے بہتر ہوں تو کیا بنوتمیم وغیرہ خسارے میں ہوں گے یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی آواز کو بلند فرمایا لوگوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر وہ ان سے بہتر ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20510]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3515، م: 2522، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 3515، م: 2522، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد لكنه توبع
حدیث نمبر: 20511 مسند احمد
أَبُو بَكْرَةَ
قَالَ: وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عید کے دو مہینے یعنی رمضان اور ذی الحجہ (ثواب کے اعتبار سے) کم نہ ہوں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20511]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1912، م: 1089، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1912، م: 1089، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد لكنه توبع
حدیث نمبر: 20512 مسند احمد
أَبُو بَكْرَةَ
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ رَجُلٌ خَيْرًا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ، وَاللَّهِ لَوْ سَمِعَهَا مَا أَفْلَحَ أَبَدًا"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَثْنَى أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيه، فَلْيَقُلْ: وَاللَّهِ إِنَّ فُلَانًا، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے کی تعریف کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی اور فرمایا اگر تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کی تعریف ضرور ہی کرنا ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی اس طرح دکھائی دیتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکی بیان نہیں کرتا اور اس کا حقیقی نگہبان اللہ ہی ہے میں اسی طرح سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20512]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2662، م: 3000 دون قوله: والله لو سمعها ما أفلح أبداوهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، وقد توبع بدون هذا اللفظ
الحكم: حديث صحيح، خ: 2662، م: 3000 دون قوله: والله لو سمعها ما أفلح أبداوهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، وقد توبع بدون هذا اللفظ