عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَبَا بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ"، فَأَخَذَ ابْنُ عَمٍّ لَهُ، فَقَالَ عَنْ هَذَا؟ وَخَذَفَ، فَقَالَ: أَلَا أُرَانِي أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، وَأَنْتَ تَخْذِفُ؟! وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكَ عَزْمَةً مَا عِشْتُ، أَوْ مَا بَقِيتُ، أَوْ نَحْوَ هَذَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کو کنکریاں مارنے سے منع فرمایا ہے ان کے ایک چچازاد بھائی نے کہا کہ اس سے منع کیا ہے اور کنکری کسی کو دے ماری انہوں نے فرمایا میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کررہاہوں کہ انہوں نے اس سے منع فرمایا ہے لیکن تم پھر بھی وہی کررہے ہو بخدا جب تک میری زندگی ہے میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20463]
حکم دارالسلام
متن الحديث صحيح لكن من حديث عبدالله بن مغفل، ولا يبعد أن يكون الوهم فيه من حماد بن سلمة، وأما حديث أبى بكرة فإسناده منقطع، ثابت قد أدرك أبا بكرة صغيرا، ولم يسمع منه
الحكم: متن الحديث صحيح لكن من حديث عبدالله بن مغفل، ولا يبعد أن يكون الوهم فيه من حماد بن سلمة، وأما حديث أبى بكرة فإسناده منقطع، ثابت قد أدرك أبا بكرة صغيرا، ولم يسمع منه