بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ كَلَدَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 152
صفحہ 5 از 8
حدیث نمبر: 20453 مسند احمد
هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ ذَاكَ الْيَوْمُ، رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ، ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ: " تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، وَقَالَ فِيهِ:" أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ مَرَّتَيْنِ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ هُوَ أَوْعَى مِنْ مُبَلِّغٍ" مِثْلَهُ، ثُمَّ مَالَ عَلَى نَاقَتِهِ إِلَى غُنَيْمَاتٍ، فَجَعَلَ يَقْسِمُهُنَّ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ الشَّاةُ، وَالثَّلَاثَةِ الشَّاةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تم جانتے ہو کہ آج کون سا دن ہے؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا تم میں سے جو موجود ہیں وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچادیں کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام دیا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ اسے محفوظ رکھتا ہے پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکریوں کی طرف چل پڑے اور لوگوں کے درمیان انہیں تقسیم کرنے لگے دو آدمیوں کو ایک بکری یا تین آدمیوں کو ایک بکری دینے لگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20453]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 67، م: 1679
الحكم: إسناده قوي، خ: 67، م: 1679
حدیث نمبر: 20454 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ في آخرين، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ سَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ایسے لوگوں سے بھی کروائے گا جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20454]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، على بن زيد ، لكنه توبع، والحسن البصري مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، على بن زيد ، لكنه توبع، والحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20455 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ، أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِي ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَشِيرٌ يُبَشِّرُهُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَهُ عَلَى عَدُوِّهِمْ، وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ، فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ أَنْشَأَ يُسَائِلُ الْبَشِيرَ، فَأَخْبَرَهُ فِيمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَلِيَ أَمْرَهُمِ امْرَأَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْآنَ هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءَ، هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءَ" ثَلَاثًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک آدمی آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دشمن کے خلاف اپنے لشکر کی کامیابی کی خوشخبری سنائی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سر مبارک حضرت عائشہ کی گود میں تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ خوشخبری سن کر سجدے میں گرگئے پھر خوشخبری دینے والے سے مختلف سوالات کرنے لگے اس نے جو باتیں بتائیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ دشمن نے اپنا ایک حکمران ایک عورت کو مقرر کرلیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر تین مرتبہ فرمایا اب مرد ہلاکت میں پڑگئے جب کہ انہوں نے عورتوں کی پیروی کرنا شروع کردی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20455]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف بكار بن عبدالعزيز
الحكم: إسناده ضعيف لضعف بكار بن عبدالعزيز
حدیث نمبر: 20456 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، بَكَّارٌ ، أَبِي ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا بَكَّارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ رَاءَى رَاءَى اللَّهُ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص شہرت کے لئے کوئی کام کرتا ہے اللہ اسے شہرت کے حوالے کردیتا ہے اور جو دکھاوے کے لئے کوئی کام کرتا ہے اللہ اسے دکھاوے کے حوالے کردیتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20456]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف بكار بن عبدالعزيز
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف بكار بن عبدالعزيز
حدیث نمبر: 20457 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، زِيَادٌ الْأَعْلَمُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ، فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هَذَا الَّذِي رَكَعَ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ؟" فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20457]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 783
الحكم: إسناده صحيح، خ: 783
حدیث نمبر: 20458 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، زِيَادٌ الْأَعْلَمُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ، فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں داخل ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع میں تھے کہ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20458]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 783
الحكم: إسناده صحيح، خ: 783
حدیث نمبر: 20459 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، زِيَادٌ الْأَعْلَمُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَأَوْمَأَ إِلَى أَصْحَابِهِ، أَيْ مَكَانَكُمْ، فَذَهَبَ وَجَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز فجر کا آغاز کیا اور تکبیر کہی پھر صحابہ کو اشارہ سے فرمایا کہ اپنی جگہ رہو پھر گھر تشریف لے گئے جب باہر آئے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے پھر نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20459]
حکم دارالسلام
هذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
الحكم: هذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20460 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، شُعْبَةُ ، فُضَيْلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبُو بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: رَأَى أَبُو بَكْرَةَ نَاسًا يُصَلُّونَ الضُّحَى، فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَيُصَلُّونَ صَلَاةً مَا صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا عَامَّةُ أَصْحَابِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ یہ ایسی نماز پڑھ رہے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پڑھی اور نہ ہی آپ کے اکثر صحابہ نے پڑھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20460]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 20461 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، وَمُحَمَّدٍ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَمُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20461]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 67، م: 1679، وفي السند الأول الحسن البصري وهو مدلس، وقد عنعنه، ومتابعته لم تثبت، لأن سيرين لم يثبت سماعه من أبى بكرة
الحكم: حديث صحيح، خ: 67، م: 1679، وفي السند الأول الحسن البصري وهو مدلس، وقد عنعنه، ومتابعته لم تثبت، لأن سيرين لم يثبت سماعه من أبى بكرة
حدیث نمبر: 20462 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، وَيَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، وَيَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ: أَحْسَبُ فُلَانًا، وَاللَّهُ حَسِيبُهُ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ، أَحْسَبُهُ كَذَا وَكَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی ایک آدمی نے دوسرے کی تعریف کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی اور فرمایا اگر تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کی تعریف ضرور ہی کرنا ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی اس طرح دکھائی دیتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکی بیان نہیں کرتا اور اس کا حقیقی نگہبان اللہ ہے میں اسے اس طرح سمجھاتا ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20462]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6162، م: 3000
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6162، م: 3000
حدیث نمبر: 20463 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَبَا بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ"، فَأَخَذَ ابْنُ عَمٍّ لَهُ، فَقَالَ عَنْ هَذَا؟ وَخَذَفَ، فَقَالَ: أَلَا أُرَانِي أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، وَأَنْتَ تَخْذِفُ؟! وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكَ عَزْمَةً مَا عِشْتُ، أَوْ مَا بَقِيتُ، أَوْ نَحْوَ هَذَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کو کنکریاں مارنے سے منع فرمایا ہے ان کے ایک چچازاد بھائی نے کہا کہ اس سے منع کیا ہے اور کنکری کسی کو دے ماری انہوں نے فرمایا میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کررہاہوں کہ انہوں نے اس سے منع فرمایا ہے لیکن تم پھر بھی وہی کررہے ہو بخدا جب تک میری زندگی ہے میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20463]
حکم دارالسلام
متن الحديث صحيح لكن من حديث عبدالله بن مغفل، ولا يبعد أن يكون الوهم فيه من حماد بن سلمة، وأما حديث أبى بكرة فإسناده منقطع، ثابت قد أدرك أبا بكرة صغيرا، ولم يسمع منه
الحكم: متن الحديث صحيح لكن من حديث عبدالله بن مغفل، ولا يبعد أن يكون الوهم فيه من حماد بن سلمة، وأما حديث أبى بكرة فإسناده منقطع، ثابت قد أدرك أبا بكرة صغيرا، ولم يسمع منه
حدیث نمبر: 20464 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عِيَاضَ بْنَ مُسَافِعٍ ، أَبُو بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ مُسَافِعٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَخِي زِيَادٍ لِأُمِّهِ، قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ شَأْنَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ أَكْثَرْتُمْ فِي شَأْنِهِ، فَإِنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا يَخْرُجُونَ قَبْلَ الدَّجَّالِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ بَلَدٌ إِلَّا يَدْخُلُهُ رُعْبُ الْمَسِيحِ إِلَّا الْمَدِينَةَ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا يَوْمَئِذٍ مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عَنْهَا رُعْبَ الْمَسِيحِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسیلمہ کذاب کے متعلق قبل اس کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ فرمائیں لوگ بکثرت باتیں کیا کرتے تھے ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور امابعد کہہ کر فرمایا اس شخص کے متعلق تم بکثرت باتیں کررہے تھے یہ ان تیس کذابوں میں سے ایک ہے جو قیامت سے پہلے خروج کریں گے اور کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا جہاں دجال کا رعب نہ پہنچے سوائے مدینہ کے کہ اس کے دو سوراخ پر دو فرشتے مقرر ہونگے جو مدینہ منورہ سے دجال کے رعب کو دور کرتے ہوں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20464]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف عياض بن مسافع مجهول
الحكم: إسناده ضعيف عياض بن مسافع مجهول
حدیث نمبر: 20465 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عِيَاضَ بْنَ مُسَافِعٍ ، أَبُو بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ مُسَافِعٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ أَخَا زِيَادٍ لِأُمِّهِ، قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عياض بن مسافع
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عياض بن مسافع
حدیث نمبر: 20466 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، أَبِي عُثْمَانَ ، سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ، لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فَقُلْتُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ؟ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: وَأَنَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان کہتے ہیں کہ جب زیاد کی نسبت کا مسئلہ بہت بڑھا تو ایک دن میری ملاقات ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ یہ آپ لوگوں نے کیا کیا؟ میں نے حضرت سعد کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات میرے ان کانوں نے سنی ہے کہ جو شخص حالت اسلام میں اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا باپ قرار دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے بھی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20466]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20467 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، ابْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبَاهُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَمَرَهُ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى ابْنٍ لَهُ وَكَانَ قَاضِيًا بِسِجِسْتَانَ أَمَّا بَعْدُ، فَلَا تَحْكُمَنَّ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَحْكُمُ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی حاکم دو آدمیوں کے درمیان میں غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20467]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7158، م: 1717
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7158، م: 1717
حدیث نمبر: 20468 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، ابْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَطَعْتَ ظَهْرَهُ، إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ أَحْسَبُهُ، وَاللَّهُ حَسِيبُهُ، وَلَا أَعْذِرُ عَلَى اللَّهِ أَحَدًا، أَحْسَبُهُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے کی تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی اور فرمایا کہ اگر تم نے اپنے بھائی کی تعریف ضرور ہی کرنا ہے تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ فلاں آدمی اس طرح دکھائی دیتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکی بیان نہیں کرتا اور اس کا حقیقی نگہبان اللہ ہے میں اسے اس طرح سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20468]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6061، م: 3000
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6061، م: 3000
حدیث نمبر: 20469 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ، وَمَا مِنْ عَبْدٍ يَقْتُلُ نَفْسًا مُعَاهَدَةً إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَرَائِحَتَهَا أَنْ يَجِدَهَا" ، قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَصَمَّ اللَّهُ أُذُنَيَّ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کی مہک سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے جو شخص کسی معاہد کو قتل کردے اللہ اس پر جنت کی اس مہک کو حرام قرار دے دیتا ہے اگر میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہو تو میرے دونوں کان بہرے ہوجائیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20469]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20470 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، هِشَامًا ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ، فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا، وَلَا تَعُدْ" ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سَمِعْتُ هِشَامًا يُحَدِّثُ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں داخل ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع میں تھے انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20470]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 783، وصورته هنا صورة الإرسال، والحسن قد صرح بسماعه من أبى بكرة عند
الحكم: حديث صحيح، خ: 783، وصورته هنا صورة الإرسال، والحسن قد صرح بسماعه من أبى بكرة عند
حدیث نمبر: 20471 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ سَمِعْتُ هِشَامًا يُحَدِّثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ مِثْلَهُ
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 783
الحكم: إسناده صحيح، خ: 783
حدیث نمبر: 20472 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟! قَالَ:" إِنَّهُ كَانَ يُرِيدُ قَتْلَ صَاحِبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20472]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 31، م: 2888، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمعه من أبى بكرة
الحكم: حديث صحيح، خ: 31، م: 2888، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمعه من أبى بكرة