بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ كَلَدَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 152
صفحہ 2 از 8
حدیث نمبر: 20393 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَنْبَغِي لِلْقَاضِي وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً لِلْحَاكِمِ أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی حاکم کے لئے مناسب نہیں ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ کرے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20393]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7158، م: 1717
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7158، م: 1717
حدیث نمبر: 20394 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْجُرَيْرِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ ، الْجُرَيْرِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ذُكِرَ الْكَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ"، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ:" وَشَهَادَةُ الزُّورِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ"، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ ، وقَالَ مَرَّةً: أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ..." فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کبیرہ گناہوں کا تذکرہ چل پڑا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ٹیک لگائی ہوئی تھی سیدھے ہو کر بیٹھے پھر کئی مرتبہ فرمایا جھوٹے گواہ جھوٹی بات یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتنی مرتبہ فرمائی کہ ہم سوچنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوجاتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20394]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2654، م: 87
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2654، م: 87
حدیث نمبر: 20395 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبُو بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرَةَ " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ، وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّةَ فِي الذَّهَبِ، وَالذَّهَبَ فِي الْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا" ، فَقَالَ لَهُ ثَابِتُ بْنُ عُبَيْدٍ: يَدًا بِيَدٍ؟ قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم کو چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے صرف برابر سرابر ہی دیکھنے کا حکم دیا تھا اور یہ حکم بھی دیا ہے کہ چاندی کو سونے کے بدلے اور سونے کو چاندی کے بدلے جیسے چاہیں لے سکتے ہیں۔ کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20395]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2175، م: 1590
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2175، م: 1590
حدیث نمبر: 20396 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، سَعْدًا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا يَقُولُ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَوَعَى قَلْبِي أَنَّ: " مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ"، قَالَ: فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: وَأَنَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات میرے ان کانوں نے سنی ہے اور میرے دل نے محفوظ کی ہے جو شخص حالت اسلام میں اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا باپ قرار دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے اور حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے بھی یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے اپنے کانوں سے سنا ہے اور اپنے دل میں محفوظ کیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20396]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20397 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، الْأَشْعَثِ بْنِ ثُرْمُلَةَ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ ثُرْمُلَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حِلِّهَا، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَشُمَّ رِيحَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت کو حرام قرار دیتا ہے اور وہ جنت کی مہک بھی نہیں سن سکے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20397]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20398 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ الْعُقُوبَةَ لِصَاحِبِهِ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی ایسا گناہ نہیں ہے کہ آخرت کے عذاب کے ساتھ اس گناہ گار کو دنیا میں بھی فوری سزا دی جائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20398]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20399 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَحْسَبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ، شَهْرَا عِيدِ رَمَضَانَ، وَذُو الْحِجَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عید کے دو مہینے یعنی رمضان اور ذی الحجہ ثواب کے اعتبار سے کم نہیں ہوتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20399]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1912، م: 1089
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1912، م: 1089
حدیث نمبر: 20400 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُيَيْنَةَ ، أَبِي
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي جَنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِهِ يَسْتَقْبِلُونَ الْجِنَازَةَ، فَيَمْشُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، وَيَقُولُونَ: رُوَيْدًا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ، قَالَ: فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ مِنْ طَرِيقِ المِرْبَدِ، فَلَمَّا رَأَى أُولَئِكَ وَمَا يَصْنَعُونَ حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ، وَأَهْوَى لَهُمْ بِالسَّوْطِ، وَقَالَ: خَلُّوا، فَوَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِهَا" ، وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً: لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عیینہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں عبدالرحمن بن سمرہ کے جنازے میں شریک ہوا تھا ان کے اہل خانہ میں سے کچھ لوگوں نے اپنے چہرے کا رخ جنازہ کی طرف کرلیا اور اپنی ایڑیوں کے بل الٹے چلنے لگے اور وہ کہتے جا رہے تھے کہ آہستہ چلو اللہ تمہیں برکت دے مربد کے راستے میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بھی جنازے میں شامل ہوئے جب انہوں نے ان لوگوں کو اور ان کی اس حرکت کو دیکھا تو اپنے خچر کو ان کی طرف بڑھایا اور کوڑا لے کر لپکے اور فرمایا اس کا راستہ چھوڑ دو اس ذات کی قسم جس نے ابوقاسم کے چہرے کو معزز فرمایا میں نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ دیکھا ہے کہ ہم جنازے کو لے کر تیزی کے ساتھ چلتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20400]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20401 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُيَيْنَةَ ، أَبِي ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ بِعَيْنِ الشِّمَالِ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ الْأُمِّيُّ وَالْكَاتِبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر ان پڑھ اور پڑھا لکھا آدمی پڑھ لے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20401]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20402 مسند احمد
يَحْيَى ، عُيَيْنَةَ ، أَبِي ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ أَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَى امْرَأَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20402]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20403 مسند احمد
يَحْيَى ، عُيَيْنَةَ ، أَبِي ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَجِدَ رِيحَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت کی مہک کو حرام قرار دے دیتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20403]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20404 مسند احمد
يَحْيَى ، عُيَيْنَةَ ، أَبِي ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: ذَكَرْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِطَالِبِهَا إِلَّا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ بَعْدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، مِنْ تِسْعٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ سَبْعٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ خَمْسٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ ثَلَاثٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے شب قدر کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو اسے صرف آخری عشرے میں تلاش کروں گا کیونکہ میں اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو۔ ٢١ ویں، ٢٣ ویں، ٢٥ ویں شب، یا ٢٧ ویں شب یا آخری رات میں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20404]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20405 مسند احمد
يَحْيَى ، أَشْعَثُ ، زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20405]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20406 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، الْحَسَنُ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ وَصُمْتُهُ"، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَكَرِهَ التَّزْكِيَةَ، أَمْ لَا بُدَّ مِنْ غَفْلَةٍ أَوْ رَقْدَةٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے میں نے سارے رمضان قیام کیا اور روزے رکھتا رہا کیونکہ غفلت یا نیند آجانے سے کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کسی دن سوتا رہ جائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20406]
حکم دارالسلام
وهذا إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: وهذا إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20407 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قُرَّةُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِي بَكْرَةَ ، حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ وَهُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: قَالَ غَيْرُ أَبِي، عَنْ يَحْيَى فِي هَذَا الْحَدِيثِ أُفَضِّلُ فِي نَفْسِي حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ بِمِنًى، فَقَالَ:" أَلَا تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ؟" قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَلَيْسَ بِالْبَلْدَةِ؟" قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ وَأَبْشَارَكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟" قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ، لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلِّغٍ يُبَلِّغُهُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ"، فَكَانَ كَذَلِكَ . وَقَالَ: " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ"، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ حَرْقِ ابْنِ الْحَضْرَمِيِّ، حَرَّقَهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: أَشْرَفُوا عَلَى أَبِي بَكْرَةَ، فَقَالُوا: هَذَا أَبُو بَكْرَةَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَحَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ، قَالَ: لَوْ دَخَلُوا عَلَيَّ مَا بَهَشْتُ إِلَيْهِمْ بِقَصَبَةٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ آج کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے۔ کہ ہم یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ شاید سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حسب سابق خاموش رہے پھر فرمایا کیا یہ شہر حرم نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری جان اور مال اور عزت آبرو ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسا کہ اس شہر میں اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۔ یاد رکھو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا تم میں سے جو موجود ہے وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچادے کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ جس دن جاریہ بن قدامہ نے ابن حضرمی کو آگ میں جلایا تو وہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھے تو کہنے لگے یہ ہیں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ، راوی کہتے ہیں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر یہ لوگ میرے پاس آئے تو میں لکڑی سے بھی ان پر حملہ نہ کروں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20407]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7078، م: 1679
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7078، م: 1679
حدیث نمبر: 20408 مسند احمد
يَحْيَى ، أَشْعَثَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهَؤُلَاءِ الرَّكْعَتَيْنِ، وَبِهَؤُلَاءِ الرَّكْعَتَيْنِ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا، وَلَهُمْ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز کسوف میں ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تو چار رکعتیں ہوگئی اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوگئی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20408]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20409 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ دعا فرماتے تھے اے اللہ میں کفر، فقر اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20409]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 20410 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ جُهَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَبَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ، وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ" وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا، قَالَ" فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَهُمْ خَيْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ جہینہ، اسلم، غفار، غطفان قبیلے کے لوگ بنواسد، بنوتمیم اور بنوعامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں تو ایک آدمی نے وہ نامراد اور خسارے میں رہیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ لوگ ہم سے بہتر ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20410]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3515، م: 2522
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3515، م: 2522
حدیث نمبر: 20411 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، بَحْرِ بْنِ مَرَّارٍ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ بَحْرِ بْنِ مَرَّارٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ عَلَى قَبْرَيْنِ، فَقَالَ:" مَنْ يَأْتِينِي بِجَرِيدَةِ نَخْلٍ؟" قَالَ: فَاسْتَبَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ آخَرُ، فَجِئْنَا بِعَسِيبٍ، فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ، فَجَعَلَ عَلَى هَذَا وَاحِدَةً، وَعَلَى هَذَا وَاحِدَةً، ثُمَّ قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ سَيُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا كَانَ فِيهِمَا مِنْ بُلُولَتِهِمَا شَيْءٌ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ فِي الْغِيبَةِ وَالْبَوْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ تھاما ہوا تھا اور ایک آدمی بائیں جانب بھی تھا اچانک ہمارے سامنے دو قبریں آگئیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان دونوں مردوں کو عذاب ہورہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہورہا۔ تم میں سے کون میرے پاس ایک ٹہنی لے کر آئے گا ہم دوڑ پڑے میں اس پر سبقت کرگیا اور ایک ٹہنی لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا اور فرمایا جب تک یہ دونوں سرسبز رہیں گے ان پر عذاب میں تخفیف رہے گی۔ اور ان دونوں کو عذاب صرف پیشاب اور غیبت کے معاملے میں ہورہا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20411]
حکم دارالسلام
حديث قوي، وهذا إسناد منقطع، رواية بحر بن مرار عن جده أبى بكرة منقطعة، وقد روي هذا موصولا
الحكم: حديث قوي، وهذا إسناد منقطع، رواية بحر بن مرار عن جده أبى بكرة منقطعة، وقد روي هذا موصولا
حدیث نمبر: 20412 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْجَالِسِ، وَالْجَالِسُ خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي"، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَعْمِدْ إِلَى سَيْفِهِ، فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ صَخْرَةً، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب فتنے رونماہوں گے جن میں لیٹا ہوا آدمی بیٹھے ہوئے سے اور بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے اور کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والادوڑنے والے سے بہتر ہوگا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں چلاجائے اور جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریوں میں چلاجائے اور جس کے پاس زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلاجائے اور جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو وہ اپنی تلوار پکڑے اور اس کی دھار کو ایک چٹان پردے مارے۔ اور اگر بچ سکتا ہو تو بچ جائے، اگر بچ سکتا ہو تو بچ جائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20412]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2887
الحكم: إسناده قوي، م: 2887