بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ كَلَدَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 152
صفحہ 4 از 8
حدیث نمبر: 20433 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ ، سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ ، زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَكْرَمَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الدُّنْيَا، أَكْرَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الدُّنْيَا، أَهَانَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دنیا میں اللہ کے مقرر کردہ بادشاہ کی عزت کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کی تکریم فرمائے گا اور جو دنیا میں اللہ کے مقرر کردہ بادشاہوں کی توہین کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اسے رسوا کرے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20433]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سعد بن أوس فيه ضعف، وزياد مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، سعد بن أوس فيه ضعف، وزياد مجهول
حدیث نمبر: 20434 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، بِلَالِ بْنِ بُقْطُرَ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ بُقْطُرَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِيرَ، فَجَعَلَ يَقْبِضُ قَبْضَةً قَبْضَةً، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ كَأَنَّهُ يُؤَامِرُ أَحَدًا مَنْ يُعْطِي؟ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: يُؤَامِرُ أَحَدًَا، ثُمَّ يُعْطِي وَرَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومٌ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ، فَقَالَ: مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " مَنْ يَعْدِلُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي؟!" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ:" لَا"، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَتَعَلَّقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ بِشَيْءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہیں سے کچھ دینار آئے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ تقسیم فرما رہے تھے وہاں ایک سیاہ فام آدمی بھی تھا جس کے بال کٹے ہوئے تھے اس نے دو سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) سجدے کے نشان تھے وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آیا اور کہنے لگا کہ بخدا اے محمد آج آپ جب سے تقسیم کر رہے ہیں آپ نے انصاف نہیں کیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شدید غصہ آگیا اور فرمایا کہ واللہ میرے بعد تم مجھ سے زیادہ عادل کسی کو نہ پاؤگے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم اسے قتل نہ کردیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر فرمایا یہ اور اس کے ساتھی دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20434]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة بلال بن بقطر، وفي حفظ عطاء كلام خفيف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة بلال بن بقطر، وفي حفظ عطاء كلام خفيف
حدیث نمبر: 20435 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، بَشَّارٌ الْخَيَّاطُ ، عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبَا بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا بَشَّارٌ الْخَيَّاطُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ جَاءَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ نَعْلِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ يَحْضُرُ يُرِيدُ أَنْ يُدْرِكَ الرَّكْعَةَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ السَّاعِي؟" قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا، قَالَ: " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع میں تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی جوتی کی آواز سنی وہ دوڑ کر رکوع کو حاصل کرنا چاہ رہے تھے نماز سے فارغ ہو کرنی نے پوچھا کون دوڑرہا تھا؟ انہوں نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20435]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، بشار الخياط فيه ضعف، وظاهر الاسناد مرسل
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، بشار الخياط فيه ضعف، وظاهر الاسناد مرسل
حدیث نمبر: 20436 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، زَكَرِيَّا بْنُ سُلَيْمٍ الْمِنْقَرِيُّ ، رَجُلًا ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبَا بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ سُلَيْمٍ الْمِنْقَرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يُحَدِّثُ، عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ وَاقِفًا، إِذْ جَاءُوا بِامْرَأَةٍ حُبْلَى، فَقَالَتْ: إِنَّهَا زَنَتْ أَوْ بَغَتْ فَارْجُمْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَتِرِي بِسِتْرِ اللَّهِ"، فَرَجَعَتْ، ثُمَّ جَاءَتِ الثَّانِيَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ، فَقَالَتْ: ارْجُمْهَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَقَالَ:" اسْتَتِرِي بِسِتْرِ اللَّهِ"، فَرَجَعَتْ، ثُمَّ جَاءَتِ الثَّالِثَةَ وَهُوَ وَاقِفٌ، حَتَّى أَخَذَتْ بِلِجَامِ بَغْلَتِهِ، فَقَالَتْ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا رَجَمْتَهَا، فَقَالَ:" اذْهَبِي حَتَّى تَلِدِي"، فَانْطَلَقَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا، ثُمَّ جَاءَتْ فَكَلَّمَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لَهَا:" اذْهَبِي فَتَطَهَّرِي مِنَ الدَّمِ" فَانْطَلَقَتْ ثُمَّ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّهَا قَدْ تَطَهَّرَتْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسْوَةً فَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَسْتَبْرِئْنَ الْمَرْأَةَ، فَجِئْنَ وَشَهِدْنَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطُهْرِهَا، فَأَمَرَ لَهَا بِحُفَيْرَةٍ إِلَى ثَنْدُوَتِهَا، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً مِثْلَ الْحِمَّصَةِ فَرَمَاهَا، ثُمَّ مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لِلْمُسْلِمِينَ:" ارْمُوهَا، وَإِيَّاكُمْ وَوَجْهَهَا"، فَلَمَّا طَفِئَتْ أَمَرَ بِإِخْرَاجِهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: " لَوْ قُسِّمَ أَجْرُهَا بَيْنَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَسِعَهُمْ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے کہ لوگ ایک حاملہ عورت کو لے کر آئے وہ کہنے لگی کہ اس نے بدکاری کا گناہ کیا ہے لہذا اسے رجم کیا جائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اللہ کی پردہ پوشی سے فائدہ اٹھاؤ وہ واپس چلی گئی تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ آئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت خچر پر ہی تھے اس نے پھر عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے رجم کردیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا جب وہ تیسری مرتبہ آئی تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خچر کی لگام پکڑ لی اور کہنے لگی کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتی ہوں کہ آپ مجھے رجم کردیجیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا جاؤ یہاں تک کہ بچہ پیدا ہوجائے۔ وہ چلی گئی بچہ پیدا ہوگیا اور وہ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات چیت کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہاں تک کہ دم نفاس سے پاک ہوجاؤ وہ چلی گئی کچھ عرصے بعد دوبارہ آئی اور کہنے لگی کہ وہ پاک ہوگئی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ خواتین کو بلایا اور انہیں اس کی پاکی کے معاملے میں تسلی کرنے کا حکم دیا انہوں نے آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے گواہی دی کہ یہ پاک ہوگئی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سینے تک ایک گڑھا کھودنے کا حکم دیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ تشریف لائے اور چنے کے دانے کے برابر ایک کنکری پکڑ کر اسے ماری اور واپس چلے گئے اور مسلمانوں سے کہہ دیا کہ اب تم اس پر پتھر مارو لیکن چہرے پر مارنے سے گریز کرنا جب وہ ٹھنڈی ہوگئی تو اسے نکالنے کا حکم دیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا کہ اگر اس کا ثواب تمام اہل حجاز پر تقسیم کردیا جائے تو وہ ان سب کو کافی ہوجائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20436]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عبدالرحمن بن أبى بكرة لكن أصل القصة صحيح
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عبدالرحمن بن أبى بكرة لكن أصل القصة صحيح
حدیث نمبر: 20437 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، زَكَرِيَّا أَبُو عِمْرَانَ الْبَصْرِيّ ، شَيْخًا ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا أَبُو عِمْرَانَ الْبَصْرِيّ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ الْقُرَشِيَّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَكَفَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" لَوْ قُسِّمَ أَجْرُهَا بَيْنَ أَهْلِ الْحِجَازِ لَوَسِعَهُمْ".
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عبدالرحمن بن أبى بكرة
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عبدالرحمن بن أبى بكرة
حدیث نمبر: 20438 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ فَارِسَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ رَبِّي قَدْ قَتَلَ رَبَّكَ" يَعْنِي كِسْرَى، قَالَ: وَقِيلَ لَهُ يَعْنِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَدْ اسْتُخْلِفَ ابْنَتَهُ، قَالَ: فَقَالَ: " لَا يُفْلِحُ قَوْمٌ تَمْلِكُهُمْ امْرَأَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایران سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا میرے رب نے تمہارے رب یعنی کسری کو قتل کردیا ہے اسی دوران کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا کہ اب اس کی بیٹی کو اس کا جانشین بنایا گیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کبھی کام یاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20438]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20439 مسند احمد
مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، وَيُونُسُ ، وَأَيُّوبُ ، وَهِشَامٌ ، الْحَسَنِ ، الْأَحْنَفِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، وَيُونُسُ ، وَأَيُّوبُ ، وَهِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ"، قِيلَ: هَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟! قَالَ:" قَدْ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20439]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 31، م: 2888، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 31، م: 2888، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 20440 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبَا سُلَيْمَانَ الْعَصَرِيَّ ، عُقْبَةُ بْنُ صُهْبَانَ ، أَبَا بَكْرَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سُلَيْمَانَ الْعَصَرِيَّ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ صُهْبَانَ ، قَالَ: سَمِعْتْ أَبَا بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُحْمَلُ النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتَقَادَعُ بِهِمْ جَنَبَتَا الصِّرَاطِ تَقَادُعَ الْفَرَاشِ فِي النَّارِ"، قَالَ:" فَيُنْجِي اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ"، قَالَ:" ثُمَّ يُؤْذَنُ لِلْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ أَنْ يَشْفَعُوا، فَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ، وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ، وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ"، وَزَادَ عَفَّانُ مَرَّةً، فَقَالَ أَيْضًا:" وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً مِنْ إِيمَانٍ" ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ... مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کو پل صراط پر سوار کیا جائے گا وہ اس کے دونوں کناروں سے اس طرح جہنم میں گریں گے کہ جیسے شمع کے پروانے گرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اپنی رحمت سے نجات دے گا پھر نبیوں اور فرشتوں اور شہیدوں کو سفارش کی اجازت ملے گی چنانچہ وہ کئی مرتبہ سفارش کرینگے اور بالآخر جہنم سے ہر اس آدمی کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان ہوگا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20440]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20441 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْهَا مَلَكَانِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ میں دجال کا رعب داخل نہ ہوسکے گا۔ اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہونگے اور ہر دروازے پر دو فرشتے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20441]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 7126، تعليقا
الحكم: إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 7126، تعليقا
حدیث نمبر: 20442 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1879
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1879
حدیث نمبر: 20443 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ"، قَالَ: فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ:" مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بدترین انسان کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20443]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20444 مسند احمد
يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادٌ ، يُونُسَ ، وَحُمَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يُونُسَ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الحسن البصري مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الحسن البصري مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20445 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبَا بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: وَفَدْتُ مَعَ أَبِي إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَأُدْخِلْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرَةَ ، حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ" أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا؟" فَقَالَ: رَجُلٌ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ، فَوُزِنْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ، فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ، فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ، فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ" ، قَالَ عَفَّانُ فِيهِ فَاسْتَآلَهَا، وَقَالَ حَمَّادٌ: فَسَاءَهُ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا اے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نیک خواب بہت اچھے لگتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے چنانچہ حسب معمول ایک دن پوچھا کہ تم میں سے کوئی کسی نے خواب دیکھا ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں نے دیکھا ہے میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا جس میں آپ کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے وزن کیا گیا تو آپ کا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کا عمر سے وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کا عثمان سے کیا گیا تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر وہ ترازو اٹھا لیا گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت پر یہ خواب بوجھ بنا اور فرمایا اس سے خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا حکومت دے دے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20445]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20446 مسند احمد
رَوْحٌ ، عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبَا بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، وَسَأَلَهُ هَلْ سَمِعْتَ فِي الْخَوَارِجِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ وَالِدِي أَبَا بَكْرَةَ ، يَقُولُ: عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَلَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ أَشِدَّاءُ أَحِدَّاءُ، ذَلِيقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، أَلَا فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ، فَالْمَأْجُورُ قَاتِلُهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد میری امت میں ایک ایسی قوم بھی آئے گی جو بہت تیز اور سخت ہوگی قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا جب جب تمہارا ان سے سامنا ہو تب تب تم انہیں قتل کرنا کہ ان کے قاتل کو اجروثواب دیا جائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20446]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 20447 مسند احمد
رَوْحٌ ، عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، بِوَالِدِهِ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ مَرَّ بِوَالِدِهِ وَهُوَ يَدْعُو وَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ"، قَالَ: فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْهُ، وَكُنْتُ أَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ: فَمَرَّ بِي وَأَنَا أَدْعُو بِهِنَّ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، أَنَّى عَقَلْتَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ؟ قَالَ: يَا أَبَتَاهُ، سَمِعْتُكَ تَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْكَ، قَالَ: فَالْزَمْهُنَّ يَا بُنَيَّ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسلم بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اپنے والد کے پاس سے گذرے جو یہ دعا کررہے تھے کہ اے اللہ میں فقر کفر اور عذاب سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں میں نے یہ دعا یاد کرلی اور ہر نماز کے بعد اسے مانگنے لگا ایک دن والد صاحب میرے پاس سے گذرے تو میں یہی دعا مانگ رہا تھا انہوں نے مجھ سے پوچھا بیٹا تم نے یہ کلمات کہاں سے سیکھے ہیں میں نے کہا اے اباجان میں نے آپ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگتے ہوئے سنا تھا لہذا میں نے بھی اسے یاد کرلیا تھا انہوں نے فرمایا بیٹا ان کلمات کو لازم پکڑلو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20447]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 20448 مسند احمد
هَاشِمٌ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنُ ، أَبُو بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَثِبُ عَلَى ظَهْرِهِ إِذَا سَجَدَ، فَفَعَلَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ، فَقَالُوا لَهُ: وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَفْعَلُ بِهَذَا شَيْئًا مَا رَأَيْنَاكَ تَفْعَلُهُ بِأَحَدٍ، قَالَ الْمُبَارَكُ: فَذَكَرَ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَسَيُصْلِحُ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ"، فَقَالَ الْحَسَنُ فَوَاللَّهِ وَاللَّهِ، بَعْدَ أَنْ وَلِيَ لَمْ يُهْرَقْ فِي خِلَافَتِهِ مِلْءُ مِحْجَمَةٍ مِنْ دَمٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ایک مرتبہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب سجدے میں جاتے تو امام حسن کود کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت پر سوار ہوجاتے انہوں نے کئی مرتبہ ایسا کیا اس پر کچھ لوگ کہنے لگے آپ اس بچے کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ ہم نے آپ کو کسی دوسرے کے ساتھ ایسا نہیں کرتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا حسن کہتے ہیں کہ واللہ ان کے خلیفہ بننے کے بعد ایک سینگی میں آنے والی مقدار کا خون بھی نہیں بہایا گیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20448]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2704، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 2704، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20449 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ"، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ:" ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے بعد گمراہ یا کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20449]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 67، م: 1679، وفي الإسناد الأول الحسن البصري وهو مدلس، وقد عنعنه، وفي الإسناد الثاني سماع محمد بن سيرين من أبى بكرة لم يثبت
الحكم: حديث صحيح، خ: 67، م: 1679، وفي الإسناد الأول الحسن البصري وهو مدلس، وقد عنعنه، وفي الإسناد الثاني سماع محمد بن سيرين من أبى بكرة لم يثبت
حدیث نمبر: 20450 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، سَعِيدَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيّ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَوْلًى لِآلِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ دُعِيَ إِلَى شَهَادَةٍ مَرَّةً، فَجَاءَ إِلَى الْبَيْتِ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ، فَقَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِهِ أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ، وَأَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَا يَمْلِكُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو کسی معاملے میں گواہی کے لئے بلایا گیا وہ تشریف لائے تو ایک آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہوا حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہو اور دوسرا اس کی جگہ پر بیٹھ جائے اور اس بات سے بھی کہ انسان ایسے کپڑے سے ہاتھ پونچھے جس کا وہ مالک نہ ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20450]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى عبدالله مولى آل أبى موسى
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى عبدالله مولى آل أبى موسى
حدیث نمبر: 20451 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْحَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ الْقَيْسِيُّ الْكُوفِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِي
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْحَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ الْقَيْسِيُّ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْبَصْرَةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَتَنْزِلَنَّ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبُصَيْرَةُ، يَكْثُرُ بِهَا عَدَدُهُمْ، وَيَكْثُرُ بِهَا نَخْلُهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ بَنُو قَنْطُورَاءَ، عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْعُيُونِ، حَتَّى يَنْزِلُونَ عَلَى جِسْرٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ: دِجْلَةُ، فَيَتَفَرَّقُ الْمُسْلِمُونَ ثَلَاثَ فِرَقٍ فَأَمَّا فِرْقَةٌ، فَيَأْخُذُونَ بِأَذْنَابِ الْإِبِلِ وَتَلْحَقُ بِالْبَادِيَةِ، وَهَلَكَتْ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَتَأْخُذُ عَلَى أَنْفُسِهَا، فَكَفَرَتْ، فَهَذِهِ وَتِلْكَ سَوَاءٌ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَجْعَلُونَ عِيَالَهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ وَيُقَاتِلُونَ، فَقَتْلَاهُمْ شُهَدَاءُ، وَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى بَقِيَّتِهَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا میری امت میں سے ایک گروہ ایک علاقے میں اترے گا جس کا نام بصرہ ہے اس کے ایک جانب دجلہ نہر بہتی ہے کثیر باغات والا علاقہ ہے وہاں بنوقنطوراء (ترک) آ کر اتریں گے تو لوگ تین گروہ میں تقسیم ہوجائیں گے ایک گروہ تو اپنی اصل سے جا ملے گا یہ ہلاک ہوگا ایک گروہ اپنے اوپر زیادتی کرکے کفر کرے گا اور ایک گروہ اپنے بچوں کو پس پشت رکھ قتال کرے گا ان کے مقتولین شہید ہوں گے اور ان ہی کے بقیہ لوگوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی فتح ہوگی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20451]
حکم دارالسلام
ضعيف، و متنه منكر، لا يحتمل تفرد سعيد بن جمهان بمثل هذا المتن، وقد اضطرب فى تعيين تابعيه
الحكم: ضعيف، و متنه منكر، لا يحتمل تفرد سعيد بن جمهان بمثل هذا المتن، وقد اضطرب فى تعيين تابعيه
حدیث نمبر: 20452 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، حَشْرَجٌ ، سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ أَوْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِي
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَشْرَجٌ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْبَصْرَةِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
ضعيف، ومتنه منكر، لا يحتمل تفرد سعيد بن جمهان بمثل هذا المتن، وقد اضطرب فى تعيين تابعيه
الحكم: ضعيف، ومتنه منكر، لا يحتمل تفرد سعيد بن جمهان بمثل هذا المتن، وقد اضطرب فى تعيين تابعيه