مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، وَيُونُسُ ، وَأَيُّوبُ ، وَهِشَامٌ ، الْحَسَنِ ، الْأَحْنَفِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، وَيُونُسُ ، وَأَيُّوبُ ، وَهِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ"، قِيلَ: هَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟! قَالَ:" قَدْ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20439]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 31، م: 2888، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 31، م: 2888، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ لكنه توبع