بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ كَلَدَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 152
صفحہ 3 از 8
حدیث نمبر: 20413 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْعَوَّامُ ، سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبُصَيْرَةُ، إِلَى جَنْبِهَا نَهَرٌ يُقَالُ لَهُ: دِجْلَةُ، ذُو نَخْلٍ كَثِيرٍ، وَيَنْزِلُ بِهِ بَنُو قَنْطُورَاءَ، فَيَفْتَرِّقُ النَّاسُ ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِأَصْلِهَا، وَهَلَكُوا، وَفِرْقَةٌ تَأْخُذُ عَلَى أَنْفُسِهَا، وَكَفَرُوا، وَفِرْقَةٌ يَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ، فَيُقَاتِلُونَ، قَتْلَاهُمْ شُهَدَاءُ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى بَقِيَّتِهِمْ" ، وَشَكَّ يَزِيدُ فِيهِ مَرَّةً، فَقَالَ: الْبُصَيْرَةُ أَوْ الْبَصْرَةُ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک علاقے کا ذکر فرمایا اس کا نام بصرہ ہے اور اس کے ایک طرف دجلہ نامی نہر بہتی ہے کثیر باغات والا علاقہ ہے وہاں بنوقنطوراء (ترک) آکر اتریں گے تو لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک گروہ تو اپنی اصل سے جا ملے گا یہ ہلاک ہوگا ایک گروہ اپنے اوپر زیادتی کرکے کفر کرے گا اور ایک گروہ اپنے بچوں کو پس پشت ڈال کر قتال کرے گا۔ ان کے مقتولین شہید ہوں گے اور ان کے ہی بقیہ لوگوں کے ہاتھوں ہی مسلمانوں کی فتح ہوگی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20413]
حکم دارالسلام
ضعيف، ومتنه منكر لأجل سعيد بن جمهان، وابن أبى بكرة اختلف الروايات فى تعيينه
الحكم: ضعيف، ومتنه منكر لأجل سعيد بن جمهان، وابن أبى بكرة اختلف الروايات فى تعيينه
حدیث نمبر: 20414 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَتَنْزِلُنَّ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا: الْبَصْرَةُ أَوْ الْبُصَيْرَةُ عَلَى دِجْلَةَ، نَهَرٌ..." فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ الْعَوَّامُ: بَنُو قَنْطُورَاءَ هُمْ التُّرْكُ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ومتنه منكر لأجل سعيد بن جمهان، واختلفت الروايات فى تعيين ابن أبى بكرة
الحكم: إسناده ضعيف، ومتنه منكر لأجل سعيد بن جمهان، واختلفت الروايات فى تعيين ابن أبى بكرة
حدیث نمبر: 20415 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" مَنْ طَالَ عُمُرُهُ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ"، قَالَ: فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ:" مَنْ طَالَ عُمُرُهُ، وَسَاءَ عَمَلُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بدترین انسان کون ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20415]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20416 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ، وَلَا صُمْتُهُ كُلَّهُ" ، قَالَ الْحَسَنُ: وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً: قَالَ قَتَادَةُ اللَّهُ أَعْلَمُ أَخَافَ عَلَى أُمَّتِهِ التَّزْكِيَةَ، أَوْ لَا بُدَّ مِنْ رَاقِدٍ أَوْ غَافِلٍ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے میں نے سارے رمضان قیام کیا اور روزے رکھتا رہا کیونکہ غفلت یا نیند آجانے سے کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے وہ کسی دن سوتا رہ جائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20416]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20417 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ ذُكِرَتْ لَيْلَةُ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِمُلْتَمِسِهَا بَعْدَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي عَشْرِ الْأَوَاخِرِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فِي الْوِتْرِ مِنْهُ"، قَالَ: فَكَانَ أَبُو بَكْرَةَ يُصَلِّي فِي الْعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ كَصَلَاتِهِ فِي سَائِرِ السَّنَةِ، فَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اجْتَهَدَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے شب قدر کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو اسے صرف آخری عشرے میں تلاش کروں گا کیونکہ میں اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو۔ ٢١ ویں، ٢٣ ویں، ٢٥ ویں شب، یا ٢٧ ویں شب یا آخری رات میں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20417]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20418 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا، ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ، أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا، تَنَامُ عَيْنَاهُ، وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ"، ثُمَّ نَعَتَ أَبَوَيْهِ، فَقَالَ:" أَبُوهُ رَجُلٌ طُوَالٌ مُضْطَرِبُ اللَّحْمِ، طَوِيلُ الْأَنْفِ، كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ، وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَّةٌ، عَظِيمَةُ الثَّدْيَيْنِ"، قَالَ: فَبَلَغَنَا أَنَّ مَوْلُودًا مِنَ الْيَهُودِ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ، فَرَأَيْنَا فِيهِمَا نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا هُوَ مُنْجَدِلٌ فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ، لَهُ هَمْهَمَةٌ، فَسَأَلْنَا أَبَوَيْهِ، فَقَالَا: مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا، ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ، أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا، فَلَمَّا خَرَجْنَا مَرَرْنَا بِهِ، فَقَالَ: مَا كُنْتُمَا فِيهِ؟ قُلْنَا وَسَمِعْتَ؟! قَالَ: نَعَمْ، إِنَّهُ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي، فَإِذَا هُوَ ابْنُ صَيَّادٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کے ماں باپ تیس سال اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں یہاں کوئی اولاد نہ ہوگی پھر ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو کانا ہوگا اس کا نقصان زیادہ ہوگا اور نفع کم اس کی آنکھیں سوتی ہوں گی لیکن دل نہیں سوئے گا پھر اس کے والدین کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا اس کا باپ ایک لمبے قد کا آدمی ہوگا اور اس کا گوشت ہلتا ہوگا اس کی ناک بھی لمبی ہوگی ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے طوطے کی چونچ اور اس کی ماں بڑی چھاتی والی عورت ہوگی کچھ عرصے کے بعد ہمیں پتا چلا کہ مدینہ میں ایک یہودیوں کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے میں اور زبیر بن عوام اسے دیکھنے کے لئے گئے اس کے والدین کے پاس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بتایا ہوا حلیہ ان دونوں نے پایا وہ بچہ ایک چادر میں لپٹا ہوا پڑا ہوا تھا اس کی ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی ہم نے اس کے والدین کو اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے تیس سال اس حال میں گزارے کہ ہمارے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا پھر ہمارے ہاں یہ ایک کانابچہ پیدا ہوا جس کا نقصان زیادہ اور نفع کم ہے جب ہم وہاں سے نکلے تو ہم اس کے پاس سے گزرے وہ کہنے لگا تم لوگ کیا باتیں کررہے تھے ہم نے کہا تم نے وہ باتیں سن لیں؟ اس نے کہا جی ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرادل نہیں سوتا وہ ابن صیاد تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20418]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20419 مسند احمد
أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَشْعَثُ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ هَاهُنَا مَرَّةً، وَهَاهُنَا مَرَّةً عِنْدَ كُلِّ قَوْمٍ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قَالَ: فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ غَيْرَ اسْمِهِ، قَالَ" أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟" قَالَ: قُلْنَا: بَلَى، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" قَالَ: فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ غَيْرَ اسْمِهِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟" قَالَ: قُلْنَا: بَلَى، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" قَالَ: فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ غَيْرَ اسْمِهِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ الْحَرَامَ؟" قَالَ: قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ، حَرَامٌ عَلَيْكُمْ إِلَى أَنْ تَلْقَوْا رَبَّكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا"، ثُمَّ قَالَ:" لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ الْغَائِبَ أَنْ يَكُونَ أَوْعَى لَهُ مِنَ الشَّاهِدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دینے کے لئے اونٹ پر سوار ہوئے ایک آدمی نے اس کی لگام پکڑ لی پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ آج کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے۔ کہ ہم یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حسب سابق خاموش رہے پھر فرمایا کیا یہ شہر حرم نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری جان اور مال اور عزت آبرو ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسا کہ اس شہر میں اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۔ یاد رکھو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا؟ تم میں سے جو موجود ہے وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچا دے کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20419]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 67، م: 1679، وهذا إسناد ضعيف لضعف الأشعث، ولانقطاعه بين ابن سيرين وأبي بكرة
الحكم: حديث صحيح، خ: 67، م: 1679، وهذا إسناد ضعيف لضعف الأشعث، ولانقطاعه بين ابن سيرين وأبي بكرة
حدیث نمبر: 20420 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ مَكَانَكُمْ، ثُمَّ دَخَلَ، فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز کا آغاز کیا اور تکبیر کہی پھر صحابہ کو اشارہ سے فرمایا کہ اپنی جگہ رہو پھر گھر تشریف لے گئے جب باہر آئے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے پھر نماز پڑھائی اور نماز کے بعد فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہی ہوں مجھ پر غسل واجب تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20420]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعنه
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعنه
حدیث نمبر: 20421 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20421]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل وعلي بن زيد ضعيفان
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل وعلي بن زيد ضعيفان
حدیث نمبر: 20422 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ ذَكَرُوا رَجُلًا عِنْدَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْهُ فِي كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ" مِرَارًا يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ أَحْسَبُ فُلَانًا إِنْ كَانَ يَرَى أَنَّهُ كَذَاكَ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا، وَحَسِيبُهُ اللَّهُ، أَحْسَبُهُ كَذَا وَكَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں لوگ ایک آدمی کا تذکرہ کررہے تھے ایک آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ آپ کے بعد فلاں فلاں عمل میں اس شخص سے زیادہ کوئی افضل معلوم نہیں ہوتا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی یہ جملہ کئی مرتبہ دہرایا اور فرمایا اگر تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کی تعریف ضرور کرنی ہی ہو تو اسے یوں کہنا چاہیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی اس طرح دکھائی دیتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکی بیان نہیں کرتا اور اس کا حقیقی نگہبان اللہ ہے میں اسے اس اس طرح سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20422]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6061، م: 3000
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6061، م: 3000
حدیث نمبر: 20423 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيّ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّمَا بَايَعَكَ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَأَحْسَبُ جُهَيْنَةَ، مُحَمَّدٌ الَّذِي يَشُكُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَأَحْسَبُ جُهَيْنَةَ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَبَنِي عَامِرٍ، وَأَسَدٍ، وَغَطَفَانَ، أَخَابُوا وَخَسِرُوا" فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ لَأَخْيَرُ مِنْهُمْ، إِنَّهُمْ لَأَخْيَرُ مِنْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اقرع بن حابس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ آپ کی بیعت قبیلہ اسلم، غفار، مزینہ اور غالباً جہینہ کا بھی ذکر کیا کے ان لوگوں نے کی ہے جو حجاج کا سامان چراتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بتاؤ کہ اگر اللہ کے نزدیک جہینہ، اسلم، غفار اور مزینہ قبیلے کے لوگ بنواسد، بنوتمیم، بنوغطفان اور بنوعامر بن صعصعہ سے بہتر ہوں تو وہ نامراد خسارے میں رہیں گے اقرع نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ لوگ بنوتمیم، بنوعامر، بنواسد اور بنوغطفان سے بہتر ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20423]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3516، م: 2522
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3516، م: 2522
حدیث نمبر: 20424 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ السِّلَاحَ، فَهُمَا عَلَى جُرُفِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، دَخَلَاهَا جَمِيعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب دو مسلمانوں میں سے ایک دوسرے پر اسلحہ اٹھالے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پہنچ جاتے ہیں اور جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو وہ دونوں ہی جہنم میں داخل ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20424]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 31، م: 2888
الحكم: إسناده صحيح، خ: 31، م: 2888
حدیث نمبر: 20425 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: اقْرَأْ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ مِيكَائِيلُ: اسْتَزِدْهُ، قَالَ: اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، كُلِّهَا شَافٍ كَافٍ مَا لَمْ تُخْتَمْ آيَةُ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ، أَوْ آيَةُ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل اور میکائیل آئے جبرائیل نے مجھ سے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھے، میکائیل نے کہا کہ اس میں اضافے کی درخواست کیجیے پھر جبرائیل نے کہا کہ قرآن کریم کو آپ سات حروف پر پڑھ سکتے ہیں جن میں سے ہر ایک کافی شافی ہے بشرطیکہ آیت رحمت کو عذاب سے یا آیت عذاب کو رحمت سے نہ بدل دیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20425]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20426 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ مَكَانَكُمْ، فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى بِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز فجر کا آغاز کیا اور تکبیر کہی پھر صحابہ کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ رہو پھر گھر تشریف لائے جب باہر آئے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے پھر نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20426]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20427 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نے سارے رمضان قیام کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20427]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20428 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: أَكْثَرَ النَّاسُ فِي مُسَيْلِمَةَ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ:" أَمَّا بَعْدُ فَفِي شَأْنِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ أَكْثَرْتُمْ فِيهِ، وَإِنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا، يَخْرُجُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ بَلْدَةٍ إِلَّا يَبْلُغُهَا رُعْبُ الْمَسِيحِ، إِلَّا الْمَدِينَةَ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكَانِ، يَذُبَّانِ عَنْهَا رُعْبَ الْمَسِيحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسیلمہ کذاب کے متعلق قبل اس کے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ فرمائیں لوگ بکثرت باتیں کیا کرتے تھے ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور امابعد کہہ کر فرمایا کہ اس شخص کے متعلق تم بکثرت باتیں کررہے ہو یہ ان تیس کذابوں میں سے ایک ہے جو قیامت سے پہلے خروج کریں گے اور کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا جہاں دجال کا رعب نہ پہنچے سوائے مدینہ منورہ کہ اس کے ہر سوراخ پر دو فرشتے مقرر ہوں گے جو مدینہ منورہ سے دجال کے رعب کو دور کرتے ہوں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20428]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، واختلف فيه على الزهري، وروى عنه أيضا بزيادة عياض بن مسافع بين طلحة وأبي بكرة، وهو الصواب، وعياض هذا مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، واختلف فيه على الزهري، وروى عنه أيضا بزيادة عياض بن مسافع بين طلحة وأبي بكرة، وهو الصواب، وعياض هذا مجهول
حدیث نمبر: 20429 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، وَعَفَّانُ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ ، عَفَّانُ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنَ ، أَبُو بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ يَتَعَاطَوْنَ سَيْفًا مَسْلُولًا، فَقَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا، أَوَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُ عَنْ هَذَا؟" ثُمَّ قَالَ: " إِذَا سَلَّ أَحَدُكُمْ سَيْفَهُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَأَرَادَ أَنْ يُنَاوِلَهُ أَخَاهُ، فَلْيُغْمِدْهُ ثُمَّ يُنَاوِلْهُ إِيَّاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی قوم کے پاس پہنچے وہ لوگ ننگی تلواریں ایک دوسرے کو پکڑا رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسا کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہو کیا میں نے اس سے منع نہیں کیا تھا؟ پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تلوار سونتے تو دیکھ لے کہ اگر اپنے کسی بھائی کو پکڑانے کا ارادہ ہو تو اسے نیام میں ڈال کر اسے پکڑائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20429]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20430 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، عَبْدُ الْجَلِيلِ ، جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، لِأَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِيهِ : يَا أَبَةِ، إِنِّي أَسْمَعُكَ تَدْعُو كُلَّ غَدَاةٍ: " اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ"، تُعِيدُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ، وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي، وَتَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ"، تُعِيدُهَا حِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثًا، وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي، قَالَ: نَعَمْ يَا بُنَيَّ، إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ، فَأُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ . قَالَ: وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ: اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ اباجان! میں آپ کو روزانہ یہ دعا کرتے ہوئے سنتا ہوں اے اللہ مجھے اپنے بدن میں عافیت عطا فرما اے اللہ مجھے اپنی سماعت میں عافیت عطا فرما اے اللہ مجھے اپنی بصارت میں عافیت عطا فرما تیرے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے آپ یہ کلمات تین مرتبہ صبح دہراتے ہیں اور تین مرتبہ شام کو نیز آپ یہ بھی کہتے ہیں اے اللہ میں کفر اور فقر سے آپ کی پناہ میں آتاہوں اے اللہ میں عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتاہوں آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے آپ یہ کلمات تین مرتبہ صبح دہراتے اور تین مرتبہ شام کو دہراتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں بیٹا! میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے اس لئے مجھے ان کی سنت پر عمل کرنا زیادہ پسند ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پریشانیوں میں گھرے ہوئے آدمی کی دعاء یہ ہے اے اللہ میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں لہذا تو مجھے ایک لمحے کے لئے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر اور میرے تمام معاملات کی اصلاح فرماتیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20430]
حکم دارالسلام
إسناده حسن فى المتابعات والشواهد لأجل جعفر بن ميمون
الحكم: إسناده حسن فى المتابعات والشواهد لأجل جعفر بن ميمون
حدیث نمبر: 20431 مسند احمد
رَوْحٌ ، عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ سَاجِدٍ، وَهُوَ يَنْطَلِقُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَضَى الصَّلَاةَ وَرَجَعَ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ يَقْتُلُ هَذَا؟" فَقَامَ رَجُلٌ فَحَسَرَ عَنْ يَدَيْهِ، فَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟! ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَقْتُلُ هَذَا؟!" فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا فَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، وَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ حَتَّى أُرْعِدَتْ يَدُهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ قَتَلْتُمُوهُ، لَكَانَ أَوَّلَ فِتْنَةٍ وَآخِرَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے جا رہے تھے کہ راستے میں ایک آدمی کے پاس سے گزر ہوا جو سجدے میں پڑا ہوا تھا جب نماز پڑھ کر واپس آئے تب بھی وہ سجدے میں ہی تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہیں کھڑے ہوگئے اور فرمایا اسے کون قتل کرے گا؟ ایک آدمی تیار ہوا اس نے بازو اوپر چڑھائے اور تلوار ہلاتا ہوا چلا پھر کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں سجدے میں پڑے ہوئے اس آدمی کو کیسے قتل کروں جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں محمد اس کے بندے اور رسول ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا اسے کون قتل کرے گا اس پر دوسرا آدمی تیار ہوا اس نے بھی اپنے بازو چڑھائے اور تلوارہلاتا ہوا چلا آیا لیکن اس کے ہاتھ بھی کانپنے لگے اور وہ بھی کہنے لگا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اس شخص کو کیسے قتل کروں جو اللہ کی وحدانیت اور محمد کی بندگی و رسالت کی گواہی دیتا ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذا ات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے اگر تم اسے قتل کردیتے تو یہ پہلا اور آخری فتنہ ہوتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20431]
حکم دارالسلام
في متن الحديث نكارة، وقد تفرد به مسلم بن أبى بكرة عن أبيه، وعثمان تعرف وتنكر
الحكم: في متن الحديث نكارة، وقد تفرد به مسلم بن أبى بكرة عن أبيه، وعثمان تعرف وتنكر
حدیث نمبر: 20432 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ أَبُو دَاوُدَ ، عِمْرَانُ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صُومُوا الْهِلَالَ لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا"، وَعَقَدَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھا کرو اور چاند دیکھ کر عید منایا کرو اگر کسی دن ابر چھا جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو اور مہینہ اتنا ' اور اتنا بھی ہوتا ہے تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انگلی کو بند کرلیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20432]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن