يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ مَكَانَكُمْ، ثُمَّ دَخَلَ، فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز کا آغاز کیا اور تکبیر کہی پھر صحابہ کو اشارہ سے فرمایا کہ اپنی جگہ رہو پھر گھر تشریف لے گئے جب باہر آئے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے پھر نماز پڑھائی اور نماز کے بعد فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہی ہوں مجھ پر غسل واجب تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20420]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعنه
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعنه