حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عِيَاضَ بْنَ مُسَافِعٍ ، أَبُو بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ مُسَافِعٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَخِي زِيَادٍ لِأُمِّهِ، قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ شَأْنَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ أَكْثَرْتُمْ فِي شَأْنِهِ، فَإِنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا يَخْرُجُونَ قَبْلَ الدَّجَّالِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ بَلَدٌ إِلَّا يَدْخُلُهُ رُعْبُ الْمَسِيحِ إِلَّا الْمَدِينَةَ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا يَوْمَئِذٍ مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عَنْهَا رُعْبَ الْمَسِيحِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسیلمہ کذاب کے متعلق قبل اس کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ فرمائیں لوگ بکثرت باتیں کیا کرتے تھے ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور امابعد کہہ کر فرمایا اس شخص کے متعلق تم بکثرت باتیں کررہے تھے یہ ان تیس کذابوں میں سے ایک ہے جو قیامت سے پہلے خروج کریں گے اور کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا جہاں دجال کا رعب نہ پہنچے سوائے مدینہ کے کہ اس کے دو سوراخ پر دو فرشتے مقرر ہونگے جو مدینہ منورہ سے دجال کے رعب کو دور کرتے ہوں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20464]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف عياض بن مسافع مجهول
الحكم: إسناده ضعيف عياض بن مسافع مجهول