مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ يَخْطُبُ إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَصَعِدَ إِلَيْهِ الْمِنْبَرَ، فَضَمَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ، وَقَالَ: " ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ عَلَى يَدَيْهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے کہ حضرت امام حسن بھی آگئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سینے سے لگا لیا سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20499]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2704، وهذا إسناده ضعيف، مؤمل وابن جدعان ضعيفان، لكنهما توبعا
الحكم: حديث صحيح، خ: 2704، وهذا إسناده ضعيف، مؤمل وابن جدعان ضعيفان، لكنهما توبعا