بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وَمِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 191
صفحہ 8 از 10
حدیث نمبر: 20218 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبٍ ، مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبِيضَ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ عمدہ اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20218]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية ميمون عن الصحابة منقطعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية ميمون عن الصحابة منقطعة
حدیث نمبر: 20219 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَابْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَائِلَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: كُدُوحٌ يُكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ ذَا سُلْطَانٍ، أَوْ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ایک زخم اور دماغ ہے جس سے انسان اپنے چہرے کے داغ دار کرلیتا ہے اب جو چاہے اسے اپنے چہرے پر رہنے دے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے الاّ یہ کہ انسان کسی ایسے شخص سے سوال کرے جو با اختیار ہو یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20219]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20220 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي كُسُوفٍ، فَلَمْ يُسْمَعْ لَهُ صَوْتٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز کسوف پڑھائی تو سری قرأت فرمائی اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز نہیں سنی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20220]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ثعلبة بن عباد
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ثعلبة بن عباد
حدیث نمبر: 20221 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: قَالَ شُعْبَةُ , وَحَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَدَّثَ بِحَدِيثٍ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے کوئی حدیث نقل کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ حدیث جھوٹی ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20221]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20222 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلُ ، الشَّعْبِيِّ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْفَجْرَ، فَقَالَ:" هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟" ثَلَاثًا، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا , قَالَ: فَقَالَ: " إِنَّ صَاحِبَكُمْ مَحْبُوسٌ عَنِ الْجَنَّةِ بِدَيْنِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی تو نماز کے بعد تین مرتبہ فرمایا کیا یہاں فلاں قبیلے کا کوئی آدمی ہے ایک آدمی نے کہا جی ہاں ہم موجود ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا ساتھی جو فوت ہوگیا ہے اپنے ایک قرض کے سلسلے میں جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے۔ لہذا تم اس کا قرض ادا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20222]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20223 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ سَمُرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الْكَلَامِ بَعْدَ الْقُرْآنِ وَهِو مِنَ الْقُرْآنِ أرَبعٌ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک قرآن کے بعد سب سے زیادہ پسندیدہ کلمات چار ہیں لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ اور الحمدللہ ان میں سے جس سے بھی آغاز کرو کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20223]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إن كان هلال بن يساف سمعه من سمرة
الحكم: إسناده صحيح إن كان هلال بن يساف سمعه من سمرة
حدیث نمبر: 20224 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ" , وَقَالَ عَفَّانُ أَيْضًا: الْكَذَّابِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے کوئی حدیث نقل کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ حدیث جھوٹی ہے تو وہ دو میں جھوٹا ایک ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20224]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20225 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ ، قَالَ:" مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً إِلَّا نَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ، وَأَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بہت کم کسی خطبے میں ایسا ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صدقہ کا حکم نہ دیا ہو اور اس میں مثلہ کرنے کی ممانعت نہ کی ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20225]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20226 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، الْمُهَلَّبَ بْنَ أَبِي صُفْرَةَ ، سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُهَلَّبَ بْنَ أَبِي صُفْرَةَ ، قَالَ: قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُصَلُّوا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَلَا حِينَ تَغِيبُ، فَإِنَّهَا تَغِيبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورج کے طلوع یا غروب ہونے کے وقت نماز نہ پڑھا کرو کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20226]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20227 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بن جُندب
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بن جُندب , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے کسی قریبی رشتے دار کا مالک بن جاتا ہے تو وہ رشتہ دار آزاد ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20227]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن
حدیث نمبر: 20228 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بن جُندب ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَن حُمَيْدٍ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بن جُندب , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَسْكُتُ سَكْتَتَيْنِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ" ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَكَتَبُوا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ يَسْأَلُونَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَكَتَبَ: أَنْ صَدَقَ سَمُرَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز شروع کرکے اور ایک مرتبہ قرأت سے فارغ ہو کر حضرت عمران بن حصین کا کہنا ہے کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ یاد نہیں ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ دریافت کیا حضرت ابی بن کعب نے جواب میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20228]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20229 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ ، ابْنُ سِيرِينَ ، سَمُرَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ , قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ سِيرِينَ : صَنَعْتُ سَيْفِي عَلَى سَيْفِ سَمُرَةَ، وَقَالَ سَمُرَةُ : " صَنَعْتُ سَيْفِي عَلَى سَيْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ حَنَفِيًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن سیرین فرماتے تھے کہ میں نے اپنی تلوار حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی تلوار جیسی بنائی ہے اور حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی تلوار نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلوار جیسی بنائی ہے اور وہ دین حنیف پر قائم تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20229]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عثمان بن سعد، وقد اضطرب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عثمان بن سعد، وقد اضطرب
حدیث نمبر: 20230 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ وَاسْتَبْقُوا شَرْخَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مشرکین کے بوڑھوں کو قتل کردو اور ان کے جوانوں کوز ندہ چھوڑ دو۔ فائدہ: امام احمد کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس حدیث کی وضاحت دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ بوڑھا آدمی عام طور پر اسلام قبول نہیں کرتا اور جوان کرلیتا ہے گویا جوان اسلام کے زیادہ قریب ہوتا ہے بہ نسبت بوڑھے کے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20230]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20231 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، أَبِي ، الشَّعْبِيِّ ، سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَن سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ: " أَهَهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟" قَالَهَا ثَلَاثًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَنْ تَكُونَ أَجَبْتَنِي؟ أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلَّا لِخَيْرٍ، إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَاتَ إِنَّهُ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ" , قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَهْلَهُ وَمَنْ يَتَحَزَّنُ لَهُ قَضَوْا عَنْه حَتَّى مَا جَاءَ أَحَدٌ يَطْلُبُهُ بِشَيْءٍ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی جنازے میں تھے نماز کے بعد تین مرتبہ فرمایا کہ یہاں فلاں قبیلے کا کوئی آدمی ہے؟ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا جی ہاں! (ہم موجود ہیں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے پہلی مرتبہ میں جواب کیوں نہیں دیا؟ میں نے تمہیں اچھے مقصد کے لئے پکارا تھا تمہارا ساتھی جو فوت ہوگیا ہے اپنے ایک قرض کے سلسلے میں جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے (لہذا تم اس کا قرض ادا کردو) راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے اس کے اہل خانہ اور اس کا غم رکھنے والوں کو دیکھا کہ انہوں نے اس کا قرض ادا کردیا اور پھر کوئی مطالبہ کرنے والا نہ آیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20231]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20232 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، فِرَاسٍ ، الشَّعْبِيِّ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَن فِرَاسٍ ، عَن الشَّعْبِيِّ ، عَن سَمُرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث بھی اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20232]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20233 مسند احمد
أَبُو سُفْيَانَ الْمَعْمَرِيُّ ، سُفْيَانَ ، أَبِيهِ ، الشَّعْبِيِّ ، سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْمَعْمَرِيُّ ، عَن سُفْيَانَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن الشَّعْبِيِّ ، عَن سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث بھی اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20233]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20234 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، أَبِيهِ ، سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، الشَّعْبِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَن أَبِيهِ ، عَن سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَن الشَّعْبِيِّ ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ , فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبِي فَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ وَكِيعٍ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20235 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، وَرَوْحٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، سَمُرَةَ بن جُندبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَن أَيُّوبَ ، وَرَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَن أَيُّوبَ ، عَن أَبِي قِلَابَةَ ، عَن أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَن سَمُرَةَ بن جُندبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْبَيَاضِ فَيَلْبَسُهُ أَحْيَاؤُكُمْ , وَقَالَ رَوْحٌ: فَلْيَلْبَسْهُ أَحْيَاؤُكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهِ مَوْتَاكُمْ، فَإِنَّهُ مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ عمدہ اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو ان میں ہی دفن کیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20235]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان
الحكم: إسناداه صحيحان
حدیث نمبر: 20236 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، سَمُرَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَن أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ: قَالَ سَمُرَةُ ، فَذَكَرَهُ , وَذَكَرَ يَعْنِي عَفَّانَ , عَن وُهَيْبٍ أَيْضًا لَيْسَ فِيهِ أَبُو الْمُهَلَّبِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث بھی اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20236]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يسمع من سمرة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يسمع من سمرة
حدیث نمبر: 20237 مسند احمد
عَبْدَةُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جانور کے بدلے میں جانور کی ادھار خریدوفروخت سے منع کیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20237]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن