عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، أَبِي ، الشَّعْبِيِّ ، سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَن سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ: " أَهَهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟" قَالَهَا ثَلَاثًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَنْ تَكُونَ أَجَبْتَنِي؟ أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلَّا لِخَيْرٍ، إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَاتَ إِنَّهُ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ" , قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَهْلَهُ وَمَنْ يَتَحَزَّنُ لَهُ قَضَوْا عَنْه حَتَّى مَا جَاءَ أَحَدٌ يَطْلُبُهُ بِشَيْءٍ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی جنازے میں تھے نماز کے بعد تین مرتبہ فرمایا کہ یہاں فلاں قبیلے کا کوئی آدمی ہے؟ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا جی ہاں! (ہم موجود ہیں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے پہلی مرتبہ میں جواب کیوں نہیں دیا؟ میں نے تمہیں اچھے مقصد کے لئے پکارا تھا تمہارا ساتھی جو فوت ہوگیا ہے اپنے ایک قرض کے سلسلے میں جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے (لہذا تم اس کا قرض ادا کردو) راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے اس کے اہل خانہ اور اس کا غم رکھنے والوں کو دیکھا کہ انہوں نے اس کا قرض ادا کردیا اور پھر کوئی مطالبہ کرنے والا نہ آیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20231]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن