بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وَمِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 191
صفحہ 1 از 10
حدیث نمبر: 20078 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، رَبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُسَمِّ غُلَامَكَ أَفْلَحَ وَلَا نَجِيحًا وَلَا يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ أَثَمَّ هُوَ، أَوْ أَثَمَّ فُلَانٌ؟ قَالُوا: لَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے بچوں کا نام افلح، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع) مت رکھو، اس لئے کہ جب تم اس کا نام لے کر پوچھو گے کہ وہ یہاں ہے تو لوگ کہیں گے کہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20078]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2137
الحكم: إسناده صحيح، م: 2137
حدیث نمبر: 20079 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، شَيْخٍ ، سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيَّ ، سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِيٍ قُشَيْرٍ , قَالَ رَوْحٌ , قَالَ: سَمِعْتُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيَّ ، وَكَانَ إِمَامَهُمْ , قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَخْطُبُ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ، وَهَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ" أَوْ" يَطْلُعَ الْفَجْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں بلال کی اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20079]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 1094، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، م: 1094، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20080 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مَعْبَدَ بْنَ خَالِدٍ ، زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْبَدَ بْنَ خَالِدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ: ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیدین میں سبح اسم ربک الاعلی اور ہل اتاک حدیث الغاشیۃ کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20080]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20081 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: " كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَانِ فِي صَلَاتِهِ" ,وَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: أَنَا مَا أَحْفَظُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكَتَبُوا فِي ذَلِكَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ يَسْأَلُونَهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ أُبَيٌّ أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ یاد نہیں، ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ سمرہ نے بات یاد رکھی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20081]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأن سماع الحسن من سمرة لم يثبت إلا فى حديث العقيقة، وفيما عدا ذلك فهو على الإرسال
الحكم: إسناده ضعيف لأن سماع الحسن من سمرة لم يثبت إلا فى حديث العقيقة، وفيما عدا ذلك فهو على الإرسال
حدیث نمبر: 20082 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هِيَ الْعَصْرُ" , قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍِ: سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ " صلوۃ وسطی " سے کیا مردا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز عصر۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20082]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ولم يصرح الحسن بسماعه من سمرة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ولم يصرح الحسن بسماعه من سمرة
حدیث نمبر: 20083 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، وَيَزِيدُ ، سَعِيدٌ ، وَبَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ , وَبَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ، تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ , وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ: وَيُدَمَّى وَيُسَمَّى فِيهِ وَيُحْلَقُ" قَالَ يَزِيدُ: رَأْسُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی رکھا ہوا ہے، لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو، اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20083]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قد صرح الحسن بسماعه لهذا الحديث من سمرة، خ: تحت: 5472
الحكم: إسناده صحيح، قد صرح الحسن بسماعه لهذا الحديث من سمرة، خ: تحت: 5472
حدیث نمبر: 20084 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، وَبَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , وَبَهْزٌ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا" , قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ: لِأَهْلِهَا أَوْ مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے حق میں " عمری " جائز ہوتا ہے جس کے لئے وہ کیا گیا ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20084]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ولم يصرح الحسن بسماعه من سمرة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ولم يصرح الحسن بسماعه من سمرة
حدیث نمبر: 20085 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ ، عُقْبَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَشَكَّ فِيهِ فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ , فَقَالَ: عَنْ عُقْبَةَ أَوْ سَمُرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ، فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جب کسی نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20085]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يصرح بسماعه
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20086 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ" , وَقَالَ ابْنُ بِشْرٍ: حَتَّى تُؤَدِّيَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک ہاتھ (دوسرے سے) جو چیز لیتا ہے، وہ اس کے ذمے رہتی ہے یہاں تک کہ (دینے والے کو) واپس ادا کر دے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20086]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأن الحسن لم يصرح بسماعه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأن الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20087 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، وَيَزِيدُ ، همام ، عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، قُدَامَةُ بْنُ وَبَرَةَ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ وَيَزِيدُ ، أخبرنا همام وحدثنا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي قُدَامَةُ بْنُ وَبَرَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُجَيْفٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ جُمُعَةً فِي غَيْرِ عُذْرٍ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَنِصْفُ دِينَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بلاعذر ایک جمعہ چھوڑ دے، اسے چاہیے کہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر ایک دینار نہ ملے تو نصف دینار ہی صدقہ کر دے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20087]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة قدامة بن وبرة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة قدامة بن وبرة
حدیث نمبر: 20088 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَيْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20088]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعف، الحسن لم يصرح بسماعه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20089 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَبِهَا وَنِعْمَتْ، وَمَنْ اغْتَسَلَ، فَذَلِكَ أَفْضَلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن وضو کرلے تو وہ بھی صحیح ہے اور جو شخص غسل کرلے تو یہ زیادہ افضل ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20089]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20090 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ , قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أنَكَحَ الْمَرْأَةَ الْوَلِيَّانِ، فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَإِذَا بِيعَ الْبَيْعُ مِنَ الرَّجُلَيْنِ، فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جب کسی نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20090]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يصرح بسماعه
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20091 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ سورة البقرة آية 238 قَالَ عَفَّانُ: الصَّلَاةِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 , وَسَمَّاهَا لَنَا:" إِنَّمَا هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ " صلوۃ وسطی " سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز عصر۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20091]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعف، الحسن البصري لم يصرح بسماعه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعف، الحسن البصري لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20092 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: " الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر بارش کے دن لوگوں سے فرمادیا کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20092]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعف، الحسن البصري لم يصرح بسماعه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعف، الحسن البصري لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20093 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، رَجُلٌ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ , وَهُوَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ، وَإِنَّكَ إِنْ تُرِدْ إِقَامَةَ الضِّلْعِ تَكْسِرْهَا، فَدَارِهَا تَعِشْ بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اگر تم پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے، اس لئے اس کے ساتھ اسی حال میں زندگی گزارو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20093]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح إن كان الرجل المبهم أبا رجاء عمران بن ملحان العطاردي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح إن كان الرجل المبهم أبا رجاء عمران بن ملحان العطاردي
حدیث نمبر: 20094 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ الْفَزَارِيُّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ الْفَزَارِيُّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ:" هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا؟" قَالَ: فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ، قَالَ: وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاةٍ: " إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ، وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي، وَإِنَّهُمَا قَالَا لِي: انْطَلِقْ , وَإِنِّي انْطَلَقْتُ مَعَهُمَا، وَإِنَّا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ، وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِصَخْرَةٍ، وَإِذَا هُوَ يَهْوِي عَلَيْهِ بِالصَّخْرَةِ لِرَأْسِهِ، فَيَثْلَغُ بِهَا رَأْسَهُ فَيَتَدَهْدَهُ الْحَجَرُ هَاهُنَا، فَيَتْبَعُ الْحَجَرَ يَأْخُذُهُ، فَمَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ حَتَّى يَصِحَّ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ، ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ، فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى , قَالَ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا هَذَانِ؟ قَالَا لِي: انْطَلِقْ انْطَلِقْ , فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاهُ، وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِكَلُّوبٍ مِنْ حَدِيدٍ، وَإِذَا هُوَ يَأْتِي أَحَدَ شِقَّيْ وَجْهِهِ فَيُشَرْشِرُ شِدْقَهُ إِلَى قَفَاهُ، وَمَنْخِرَاهُ إِلَى قَفَاهُ، وَعَيْنَاهُ إِلَى قَفَاهُ , قَالَ: ثُمَّ يَتَحَوَّلُ إِلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الْأَوَّلِ، فَمَا يَفْرُغُ مِنْ ذَلِكَ الْجَانِبِ حَتَّى يَصِحَّ الْأَوَّلُ كَمَا كَانَ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِهِ الْمَرَّةَ الْأُولَى، قَالَ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَا هَذَانِ؟ قَالَا لِي: انْطَلِقْ انْطَلِقْ , فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ , قَالَ عَوْفٌ: وَأَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ: وَإِذَا فِيهِ لَغَطٌ وَأَصْوَاتٌ قَالَ: فَاطَّلَعْتُ، فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ، وَإِذَا هُمْ يَأْتِيهِمْ لَهِيبٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَإِذَا أَتَاهُمْ ذَلِكَ اللَّهَبُ ضَوْضَوْا , قَالَ: قُلْتُ: مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَا لِي: انْطَلِقْ انْطَلِقْ , قال: فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: أَحْمَرَ مِثْلِ الدَّمِ، وَإِذَا فِي النَّهَرِ رَجُلٌ يَسْبَحُ، ثُمَّ يَأْتِي ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي قَدْ جَمَعَ الْحِجَارَةَ، فَيَفْغَرُ لَهُ فَاهُ، فَيُلْقِمُهُ حَجَرًا حَجَرًا , قَالَ: فَيَنْطَلِقُ فَيَسْبَحُ مَا يَسْبَحُ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ، كُلَّمَا رَجَعَ إِلَيْهِ، فَغَرَ لَهُ فَاهُ وَأَلْقَمَهُ حَجَرًا، قَالَ: قُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: قَالَا لِي: انْطَلِقْ انْطَلِقْ , فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ كَرِيهِ الْمَرْآةِ، كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَاءٍ رَجُلًا مَرْآةً , فَإِذَا هُوَ عِنْدَ نَارٍ لَهُ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا، قُلْتُ لَهُمَا: مَا هَذَا؟ قَالَا لِي: انْطَلِقْ انْطَلِقْ , قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ مُعْشِبَةٍ، فِيهَا مِنْ كُلِّ نَوْرِ الرَّبِيعِ , قَالَ: وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ قَائِمٌ طَوِيلٌ، لَا أَكَادُ أَنْ أَرَى رَأْسَهُ طُولًا فِي السَّمَاءِ، وَإِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ وَأَحْسَنِهِ , قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: مَا هَذَا؟ وَمَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَا لِي: انْطَلِقْ انْطَلِقْ , فَانْطَلَقْنَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى دَوْحَةٍ عَظِيمَةٍ، لَمْ أَرَ دَوْحَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلَا أَحْسَنَ , قَالَ: فَقَالَا لِي: ارْقَ فِيهَا , فَارْتَقَيْنَا فِيهَا، فَانْتَهَيْتُ إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنٍ ذَهَبٍ، وَلَبِنٍ فِضَّةٍ، فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ، فَاسْتَفْتَحْنَا، فَفُتِحَ لَنَا، فَدَخَلْنَا فَلَقِينَا فِيهَا رِجَالًا شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ , قَالَ: فَقَالَا لَهُم: اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهَرِ , فَإِذَا نَهَرٌ صَغِيرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي، كَأَنَّمَا هُوَ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ , قَالَ: فَذَهَبُوا فَوَقَعُوا فِيهِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا وَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ، وَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ , قَالَ: فَقَالَا لِي: هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ، وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ، قَالَ: فَبَيْنَمَا بَصَرِي صُعُدًا، فَإِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ، قَالَا لِي: هَذَاكَ مَنْزِلُكَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا، ذَرَانِي فَلَأَدْخُلُهُ , قَالَ: قَالَا لِي: أما الْآنَ فَلَا، وَأَنْتَ دَاخِلُهُ , قَالَ: فَإِنِّي رَأَيْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ عَجَبًا، فَمَا هَذَا الَّذِي رَأَيْتُ؟ قَالَ: قَالَا لِي: أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ أَمَّا الرَّجُلُ الْأَوَّلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ، وَيَنَامُ عَنِ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَةِ , وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُشَرْشَرُ شِدْقُهُ إِلَى قَفَاهُ، وَعَيْنَاهُ إِلَى قَفَاهُ، وَمَنْخِرَاهُ إِلَى قَفَاهُ، فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَغْدُو مِنْ بَيْتِهِ، فَيَكْذِبُ الْكَذِبَةَ تَبْلُغُ الْآفَاقَ , وَأَمَّا الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ الْعُرَاةُ الَّذِينَ فِي بِنَاءٍ مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ، فَإِنَّهُمْ الزُّنَاةُ وَالزَّوَانِي , وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي يَسْبَحُ فِي النَّهَرِ وَيُلْقَمُ الْحِجَارَةَ، فَإِنَّهُ آكِلُ الرِّبَا , وَأَمَّا الرَّجُلُ الْكَرِيهُ الْمَرْآةِ الَّذِي عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا، فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ , وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِيلُ الَّذِي رَأَيْتَ فِي الرَّوْضَةِ، فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام , وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ، فَكُلُّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ" , قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ , وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانَ شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنًا، وَشَطْرٌ قَبِيحًا، فَإِنَّهُمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا، وَآخَرَ سَيِّئًا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی نماز پڑھ کر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرماتے تھے کہ تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو عرض کردیتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کی مشیت کے موافق اس کی تعبیر دے دیتے تھے۔ چنانچہ حسب دستور ایک روز حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے پوچھا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے پاک زمین (بیت المقدس) کی طرف لے گئے، وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا ہوا تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا تھا، کھڑا ہوا آدمی بیٹھے ہوئے آدمی کے منہ میں وہ آنکڑا ڈال کر ایک طرف سے اس کا جبڑا چیر کر گدی سے ملا دیتا تھا اور پھر دوسرے جبڑے کو بھی اسی طرح چیر کر گدی سے ملا دیتا تھا، اتنے میں پہلا جبڑا صحیح ہوجاتا تھا اور وہ دوبارہ پھر اسی طرح چیرتا تھا میں نے دریافت کیا یہ کیا بات ہے؟ ان دونوں شخصوں نے کہا آگے چلو، ہم آگے چل دیئے، ایک جگہ پہنچ کر دیکھا کہ ایک شخص چت لیٹا ہے اور ایک اور آدمی اس کے سر پر پتھر لئے کھڑا ہے اور پتھر سے اس کے سر کو کچل رہا ہے، جب اس کے سر پر پتھر مارتا ہے تو پتھر لڑھک جاتا ہے اور وہ آدمی پتھر لینے چلا جاتا ہے، اتنے میں اس کا سر جڑ جاتا ہے اور مارنے والا آدمی پھر واپس آ کر اس کو مارتا ہے، میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ان دونوں شخصوں نے کہا کہ آگے چلو، ہم آگے چل دئیے، ایک جگہ دیکھا کہ تنور کی طرح ایک گڑھا ہے جس کا منہ تنگ ہے اور اندر سے کشادہ ہے، برہنہ مرد و عورت اس میں موجود ہیں اور آگ بھی اس میں جل رہی ہے جب آگ (تنور کے کناروں کے) قریب آجاتی ہے تو وہ لوگ اوپر اٹھ آتے ہیں اور باہر نکلنے کے قریب ہوجاتے ہیں اور جب آگ نیچے ہوجاتی ہے تو سب لوگ اندر ہوجاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ ان دونوں آدمیوں نے کہا کہ آگے چلو، ہم آگے چل دیئے اور ایک خون کی ندی پر پہنچے جس کے اندر ایک آدمی کھڑا تھا اور ندی کے کنارہ پر ایک اور آدمی موجود تھا جس کے آگے پتھر رکھے ہوئے تھے، اندر والا آدمی جب باہر نکلنے کے لئے آگے بڑھتا تھا تو باہر والا آدمی اس کے منہ پر پتھر مار کر پیچھے ہٹا دیتا تھا اور اصلی جگہ تک پہنچا دیتا تھا، دوبارہ پھر اندر والا آدمی نکلنا چاہتا تھا اور باہر والا آدمی اس کے منہ پر پتھر ماتا تھا اور اصلی جگہ تک پلٹا دیتا تھا، میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ان دونوں شخصوں نے کہا کہ آگے چلو، ہم آگے چل دیئے۔ ایک جگہ دیکھا کہ ایک درخت کے نیچے جڑ کے پاس ایک بوڑھا آدمی اور کچھ لڑکے موجود ہیں اور درخت کے قریب ایک اور آدمی ہے جس کے سامنے آگ موجود ہے اور وہ آگ جلا رہا ہے میرے دونوں ساتھی مجھے اس درخت کے اوپر چڑھا لے گئے اور ایک مکان میں داخل کیا، جس سے بہتر اور عمدہ میں نے کبھی کوئی مکان نہیں دیکھا گھر کے اندر مرد بھی تھے اور عورتیں بھی، بوڑھے بھی جوان بھی اور بچے بھی اس کے بعد وہ دونوں ساتھی مجھے اس مکان سے نکال کر درخت کے اوپر چڑھا کرلے گئے میں ایک شہر میں پہنچا جس کی تعمیر میں ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی استعمال کی گئی تھی، ہم نے دروازے پر پہنچ کر اسے کھٹکھٹایا، دروازہ کھلا اور ہم اندر داخل ہوئے تو ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جن کا آدھا حصہ تو انتہائی حسین و جمیل تھا اور آدھا دھڑ انتہائی قبیح تھا، ان دونوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جا کر اس نہر میں غوطہ لگاؤ، وہاں ایک چھوٹی سی نہر بہہ رہی تھی، جس کا پانی انتہائی سفید تھا، انہوں نے جا کر اس میں غوطہ لگایا، جب واپس آئے تو وہ قباحت ختم ہوچکی تھی اور وہ انتہائی خوبصورت ہوچکے تھے، پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور وہ آپ کا ٹھکانہ ہے، میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سفید رنگ کا ایک محل نظر آیا، میں نے ان دونوں سے کہا کہ اللہ تمہیں برکتیں دے، مجھے چھوڑو کہ میں اس میں داخل ہوجاؤں انہوں نے کہا ابھی نہیں، البتہ آپ اس میں جائیں گے ضرور، میں نے کہا کہ تم دونوں نے مجھے رات بھر گھمایا اب جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کی تفصیل تو بیان کرو انہوں نے کہا کہ اچھا ہم بتاتے ہیں۔ جس شخص کے تم نے گلپھڑے چرتے ہوئے دیکھا تھا وہ جھوٹا آدمی تھا کہ جھوٹی باتیں بنا کر لوگوں سے کہتا تھا اور لوگ اس سے سیکھ کر اوروں سے نقل کرتے تھے یہاں تک کہ سارے جہان میں وہ جھوٹ مشہور ہوجاتا تھا، قیامت تک اس پر یہ عذاب رہے گا اور جس شخص کا سر کچلتے ہوئے تم نے دیکھا ہے اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا تھا لیکن وہ فرض نماز سے غافل ہو کر رات کو سو جاتا تھا اور دن کو اس پر عمل نہ کرتا تھا قیامت تک اس پر یہی عذاب رہے گا اور جن لوگوں کو تم نے گڑ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20094]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 845
الحكم: إسناده صحيح، خ: 845
حدیث نمبر: 20095 مسند احمد
عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَوْفٍ ، أَبِي رَجَاءٍ ، سَمُرَةَ
قال أبو عبد الرحمن: قال أبي: سَمِعْت مِنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ يُخْبِرُ بِهِ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فَيَتَدَهْدَهُ الْحَجَرُ هَاهُنَا" قَالَ أَبِي: فَجَعَلْتُ أَتَعَجَّبُ مِنْ فَصَاحَةِ عَبَّادٍ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 845
الحكم: إسناده صحيح، خ: 845
حدیث نمبر: 20096 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا الْحَجَّامَ، فَأَتَاهُ بِقُرُونٍ، فَأَلْزَمَهُ إِيَّاهَا , قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: بِقَرْنٍ ثُمَّ شَرَطَهُ بِشَفْرَةٍ، فَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، أَحَدِ بَنِي جَذِيمَةَ، فَلَمَّا رَآهُ يَحْتَجِمُ، وَلَا عَهْدَ لَهُ بِالْحِجَامَةِ وَلَا يَعْرِفُهَا، قَالَ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ عَلَامَ تَدَعُ هَذَا يَقْطَعُ جِلْدَكَ؟ قَالَ:" هَذَا الْحَجْمُ" قَالَ: وَمَا الْحَجْمُ؟ قَالَ:" هو مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجام کو بلایا ہوا تھا، وہ اپنے ساتھ سینگ لے کر آگیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سینگ لگایا اور نشتر سے چیرا لگایا، اسی اثنا میں بنوفزارہ کا ایک دیہاتی بھی آگیا، جس کا تعلق بنوجذیمہ کے ساتھ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب اس نے سینگی لگواتے ہوئے دیکھا تو چونکہ اسے سینگی کے متعلق کچھ معلوم نہیں تھا، اس لئے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ نے اسے اپنی کھال کاٹنے کی اجازت کیوں دی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے " حجم " کہتے ہیں، اس نے پوچھا کہ " حجم " کیا چیز ہوتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا علاج کا سب سے بہترین طریقہ، جس سے لوگ علاج کرتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20096]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20097 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، سَوَادَةُ ، سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنِي سَوَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ , يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ، فَإِنَّ فِي بَصَرِهِ سُوءًا، وَلَا بَيَاضٌ يُرَى بِأَعْلَى السَّحَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں بلال کی اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے کیونکہ بلال کی آنکھیں کچھ کمزور ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20097]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 1094، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، م: 1094، وهذا إسناد حسن