بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وَمِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 191
صفحہ 9 از 10
حدیث نمبر: 20238 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ، فَهِيَ لَهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص کسی زمین پر باغ لگائے تو وہ اسی کی ملکیت میں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20238]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20239 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَن سَعِيدٍ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مَنْ أَحَاطَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20239]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20240 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَن عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَن حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: سَأَلَ أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَطَعَ عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي الضِّبَابِ؟ فَقَال:" َمُسِخَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْلَمُ فِي أَيِّ الدَّوَابِّ مُسِخَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور دوران خطبہ ہی سوال کرنے لگا یا رسول اللہ گوہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک امت کی شکلیں مسخ ہوگئیں تھیں اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ کس جانور کی شکلیں مسخ ہوئیں تھیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20240]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20241 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، شُعْبةَ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20241]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف ، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف ، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20242 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الْأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيُّ ، أَبِيهِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيُّ ، عَن أَبِيهِ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنَّ رَجُلًا , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ كَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَتْ مِنَ السَّمَاءِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا، فَشَرِبَ مِنْهُ شُرْبًا ضَعِيفًا , قَالَ عَفَّانُ: وَفِيهِ ضَعْفٌ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا، فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا، فَشَرِبَ، فَانْتَشَطَتْ مِنْهُ، فَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ایک آدمی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے میں نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک ڈول لٹکایا گیا ہے تھوڑی دیر بعد حضرت ابوبکر آئے انہوں نے ڈول کی لکڑیوں سے اسے پکڑ لیا اور اس میں سے تھوڑا سا پانی پی لیا پھر حضرت عمر آئے اور انہوں نے بھی اسے منہ سے پکڑ لیا اور خوب سیر ہو کر پیا پھر حضرت عثمان آئے اور انہوں نے بھی اسے منہ سے پکڑا اور اس میں سے پینے لگے اسی دوران اس میں سے پانی چھلک کر ان پر گرا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20242]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20243 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَن حُمَيْدٍ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَسْكُتُ سَكْتَتَيْنِ , إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ" , فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَكَتَبُوا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ: أَنْ صَدَقَ سَمُرَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز شروع کرکے اور ایک مرتبہ قرأت سے فارغ ہو کر حضرت عمران بن حصین کا کہنا تھا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ بھی یاد نہیں ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا حضرت ابی بن کعب نے جواب میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20243]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20244 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَن هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَن رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرْبَعٌ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ" . " وَلَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا , وَلَا رَبَاحًا , وَلَا نَجِيحًا , وَلَا أَفْلَحَ، فَإِنَّكَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ؟ فَلَا يَكُونُ، فَيَقُولُ: لَا" , إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ فَلَا تَزِيدُنَّ عَلَيَّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلمات چار ہیں لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ اور الحمد اللہ ان میں سے جس سے بھی آغاز کرلو کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔ اور اپنے بچوں کا نام افلح اور نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع) مت رکھو اس لئے کہ جب تم ان کا نام لے کر پوچھوگے کہ وہ یہاں ہے تو لوگ کہیں گے کہ نہیں ہے یہ چار چیزیں ہیں ان پر کوئی اضافہ نہ کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20244]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2137
الحكم: إسناده صحيح، م: 2137
حدیث نمبر: 20245 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَة ، أُبَيٍّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَن الْحَسَنِ ، قَالَ: قَالَ سَمُرَة :" حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ سَكْتَةٌ إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ حَتَّى يَقْرَأَ، وَسَكْتَةٌ إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ , وَسُورَةٍ عِنْدَ الرُّكُوعِ" , قَالَ: فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَكَتَبُوا إِلَى أُبَيٍّ فِي ذَلِكَ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَصَدَقَ سَمُرَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز شروع کرکے اور ایک مرتبہ قرأت سے فارغ ہو کر حضرت عمران بن حصین کا کہنا تھا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ بھی یاد نہیں ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا حضرت ابی بن کعب نے جواب میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20245]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20246 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادٌ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، مُؤَمَّلٌ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَن يُونُسَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْأَعَاجِمِ، ثُمَّ يَجْعَلُهُمْ اللَّهُ أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ، فَيَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ، وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ" , حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشا فرمایا کہ عنقریب اللہ تمہارے ہاتھوں کو عجم سے بھردے گا پھر وہ ایسے شیر بن جائیں گے جو میدان سے نہیں بھاگیں گے وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کردینگے اور تمہارا مال غنیمت کھاجائیں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20246]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20247 مسند احمد
حَمَّادٌ ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بن جَنْدبِ
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بن جَنْدبِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ أَيْدِيَكُمْ" فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20247]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ لكنه توبع ، والحسن البصري مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ لكنه توبع ، والحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20248 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُوشِكُونَ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ، ثُمَّ يَكُونُوا أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ، فَيَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ، وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب اللہ تمہارے ہاتھوں کو عجم سے بھردے گا پھر وہ ایسے شیربن جائیں گے جو میدان سے نہیں بھاگیں گے وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کردیں گے اور تمہارا مال غنیمت کھاجائیں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20248]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20249 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَن الْحَسَنِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20249]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإرساله، وقد رواه الحسن عن سمرة عن النبى ، وهذا منقطع لأن الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف لإرساله، وقد رواه الحسن عن سمرة عن النبى ، وهذا منقطع لأن الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20250 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، هُشَيْمٌ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
وحَدَّثَنَاه سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَن يُونُسَ ، عَن الْحَسَنِ، عَن سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20250]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20251 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَن قَتَادَةَ , وَحُمَيْدٍ , عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِالْجِوَارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20251]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20252 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَأْخُذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَا رَضِيَ مِنَ الْبَيْعِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے اور ان میں سے ہر ایک وہ لے سکتا ہے جس پر بیع میں وہ راضی ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20252]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20253 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: ثَنَا سَعِيدٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمارے نسخے میں صرف یہاں حدثنا لکھا ہوا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20253]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20254 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حدثنا قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعُمْرَى جَائِزَة" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ " عمری " اس شخص کے حق میں جائز ہوتا ہے جس کے لئے وہ کیا گیا ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20254]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20255 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " صلوۃ الوسطی " سے مراد نماز عصر ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20255]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20256 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ، تُذْبَحُ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَيُحْلَقُ، وَيُدَمَّى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقے کے عوض گروی رکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20256]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 5472
الحكم: إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 5472
حدیث نمبر: 20257 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: أَحْسَبُهُ مَرْفُوعًا: " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا، وَمِنْ الْغَدِ لِلْوَقْتِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص اپنے وقت پر نماز پڑھنا بھول جائے تو جب یاد آجائے اسی وقت پڑھ لے اور اگلے دن وقت مقررہ پر ادا کرے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20257]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشر