بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وَمِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 191
صفحہ 6 از 10
حدیث نمبر: 20178 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ ، لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ , قَالَ: شَهِدْتُ يَوْمًا خُطْبَةً لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَيْنَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي فِي غَرَضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ اسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَاللَّهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا , قَالَ: فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا هُوَ بَارِزٌ، قَالَ: وَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَاسْتَقْدَمَ، " فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ رَكَعَ كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَوَافَقَ تَجَلِّيَ الشَّمْسِ جُلُوسُهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَالَ زُهَيْرٌ حَسِبْتُهُ قَالَ: فَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ، فَبَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي كَمَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُبَلَّغَ، وَإِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي بَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ" قَالَ: فَقَامَ رِجَالٌ فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ، ثُمَّ سَكَتُوا , ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ، وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ، وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا، لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُمْ قَدْ كَذَبُوا، وَلَكِنَّهَا آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ، فَيَنْظُرُ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ مِنْهُمْ تَوْبَةً , وَايْمُ اللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُونَ فِي أَمْرِ دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا آخِرُهُمْ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي تحْيَى لِشَيْخٍ حِينَئِذٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَإِنَّهَا مَتَى يَخْرُجُ أَوْ قَالَ: مَتَى مَا يَخْرُجُ فَإِنَّهُ سَوْفَ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللَّهُ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَاتَّبَعَهُ، لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَهُ، لَمْ يُعَاقَبْ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ , وَقَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ: بِسَيِّئٍ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ , أَوْ قَالَ سَوْفَ يَظْهَرُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ , وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ، وَإِنَّهُ يَحْصُرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَيُزَلْزَلُونَ زِلْزَالًا شَدِيدًا، ثُمَّ يُهْلِكُهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَجُنُودَهُ، حَتَّى إِنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ أَوْ قَالَ: أَصْلَ الْحَائِطِ، وَقَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ: وَأَصْلَ الشَّجَرَةِ، لَيُنَادِي أَوْ قَالَ: يَقُولُ: يَا مُؤْمِنُ أَوْ قَالَ: يَا مُسْلِمُ، هَذَا يَهُودِيٌّ أَوْ قَالَ: هَذَا كَافِرٌ تَعَالَ فَاقْتُلْهُ" قَالَ:" وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ، وَتَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ , هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا؟ وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَلَى مَرَاتِبِهَا، ثُمَّ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ" , قَالَ: ثُمَّ شَهِدْتُ خُطْبَةً لِسَمُرَةَ ذَكَرَ فِيهَا هَذَا الْحَدِيثَ، فَمَا قَدَّمَ كَلِمَةً وَلَا أَخَّرَهَا عَنْ مَوْضِعِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثعلبہ بن عباد عبدی کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبے میں حاضر ہوا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے اپنے خطبے میں یہ حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن میں اور ایک انصاری لڑکا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں نشانہ بازی کررہے تھے جب دیکھنے والوں کی نظر میں سورج دو تین نیزوں کے برابر بلند ہوگیا تو وہ اس طرح تاریک ہوگیا جیسے تنومہ گھاس سیاہ ہوتی ہے یہ دیکھ کر ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا آؤ مسجد چلتے ہیں واللہ سورج کی یہ کیفیت بتارہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت میں کوئی اہم واقعہ رونما ہونے والا ہے۔ ہم لوگ مسجد پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس وقت تک باہر تشریف لا چکے تھے لوگ آرہے تھے اس دوران ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کھڑے رہے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھے اور ہمیں اتناطویل قیام کرایا کہ اس سے پہلے کبھی کسی نماز میں اتناطویل قیام نہیں کیا تھا لیکن ہم آپ کی قرأت نہیں سن پا رہے تھے کیونکہ قرأت سری تھی پھر اتنا طویل رکوع کیا کہ اس سے پہلے کبھی کسی نماز میں اتنا طویل رکوع نہیں کیا تھا اور ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھائی دوسری رکعت کے قعدہ میں پہنچنے تک سورج روشن ہوگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیرا اور اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور خود کے بندہ اللہ اور رسول ہونے کی گواہی دے کر فرمایا اے لوگو میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ میں نے اپنے پروردگار کے کسی پیغام کو تم تک پہنچانے میں کوئی کوتاہی کی ہو تو مجھے بتادو کیونکہ میں نے اپنی طرف سے اپنے رب کا پیغام اس طرح پہنچادیا ہے جیسے پہنچانے کا حق ہے اور اگر تم سمجھتے ہو کہ میری طرف سے میرے رب کے پیغام تم تک پہنچ گئے ہیں تب بھی مجھے بتادو اس پر کچھ لوگ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کا پیغام پہنچادیا، اپنی امت کی خیرخواہی کی اور اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے پھر وہ لوگ خاموش ہوگئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اما بعد کہہ کر فرمایا کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس چاند اور سورج کو گہن لگنا اور ان ستاروں کا اپنے مطلع سے ہٹ جانا اہل زمین میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لیکن وہ غلط کہتے ہیں یہ تو اللہ کی نشانیاں ہیں جن سے اللہ اپنے بندوں کو درس عبرت دیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ان میں سے کون توبہ کرتا ہے اللہ کی قسم میں جب نماز پڑھانے کے لئے کھڑا ہوا تو میں نے وہ تمام چیزیں دیکھ لیں جن سے دنیا اور آخرت میں تمہیں سابقہ پیش آئے گا واللہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس کذاب لوگوں کا خروج نہ ہوجائے جن میں سے سب سے آخر میں کانا دجال ہوگا اس کی بائیں آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی جیسے ابویحیی کی آنکھ ہے یہ ایک انصاری کی طرف اشارہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حجرہ عائشہ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ جب بھی خروج کرے گا تو خود کو اللہ سمجھے گا جو شخص ایمان لائے گا اس پر اس کی تصدیق اور اتباع کرے گا اسے ماضی کا کوئی عمل فائدہ نہیں دے سکے گا۔ جو اس کا انکار کرکے اس کی تکذیب کرے گا اس کے کسی عمل پر اس کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا دجال ساری زمین پر غالب آجائے گا سوائے حرم شریف اور بیت المقدس کے اور وہ بیت المقدس میں مسلمانوں کا محاصرہ کرلے گا اور ان پر ایک سخت زلزلہ آئے بالآخر اللہ دجال اور اس کے لشکروں کو ہلاک کردے گا حتی کہ درخت کی جڑ میں سے آواز آئے گی کہ اے مسلمان یہ یہودی یا کافر یہاں چھپا ہوا ہے آکر اسے قتل کردو اور ایسا وقت تک نہیں ہوگا جب تک تم ایسے امور نہ دیکھ لو جن کی اہمیت تمہارے دلوں میں ہو اور تم آپس میں ایک دوسرے سے سوال کرو کہ کیا تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا کوئی تذکرہ کیا ہے اور جب تک پہاڑ اپنی جڑوں سے نہ ہل جائیں اس کے فورا بعد اٹھانے کا عمل شروع ہوجائے گا۔ ثعلبہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کے ایک خطبے میں شریک ہوا انہوں نے اس میں جب یہی حدیث دوبارہ بیان کی تو ایک لفظ بھی اپنی جگہ سے آگے پیچھے نہیں کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20178]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ثعلبة بن عباد، ولبعضه شواهد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ثعلبة بن عباد، ولبعضه شواهد
حدیث نمبر: 20179 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20179]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20180 مسند احمد
عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، سُفْيَانُ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ حِينَ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ:" أَمَّا بَعْدُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے " امابعد " کہا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20180]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ثعلبة بن عباد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ثعلبة بن عباد
حدیث نمبر: 20181 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُوشِكُونَ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَيْدِيَكُمْ مِنَ العَجَمِ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: مِنَ الْأَعَاجِمِ ثُمَّ يَكُونُون أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ، يَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ، وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب اللہ تمہارے ہاتھوں کو عجم سے بھردے گا پھر وہ ایسے شیر بن جائینگے جو میدان سے نہیں بھاگیں گے وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کردیں گے اور تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20181]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20182 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، هِشَامٍ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20182]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20183 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِالْجِوَارِ" أَوْ" بِالدَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20183]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن
حدیث نمبر: 20184 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، بَقِيَّةُ ، إِسْحَاقَ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، مَكْحُولٍ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَّخِذَ الْمَسَاجِدَ فِي دِيَارِنَا، وَأَمَرَنَا أَنْ نُنَظِّفَهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اپنے علاقوں میں مسجدیں بنائیں اور انہیں صاف ستھرا رکھیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20184]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف بقية ، وتدليسه ، وإسحاق بن ثعلبة مجهول منكر الحديث، ومكحول لم يسمع من سمرة
الحكم: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف بقية ، وتدليسه ، وإسحاق بن ثعلبة مجهول منكر الحديث، ومكحول لم يسمع من سمرة
حدیث نمبر: 20185 مسند احمد
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، الْمَسْعُودِيُّ ، الْحَكَمِ ، وَحَبِيبٍ ، مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ , وَحَبِيبٍ , عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ عمدہ اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20185]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية ميمون عن الصحابة منقطعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية ميمون عن الصحابة منقطعة
حدیث نمبر: 20186 مسند احمد
الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وِقَاءَ بْنِ إِيَاسٍ ، عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، سَمُرَةَ بن جُندُب
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَرْوٍ , وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ وِقَاءَ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ , قال علُّي بن إسحاق في حديثه: أخبرنا وقاءُ بن إياس، قال: حدثني علُّي بن رَبيعةَ , عَنْ سَمُرَةَ بن جُندُب ، قَالَ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ فَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور اس میں دباء اور مزفت سے منع فرمایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20186]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل وقاء بن إياس
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل وقاء بن إياس
حدیث نمبر: 20187 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20187]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل وقاء بن إياس
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل وقاء بن إياس
حدیث نمبر: 20188 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ الْعَطَّارُ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ، تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَيُمَاطُ عَنْهُ الْأَذَى، وَيُسَمَّى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر لڑکا اپنے عقیقے کے عوض گروی لکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھاجائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20188]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 5472
الحكم: إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 5472
حدیث نمبر: 20189 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَيَأْخُذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَا رَضِيَ مِنَ الْبَيْعِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے اور ان میں سے ہر ایک وہ لے سکتا ہے جس پر وہ بیع میں راضی ہو۔ ثعلبہ بن عباد عبدی کہتے ہیں ایک دن میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کے خطبے میں حاضر ہوا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے اپنے خطبے میں یہ حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن میں اور ایک انصاری لڑکا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں نشانہ بازی کررہے تھے جب دیکھنے والوں کی نظر میں سورج دو یا تین نیزوں کے برابر بلند ہوگیا تو وہ اس طرح تاریک ہوگیا جیسے تنومہ گھاس سیاہ ہوتی ہے پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20189]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20190 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَامَ يَوْمًا خَطِيبًا فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي فِي غَرَضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَتْ الشَّمْسُ، فَكَانَتْ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ قَيْدَ رُمْحَيْنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ" وَقَالَ: ثُمَّ قَبَضَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ قَالَ، أَوْ قَامَ أَنَا أَشُكُّ مَرَّةً أُخْرَى , وَقَدْ حَفِظْتُ مَا قَالَ فَمَا قَدَّمَ كَلِمَةً عَنْ مَنْزِلَتِهَا وَلَا أَخَّرَ شَيْئًا , وَقَدْ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ: بَيْنَمَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ , وَقَالَ أَيْضًا: فَاسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ , وَقَدْ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ:" زُوُولٌ" وَلَكِنَّهَا" زُوُولٌ" أَصَوْبُ ..
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ثعلبة بن عباد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ثعلبة بن عباد
حدیث نمبر: 20191 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ هِشَامٌ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، ثَعْلَبَةَ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عبدُ الله، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٌ , وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ غِيَاثٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ثعلبة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ثعلبة
حدیث نمبر: 20192 مسند احمد
عَلِيٌّ ، مُعَاذٌ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ :" أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گوشہ نشینی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20192]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20193 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ، تُذْبَحُ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ، وَيُدَمَّى"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی لکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20193]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 5472
الحكم: إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 5472
حدیث نمبر: 20194 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَيُسَمَّى" قَالَ هَمَّامٌ فِي حَدِيثِهِ: وَرَاجَعْنَاهُ: وَيُدَمَّى؟ قَالَ هَمَّامٌ: فَكَانَ قَتَادَةُ يَصِفُ الدَّمَ , فَيَقُولُ: إِذَا ذَبَحَ الْعَقِيقَةَ تُؤْخَذُ صُوفَةٌ فَتُسْتَقْبَلُ أَوْدَاجُ الذَّبِيحَةِ، ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ، حَتَّى إِذَا سَالَ غُسِلَ رَأْسُهُ، ثُمَّ حُلِقَ بَعْدُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مراد ہے البتہ اس میں راوی حدیث قتادہ نے جانور ذبح کرنے کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے کہ اون یا روئی کا ٹکڑا لے کر ذبح شدہ جانور کی رگوں کے سامنے کھڑا ہو پھر اس بچے کے سر پر رکھ دیا جائے جب وہ خون بہنے لگے تو اس کا سر دھو کر پھر اس کے بال مونڈ دیئے جائیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20194]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 5472
الحكم: إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 5472
حدیث نمبر: 20195 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَيْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حق دار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20195]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20196 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيُّ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ، فَتَعَاقَبُوهَا إِلَى الظُّهْرِ مِنْ غُدْوَةٍ، يَقُومُ نَاسٌ وَيَقْعُدُ آخَرُونَ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ: هَلْ كَانَتْ تُمَدُّ؟ قَالَ: فَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ؟ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى السَّمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور لوگوں نے بھی اسے کھایا ظہر کے قریب تک اسے لوگ کھاتے رہے کہ ایک قوم آ کر کھاتی وہ کھڑی ہوجاتی تو اس کے بعد دوسری قوم آجاتی اور یہ سلسلہ چلتا رہا کسی آدمی نے پوچھا کہ اس پیالے میں برابر کھانا ڈالا جارہا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہیں تعجب کس بات پر ہورہا ہے آسمان سے اس میں برکت پیدا کردی گئی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20196]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20197 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا ہم اس کی ناک کاٹیں گے۔ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کردیں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20197]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن