بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 20196
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 20196
حدیث نمبر: 20196 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيُّ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ، فَتَعَاقَبُوهَا إِلَى الظُّهْرِ مِنْ غُدْوَةٍ، يَقُومُ نَاسٌ وَيَقْعُدُ آخَرُونَ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ: هَلْ كَانَتْ تُمَدُّ؟ قَالَ: فَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ؟ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى السَّمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور لوگوں نے بھی اسے کھایا ظہر کے قریب تک اسے لوگ کھاتے رہے کہ ایک قوم آ کر کھاتی وہ کھڑی ہوجاتی تو اس کے بعد دوسری قوم آجاتی اور یہ سلسلہ چلتا رہا کسی آدمی نے پوچھا کہ اس پیالے میں برابر کھانا ڈالا جارہا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہیں تعجب کس بات پر ہورہا ہے آسمان سے اس میں برکت پیدا کردی گئی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20196]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (20195) باب پر واپس اگلی حدیث (20197) →