زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَن عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَن حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: سَأَلَ أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَطَعَ عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي الضِّبَابِ؟ فَقَال:" َمُسِخَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْلَمُ فِي أَيِّ الدَّوَابِّ مُسِخَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور دوران خطبہ ہی سوال کرنے لگا یا رسول اللہ گوہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک امت کی شکلیں مسخ ہوگئیں تھیں اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ کس جانور کی شکلیں مسخ ہوئیں تھیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20240]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن