بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 20096
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 20096
حدیث نمبر: 20096 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا الْحَجَّامَ، فَأَتَاهُ بِقُرُونٍ، فَأَلْزَمَهُ إِيَّاهَا , قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: بِقَرْنٍ ثُمَّ شَرَطَهُ بِشَفْرَةٍ، فَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، أَحَدِ بَنِي جَذِيمَةَ، فَلَمَّا رَآهُ يَحْتَجِمُ، وَلَا عَهْدَ لَهُ بِالْحِجَامَةِ وَلَا يَعْرِفُهَا، قَالَ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ عَلَامَ تَدَعُ هَذَا يَقْطَعُ جِلْدَكَ؟ قَالَ:" هَذَا الْحَجْمُ" قَالَ: وَمَا الْحَجْمُ؟ قَالَ:" هو مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجام کو بلایا ہوا تھا، وہ اپنے ساتھ سینگ لے کر آگیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سینگ لگایا اور نشتر سے چیرا لگایا، اسی اثنا میں بنوفزارہ کا ایک دیہاتی بھی آگیا، جس کا تعلق بنوجذیمہ کے ساتھ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب اس نے سینگی لگواتے ہوئے دیکھا تو چونکہ اسے سینگی کے متعلق کچھ معلوم نہیں تھا، اس لئے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ نے اسے اپنی کھال کاٹنے کی اجازت کیوں دی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے " حجم " کہتے ہیں، اس نے پوچھا کہ " حجم " کیا چیز ہوتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا علاج کا سب سے بہترین طریقہ، جس سے لوگ علاج کرتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20096]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (20095) باب پر واپس اگلی حدیث (20097) →