وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَابْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَائِلَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: كُدُوحٌ يُكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ ذَا سُلْطَانٍ، أَوْ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ایک زخم اور دماغ ہے جس سے انسان اپنے چہرے کے داغ دار کرلیتا ہے اب جو چاہے اسے اپنے چہرے پر رہنے دے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے الاّ یہ کہ انسان کسی ایسے شخص سے سوال کرے جو با اختیار ہو یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20219]
الحكم: إسناده صحيح