بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الواقعة
سورۃ الواقعة — 96 آیات — صفحہ 2 از 2
قرآن کریم Surah 56
ثُمَّ اِنَّکُمۡ اَیُّہَا الضَّآلُّوۡنَ الۡمُکَذِّبُوۡنَ ﴿ۙ۵۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اے گمراہو اور جھٹلانے والو!
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تم اے گمراہو جھٹلانے والو!
احمد رضا خان بریلوی
پھر بیشک تم اے گمراہو جھٹلانے والو
علامہ محمد حسین نجفی
پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو۔
عبدالسلام بن محمد
پھر بے شک تم اے گمراہو! جھٹلانے والو!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭

اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] ‏‏‏‏ فرمایا ہے یعنی ’ اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔ «الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] ‏‏‏‏ تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔ جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟ سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ‏‏‏‏ ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 51تا56) {ثُمَّ اِنَّكُمْ اَيُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَ…:” الْهِيْمِ “”أَهْيَمُ“} (مذکر) اور {”هَيْمَاءُ“} (مؤنث) کی جمع ہے، بروزن {”فُعْلٌ“} ” ہاء“ پر اصل میں ضمہ تھا، ”یاء“ کی مناسبت سے ضمہ کو کسرہ سے بدل دیا، جیسے {”أَبْيَضُ“} اور {”بَيْضَاءُ“} کی جمع {”بِيْضٌ“} ہے۔ وہ اونٹ جنھیں ہیام (بروزن زکام) کا مرض لاحق ہو، یعنی ایسی پیاس جس سے اونٹ پانی پیتے جاتے ہیں مگر وہ بجھتی ہی نہیں، حتیٰ کہ وہ مر جاتے ہیں یا قریب الموت ہو جاتے ہیں۔ ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۶۲ تا ۶۸)۔
لَاٰکِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم شجر زقوم کی غذا کھانے والے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
البتہ کھانے والے ہو تھوہر کا درخت
احمد رضا خان بریلوی
ضرور تھوہر کے پیڑ میں سے کھاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم (تلخ ترین درخت) زقوم سے کھاؤ گے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا تھوہر کے پودے میں سے کھانے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭

اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] ‏‏‏‏ فرمایا ہے یعنی ’ اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔ «الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] ‏‏‏‏ تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔ جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟ سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ‏‏‏‏ ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَمَالِـُٔوۡنَ مِنۡہَا الۡبُطُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُسی سے تم پیٹ بھرو گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسی سے پیٹ بھرنے والے ہو
احمد رضا خان بریلوی
پھر اس سے پیٹ بھرو گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی سے (اپنے) پیٹ بھرو گے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس سے پیٹ بھرنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کو جواب ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟ یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏‏‏‏ اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے، سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] ‏‏‏‏ تک ارشاد فرمایا یعنی ’ ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے ‘۔ سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] ‏‏‏‏ سے آخر سورۃ تک، یعنی ’ کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَشٰرِبُوۡنَ عَلَیۡہِ مِنَ الۡحَمِیۡمِ ﴿ۚ۵۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اس پر گرم کھولتا پانی پینے والے ہو
احمد رضا خان بریلوی
پھر اس پر کھولتا پانی پیو گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی پیو گے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس پر کھولتے پانی سے پینے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کو جواب ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟ یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏‏‏‏ اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے، سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] ‏‏‏‏ تک ارشاد فرمایا یعنی ’ ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے ‘۔ سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] ‏‏‏‏ سے آخر سورۃ تک، یعنی ’ کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَشٰرِبُوۡنَ شُرۡبَ الۡہِیۡمِ ﴿ؕ۵۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر پینے والے بھی پیاسے اونٹوں کی طرح
احمد رضا خان بریلوی
پھر ایسا پیو گے جیسے سخت پیاسے اونٹ پئیں
علامہ محمد حسین نجفی
جس طرح سخت پیاسے اونٹ (بےتحاشا) پانی پیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھرپیاس کی بیماری والے اونٹوں کے پینے کی طرح پینے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کو جواب ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟ یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏‏‏‏ اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے، سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] ‏‏‏‏ تک ارشاد فرمایا یعنی ’ ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے ‘۔ سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] ‏‏‏‏ سے آخر سورۃ تک، یعنی ’ کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ہٰذَا نُزُلُہُمۡ یَوۡمَ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۵۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ ہے بائیں والوں کی ضیافت کا سامان روز جزا میں
مولانا محمد جوناگڑھی
قیامت کے دن ان کی مہمانی یہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ ان کی مہمانی ہے انصاف کے دن،
علامہ محمد حسین نجفی
جزا و سزا کے دن یہ ان کی مہمانی ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
یہ جزا کے دن ان کی مہمانی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کو جواب ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟ یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏‏‏‏ اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے، سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] ‏‏‏‏ تک ارشاد فرمایا یعنی ’ ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے ‘۔ سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] ‏‏‏‏ سے آخر سورۃ تک، یعنی ’ کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
نَحۡنُ خَلَقۡنٰکُمۡ فَلَوۡ لَا تُصَدِّقُوۡنَ ﴿۵۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر کیوں تصدیق نہیں کرتے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم کیوں باور نہیں کرتے؟
احمد رضا خان بریلوی
ہم نے تمہیں پیدا کیا تو تم کیوں نہیں سچ مانتے
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ہی تمہیں پیدا کیا ہے پھر تم (قیامت کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے؟
عبدالسلام بن محمد
ہم نے ہی تمھیں پیدا کیا تو تم (دوبارہ اٹھنے کو) کیوں سچ نہیں مانتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کو جواب ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟ یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏‏‏‏ اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے، سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] ‏‏‏‏ تک ارشاد فرمایا یعنی ’ ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے ‘۔ سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] ‏‏‏‏ سے آخر سورۃ تک، یعنی ’ کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ ‘
57-1یعنی تم جانتے ہو کہ تمہیں پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے، پھر تم اس کو مانتے کیوں نہیں ہو؟ یا دوبارہ زندہ کرنے پر یقین کیوں نہیں کرتے۔
(آیت 57) ➊ {نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ:} قیامت کے دن لوگوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہونے اور تینوں گروہوں کے ثواب و عقاب کے ذکر کے بعد یہاں سے آیت (۷۴) تک جو دلائل پیش کیے گئے ہیں ان میں آخرت اور توحید دونوں پر استدلال کیا گیا ہے، کیونکہ مشرکین ان دونوں کے منکر تھے۔ یہ دلائل محض خیالی یا فلسفی باتیں نہیں بلکہ وہ واقعی اور حقیقی چیزیں ہیں جنھیں آدمی اپنی ذات میں محسوس کرتا ہے اور آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ ان میں اس کی اپنی پیدائش کا ذکر ہے، کھیتی کا ذکر ہے جسے وہ خود کاشت کرتا ہے، پانی کا ذکر ہے جسے وہ پیتا ہے اور آگ کا ذکر ہے جس سے وہ بے شمار فوائد حاصل کرتا ہے۔ ➋ { فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ:} یعنی تم جانتے ہو کہ ہم ہی نے تمھیں پیدا کیا، کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں، پھر تم کیوں نہیں مانتے کہ عبادت بھی صرف ہمارا حق ہے اور اس بات کو سچ کیوں نہیں مانتے کہ جس طرح ہم نے تمھیں پہلے پیدا کیا اسی طرح دوبارہ بھی پیدا کریں گے؟
اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تُمۡنُوۡنَ ﴿ؕ۵۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کبھی تم نے غور کیا، یہ نطفہ جو تم ڈالتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اچھا پھر یہ تو بتلاؤ کہ جو منی تم ٹپکاتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو بھلا دیکھو تو وہ منی جو گراتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ جو نطفہ تم ٹپکاتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا تم نے دیکھا وہ (نطفہ) جو تم ٹپکاتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کو جواب ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟ یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏‏‏‏ اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے، سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] ‏‏‏‏ تک ارشاد فرمایا یعنی ’ ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے ‘۔ سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] ‏‏‏‏ سے آخر سورۃ تک، یعنی ’ کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 59،58) {اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَ …: ” تُمْنُوْنَ”أَمْنٰي يُمْنِيْ إِمْنَاءً “} (افعال) (گرانا، ٹپکانا) سے جمع مذکر حاضر مضارع معلوم ہے۔ {” اَفَرَءَيْتُمْ “} میں رؤیت سے مراد رؤیت علمی ہے، کیونکہ یہ آنکھوں سے نظر آنے والی چیز نہیں۔ (دیکھیے سورۂ یٰس: ۷۷) منی کے قطرے سے انسان کی پیدائش کا قیامت کی دلیل ہونا ایسی بات ہے جس پر غور کرنا ہر شخص پر واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ (4) خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ» [الطارق: ۵،۴ ] ”پس انسان کو لازم ہے کہ دیکھے وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔وہ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ “ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ طارق (۵ تا ۸) کی تفسیر۔ مفسر عبدالرحمن کیلانی لکھتے ہیں: ”پہلی قابلِ غور بات یہ ہے کہ انسان کا نطفہ بذات خود کیا چیز ہے؟ وہ کن چیزوں سے بنتا ہے؟ پھر جن چیزوں سے بنتا ہے وہ زندہ تھیں یا مردہ؟ اور اس نطفہ کے بننے یا بنانے میں تمھارا بھی کچھ عمل دخل یا اختیار تھا؟ پھر اس نطفہ کو رحمِ مادر میں ٹپکانے کی حد تک تو اختیار انسان کو ہے، اس کے بعد اس کا اختیار کلی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ نطفہ کا ایک قطرہ لاکھوں جراثیم، کیڑوں پر مشتمل ہوتا ہے جو صرف طاقتور خورد بین سے نظر آ سکتے ہیں۔ اسی طرح رحمِ مادر میں نسوانی بیضہ کا وجود بھی خورد بین کے بغیر نظر نہیں آ سکتا۔ نطفہ کا ایک جرثومہ جب نسوانی بیضہ میں داخل ہوتا ہے، پھر ان دونوں کے ملنے سے ایک چھوٹا سا زندہ خلیہ (Cell) بن جاتا ہے، یہی انسانی زندگی کا نقطۂ آغازہے اور اسی کا نام استقرارِ حمل ہے، نطفہ ٹپکانے کی حد تک مرد کو اختیار ہے، مگر یہ طاقت نہ مرد میں ہے نہ عورت میں اور نہ دنیا کی کسی اور ہستی میں کہ وہ نطفہ سے حمل کا استقرار کرا دے، پھر اس نقطۂ آغاز سے ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں بچے کی درجہ بدرجہ پرورش، ہر بچے کی الگ الگ صورت گری، ہر بچے کے اندر مختلف ذہنی و جسمانی قوتوں کو ایک خاص تناسب کے ساتھ رکھنا جس سے وہ ایک امتیازی انسان بن کر اٹھے، کیا یہ ایک خالق کے سوا کسی اور کا کام ہو سکتا ہے؟ یا اس میں ذرہ برابر بھی کسی (ڈاکٹر، ولی یا پیر فقیر یا کسی) دوسرے کا کوئی دخل ہے؟ پھر یہ فیصلہ کرنا بھی اللہ کے اختیار میں ہے کہ بچہ لڑکا ہو یا لڑکی، خوش شکل ہو یا بدشکل، اس کے نقوش تیکھے ہوں یا بھرے؟ طاقتور اور قد کاٹھ والا ہو یا کمزور، نحیف اور تھوڑے وزن والا، تندرست ہو یا اندھا بہرا لنگڑا، ذہین ہو یا کند ذہن۔ یہ سب ایسی باتیں ہیں جو خالصتاً اللہ تعالیٰ خالق کائنات کے اختیار میں ہیں، کیا ان سب باتوں کو سمجھ لینے کے بعد بھی انسان یہ تصدیق نہیں کر سکتا کہ اسے پیدا کرنے والا اکیلا رب العالمین ہے اور یہ کہ وہ جو مردہ نطفے سے ہر روز لاکھوں کروڑوں کی تعدادمیں انسان اور دوسرے جاندار پیدا کر رہا ہے وہ مرنے کے بعد انسانوں کے بے جان ذرّات کو دوبارہ بھی زندگی بخش سکتا ہے؟“ (تیسیر القرآن) اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر پہلی دفعہ پیدا کرنے کو دوبارہ پیدا کرنے کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ دیکھیے سورۂ روم (۲۷)، انبیاء (۱۰۴)، حج (۵)، یٰس (۷۷ تا ۷۹)، بنی اسرائیل (۵۱)، مریم (۶۷) اور سورۂ قیامہ (۳۶تا ۴۰)۔
ءَاَنۡتُمۡ تَخۡلُقُوۡنَہٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الۡخٰلِقُوۡنَ ﴿۵۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس سے بچہ تم بناتے ہو یا اس کے بنانے والے ہم ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا اس کا (انسان) تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہی ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم اس کا آدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم اسے(آدمی بنا کر) پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرنے و الے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تم اسے پیدا کرتے ہو، یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کو جواب ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟ یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏‏‏‏ اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے، سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] ‏‏‏‏ تک ارشاد فرمایا یعنی ’ ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے ‘۔ سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] ‏‏‏‏ سے آخر سورۃ تک، یعنی ’ کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ ‘
59-1یعنی تمہارے بیویوں سے مباشرت کرنے کے نتیجے میں تمہارے جو قطرات منی عورتوں کے رحموں میں جاتے ہیں، ان سے انسانی شکل و صورت بنانے والے ہم ہیں یا تم؟
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
نَحۡنُ قَدَّرۡنَا بَیۡنَکُمُ الۡمَوۡتَ وَ مَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِیۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے، اور ہم اِس سے عاجز نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم ہی نے تم میں موت کو متعین کر دیا ہے اور ہم اس سے ہارے ہوئے نہیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہم نے تم میں مرنا ٹھہرایا اور ہم اس سے ہارے نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ہی تمہارے درمیان موت (کا نظام) مقرر کیا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ہم نے ہی تمھارے درمیان موت کا وقت مقرر کیا ہے اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کو جواب ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟ یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏‏‏‏ اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے، سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] ‏‏‏‏ تک ارشاد فرمایا یعنی ’ ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے ‘۔ سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] ‏‏‏‏ سے آخر سورۃ تک، یعنی ’ کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ ‘
60-1یعنی ہر شخص کی موت کا وقت مقرر کردیا ہے، جس سے کوئی تجاوز نہیں کرسکتا، چناچہ کوئی بچپن میں، کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا ہے 60-2یا مغلوب اور عاجز نہیں ہیں، بلکہ قادر ہیں۔
(آیت 60) ➊ {نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ:} یعنی تمھاری پیدائش کی طرح تمھاری موت بھی ہمارے ہی اختیار میں ہے اور ہم ہی نے یہ طے کر دیا ہے کہ کس کی موت کس وقت ہو گی، ماں کے پیٹ میں مر جائے گا یا پیدا ہوتے ہی یا جوان ہو کر یا ادھیڑ عمر میں یا ارذل العمر کو پہنچ کر۔ اس سے پہلے نہ کوئی اسے مار سکتا ہے اور نہ اس کے بعد کوئی اسے زندہ رکھ سکتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ مومن (۶۷)، فاطر (۱۱)، منافقون (۱۱)، اعراف (۳۴)، نوح (۴) اورسورۂ آل عمران (۴۵)۔ ➋ { ” بَيْنَكُمْ“} کے لفظ میں ایک اور معنی بھی ہے کہ موت ایسی چیز ہے جو تمھارے درمیان رکھ دی گئی ہے، سب میں تقسیم ہو گی مگر ایک وقت میں نہیں، بلکہ باری باری ہر ایک پر آئے گی، جیسے کوئی مال لوگوں میں تقسیم ہونا ہو اور انھیں اس کے لیے بلایا جائے تو وہ سب اس کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب ان کے نام کی آواز آئے اور انھیں ان کا حصہ ملے، مگر کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ اس کی باری کب آئے گی۔ ➌ { وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِيْنَ:سَابِقٌ “} جو آگے نکل جائے، غالب آ جائے۔ {”مَسْبُوْقٌ“} جو پیچھے رہ جائے، مغلوب ہو جائے، عاجز رہ جائے۔ باء نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور ہم ہر گز عاجز نہیں۔“
عَلٰۤی اَنۡ نُّبَدِّلَ اَمۡثَالَکُمۡ وَ نُنۡشِئَکُمۡ فِیۡ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ تمہاری شکلیں بدل دیں اور کسی ایسی شکل میں تمہیں پیدا کر دیں جس کو تم نہیں جانتے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ تمہاری جگہ تم جیسے اور پیدا کر دیں اور تمہیں نئے سرے سے اس عالم میں پیدا کریں جس سے تم (بالکل) بےخبر ہو
احمد رضا خان بریلوی
کہ تم جیسے اور بدل دیں اور تمہاری صورتیں وہ کردیں جس کی تمہیں حبر نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کہ ہم تمہاری جگہ تم جیسے اور لوگ پیدا کر دیں اور تم کو ایسی صورت میں (یا ایسے عالَم میں) پیدا کر دیں جس کو تم نہیں جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
اس بات سے کہ تمھاری جگہ تمھارے جیسے اور لوگ لے آئیں اور نئے سرے سے تمھیں ایسی صورت میں پیدا کر دیں جو تم نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کو جواب ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟ یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏‏‏‏ اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے، سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] ‏‏‏‏ تک ارشاد فرمایا یعنی ’ ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے ‘۔ سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] ‏‏‏‏ سے آخر سورۃ تک، یعنی ’ کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ ‘
61-1یعنی تمہاری صورتیں مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنادیں اور تمہاری جگہ تمہاری شکل و صورت کی کوئی اور مخلوق پیدا کردیں۔
(آیت 61){ عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ …:} یعنی ہم ہر گز اس سے عاجز نہیں کہ تمھاری جگہ تمھارے جیسے اور لوگ لے آئیں اور تمھاری شکلیں ایسی بنا دیں جنھیں تم نہیں جانتے، مثلاً تمھاری صورتیں مسخ کرکے بندر یا خنزیر بنا دیں۔ اس میں شدید ڈانٹ ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ نساء (۱۳۳)، انعام (۱۳۳) اور ابراہیم (۱۹، ۲۰)۔
وَ لَقَدۡ عَلِمۡتُمُ النَّشۡاَۃَ الۡاُوۡلٰی فَلَوۡ لَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۶۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہو، پھر کیوں سبق نہیں لیتے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہیں یقینی طور پر پہلی دفعہ کی پیدائش معلوم ہی ہے پھر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک تم جان چکے ہو پہلی اٹھان پھر کیوں نہیں سوچتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم (اپنی) پہلی پیدائش کو تو جانتے ہی ہو پھر نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے؟
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا تم پہلی دفعہ پیدا ہونے کو جان چکے ہو تو تم کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کو جواب ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟ یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏‏‏‏ اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے، سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] ‏‏‏‏ تک ارشاد فرمایا یعنی ’ ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے ‘۔ سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] ‏‏‏‏ سے آخر سورۃ تک، یعنی ’ کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ ‘
62-1یعنی کیوں نہیں سمجھتے کہ جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا (جس کا تمہیں علم ہے) وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔
(آیت 62) {وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى …:} یعنی جب تم جانتے ہو اور اس کا اقرار بھی کرتے ہو کہ تمھیں پہلی بار ہمیں نے پیدا کیا، جب تم کچھ تھے ہی نہیں، تو پھر یہ کیوں نہیں مانتے کہ جب تم مر جاؤ گے تو ہم تمھیں دوبارہ بھی زندہ کریں گے؟ دوبارہ پیدا کرنا تو پہلی بار سے آسان ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ روم (۲۷) اور سورۂ مریم (۶۷)۔
اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَحۡرُثُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کبھی تم نے سوچا، یہ بیج جو تم بوتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اچھا پھر یہ بھی بتلاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو بھلا بتاؤ تو جو بوتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ تم جو کچھ (بیج) بوتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا تم نے دیکھا جو کچھ تم بوتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏‏‏‏ امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔ «مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔ عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏‏‏‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏‏‏‏ «مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 64،63) {اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور قیامت کی زبردست دلیل بیان ہوئی ہے، یعنی یہ بتاؤ کہ وہ کھیت جس کا بیج تم زمین میں دفن کر کے آ جاتے ہو، کیا اسے زمین سے تم نکالتے اور بڑھاتے ہو، حتیٰ کہ وہ کھانے کے قابل ہو جاتا ہے، جس پر تمھاری زندگی کا دار و مدار ہے، یا اسے اگانے والے ہم ہیں؟ اس کا جواب اس کے سوا ہو ہی نہیں سکتا کہ اے ہمارے رب! یہ تیرا ہی کام ہے، یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ تو ہر عقل مند کہے گا کہ جس نے اس بیج سے جو زمین کی تہ میں گل سڑ چکا تھا، اناج سے بھرے ہوئے یہ خوشے اگا دیے، وہ تمھیں بھی مرنے کے بعد زندہ کرنے پر قادر ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جا بجا دہرائی ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۵۷)، روم (۵۰) اور حم السجدہ (۳۹)۔
ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَہٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ ﴿۶۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا اُن کے اگانے والے ہم ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اسے تم ہی اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم اس کی کھیتی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تم اسے اگاتے ہو، یا ہم ہی اگانے والے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏‏‏‏ امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔ «مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔ عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏‏‏‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏‏‏‏ «مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنٰہُ حُطَامًا فَظَلۡتُمۡ تَفَکَّہُوۡنَ ﴿۶۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم چاہیں تو ان کھیتیوں کو بھس بنا کر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر ہم چاہیں تواسے ریزه ریزه کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے ہی ره جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
ہم چاہیں تو اسے روندن (پامال) کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ
علامہ محمد حسین نجفی
اگر ہم چاہیں تو اس (پیداوار) کو (خشک کر کے) چُورا چُورا کر دیں تو تم باتیں بناتے رہ جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اگر ہم چاہیں تو ضرور اسے ریزہ ریزہ کر دیں، پھر تم تعجب سے باتیں بناتے رہ جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏‏‏‏ امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔ «مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔ عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏‏‏‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏‏‏‏ «مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 65تا67) ➊ {لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا …: ” حُطَامًا”حَطَمَ يَحْطِمُ حَطْمًا“} (ض) (توڑنا) سے مشتق ہے، بمعنی {”مَحْطُوْمٌ“}، جیسے {”فُتَاتًا“ ”فَتٌّ“} سے اور {”جُذَاذًا“ ”جَذٌّ“} سے مشتق ہے۔ سب کا معنی ”ریزہ ریزہ کیا ہوا“ ہے۔ {” فَظَلْتُمْ “} اصل میں باب {”سَمِعَ“} سے {”فَظَلِلْتُمْ“} ہے، پہلا لام تخفیف کے لیے حذف کر دیا ہے۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۹۷) {” تَفَكَّهُوْنَ “} اصل میں {” تَتَفَكَّهُوْنَ“} ہے، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کر دی گئی ہے۔ {”تَفَكُّهٌ “} کا اصل معنی ”ایک پھل سے دوسرے پھل کی طرف منتقل ہونا“ ہے، پھر ایک بات سے دوسری کی طرف منتقل ہونے میں بھی استعمال ہونے لگا۔ یہاں کھیتی برباد ہونے کے بعد طرح طرح کی باتیں کرنا مراد ہے۔ {” مُغْرَمُوْنَ “} غرم، تاوان اور چٹی کو کہتے ہیں، باب افعال سے اسم مفعول کی جمع ہے، تاوان ڈالے گئے لوگ۔ ➋ مفسر کیلانی لکھتے ہیں: ”کھیتی کو چورا چورا یا ریزہ ریزہ کر دینے کی بھی کئی صورتیں ہیں، مثلاً جس زمین میں بیج ڈالا گیا اس میں اللہ تعالیٰ شور پیدا کر دے، فصل کمزور اور زرد پیدا ہو اور پوری طرح بار آور نہ ہو، یا فصل اگنے کے بعد اسے کیڑا لگ جائے، یا کسی ارضی یا سماوی آفت، مثلاً کہر اور شدید بارش وغیرہ سے فصل کی نشوو نما رک جائے اور لہلہاتے کھیت زرد پڑ جائیں تو کیا تم میں سے کسی کو یہ اختیار ہے کہ فصل کو ان مصیبتوں سے بچا سکے؟ اور اگر تم خود اللہ کی مہربانی سے پیدا ہو گئے اور اللہ تعالیٰ ہی کی مہربانی سے تمھیں کھانے کو ملتا ہے تو پھر اس کے سامنے تمھاری اکڑ اور سرتابی کا کیا مطلب؟ اس صورت میں تم طرح طرح کی باتیں ہی بناتے رہ جاتے ہو کہ ہمارا تو بیج بھی ضائع ہوگیا، خرچے کی چٹی پڑی، محنت بھی ضائع ہوئی اور آئندہ کھانے کو بھی کچھ نہ ملا، ہم تو مارے گئے۔ یہ بات تمھیں پھر بھی نصیب نہیں ہوتی کہ اللہ کی طرف رجوع کرو اور اسے اللہ کی طرف سے تنبیہ سمجھو۔“ (تیسیرالقرآن)
اِنَّا لَمُغۡرَمُوۡنَ ﴿ۙ۶۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑ گئی
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ ہم پر تو تاوان ہی پڑ گیا
احمد رضا خان بریلوی
کہ ہم پر چٹی پڑی
علامہ محمد حسین نجفی
کہ ہم پر تاوان پڑگیا۔
عبدالسلام بن محمد
کہ بے شک ہم تو تاوان ڈال دیے گئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏‏‏‏ امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔ «مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔ عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏‏‏‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏‏‏‏ «مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔
66-1یعنی ہم نے پہلے زمین پر ہل چلا کر اسے ٹھیک کیا پھر بیج ڈالا، پھر اسے پانی دیتے رہے۔ لیکن جب فصل کے پکنے کا وقت آیا تو وہ خشک ہوگئی، اور ہمیں کچھ بھی نہ ملا یعنی یہ سارا خرچ اور محنت کا معاوضہ نہ ملے، بلکہ یوں ہی ضائع ہوجائے یا زبردستی اس سے کچھ وصول کرلیا جائے اور اسکے بدلے میں اسے کچھ نہ دیا جائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ ﴿۶۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ ہم بالکل محروم ہی ره گئے
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ ہم بے نصیب رہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ ہم بالکل محروم ہو گئے۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ ہم بے نصیب ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏‏‏‏ امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔ «مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔ عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏‏‏‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏‏‏‏ «مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَفَرَءَیۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِیۡ تَشۡرَبُوۡنَ ﴿ؕ۶۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا، یہ پانی جو تم پیتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اچھا یہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو پیتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا تم نے دیکھا وہ پانی جو تم پیتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏‏‏‏ امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔ «مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔ عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏‏‏‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏‏‏‏ «مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 68تا70) ➊ { اَفَرَءَيْتُمُ الْمَآءَ الَّذِيْ تَشْرَبُوْنَ …: ” الْمُزْنِ “} اسم جمع ہے، بادل۔ مفرد اس کا {”مُزْنَةٌ“} ہے۔ تیسیر القرآن میں ہے:”یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک اور کرشمہ ہے، سطح سمندر سے سورج کی حرارت کی وجہ سے آبی بخارات اٹھتے ہیں۔ یہی بخارات بعد میں بادلوں کی شکل اختیار کر کے بارش کی صورت میں برستے ہیں۔ سمندر کا پانی جس سے بخارات اٹھتے ہیں، سخت نمکین اور چھاتی جلانے والا ہوتا ہے، مگر جو بارش برستی ہے اس میں نمکینی نام کو نہیں ہوتی۔ حالانکہ جن جڑی بوٹیوں یا دواؤں کا ہم اس طرح عرق کشید کرتے ہیں ان میں ذائقہ بھی منتقل ہوتا ہے اور ُبو بھی۔ مثلاً سونف یا اجوائن یا گاؤ زبان یا گلاب کے عرق میں ان اشیاء کا ذائقہ بھی منتقل ہو جاتا ہے اور ُبو بھی، لیکن سمندر کے پانی کی نمکینی آبی بخارات کے ساتھ منتقل نہیں ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے، ورنہ اس زمین کا کوئی جاندار ایسا پانی پی کر زندہ ہی نہ رہ سکتا اور نہ ہی ایسے پانی سے پیداوار اُگ سکتی ہے جو پانی کے بعد جانداروں کی زندگی کا دوسرا بڑا سہارا ہے۔“ (بتصرف) ➋ قیامت کی دلیل کے طور پر انسان کی پہلی پیدائش کا ذکر فرمایا اور زمین سے مردہ بیج سے کھیتی اگانے کا ذکر فرمایا۔ کھیتی اگانے میں پانی خصوصاً بارش کا دخل ظاہر ہے، اس لیے اس کا ذکر فرمایا۔ قیامت کے دن انسانی جسم بھی بارش سے اگیں گے۔ حدیث کے لیے دیکھیے سورۂ نمل (۸۷) کی تفسیر۔ اللہ تعالیٰ نے بارش کو قیامت کے علاوہ اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بھی جا بجا پیش فرمایا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱، ۲۲)، نمل (۶۰)، عنکبوت (۶۳) اور سورۂ روم (۴۸ تا ۵۱)۔
ءَاَنۡتُمۡ اَنۡزَلۡتُمُوۡہُ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ ﴿۶۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اِس کے برسانے والے ہم ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نے اسے بادل سے اتارا یا ہم ہیں اتارنے والے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے یا ہم (اس کے) اتارنے والے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے، یا ہم ہی اتارنے والے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏‏‏‏ امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔ «مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔ عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏‏‏‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏‏‏‏ «مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنٰہُ اُجَاجًا فَلَوۡ لَا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں، پھر کیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر ہماری منشا ہو تو ہم اسے کڑوا زہر کردیں پھر تم ہماری شکرگزاری کیوں نہیں کرتے؟
احمد رضا خان بریلوی
ہم چاہیں تو اسے کھاری کردیں پھر کیوں نہیں شکر کرتے
علامہ محمد حسین نجفی
اگر ہم چاہتے تو اسے سخت بھاری بنا دیتے پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟
عبدالسلام بن محمد
اگر ہم چاہیں تو اسے سخت نمکین بنادیں، پھر تم شکر ادا کیوں نہیں کرتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏‏‏‏ امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔ «مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔ عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏‏‏‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏‏‏‏ «مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔
70-1یعنی اس احسان پر ہماری اطاعت کرکے ہمارا عملی شکر ادا کیوں نہیں کرتے؟
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَفَرَءَیۡتُمُ النَّارَ الَّتِیۡ تُوۡرُوۡنَ ﴿ؕ۷۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کبھی تم نے خیال کیا، یہ آگ جو تم سلگاتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اچھا ذرا یہ بھی بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو بھلا بتاؤں تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ آگ جو تم سلگاتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا تم نے دیکھی وہ آگ جو تم سلگاتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏‏‏‏ امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔ «مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔ عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏‏‏‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏‏‏‏ «مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 72،71){ اَفَرَءَيْتُمُ النَّارَ الَّتِيْ تُوْرُوْنَ …:”أَوْرٰي يُوْرِيْ“ (افعال) ”النَّارَ“} آگ سلگانا۔ یہ چوتھی دلیل ہے جو یہاں اللہ تعالیٰ کی توحید اور قیامت کے حق ہونے کے ثبوت کے لیے لائی گئی ہے۔ (دیکھیے یٰس: ۸۰) {” اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِـُٔوْنَ“} میں خبر پر الف لام سے حصر پیدا ہو رہا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں۔“
ءَاَنۡتُمۡ اَنۡشَاۡتُمۡ شَجَرَتَہَاۤ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡشِـُٔوۡنَ ﴿۷۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے، یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نے اس کا پیڑ پیدا کیا یا ہم ہیں پیدا کرنے والے،
علامہ محمد حسین نجفی
آیا تم نے اس کا درخت پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا، یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏‏‏‏ امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔ «مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔ عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏‏‏‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏‏‏‏ «مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔
72-1کہتے ہیں عرب میں دو درخت ہیں، مرخ اور عفار، ان دونوں سے ٹہنیاں لے کر، ان کو آپس میں رگڑا جائے تو اس سے آگ کے شرارے نکلتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
نَحۡنُ جَعَلۡنٰہَا تَذۡکِرَۃً وَّ مَتَاعًا لِّلۡمُقۡوِیۡنَ ﴿ۚ۷۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے اُس کو یاد دہانی کا ذریعہ اور حاجت مندوں کے لیے سامان زیست بنایا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے اسے سبب نصیحت اور مسافروں کے فائدے کی چیز بنایا ہے
احمد رضا خان بریلوی
ہم نے اسے جہنم کا یادگار بنایا اور جنگل میں مسافروں کا فائدہ
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ہی اسے یاددہانی کا ذریعہ اور مسافروں کیلئے فائدہ کی چیز بنایا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہم نے ہی اسے مسافروں کے لیے ایک نصیحت اور فائدے کی چیز بنایا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏‏‏‏ امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔ «مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔ عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏‏‏‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏‏‏‏ «مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔
73-1کہ اس کے اثرات اور فوائد حیرت انگیز ہیں اور دنیا کی بیشمار چیزوں کی تیاری کے لئے اسے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ جو ہماری قدرت عظیمہ کی نشانی ہے، پھر ہم نے جس طرح دنیا میں یہ آگ پیدا کی ہے، ہم آخرت میں بھی پیدا کرنے پر قادر ہیں جو اس سے69درجہ حرارت میں زیادہ ہوگی۔ -2 مقوین، مقوی کی جمع ہے، قواء یعنی خالی صحراء میں داخل ہونے والا، مراد مسافر ہے، یعنی مسافر صحراؤں اور جنگلوں میں ان درختوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس سے روشنی، گرمی اور ایندھین حاصل کرتے ہیں۔ بعض نے مقوی سے وہ فقراء مراد لیے ہیں جو بھوک کی وجہ سے خالی پیٹ ہوں۔ بعض نے اس کے معنی مستمعین (فائدہ اٹھانے والے) کیے ہیں۔ اس میں امیر غریب، مقیم اور مسافر سب آجاتے ہیں اور سب ہی آگ سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی لیے حدیث میں جن تین چیزوں کو عام رکھنے کا اور ان سے کسی کو نہ روکنے کا حکم دیا گیا ہے، ان میں پانی اور گھاس کے علاوہ آگ بھی ہے، امام ابن کثیر نے اس مفہوم کو زیادہ پسند کیا ہے۔
(آیت 73) {نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِيْنَ: ”قَوِيَ يَقْوٰي قِيًّا وَ قَوَايَةً“ (س) ”اَلدَّارُ“} گھر خالی ہو گیا۔ {”وَقَوًي“} سخت بھوکا ہونا۔ {”اَلْمَطَرُ“} بارش رک جانا۔ {”اَلْقَوَاءُ“} خالی زمین، بیابان، بھوک۔ {”بَاتَ الْقَوٰي“} اس نے بھوکے رات گزاری۔ {”اَلْمُقْوِيْنُ“} اس مادہ کے باب افعال {”أَقْوٰي يُقْوِيْ إِقْوَاءً“} سے اسم فاعل {”مُقْوٍي“} کی جمع ہے، اس کا معنی قواء (جنگل بیابان) کے مسافر یا اس میں ٹھہرنے یا رہنے والے خانہ بدوش بھی ہے اور بھوکے لوگ بھی۔ کوئی شک نہیں کہ آگ کی ضرورت ہر ایک کو پڑتی ہے، مگر ان لوگوں کو اس سے بہت زیادہ کام لینا پڑتا ہے جن کا آیت میں ذکر ہے۔ آیت کا یہ مطلب نہیں کہ آگ دوسرے لوگوں کے لیے نصیحت یا زندگی کا سامان نہیں، بلکہ ان دونوں کا خصوصاً ذکر اس لیے فرمایا کہ سفر اور بھوک میں یہ احساس زیادہ واضح ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر زیادہ ہوتی ہے۔
فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الۡعَظِیۡمِ ﴿٪ؓ۷۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو
احمد رضا خان بریلوی
تو اے محبوب تم پاکی بولو اپنے عظمت والے رب کے نام کی،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح کرو۔
عبدالسلام بن محمد
سو تو اپنے بہت عظمت والے رب کے نام کی تسبیح کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏‏‏‏ امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔ «مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔ عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏‏‏‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏‏‏‏ «مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 74) {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ:} تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعلیٰ کی پہلی آیت کی تفسیر۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ” انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ اپنے رکوع میں {”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ“} اور سجدے میں {”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰي“} پڑھتے تھے اور کسی بھی رحمت کی آیت کے پاس سے گزرتے تو اس پر ٹھہر جاتے اور اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے اور کسی بھی عذاب کی آیت کے پاس سے گزرتے تو اس پر ٹھہر جاتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے۔“ [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب ما یقول الرجل في رکوعہ و سجودہ: ۸۷۱، و قال الألباني صحیح ]
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِ ﴿ۙ۷۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں تاروں کے مواقع کی
مولانا محمد جوناگڑھی
پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی
احمد رضا خان بریلوی
تو مجھے قسم ہے ان جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
پس میں ستاروں کے (ڈو بنے کے) مقامات کی قَسم کھاتا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
پس نہیں! میں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم کھاتا ہوں!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کا مقام ٭٭

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لیے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر «لا» زائد ہے اور «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» [56-الواقعہ:77] ‏‏‏‏ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں «لا» کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں، کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول میں ہے «لا واللہ ما مست ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ید امراۃ قط» یعنی اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔ [صحیح مسلم:1866] ‏‏‏‏ اسی طرح یہاں بھی «لا» قسم کے شروع میں مطابق قاعدہ ہے نہ کہ زائد۔ تو کلام کا مقصود یہ ہے کہ تمہارے جو خیالات قرآن کریم کی نسبت ہیں یہ جادو ہے یا کہانت ہے غلط ہیں۔ بلکہ یہ پاک کتاب کلام اللہ ہے۔ بعض عرب کہتے ہیں کہ «لا» سے ان کے کلام کا انکار ہے پھر اصل امر کا اثبات الفاظ میں ہے «فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ» [56-الواقعة:75] ‏‏‏‏ سے مراد قرآن کا بتدریج اترنا ہے، لوح محفوظ سے تو لیلۃ القدر میں ایک ساتھ آسمان اوّل پر اترا آیا پھر حسب ضروت تھوڑا تھوڑا وقت بروقت اترتا رہا یہاں تک کہ کئی برسوں میں پورا اتر آیا۔ حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ستاروں کے طلوع اور ظاہر ہونے کی آسمان کی جگہیں ہیں۔ «مَوَاقِعِ» سے مراد منازل ہیں۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیامت کے دن ان کا منتشر ہو جانا ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ ستارے ہیں جن کی نسبت مشرکین عقیدہ رکھتے تھے کہ فلاں فلاں تارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسی۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی قسم ہے اس لیے کہ جس امر پر یہ قسم کھائی جا رہی ہے وہ بہت بڑا امر ہے یعنی یہ قرآن بڑی عظمت والی کتاب ہے معظم و محفوظ اور مضبوط کتاب میں ہے۔ جسے صرف پاک ہاتھ ہی لگتے ہیں یعنی فرشتوں کے ہاں یہ اور بات ہے کہ دنیا میں اسے سب کے ہاتھ لگتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «مَا يَمَسُّهُ» ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہاں پاک سے مراد انسان نہیں انسان تو گنہگار ہے۔ یہ کفار کا جواب ہے وہ کہتے تھے کہ اس قرآن کو لے کر شیطان اترتے ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ» * «وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ» * «إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:212-210] ‏‏‏‏ یعنی اسے نہ تو شیطان لے کر اترے ہیں، نہ ان کے یہ لائق، نہ ان کی یہ مجال بلکہ وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ ہیں ‘۔ یہی قول اس آیت کی تفسیر میں دل کو زیادہ لگتا ہے۔ اور اقوال بھی اس کے مطابق ہو سکتے ہیں۔ فراء نے کہا ہے اس کا ذائقہ اور اس کا لطف صرف باایمان لوگوں کو ہی میسر آتا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد جنابت اور حدث سے پاک ہونا ہے گو یہ خبر ہے لیکن مراد اس سے انشاء ہے۔ اور قرآن سے مراد یہاں پر مصحف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے۔ ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ساتھ لے کر حربی کافروں کے ملک میں جانے سے منع فرمایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسے دشمن کچھ نقصان پہنچائے }۔ [صحیح مسلم:4816] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمان سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک۔ [موطامالک 199/1] ‏‏‏‏ مراسیل ابوداؤد میں ہے زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے خود اس کتاب کو دیکھا ہے اور اس میں یہ جملہ پڑھا ہے گو اس روایت کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ہر ایک قابل غور ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر ارشاد ہے کہ یہ قرآن شعر و سخن جادو اور فن نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی جانب سے اترا ہے، یہ سراسر حق ہے بلکہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا اس کے خلاف جو ہے باطل اور یکسر مردود ہے۔ پھر تم ایسی پاک بات سے کیوں انکار کرتے ہو؟ کیوں اس سے ہٹنا اور یکسو ہو جانا چاہتے ہو؟ کیا اس کا شکر یہی ہے کہ تم اسے جھٹلاؤ؟ قبیلہ ازد کے کلام میں رزق شکر کے معنی میں آتا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر کیا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر ہے۔ یعنی تم کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہمیں پانی ملا اور فلاں ستارے سے فلاں چیز۔ [سنن ترمذي:3295،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر بارش کے موقعہ پر بعض لوگ کفریہ کلمات بک دیتے ہیں کہ بارش کا باعث فلاں ستارہ ہے۔ موطا میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں تھے رات کو بارش ہوئی، صبح کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جانتے بھی ہو آج شب تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم۔ آپ نے فرمایا سنو! یہ فرمایا کہ آج میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ کافر ہو گئے اور بہت سے ایماندار بن گئے۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل و کرم سے پانی برسا وہ میری ذات پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں سے کفر کرنے والا ہوا۔ اور جس نے کہا فلاں فلاں ستارے سے بارش برسی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور اس ستارے پر ایمان لایا۔ [صحیح بخاری:810] ‏‏‏‏ مسلم کی حدیث میں عموم ہے کہ آسمان سے جو برکت نازل ہوتی ہے وہ بعض کے ایمان کا اور بعض کے کفر کا باعث بن جاتی ہے۔ [صحیح مسلم72-126] ‏‏‏‏ ہاں یہ خیال رہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ ثریا ستارہ کتنا باقی ہے؟ پھر کہا تھا کہ اس علم والوں کا خیال ہے کہ یہ اپنے ساقط ہو جانے کے ہفتہ بھر بعد افق پر نمودار ہوتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ اس سوال جواب اور استسقاء کو سات روز گزرے تھے جو پانی برسا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:662/11] ‏‏‏‏ یہ واقعہ محمول ہے عادت اور تجربہ پر نہ یہ کہ اس ستارے میں ہے اور اس ستارے کو ہی اثر کا موجد جانتے ہوں۔ اس قسم کا عقیدہ تو کفر ہے ہاں تجربہ سے کوئی چیز معلوم کر لینا یا کوئی بات کہہ دینا دوسری چیز ہے، اس بارے کی بہت سی حدیثیں آیت «‏‏‏‏مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ‏‏‏‏ [ 35- فاطر: 2 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے سن لیا کہ فلاں ستارے کے اثر سے بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو جھوٹا ہے یہ تو اللہ کی برسائی ہوئی ہے، یہ رزق الٰہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33560:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرفوع حدیث میں ہے لوگوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے اگر سات سال قحط سالی رہے اور پھر اللہ اپنے فضل و کرم سے بارش برسائے تو بھی یہ جھٹ سے زبان سے نکالنے لگیں گے کہ فلاں تارے نے برسایا۔ [مسند احمد:7/3:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد فرماتے ہیں اپنی روزی تکذیب کو ہی نہ بنا لو یعنی یوں نہ کہو کہ فلاں فراخی کا سبب فلاں چیز ہے بلکہ یوں کہو کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس یہ بھی مطلب ہے اور یہ بھی کہ قرآن میں ان کا حصہ کچھ نہیں بلکہ ان کا حصہ یہی ہے کہ یہ اسے جھوٹا کہتے رہیں اور اسی مطلب کی تائید اس سے پہلے کی آیت سے بھی ہوتی ہے۔
75-1یعنی یہ قرآن کی کہانت یا شاعری نہیں ہے بلکہ میں ستاروں کے گرنے کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ قرآن عزت والا ہے۔
(آیت 76،75) {فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ …: ” فَلَاۤ اُقْسِمُ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ قیامہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔ {”مَوَاقِعُ“ ”مَوْقِعٌ“} کی جمع ہے جو {” وَقَعَ يَقَعُ“} سے ظرف ہے یا مصدر میمی، گرنے کی جگہیں۔ اس سے مراد ستاروں کے غروب ہونے کے مقامات ہیں، یا شہابِ ثاقب کی صورت میں شیاطین پر برسنے والے ستاروں کے گرنے کے مقامات۔
وَ اِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۷۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگرتمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قَسم ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یہ یقینا ایسی قسم ہے کہ اگر تم جانو تو بہت بڑی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کا مقام ٭٭

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لیے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر «لا» زائد ہے اور «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» [56-الواقعہ:77] ‏‏‏‏ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں «لا» کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں، کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول میں ہے «لا واللہ ما مست ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ید امراۃ قط» یعنی اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔ [صحیح مسلم:1866] ‏‏‏‏ اسی طرح یہاں بھی «لا» قسم کے شروع میں مطابق قاعدہ ہے نہ کہ زائد۔ تو کلام کا مقصود یہ ہے کہ تمہارے جو خیالات قرآن کریم کی نسبت ہیں یہ جادو ہے یا کہانت ہے غلط ہیں۔ بلکہ یہ پاک کتاب کلام اللہ ہے۔ بعض عرب کہتے ہیں کہ «لا» سے ان کے کلام کا انکار ہے پھر اصل امر کا اثبات الفاظ میں ہے «فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ» [56-الواقعة:75] ‏‏‏‏ سے مراد قرآن کا بتدریج اترنا ہے، لوح محفوظ سے تو لیلۃ القدر میں ایک ساتھ آسمان اوّل پر اترا آیا پھر حسب ضروت تھوڑا تھوڑا وقت بروقت اترتا رہا یہاں تک کہ کئی برسوں میں پورا اتر آیا۔ حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ستاروں کے طلوع اور ظاہر ہونے کی آسمان کی جگہیں ہیں۔ «مَوَاقِعِ» سے مراد منازل ہیں۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیامت کے دن ان کا منتشر ہو جانا ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ ستارے ہیں جن کی نسبت مشرکین عقیدہ رکھتے تھے کہ فلاں فلاں تارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسی۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی قسم ہے اس لیے کہ جس امر پر یہ قسم کھائی جا رہی ہے وہ بہت بڑا امر ہے یعنی یہ قرآن بڑی عظمت والی کتاب ہے معظم و محفوظ اور مضبوط کتاب میں ہے۔ جسے صرف پاک ہاتھ ہی لگتے ہیں یعنی فرشتوں کے ہاں یہ اور بات ہے کہ دنیا میں اسے سب کے ہاتھ لگتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «مَا يَمَسُّهُ» ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہاں پاک سے مراد انسان نہیں انسان تو گنہگار ہے۔ یہ کفار کا جواب ہے وہ کہتے تھے کہ اس قرآن کو لے کر شیطان اترتے ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ» * «وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ» * «إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:212-210] ‏‏‏‏ یعنی اسے نہ تو شیطان لے کر اترے ہیں، نہ ان کے یہ لائق، نہ ان کی یہ مجال بلکہ وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ ہیں ‘۔ یہی قول اس آیت کی تفسیر میں دل کو زیادہ لگتا ہے۔ اور اقوال بھی اس کے مطابق ہو سکتے ہیں۔ فراء نے کہا ہے اس کا ذائقہ اور اس کا لطف صرف باایمان لوگوں کو ہی میسر آتا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد جنابت اور حدث سے پاک ہونا ہے گو یہ خبر ہے لیکن مراد اس سے انشاء ہے۔ اور قرآن سے مراد یہاں پر مصحف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے۔ ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ساتھ لے کر حربی کافروں کے ملک میں جانے سے منع فرمایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسے دشمن کچھ نقصان پہنچائے }۔ [صحیح مسلم:4816] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمان سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک۔ [موطامالک 199/1] ‏‏‏‏ مراسیل ابوداؤد میں ہے زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے خود اس کتاب کو دیکھا ہے اور اس میں یہ جملہ پڑھا ہے گو اس روایت کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ہر ایک قابل غور ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر ارشاد ہے کہ یہ قرآن شعر و سخن جادو اور فن نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی جانب سے اترا ہے، یہ سراسر حق ہے بلکہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا اس کے خلاف جو ہے باطل اور یکسر مردود ہے۔ پھر تم ایسی پاک بات سے کیوں انکار کرتے ہو؟ کیوں اس سے ہٹنا اور یکسو ہو جانا چاہتے ہو؟ کیا اس کا شکر یہی ہے کہ تم اسے جھٹلاؤ؟ قبیلہ ازد کے کلام میں رزق شکر کے معنی میں آتا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر کیا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر ہے۔ یعنی تم کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہمیں پانی ملا اور فلاں ستارے سے فلاں چیز۔ [سنن ترمذي:3295،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر بارش کے موقعہ پر بعض لوگ کفریہ کلمات بک دیتے ہیں کہ بارش کا باعث فلاں ستارہ ہے۔ موطا میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں تھے رات کو بارش ہوئی، صبح کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جانتے بھی ہو آج شب تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم۔ آپ نے فرمایا سنو! یہ فرمایا کہ آج میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ کافر ہو گئے اور بہت سے ایماندار بن گئے۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل و کرم سے پانی برسا وہ میری ذات پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں سے کفر کرنے والا ہوا۔ اور جس نے کہا فلاں فلاں ستارے سے بارش برسی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور اس ستارے پر ایمان لایا۔ [صحیح بخاری:810] ‏‏‏‏ مسلم کی حدیث میں عموم ہے کہ آسمان سے جو برکت نازل ہوتی ہے وہ بعض کے ایمان کا اور بعض کے کفر کا باعث بن جاتی ہے۔ [صحیح مسلم72-126] ‏‏‏‏ ہاں یہ خیال رہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ ثریا ستارہ کتنا باقی ہے؟ پھر کہا تھا کہ اس علم والوں کا خیال ہے کہ یہ اپنے ساقط ہو جانے کے ہفتہ بھر بعد افق پر نمودار ہوتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ اس سوال جواب اور استسقاء کو سات روز گزرے تھے جو پانی برسا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:662/11] ‏‏‏‏ یہ واقعہ محمول ہے عادت اور تجربہ پر نہ یہ کہ اس ستارے میں ہے اور اس ستارے کو ہی اثر کا موجد جانتے ہوں۔ اس قسم کا عقیدہ تو کفر ہے ہاں تجربہ سے کوئی چیز معلوم کر لینا یا کوئی بات کہہ دینا دوسری چیز ہے، اس بارے کی بہت سی حدیثیں آیت «‏‏‏‏مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ‏‏‏‏ [ 35- فاطر: 2 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے سن لیا کہ فلاں ستارے کے اثر سے بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو جھوٹا ہے یہ تو اللہ کی برسائی ہوئی ہے، یہ رزق الٰہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33560:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرفوع حدیث میں ہے لوگوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے اگر سات سال قحط سالی رہے اور پھر اللہ اپنے فضل و کرم سے بارش برسائے تو بھی یہ جھٹ سے زبان سے نکالنے لگیں گے کہ فلاں تارے نے برسایا۔ [مسند احمد:7/3:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد فرماتے ہیں اپنی روزی تکذیب کو ہی نہ بنا لو یعنی یوں نہ کہو کہ فلاں فراخی کا سبب فلاں چیز ہے بلکہ یوں کہو کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس یہ بھی مطلب ہے اور یہ بھی کہ قرآن میں ان کا حصہ کچھ نہیں بلکہ ان کا حصہ یہی ہے کہ یہ اسے جھوٹا کہتے رہیں اور اسی مطلب کی تائید اس سے پہلے کی آیت سے بھی ہوتی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّہٗ لَقُرۡاٰنٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۷۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ بیشک یہ قرآن بہت بڑی عزت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک یہ عزت والا قرآن ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک یہ قرآن بڑی عزت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہ بلاشبہ یہ یقینا ایک باعزت پڑھی جانے والی چیز ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کا مقام ٭٭

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لیے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر «لا» زائد ہے اور «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» [56-الواقعہ:77] ‏‏‏‏ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں «لا» کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں، کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول میں ہے «لا واللہ ما مست ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ید امراۃ قط» یعنی اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔ [صحیح مسلم:1866] ‏‏‏‏ اسی طرح یہاں بھی «لا» قسم کے شروع میں مطابق قاعدہ ہے نہ کہ زائد۔ تو کلام کا مقصود یہ ہے کہ تمہارے جو خیالات قرآن کریم کی نسبت ہیں یہ جادو ہے یا کہانت ہے غلط ہیں۔ بلکہ یہ پاک کتاب کلام اللہ ہے۔ بعض عرب کہتے ہیں کہ «لا» سے ان کے کلام کا انکار ہے پھر اصل امر کا اثبات الفاظ میں ہے «فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ» [56-الواقعة:75] ‏‏‏‏ سے مراد قرآن کا بتدریج اترنا ہے، لوح محفوظ سے تو لیلۃ القدر میں ایک ساتھ آسمان اوّل پر اترا آیا پھر حسب ضروت تھوڑا تھوڑا وقت بروقت اترتا رہا یہاں تک کہ کئی برسوں میں پورا اتر آیا۔ حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ستاروں کے طلوع اور ظاہر ہونے کی آسمان کی جگہیں ہیں۔ «مَوَاقِعِ» سے مراد منازل ہیں۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیامت کے دن ان کا منتشر ہو جانا ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ ستارے ہیں جن کی نسبت مشرکین عقیدہ رکھتے تھے کہ فلاں فلاں تارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسی۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی قسم ہے اس لیے کہ جس امر پر یہ قسم کھائی جا رہی ہے وہ بہت بڑا امر ہے یعنی یہ قرآن بڑی عظمت والی کتاب ہے معظم و محفوظ اور مضبوط کتاب میں ہے۔ جسے صرف پاک ہاتھ ہی لگتے ہیں یعنی فرشتوں کے ہاں یہ اور بات ہے کہ دنیا میں اسے سب کے ہاتھ لگتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «مَا يَمَسُّهُ» ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہاں پاک سے مراد انسان نہیں انسان تو گنہگار ہے۔ یہ کفار کا جواب ہے وہ کہتے تھے کہ اس قرآن کو لے کر شیطان اترتے ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ» * «وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ» * «إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:212-210] ‏‏‏‏ یعنی اسے نہ تو شیطان لے کر اترے ہیں، نہ ان کے یہ لائق، نہ ان کی یہ مجال بلکہ وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ ہیں ‘۔ یہی قول اس آیت کی تفسیر میں دل کو زیادہ لگتا ہے۔ اور اقوال بھی اس کے مطابق ہو سکتے ہیں۔ فراء نے کہا ہے اس کا ذائقہ اور اس کا لطف صرف باایمان لوگوں کو ہی میسر آتا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد جنابت اور حدث سے پاک ہونا ہے گو یہ خبر ہے لیکن مراد اس سے انشاء ہے۔ اور قرآن سے مراد یہاں پر مصحف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے۔ ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ساتھ لے کر حربی کافروں کے ملک میں جانے سے منع فرمایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسے دشمن کچھ نقصان پہنچائے }۔ [صحیح مسلم:4816] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمان سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک۔ [موطامالک 199/1] ‏‏‏‏ مراسیل ابوداؤد میں ہے زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے خود اس کتاب کو دیکھا ہے اور اس میں یہ جملہ پڑھا ہے گو اس روایت کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ہر ایک قابل غور ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر ارشاد ہے کہ یہ قرآن شعر و سخن جادو اور فن نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی جانب سے اترا ہے، یہ سراسر حق ہے بلکہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا اس کے خلاف جو ہے باطل اور یکسر مردود ہے۔ پھر تم ایسی پاک بات سے کیوں انکار کرتے ہو؟ کیوں اس سے ہٹنا اور یکسو ہو جانا چاہتے ہو؟ کیا اس کا شکر یہی ہے کہ تم اسے جھٹلاؤ؟ قبیلہ ازد کے کلام میں رزق شکر کے معنی میں آتا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر کیا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر ہے۔ یعنی تم کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہمیں پانی ملا اور فلاں ستارے سے فلاں چیز۔ [سنن ترمذي:3295،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر بارش کے موقعہ پر بعض لوگ کفریہ کلمات بک دیتے ہیں کہ بارش کا باعث فلاں ستارہ ہے۔ موطا میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں تھے رات کو بارش ہوئی، صبح کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جانتے بھی ہو آج شب تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم۔ آپ نے فرمایا سنو! یہ فرمایا کہ آج میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ کافر ہو گئے اور بہت سے ایماندار بن گئے۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل و کرم سے پانی برسا وہ میری ذات پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں سے کفر کرنے والا ہوا۔ اور جس نے کہا فلاں فلاں ستارے سے بارش برسی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور اس ستارے پر ایمان لایا۔ [صحیح بخاری:810] ‏‏‏‏ مسلم کی حدیث میں عموم ہے کہ آسمان سے جو برکت نازل ہوتی ہے وہ بعض کے ایمان کا اور بعض کے کفر کا باعث بن جاتی ہے۔ [صحیح مسلم72-126] ‏‏‏‏ ہاں یہ خیال رہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ ثریا ستارہ کتنا باقی ہے؟ پھر کہا تھا کہ اس علم والوں کا خیال ہے کہ یہ اپنے ساقط ہو جانے کے ہفتہ بھر بعد افق پر نمودار ہوتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ اس سوال جواب اور استسقاء کو سات روز گزرے تھے جو پانی برسا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:662/11] ‏‏‏‏ یہ واقعہ محمول ہے عادت اور تجربہ پر نہ یہ کہ اس ستارے میں ہے اور اس ستارے کو ہی اثر کا موجد جانتے ہوں۔ اس قسم کا عقیدہ تو کفر ہے ہاں تجربہ سے کوئی چیز معلوم کر لینا یا کوئی بات کہہ دینا دوسری چیز ہے، اس بارے کی بہت سی حدیثیں آیت «‏‏‏‏مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ‏‏‏‏ [ 35- فاطر: 2 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے سن لیا کہ فلاں ستارے کے اثر سے بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو جھوٹا ہے یہ تو اللہ کی برسائی ہوئی ہے، یہ رزق الٰہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33560:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرفوع حدیث میں ہے لوگوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے اگر سات سال قحط سالی رہے اور پھر اللہ اپنے فضل و کرم سے بارش برسائے تو بھی یہ جھٹ سے زبان سے نکالنے لگیں گے کہ فلاں تارے نے برسایا۔ [مسند احمد:7/3:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد فرماتے ہیں اپنی روزی تکذیب کو ہی نہ بنا لو یعنی یوں نہ کہو کہ فلاں فراخی کا سبب فلاں چیز ہے بلکہ یوں کہو کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس یہ بھی مطلب ہے اور یہ بھی کہ قرآن میں ان کا حصہ کچھ نہیں بلکہ ان کا حصہ یہی ہے کہ یہ اسے جھوٹا کہتے رہیں اور اسی مطلب کی تائید اس سے پہلے کی آیت سے بھی ہوتی ہے۔
77-1یہ جواب قسم ہے۔
(آیت 77تا80) ➊ {اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ (77) فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ …: ” كَرِيْمٌ “} ہر چیز میں سے اپنی قسم میں سب سے اعلیٰ اور عمدہ چیز کو ”کریم “کہتے ہیں۔ {”اَلْقُرْآنُ“} مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی پڑھا جانے والا۔ یہ نام اس لیے ہے کہ یہ کتاب اتنی پڑھی گئی اور قیامت تک پڑھی جائے گی کہ پڑھے جانے میں کسی اور کتاب کو اس کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں۔ یعنی یہ کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں، تمام پڑھی جانے والی چیزوں میں سب سے اعلیٰ ہے اور ہر قسم کی کمی بیشی سے پوری طرح محفوظ ہے۔ کسی شیطان کی مجال نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے سے پہلے یا نازل ہونے کے دوران اس پر مطلع ہی ہو سکے، کیوں کہ یہ اس کتاب یعنی لوحِ محفوظ میں درج ہے جو چھپا کر رکھی ہوئی ہے، جن و انس میں سے کسی کی اس تک رسائی ہی نہیں۔ اسے پڑھنا تو درکنار، کوئی اسے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا، سوائے اللہ تعالیٰ کے ان فرشتوں کے جنھیں ہر قسم کی خیانت اور معصیت سے ہر طرح پاک پیدا کیا گیا ہے۔ ان پاک باز فرشتوں نے رب العالمین کی طرف سے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تصنیف ہے، نہ یہ کسی انسان یا دوسری مخلوق کا کلام ہے اور نہ شیاطین کا اس میں کوئی دخل ہو سکتا ہے، بلکہ یہ ہر طرح کی حفاظت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والا کلام ہے۔ {” كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ “} سے مراد لوح محفوظ ہونے کی دلیل یہ آیت ہے، فرمایا: «بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ (21) فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ» ‏‏‏‏ [ البروج: ۲۱،۲۲ ] ”بلکہ وہ ایک بڑی شان والا قرآن ہے۔ اس تختی میں (لکھا ہوا) ہے جس کی حفاظت کی گئی ہے۔“ مزید دیکھیے سورۂ عبس (۱۱ تا ۱۶) اور سورۂ شعراء (۱۹۲ تا ۱۹۴ اور ۲۱۰ تا ۲۱۲)۔ ➋ یہ چاروں آیات {” فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ “} کا جوابِ قسم ہیں۔ اس قسم اور جواب قسم کی مناسبت کے لیے سورۂ نجم کی ابتدائی آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ ➌ جیسا کہ آیت کی تفسیر بیان ہوئی، تو {” لَا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ“} میں حدث اصغر یا حدث اکبر کی صورت میں قرآن مجید کو ہاتھ لگانے یا نہ لگانے کا کوئی حکم بیان نہیں کیا گیا، بلکہ یہ بات بیان فرمائی گئی ہے کہ قرآن مجید جس کتاب مکنون میں ہے اسے فرشتوں کے سوا کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ اس لیے جو اہلِ علم اس آیت سے یہ مسئلہ نکالتے ہیں کہ جنبی یا حائضہ یا بے وضو شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ قرآن مجید کو ہاتھ لگائے، ان کی بات درست نہیں، کیونکہ انسان جتنی بھی طہارت کرلے اس کے لیے فرشتوں جیسا مطہر بننا مشکل ہے۔ (الا ما شاء اللہ) ➍ بہت سے اہلِ علم نے فرمایا کہ یہ مسئلہ قرآن مجید کی اس آیت سے نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ موطا امام مالک میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو جو خط لکھ کر دیا اس میں یہ بھی لکھا کہ {”لَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ“} ”قرآن کو طاہر کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔“ شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ”ارواء الغلیل“ کی حدیث (۱۲۲) میں اس حدیث کی تمام سندوں پر مفصل کلام کے بعد لکھا ہے: ”خلاصہ یہ ہے کہ حدیث کے جتنے طرق ہیں کوئی بھی ضعف سے خالی نہیں، لیکن یہ معمولی ضعف ہے، کیونکہ ان میں سے کسی میں بھی ایسا راوی نہیں جس پر جھوٹ کی تہمت ہو، علت صرف ارسال ہے یا سوئے حفظ اور اُصول حدیث میں طے ہے کہ کئی سندیں ہوں تو وہ ایک دوسری کو قوت دیتی ہیں، جب ان میں کوئی متہم شخص نہ ہو، جیسا کہ نووی نے اپنی تقریب میں، پھر سیوطی نے اس کی شرح میں قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق دل کو اس حدیث کی صحت پر اطمینان ہوتا ہے…۔“(ارواء الغلیل) مگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو اس سے یہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا، ہمارے استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں: ”مگر یہ اپنے مفہوم میں صریح نہیں ہے، کیونکہ اس کے معنی ”کفر و شرک“ سے پاک ہونے کے بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ مسلمان تو جنابت کی حالت میں بھی پاک ہی رہتا ہے۔ {”سُبْحَانَ اللّٰهِ! إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ۔“} (اشرف الحواشی)استاذ مرحوم نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ” مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی راستے میں ملے، جب کہ میں جنابت کی حالت میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا، میں آپ کے ساتھ چلتا رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو میں کھسک گیا، گھر آیا، غسل کیا، پھر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، فرمایا: [ أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ!؟ ] ”ابوہریرہ!تم کہاں تھے؟“ میں نے آپ کو بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ سُبْحَانَ اللّٰهِ! يَا أَبَا هِرٍّ! إِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ يَنْجُسُ ] [ بخاري، الغسل، باب الجنب یخرج…: ۲۸۵ ] ”سبحان اللہ! ابوہریرہ! مومن تو نجس نہیں ہوتا۔“ حائضہ کے لیے نماز اور روزہ کی اجازت نہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا ہاتھ نجس ہے جسے وہ قرآن کو نہیں لگا سکتی، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ نَاوِلِيْنِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ ] ”مجھے مسجد سے چٹائی پکڑاؤ۔“ میں نے کہا: ”میں تو حائضہ ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِيْ يَدِكِ ] [ مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجھا…: ۲۹۸ ] ”تمھارا حیض تمھارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا: ” ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے، آپ نے فرمایا: [ يَا عَائِشَةُ! نَاوِلِيْنِي الثَّوْبَ ] ”اے عائشہ! مجھے کپڑا پکڑاؤ۔“ انھوں نے کہا: ”میں حائضہ ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِيْ يَدِكِ ] ”تمھارا حیض تمھارے ہاتھ میں تو نہیں۔“ تو انھوں نے آپ کو وہ کپڑا پکڑا دیا۔“ [ مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجھا…: ۲۹۹ ] شیخ ناصر الدین البانی نے ” تمام المنۃ “ کے {” بَابُ مَا يَجِبُ بِهِ الْوُضُوْءَ “} میں فرمایا: ”تو زیادہ قریب بات (واللہ اعلم) یہ ہے کہ اس حدیث میں {” طَاهِرٌ “} سے مراد مومن ہی ہے، خواہ وہ حدث اکبر (جنابت) کی حالت میں ہو یا حدث اصغر (بے وضو ہونے) کی حالت میں، یا حائضہ ہو یا اس کے جسم پر کوئی نجاست لگی ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ يَنْجُسُ ] ”مومن نجس نہیں ہوتا۔“ اس حدیث کی صحت پر اتفاق ہے اور {”لَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ “} کا مطلب یہ ہے کہ مشرک کو اسے ہاتھ لگانے کی اجازت نہ دی جائے۔ چنانچہ یہ اس حدیث ہی کی طرح ہے جس میں ہے: [ نَهٰی أَنْ يُّسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلٰی أَرْضِ الْعَدُوِّ ] ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی سرزمین کی طرف قرآن لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا۔“ یہ حدیث بھی متفق علیہ ہے۔ اور شوکانی نے ”نیل الاوطار“ ({بَابُ إِيْجَابِ الْوُضُوْءِ لِلصَّلَاةِ وَ الطَّوَافِ وَ مَسِّ الْمُصْحَفِ}) میں اس مسئلے پر تفصیل سے کلام کیا ہے، اگر زیادہ تحقیق چاہو تو اس کی طرف مراجعت کرو۔“ اور ” تمام المنۃ “ کے {”بَابُ مَا يَحْرُمُ عَلَي الْجُنُبِ“} میں لکھتے ہیں: {”وَالْبَرَاءَةُ الْأَصْلِيَّةُ مَعَ الَّذِيْنَ قَالُوْا بِجَوَازِ مَسِّ الْقُرْآنِ مِنَ الْمُسْلِمِ الْجُنُبِ وَلَيْسَ فِي الْبَابِ نَقْلٌ صَحِيْحٌ يُجِيْزُ الْخُرُوْجَ عَنْهَا“} یعنی ”یہ قاعدہ کہ جس کام کی ممانعت نہ ہو اس میں اصل یہی ہے کہ وہ جائز ہے، ان لوگوں کی تائید میں ہے جو کہتے ہیں کہ مسلمان جنبی بھی ہو تو قرآن کو ہاتھ لگا سکتا ہے اور اس مسئلے میں کوئی صحیح حدیث نہیں جس کی وجہ سے اسے اس سے خارج کیا جا سکے۔“
فِیۡ کِتٰبٍ مَّکۡنُوۡنٍ ﴿ۙ۷۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایک محفوظ کتاب میں ثبت
مولانا محمد جوناگڑھی
جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے
احمد رضا خان بریلوی
محفوظ نوشتہ میں
علامہ محمد حسین نجفی
نگاہوں سے پوشیدہ ایک کتاب کے اندر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ایک ایسی کتاب میں جو چھپا کر رکھی ہوئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کا مقام ٭٭

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لیے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر «لا» زائد ہے اور «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» [56-الواقعہ:77] ‏‏‏‏ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں «لا» کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں، کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول میں ہے «لا واللہ ما مست ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ید امراۃ قط» یعنی اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔ [صحیح مسلم:1866] ‏‏‏‏ اسی طرح یہاں بھی «لا» قسم کے شروع میں مطابق قاعدہ ہے نہ کہ زائد۔ تو کلام کا مقصود یہ ہے کہ تمہارے جو خیالات قرآن کریم کی نسبت ہیں یہ جادو ہے یا کہانت ہے غلط ہیں۔ بلکہ یہ پاک کتاب کلام اللہ ہے۔ بعض عرب کہتے ہیں کہ «لا» سے ان کے کلام کا انکار ہے پھر اصل امر کا اثبات الفاظ میں ہے «فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ» [56-الواقعة:75] ‏‏‏‏ سے مراد قرآن کا بتدریج اترنا ہے، لوح محفوظ سے تو لیلۃ القدر میں ایک ساتھ آسمان اوّل پر اترا آیا پھر حسب ضروت تھوڑا تھوڑا وقت بروقت اترتا رہا یہاں تک کہ کئی برسوں میں پورا اتر آیا۔ حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ستاروں کے طلوع اور ظاہر ہونے کی آسمان کی جگہیں ہیں۔ «مَوَاقِعِ» سے مراد منازل ہیں۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیامت کے دن ان کا منتشر ہو جانا ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ ستارے ہیں جن کی نسبت مشرکین عقیدہ رکھتے تھے کہ فلاں فلاں تارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسی۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی قسم ہے اس لیے کہ جس امر پر یہ قسم کھائی جا رہی ہے وہ بہت بڑا امر ہے یعنی یہ قرآن بڑی عظمت والی کتاب ہے معظم و محفوظ اور مضبوط کتاب میں ہے۔ جسے صرف پاک ہاتھ ہی لگتے ہیں یعنی فرشتوں کے ہاں یہ اور بات ہے کہ دنیا میں اسے سب کے ہاتھ لگتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «مَا يَمَسُّهُ» ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہاں پاک سے مراد انسان نہیں انسان تو گنہگار ہے۔ یہ کفار کا جواب ہے وہ کہتے تھے کہ اس قرآن کو لے کر شیطان اترتے ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ» * «وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ» * «إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:212-210] ‏‏‏‏ یعنی اسے نہ تو شیطان لے کر اترے ہیں، نہ ان کے یہ لائق، نہ ان کی یہ مجال بلکہ وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ ہیں ‘۔ یہی قول اس آیت کی تفسیر میں دل کو زیادہ لگتا ہے۔ اور اقوال بھی اس کے مطابق ہو سکتے ہیں۔ فراء نے کہا ہے اس کا ذائقہ اور اس کا لطف صرف باایمان لوگوں کو ہی میسر آتا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد جنابت اور حدث سے پاک ہونا ہے گو یہ خبر ہے لیکن مراد اس سے انشاء ہے۔ اور قرآن سے مراد یہاں پر مصحف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے۔ ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ساتھ لے کر حربی کافروں کے ملک میں جانے سے منع فرمایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسے دشمن کچھ نقصان پہنچائے }۔ [صحیح مسلم:4816] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمان سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک۔ [موطامالک 199/1] ‏‏‏‏ مراسیل ابوداؤد میں ہے زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے خود اس کتاب کو دیکھا ہے اور اس میں یہ جملہ پڑھا ہے گو اس روایت کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ہر ایک قابل غور ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر ارشاد ہے کہ یہ قرآن شعر و سخن جادو اور فن نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی جانب سے اترا ہے، یہ سراسر حق ہے بلکہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا اس کے خلاف جو ہے باطل اور یکسر مردود ہے۔ پھر تم ایسی پاک بات سے کیوں انکار کرتے ہو؟ کیوں اس سے ہٹنا اور یکسو ہو جانا چاہتے ہو؟ کیا اس کا شکر یہی ہے کہ تم اسے جھٹلاؤ؟ قبیلہ ازد کے کلام میں رزق شکر کے معنی میں آتا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر کیا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر ہے۔ یعنی تم کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہمیں پانی ملا اور فلاں ستارے سے فلاں چیز۔ [سنن ترمذي:3295،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر بارش کے موقعہ پر بعض لوگ کفریہ کلمات بک دیتے ہیں کہ بارش کا باعث فلاں ستارہ ہے۔ موطا میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں تھے رات کو بارش ہوئی، صبح کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جانتے بھی ہو آج شب تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم۔ آپ نے فرمایا سنو! یہ فرمایا کہ آج میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ کافر ہو گئے اور بہت سے ایماندار بن گئے۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل و کرم سے پانی برسا وہ میری ذات پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں سے کفر کرنے والا ہوا۔ اور جس نے کہا فلاں فلاں ستارے سے بارش برسی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور اس ستارے پر ایمان لایا۔ [صحیح بخاری:810] ‏‏‏‏ مسلم کی حدیث میں عموم ہے کہ آسمان سے جو برکت نازل ہوتی ہے وہ بعض کے ایمان کا اور بعض کے کفر کا باعث بن جاتی ہے۔ [صحیح مسلم72-126] ‏‏‏‏ ہاں یہ خیال رہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ ثریا ستارہ کتنا باقی ہے؟ پھر کہا تھا کہ اس علم والوں کا خیال ہے کہ یہ اپنے ساقط ہو جانے کے ہفتہ بھر بعد افق پر نمودار ہوتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ اس سوال جواب اور استسقاء کو سات روز گزرے تھے جو پانی برسا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:662/11] ‏‏‏‏ یہ واقعہ محمول ہے عادت اور تجربہ پر نہ یہ کہ اس ستارے میں ہے اور اس ستارے کو ہی اثر کا موجد جانتے ہوں۔ اس قسم کا عقیدہ تو کفر ہے ہاں تجربہ سے کوئی چیز معلوم کر لینا یا کوئی بات کہہ دینا دوسری چیز ہے، اس بارے کی بہت سی حدیثیں آیت «‏‏‏‏مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ‏‏‏‏ [ 35- فاطر: 2 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے سن لیا کہ فلاں ستارے کے اثر سے بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو جھوٹا ہے یہ تو اللہ کی برسائی ہوئی ہے، یہ رزق الٰہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33560:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرفوع حدیث میں ہے لوگوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے اگر سات سال قحط سالی رہے اور پھر اللہ اپنے فضل و کرم سے بارش برسائے تو بھی یہ جھٹ سے زبان سے نکالنے لگیں گے کہ فلاں تارے نے برسایا۔ [مسند احمد:7/3:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد فرماتے ہیں اپنی روزی تکذیب کو ہی نہ بنا لو یعنی یوں نہ کہو کہ فلاں فراخی کا سبب فلاں چیز ہے بلکہ یوں کہو کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس یہ بھی مطلب ہے اور یہ بھی کہ قرآن میں ان کا حصہ کچھ نہیں بلکہ ان کا حصہ یہی ہے کہ یہ اسے جھوٹا کہتے رہیں اور اسی مطلب کی تائید اس سے پہلے کی آیت سے بھی ہوتی ہے۔
78-1یعنی لوح محفوظ ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ ﴿ؕ۷۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا
مولانا محمد جوناگڑھی
جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اسے نہ چھوئیں مگر باوضو
علامہ محمد حسین نجفی
اسے پاک لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھو سکتا۔
عبدالسلام بن محمد
اسے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا مگر جو بہت پاک کیے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کا مقام ٭٭

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لیے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر «لا» زائد ہے اور «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» [56-الواقعہ:77] ‏‏‏‏ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں «لا» کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں، کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول میں ہے «لا واللہ ما مست ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ید امراۃ قط» یعنی اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔ [صحیح مسلم:1866] ‏‏‏‏ اسی طرح یہاں بھی «لا» قسم کے شروع میں مطابق قاعدہ ہے نہ کہ زائد۔ تو کلام کا مقصود یہ ہے کہ تمہارے جو خیالات قرآن کریم کی نسبت ہیں یہ جادو ہے یا کہانت ہے غلط ہیں۔ بلکہ یہ پاک کتاب کلام اللہ ہے۔ بعض عرب کہتے ہیں کہ «لا» سے ان کے کلام کا انکار ہے پھر اصل امر کا اثبات الفاظ میں ہے «فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ» [56-الواقعة:75] ‏‏‏‏ سے مراد قرآن کا بتدریج اترنا ہے، لوح محفوظ سے تو لیلۃ القدر میں ایک ساتھ آسمان اوّل پر اترا آیا پھر حسب ضروت تھوڑا تھوڑا وقت بروقت اترتا رہا یہاں تک کہ کئی برسوں میں پورا اتر آیا۔ حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ستاروں کے طلوع اور ظاہر ہونے کی آسمان کی جگہیں ہیں۔ «مَوَاقِعِ» سے مراد منازل ہیں۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیامت کے دن ان کا منتشر ہو جانا ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ ستارے ہیں جن کی نسبت مشرکین عقیدہ رکھتے تھے کہ فلاں فلاں تارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسی۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی قسم ہے اس لیے کہ جس امر پر یہ قسم کھائی جا رہی ہے وہ بہت بڑا امر ہے یعنی یہ قرآن بڑی عظمت والی کتاب ہے معظم و محفوظ اور مضبوط کتاب میں ہے۔ جسے صرف پاک ہاتھ ہی لگتے ہیں یعنی فرشتوں کے ہاں یہ اور بات ہے کہ دنیا میں اسے سب کے ہاتھ لگتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «مَا يَمَسُّهُ» ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہاں پاک سے مراد انسان نہیں انسان تو گنہگار ہے۔ یہ کفار کا جواب ہے وہ کہتے تھے کہ اس قرآن کو لے کر شیطان اترتے ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ» * «وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ» * «إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:212-210] ‏‏‏‏ یعنی اسے نہ تو شیطان لے کر اترے ہیں، نہ ان کے یہ لائق، نہ ان کی یہ مجال بلکہ وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ ہیں ‘۔ یہی قول اس آیت کی تفسیر میں دل کو زیادہ لگتا ہے۔ اور اقوال بھی اس کے مطابق ہو سکتے ہیں۔ فراء نے کہا ہے اس کا ذائقہ اور اس کا لطف صرف باایمان لوگوں کو ہی میسر آتا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد جنابت اور حدث سے پاک ہونا ہے گو یہ خبر ہے لیکن مراد اس سے انشاء ہے۔ اور قرآن سے مراد یہاں پر مصحف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے۔ ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ساتھ لے کر حربی کافروں کے ملک میں جانے سے منع فرمایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسے دشمن کچھ نقصان پہنچائے }۔ [صحیح مسلم:4816] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمان سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک۔ [موطامالک 199/1] ‏‏‏‏ مراسیل ابوداؤد میں ہے زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے خود اس کتاب کو دیکھا ہے اور اس میں یہ جملہ پڑھا ہے گو اس روایت کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ہر ایک قابل غور ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر ارشاد ہے کہ یہ قرآن شعر و سخن جادو اور فن نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی جانب سے اترا ہے، یہ سراسر حق ہے بلکہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا اس کے خلاف جو ہے باطل اور یکسر مردود ہے۔ پھر تم ایسی پاک بات سے کیوں انکار کرتے ہو؟ کیوں اس سے ہٹنا اور یکسو ہو جانا چاہتے ہو؟ کیا اس کا شکر یہی ہے کہ تم اسے جھٹلاؤ؟ قبیلہ ازد کے کلام میں رزق شکر کے معنی میں آتا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر کیا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر ہے۔ یعنی تم کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہمیں پانی ملا اور فلاں ستارے سے فلاں چیز۔ [سنن ترمذي:3295،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر بارش کے موقعہ پر بعض لوگ کفریہ کلمات بک دیتے ہیں کہ بارش کا باعث فلاں ستارہ ہے۔ موطا میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں تھے رات کو بارش ہوئی، صبح کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جانتے بھی ہو آج شب تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم۔ آپ نے فرمایا سنو! یہ فرمایا کہ آج میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ کافر ہو گئے اور بہت سے ایماندار بن گئے۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل و کرم سے پانی برسا وہ میری ذات پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں سے کفر کرنے والا ہوا۔ اور جس نے کہا فلاں فلاں ستارے سے بارش برسی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور اس ستارے پر ایمان لایا۔ [صحیح بخاری:810] ‏‏‏‏ مسلم کی حدیث میں عموم ہے کہ آسمان سے جو برکت نازل ہوتی ہے وہ بعض کے ایمان کا اور بعض کے کفر کا باعث بن جاتی ہے۔ [صحیح مسلم72-126] ‏‏‏‏ ہاں یہ خیال رہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ ثریا ستارہ کتنا باقی ہے؟ پھر کہا تھا کہ اس علم والوں کا خیال ہے کہ یہ اپنے ساقط ہو جانے کے ہفتہ بھر بعد افق پر نمودار ہوتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ اس سوال جواب اور استسقاء کو سات روز گزرے تھے جو پانی برسا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:662/11] ‏‏‏‏ یہ واقعہ محمول ہے عادت اور تجربہ پر نہ یہ کہ اس ستارے میں ہے اور اس ستارے کو ہی اثر کا موجد جانتے ہوں۔ اس قسم کا عقیدہ تو کفر ہے ہاں تجربہ سے کوئی چیز معلوم کر لینا یا کوئی بات کہہ دینا دوسری چیز ہے، اس بارے کی بہت سی حدیثیں آیت «‏‏‏‏مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ‏‏‏‏ [ 35- فاطر: 2 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے سن لیا کہ فلاں ستارے کے اثر سے بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو جھوٹا ہے یہ تو اللہ کی برسائی ہوئی ہے، یہ رزق الٰہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33560:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرفوع حدیث میں ہے لوگوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے اگر سات سال قحط سالی رہے اور پھر اللہ اپنے فضل و کرم سے بارش برسائے تو بھی یہ جھٹ سے زبان سے نکالنے لگیں گے کہ فلاں تارے نے برسایا۔ [مسند احمد:7/3:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد فرماتے ہیں اپنی روزی تکذیب کو ہی نہ بنا لو یعنی یوں نہ کہو کہ فلاں فراخی کا سبب فلاں چیز ہے بلکہ یوں کہو کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس یہ بھی مطلب ہے اور یہ بھی کہ قرآن میں ان کا حصہ کچھ نہیں بلکہ ان کا حصہ یہی ہے کہ یہ اسے جھوٹا کہتے رہیں اور اسی مطلب کی تائید اس سے پہلے کی آیت سے بھی ہوتی ہے۔
79-1یعنی اس قرآن کو فرشتے ہی چھوتے ہیں، یعنی آسمانوں پر فرشتوں کے علاوہ کسی کی بھی رسائی اس قرآن تک نہیں ہوتی۔ مطلب مشرکین کی تردید ہے جو کہتے تھے کہ قرآن شیاطین لے کر اترتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا یہ کیوں کر ممکن ہے یہ قرآن تو شیطانی اثرات سے بالکل محفوظ ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ رب العالمین کی طرف سےاترا ہوا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اتارا ہوا ہے سارے جہان کے رب کا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل کردہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تمام جہانوں کے رب کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کا مقام ٭٭

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لیے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر «لا» زائد ہے اور «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» [56-الواقعہ:77] ‏‏‏‏ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں «لا» کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں، کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول میں ہے «لا واللہ ما مست ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ید امراۃ قط» یعنی اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔ [صحیح مسلم:1866] ‏‏‏‏ اسی طرح یہاں بھی «لا» قسم کے شروع میں مطابق قاعدہ ہے نہ کہ زائد۔ تو کلام کا مقصود یہ ہے کہ تمہارے جو خیالات قرآن کریم کی نسبت ہیں یہ جادو ہے یا کہانت ہے غلط ہیں۔ بلکہ یہ پاک کتاب کلام اللہ ہے۔ بعض عرب کہتے ہیں کہ «لا» سے ان کے کلام کا انکار ہے پھر اصل امر کا اثبات الفاظ میں ہے «فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ» [56-الواقعة:75] ‏‏‏‏ سے مراد قرآن کا بتدریج اترنا ہے، لوح محفوظ سے تو لیلۃ القدر میں ایک ساتھ آسمان اوّل پر اترا آیا پھر حسب ضروت تھوڑا تھوڑا وقت بروقت اترتا رہا یہاں تک کہ کئی برسوں میں پورا اتر آیا۔ حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ستاروں کے طلوع اور ظاہر ہونے کی آسمان کی جگہیں ہیں۔ «مَوَاقِعِ» سے مراد منازل ہیں۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیامت کے دن ان کا منتشر ہو جانا ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ ستارے ہیں جن کی نسبت مشرکین عقیدہ رکھتے تھے کہ فلاں فلاں تارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسی۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی قسم ہے اس لیے کہ جس امر پر یہ قسم کھائی جا رہی ہے وہ بہت بڑا امر ہے یعنی یہ قرآن بڑی عظمت والی کتاب ہے معظم و محفوظ اور مضبوط کتاب میں ہے۔ جسے صرف پاک ہاتھ ہی لگتے ہیں یعنی فرشتوں کے ہاں یہ اور بات ہے کہ دنیا میں اسے سب کے ہاتھ لگتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «مَا يَمَسُّهُ» ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہاں پاک سے مراد انسان نہیں انسان تو گنہگار ہے۔ یہ کفار کا جواب ہے وہ کہتے تھے کہ اس قرآن کو لے کر شیطان اترتے ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ» * «وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ» * «إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:212-210] ‏‏‏‏ یعنی اسے نہ تو شیطان لے کر اترے ہیں، نہ ان کے یہ لائق، نہ ان کی یہ مجال بلکہ وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ ہیں ‘۔ یہی قول اس آیت کی تفسیر میں دل کو زیادہ لگتا ہے۔ اور اقوال بھی اس کے مطابق ہو سکتے ہیں۔ فراء نے کہا ہے اس کا ذائقہ اور اس کا لطف صرف باایمان لوگوں کو ہی میسر آتا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد جنابت اور حدث سے پاک ہونا ہے گو یہ خبر ہے لیکن مراد اس سے انشاء ہے۔ اور قرآن سے مراد یہاں پر مصحف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے۔ ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ساتھ لے کر حربی کافروں کے ملک میں جانے سے منع فرمایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسے دشمن کچھ نقصان پہنچائے }۔ [صحیح مسلم:4816] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمان سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک۔ [موطامالک 199/1] ‏‏‏‏ مراسیل ابوداؤد میں ہے زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے خود اس کتاب کو دیکھا ہے اور اس میں یہ جملہ پڑھا ہے گو اس روایت کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ہر ایک قابل غور ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر ارشاد ہے کہ یہ قرآن شعر و سخن جادو اور فن نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی جانب سے اترا ہے، یہ سراسر حق ہے بلکہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا اس کے خلاف جو ہے باطل اور یکسر مردود ہے۔ پھر تم ایسی پاک بات سے کیوں انکار کرتے ہو؟ کیوں اس سے ہٹنا اور یکسو ہو جانا چاہتے ہو؟ کیا اس کا شکر یہی ہے کہ تم اسے جھٹلاؤ؟ قبیلہ ازد کے کلام میں رزق شکر کے معنی میں آتا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر کیا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر ہے۔ یعنی تم کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہمیں پانی ملا اور فلاں ستارے سے فلاں چیز۔ [سنن ترمذي:3295،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر بارش کے موقعہ پر بعض لوگ کفریہ کلمات بک دیتے ہیں کہ بارش کا باعث فلاں ستارہ ہے۔ موطا میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں تھے رات کو بارش ہوئی، صبح کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جانتے بھی ہو آج شب تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم۔ آپ نے فرمایا سنو! یہ فرمایا کہ آج میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ کافر ہو گئے اور بہت سے ایماندار بن گئے۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل و کرم سے پانی برسا وہ میری ذات پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں سے کفر کرنے والا ہوا۔ اور جس نے کہا فلاں فلاں ستارے سے بارش برسی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور اس ستارے پر ایمان لایا۔ [صحیح بخاری:810] ‏‏‏‏ مسلم کی حدیث میں عموم ہے کہ آسمان سے جو برکت نازل ہوتی ہے وہ بعض کے ایمان کا اور بعض کے کفر کا باعث بن جاتی ہے۔ [صحیح مسلم72-126] ‏‏‏‏ ہاں یہ خیال رہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ ثریا ستارہ کتنا باقی ہے؟ پھر کہا تھا کہ اس علم والوں کا خیال ہے کہ یہ اپنے ساقط ہو جانے کے ہفتہ بھر بعد افق پر نمودار ہوتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ اس سوال جواب اور استسقاء کو سات روز گزرے تھے جو پانی برسا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:662/11] ‏‏‏‏ یہ واقعہ محمول ہے عادت اور تجربہ پر نہ یہ کہ اس ستارے میں ہے اور اس ستارے کو ہی اثر کا موجد جانتے ہوں۔ اس قسم کا عقیدہ تو کفر ہے ہاں تجربہ سے کوئی چیز معلوم کر لینا یا کوئی بات کہہ دینا دوسری چیز ہے، اس بارے کی بہت سی حدیثیں آیت «‏‏‏‏مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ‏‏‏‏ [ 35- فاطر: 2 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے سن لیا کہ فلاں ستارے کے اثر سے بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو جھوٹا ہے یہ تو اللہ کی برسائی ہوئی ہے، یہ رزق الٰہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33560:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرفوع حدیث میں ہے لوگوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے اگر سات سال قحط سالی رہے اور پھر اللہ اپنے فضل و کرم سے بارش برسائے تو بھی یہ جھٹ سے زبان سے نکالنے لگیں گے کہ فلاں تارے نے برسایا۔ [مسند احمد:7/3:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد فرماتے ہیں اپنی روزی تکذیب کو ہی نہ بنا لو یعنی یوں نہ کہو کہ فلاں فراخی کا سبب فلاں چیز ہے بلکہ یوں کہو کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس یہ بھی مطلب ہے اور یہ بھی کہ قرآن میں ان کا حصہ کچھ نہیں بلکہ ان کا حصہ یہی ہے کہ یہ اسے جھوٹا کہتے رہیں اور اسی مطلب کی تائید اس سے پہلے کی آیت سے بھی ہوتی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَفَبِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡہِنُوۡنَ ﴿ۙ۸۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بے اعتنائی برتتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
پس کیا تم ایسی بات کو سرسری (اور معمولی) سمجھ رہے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا اس بات میں تم سستی کرتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم اس کتاب سے بےاعتنائی کرتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا اس کلام سے تم بے توجہی کرنے والے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کا مقام ٭٭

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لیے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر «لا» زائد ہے اور «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» [56-الواقعہ:77] ‏‏‏‏ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں «لا» کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں، کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول میں ہے «لا واللہ ما مست ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ید امراۃ قط» یعنی اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔ [صحیح مسلم:1866] ‏‏‏‏ اسی طرح یہاں بھی «لا» قسم کے شروع میں مطابق قاعدہ ہے نہ کہ زائد۔ تو کلام کا مقصود یہ ہے کہ تمہارے جو خیالات قرآن کریم کی نسبت ہیں یہ جادو ہے یا کہانت ہے غلط ہیں۔ بلکہ یہ پاک کتاب کلام اللہ ہے۔ بعض عرب کہتے ہیں کہ «لا» سے ان کے کلام کا انکار ہے پھر اصل امر کا اثبات الفاظ میں ہے «فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ» [56-الواقعة:75] ‏‏‏‏ سے مراد قرآن کا بتدریج اترنا ہے، لوح محفوظ سے تو لیلۃ القدر میں ایک ساتھ آسمان اوّل پر اترا آیا پھر حسب ضروت تھوڑا تھوڑا وقت بروقت اترتا رہا یہاں تک کہ کئی برسوں میں پورا اتر آیا۔ حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ستاروں کے طلوع اور ظاہر ہونے کی آسمان کی جگہیں ہیں۔ «مَوَاقِعِ» سے مراد منازل ہیں۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیامت کے دن ان کا منتشر ہو جانا ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ ستارے ہیں جن کی نسبت مشرکین عقیدہ رکھتے تھے کہ فلاں فلاں تارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسی۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی قسم ہے اس لیے کہ جس امر پر یہ قسم کھائی جا رہی ہے وہ بہت بڑا امر ہے یعنی یہ قرآن بڑی عظمت والی کتاب ہے معظم و محفوظ اور مضبوط کتاب میں ہے۔ جسے صرف پاک ہاتھ ہی لگتے ہیں یعنی فرشتوں کے ہاں یہ اور بات ہے کہ دنیا میں اسے سب کے ہاتھ لگتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «مَا يَمَسُّهُ» ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہاں پاک سے مراد انسان نہیں انسان تو گنہگار ہے۔ یہ کفار کا جواب ہے وہ کہتے تھے کہ اس قرآن کو لے کر شیطان اترتے ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ» * «وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ» * «إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:212-210] ‏‏‏‏ یعنی اسے نہ تو شیطان لے کر اترے ہیں، نہ ان کے یہ لائق، نہ ان کی یہ مجال بلکہ وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ ہیں ‘۔ یہی قول اس آیت کی تفسیر میں دل کو زیادہ لگتا ہے۔ اور اقوال بھی اس کے مطابق ہو سکتے ہیں۔ فراء نے کہا ہے اس کا ذائقہ اور اس کا لطف صرف باایمان لوگوں کو ہی میسر آتا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد جنابت اور حدث سے پاک ہونا ہے گو یہ خبر ہے لیکن مراد اس سے انشاء ہے۔ اور قرآن سے مراد یہاں پر مصحف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے۔ ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ساتھ لے کر حربی کافروں کے ملک میں جانے سے منع فرمایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسے دشمن کچھ نقصان پہنچائے }۔ [صحیح مسلم:4816] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمان سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک۔ [موطامالک 199/1] ‏‏‏‏ مراسیل ابوداؤد میں ہے زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے خود اس کتاب کو دیکھا ہے اور اس میں یہ جملہ پڑھا ہے گو اس روایت کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ہر ایک قابل غور ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر ارشاد ہے کہ یہ قرآن شعر و سخن جادو اور فن نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی جانب سے اترا ہے، یہ سراسر حق ہے بلکہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا اس کے خلاف جو ہے باطل اور یکسر مردود ہے۔ پھر تم ایسی پاک بات سے کیوں انکار کرتے ہو؟ کیوں اس سے ہٹنا اور یکسو ہو جانا چاہتے ہو؟ کیا اس کا شکر یہی ہے کہ تم اسے جھٹلاؤ؟ قبیلہ ازد کے کلام میں رزق شکر کے معنی میں آتا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر کیا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر ہے۔ یعنی تم کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہمیں پانی ملا اور فلاں ستارے سے فلاں چیز۔ [سنن ترمذي:3295،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر بارش کے موقعہ پر بعض لوگ کفریہ کلمات بک دیتے ہیں کہ بارش کا باعث فلاں ستارہ ہے۔ موطا میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں تھے رات کو بارش ہوئی، صبح کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جانتے بھی ہو آج شب تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم۔ آپ نے فرمایا سنو! یہ فرمایا کہ آج میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ کافر ہو گئے اور بہت سے ایماندار بن گئے۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل و کرم سے پانی برسا وہ میری ذات پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں سے کفر کرنے والا ہوا۔ اور جس نے کہا فلاں فلاں ستارے سے بارش برسی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور اس ستارے پر ایمان لایا۔ [صحیح بخاری:810] ‏‏‏‏ مسلم کی حدیث میں عموم ہے کہ آسمان سے جو برکت نازل ہوتی ہے وہ بعض کے ایمان کا اور بعض کے کفر کا باعث بن جاتی ہے۔ [صحیح مسلم72-126] ‏‏‏‏ ہاں یہ خیال رہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ ثریا ستارہ کتنا باقی ہے؟ پھر کہا تھا کہ اس علم والوں کا خیال ہے کہ یہ اپنے ساقط ہو جانے کے ہفتہ بھر بعد افق پر نمودار ہوتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ اس سوال جواب اور استسقاء کو سات روز گزرے تھے جو پانی برسا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:662/11] ‏‏‏‏ یہ واقعہ محمول ہے عادت اور تجربہ پر نہ یہ کہ اس ستارے میں ہے اور اس ستارے کو ہی اثر کا موجد جانتے ہوں۔ اس قسم کا عقیدہ تو کفر ہے ہاں تجربہ سے کوئی چیز معلوم کر لینا یا کوئی بات کہہ دینا دوسری چیز ہے، اس بارے کی بہت سی حدیثیں آیت «‏‏‏‏مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ‏‏‏‏ [ 35- فاطر: 2 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے سن لیا کہ فلاں ستارے کے اثر سے بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو جھوٹا ہے یہ تو اللہ کی برسائی ہوئی ہے، یہ رزق الٰہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33560:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرفوع حدیث میں ہے لوگوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے اگر سات سال قحط سالی رہے اور پھر اللہ اپنے فضل و کرم سے بارش برسائے تو بھی یہ جھٹ سے زبان سے نکالنے لگیں گے کہ فلاں تارے نے برسایا۔ [مسند احمد:7/3:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد فرماتے ہیں اپنی روزی تکذیب کو ہی نہ بنا لو یعنی یوں نہ کہو کہ فلاں فراخی کا سبب فلاں چیز ہے بلکہ یوں کہو کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس یہ بھی مطلب ہے اور یہ بھی کہ قرآن میں ان کا حصہ کچھ نہیں بلکہ ان کا حصہ یہی ہے کہ یہ اسے جھوٹا کہتے رہیں اور اسی مطلب کی تائید اس سے پہلے کی آیت سے بھی ہوتی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 82،81){ اَفَبِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ …:} پھر کیا اس ساری تفصیل کے بعد کہ قیامت حق ہے اور اللہ تعالیٰ اکیلا معبود برحق ہے اور قسم کے ساتھ تاکید کے بعد بھی کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے، تم اس سے بے توجہی کرتے ہو اور اس پر ایمان لانے میں سستی کرتے ہو اور اتنی بڑی نعمت میں سے تم یہی حصہ حاصل کرتے ہو کہ اسے جھٹلا دیتے ہو۔
وَ تَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَکُمۡ اَنَّکُمۡ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۸۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اِس نعمت میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا ہے کہ اِسے جھٹلاتے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنا حصہ یہ رکھتے ہو کہ جھٹلاتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم نے اپنے حصہ کی روزی یہی قرار دی ہے کہ اسے جھٹلاتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور تم اپنا حصہ یہ ٹھہراتے ہو کہ بے شک تم جھٹلاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کا مقام ٭٭

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لیے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر «لا» زائد ہے اور «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» [56-الواقعہ:77] ‏‏‏‏ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں «لا» کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں، کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول میں ہے «لا واللہ ما مست ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ید امراۃ قط» یعنی اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔ [صحیح مسلم:1866] ‏‏‏‏ اسی طرح یہاں بھی «لا» قسم کے شروع میں مطابق قاعدہ ہے نہ کہ زائد۔ تو کلام کا مقصود یہ ہے کہ تمہارے جو خیالات قرآن کریم کی نسبت ہیں یہ جادو ہے یا کہانت ہے غلط ہیں۔ بلکہ یہ پاک کتاب کلام اللہ ہے۔ بعض عرب کہتے ہیں کہ «لا» سے ان کے کلام کا انکار ہے پھر اصل امر کا اثبات الفاظ میں ہے «فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ» [56-الواقعة:75] ‏‏‏‏ سے مراد قرآن کا بتدریج اترنا ہے، لوح محفوظ سے تو لیلۃ القدر میں ایک ساتھ آسمان اوّل پر اترا آیا پھر حسب ضروت تھوڑا تھوڑا وقت بروقت اترتا رہا یہاں تک کہ کئی برسوں میں پورا اتر آیا۔ حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ستاروں کے طلوع اور ظاہر ہونے کی آسمان کی جگہیں ہیں۔ «مَوَاقِعِ» سے مراد منازل ہیں۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیامت کے دن ان کا منتشر ہو جانا ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ ستارے ہیں جن کی نسبت مشرکین عقیدہ رکھتے تھے کہ فلاں فلاں تارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسی۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی قسم ہے اس لیے کہ جس امر پر یہ قسم کھائی جا رہی ہے وہ بہت بڑا امر ہے یعنی یہ قرآن بڑی عظمت والی کتاب ہے معظم و محفوظ اور مضبوط کتاب میں ہے۔ جسے صرف پاک ہاتھ ہی لگتے ہیں یعنی فرشتوں کے ہاں یہ اور بات ہے کہ دنیا میں اسے سب کے ہاتھ لگتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «مَا يَمَسُّهُ» ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہاں پاک سے مراد انسان نہیں انسان تو گنہگار ہے۔ یہ کفار کا جواب ہے وہ کہتے تھے کہ اس قرآن کو لے کر شیطان اترتے ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ» * «وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ» * «إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:212-210] ‏‏‏‏ یعنی اسے نہ تو شیطان لے کر اترے ہیں، نہ ان کے یہ لائق، نہ ان کی یہ مجال بلکہ وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ ہیں ‘۔ یہی قول اس آیت کی تفسیر میں دل کو زیادہ لگتا ہے۔ اور اقوال بھی اس کے مطابق ہو سکتے ہیں۔ فراء نے کہا ہے اس کا ذائقہ اور اس کا لطف صرف باایمان لوگوں کو ہی میسر آتا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد جنابت اور حدث سے پاک ہونا ہے گو یہ خبر ہے لیکن مراد اس سے انشاء ہے۔ اور قرآن سے مراد یہاں پر مصحف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے۔ ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ساتھ لے کر حربی کافروں کے ملک میں جانے سے منع فرمایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسے دشمن کچھ نقصان پہنچائے }۔ [صحیح مسلم:4816] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمان سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک۔ [موطامالک 199/1] ‏‏‏‏ مراسیل ابوداؤد میں ہے زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے خود اس کتاب کو دیکھا ہے اور اس میں یہ جملہ پڑھا ہے گو اس روایت کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ہر ایک قابل غور ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر ارشاد ہے کہ یہ قرآن شعر و سخن جادو اور فن نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی جانب سے اترا ہے، یہ سراسر حق ہے بلکہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا اس کے خلاف جو ہے باطل اور یکسر مردود ہے۔ پھر تم ایسی پاک بات سے کیوں انکار کرتے ہو؟ کیوں اس سے ہٹنا اور یکسو ہو جانا چاہتے ہو؟ کیا اس کا شکر یہی ہے کہ تم اسے جھٹلاؤ؟ قبیلہ ازد کے کلام میں رزق شکر کے معنی میں آتا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر کیا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر ہے۔ یعنی تم کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہمیں پانی ملا اور فلاں ستارے سے فلاں چیز۔ [سنن ترمذي:3295،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر بارش کے موقعہ پر بعض لوگ کفریہ کلمات بک دیتے ہیں کہ بارش کا باعث فلاں ستارہ ہے۔ موطا میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں تھے رات کو بارش ہوئی، صبح کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جانتے بھی ہو آج شب تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم۔ آپ نے فرمایا سنو! یہ فرمایا کہ آج میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ کافر ہو گئے اور بہت سے ایماندار بن گئے۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل و کرم سے پانی برسا وہ میری ذات پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں سے کفر کرنے والا ہوا۔ اور جس نے کہا فلاں فلاں ستارے سے بارش برسی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور اس ستارے پر ایمان لایا۔ [صحیح بخاری:810] ‏‏‏‏ مسلم کی حدیث میں عموم ہے کہ آسمان سے جو برکت نازل ہوتی ہے وہ بعض کے ایمان کا اور بعض کے کفر کا باعث بن جاتی ہے۔ [صحیح مسلم72-126] ‏‏‏‏ ہاں یہ خیال رہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ ثریا ستارہ کتنا باقی ہے؟ پھر کہا تھا کہ اس علم والوں کا خیال ہے کہ یہ اپنے ساقط ہو جانے کے ہفتہ بھر بعد افق پر نمودار ہوتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ اس سوال جواب اور استسقاء کو سات روز گزرے تھے جو پانی برسا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:662/11] ‏‏‏‏ یہ واقعہ محمول ہے عادت اور تجربہ پر نہ یہ کہ اس ستارے میں ہے اور اس ستارے کو ہی اثر کا موجد جانتے ہوں۔ اس قسم کا عقیدہ تو کفر ہے ہاں تجربہ سے کوئی چیز معلوم کر لینا یا کوئی بات کہہ دینا دوسری چیز ہے، اس بارے کی بہت سی حدیثیں آیت «‏‏‏‏مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ‏‏‏‏ [ 35- فاطر: 2 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے سن لیا کہ فلاں ستارے کے اثر سے بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو جھوٹا ہے یہ تو اللہ کی برسائی ہوئی ہے، یہ رزق الٰہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33560:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرفوع حدیث میں ہے لوگوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے اگر سات سال قحط سالی رہے اور پھر اللہ اپنے فضل و کرم سے بارش برسائے تو بھی یہ جھٹ سے زبان سے نکالنے لگیں گے کہ فلاں تارے نے برسایا۔ [مسند احمد:7/3:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد فرماتے ہیں اپنی روزی تکذیب کو ہی نہ بنا لو یعنی یوں نہ کہو کہ فلاں فراخی کا سبب فلاں چیز ہے بلکہ یوں کہو کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس یہ بھی مطلب ہے اور یہ بھی کہ قرآن میں ان کا حصہ کچھ نہیں بلکہ ان کا حصہ یہی ہے کہ یہ اسے جھوٹا کہتے رہیں اور اسی مطلب کی تائید اس سے پہلے کی آیت سے بھی ہوتی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَلَوۡ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَ ﴿ۙ۸۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے
احمد رضا خان بریلوی
پھر کیوں نہ ہو جب جان گلے تک پہنچے
علامہ محمد حسین نجفی
(اگر تم کسی کے محکوم نہیں) تو جب (مرنے والے کی) روح حلق تک پہنچ جاتی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کیوں نہیں کہ جب وہ (جان) حلق کو پہنچ جاتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عالم نزع کی بےبسی ٭٭

اسی مضمون کی آیتیں سورۃ القیامہ میں بھی ہیں «كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ» * «وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ» * «وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ» * «وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ» [75-القیامۃ:26-30] ‏‏‏‏ فرماتا ہے کہ ایک شخص اپنے آخری وقت میں ہے نزع کا عالم ہے روح پرواز کر رہی ہے تم سب پاس بیٹھے دیکھ رہے ہو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ہمارے فرشتے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تم سے بھی زیادہ قریب اس مرنے والے سے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ» * «ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الانعام:62،61] ‏‏‏‏ اللہ اپنے بندوں پر غالب ہے وہ تم پر اپنے پاس سے محافظ بھیجتا ہے جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اسے ٹھیک طور پر فوت کر لیتے ہیں پھر وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ مولائے حق کی طرف بازگشت کرائے جائیں گے جو حاکم ہے اور جلد حساب لے لینے والا ہے۔ یہاں فرماتا ہے اگر سچ مچ تم لوگ کسی کے زیر فرمان نہیں ہو اگر یہ حق ہے کہ تم دوبارہ جینے اور میدان قیامت میں حاضر ہونے کے قائل نہیں ہو اور اس میں تم حق پر ہو اگر تمہیں حشر و نشر کا یقین نہیں اگر تم عذاب نہیں کئے جاؤ گے وغیرہ۔ تو ہم کہتے ہیں اس روح کو جانے ہی کیوں دیتے ہو؟ اگر تمہارے بس میں ہے تو حلق تک پہنچی ہوئی روح کو واپس اس کی اصلی جگہ پہنچا دو۔ پس یاد رکھو جیسے اس روح کو اس جسم میں ڈالنے پر ہم قادر تھے اور اس کو بھی تم نے بہ چشم خود دیکھ لیا یقین مانو اسی طرح ہم دوبارہ اسی روح کو اس جسم میں ڈال کر نئی زندگی دینے پر بھی قادر ہیں۔ تمہارا اپنی پیدائش میں دخل نہیں تو مرنے میں پھر دوبارہ جی اٹھنے میں تمہارا دخل کہاں سے ہو گیا؟ پھر کیوں تم کہتے پھرتے ہو کہ ہم مر کر زندہ نہیں ہوں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 83تا87){ فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ …: ” مَدِيْنِيْنَ”دَانَ يَدِيْنُ دَيْنًا“} (جزا دینا، مالک ہونا، حساب لینا، حاکم ہونا) سے اسم مفعول {”مَدِيْنٌ“} کی جمع ہے جو اصل میں {”مَدْيُوْنٌ“} تھا، بدلا دیے گئے، محاسبہ کیے گئے، محکوم، مملوک۔ ان آیات میں {” فَلَوْ لَاۤ “} دو دفعہ آیا ہے اور دونوں کی جزا {” تَرْجِعُوْنَهَا اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ “} ہے۔ ان آیات میں نزع کے عالم کا نقشہ کھینچ کر قیامت کے منکروں سے کہا گیا ہے کہ ایسا کیوں نہیں کہ مرتے وقت جب جان حلق تک آ پہنچتی ہے اور تم پاس بیٹھے مرنے والے کو دیکھ رہے ہوتے ہو اور ہم تم سے زیادہ اس مرنے والے کے قریب ہوتے ہیں، تو پھر اگر تم کسی کے محکوم نہیں اور نہ تم سے کوئی محاسبہ کرنے والا ہے اور تم خود ہی ہر طرح صاحب اختیار ہو، تو اگر تم سچے ہو تو نکلنے والی اس جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے؟ تمھاری بے بسی سے ثابت ہوا کہ تم سب اللہ تعالیٰ کے مملوک اور اس کے حکم کے پابند ہو، جب وہ لے جانا چاہے گا لے جائے گا اور جب زندہ کر کے محاسبے کے لیے اپنے سامنے کھڑا کرنا چاہے گا کر دے گا۔ اس لیے تمھاری بھلائی اسی میں ہے کہ اس کی توحید پر، اس کے رسول پر اور یوم قیامت پر ایمان لے آؤ، تاکہ تمھیں اس دن شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔ جان نکلنے کے وقت انسان کی حالت اور اس کے غم گساروں کی بے بسی کا نقشہ سورۂ قیامہ کی آیات (۲۶ تا ۳۰) میں بھی خوب کھینچا گیا ہے۔
وَ اَنۡتُمۡ حِیۡنَئِذٍ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿ۙ۸۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مر رہا ہے،
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم اس وقت آنکھوں سے دیکھتے رہو
احمد رضا خان بریلوی
اور تم اس وقت دیکھ رہے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عالم نزع کی بےبسی ٭٭

اسی مضمون کی آیتیں سورۃ القیامہ میں بھی ہیں «كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ» * «وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ» * «وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ» * «وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ» [75-القیامۃ:26-30] ‏‏‏‏ فرماتا ہے کہ ایک شخص اپنے آخری وقت میں ہے نزع کا عالم ہے روح پرواز کر رہی ہے تم سب پاس بیٹھے دیکھ رہے ہو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ہمارے فرشتے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تم سے بھی زیادہ قریب اس مرنے والے سے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ» * «ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الانعام:62،61] ‏‏‏‏ اللہ اپنے بندوں پر غالب ہے وہ تم پر اپنے پاس سے محافظ بھیجتا ہے جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اسے ٹھیک طور پر فوت کر لیتے ہیں پھر وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ مولائے حق کی طرف بازگشت کرائے جائیں گے جو حاکم ہے اور جلد حساب لے لینے والا ہے۔ یہاں فرماتا ہے اگر سچ مچ تم لوگ کسی کے زیر فرمان نہیں ہو اگر یہ حق ہے کہ تم دوبارہ جینے اور میدان قیامت میں حاضر ہونے کے قائل نہیں ہو اور اس میں تم حق پر ہو اگر تمہیں حشر و نشر کا یقین نہیں اگر تم عذاب نہیں کئے جاؤ گے وغیرہ۔ تو ہم کہتے ہیں اس روح کو جانے ہی کیوں دیتے ہو؟ اگر تمہارے بس میں ہے تو حلق تک پہنچی ہوئی روح کو واپس اس کی اصلی جگہ پہنچا دو۔ پس یاد رکھو جیسے اس روح کو اس جسم میں ڈالنے پر ہم قادر تھے اور اس کو بھی تم نے بہ چشم خود دیکھ لیا یقین مانو اسی طرح ہم دوبارہ اسی روح کو اس جسم میں ڈال کر نئی زندگی دینے پر بھی قادر ہیں۔ تمہارا اپنی پیدائش میں دخل نہیں تو مرنے میں پھر دوبارہ جی اٹھنے میں تمہارا دخل کہاں سے ہو گیا؟ پھر کیوں تم کہتے پھرتے ہو کہ ہم مر کر زندہ نہیں ہوں گے۔
84-1یعنی روح نکلتے ہوئے دیکھتے ہو لیکن ٹال سکنے کی یا اسے کوئی فائدہ پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡکُمۡ وَ لٰکِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۸۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اُس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم اس شخص سے بہ نسبت تمہارے بہت زیاده قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم اس کے زیادہ پاس ہیں تم سے مگر تمہیں نگاہ نیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس وقت ہم تم سے زیادہ مرنے والے کے قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھتے نہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم تم سے زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں اور لیکن تم نہیں دیکھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عالم نزع کی بےبسی ٭٭

اسی مضمون کی آیتیں سورۃ القیامہ میں بھی ہیں «كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ» * «وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ» * «وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ» * «وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ» [75-القیامۃ:26-30] ‏‏‏‏ فرماتا ہے کہ ایک شخص اپنے آخری وقت میں ہے نزع کا عالم ہے روح پرواز کر رہی ہے تم سب پاس بیٹھے دیکھ رہے ہو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ہمارے فرشتے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تم سے بھی زیادہ قریب اس مرنے والے سے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ» * «ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الانعام:62،61] ‏‏‏‏ اللہ اپنے بندوں پر غالب ہے وہ تم پر اپنے پاس سے محافظ بھیجتا ہے جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اسے ٹھیک طور پر فوت کر لیتے ہیں پھر وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ مولائے حق کی طرف بازگشت کرائے جائیں گے جو حاکم ہے اور جلد حساب لے لینے والا ہے۔ یہاں فرماتا ہے اگر سچ مچ تم لوگ کسی کے زیر فرمان نہیں ہو اگر یہ حق ہے کہ تم دوبارہ جینے اور میدان قیامت میں حاضر ہونے کے قائل نہیں ہو اور اس میں تم حق پر ہو اگر تمہیں حشر و نشر کا یقین نہیں اگر تم عذاب نہیں کئے جاؤ گے وغیرہ۔ تو ہم کہتے ہیں اس روح کو جانے ہی کیوں دیتے ہو؟ اگر تمہارے بس میں ہے تو حلق تک پہنچی ہوئی روح کو واپس اس کی اصلی جگہ پہنچا دو۔ پس یاد رکھو جیسے اس روح کو اس جسم میں ڈالنے پر ہم قادر تھے اور اس کو بھی تم نے بہ چشم خود دیکھ لیا یقین مانو اسی طرح ہم دوبارہ اسی روح کو اس جسم میں ڈال کر نئی زندگی دینے پر بھی قادر ہیں۔ تمہارا اپنی پیدائش میں دخل نہیں تو مرنے میں پھر دوبارہ جی اٹھنے میں تمہارا دخل کہاں سے ہو گیا؟ پھر کیوں تم کہتے پھرتے ہو کہ ہم مر کر زندہ نہیں ہوں گے۔
85-1یعنی مرنے والے کے ہم، تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ اپنے علم، قدرت کے اعتبار سے۔ یا ہم سے مراد اللہ کے کارندے یعنی موت کے فرشتے ہیں جو اس کی روح قبض کرتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَلَوۡ لَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ غَیۡرَ مَدِیۡنِیۡنَ ﴿ۙ۸۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو اور اپنے اِس خیال میں سچے ہو،
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اگر تم کسی کے زیرفرمان نہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو کیوں نہ ہوا اگر تمہیں بدلہ ملنا نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
پس اگر تمہیں کوئی جزا و سزا ملنے والی نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
سو اگر تم (کسی کے) محکوم نہیں تو کیوں نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عالم نزع کی بےبسی ٭٭

اسی مضمون کی آیتیں سورۃ القیامہ میں بھی ہیں «كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ» * «وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ» * «وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ» * «وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ» [75-القیامۃ:26-30] ‏‏‏‏ فرماتا ہے کہ ایک شخص اپنے آخری وقت میں ہے نزع کا عالم ہے روح پرواز کر رہی ہے تم سب پاس بیٹھے دیکھ رہے ہو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ہمارے فرشتے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تم سے بھی زیادہ قریب اس مرنے والے سے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ» * «ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الانعام:62،61] ‏‏‏‏ اللہ اپنے بندوں پر غالب ہے وہ تم پر اپنے پاس سے محافظ بھیجتا ہے جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اسے ٹھیک طور پر فوت کر لیتے ہیں پھر وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ مولائے حق کی طرف بازگشت کرائے جائیں گے جو حاکم ہے اور جلد حساب لے لینے والا ہے۔ یہاں فرماتا ہے اگر سچ مچ تم لوگ کسی کے زیر فرمان نہیں ہو اگر یہ حق ہے کہ تم دوبارہ جینے اور میدان قیامت میں حاضر ہونے کے قائل نہیں ہو اور اس میں تم حق پر ہو اگر تمہیں حشر و نشر کا یقین نہیں اگر تم عذاب نہیں کئے جاؤ گے وغیرہ۔ تو ہم کہتے ہیں اس روح کو جانے ہی کیوں دیتے ہو؟ اگر تمہارے بس میں ہے تو حلق تک پہنچی ہوئی روح کو واپس اس کی اصلی جگہ پہنچا دو۔ پس یاد رکھو جیسے اس روح کو اس جسم میں ڈالنے پر ہم قادر تھے اور اس کو بھی تم نے بہ چشم خود دیکھ لیا یقین مانو اسی طرح ہم دوبارہ اسی روح کو اس جسم میں ڈال کر نئی زندگی دینے پر بھی قادر ہیں۔ تمہارا اپنی پیدائش میں دخل نہیں تو مرنے میں پھر دوبارہ جی اٹھنے میں تمہارا دخل کہاں سے ہو گیا؟ پھر کیوں تم کہتے پھرتے ہو کہ ہم مر کر زندہ نہیں ہوں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تَرۡجِعُوۡنَہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۸۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس وقت اُس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس قول میں سچے ہو تو (ذرا) اس روح کو تو لوٹاؤ
احمد رضا خان بریلوی
کہ اسے لوٹا لاتے اگر تم سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
تو پھر اس (روح) کو کیوں واپس لوٹا نہیں لیتے اگر تم (اس انکار میں) سچے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
تم اسے واپس لے آتے، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عالم نزع کی بےبسی ٭٭

اسی مضمون کی آیتیں سورۃ القیامہ میں بھی ہیں «كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ» * «وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ» * «وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ» * «وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ» [75-القیامۃ:26-30] ‏‏‏‏ فرماتا ہے کہ ایک شخص اپنے آخری وقت میں ہے نزع کا عالم ہے روح پرواز کر رہی ہے تم سب پاس بیٹھے دیکھ رہے ہو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ہمارے فرشتے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تم سے بھی زیادہ قریب اس مرنے والے سے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ» * «ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الانعام:62،61] ‏‏‏‏ اللہ اپنے بندوں پر غالب ہے وہ تم پر اپنے پاس سے محافظ بھیجتا ہے جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اسے ٹھیک طور پر فوت کر لیتے ہیں پھر وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ مولائے حق کی طرف بازگشت کرائے جائیں گے جو حاکم ہے اور جلد حساب لے لینے والا ہے۔ یہاں فرماتا ہے اگر سچ مچ تم لوگ کسی کے زیر فرمان نہیں ہو اگر یہ حق ہے کہ تم دوبارہ جینے اور میدان قیامت میں حاضر ہونے کے قائل نہیں ہو اور اس میں تم حق پر ہو اگر تمہیں حشر و نشر کا یقین نہیں اگر تم عذاب نہیں کئے جاؤ گے وغیرہ۔ تو ہم کہتے ہیں اس روح کو جانے ہی کیوں دیتے ہو؟ اگر تمہارے بس میں ہے تو حلق تک پہنچی ہوئی روح کو واپس اس کی اصلی جگہ پہنچا دو۔ پس یاد رکھو جیسے اس روح کو اس جسم میں ڈالنے پر ہم قادر تھے اور اس کو بھی تم نے بہ چشم خود دیکھ لیا یقین مانو اسی طرح ہم دوبارہ اسی روح کو اس جسم میں ڈال کر نئی زندگی دینے پر بھی قادر ہیں۔ تمہارا اپنی پیدائش میں دخل نہیں تو مرنے میں پھر دوبارہ جی اٹھنے میں تمہارا دخل کہاں سے ہو گیا؟ پھر کیوں تم کہتے پھرتے ہو کہ ہم مر کر زندہ نہیں ہوں گے۔
87-1یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ کوئی تمہارا آقا اور مالک نہیں جس کے تم زیر فرمان اور ما تحت ہو یا کوئی جزا سزا کا دن نہیں آئے گا، تو اس قبض کی ہوئی روح کو اپنی جگہ پر واپس لوٹا کر دکھاؤ اور اگر تم ایسا نہیں کرسکتے اس کا مطلب تمہارا گمان باطل ہے۔ یقینا تمہارا ایک آقا ہے اور یقینا ایک دن آئے گا جس میں وہ آقا ہر ایک کو اسکے عمل کی جزا دے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَاَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر وہ مرنے والا اگر مقربین میں سے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جو کوئی بارگاه الٰہی سے قریب کیا ہوا ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
پھر وہ مرنے والا اگر مقربوں سے ہے
علامہ محمد حسین نجفی
پس اگر وہ (مرنے والا) مقربین میں سے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پس لیکن اگر وہ ان لوگوں سے ہوا جو قریب کیے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احوال موت ٭٭

یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت، سکرات کے وقت، دنیا کی آخری ساعت میں، انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مقرب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔ فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی حدیث گزری کہ «أَيَّتُهَا الرُّوحُ الطَّيِّبَةُ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ كُنْتِ تَعْمُرِينَه، اخْرُجِي إِلَى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَان» رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح! پاک جسم والی روح! چل راحت و آرام کی طرف، چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔ «رَوْحٍ» سے مرد راحت ہے اور «رَيْحَانٍ» سے مراد آرام ہے۔ غرض دنیا کے مصائب سے راحت مل جاتی ہے ابدی سرور اور سچی خوشی اللہ کے غلام کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے وہ ایک فراخی اور وسعت دیکھتا ہے اس کے سامنے رزق اور رحمت ہوتی ہے وہ جنت عدن کی طرف لپکتا ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت کی ایک ہری بھری شاخ آتی ہے اور اس وقت مقرب اللہ کی روح قبض کی جاتی ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں مرنے سے پہلے ہی ہر مرنے والے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے (‏‏‏‏یا اللہ! ہمارے اس وقت میں تو ہماری مدد کر ہمیں ایمان سے اٹھا اور اپنی رضا مندی کی خوشخبری سنا کر سکون و راحت کے ساتھ یہاں سے لے جا آمین) گو سکرات کے وقت کی احادیث ہم سورۃ ابراہیم کی آیت «‏‏‏‏يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ» [14-ابراھیم:27] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں وارد کر چکے ہیں لیکن چونکہ یہ ان کا بہترین موقعہ ہے اس لیے یہاں ایک ٹکڑا بیان کرتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے میرے فلاں بندے کے پاس جا اور اسے میرے دربار میں لے آ، میں نے اسے رنج، راحت و آرام تکلیف، خوشی، ناخوشی غرض ہر آزمائش میں آزما لیا اور اپنی مرضی کے مطابق پایا بس اب میں اسے ابدی راحت دینا چاہتا ہوں، جا اسے میرے خاص دربار میں پیش کر۔ ملک الموت علیہ السلام پانچ سو رحمت کے فرشتے اور جنت کے کفن اور جنتی خوشبوئیں ساتھ لے کر اس کے پاس آتے ہیں گو ریحان ایک ہی ہوتا ہے لیکن سرے پر بیس قسمیں ہوتی ہیں ہر ایک کی جداگانہ مہک ہوتی ہے، سفید ریشم ساتھ ہوتا ہے، جس میں مشک کی لپٹیں آتی ہیں، الخ۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت «فَرُوْحٌ» راء کے پیش سے تھی۔ [سنن ابوداود:3991،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن تمام قاریوں کی قرأت رے کے زبر سے ہے یعنی «فَرُوْحٌ» ۔ مسند میں ہے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے رسول مقبول علیہ السلام سے پوچھا کیا مرنے کے بعد ہم آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے؟ اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روح ایک پرند ہو جائے گی، جو درختوں کے میوے چگے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو اس وقت اپنے اپنے جسم میں چلی جائے گی۔ [مسند احمد:425/6:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں ہر مومن کے لیے بہت بڑی بشارت ہے۔ مسند احمد میں بھی اس کی شاہد ایک حدیث ہے جس کی اسناد بہت بہتر ہے اور متن بھی بہت قوی ہے [مسند احمد:455/3:صحیح] ‏‏‏‏ اور صحیح روایت میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں، ساری جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی رہتی ہیں اور عرش تلے لٹکی ہوئی قندیلوں میں آ بیٹھتی ہیں۔ [صحیح مسلم:121-1887] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ ایک جنازے میں گدھے پر سوار جا رہے تھے آپ رحمہ اللہ کی عمر اس وقت بڑھاپے کی تھی، سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اسی اثناء میں آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو برا جانتا ہے، اللہ بھی اس کی ملاقات سے کراہت کرتا ہے“، صحابہ رضی اللہ عنہم یہ سن کر سر جھکائے رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روتے کیوں ہوں؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا موت کون چاہتا ہے؟ فرمایا: ”سنو سنو مطلب سکرات کے وقت سے ہے، اس وقت نیک مقرب بندے کو تو راحت و انعام اور آرام دہ جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے جس پر وہ تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو جلد اللہ سے ملے تاکہ ان نعمتوں سے مالا مال ہو جائے، پس اللہ بھی اس کی ملاقات کی تمنا کرتا ہے اور اگر بد بندہ ہے تو اسے موت کے وقت گرمی پانی اور جہنم کی مہمانی کی خبر دی جاتی ہے جس سے یہ بےزار ہو جاتا ہے اور اس کی روح روئیں روئیں میں چھپنے اور اٹکنے لگتی ہے اور یہ دل چاہتا ہے کہ کسی طرح اللہ کے حضور میں حاضر نہ ہوؤں پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:259/4:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے اگر وہ سعادت مندوں سے ہے تو موت کے فرشتے اسے سلام کہتے ہیں، تجھ پر سلامتی ہو، تو اصحاب یمین میں سے ہے، اللہ کے عذاب سے تو سلامتی پائے گا اور خود فرشتے بھی اسے سلام کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ» * «نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ» * «نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ سچے پکے توحید والوں کے پاس ان کے انتقال کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں کہ کچھ ڈر خوف نہیں، کچھ رنج و غم نہ کر، جنت تیرے لیے حسب وعدہ تیار ہے، دنیا اور آخرت میں ہم تیری حمایت کے لیے موجود ہیں، جو تمہارا جی چاہے تمہارے لیے موجود ہے، جو تمنا تم کرو گے پوری ہو کر رہے گی، غفور و رحیم اللہ کے تم ذی عزت مہمان ہو ‘۔ بخاری میں ہے یعنی تیرے لیے مسّلم ہے کہ تو اصحاب یمین میں سے ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سلام یہاں دعا کے معنی میں ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور اگر مرنے والا حق کی تکذیب کرنے والا اور ہدایت سے کھویا ہوا ہے تو اس کی ضیافت اس گرم «حَمِيم» سے ہو گی جو آنتیں اور کھال تک جھلسا دے، پھر چاروں طرف سے جہنم کی آگ گھیر لے گی جس میں جلتا بھنتا رہے گا۔ * پھر فرمایا یہ یقینی باتیں ہیں جن کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ پس اپنے بڑے رب کے نام کی تسبیح کرتا رہے۔ مسند میں ہے اس آیت «فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ» [الواقعہ:96] ‏‏‏‏ کے اترنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رکوع میں رکھو“ اور «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [سورةالأعلى87:1] ‏‏‏‏ اترنے پر فرمایا: ”اسے سجدے میں رکھو۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:869،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس نے «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» کہا اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جاتا۔ [سنن ترمذي:3464،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ صحیح بخاری کے ختم پر یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بوجھ ہیں اللہ کو بہت پیارے ہیں۔ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» [صحیح بخاری:6406] ‏‏‏‏ «الحمدللہ» سورۃ الواقعہ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ قبول فرمائے (‏‏‏‏اور ہمارے کل واقعات کا انجام بھلا کرے)۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 89،88) {فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ …:” فَرَوْحٌ “} اور {” رَيْحَانٌ “} پر تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ {” رَوْحٌ “} کے معنی ہیں راحت، خوشی اور رحمت اور {” رَيْحَانٌ “} ہر خوشبودار پودے اور پھول کو کہتے ہیں۔ {” رَيْحَانٌ “} کا ایک معنی رزق بھی ہے۔ سورت کے آخر میں تینوں گروہوں کا جان کنی کے وقت کا حال بیان فرمایا۔ مقصد ترغیب و ترہیب ہے، یعنی اگر مرنے والا مقربین سے ہوا تو مرتے وقت اس کے لیے عظیم راحت، خوشی اور اللہ کی رحمت ہے، خوشبو دار پھول ہیں اور نعمتوں سے بھری ہوئی جنت ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْمَيِّتُ تَحْضُرُهُ الْمَلاَئِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَالِحًا قَالُوا اخْرُجِيْ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ! كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، اخْرُجِيْ حَمِيْدَةً وَأَبْشِرِيْ بِرَوْحٍ وَ رَيْحَانٍ وَ رَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلاَ يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذٰلِكَ حَتّٰی تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَی السَّمَاءِ فَيُفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ مَنْ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ فُلاَنٌ، فَيُقَالُ مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ ادْخُلِيْ حَمِيْدَةً، وَ أَبْشِرِيْ بِرَوْحٍ وَ رَيْحَانٍ وَ رَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلاَ يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذٰلِكَ حَتّٰی يُنْتَهٰی بِهَا إِلَی السَّمَاءِ الَّتِيْ فِيْهَا اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ ] [ابن ماجہ، الزھد، باب ذکر الموت والاستعداد لہ: ۴۲۶۲، وقال الألباني صحیح ] ”مرنے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں تو جب آدمی صالح ہو تو وہ کہتے ہیں: ”نکل اے پاک جان جو پاک جسم میں تھی! نکل، تو تعریف والی ہے اور عظیم راحت کی اور خوشبو دار پھولوں کی اور غصے نہ ہونے والے رب کی خوش خبری پر خوش ہو جا۔“ وہ اسے یہی کہتے رہتے ہیں حتیٰ کہ وہ نکل آتی ہے۔ پھر اسے آسمان کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے اور اس کے لیے دروازہ کھولا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے: ”یہ کون ہے؟“ وہ کہتے ہیں: ”فلاں ہے۔“ تو کہا جاتا ہے: ”اس پاک جان کو مرحبا جو پاک جسم میں تھی، اندر آ جا، تو تعریف والی ہے اور عظیم راحت کی اور خوشبو دار پھولوں کی اور غصے نہ ہونے والے رب کی خوش خبری پر خوش ہو جا۔“ پھر اسے یہی الفاظ کہتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ اسے اس آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے جس میں اللہ عز و جل ہے۔“
فَرَوۡحٌ وَّ رَیۡحَانٌ ۬ۙ وَّ جَنَّتُ نَعِیۡمٍ ﴿۸۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تو اس کے لیے راحت اور عمدہ رزق اور نعمت بھری جنت ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اسے تو راحت ہے اور غذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو راحت ہے اور پھول اور چین کے باغ
علامہ محمد حسین نجفی
تو اس کے لئے راحت، خوشبودار عذاب اور نعمت بھری جنت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو (اس کے لیے) راحت اور خوشبو دار پھول اور نعمت والی جنت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احوال موت ٭٭

یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت، سکرات کے وقت، دنیا کی آخری ساعت میں، انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مقرب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔ فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی حدیث گزری کہ «أَيَّتُهَا الرُّوحُ الطَّيِّبَةُ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ كُنْتِ تَعْمُرِينَه، اخْرُجِي إِلَى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَان» رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح! پاک جسم والی روح! چل راحت و آرام کی طرف، چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔ «رَوْحٍ» سے مرد راحت ہے اور «رَيْحَانٍ» سے مراد آرام ہے۔ غرض دنیا کے مصائب سے راحت مل جاتی ہے ابدی سرور اور سچی خوشی اللہ کے غلام کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے وہ ایک فراخی اور وسعت دیکھتا ہے اس کے سامنے رزق اور رحمت ہوتی ہے وہ جنت عدن کی طرف لپکتا ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت کی ایک ہری بھری شاخ آتی ہے اور اس وقت مقرب اللہ کی روح قبض کی جاتی ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں مرنے سے پہلے ہی ہر مرنے والے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے (‏‏‏‏یا اللہ! ہمارے اس وقت میں تو ہماری مدد کر ہمیں ایمان سے اٹھا اور اپنی رضا مندی کی خوشخبری سنا کر سکون و راحت کے ساتھ یہاں سے لے جا آمین) گو سکرات کے وقت کی احادیث ہم سورۃ ابراہیم کی آیت «‏‏‏‏يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ» [14-ابراھیم:27] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں وارد کر چکے ہیں لیکن چونکہ یہ ان کا بہترین موقعہ ہے اس لیے یہاں ایک ٹکڑا بیان کرتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے میرے فلاں بندے کے پاس جا اور اسے میرے دربار میں لے آ، میں نے اسے رنج، راحت و آرام تکلیف، خوشی، ناخوشی غرض ہر آزمائش میں آزما لیا اور اپنی مرضی کے مطابق پایا بس اب میں اسے ابدی راحت دینا چاہتا ہوں، جا اسے میرے خاص دربار میں پیش کر۔ ملک الموت علیہ السلام پانچ سو رحمت کے فرشتے اور جنت کے کفن اور جنتی خوشبوئیں ساتھ لے کر اس کے پاس آتے ہیں گو ریحان ایک ہی ہوتا ہے لیکن سرے پر بیس قسمیں ہوتی ہیں ہر ایک کی جداگانہ مہک ہوتی ہے، سفید ریشم ساتھ ہوتا ہے، جس میں مشک کی لپٹیں آتی ہیں، الخ۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت «فَرُوْحٌ» راء کے پیش سے تھی۔ [سنن ابوداود:3991،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن تمام قاریوں کی قرأت رے کے زبر سے ہے یعنی «فَرُوْحٌ» ۔ مسند میں ہے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے رسول مقبول علیہ السلام سے پوچھا کیا مرنے کے بعد ہم آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے؟ اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روح ایک پرند ہو جائے گی، جو درختوں کے میوے چگے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو اس وقت اپنے اپنے جسم میں چلی جائے گی۔ [مسند احمد:425/6:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں ہر مومن کے لیے بہت بڑی بشارت ہے۔ مسند احمد میں بھی اس کی شاہد ایک حدیث ہے جس کی اسناد بہت بہتر ہے اور متن بھی بہت قوی ہے [مسند احمد:455/3:صحیح] ‏‏‏‏ اور صحیح روایت میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں، ساری جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی رہتی ہیں اور عرش تلے لٹکی ہوئی قندیلوں میں آ بیٹھتی ہیں۔ [صحیح مسلم:121-1887] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ ایک جنازے میں گدھے پر سوار جا رہے تھے آپ رحمہ اللہ کی عمر اس وقت بڑھاپے کی تھی، سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اسی اثناء میں آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو برا جانتا ہے، اللہ بھی اس کی ملاقات سے کراہت کرتا ہے“، صحابہ رضی اللہ عنہم یہ سن کر سر جھکائے رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روتے کیوں ہوں؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا موت کون چاہتا ہے؟ فرمایا: ”سنو سنو مطلب سکرات کے وقت سے ہے، اس وقت نیک مقرب بندے کو تو راحت و انعام اور آرام دہ جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے جس پر وہ تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو جلد اللہ سے ملے تاکہ ان نعمتوں سے مالا مال ہو جائے، پس اللہ بھی اس کی ملاقات کی تمنا کرتا ہے اور اگر بد بندہ ہے تو اسے موت کے وقت گرمی پانی اور جہنم کی مہمانی کی خبر دی جاتی ہے جس سے یہ بےزار ہو جاتا ہے اور اس کی روح روئیں روئیں میں چھپنے اور اٹکنے لگتی ہے اور یہ دل چاہتا ہے کہ کسی طرح اللہ کے حضور میں حاضر نہ ہوؤں پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:259/4:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے اگر وہ سعادت مندوں سے ہے تو موت کے فرشتے اسے سلام کہتے ہیں، تجھ پر سلامتی ہو، تو اصحاب یمین میں سے ہے، اللہ کے عذاب سے تو سلامتی پائے گا اور خود فرشتے بھی اسے سلام کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ» * «نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ» * «نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ سچے پکے توحید والوں کے پاس ان کے انتقال کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں کہ کچھ ڈر خوف نہیں، کچھ رنج و غم نہ کر، جنت تیرے لیے حسب وعدہ تیار ہے، دنیا اور آخرت میں ہم تیری حمایت کے لیے موجود ہیں، جو تمہارا جی چاہے تمہارے لیے موجود ہے، جو تمنا تم کرو گے پوری ہو کر رہے گی، غفور و رحیم اللہ کے تم ذی عزت مہمان ہو ‘۔ بخاری میں ہے یعنی تیرے لیے مسّلم ہے کہ تو اصحاب یمین میں سے ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سلام یہاں دعا کے معنی میں ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور اگر مرنے والا حق کی تکذیب کرنے والا اور ہدایت سے کھویا ہوا ہے تو اس کی ضیافت اس گرم «حَمِيم» سے ہو گی جو آنتیں اور کھال تک جھلسا دے، پھر چاروں طرف سے جہنم کی آگ گھیر لے گی جس میں جلتا بھنتا رہے گا۔ * پھر فرمایا یہ یقینی باتیں ہیں جن کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ پس اپنے بڑے رب کے نام کی تسبیح کرتا رہے۔ مسند میں ہے اس آیت «فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ» [الواقعہ:96] ‏‏‏‏ کے اترنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رکوع میں رکھو“ اور «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [سورةالأعلى87:1] ‏‏‏‏ اترنے پر فرمایا: ”اسے سجدے میں رکھو۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:869،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس نے «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» کہا اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جاتا۔ [سنن ترمذي:3464،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ صحیح بخاری کے ختم پر یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بوجھ ہیں اللہ کو بہت پیارے ہیں۔ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» [صحیح بخاری:6406] ‏‏‏‏ «الحمدللہ» سورۃ الواقعہ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ قبول فرمائے (‏‏‏‏اور ہمارے کل واقعات کا انجام بھلا کرے)۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡیَمِیۡنِ ﴿ۙ۹۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو شحص داہنے (ہاتھ) والوں میں سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر دہنی طرف والوں سے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر وہ اصحاب الیمین میں سے ہے (تواس سے کہا جاتا ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
اور لیکن اگر وہ دائیں ہاتھ والوں سے ہوا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احوال موت ٭٭

یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت، سکرات کے وقت، دنیا کی آخری ساعت میں، انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مقرب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔ فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی حدیث گزری کہ «أَيَّتُهَا الرُّوحُ الطَّيِّبَةُ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ كُنْتِ تَعْمُرِينَه، اخْرُجِي إِلَى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَان» رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح! پاک جسم والی روح! چل راحت و آرام کی طرف، چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔ «رَوْحٍ» سے مرد راحت ہے اور «رَيْحَانٍ» سے مراد آرام ہے۔ غرض دنیا کے مصائب سے راحت مل جاتی ہے ابدی سرور اور سچی خوشی اللہ کے غلام کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے وہ ایک فراخی اور وسعت دیکھتا ہے اس کے سامنے رزق اور رحمت ہوتی ہے وہ جنت عدن کی طرف لپکتا ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت کی ایک ہری بھری شاخ آتی ہے اور اس وقت مقرب اللہ کی روح قبض کی جاتی ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں مرنے سے پہلے ہی ہر مرنے والے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے (‏‏‏‏یا اللہ! ہمارے اس وقت میں تو ہماری مدد کر ہمیں ایمان سے اٹھا اور اپنی رضا مندی کی خوشخبری سنا کر سکون و راحت کے ساتھ یہاں سے لے جا آمین) گو سکرات کے وقت کی احادیث ہم سورۃ ابراہیم کی آیت «‏‏‏‏يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ» [14-ابراھیم:27] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں وارد کر چکے ہیں لیکن چونکہ یہ ان کا بہترین موقعہ ہے اس لیے یہاں ایک ٹکڑا بیان کرتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے میرے فلاں بندے کے پاس جا اور اسے میرے دربار میں لے آ، میں نے اسے رنج، راحت و آرام تکلیف، خوشی، ناخوشی غرض ہر آزمائش میں آزما لیا اور اپنی مرضی کے مطابق پایا بس اب میں اسے ابدی راحت دینا چاہتا ہوں، جا اسے میرے خاص دربار میں پیش کر۔ ملک الموت علیہ السلام پانچ سو رحمت کے فرشتے اور جنت کے کفن اور جنتی خوشبوئیں ساتھ لے کر اس کے پاس آتے ہیں گو ریحان ایک ہی ہوتا ہے لیکن سرے پر بیس قسمیں ہوتی ہیں ہر ایک کی جداگانہ مہک ہوتی ہے، سفید ریشم ساتھ ہوتا ہے، جس میں مشک کی لپٹیں آتی ہیں، الخ۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت «فَرُوْحٌ» راء کے پیش سے تھی۔ [سنن ابوداود:3991،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن تمام قاریوں کی قرأت رے کے زبر سے ہے یعنی «فَرُوْحٌ» ۔ مسند میں ہے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے رسول مقبول علیہ السلام سے پوچھا کیا مرنے کے بعد ہم آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے؟ اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روح ایک پرند ہو جائے گی، جو درختوں کے میوے چگے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو اس وقت اپنے اپنے جسم میں چلی جائے گی۔ [مسند احمد:425/6:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں ہر مومن کے لیے بہت بڑی بشارت ہے۔ مسند احمد میں بھی اس کی شاہد ایک حدیث ہے جس کی اسناد بہت بہتر ہے اور متن بھی بہت قوی ہے [مسند احمد:455/3:صحیح] ‏‏‏‏ اور صحیح روایت میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں، ساری جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی رہتی ہیں اور عرش تلے لٹکی ہوئی قندیلوں میں آ بیٹھتی ہیں۔ [صحیح مسلم:121-1887] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ ایک جنازے میں گدھے پر سوار جا رہے تھے آپ رحمہ اللہ کی عمر اس وقت بڑھاپے کی تھی، سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اسی اثناء میں آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو برا جانتا ہے، اللہ بھی اس کی ملاقات سے کراہت کرتا ہے“، صحابہ رضی اللہ عنہم یہ سن کر سر جھکائے رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روتے کیوں ہوں؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا موت کون چاہتا ہے؟ فرمایا: ”سنو سنو مطلب سکرات کے وقت سے ہے، اس وقت نیک مقرب بندے کو تو راحت و انعام اور آرام دہ جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے جس پر وہ تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو جلد اللہ سے ملے تاکہ ان نعمتوں سے مالا مال ہو جائے، پس اللہ بھی اس کی ملاقات کی تمنا کرتا ہے اور اگر بد بندہ ہے تو اسے موت کے وقت گرمی پانی اور جہنم کی مہمانی کی خبر دی جاتی ہے جس سے یہ بےزار ہو جاتا ہے اور اس کی روح روئیں روئیں میں چھپنے اور اٹکنے لگتی ہے اور یہ دل چاہتا ہے کہ کسی طرح اللہ کے حضور میں حاضر نہ ہوؤں پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:259/4:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے اگر وہ سعادت مندوں سے ہے تو موت کے فرشتے اسے سلام کہتے ہیں، تجھ پر سلامتی ہو، تو اصحاب یمین میں سے ہے، اللہ کے عذاب سے تو سلامتی پائے گا اور خود فرشتے بھی اسے سلام کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ» * «نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ» * «نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ سچے پکے توحید والوں کے پاس ان کے انتقال کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں کہ کچھ ڈر خوف نہیں، کچھ رنج و غم نہ کر، جنت تیرے لیے حسب وعدہ تیار ہے، دنیا اور آخرت میں ہم تیری حمایت کے لیے موجود ہیں، جو تمہارا جی چاہے تمہارے لیے موجود ہے، جو تمنا تم کرو گے پوری ہو کر رہے گی، غفور و رحیم اللہ کے تم ذی عزت مہمان ہو ‘۔ بخاری میں ہے یعنی تیرے لیے مسّلم ہے کہ تو اصحاب یمین میں سے ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سلام یہاں دعا کے معنی میں ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور اگر مرنے والا حق کی تکذیب کرنے والا اور ہدایت سے کھویا ہوا ہے تو اس کی ضیافت اس گرم «حَمِيم» سے ہو گی جو آنتیں اور کھال تک جھلسا دے، پھر چاروں طرف سے جہنم کی آگ گھیر لے گی جس میں جلتا بھنتا رہے گا۔ * پھر فرمایا یہ یقینی باتیں ہیں جن کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ پس اپنے بڑے رب کے نام کی تسبیح کرتا رہے۔ مسند میں ہے اس آیت «فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ» [الواقعہ:96] ‏‏‏‏ کے اترنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رکوع میں رکھو“ اور «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [سورةالأعلى87:1] ‏‏‏‏ اترنے پر فرمایا: ”اسے سجدے میں رکھو۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:869،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس نے «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» کہا اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جاتا۔ [سنن ترمذي:3464،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ صحیح بخاری کے ختم پر یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بوجھ ہیں اللہ کو بہت پیارے ہیں۔ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» [صحیح بخاری:6406] ‏‏‏‏ «الحمدللہ» سورۃ الواقعہ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ قبول فرمائے (‏‏‏‏اور ہمارے کل واقعات کا انجام بھلا کرے)۔
90-1یہ دوسری قسم ہے، عام مومنین۔ یہ بھی جہنم سے بچ کر جنت میں جائیں گے، تاہم درجات میں سابقین سے کمتر ہوں گے۔ موت کا فرشتے ان کو بھی سلامتی کی خوشخبری دیتے ہیں۔
(آیت 91،90){ وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ …:} مفسرین نے ان دونوں آیات کی ترکیب کئی طرح سے فرمائی ہے، ایک سادہ سی ترکیب یہ ہے کہ پوری عبارت اس طرح ہے: {”وَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِيْنِ فَيُقَالُ لَهُ سَلاَمٌ لَّكَ لِكَوْنِكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِيْنِ“} ”اور لیکن اگر وہ دائیں ہاتھ والوں سے ہوا تو اسے کہا جائے گا کہ تجھ پر سلام ہے، کیونکہ تو اصحاب الیمین سے ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ اصحاب الیمین کو فوت کرتے وقت فرشتے سلام کہتے ہیں اور بشارت دیتے ہیں کہ اب تم ہر رنج و غم اور ہر خوف سے سلامت رہو گے، کیونکہ تم اصحاب الیمین میں سے ہو۔ یعنی فرشتے اسے اصحاب الیمین میں سے ہونے کی بشارت دے کر سلام کہیں گے۔ یہی بات تفصیل کے ساتھ سورۂ حم السجدہ کی آیت (۳۰ تا ۳۲) میں کہی گئی ہے۔
فَسَلٰمٌ لَّکَ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕ۹۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تو اس کا استقبال یوں ہوتا ہے کہ سلام ہے تجھے، تو اصحاب الیمین میں سے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو بھی سلامتی ہے تیرے لیے کہ تو داہنے والوں میں سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو اے محبوب تم پر سلام دہنی طرف والوں سے
علامہ محمد حسین نجفی
تمہارے لئے سلامتی ہو تو اصحاب الیمین میں سے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو (کہا جائے گا) تجھ پر سلام (کہ تو) دائیں ہاتھ والوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احوال موت ٭٭

یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت، سکرات کے وقت، دنیا کی آخری ساعت میں، انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مقرب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔ فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی حدیث گزری کہ «أَيَّتُهَا الرُّوحُ الطَّيِّبَةُ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ كُنْتِ تَعْمُرِينَه، اخْرُجِي إِلَى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَان» رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح! پاک جسم والی روح! چل راحت و آرام کی طرف، چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔ «رَوْحٍ» سے مرد راحت ہے اور «رَيْحَانٍ» سے مراد آرام ہے۔ غرض دنیا کے مصائب سے راحت مل جاتی ہے ابدی سرور اور سچی خوشی اللہ کے غلام کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے وہ ایک فراخی اور وسعت دیکھتا ہے اس کے سامنے رزق اور رحمت ہوتی ہے وہ جنت عدن کی طرف لپکتا ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت کی ایک ہری بھری شاخ آتی ہے اور اس وقت مقرب اللہ کی روح قبض کی جاتی ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں مرنے سے پہلے ہی ہر مرنے والے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے (‏‏‏‏یا اللہ! ہمارے اس وقت میں تو ہماری مدد کر ہمیں ایمان سے اٹھا اور اپنی رضا مندی کی خوشخبری سنا کر سکون و راحت کے ساتھ یہاں سے لے جا آمین) گو سکرات کے وقت کی احادیث ہم سورۃ ابراہیم کی آیت «‏‏‏‏يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ» [14-ابراھیم:27] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں وارد کر چکے ہیں لیکن چونکہ یہ ان کا بہترین موقعہ ہے اس لیے یہاں ایک ٹکڑا بیان کرتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے میرے فلاں بندے کے پاس جا اور اسے میرے دربار میں لے آ، میں نے اسے رنج، راحت و آرام تکلیف، خوشی، ناخوشی غرض ہر آزمائش میں آزما لیا اور اپنی مرضی کے مطابق پایا بس اب میں اسے ابدی راحت دینا چاہتا ہوں، جا اسے میرے خاص دربار میں پیش کر۔ ملک الموت علیہ السلام پانچ سو رحمت کے فرشتے اور جنت کے کفن اور جنتی خوشبوئیں ساتھ لے کر اس کے پاس آتے ہیں گو ریحان ایک ہی ہوتا ہے لیکن سرے پر بیس قسمیں ہوتی ہیں ہر ایک کی جداگانہ مہک ہوتی ہے، سفید ریشم ساتھ ہوتا ہے، جس میں مشک کی لپٹیں آتی ہیں، الخ۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت «فَرُوْحٌ» راء کے پیش سے تھی۔ [سنن ابوداود:3991،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن تمام قاریوں کی قرأت رے کے زبر سے ہے یعنی «فَرُوْحٌ» ۔ مسند میں ہے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے رسول مقبول علیہ السلام سے پوچھا کیا مرنے کے بعد ہم آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے؟ اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روح ایک پرند ہو جائے گی، جو درختوں کے میوے چگے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو اس وقت اپنے اپنے جسم میں چلی جائے گی۔ [مسند احمد:425/6:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں ہر مومن کے لیے بہت بڑی بشارت ہے۔ مسند احمد میں بھی اس کی شاہد ایک حدیث ہے جس کی اسناد بہت بہتر ہے اور متن بھی بہت قوی ہے [مسند احمد:455/3:صحیح] ‏‏‏‏ اور صحیح روایت میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں، ساری جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی رہتی ہیں اور عرش تلے لٹکی ہوئی قندیلوں میں آ بیٹھتی ہیں۔ [صحیح مسلم:121-1887] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ ایک جنازے میں گدھے پر سوار جا رہے تھے آپ رحمہ اللہ کی عمر اس وقت بڑھاپے کی تھی، سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اسی اثناء میں آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو برا جانتا ہے، اللہ بھی اس کی ملاقات سے کراہت کرتا ہے“، صحابہ رضی اللہ عنہم یہ سن کر سر جھکائے رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روتے کیوں ہوں؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا موت کون چاہتا ہے؟ فرمایا: ”سنو سنو مطلب سکرات کے وقت سے ہے، اس وقت نیک مقرب بندے کو تو راحت و انعام اور آرام دہ جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے جس پر وہ تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو جلد اللہ سے ملے تاکہ ان نعمتوں سے مالا مال ہو جائے، پس اللہ بھی اس کی ملاقات کی تمنا کرتا ہے اور اگر بد بندہ ہے تو اسے موت کے وقت گرمی پانی اور جہنم کی مہمانی کی خبر دی جاتی ہے جس سے یہ بےزار ہو جاتا ہے اور اس کی روح روئیں روئیں میں چھپنے اور اٹکنے لگتی ہے اور یہ دل چاہتا ہے کہ کسی طرح اللہ کے حضور میں حاضر نہ ہوؤں پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:259/4:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے اگر وہ سعادت مندوں سے ہے تو موت کے فرشتے اسے سلام کہتے ہیں، تجھ پر سلامتی ہو، تو اصحاب یمین میں سے ہے، اللہ کے عذاب سے تو سلامتی پائے گا اور خود فرشتے بھی اسے سلام کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ» * «نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ» * «نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ سچے پکے توحید والوں کے پاس ان کے انتقال کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں کہ کچھ ڈر خوف نہیں، کچھ رنج و غم نہ کر، جنت تیرے لیے حسب وعدہ تیار ہے، دنیا اور آخرت میں ہم تیری حمایت کے لیے موجود ہیں، جو تمہارا جی چاہے تمہارے لیے موجود ہے، جو تمنا تم کرو گے پوری ہو کر رہے گی، غفور و رحیم اللہ کے تم ذی عزت مہمان ہو ‘۔ بخاری میں ہے یعنی تیرے لیے مسّلم ہے کہ تو اصحاب یمین میں سے ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سلام یہاں دعا کے معنی میں ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور اگر مرنے والا حق کی تکذیب کرنے والا اور ہدایت سے کھویا ہوا ہے تو اس کی ضیافت اس گرم «حَمِيم» سے ہو گی جو آنتیں اور کھال تک جھلسا دے، پھر چاروں طرف سے جہنم کی آگ گھیر لے گی جس میں جلتا بھنتا رہے گا۔ * پھر فرمایا یہ یقینی باتیں ہیں جن کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ پس اپنے بڑے رب کے نام کی تسبیح کرتا رہے۔ مسند میں ہے اس آیت «فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ» [الواقعہ:96] ‏‏‏‏ کے اترنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رکوع میں رکھو“ اور «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [سورةالأعلى87:1] ‏‏‏‏ اترنے پر فرمایا: ”اسے سجدے میں رکھو۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:869،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس نے «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» کہا اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جاتا۔ [سنن ترمذي:3464،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ صحیح بخاری کے ختم پر یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بوجھ ہیں اللہ کو بہت پیارے ہیں۔ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» [صحیح بخاری:6406] ‏‏‏‏ «الحمدللہ» سورۃ الواقعہ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ قبول فرمائے (‏‏‏‏اور ہمارے کل واقعات کا انجام بھلا کرے)۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الۡمُکَذِّبِیۡنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن اگر کوئی جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور لیکن اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں سے ہوا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احوال موت ٭٭

یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت، سکرات کے وقت، دنیا کی آخری ساعت میں، انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مقرب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔ فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی حدیث گزری کہ «أَيَّتُهَا الرُّوحُ الطَّيِّبَةُ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ كُنْتِ تَعْمُرِينَه، اخْرُجِي إِلَى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَان» رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح! پاک جسم والی روح! چل راحت و آرام کی طرف، چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔ «رَوْحٍ» سے مرد راحت ہے اور «رَيْحَانٍ» سے مراد آرام ہے۔ غرض دنیا کے مصائب سے راحت مل جاتی ہے ابدی سرور اور سچی خوشی اللہ کے غلام کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے وہ ایک فراخی اور وسعت دیکھتا ہے اس کے سامنے رزق اور رحمت ہوتی ہے وہ جنت عدن کی طرف لپکتا ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت کی ایک ہری بھری شاخ آتی ہے اور اس وقت مقرب اللہ کی روح قبض کی جاتی ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں مرنے سے پہلے ہی ہر مرنے والے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے (‏‏‏‏یا اللہ! ہمارے اس وقت میں تو ہماری مدد کر ہمیں ایمان سے اٹھا اور اپنی رضا مندی کی خوشخبری سنا کر سکون و راحت کے ساتھ یہاں سے لے جا آمین) گو سکرات کے وقت کی احادیث ہم سورۃ ابراہیم کی آیت «‏‏‏‏يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ» [14-ابراھیم:27] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں وارد کر چکے ہیں لیکن چونکہ یہ ان کا بہترین موقعہ ہے اس لیے یہاں ایک ٹکڑا بیان کرتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے میرے فلاں بندے کے پاس جا اور اسے میرے دربار میں لے آ، میں نے اسے رنج، راحت و آرام تکلیف، خوشی، ناخوشی غرض ہر آزمائش میں آزما لیا اور اپنی مرضی کے مطابق پایا بس اب میں اسے ابدی راحت دینا چاہتا ہوں، جا اسے میرے خاص دربار میں پیش کر۔ ملک الموت علیہ السلام پانچ سو رحمت کے فرشتے اور جنت کے کفن اور جنتی خوشبوئیں ساتھ لے کر اس کے پاس آتے ہیں گو ریحان ایک ہی ہوتا ہے لیکن سرے پر بیس قسمیں ہوتی ہیں ہر ایک کی جداگانہ مہک ہوتی ہے، سفید ریشم ساتھ ہوتا ہے، جس میں مشک کی لپٹیں آتی ہیں، الخ۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت «فَرُوْحٌ» راء کے پیش سے تھی۔ [سنن ابوداود:3991،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن تمام قاریوں کی قرأت رے کے زبر سے ہے یعنی «فَرُوْحٌ» ۔ مسند میں ہے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے رسول مقبول علیہ السلام سے پوچھا کیا مرنے کے بعد ہم آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے؟ اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روح ایک پرند ہو جائے گی، جو درختوں کے میوے چگے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو اس وقت اپنے اپنے جسم میں چلی جائے گی۔ [مسند احمد:425/6:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں ہر مومن کے لیے بہت بڑی بشارت ہے۔ مسند احمد میں بھی اس کی شاہد ایک حدیث ہے جس کی اسناد بہت بہتر ہے اور متن بھی بہت قوی ہے [مسند احمد:455/3:صحیح] ‏‏‏‏ اور صحیح روایت میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں، ساری جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی رہتی ہیں اور عرش تلے لٹکی ہوئی قندیلوں میں آ بیٹھتی ہیں۔ [صحیح مسلم:121-1887] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ ایک جنازے میں گدھے پر سوار جا رہے تھے آپ رحمہ اللہ کی عمر اس وقت بڑھاپے کی تھی، سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اسی اثناء میں آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو برا جانتا ہے، اللہ بھی اس کی ملاقات سے کراہت کرتا ہے“، صحابہ رضی اللہ عنہم یہ سن کر سر جھکائے رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روتے کیوں ہوں؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا موت کون چاہتا ہے؟ فرمایا: ”سنو سنو مطلب سکرات کے وقت سے ہے، اس وقت نیک مقرب بندے کو تو راحت و انعام اور آرام دہ جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے جس پر وہ تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو جلد اللہ سے ملے تاکہ ان نعمتوں سے مالا مال ہو جائے، پس اللہ بھی اس کی ملاقات کی تمنا کرتا ہے اور اگر بد بندہ ہے تو اسے موت کے وقت گرمی پانی اور جہنم کی مہمانی کی خبر دی جاتی ہے جس سے یہ بےزار ہو جاتا ہے اور اس کی روح روئیں روئیں میں چھپنے اور اٹکنے لگتی ہے اور یہ دل چاہتا ہے کہ کسی طرح اللہ کے حضور میں حاضر نہ ہوؤں پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:259/4:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے اگر وہ سعادت مندوں سے ہے تو موت کے فرشتے اسے سلام کہتے ہیں، تجھ پر سلامتی ہو، تو اصحاب یمین میں سے ہے، اللہ کے عذاب سے تو سلامتی پائے گا اور خود فرشتے بھی اسے سلام کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ» * «نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ» * «نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ سچے پکے توحید والوں کے پاس ان کے انتقال کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں کہ کچھ ڈر خوف نہیں، کچھ رنج و غم نہ کر، جنت تیرے لیے حسب وعدہ تیار ہے، دنیا اور آخرت میں ہم تیری حمایت کے لیے موجود ہیں، جو تمہارا جی چاہے تمہارے لیے موجود ہے، جو تمنا تم کرو گے پوری ہو کر رہے گی، غفور و رحیم اللہ کے تم ذی عزت مہمان ہو ‘۔ بخاری میں ہے یعنی تیرے لیے مسّلم ہے کہ تو اصحاب یمین میں سے ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سلام یہاں دعا کے معنی میں ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور اگر مرنے والا حق کی تکذیب کرنے والا اور ہدایت سے کھویا ہوا ہے تو اس کی ضیافت اس گرم «حَمِيم» سے ہو گی جو آنتیں اور کھال تک جھلسا دے، پھر چاروں طرف سے جہنم کی آگ گھیر لے گی جس میں جلتا بھنتا رہے گا۔ * پھر فرمایا یہ یقینی باتیں ہیں جن کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ پس اپنے بڑے رب کے نام کی تسبیح کرتا رہے۔ مسند میں ہے اس آیت «فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ» [الواقعہ:96] ‏‏‏‏ کے اترنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رکوع میں رکھو“ اور «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [سورةالأعلى87:1] ‏‏‏‏ اترنے پر فرمایا: ”اسے سجدے میں رکھو۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:869،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس نے «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» کہا اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جاتا۔ [سنن ترمذي:3464،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ صحیح بخاری کے ختم پر یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بوجھ ہیں اللہ کو بہت پیارے ہیں۔ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» [صحیح بخاری:6406] ‏‏‏‏ «الحمدللہ» سورۃ الواقعہ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ قبول فرمائے (‏‏‏‏اور ہمارے کل واقعات کا انجام بھلا کرے)۔
92-1یہ تیسری قسم ہے جنہیں آغاز سورت میں کہا گیا تھا، بائیں ہاتھ والے یا حاملین نحوست۔ یہ اپنے کفر و نفاق کی سزا یاس اس کی نحوست عذاب جہنم کی صورت میں بھگتیں گے۔
(آیت 92تا94) {وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِيْنَ الضَّآلِّيْنَ …: ”نُزُلٌ“} مہمانی۔ (دیکھیے کہف: ۱۰۲) {” تَصْلِيَةُ”صَلِيَ يَصْلٰي“} (ع) سے باب تفعیل کا مصدر ہے، داخل کرنا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کا ایک حصہ آیت (89،88) کی تفسیر میں گزر چکا ہے، اس میں کفار کی موت کا بھی حال بیان ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَ إِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوْءُ قَالَ اخْرُجِيْ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيْثَةُ! كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيْثِ، اخْرُجِيْ ذَمِيْمَةً وَأَبْشِرِيْ بِحَمِيْمٍ وَغَسَّاقٍ وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ فَلاَ يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذٰلِكَ حَتّٰی تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَی السَّمَاءِ فَلاَ يُفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ مَنْ هٰذَا؟ فَيُقَالُ فُلاَنٌ، فَيُقَالُ لاَ مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيْثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيْثِ ارْجِعِيْ ذَمِيْمَةً فَإِنَّهَا لاَ تُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَيُرْسَلُ بِهَا مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيْرُ إِلَی الْقَبْرِ ] [ ابن ماجہ، الزھد، باب ذکر الموت والاستعداد لہ: ۴۲۶۲، وقال الألباني صحیح ] ”اور جب آدمی برا ہو تو اسے (فرشتہ) کہتا ہے: ”نکل اے خبیث جان جو خبیث جسم میں تھی! اور بشارت سن کھولتے ہوئے پانی اور پیپ کی اور دوسری اس کی ہم شکل کئی قسموں کی۔“ پھر اسے مسلسل یہی کہا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ نکل آتی ہے۔ پھر اسے اوپر آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے، مگر اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا اور کہا جاتا ہے: ”یہ کون ہے؟“ بتایا جاتا ہے کہ یہ فلاں ہے تو کہا جاتا ہے: ”اس خبیث جان کو جو خبیث جسم میں تھی کوئی مرحبا نہیں، مذمت کی ہوئی حالت میں واپس لوٹ جا، کیونکہ تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔“ پھر اسے آسمان سے چھوڑ دیا جاتا ہے اور پھروہ قبر کی طرف لوٹ جاتی ہے۔“
فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ ﴿ۙ۹۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تو اس کی تواضع کے لیے کھولتا ہوا پانی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو کھولتے ہوئے گرم پانی کی مہمانی ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو اس کی مہمانی کھولتا پانی،
علامہ محمد حسین نجفی
تو پھر اس کی مہمانی کھولتے ہوئے پانی سے ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس کے لیے کھولتے ہوئے پانی کی مہمانی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احوال موت ٭٭

یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت، سکرات کے وقت، دنیا کی آخری ساعت میں، انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مقرب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔ فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی حدیث گزری کہ «أَيَّتُهَا الرُّوحُ الطَّيِّبَةُ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ كُنْتِ تَعْمُرِينَه، اخْرُجِي إِلَى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَان» رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح! پاک جسم والی روح! چل راحت و آرام کی طرف، چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔ «رَوْحٍ» سے مرد راحت ہے اور «رَيْحَانٍ» سے مراد آرام ہے۔ غرض دنیا کے مصائب سے راحت مل جاتی ہے ابدی سرور اور سچی خوشی اللہ کے غلام کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے وہ ایک فراخی اور وسعت دیکھتا ہے اس کے سامنے رزق اور رحمت ہوتی ہے وہ جنت عدن کی طرف لپکتا ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت کی ایک ہری بھری شاخ آتی ہے اور اس وقت مقرب اللہ کی روح قبض کی جاتی ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں مرنے سے پہلے ہی ہر مرنے والے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے (‏‏‏‏یا اللہ! ہمارے اس وقت میں تو ہماری مدد کر ہمیں ایمان سے اٹھا اور اپنی رضا مندی کی خوشخبری سنا کر سکون و راحت کے ساتھ یہاں سے لے جا آمین) گو سکرات کے وقت کی احادیث ہم سورۃ ابراہیم کی آیت «‏‏‏‏يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ» [14-ابراھیم:27] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں وارد کر چکے ہیں لیکن چونکہ یہ ان کا بہترین موقعہ ہے اس لیے یہاں ایک ٹکڑا بیان کرتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے میرے فلاں بندے کے پاس جا اور اسے میرے دربار میں لے آ، میں نے اسے رنج، راحت و آرام تکلیف، خوشی، ناخوشی غرض ہر آزمائش میں آزما لیا اور اپنی مرضی کے مطابق پایا بس اب میں اسے ابدی راحت دینا چاہتا ہوں، جا اسے میرے خاص دربار میں پیش کر۔ ملک الموت علیہ السلام پانچ سو رحمت کے فرشتے اور جنت کے کفن اور جنتی خوشبوئیں ساتھ لے کر اس کے پاس آتے ہیں گو ریحان ایک ہی ہوتا ہے لیکن سرے پر بیس قسمیں ہوتی ہیں ہر ایک کی جداگانہ مہک ہوتی ہے، سفید ریشم ساتھ ہوتا ہے، جس میں مشک کی لپٹیں آتی ہیں، الخ۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت «فَرُوْحٌ» راء کے پیش سے تھی۔ [سنن ابوداود:3991،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن تمام قاریوں کی قرأت رے کے زبر سے ہے یعنی «فَرُوْحٌ» ۔ مسند میں ہے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے رسول مقبول علیہ السلام سے پوچھا کیا مرنے کے بعد ہم آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے؟ اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روح ایک پرند ہو جائے گی، جو درختوں کے میوے چگے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو اس وقت اپنے اپنے جسم میں چلی جائے گی۔ [مسند احمد:425/6:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں ہر مومن کے لیے بہت بڑی بشارت ہے۔ مسند احمد میں بھی اس کی شاہد ایک حدیث ہے جس کی اسناد بہت بہتر ہے اور متن بھی بہت قوی ہے [مسند احمد:455/3:صحیح] ‏‏‏‏ اور صحیح روایت میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں، ساری جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی رہتی ہیں اور عرش تلے لٹکی ہوئی قندیلوں میں آ بیٹھتی ہیں۔ [صحیح مسلم:121-1887] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ ایک جنازے میں گدھے پر سوار جا رہے تھے آپ رحمہ اللہ کی عمر اس وقت بڑھاپے کی تھی، سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اسی اثناء میں آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو برا جانتا ہے، اللہ بھی اس کی ملاقات سے کراہت کرتا ہے“، صحابہ رضی اللہ عنہم یہ سن کر سر جھکائے رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روتے کیوں ہوں؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا موت کون چاہتا ہے؟ فرمایا: ”سنو سنو مطلب سکرات کے وقت سے ہے، اس وقت نیک مقرب بندے کو تو راحت و انعام اور آرام دہ جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے جس پر وہ تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو جلد اللہ سے ملے تاکہ ان نعمتوں سے مالا مال ہو جائے، پس اللہ بھی اس کی ملاقات کی تمنا کرتا ہے اور اگر بد بندہ ہے تو اسے موت کے وقت گرمی پانی اور جہنم کی مہمانی کی خبر دی جاتی ہے جس سے یہ بےزار ہو جاتا ہے اور اس کی روح روئیں روئیں میں چھپنے اور اٹکنے لگتی ہے اور یہ دل چاہتا ہے کہ کسی طرح اللہ کے حضور میں حاضر نہ ہوؤں پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:259/4:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے اگر وہ سعادت مندوں سے ہے تو موت کے فرشتے اسے سلام کہتے ہیں، تجھ پر سلامتی ہو، تو اصحاب یمین میں سے ہے، اللہ کے عذاب سے تو سلامتی پائے گا اور خود فرشتے بھی اسے سلام کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ» * «نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ» * «نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ سچے پکے توحید والوں کے پاس ان کے انتقال کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں کہ کچھ ڈر خوف نہیں، کچھ رنج و غم نہ کر، جنت تیرے لیے حسب وعدہ تیار ہے، دنیا اور آخرت میں ہم تیری حمایت کے لیے موجود ہیں، جو تمہارا جی چاہے تمہارے لیے موجود ہے، جو تمنا تم کرو گے پوری ہو کر رہے گی، غفور و رحیم اللہ کے تم ذی عزت مہمان ہو ‘۔ بخاری میں ہے یعنی تیرے لیے مسّلم ہے کہ تو اصحاب یمین میں سے ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سلام یہاں دعا کے معنی میں ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور اگر مرنے والا حق کی تکذیب کرنے والا اور ہدایت سے کھویا ہوا ہے تو اس کی ضیافت اس گرم «حَمِيم» سے ہو گی جو آنتیں اور کھال تک جھلسا دے، پھر چاروں طرف سے جہنم کی آگ گھیر لے گی جس میں جلتا بھنتا رہے گا۔ * پھر فرمایا یہ یقینی باتیں ہیں جن کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ پس اپنے بڑے رب کے نام کی تسبیح کرتا رہے۔ مسند میں ہے اس آیت «فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ» [الواقعہ:96] ‏‏‏‏ کے اترنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رکوع میں رکھو“ اور «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [سورةالأعلى87:1] ‏‏‏‏ اترنے پر فرمایا: ”اسے سجدے میں رکھو۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:869،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس نے «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» کہا اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جاتا۔ [سنن ترمذي:3464،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ صحیح بخاری کے ختم پر یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بوجھ ہیں اللہ کو بہت پیارے ہیں۔ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» [صحیح بخاری:6406] ‏‏‏‏ «الحمدللہ» سورۃ الواقعہ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ قبول فرمائے (‏‏‏‏اور ہمارے کل واقعات کا انجام بھلا کرے)۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ تَصۡلِیَۃُ جَحِیۡمٍ ﴿۹۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جہنم میں جھونکا جانا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور دوزخ میں جانا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بھڑکتی آگ میں دھنسانا
علامہ محمد حسین نجفی
اور دوزخ کی تپش (اور) اس میں داخلہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جہنم میں داخل کیا جانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احوال موت ٭٭

یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت، سکرات کے وقت، دنیا کی آخری ساعت میں، انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مقرب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔ فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی حدیث گزری کہ «أَيَّتُهَا الرُّوحُ الطَّيِّبَةُ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ كُنْتِ تَعْمُرِينَه، اخْرُجِي إِلَى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَان» رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح! پاک جسم والی روح! چل راحت و آرام کی طرف، چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔ «رَوْحٍ» سے مرد راحت ہے اور «رَيْحَانٍ» سے مراد آرام ہے۔ غرض دنیا کے مصائب سے راحت مل جاتی ہے ابدی سرور اور سچی خوشی اللہ کے غلام کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے وہ ایک فراخی اور وسعت دیکھتا ہے اس کے سامنے رزق اور رحمت ہوتی ہے وہ جنت عدن کی طرف لپکتا ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت کی ایک ہری بھری شاخ آتی ہے اور اس وقت مقرب اللہ کی روح قبض کی جاتی ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں مرنے سے پہلے ہی ہر مرنے والے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے (‏‏‏‏یا اللہ! ہمارے اس وقت میں تو ہماری مدد کر ہمیں ایمان سے اٹھا اور اپنی رضا مندی کی خوشخبری سنا کر سکون و راحت کے ساتھ یہاں سے لے جا آمین) گو سکرات کے وقت کی احادیث ہم سورۃ ابراہیم کی آیت «‏‏‏‏يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ» [14-ابراھیم:27] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں وارد کر چکے ہیں لیکن چونکہ یہ ان کا بہترین موقعہ ہے اس لیے یہاں ایک ٹکڑا بیان کرتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے میرے فلاں بندے کے پاس جا اور اسے میرے دربار میں لے آ، میں نے اسے رنج، راحت و آرام تکلیف، خوشی، ناخوشی غرض ہر آزمائش میں آزما لیا اور اپنی مرضی کے مطابق پایا بس اب میں اسے ابدی راحت دینا چاہتا ہوں، جا اسے میرے خاص دربار میں پیش کر۔ ملک الموت علیہ السلام پانچ سو رحمت کے فرشتے اور جنت کے کفن اور جنتی خوشبوئیں ساتھ لے کر اس کے پاس آتے ہیں گو ریحان ایک ہی ہوتا ہے لیکن سرے پر بیس قسمیں ہوتی ہیں ہر ایک کی جداگانہ مہک ہوتی ہے، سفید ریشم ساتھ ہوتا ہے، جس میں مشک کی لپٹیں آتی ہیں، الخ۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت «فَرُوْحٌ» راء کے پیش سے تھی۔ [سنن ابوداود:3991،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن تمام قاریوں کی قرأت رے کے زبر سے ہے یعنی «فَرُوْحٌ» ۔ مسند میں ہے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے رسول مقبول علیہ السلام سے پوچھا کیا مرنے کے بعد ہم آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے؟ اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روح ایک پرند ہو جائے گی، جو درختوں کے میوے چگے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو اس وقت اپنے اپنے جسم میں چلی جائے گی۔ [مسند احمد:425/6:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں ہر مومن کے لیے بہت بڑی بشارت ہے۔ مسند احمد میں بھی اس کی شاہد ایک حدیث ہے جس کی اسناد بہت بہتر ہے اور متن بھی بہت قوی ہے [مسند احمد:455/3:صحیح] ‏‏‏‏ اور صحیح روایت میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں، ساری جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی رہتی ہیں اور عرش تلے لٹکی ہوئی قندیلوں میں آ بیٹھتی ہیں۔ [صحیح مسلم:121-1887] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ ایک جنازے میں گدھے پر سوار جا رہے تھے آپ رحمہ اللہ کی عمر اس وقت بڑھاپے کی تھی، سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اسی اثناء میں آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو برا جانتا ہے، اللہ بھی اس کی ملاقات سے کراہت کرتا ہے“، صحابہ رضی اللہ عنہم یہ سن کر سر جھکائے رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روتے کیوں ہوں؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا موت کون چاہتا ہے؟ فرمایا: ”سنو سنو مطلب سکرات کے وقت سے ہے، اس وقت نیک مقرب بندے کو تو راحت و انعام اور آرام دہ جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے جس پر وہ تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو جلد اللہ سے ملے تاکہ ان نعمتوں سے مالا مال ہو جائے، پس اللہ بھی اس کی ملاقات کی تمنا کرتا ہے اور اگر بد بندہ ہے تو اسے موت کے وقت گرمی پانی اور جہنم کی مہمانی کی خبر دی جاتی ہے جس سے یہ بےزار ہو جاتا ہے اور اس کی روح روئیں روئیں میں چھپنے اور اٹکنے لگتی ہے اور یہ دل چاہتا ہے کہ کسی طرح اللہ کے حضور میں حاضر نہ ہوؤں پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:259/4:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے اگر وہ سعادت مندوں سے ہے تو موت کے فرشتے اسے سلام کہتے ہیں، تجھ پر سلامتی ہو، تو اصحاب یمین میں سے ہے، اللہ کے عذاب سے تو سلامتی پائے گا اور خود فرشتے بھی اسے سلام کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ» * «نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ» * «نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ سچے پکے توحید والوں کے پاس ان کے انتقال کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں کہ کچھ ڈر خوف نہیں، کچھ رنج و غم نہ کر، جنت تیرے لیے حسب وعدہ تیار ہے، دنیا اور آخرت میں ہم تیری حمایت کے لیے موجود ہیں، جو تمہارا جی چاہے تمہارے لیے موجود ہے، جو تمنا تم کرو گے پوری ہو کر رہے گی، غفور و رحیم اللہ کے تم ذی عزت مہمان ہو ‘۔ بخاری میں ہے یعنی تیرے لیے مسّلم ہے کہ تو اصحاب یمین میں سے ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سلام یہاں دعا کے معنی میں ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور اگر مرنے والا حق کی تکذیب کرنے والا اور ہدایت سے کھویا ہوا ہے تو اس کی ضیافت اس گرم «حَمِيم» سے ہو گی جو آنتیں اور کھال تک جھلسا دے، پھر چاروں طرف سے جہنم کی آگ گھیر لے گی جس میں جلتا بھنتا رہے گا۔ * پھر فرمایا یہ یقینی باتیں ہیں جن کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ پس اپنے بڑے رب کے نام کی تسبیح کرتا رہے۔ مسند میں ہے اس آیت «فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ» [الواقعہ:96] ‏‏‏‏ کے اترنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رکوع میں رکھو“ اور «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [سورةالأعلى87:1] ‏‏‏‏ اترنے پر فرمایا: ”اسے سجدے میں رکھو۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:869،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس نے «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» کہا اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جاتا۔ [سنن ترمذي:3464،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ صحیح بخاری کے ختم پر یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بوجھ ہیں اللہ کو بہت پیارے ہیں۔ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» [صحیح بخاری:6406] ‏‏‏‏ «الحمدللہ» سورۃ الواقعہ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ قبول فرمائے (‏‏‏‏اور ہمارے کل واقعات کا انجام بھلا کرے)۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ حَقُّ الۡیَقِیۡنِ ﴿ۚ۹۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ سب کچھ قطعی حق ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ خبر سراسر حق اور قطعاً یقینی ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ بیشک اعلیٰ درجہ کی یقینی بات ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(جو کچھ بیان ہوا) بےشک یہ حق الیقین (قطعی حق) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلا شبہ یقینا یہی ہے وہ سچ جو یقینی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احوال موت ٭٭

یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت، سکرات کے وقت، دنیا کی آخری ساعت میں، انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مقرب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔ فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی حدیث گزری کہ «أَيَّتُهَا الرُّوحُ الطَّيِّبَةُ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ كُنْتِ تَعْمُرِينَه، اخْرُجِي إِلَى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَان» رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح! پاک جسم والی روح! چل راحت و آرام کی طرف، چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔ «رَوْحٍ» سے مرد راحت ہے اور «رَيْحَانٍ» سے مراد آرام ہے۔ غرض دنیا کے مصائب سے راحت مل جاتی ہے ابدی سرور اور سچی خوشی اللہ کے غلام کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے وہ ایک فراخی اور وسعت دیکھتا ہے اس کے سامنے رزق اور رحمت ہوتی ہے وہ جنت عدن کی طرف لپکتا ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت کی ایک ہری بھری شاخ آتی ہے اور اس وقت مقرب اللہ کی روح قبض کی جاتی ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں مرنے سے پہلے ہی ہر مرنے والے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے (‏‏‏‏یا اللہ! ہمارے اس وقت میں تو ہماری مدد کر ہمیں ایمان سے اٹھا اور اپنی رضا مندی کی خوشخبری سنا کر سکون و راحت کے ساتھ یہاں سے لے جا آمین) گو سکرات کے وقت کی احادیث ہم سورۃ ابراہیم کی آیت «‏‏‏‏يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ» [14-ابراھیم:27] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں وارد کر چکے ہیں لیکن چونکہ یہ ان کا بہترین موقعہ ہے اس لیے یہاں ایک ٹکڑا بیان کرتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے میرے فلاں بندے کے پاس جا اور اسے میرے دربار میں لے آ، میں نے اسے رنج، راحت و آرام تکلیف، خوشی، ناخوشی غرض ہر آزمائش میں آزما لیا اور اپنی مرضی کے مطابق پایا بس اب میں اسے ابدی راحت دینا چاہتا ہوں، جا اسے میرے خاص دربار میں پیش کر۔ ملک الموت علیہ السلام پانچ سو رحمت کے فرشتے اور جنت کے کفن اور جنتی خوشبوئیں ساتھ لے کر اس کے پاس آتے ہیں گو ریحان ایک ہی ہوتا ہے لیکن سرے پر بیس قسمیں ہوتی ہیں ہر ایک کی جداگانہ مہک ہوتی ہے، سفید ریشم ساتھ ہوتا ہے، جس میں مشک کی لپٹیں آتی ہیں، الخ۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت «فَرُوْحٌ» راء کے پیش سے تھی۔ [سنن ابوداود:3991،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن تمام قاریوں کی قرأت رے کے زبر سے ہے یعنی «فَرُوْحٌ» ۔ مسند میں ہے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے رسول مقبول علیہ السلام سے پوچھا کیا مرنے کے بعد ہم آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے؟ اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روح ایک پرند ہو جائے گی، جو درختوں کے میوے چگے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو اس وقت اپنے اپنے جسم میں چلی جائے گی۔ [مسند احمد:425/6:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں ہر مومن کے لیے بہت بڑی بشارت ہے۔ مسند احمد میں بھی اس کی شاہد ایک حدیث ہے جس کی اسناد بہت بہتر ہے اور متن بھی بہت قوی ہے [مسند احمد:455/3:صحیح] ‏‏‏‏ اور صحیح روایت میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں، ساری جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی رہتی ہیں اور عرش تلے لٹکی ہوئی قندیلوں میں آ بیٹھتی ہیں۔ [صحیح مسلم:121-1887] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ ایک جنازے میں گدھے پر سوار جا رہے تھے آپ رحمہ اللہ کی عمر اس وقت بڑھاپے کی تھی، سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اسی اثناء میں آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو برا جانتا ہے، اللہ بھی اس کی ملاقات سے کراہت کرتا ہے“، صحابہ رضی اللہ عنہم یہ سن کر سر جھکائے رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روتے کیوں ہوں؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا موت کون چاہتا ہے؟ فرمایا: ”سنو سنو مطلب سکرات کے وقت سے ہے، اس وقت نیک مقرب بندے کو تو راحت و انعام اور آرام دہ جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے جس پر وہ تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو جلد اللہ سے ملے تاکہ ان نعمتوں سے مالا مال ہو جائے، پس اللہ بھی اس کی ملاقات کی تمنا کرتا ہے اور اگر بد بندہ ہے تو اسے موت کے وقت گرمی پانی اور جہنم کی مہمانی کی خبر دی جاتی ہے جس سے یہ بےزار ہو جاتا ہے اور اس کی روح روئیں روئیں میں چھپنے اور اٹکنے لگتی ہے اور یہ دل چاہتا ہے کہ کسی طرح اللہ کے حضور میں حاضر نہ ہوؤں پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:259/4:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے اگر وہ سعادت مندوں سے ہے تو موت کے فرشتے اسے سلام کہتے ہیں، تجھ پر سلامتی ہو، تو اصحاب یمین میں سے ہے، اللہ کے عذاب سے تو سلامتی پائے گا اور خود فرشتے بھی اسے سلام کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ» * «نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ» * «نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ سچے پکے توحید والوں کے پاس ان کے انتقال کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں کہ کچھ ڈر خوف نہیں، کچھ رنج و غم نہ کر، جنت تیرے لیے حسب وعدہ تیار ہے، دنیا اور آخرت میں ہم تیری حمایت کے لیے موجود ہیں، جو تمہارا جی چاہے تمہارے لیے موجود ہے، جو تمنا تم کرو گے پوری ہو کر رہے گی، غفور و رحیم اللہ کے تم ذی عزت مہمان ہو ‘۔ بخاری میں ہے یعنی تیرے لیے مسّلم ہے کہ تو اصحاب یمین میں سے ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سلام یہاں دعا کے معنی میں ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور اگر مرنے والا حق کی تکذیب کرنے والا اور ہدایت سے کھویا ہوا ہے تو اس کی ضیافت اس گرم «حَمِيم» سے ہو گی جو آنتیں اور کھال تک جھلسا دے، پھر چاروں طرف سے جہنم کی آگ گھیر لے گی جس میں جلتا بھنتا رہے گا۔ * پھر فرمایا یہ یقینی باتیں ہیں جن کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ پس اپنے بڑے رب کے نام کی تسبیح کرتا رہے۔ مسند میں ہے اس آیت «فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ» [الواقعہ:96] ‏‏‏‏ کے اترنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رکوع میں رکھو“ اور «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [سورةالأعلى87:1] ‏‏‏‏ اترنے پر فرمایا: ”اسے سجدے میں رکھو۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:869،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس نے «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» کہا اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جاتا۔ [سنن ترمذي:3464،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ صحیح بخاری کے ختم پر یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بوجھ ہیں اللہ کو بہت پیارے ہیں۔ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» [صحیح بخاری:6406] ‏‏‏‏ «الحمدللہ» سورۃ الواقعہ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ قبول فرمائے (‏‏‏‏اور ہمارے کل واقعات کا انجام بھلا کرے)۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 96،95){ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِيْنِ …: ” حَقُّ “} موصوف ہے جو اپنی صفت {” الْيَقِيْنِ “} کی طرف مضاف ہے، یعنی یہ ایسی ثابت شدہ بات اور ایسا سچ ہے جو یقینی ہے۔ ان دونوں آیات کے لیے دیکھیے سورۂ حاقہ کی آخری دو آیات کی تفسیر۔
فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الۡعَظِیۡمِ ﴿٪۹۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تواپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر
احمد رضا خان بریلوی
تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بولو
علامہ محمد حسین نجفی
پس اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح کرو۔
عبدالسلام بن محمد
سو تو اپنے بہت عظمت والے رب کے نام کی تسبیح کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احوال موت ٭٭

یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت، سکرات کے وقت، دنیا کی آخری ساعت میں، انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مقرب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔ فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی حدیث گزری کہ «أَيَّتُهَا الرُّوحُ الطَّيِّبَةُ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ كُنْتِ تَعْمُرِينَه، اخْرُجِي إِلَى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَان» رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح! پاک جسم والی روح! چل راحت و آرام کی طرف، چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔ «رَوْحٍ» سے مرد راحت ہے اور «رَيْحَانٍ» سے مراد آرام ہے۔ غرض دنیا کے مصائب سے راحت مل جاتی ہے ابدی سرور اور سچی خوشی اللہ کے غلام کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے وہ ایک فراخی اور وسعت دیکھتا ہے اس کے سامنے رزق اور رحمت ہوتی ہے وہ جنت عدن کی طرف لپکتا ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت کی ایک ہری بھری شاخ آتی ہے اور اس وقت مقرب اللہ کی روح قبض کی جاتی ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں مرنے سے پہلے ہی ہر مرنے والے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے (‏‏‏‏یا اللہ! ہمارے اس وقت میں تو ہماری مدد کر ہمیں ایمان سے اٹھا اور اپنی رضا مندی کی خوشخبری سنا کر سکون و راحت کے ساتھ یہاں سے لے جا آمین) گو سکرات کے وقت کی احادیث ہم سورۃ ابراہیم کی آیت «‏‏‏‏يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ» [14-ابراھیم:27] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں وارد کر چکے ہیں لیکن چونکہ یہ ان کا بہترین موقعہ ہے اس لیے یہاں ایک ٹکڑا بیان کرتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرماتا ہے میرے فلاں بندے کے پاس جا اور اسے میرے دربار میں لے آ، میں نے اسے رنج، راحت و آرام تکلیف، خوشی، ناخوشی غرض ہر آزمائش میں آزما لیا اور اپنی مرضی کے مطابق پایا بس اب میں اسے ابدی راحت دینا چاہتا ہوں، جا اسے میرے خاص دربار میں پیش کر۔ ملک الموت علیہ السلام پانچ سو رحمت کے فرشتے اور جنت کے کفن اور جنتی خوشبوئیں ساتھ لے کر اس کے پاس آتے ہیں گو ریحان ایک ہی ہوتا ہے لیکن سرے پر بیس قسمیں ہوتی ہیں ہر ایک کی جداگانہ مہک ہوتی ہے، سفید ریشم ساتھ ہوتا ہے، جس میں مشک کی لپٹیں آتی ہیں، الخ۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت «فَرُوْحٌ» راء کے پیش سے تھی۔ [سنن ابوداود:3991،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن تمام قاریوں کی قرأت رے کے زبر سے ہے یعنی «فَرُوْحٌ» ۔ مسند میں ہے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے رسول مقبول علیہ السلام سے پوچھا کیا مرنے کے بعد ہم آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے؟ اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روح ایک پرند ہو جائے گی، جو درختوں کے میوے چگے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو اس وقت اپنے اپنے جسم میں چلی جائے گی۔ [مسند احمد:425/6:صحیح] ‏‏‏‏ اس حدیث میں ہر مومن کے لیے بہت بڑی بشارت ہے۔ مسند احمد میں بھی اس کی شاہد ایک حدیث ہے جس کی اسناد بہت بہتر ہے اور متن بھی بہت قوی ہے [مسند احمد:455/3:صحیح] ‏‏‏‏ اور صحیح روایت میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں، ساری جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی رہتی ہیں اور عرش تلے لٹکی ہوئی قندیلوں میں آ بیٹھتی ہیں۔ [صحیح مسلم:121-1887] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ رحمہ اللہ ایک جنازے میں گدھے پر سوار جا رہے تھے آپ رحمہ اللہ کی عمر اس وقت بڑھاپے کی تھی، سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اسی اثناء میں آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو برا جانتا ہے، اللہ بھی اس کی ملاقات سے کراہت کرتا ہے“، صحابہ رضی اللہ عنہم یہ سن کر سر جھکائے رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روتے کیوں ہوں؟“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا موت کون چاہتا ہے؟ فرمایا: ”سنو سنو مطلب سکرات کے وقت سے ہے، اس وقت نیک مقرب بندے کو تو راحت و انعام اور آرام دہ جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے جس پر وہ تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو جلد اللہ سے ملے تاکہ ان نعمتوں سے مالا مال ہو جائے، پس اللہ بھی اس کی ملاقات کی تمنا کرتا ہے اور اگر بد بندہ ہے تو اسے موت کے وقت گرمی پانی اور جہنم کی مہمانی کی خبر دی جاتی ہے جس سے یہ بےزار ہو جاتا ہے اور اس کی روح روئیں روئیں میں چھپنے اور اٹکنے لگتی ہے اور یہ دل چاہتا ہے کہ کسی طرح اللہ کے حضور میں حاضر نہ ہوؤں پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔‏‏‏‏“ [مسند احمد:259/4:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے اگر وہ سعادت مندوں سے ہے تو موت کے فرشتے اسے سلام کہتے ہیں، تجھ پر سلامتی ہو، تو اصحاب یمین میں سے ہے، اللہ کے عذاب سے تو سلامتی پائے گا اور خود فرشتے بھی اسے سلام کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ» * «نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ» * «نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ‏‏‏‏ یعنی ’ سچے پکے توحید والوں کے پاس ان کے انتقال کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں کہ کچھ ڈر خوف نہیں، کچھ رنج و غم نہ کر، جنت تیرے لیے حسب وعدہ تیار ہے، دنیا اور آخرت میں ہم تیری حمایت کے لیے موجود ہیں، جو تمہارا جی چاہے تمہارے لیے موجود ہے، جو تمنا تم کرو گے پوری ہو کر رہے گی، غفور و رحیم اللہ کے تم ذی عزت مہمان ہو ‘۔ بخاری میں ہے یعنی تیرے لیے مسّلم ہے کہ تو اصحاب یمین میں سے ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سلام یہاں دعا کے معنی میں ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور اگر مرنے والا حق کی تکذیب کرنے والا اور ہدایت سے کھویا ہوا ہے تو اس کی ضیافت اس گرم «حَمِيم» سے ہو گی جو آنتیں اور کھال تک جھلسا دے، پھر چاروں طرف سے جہنم کی آگ گھیر لے گی جس میں جلتا بھنتا رہے گا۔ * پھر فرمایا یہ یقینی باتیں ہیں جن کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ پس اپنے بڑے رب کے نام کی تسبیح کرتا رہے۔ مسند میں ہے اس آیت «فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ» [الواقعہ:96] ‏‏‏‏ کے اترنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رکوع میں رکھو“ اور «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [سورةالأعلى87:1] ‏‏‏‏ اترنے پر فرمایا: ”اسے سجدے میں رکھو۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:869،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس نے «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» کہا اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جاتا۔ [سنن ترمذي:3464،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ صحیح بخاری کے ختم پر یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بوجھ ہیں اللہ کو بہت پیارے ہیں۔ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» [صحیح بخاری:6406] ‏‏‏‏ «الحمدللہ» سورۃ الواقعہ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ قبول فرمائے (‏‏‏‏اور ہمارے کل واقعات کا انجام بھلا کرے)۔
96-1حدیث میں آتا ہے کہ دو کلمے اللہ کو بہت محبوب ہیں، زبان پر ہلکے اور وزن میں بھاری۔ سُبْحَان اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ سُبْحَان اللّٰہِ الْعَظِیْمِ (صحیح بخاری)۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔