بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الواقعة — Surah Waqiah
آیت نمبر 60
کل آیات: 96
قرآن کریم الواقعة آیت 60
آیت نمبر: 60 — سورۃ الواقعة islamicurdubooks.com ↗
نَحۡنُ قَدَّرۡنَا بَیۡنَکُمُ الۡمَوۡتَ وَ مَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِیۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾
ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے، اور ہم اِس سے عاجز نہیں ہیں
ہم ہی نے تم میں موت کو متعین کر دیا ہے اور ہم اس سے ہارے ہوئے نہیں ہیں
ہم نے تم میں مرنا ٹھہرایا اور ہم اس سے ہارے نہیں،
ہم نے ہی تمہارے درمیان موت (کا نظام) مقرر کیا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں۔
ہم نے ہی تمھارے درمیان موت کا وقت مقرر کیا ہے اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

منکرین قیامت کو جواب ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟ یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏‏‏‏ اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے، سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] ‏‏‏‏ تک ارشاد فرمایا یعنی ’ ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے ‘۔ سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] ‏‏‏‏ سے آخر سورۃ تک، یعنی ’ کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ ‘

📖 احسن البیان

60-1یعنی ہر شخص کی موت کا وقت مقرر کردیا ہے، جس سے کوئی تجاوز نہیں کرسکتا، چناچہ کوئی بچپن میں، کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا ہے 60-2یا مغلوب اور عاجز نہیں ہیں، بلکہ قادر ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 60) ➊ {نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ:} یعنی تمھاری پیدائش کی طرح تمھاری موت بھی ہمارے ہی اختیار میں ہے اور ہم ہی نے یہ طے کر دیا ہے کہ کس کی موت کس وقت ہو گی، ماں کے پیٹ میں مر جائے گا یا پیدا ہوتے ہی یا جوان ہو کر یا ادھیڑ عمر میں یا ارذل العمر کو پہنچ کر۔ اس سے پہلے نہ کوئی اسے مار سکتا ہے اور نہ اس کے بعد کوئی اسے زندہ رکھ سکتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ مومن (۶۷)، فاطر (۱۱)، منافقون (۱۱)، اعراف (۳۴)، نوح (۴) اورسورۂ آل عمران (۴۵)۔ ➋ { ” بَيْنَكُمْ“} کے لفظ میں ایک اور معنی بھی ہے کہ موت ایسی چیز ہے جو تمھارے درمیان رکھ دی گئی ہے، سب میں تقسیم ہو گی مگر ایک وقت میں نہیں، بلکہ باری باری ہر ایک پر آئے گی، جیسے کوئی مال لوگوں میں تقسیم ہونا ہو اور انھیں اس کے لیے بلایا جائے تو وہ سب اس کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب ان کے نام کی آواز آئے اور انھیں ان کا حصہ ملے، مگر کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ اس کی باری کب آئے گی۔ ➌ { وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِيْنَ:سَابِقٌ “} جو آگے نکل جائے، غالب آ جائے۔ {”مَسْبُوْقٌ“} جو پیچھے رہ جائے، مغلوب ہو جائے، عاجز رہ جائے۔ باء نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور ہم ہر گز عاجز نہیں۔“
← پچھلی آیت (59) پوری سورۃ اگلی آیت (61) →