«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ’ اس دن ہو پڑے گی ‘، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ’ اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ’ سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے ‘، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ’ جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے ‘۔ قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1] اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ’ لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔ «هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ «مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین» تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ’ پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ’ جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں ‘، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ’ اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے ‘، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
جب قیامت قائم ہوجائے گی (1)
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَدْ شِبْتَ، قَالَ شَيَّبَتْنِيْ هُوْدٌ وَالْوَاقِعَةُ وَالْمُرْسَلاَتُ وَ «عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ» وَ «اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ» ] [ ترمذي، التفسیر، باب و من سورۃ الواقعۃ: ۳۲۹۷۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۹۵۵ ] ”یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ہود، واقعہ، مرسلات، نبا اور تکویر نے بوڑھا کر دیا۔“ بہت سے لوگ روزانہ سورۂ واقعہ کی تلاوت اس حدیث کی وجہ سے کرتے ہیں جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ قَرَأَ سُوْرَةَ الْوَاقِعَةِ كُلَّ لَيْلَةٍ لَمْ تُصِبْهُ فَاقَةٌ أَبَدًا ] ”جو شخص ہر رات سورۂ واقعہ پڑھے اسے کبھی فاقہ نہیں آئے گا۔“ مگر ایسی کوئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ”سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ (ح: ۲۸۹ تا ۲۹۱)“ میں ایسی تمام روایات کا ضعف بیان فرمایا ہے۔ (آیت 1){ اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ: ” الْوَاقِعَةُ “} قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، جیسے {” الطَّاۤمَّةُ، الْاٰزِفَةِ، الصَّاخَّةُ “} اور {” الْقَارِعَةُ “} اس کے نام ہیں۔ ان میں ”تاء“ مبالغہ کے لیے ہے۔ اس کا نام {” الْوَاقِعَةُ “} اس کے یقینی ہونے کی وجہ سے رکھا گیا ہے، کیونکہ وہ ہر حال میں ہو کر رہنے والی ہے۔ یعنی جب قیامت قائم ہو گی، جیسا کہ سورۂ حاقہ میں ہے: «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ (13) وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً (14) فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [ الحاقۃ: ۱۳ تا ۱۵ ] ”پس جب صور میں پھونکا جائے گا، ایک بار پھونکنا۔ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا، پس دونوں ٹکرا دیے جائیں گے، ایک بار ٹکرا دینا۔ تو اس دن ہونے والی ہو جائے گی۔“
اس وقت اس کے ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی،
علامہ محمد حسین نجفی
جس کے واقع ہو نے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ’ اس دن ہو پڑے گی ‘، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ’ اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ’ سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے ‘، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ’ جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے ‘۔ قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1] اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ’ لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔ «هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ «مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین» تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ’ پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ’ جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں ‘، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ’ اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے ‘، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 2){ لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ: ” كَاذِبَةٌ “} مصدر ہے بمعنی {”كِذْبٌ“} جیسے {”اَلْعَافِيَةُ“} بمعنی {” مُعَافَاةٌ “} اور {”اَلْعََاقِبَةُ“} بمعنی {”عُقْبٰي“} مصادر ہیں۔ یعنی اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں۔
وہ (کسی کو) پست کرنے والی اور (کسی کو) بلند کرنے والی ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
پست کرنے والی، بلند کرنے والی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ’ اس دن ہو پڑے گی ‘، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ’ اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ’ سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے ‘، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ’ جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے ‘۔ قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1] اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ’ لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔ «هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ «مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین» تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ’ پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ’ جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں ‘، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ’ اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے ‘، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
3۔ 1 پستی اور بلندی سے مطلب ذلت اور عزت ہے۔ یعنی اللہ کے اطاعت گزار بندوں کو یہ بلند اور نافرمانوں کو پست کرے گی، چاہے دنیا میں معاملہ اس سے برعکس ہو،۔
(آیت 3) {خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ:} یعنی وہ بڑے بڑے متکبروں کو جو دنیا میں معزز اور بلند مرتبہ سمجھے جاتے تھے، گرا کر جہنم میں پھینک دے گی اور مستضعفین اہلِ ایمان کو جو دنیا میں حقیر اور کم مرتبہ سمجھے جاتے تھے، اٹھا کر جنت کے اعلیٰ مراتب تک پہنچا دے گی۔ مزید دیکھیے سورۂ مطففین (۲۹ تا ۳۵)۔
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ’ اس دن ہو پڑے گی ‘، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ’ اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ’ سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے ‘، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ’ جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے ‘۔ قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1] اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ’ لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔ «هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ «مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین» تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ’ پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ’ جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں ‘، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ’ اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے ‘، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 4){ اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا:} يہ {” اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ “} سے بدل ہے۔ {”رَجَّ يَرُجُّ رَجًّا“} (ن) شدید حرکت دینا۔ {” رَجًّا “} مصدر کے ساتھ تاکید میں مبالغہ مقصود ہے۔ یہ وہی بات ہے جو {” اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا “} اور {” اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ “} میں بیان فرمائی گئی ہے۔
اور پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے،خوب ریزہ ریزہ کیا جانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ’ اس دن ہو پڑے گی ‘، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ’ اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ’ سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے ‘، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ’ جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے ‘۔ قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1] اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ’ لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔ «هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ «مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین» تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ’ پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ’ جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں ‘، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ’ اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے ‘، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
5۔ 1 رَجًا کے معنی حرکت و اضطراب (زلزلہ) اور بس کے معنی ریزہ ریزہ ہوجانے کے ہیں۔
(آیت 5) {وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا: ”بَسَّ يَبُسُّ بَسًّا“} (ن) ریزہ ریزہ کرنا۔ {” بَسًّا “} مصدر کے ساتھ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرنے میں مبالغے کا اظہار مقصود ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا (105) فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا (106) لَّا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًا» [ طٰہٰ: ۱۰۵ تا ۱۰۷ ] ”اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھیں گے تو توکہہ دے میرا رب انھیں اڑا کر بکھیر دے گا۔ پھر انھیں ایک چٹیل میدان بنا کرچھوڑے گا۔ جس میں تو نہ کوئی کجی دیکھے گا اور نہ کوئی ابھری جگہ۔“
تو ہوجائیں گے جیسے روزن کی دھوپ میں غبار کے باریک ذرے پھیلے ہوئے
علامہ محمد حسین نجفی
(اور) پراگندہ غبار کی طرح ہو جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پس وہ پھیلا ہواغبار بن جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ’ اس دن ہو پڑے گی ‘، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ’ اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ’ سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے ‘، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ’ جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے ‘۔ قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1] اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ’ لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔ «هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ «مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین» تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ’ پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ’ جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں ‘، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ’ اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے ‘، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6) ➊ {فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّا: ” هَبَآءً “} غبار کے ان ذرات کو کہتے ہیں جو روشن دان سے کمرے میں آنے والی دھوپ میں چمک رہے ہوتے ہیں، پکڑنا چاہیں تو کچھ ہاتھ نہیں آتا۔{ ”بَثَّ يَبُثُّ بَثًّا“} (ن) پھیلانا۔ {”اِنْبَثَّ اِنْبِثَاثًا“} (انفعال) پھیلنا۔ {” مُنْۢبَثًّا “} اسم فاعل ہے، پھیلنے والا۔ قیامت کے دن پہاڑوں پر گزرنے والے احوال کے لیے دیکھیے سورۂ نبا کی آیت (۲۰) کی تفسیر۔ ➋ ان آیات میں {” اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ “} سے لے کر {” وَ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً “} تک بعض واقعات صور میں پہلے نفخہ کے وقت کے بیان فرمائے ہیں، جیسے {” اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا “} اور {” وَ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا “} ہے اور بعض دوسرے نفخہ کے وقت کے ہیں، جیسے {” خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ “} اور {” وَ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً “} اور بعض دونوں نفخوں میں مشترک ہیں، جیسے {” اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ “} اور{” لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ “} ہے۔ چونکہ پہلے اور دوسرے نفخے کا سارا وقت قیامت ہی کا ہے، اس لیے اس کے ہر جز کو ہر واقعہ کا وقت کہا جا سکتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں عموماً دونوں نفخوں کے نتیجے میں واقع ہونے والے معاملات اکٹھے ہی ذکر کیے گئے ہیں۔
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ’ اس دن ہو پڑے گی ‘، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ’ اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ’ سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے ‘، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ’ جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے ‘۔ قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1] اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ’ لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔ «هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ «مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین» تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ’ پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ’ جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں ‘، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ’ اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے ‘، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 7) {وَ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً:} یہ تمام لوگوں کو خطاب ہے، کیونکہ قیامت کے دن سب لوگ ان تین قسموں میں تقسیم ہوں گے، سابقون، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال۔ سورت کے آخر میں موت کے وقت بھی لوگوں کی یہی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں۔
دائیں بازو والے، سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس داہنے ہاتھ والے کیسے اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے
احمد رضا خان بریلوی
تو دہنی طرف والے کیسے دہنی طرف والے
علامہ محمد حسین نجفی
پس (ایک قِسم) دائیں ہاتھ والوں کی ہوگی وہ دائیں ہاتھ والے کیا اچھے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
پس دائیں ہاتھ والے، کیا (خوب) ہیں دائیں ہاتھ والے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ’ اس دن ہو پڑے گی ‘، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ’ اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ’ سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے ‘، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ’ جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے ‘۔ قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1] اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ’ لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔ «هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ «مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین» تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ’ پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ’ جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں ‘، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ’ اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے ‘، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
8۔ 1 اس سے عام مومنین مراد ہیں جن کو ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھوں میں دیئے جائیں گے جو ان کی خوش بختی کی نشانی ہوگی۔
(آیت 9،8) {فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ …: ”أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ“} مبتدا ہے اور {” مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ “} جملہ ہو کر خبر ہے۔ دائیں ہاتھ والے جنھیں دائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیے جائیں گے۔ (دیکھیے حاقہ: ۱۹) استفہام سے مراد ان کی عظمتِ شان کا اظہار ہے، یعنی وہ اتنی بلند شان والے ہیں کہ ان کے متعلق سوال کیا جاتا ہے کہ {” أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ “} کیا ہیں۔ یہاں ان کی شان اجمالاً بیان ہوئی ہے، تفصیل آگے {” وَ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ مَاۤ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ “} میں آ رہی ہے۔ اسی طرح {” وَ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِ “} میں بائیں ہاتھ والوں کی بری حالت کا اظہار مقصود ہے کہ وہ کیا ہی بری ہے، تفصیل اس کی {” وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ “} میں آ رہی ہے۔
اور بائیں بازو والے، تو بائیں بازو والوں (کی بد نصیبی کا) کا کیا ٹھکانا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بائیں ہاتھ والے کیا حال ہے بائیں ہاتھ والوں کا
احمد رضا خان بریلوی
اور بائیں طرف والے کیسے بائیں طرف والے
علامہ محمد حسین نجفی
اور(دوسری قِسم) بائیں ہاتھ والوں کی ہوگی اور بائیں ہاتھ والے کیا برے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
اور بائیں ہاتھ والے ،کیا (برے) ہیں بائیں ہاتھ والے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ’ اس دن ہو پڑے گی ‘، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ’ اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ’ سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے ‘، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ’ جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے ‘۔ قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1] اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ’ لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔ «هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ «مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین» تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ’ پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ’ جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں ‘، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ’ اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے ‘، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
9۔ 1 اس سے مراد کافر ہیں جن کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔
اور (تیسری قِسم) سبقت کرنے والوں کی ہوگی وہ تو سبقت کرنے والے ہی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو پہل کرنے والے ہیں، وہی آگے بڑھنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ واقعہ ٭٭
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ’ اس دن ہو پڑے گی ‘، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ’ اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ’ سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے ‘، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ’ جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے ‘۔ قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1] اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ’ لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔ «هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ «مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین» تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ’ پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ’ جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں ‘، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ’ اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے ‘، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
10۔ 1 ان سے مراد خواص مومنین ہیں، یہ تیسری قسم ہے جو ایمان قبول کرنے میں سبقت کرنے اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو قرب خاص سے نوازے گا، یہ ترکیب ایسے ہی ہے، جیسے کہتے ہیں، تو تو ہے اور زید زید، اس میں گویا زید کی اہمیت اور فضیلت کا بیان ہے۔
(آیت 10) {وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ:} اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ پہلے {” السّٰبِقُوْنَ “} سے مراد عمل میں سبقت والے اور دوسرے {” السّٰبِقُوْنَ “} سے مراد درجے میں سبقت لینے والے ہیں۔ یعنی جو لوگ ایمان لانے میں اور اعمال صالحہ میں دوسروں سے پہل کرنے والے اور آگے بڑھنے والے ہیں وہ جنت کے داخلے میں بھی دوسروں سے پہلے اور اس کے مراتب میں دوسروں سے آگے ہوں گے۔ دوسرا مطلب یہ کہ دونوں {” السّٰبِقُوْنَ “} سے مراد ایک ہی ہے اور مقصود ان کی شان کا بیان ہے، جیسے کہا جاتا ہے: {”أَنْتَ أَنْتَ“} کہ تم، تم ہی ہو، تمھارا کیا کہنا، کوئی اور تمھارے جیسا نہیں اور جیسے شاعر نے کہا ہے: {أَنَا أَبُو النَّجْمِ وَ شِعْرِيْ شِعْرِيْ} ”میں ابو النجم ہوں اور میرا شعر میرا ہی شعر ہے۔“ یعنی میرے شعر کی کیا بات ہے۔ یعنی سابقون سابقون ہی ہیں، کوئی اور ان کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ’ اس دن ہو پڑے گی ‘، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ’ اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ’ سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے ‘، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ’ جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے ‘۔ قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1] اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ’ لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔ «هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ «مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین» تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ’ پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ’ جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں ‘، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ’ اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے ‘، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12،11){ اُولٰٓىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ (11) فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ:} یعنی ایمان لانے میں اور ہر خیر کے کام میں دوسروں سے سبقت لے جانے والوں کا درجہ بھی عام اہلِ ایمان سے زیادہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کا خاص قرب بھی انھی کو حاصل ہو گا اور انھیں ملنے والی جنت اصحاب الیمین کو ملنے والی جنت سے درجے اور نعمتوں میں افضل ہو گی، جیسا کہ اس سے پہلے سورۂ رحمان میں گزرا ہے اور یہاں بھی {” عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ “} سے اس کی تفصیل آ رہی ہے۔ {” جَنّٰتِ النَّعِيْمِ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۴۳)۔
«واقعہ» قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15] ’ اس دن ہو پڑے گی ‘، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے، نہ ہٹا سکے، وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» [42-الشورى:47] ’ اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ‘۔ اور جگہ فرمایا «سَاَلَ سَاىِٕلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ» [70-المعارج:1] ’ سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے ‘، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
یقینی امر ٭٭
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:73] ’ جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گی۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے ‘۔ قیامت «کاذبہ» نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے، نہ وہاں سے لوٹنا ہے، نہ واپس آنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:622/11]
«کاذبہ» مصدر ہے جیسے «عاقبۃ» اور «عافیہ» وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا، جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا، اعلیٰ علیین ہو کر جنتی ہو جائیں گے، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے گی، وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی، وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی، پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا، طول و عرض زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے «اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا» ۔ [99-الزلزلة:1] اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ» [22-الحج:1] ’ لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے ‘۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ «يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» [73-المزمل:14] آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے۔ «هَبَاءً» ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے۔ «مُنْبَث» اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں، جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے، ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔
دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے، انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے۔ یہ سب جہنمی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ «آمین» تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہو گی یہ خاص الخاص لوگ ہیں، یہ اصحاب «یمین» سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول علیہ السلام ہیں، انبیاء علیہ السلام ہیں، صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں دائیں ہاتھ والوں کی بہ نسبت کم ہیں۔ پس تمام اہل محشر کی تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ فاطر میں فرمایا ہے «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] یعنی ’ پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں ‘۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت «ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ» [35-فاطر:32] کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» [81-التكوير:7] ’ جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں ‘، فرمایا: قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تین قسم پر ہو جاؤ گے، یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقین۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا: ”یہ جنتی ہیں، مجھے کوئی پرواہ نہیں، یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔“ [مسند احمد:239/5:ضعیف] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں تو قبول کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لیے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لیے کرتے ہیں۔“ [مسند احمد:69/6:ضعیف] «سابقین» کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً انبیاء علیہ السلام، اعلٰی علیین، یوشع بن نون جو موسیٰ علیہ السلام پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے، وہ مومن جن کا ذکر سورۃ یٰسین میں ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام پر پہلے ایمان لائے تھے، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ» [3-آل عمران:133] ’ اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے ‘، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے، جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لیے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرشتوں نے اللہ کی جناب میں عرض کی کہ پروردگار! تو نے ابن آدم کے لیے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لیے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ «کن» سے پیدا کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب «الرد علی الجہمیہ» میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلوں میں ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اوّلین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں“، اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری، پس یہ آیت اتری «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو، بلکہ تہائی تم ہو، بلکہ آدھوں آدھ تم ہو، تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو۔“ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:391/2:حسن لغيره و اسناد ضعیف] ابن عساکر رحمہ اللہ میں ہے { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا: ”سنو! آدم سے لے کر مجھ تک «ثلۃ» ہے اور صرف میری امت «ثلۃ» ہے، ہم اپنے «ثلۃ» کو پورا کرنے کے لیے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں }۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق555/11] لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس «الحمداللہ» یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بارگاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم، یہی قول رائج ہے۔
چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: سابقین تو گزر چکے، اے اللہ! تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے }۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے۔ چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کا متصل زمانہ } الخ۔ [صحیح بخاری:3650] ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا { میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی }۔ [مسند احمد:319/4:حسن بالشواھد] تو یہ حدیث جبکہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں، اسی طرح آخر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں، اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اوّل والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں، نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں“ }۔ [صحیح مسلم247]
الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الٰیہہ بہ نسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے“ }۔ [صحیح مسلم369-370] طبرانی میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی، جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیر لے گی، فرشتے کہنے لگیں گے، سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں }۔ [طبرانی کبیر3455:ضعیف]
مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اﷲَ إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّابًا» پھر فرماتے: ”ستر کے بدلے سات سو ہیں، جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے“، پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لیے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سیدنا ابوزمل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا: ”اللہ خیر سے ملائے، شر سے بچائے، ہمارے لیے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لیے بدتر بنائے، ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بےشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا، پانی ہر سو رواں ہے، سبزے سے اٹا پڑا ہے، انواع و اقسام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں، اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر لیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔
پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے، پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گزران گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو بھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے، میں نے یہ دیکھا لیکن میں تو چلتا ہی رہا، جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے، دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں، ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں، تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں، جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہرا بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہو گے، نہ وہ ہمیں چمٹے گی، نہ ہمارا تعلق اس سے ہو گا، نہ اس کا تعلق ہم سے، نہ ہم اس کی چاہت کریں گے، نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہو گی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پا لیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۔
اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں، میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے، جو میری امت پر قائم ہو گی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی36/7:موضوع] ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے درو یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ «فعیل» معنی میں مفعول کے ہے اسی لیے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو «وضین» کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا، وہ غلمان ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے، نہ بڑے ہوں، نہ بوڑھے ہوں، نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ «اکواب» کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور «اباریق» وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو، نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لیے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14،13) {ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ (13) وَ قَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ: ” ثُلَّةٌ “} پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، ایک بڑی جماعت۔ اللہ تعالیٰ نے سابقون کے متعلق {” ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ (13) وَ قَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ “} اور اصحاب الیمین کے متعلق {” ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ (39) وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ “} فرمایا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں جگہ {” الْاَوَّلِيْنَ “} اور {” الْاٰخِرِيْنَ “} سے مراد کیا ہے؟ تو اس کے متعلق اہلِ علم کے دو قول ہیں، ایک یہ کہ {” الْاَوَّلِيْنَ “} سے مراد پہلی امتیں ہیں اور {” الْاٰخِرِيْنَ “} سے مراد ہماری امت ہے۔ انھیں {” الْاٰخِرِيْنَ “} اس لیے کہا گیا کہ وہ تمام امتوںمیں سے آخری امت ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ سابقون پہلی امتوں میں سے ایک بڑی جماعت ہیں اور آخری امت میں سے قلیل ہیں۔ طبری نے تفسیر میں یہی قول ذکر فرمایا ہے، کوئی اور قول ذکر ہی نہیں کیا اور راجح قول بھی یہی معلوم ہوتا ہے، کیونکہ آدم علیہ السلام سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک مشہور قول کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ تو انبیاء ہی گزرے ہیں، انبیاء سمیت ان کی امتوں کے سابقون یقینا بہت بڑی جماعت ہوں گے، ان کی نسبت سے ہماری امت کے سابقون کی تعداد کم ہو گی۔ ہاں اصحاب الیمین جس طرح پہلی امتوں کے بہت بڑی جماعت ہوں گے ہماری امت کے بھی بہت بڑی جماعت ہوں گے، حتیٰ کہ ہماری امت کے افراد اہلِ جنت کا نصف ہوں گے، جیسا کہ {”ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ “} کی تفسیر میں احادیث آ رہی ہیں۔ اس قول کے راجح ہونے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اس سورت میں قیامت کا ذکر ہو رہا ہے اور اس دن یہ تین گروہ صرف ہماری امت کے نہیں ہوں گے بلکہ آدم علیہ السلام سے لے کر آخری ابن آدم تک سب لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوں گے۔ اس اعتبار سے بھی اوّلین سے مراد پہلی امتیں ہیں اور آخرین سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے بھی اس قول کی تائید ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوْتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، ثُمَّ هٰذَا يَوْمُهُمُ الَّذِيْ فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوْا فِيْهِ، فَهَدَانَا اللّٰهُ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيْهِ تَبَعٌ، الْيَهُوْدُ غَدًا وَالنَّصَارٰی بَعْدَ غَدٍ ] [ بخاري، الجمعۃ، باب فرض الجمعۃ…: ۸۷۶، عن أبي ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”ہم آخر میں آنے والے ہیں، قیامت کے دن پہلے ہوں گے۔ اس لیے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی، پھر یہ (جمعہ کا) دن جو ان پر فرض کیا گیا تو انھوں نے اس میں اختلاف کیا، تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی۔ چنانچہ لوگ اس میں ہمارے پیچھے ہیں، یہود اگلے دن اور نصاریٰ اس سے اگلے دن۔“ دوسرا قول جسے ابنِ کثیر نے ترجیح دی ہے، یہ ہے کہ دونوں جگہ اوّلین اور آخرین سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوّلین و آخرین ہیں اور مطلب یہ ہے کہ سابقون اس امت کے شروع کے لوگوں میں سے ایک بہت بڑی جماعت ہوں گے اوربعد کے لوگوں میں سے کم تعداد میں ہوں گے۔ البتہ اصحاب الیمین امت کے شروع کے لوگوں میں سے بہت بڑی جماعت ہوں گے اور آخر حصے کے لوگوں سے بھی بہت بڑی جماعت ہوں گے۔ شروع کے لوگوں سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور ان سے قریب زمانوں کے لوگ ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ يَجِيْءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِيْنَهُ وَيَمِيْنُهُ شَهَادَتَهُ ] [ بخاري، فضائل الصحابۃ، باب فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۳۶۵۱ ] ”سب لوگوں سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر وہ لوگ جو ان سے ملیں گے، پھر وہ لوگ جو ان سے ملیں گے، پھر کچھ لوگ آئیں گے جن کی شہادت ان کی قسم سے پہلے اور ان کی قسم ان کی شہادت سے پہلے ہو گی۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ایک تیسرا قول ذکر فرمایا ہے کہ ہر امت کے ابتدائی لوگوں میں سابقون کی ایک بڑی جماعت ہوئی ہے جب کہ بعد کے لوگوں میں وہ قلیل ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تینوں اقوال میں کوئی تعارض نہیں، اپنی اپنی جگہ تینوں درست ہیں، البتہ آیات کے سیاق کے مطابق یہاں پہلا معنی راجح معلوم ہوتا ہے۔(واللہ اعلم)
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلوں میں ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اوّلین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں“، اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری، پس یہ آیت اتری «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو، بلکہ تہائی تم ہو، بلکہ آدھوں آدھ تم ہو، تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو۔“ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:391/2:حسن لغيره و اسناد ضعیف] ابن عساکر رحمہ اللہ میں ہے { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا: ”سنو! آدم سے لے کر مجھ تک «ثلۃ» ہے اور صرف میری امت «ثلۃ» ہے، ہم اپنے «ثلۃ» کو پورا کرنے کے لیے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں }۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق555/11] لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس «الحمداللہ» یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بارگاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم، یہی قول رائج ہے۔
چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: سابقین تو گزر چکے، اے اللہ! تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے }۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے۔ چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کا متصل زمانہ } الخ۔ [صحیح بخاری:3650] ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا { میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی }۔ [مسند احمد:319/4:حسن بالشواھد] تو یہ حدیث جبکہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں، اسی طرح آخر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں، اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اوّل والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں، نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں“ }۔ [صحیح مسلم247]
الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الٰیہہ بہ نسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے“ }۔ [صحیح مسلم369-370] طبرانی میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی، جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیر لے گی، فرشتے کہنے لگیں گے، سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں }۔ [طبرانی کبیر3455:ضعیف]
مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اﷲَ إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّابًا» پھر فرماتے: ”ستر کے بدلے سات سو ہیں، جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے“، پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لیے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سیدنا ابوزمل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا: ”اللہ خیر سے ملائے، شر سے بچائے، ہمارے لیے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لیے بدتر بنائے، ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بےشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا، پانی ہر سو رواں ہے، سبزے سے اٹا پڑا ہے، انواع و اقسام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں، اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر لیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔
پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے، پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گزران گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو بھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے، میں نے یہ دیکھا لیکن میں تو چلتا ہی رہا، جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے، دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں، ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں، تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں، جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہرا بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہو گے، نہ وہ ہمیں چمٹے گی، نہ ہمارا تعلق اس سے ہو گا، نہ اس کا تعلق ہم سے، نہ ہم اس کی چاہت کریں گے، نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہو گی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پا لیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۔
اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں، میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے، جو میری امت پر قائم ہو گی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی36/7:موضوع] ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے درو یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ «فعیل» معنی میں مفعول کے ہے اسی لیے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو «وضین» کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا، وہ غلمان ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے، نہ بڑے ہوں، نہ بوڑھے ہوں، نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ «اکواب» کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور «اباریق» وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو، نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لیے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔
14۔ 1 کہا جاتا ہے کہ اولین سے مراد حضرت آدم ؑ سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک کی امت کے لوگ ہیں اور آخرین سے امت محمدیہ کے افراد مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں سابقین کا ایک بڑا گروہ ہے، کیونکہ ان کا زمانہ بہت لمبا ہے جس میں ہزاروں انبیاء کے سابقین شامل ہیں ان کے مقابلے میں امت محمدیہ کا زمانہ (قیامت تک) تھوڑا ہے، اس لیے ان میں سابقین بھی بہ نسبت گذشتہ امتوں کے تھوڑے ہوں گے۔ اور ایک حدیث میں آتا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ، مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا نصف ہو گے۔ تو یہ آیت مذکورہ مفہوم کے مخالف نہیں۔ کیونکہ امت محمدیہ کے سابقین اور عام مومنین ملا کر باقی تمام امتوں سے جنت میں جانے والوں کا نصف ہوجائیں گے، اس لیے محض سابقین کی کثرت (سابقہ امتوں میں) سے حدیث میں بیان کردہ تعداد کی نفی نہیں ہوگی۔ مگر یہ قول محل نظر ہے اور بعض نے اولین و آخرین سے اسی امت محمدیہ کے افراد مراد لیے ہیں۔ یعنی اس کے پہلے لوگوں میں سابقین کی تعداد زیادہ اور پچھلے لوگوں میں تھوڑی ہوگی۔ امام ابن کثیر نے اسی دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔ اور یہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ یہ جملہ معترضہ ہے، فی جنت النعیم اور علی سرر موضونۃ کے درمیان۔
سونے اور جواہر سے بُنے ہوئے تختوں پر (آرام کر رہے ہوں گے)۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مقربین کون ہیں اور اولین کون؟ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلوں میں ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اوّلین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں“، اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری، پس یہ آیت اتری «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو، بلکہ تہائی تم ہو، بلکہ آدھوں آدھ تم ہو، تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو۔“ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:391/2:حسن لغيره و اسناد ضعیف] ابن عساکر رحمہ اللہ میں ہے { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا: ”سنو! آدم سے لے کر مجھ تک «ثلۃ» ہے اور صرف میری امت «ثلۃ» ہے، ہم اپنے «ثلۃ» کو پورا کرنے کے لیے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں }۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق555/11] لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس «الحمداللہ» یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بارگاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم، یہی قول رائج ہے۔
چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: سابقین تو گزر چکے، اے اللہ! تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے }۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے۔ چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کا متصل زمانہ } الخ۔ [صحیح بخاری:3650] ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا { میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی }۔ [مسند احمد:319/4:حسن بالشواھد] تو یہ حدیث جبکہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں، اسی طرح آخر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں، اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اوّل والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں، نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں“ }۔ [صحیح مسلم247]
الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الٰیہہ بہ نسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے“ }۔ [صحیح مسلم369-370] طبرانی میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی، جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیر لے گی، فرشتے کہنے لگیں گے، سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں }۔ [طبرانی کبیر3455:ضعیف]
مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اﷲَ إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّابًا» پھر فرماتے: ”ستر کے بدلے سات سو ہیں، جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے“، پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لیے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سیدنا ابوزمل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا: ”اللہ خیر سے ملائے، شر سے بچائے، ہمارے لیے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لیے بدتر بنائے، ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بےشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا، پانی ہر سو رواں ہے، سبزے سے اٹا پڑا ہے، انواع و اقسام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں، اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر لیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔
پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے، پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گزران گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو بھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے، میں نے یہ دیکھا لیکن میں تو چلتا ہی رہا، جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے، دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں، ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں، تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں، جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہرا بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہو گے، نہ وہ ہمیں چمٹے گی، نہ ہمارا تعلق اس سے ہو گا، نہ اس کا تعلق ہم سے، نہ ہم اس کی چاہت کریں گے، نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہو گی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پا لیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۔
اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں، میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے، جو میری امت پر قائم ہو گی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی36/7:موضوع] ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے درو یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ «فعیل» معنی میں مفعول کے ہے اسی لیے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو «وضین» کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا، وہ غلمان ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے، نہ بڑے ہوں، نہ بوڑھے ہوں، نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ «اکواب» کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور «اباریق» وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو، نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لیے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 15) {عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ: ” سُرُرٍ “ ”سَرِيْرٌ“} کی جمع ہے،جس کا معنی تخت بھی ہے اور چارپائی بھی اور {”وَضَنَ يَضِنُ وَضْنًا“} (ض) بُننا، مضبوطی اور باریکی سے بننا، سونے اور جواہر کے ساتھ بننا۔ طبری نے مجاہد کے طریق سے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ذکر فرمایا ہے: {”مَرْمُوْلَةٌ بِالذَّهَبِ، أَيْ مَنْسُوْجَةٌ بِالذَّهَبِ“} ”یعنی سونے کے تاروں کے ساتھ بنے ہوئے۔“
ان پر تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھنے والے (ہوں گے)۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مقربین کون ہیں اور اولین کون؟ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلوں میں ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اوّلین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں“، اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری، پس یہ آیت اتری «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو، بلکہ تہائی تم ہو، بلکہ آدھوں آدھ تم ہو، تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو۔“ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:391/2:حسن لغيره و اسناد ضعیف] ابن عساکر رحمہ اللہ میں ہے { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا: ”سنو! آدم سے لے کر مجھ تک «ثلۃ» ہے اور صرف میری امت «ثلۃ» ہے، ہم اپنے «ثلۃ» کو پورا کرنے کے لیے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں }۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق555/11] لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس «الحمداللہ» یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بارگاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم، یہی قول رائج ہے۔
چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: سابقین تو گزر چکے، اے اللہ! تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے }۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے۔ چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کا متصل زمانہ } الخ۔ [صحیح بخاری:3650] ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا { میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی }۔ [مسند احمد:319/4:حسن بالشواھد] تو یہ حدیث جبکہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں، اسی طرح آخر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں، اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اوّل والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں، نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں“ }۔ [صحیح مسلم247]
الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الٰیہہ بہ نسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے“ }۔ [صحیح مسلم369-370] طبرانی میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی، جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیر لے گی، فرشتے کہنے لگیں گے، سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں }۔ [طبرانی کبیر3455:ضعیف]
مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اﷲَ إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّابًا» پھر فرماتے: ”ستر کے بدلے سات سو ہیں، جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے“، پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لیے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سیدنا ابوزمل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا: ”اللہ خیر سے ملائے، شر سے بچائے، ہمارے لیے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لیے بدتر بنائے، ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بےشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا، پانی ہر سو رواں ہے، سبزے سے اٹا پڑا ہے، انواع و اقسام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں، اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر لیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔
پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے، پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گزران گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو بھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے، میں نے یہ دیکھا لیکن میں تو چلتا ہی رہا، جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے، دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں، ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں، تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں، جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہرا بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہو گے، نہ وہ ہمیں چمٹے گی، نہ ہمارا تعلق اس سے ہو گا، نہ اس کا تعلق ہم سے، نہ ہم اس کی چاہت کریں گے، نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہو گی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پا لیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۔
اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں، میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے، جو میری امت پر قائم ہو گی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی36/7:موضوع] ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے درو یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ «فعیل» معنی میں مفعول کے ہے اسی لیے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو «وضین» کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا، وہ غلمان ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے، نہ بڑے ہوں، نہ بوڑھے ہوں، نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ «اکواب» کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور «اباریق» وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو، نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لیے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16) {مُتَّكِـِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۴۴) کی تفسیر۔
ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رہیں گے آمدورفت کریں گے
احمد رضا خان بریلوی
ان کے گرد لیے پھریں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے
علامہ محمد حسین نجفی
ان کے پاس ایسے غلمان (نوخیز لڑکے) ہوں گے جو ہمیشہ غلمان ہی رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ان پر چکر لگا رہے ہوں گے وہ لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رکھے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مقربین کون ہیں اور اولین کون؟ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلوں میں ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اوّلین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں“، اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری، پس یہ آیت اتری «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو، بلکہ تہائی تم ہو، بلکہ آدھوں آدھ تم ہو، تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو۔“ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:391/2:حسن لغيره و اسناد ضعیف] ابن عساکر رحمہ اللہ میں ہے { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا: ”سنو! آدم سے لے کر مجھ تک «ثلۃ» ہے اور صرف میری امت «ثلۃ» ہے، ہم اپنے «ثلۃ» کو پورا کرنے کے لیے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں }۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق555/11] لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس «الحمداللہ» یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بارگاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم، یہی قول رائج ہے۔
چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: سابقین تو گزر چکے، اے اللہ! تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے }۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے۔ چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کا متصل زمانہ } الخ۔ [صحیح بخاری:3650] ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا { میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی }۔ [مسند احمد:319/4:حسن بالشواھد] تو یہ حدیث جبکہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں، اسی طرح آخر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں، اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اوّل والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں، نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں“ }۔ [صحیح مسلم247]
الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الٰیہہ بہ نسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے“ }۔ [صحیح مسلم369-370] طبرانی میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی، جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیر لے گی، فرشتے کہنے لگیں گے، سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں }۔ [طبرانی کبیر3455:ضعیف]
مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اﷲَ إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّابًا» پھر فرماتے: ”ستر کے بدلے سات سو ہیں، جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے“، پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لیے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سیدنا ابوزمل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا: ”اللہ خیر سے ملائے، شر سے بچائے، ہمارے لیے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لیے بدتر بنائے، ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بےشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا، پانی ہر سو رواں ہے، سبزے سے اٹا پڑا ہے، انواع و اقسام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں، اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر لیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔
پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے، پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گزران گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو بھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے، میں نے یہ دیکھا لیکن میں تو چلتا ہی رہا، جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے، دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں، ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں، تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں، جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہرا بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہو گے، نہ وہ ہمیں چمٹے گی، نہ ہمارا تعلق اس سے ہو گا، نہ اس کا تعلق ہم سے، نہ ہم اس کی چاہت کریں گے، نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہو گی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پا لیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۔
اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں، میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے، جو میری امت پر قائم ہو گی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی36/7:موضوع] ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے درو یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ «فعیل» معنی میں مفعول کے ہے اسی لیے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو «وضین» کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا، وہ غلمان ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے، نہ بڑے ہوں، نہ بوڑھے ہوں، نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ «اکواب» کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور «اباریق» وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو، نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لیے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔
17-1یعنی وہ بڑے نہیں ہونگے کہ بوڑھے ہوجائیں نہ ان کے خدو خال اور قدو قامت میں کوئی تغیر ہوگا بلکہ ایک ہی عمر اور ایک ہی حالت پر رہیں گے، جیسے نو عمر لڑکے ہوتے ہیں۔
(آیت 17) {يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ:} اس کے لیے دیکھیے سورۂ دہر کی آیت (۱۹) کی تفسیر۔
آبخورے اور جگ لے کر اور ایسا جام لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے پر ہو
احمد رضا خان بریلوی
کوزے اور آفتابے اور جام اور آنکھوں کے سامنے بہتی شراب
علامہ محمد حسین نجفی
(شرابِ طہور سے بھرے ہو ئے) آبخورے، آفتابے اور پاک و صاف شراب کے پیالے (یعنی جام، صراحی سبو و ساغر) لئے گردش کر رہے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ایسے کوزے اور ٹونٹی والی صراحیاںاور لبالب بھرے ہوئے پیالے لے کر جو بہتی ہوئی شراب کے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مقربین کون ہیں اور اولین کون؟ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلوں میں ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اوّلین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں“، اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری، پس یہ آیت اتری «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو، بلکہ تہائی تم ہو، بلکہ آدھوں آدھ تم ہو، تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو۔“ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔ [مسند احمد:391/2:حسن لغيره و اسناد ضعیف] ابن عساکر رحمہ اللہ میں ہے { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر کہا: ”سنو! آدم سے لے کر مجھ تک «ثلۃ» ہے اور صرف میری امت «ثلۃ» ہے، ہم اپنے «ثلۃ» کو پورا کرنے کے لیے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں }۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق555/11] لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک۔ پس «الحمداللہ» یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بارگاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں، لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہو گی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم، یہی قول رائج ہے۔
چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: سابقین تو گزر چکے، اے اللہ! تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے }۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے۔ چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کا متصل زمانہ } الخ۔ [صحیح بخاری:3650] ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا { میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی }۔ [مسند احمد:319/4:حسن بالشواھد] تو یہ حدیث جبکہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں، اسی طرح آخر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں، اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اوّل والوں کی ہی رہے گی۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں، نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں“ }۔ [صحیح مسلم247]
الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الٰیہہ بہ نسبت اور امتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے“ }۔ [صحیح مسلم369-370] طبرانی میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی، جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیر لے گی، فرشتے کہنے لگیں گے، سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں }۔ [طبرانی کبیر3455:ضعیف]
مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اﷲَ إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّابًا» پھر فرماتے: ”ستر کے بدلے سات سو ہیں، جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے“، پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے، پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھتے اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لیے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ سیدنا ابوزمل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، فرمایا: ”اللہ خیر سے ملائے، شر سے بچائے، ہمارے لیے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لیے بدتر بنائے، ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ، آسان، نرم، صاف اور بےشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سرسبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا، پانی ہر سو رواں ہے، سبزے سے اٹا پڑا ہے، انواع و اقسام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں، اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر لیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے۔
پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے، پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گزران گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو بھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے، میں نے یہ دیکھا لیکن میں تو چلتا ہی رہا، جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے، دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں، ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں، تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں، جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان سے آگے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو، ہرا بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہو گے، نہ وہ ہمیں چمٹے گی، نہ ہمارا تعلق اس سے ہو گا، نہ اس کا تعلق ہم سے، نہ ہم اس کی چاہت کریں گے، نہ وہ ہمیں لپٹے گی، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہو گی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پا لیں گے، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۔
اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں، میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے، جو میری امت پر قائم ہو گی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی36/7:موضوع] ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے، جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے درو یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔ یہ «فعیل» معنی میں مفعول کے ہے اسی لیے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو «وضین» کہتے ہیں۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا، وہ غلمان ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے، نہ بڑے ہوں، نہ بوڑھے ہوں، نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔ «اکواب» کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور «اباریق» وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو، نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لیے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 18) ➊ { بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِيْقَ: ” أَكْوَابٌ“ ”كُوْبٌ“} کی جمع ہے، برتن جس کی نہ دستی ہو نہ ٹونٹی۔ {” اَبَارِيْقَ “ ”إِبْرِيْقٌ“} کی جمع ہے، مادہ اس کا {”بَرْقٌ“} (چمک) ہے، وہ برتن جس کی ٹونٹی یا پکڑنے کی دستی ہو یا دونوں ہوں۔ چمک کی وجہ سے اس کا نام {”إِبْرِيْقٌ“} رکھا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ فارسی لفظ ”ابریز“ کا معرب ہے۔ ➋ { وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ:} اس کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۴۵)کی تفسیر۔
جسے پی کر نہ اُن کا سر چکرائے گا نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس سے نہ سر میں درد ہو نہ عقل میں فتور آئے
احمد رضا خان بریلوی
کہ اس سے نہ انہیں درد سر ہو اور نہ ہوش میں فرق آئے
علامہ محمد حسین نجفی
جس سے نہ دردِ سر ہوگا اور نہ عقل میں فتور آئے گا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ نہ اس سے درد سر میں مبتلا ہوں گے اور نہ بہکیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭
اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہو گی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ، سر درد، قے اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کر دی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہو جائے گا، یہ تمام چیزیں لیے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے اردگرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے۔
مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { سیدنا عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے، میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“، میں نے کہا: عکراش بن ذویب فرمایا: ”اپنا نسب نامہ دور تک بیان کر دو“، میں نے مرہ بن عبید تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں، یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے، پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کر دو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے اور فرمایا: ”کچھ کھانے کو ہے؟“ جواب ملا کہ ہاں چنانچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا: ”اے عکراش! یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے، ایک جگہ سے کھاؤ“، پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا، ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا: ”اے عکراش! اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ، جس قسم کی کھجور چاہو لے لو“، پھر پانی آیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لیے اور فرمایا: ”اے عکراش! یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو“ }۔ [ ترمذی اور ابن ماجہ ] امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:1848،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کہا: یا رسول اللہ! میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی، میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا، بارہ شخصوں کے نام لیے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا، فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں، حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہٰ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے، پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے، میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا: فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر میں بھیجا تھا، شہید ہو گئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لیے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا: ”اپنا خواب دوبارہ بیان کرو، اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لیے جن کے نام قاصد نے لیے تھے“ }۔ [مسند احمد:135/3:صحیح] طبرانی میں ہے کہ { جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا }۔ [طبرانی کبیر1449:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔“ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا: ”مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر! تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے }۔ [مسند احمد:221/3:صحيح وھذا اسناد ضعیف] حافظ ابوعبداللہ مقدسی کی کتاب صفۃ الجنۃ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے طوبی ٰ کا ذکر ہو پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں، اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، اس کے پتے بڑے چوڑے ہیں، ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور ان شاءاللہ تم بھی انہی میں سے ہو“ }۔ قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:2514] ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے، دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے، اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے“ }۔ امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2542،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں، جنتی کے دستر خوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی، پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا }۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصافی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:340ضعیف] ابن ابی حاتم میں { سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں، جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آ جائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا، پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہو گا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آ جائے گا }۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:341ضعیف]
19-1آخرت کی شراب میں سرور اور لذت تو یقینا ہوگی لیکن یہ خرابیاں مثلاً مدہوشی عقل میں فتور نہیں ہوگا
(آیت 19) {لَا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا يُنْزِفُوْنَ: ”اَلصِّدَاعُ“} دردِ سر کو کہتے ہیں، {”صُدِعَ وَ صُدِّعَ فُلَانٌ“} (مجہول) اسے دردِ سر ہو گیا۔ {” يُنْزِفُوْنَ “} سورۂ صافات (۴۷) میں ”زاء“ کے فتح کے ساتھ مضارع مجہول ہے، یہاں ”زاء“ کے کسرہ کے ساتھ مضارع معلوم ہے۔ {” نُزِفَ مَاء الْبِئْرِ “} کنویں کا سارا پانی نکال لیا گیا۔ {” نُزِفَ الرَّجُلُ“} آدمی کی عقل جاتی رہی، وہ نشے میں مدہوش ہو گیا۔ {”أَنْزَفَ الرَّجُلُ“} آدمی کے پاس کوئی چیز باقی نہ رہی، اس کی عقل جاتی رہی، نشے میں مدہوش ہو گیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ {” يُنْزِفُوْنَ “} معروف و مجہول دونوں کا معنی نشے میں بے ہوش ہونا اور عقل کا مارا جانا ہے۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۴۷)۔
اور وہ اُن کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے جسے چاہیں چن لیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ایسے میوے لیے ہوئے جو ان کی پسند کے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور میوے جو پسند کریں
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (غلمان) طرح طرح کے پھل پیش کریں گے وہ جسے چاہیں چن لیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ایسے پھل لے کر جنھیں وہ پسند کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭
اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہو گی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ، سر درد، قے اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کر دی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہو جائے گا، یہ تمام چیزیں لیے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے اردگرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے۔
مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { سیدنا عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے، میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“، میں نے کہا: عکراش بن ذویب فرمایا: ”اپنا نسب نامہ دور تک بیان کر دو“، میں نے مرہ بن عبید تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں، یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے، پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کر دو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے اور فرمایا: ”کچھ کھانے کو ہے؟“ جواب ملا کہ ہاں چنانچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا: ”اے عکراش! یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے، ایک جگہ سے کھاؤ“، پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا، ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا: ”اے عکراش! اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ، جس قسم کی کھجور چاہو لے لو“، پھر پانی آیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لیے اور فرمایا: ”اے عکراش! یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو“ }۔ [ ترمذی اور ابن ماجہ ] امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:1848،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کہا: یا رسول اللہ! میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی، میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا، بارہ شخصوں کے نام لیے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا، فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں، حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہٰ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے، پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے، میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا: فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر میں بھیجا تھا، شہید ہو گئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لیے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا: ”اپنا خواب دوبارہ بیان کرو، اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لیے جن کے نام قاصد نے لیے تھے“ }۔ [مسند احمد:135/3:صحیح] طبرانی میں ہے کہ { جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا }۔ [طبرانی کبیر1449:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔“ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا: ”مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر! تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے }۔ [مسند احمد:221/3:صحيح وھذا اسناد ضعیف] حافظ ابوعبداللہ مقدسی کی کتاب صفۃ الجنۃ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے طوبی ٰ کا ذکر ہو پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں، اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، اس کے پتے بڑے چوڑے ہیں، ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور ان شاءاللہ تم بھی انہی میں سے ہو“ }۔ قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:2514] ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے، دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے، اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے“ }۔ امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2542،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں، جنتی کے دستر خوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی، پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا }۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصافی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:340ضعیف] ابن ابی حاتم میں { سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں، جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آ جائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا، پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہو گا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آ جائے گا }۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:341ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20) {وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوْنَ: ” فَاكِهَةٍ “} کا عطف {” بِاَكْوَابٍ “} پر ہے، یعنی سونے سے بنے ہوئے تختوں پر آمنے سامنے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے جنتیوں پر {” وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ “} شراب کے جام اور ان کے پسند کردہ پھل اور ان کی خواہش کے مطابق پرندوں کا گوشت لے کر چکر لگا رہے ہوں گے۔ خدمت گاروں کے پھل لا کر پیش کرنے میں جو لطف ہے وہ بھی انھیں حاصل ہو گا اور اپنے ہاتھوں سے توڑ کر کھانا چاہیں گے تو وہ بھی انھیں ہر وقت میسر ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «وَ جَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ» [ الرحمٰن: ۵۴ ] ”اور دونوں باغوں کا پھل قریب ہے۔“ اور فرمایا: «قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ» [ الحآقہ: ۲۳ ] ”جس کے میوے قریب ہوں گے۔“ {” فَاكِهَةٍ “} کے معنی کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۴۲)۔
اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے کہ جس پرندے کا چاہیں استعمال کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور پرندوں کے گوشت جو انہیں مرغوب ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور پرندوں کا گوشت جو چاہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور پرندوں پرندوں کے گوشت بھی جس کی وہ خواہش کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور پرندوں کا گوشت لے کر جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭
اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہو گی۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ، سر درد، قے اور پیشاب، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کر دی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہو جائے گا، یہ تمام چیزیں لیے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے اردگرد گھومتے رہیں گے تاکہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے۔
مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے { سیدنا عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے، میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“، میں نے کہا: عکراش بن ذویب فرمایا: ”اپنا نسب نامہ دور تک بیان کر دو“، میں نے مرہ بن عبید تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں، یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے، پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کر دو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے اور فرمایا: ”کچھ کھانے کو ہے؟“ جواب ملا کہ ہاں چنانچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا، اور فرمایا: ”اے عکراش! یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے، ایک جگہ سے کھاؤ“، پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا، ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا: ”اے عکراش! اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ، جس قسم کی کھجور چاہو لے لو“، پھر پانی آیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لیے اور فرمایا: ”اے عکراش! یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو“ }۔ [ ترمذی اور ابن ماجہ ] امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:1848،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کہا: یا رسول اللہ! میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی، میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا، بارہ شخصوں کے نام لیے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا، فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں، حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہٰ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے، پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے، میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا: فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر میں بھیجا تھا، شہید ہو گئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لیے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا: ”اپنا خواب دوبارہ بیان کرو، اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لیے جن کے نام قاصد نے لیے تھے“ }۔ [مسند احمد:135/3:صحیح] طبرانی میں ہے کہ { جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا }۔ [طبرانی کبیر1449:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں، سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے۔“ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا: ”مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر! تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے }۔ [مسند احمد:221/3:صحيح وھذا اسناد ضعیف] حافظ ابوعبداللہ مقدسی کی کتاب صفۃ الجنۃ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے طوبی ٰ کا ذکر ہو پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں، اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، اس کے پتے بڑے چوڑے ہیں، ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور ان شاءاللہ تم بھی انہی میں سے ہو“ }۔ قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:2514] ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے، دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے، اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے“ }۔ امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2542،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں، جنتی کے دستر خوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی، پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا }۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصافی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:340ضعیف] ابن ابی حاتم میں { سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں، جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آ جائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا، پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہو گا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آ جائے گا }۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:341ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 21) {وَ لَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ: ” يَشْتَهُوْنَ “ ” شَهْوَةٌ “} (خواہش) سے باب افتعال کا مضارع معلوم ہے۔ پرندوں کا گوشت لذت، غذائیت اور قوت تینوں اعتبار سے چوپاؤں کے گوشت سے اعلیٰ اور عمدہ ہوتا ہے۔
(اور ان کیلئے) گوری رنگت والی غزال چشم حوریں بھی ہوں گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور( ان کے لیے وہاں) سفید جسم، سیاہ آنکھوںوالی عورتیں ہیں ،جو فراخ آنکھوں والی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حور العین ٭٭
«حور» کی دوسری قرأت «ر» کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لیے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے جیسے «وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ» [5-المآئدہ:6] میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ «عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ» [76-الإنسان:21] ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لیے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورۃ الصافات میں ہے «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سورۃ الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گزر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بے معنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے، حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے «لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً» [88-الغاشية:11] فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے، نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ» [14-ابراھیم:23] ان کا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہو گا۔ ان کی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہو گی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 22) {وَ حُوْرٌ عِيْنٌ: ” حُوْرٌ عِيْنٌ “} مرفوع ہے، اس کا عطف {” وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ “} پر ہے، مطلب یہ ہے کہ شراب کے جام، پھل اور گوشت وغیرہ لے کر {” وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ “} ان پر چکر لگا رہے ہوں گے اور” حور عین “بھی۔ بعض نے فرمایا کہ یہ مبتدا ہے اور خبر اس کی محذوف ہے: {”أَيْ وَ لَهُمْ فِيْهَا حُوْرٌ عِيْنٌ“} یعنی ان کے لیے اس میں حوریں ہوں گی۔ ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ دخان (۵۴)۔
«حور» کی دوسری قرأت «ر» کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لیے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے جیسے «وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ» [5-المآئدہ:6] میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ «عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ» [76-الإنسان:21] ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لیے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورۃ الصافات میں ہے «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سورۃ الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گزر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بے معنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے، حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے «لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً» [88-الغاشية:11] فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے، نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ» [14-ابراھیم:23] ان کا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہو گا۔ ان کی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہو گی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 23) {كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِ:} اس آیت کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ رحمن(۵۸) اور سورۂ صافات (۴۹) کی تفسیر۔
یہ سب کچھ اُن اعمال کی جزا کے طور پر انہیں ملے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ صلہ ہے ان کے اعمال کا
احمد رضا خان بریلوی
صلہ ان کے اعمال کا
علامہ محمد حسین نجفی
یہ سب کچھ ان کے ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کے بدلے کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حور العین ٭٭
«حور» کی دوسری قرأت «ر» کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لیے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے جیسے «وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ» [5-المآئدہ:6] میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ «عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ» [76-الإنسان:21] ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لیے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورۃ الصافات میں ہے «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سورۃ الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گزر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بے معنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے، حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے «لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً» [88-الغاشية:11] فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے، نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ» [14-ابراھیم:23] ان کا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہو گا۔ ان کی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہو گی۔
وہاں وہ کوئی بیہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
نہ وہاں بکواس سنیں گے اور نہ گناه کی بات
احمد رضا خان بریلوی
اس میں نہ سنیں گے نہ کوئی بیکار با ت نہ گنہگاری
علامہ محمد حسین نجفی
وہ اس میں کوئی فضول اور گناہ والی بات نہیں سنیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس میں نہ بے ہودہ گفتگو سنیں گے اور نہ گناہ میں ڈالنے والی بات۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حور العین ٭٭
«حور» کی دوسری قرأت «ر» کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لیے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے جیسے «وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ» [5-المآئدہ:6] میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ «عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ» [76-الإنسان:21] ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لیے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورۃ الصافات میں ہے «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سورۃ الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گزر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بے معنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے، حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے «لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً» [88-الغاشية:11] فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے، نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ» [14-ابراھیم:23] ان کا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہو گا۔ ان کی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہو گی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 26،25) {لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِيْمًا …:” تَاْثِيْمًا “ ”إِثْمٌ“} سے باب تفعیل کا مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، گناہ گار کرنے والی بات۔ {”قِيْلٌ“} اور {”قَوْلٌ“} دونوں {”قَالَ يَقُوْلُ“} کے مصدر ہیں۔ {” سَلٰمًا سَلٰمًا “ ” قِيْلًا “} سے بدل ہے یا اس کا مقولہ ہے۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ مریم (۶۲) اور سورۂ نبا (۳۵)۔
«حور» کی دوسری قرأت «ر» کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لیے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے جیسے «وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ» [5-المآئدہ:6] میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ «عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ» [76-الإنسان:21] ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لیے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورۃ الصافات میں ہے «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سورۃ الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گزر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بے معنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے، حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے «لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً» [88-الغاشية:11] فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے، نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ» [14-ابراھیم:23] ان کا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہو گا۔ ان کی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہو گی۔
26-1وہاں سلام ہی سلام کی آوازیں سننے میں آئیں گی، فرشتوں کی طرف سے بھی اور آپس میں اہل جنت کی طرف سے بھی۔
اور دائیں بازو والے، دائیں بازو والوں کی خوش نصیبی کا کیا کہنا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور داہنے ہاتھ والے کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے
احمد رضا خان بریلوی
اور دہنی طرف والے کیسے دہنی طرف والے
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ دائیں ہاتھ والے اور وہ دائیں والے کیا اچھے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور دائیں ہاتھ والے، کیا (ہی اچھے) ہیں دائیں ہاتھ والے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی ٭٭
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ }۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح] یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح] «طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔ «مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔ جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔ صحیح بخاری میں { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ }۔ [صحیح بخاری4881] مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔ ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔ ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ { بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ }۔ [صحیح بخاری:1052-3202] ابو یعلیٰ میں ہے { ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ }۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف] پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
27-1اب تک سابقین کا ذکر تھا اب عام مومنین کا ذکر ہو رہا ہے
(آیت 27) {وَ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ مَاۤ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ:} سابقون کا حال بیان کرنے کے بعد اب اصحاب الیمین یعنی عام مومنوں کی خوش حالی اور عیش و تنعیم کا بیان ہے۔ {” وَ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ مَاۤ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ “} سے وہی مراد ہیں جو {” فَاَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ “} سے ہیں۔
وہ ایسی بیری کے درختوں میں ہوں گے جن میں کانٹے نہیں ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
(وہ) ایسی بیریوں میںہوں گے جن کے کانٹے دور کیے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی ٭٭
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ }۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح] یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح] «طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔ «مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔ جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔ صحیح بخاری میں { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ }۔ [صحیح بخاری4881] مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔ ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔ ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ { بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ }۔ [صحیح بخاری:1052-3202] ابو یعلیٰ میں ہے { ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ }۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف] پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 28){ فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ: ” سِدْرٍ “} (بیری) اسم جنس ہے جو ایک اور زیادہ سب پر بولا جاتا ہے۔ لفظ مفرد ہونے کی وجہ سے صفت {” مَخْضُوْدٍ “} مفرد آئی ہے۔ {” طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ “} بھی اسی طرح ہے۔ ایک بیری کہنا ہو تو {”سِدْرَةٌ“} کہتے ہیں۔ {”خَضَدَ“ (ض) ”اَلشَّجَرَ“} درخت کے کانٹے کاٹ دینا۔ دنیا کی بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں، جنت کے بیری کے درختوں میں کانٹے نہیں ہوں گے۔ اس کا ذکر اس لیے فرمایا کہ عرب بیری سے آشنا تھے، کیونکہ ان کے بادیہ میں یہ درخت بہت ہوتا ہے، مگر اکثر خار دار ہوتا ہے۔ باغوں میں کاشت کیے جانے والے درختوں کے کانٹے کم اور پھل لذیذ ہوتا ہے، پھر کانٹے جتنے کم ہوں پھل اتنا ہی زیادہ لذیذ اور نفیس ہوتا ہے۔ جنت کی بیریوں میں کانٹے بالکل نہیں ہوں گے اور حقیقت یہ ہے کہ جنت کے پھلوں کے صرف نام دنیا کے پھلوں والے ہیں، ان کے ذائقے، لذت اور نفاست سے دنیا کے پھلوں کی کوئی نسبت نہیں۔
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ }۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح] یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح] «طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔ «مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔ جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔ صحیح بخاری میں { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ }۔ [صحیح بخاری4881] مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔ ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔ ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ { بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ }۔ [صحیح بخاری:1052-3202] ابو یعلیٰ میں ہے { ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ }۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف] پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 29){ وَ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ: ” طَلْحٍ “} کیکر کو بھی کہتے ہیں اور کیلے کو بھی۔ {” مَنْضُوْدٍ “} (تہ بہ تہ) سے تعیین ہو گئی کہ یہاں کیلے مراد ہیں۔
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ }۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح] یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح] «طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔ «مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔ جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔ صحیح بخاری میں { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ }۔ [صحیح بخاری4881] مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔ ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔ ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ { بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ }۔ [صحیح بخاری:1052-3202] ابو یعلیٰ میں ہے { ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ }۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف] پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
30-1جیسے ایک حدیث میں ہے ' کہ جنت کے ایک درخت کے سائے تلے ایک گھوڑا سوار سو سال تک چلتا رہے گا، تب بھی وہ سایہ ختم نہیں ہوگا ' (صحیح بخاری)
(آیت 30) {وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ:} ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيْرُ الرَّاكِبُ فِيْ ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا وَاقْرَؤا إِنْ شِئْتُمْ: «وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ» ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «و ظل ممدود» : ۴۸۸۱ ] ”جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں سوار سو سال چلتا رہے گا۔ چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: «وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ» ”اور ایسے سائے میں جو خوب پھیلا ہوا ہے۔“ {” مَمْدُوْدٍ “} میں سائے کا جگہ کے لحاظ سے پھیلاؤ بھی شامل ہے اور زمانے کے لحاظ سے بھی، جیساکہ فرمایا: «اُكُلُهَا دَآىِٕمٌ وَّ ظِلُّهَا» [ الرعد: ۳۵ ] ”اس کا پھل دائمی ہے اور اس کا سایہ بھی۔“
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ }۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح] یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح] «طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔ «مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔ جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔ صحیح بخاری میں { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ }۔ [صحیح بخاری4881] مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔ ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔ ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ { بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ }۔ [صحیح بخاری:1052-3202] ابو یعلیٰ میں ہے { ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ }۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف] پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 31){ وَ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍ:”سَكَبَ يَسْكُبُ سَكْبًا وَ تَسْكَابًا“} (ن) {”الْمَاءَ“} پانی گرانا۔ {”اَلسَّكْبُ“} لگاتار بارش۔ {” مَآءٍ مَّسْكُوْبٍ “} سے مراد آبشاروں سے گرنے والا اور مسلسل بہنے والا پانی ہے۔ {” تَسْنِيْمٍ “} میں بھی یہی مفہوم پایا جاتا ہے۔ (دیکھیے مطففین: ۲۷) واضح رہے کہ جنت کی بے شمار نعمتیں ایسی ہیں جو سابقون اور اصحاب الیمین دونوں کے لیے مشترک ہیں، البتہ ان کی کیفیت میں فرق ہو سکتا ہے۔ اگلی آیت میں {” فَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍ “} کا بھی یہی معاملہ ہے۔
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ }۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح] یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح] «طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔ «مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔ جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔ صحیح بخاری میں { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ }۔ [صحیح بخاری4881] مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔ ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔ ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ { بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ }۔ [صحیح بخاری:1052-3202] ابو یعلیٰ میں ہے { ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ }۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف] پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 32) {وَ فَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍ:} ”بہت زیادہ“ میں پھلوں کی قسموں کا بہت زیادہ ہونا بھی شامل ہے اور مقدار میں بہت زیادہ ہونا بھی۔ اس کثرت کا مقصد اصحاب الیمین کی ضیافت اور عزت افزائی ہے، آگے ان کی مرضی ہے، جتنا چاہیں جب چاہیں کھائیں۔
جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان سے کوئی روک ٹوک ہوگی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی ٭٭
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ }۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح] یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح] «طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔ «مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔ جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔ صحیح بخاری میں { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ }۔ [صحیح بخاری4881] مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔ ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔ ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ { بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ }۔ [صحیح بخاری:1052-3202] ابو یعلیٰ میں ہے { ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ }۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف] پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
33-1یعنی یہ پھل موسمی نہیں ہونگے کہ موسم گزر گیا تو پھل بھی آئندہ فصل تک ناپید ہوجائیں، یہ پھل اس طرح فصل گل و لالہ کے پابند نہیں ہونگے، بلکہ بہار و خزاں اور گرمی و سردی ہر موسم میں دستیاب ہوں گے۔ اس طرح ان کے حصول کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔
(آیت 33) ➊ { لَا مَقْطُوْعَةٍ:} دنیا میں ہر پھل کا ایک موسم ہے، اس کے بعد وہ ختم ہو جاتا ہے، اسی طرح اس کا ایک علاقہ ہے دوسرے علاقے میں نہیں ملتا۔ جنت کے پھل ایسے نہیں کہ کسی موسم یا کسی جگہ میں نہ ملیں، بلکہ وہ ہر جگہ اور ہر وقت تیار ملیں گے۔ ➋ { وَ لَا مَمْنُوْعَةٍ:} دنیا میں پھلوں کے حصول میں کئی رکاوٹیں ہوتی ہیں، مثلاً یہ کہ وہ کسی اور کی ملکیت ہیں، خریدنے کے لیے قیمت موجود نہیں، اپنے بھی ہیں تو ابھی تیار نہیں یا درختوں سے اتارنا مشکل ہے۔ جنت کے پھلوں کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہیں، ان کی ملکیت وراثتی ملکیت ہے اور دائمی ہے، فرمایا: «اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ (10) الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [ المؤمنون: ۱۰،۱۱ ] ”یہی لوگ ہیں جو وارث ہیں۔ جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“ اور اس کے پھل ہر وقت تیار ہیں اور ہر طرح کھانے والوں کی دسترس میں ہیں۔
سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں، جہاں بیری کے درخت ہیں، لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں، دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے ابوبکر بن سلمان نجاد رحمہ اللہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ! قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا، آپ نے پوچھا: ”وہ کون سا“، اس نے کہا بیری کا درخت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ «مَخْضُود» نہیں پڑھا؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہو گا“ }۔ [مستدرک حاکم476/2صحیح] یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ «طَلْح» ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:130/17صحیح] «طَلْح» ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سر زمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے۔ «مَنْضُود» کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا، پھل سے لدا ہوا۔ ان دونوں کا ذکر اس لیے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے۔ جوہری فرماتے ہیں «طلح» بھی کہتے ہیں اور «طلع» بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بے خار اور بکثرت پھلدار ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور حضرات نے «طلح» سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے، اہل یمن کیلے کو «طَلْح» کہتے ہیں اور اہل حجاز «موز» کہتے ہیں۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔ صحیح بخاری میں { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو“ }۔ [صحیح بخاری4881] مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد، مسند ابو یعلیٰ میں بھی، مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ «شجرۃ الخلد» ہے۔ [مسند احمد:455/2:صحیح]
ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی، تو آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر اور قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بوڑھا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے، اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں، جنت کی تمام نہریں اسی درخت کی جڑ سے نکلتی ہیں۔ ابوحصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابوصالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابوصالح رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا: کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جھٹلاتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا۔ میں کہتا ہوں اس ثابت، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔ [سنن ترمذي:2525،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں، باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہو گا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں، نہ سورج آئے، نہ گرمی ستائے، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے آیت «وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا» [4-النسآء:57] اور آیت «اُكُلُهَا دَاىِٕمٌ وَّظِلُّهَا» [13-الرعد:35] اور آیت «اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ» [77-المرسلات:41] وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہو گی، اس کی پوری تفسیر آیت «فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [47-محمد:15] میں گزر چکی ہے۔ ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیذ میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے، نہ کسی کان نے سنے، نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزرا۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہیٰ کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے، [صحیح بخاری:3207] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گرہن ہونے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گرہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ { بعد فراغت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی، جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے“ }۔ [صحیح بخاری:1052-3202] ابو یعلیٰ میں ہے { ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور ہم بھی، پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تاکہ لا کر تمہیں دوں، پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی“ }۔ اسی کے مثل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:904]
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟“ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں، پھر پوچھا: وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟“، اس نے کہا نہیں، فرمایا: شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں، ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے، اس نے پوچھا: جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا: ”کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔“ وہ کہنے لگا: اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا۔“ اس نے کہا: اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: کتنے بڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا: پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”بلکہ ساری برادری کو۔“ [مسند احمد:183/4:ضعیف] پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں، نہ کبھی ختم ہوں، نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں نہیں، بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پا لیں اللہ کی قدرت سے ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی، نہ دوری ہو گی، نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہو گی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہو گی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی۔ [سنن ترمذي:3294،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔ اس کے بعد ضمیر لائے جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لیے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی۔ جیسے سلیمان علیہ السلام کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور «شمس» کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔ لیکن ابوعبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا «وَحُوْرٌ عِيْنٌ» [56-الواقعة:22]
34-1بعض نے فرشوں سے بیویوں اور مرفوعہ سے بلند مرتبہ کا مفہوم مراد لیا ہے۔
(آیت 34) {وَ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ:} اونچے بستروں سے مراد عالی شان بستر ہیں۔ ترمذی وغیرہ کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ان کی بلندی اتنی ہے جتنی آسمان و زمین کے درمیان ہے، جو پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، مگر ایسی کوئی روایت صحیح نہیں اور نہ ہی بظاہر ایسی بلندی سے کچھ فائدہ ہے۔
ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے ان کی (بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے ان عورتوں کو اچھی اٹھان اٹھایا،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے (حوروں) کو خاص نئے سرے سے پیدا کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ ہم نے ان( بستروں والی عورتوں) کو پیدا کیا، نئے سرے سے پیدا کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اہل جنت کی بیویوں کا حسن و جمال ٭٭
پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ بلکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نوعمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظرافت و ملاحت، حسن و صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں۔ بعض کہتے ہیں «عرباء» کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو۔ حدیث میں ہے کہ { یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نوعمر وغیرہ کر دیا ہے }۔ [سنن ترمذي:3296،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:3393:ضعیف] ایک بڑھیا عورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یا رسول اللہ! میرے لیے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام فلاں! جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، انہیں سمجھا دو“، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی، بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کر دیں گے شمائل ترمذی وغیرہ۔ [شمائل ترمذی:240ضعیف] طبرانی میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہ! حورعین کی خبر مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ گورے رنگ کی ہیں، بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں، سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر۔“ میں نے کہا «اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ» [56-الواقعة:23] کی بابت خبر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو“، میں نے کہا «خَيراتٌ حِسانٌ» [33-الأحزاب:70] کی کیا تفسیر ہے؟ فرمایا: ”خوش خلق خوبصورت“ میں نے کہا «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ان کی نزاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہو گی جو اندر ہوتی ہے“، میں نے «عُرُبًا أَترابًا» [56-الواقعة:37] کے معنی دریافت کئے، فرمایا: ”اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنا دیں“، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا حورعین؟ فرمایا: ”دنیا کی عورتیں حورعین سے بہت افضل ہیں، جیسے استر سے ابرا ہوتا ہے“، میں نے کہا: اس فضیلت کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”نمازیں، روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے، ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی۔ «نحن الخالدات فلا نموت ابدا» *** «ونحن الناعمات فلا نباس ابدا» *** «ونحن المقیمات فلانطعن ابدا» *** «ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا» *** «طوبی لمن کنا لہ وکان لنا» یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لیے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لیے ہیں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے“، چنانچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی، پروردگار! یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے“، اے ام سلمہ! حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لیے ہوئے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33402:ضعیف]
«صور» کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا، اللہ کی قسم! تم جس قدر اپنے گھربار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتّر بہتّر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہو گی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا، یہ اس بالاخانے میں ہو گی، جو یاقوت کا بنا ہوا ہو گا، اس پلنگ پر ہو گی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہو گا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہو گا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہو گی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آ جائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہو گی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہو گا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہو گا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہو گی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہو گا، نہ یہ تھکے، نہ وہ اس کا دل بھرے، نہ اس کا، جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا، نہ اس کا عضو سست ہو، نہ اسے گراں گزرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہو گا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہو گا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے۔ «بیھقی فی البعث والنشور669:ضعیف» سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ! کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح، بہترین طریق پر جب الگ ہو گا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔“ «حسن» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، سیدنا انس رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اتنی طاقت رکھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی۔“ [سنن ترمذي:2536،قال الشيخ الألباني:حسن]
طبرانی کی حدیث میں ہے ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ [طبرانی اوسط:5236:ضعیف] حافظ عبداللہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «عربا» کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔ عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں «عربا» اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہو گی۔ «ضعیف و منقطع» «اتراب» کے معنی ہیں ہم عمر یعنی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر، بغض، سوتیا، ڈاہ، حسد اور رشک نہ ہو گا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں، کھیلیں کودیں۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہو گی۔ [سنن ترمذي:2564،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ان کا گانا وہی ہو گا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلیٰ میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہو گا «نحن خیرات حسان» *** «خبئنا لازواج کرام» ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لیے چھپا کر رکھی گئی تھیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:280/2] اور روایت میں «خیرات» کے بدلے «جوار» کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لیے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے «اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاءً» [56-الواقعة:35] کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لیے پیدا کیا ہے۔
ابوسلیمان دارانی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لیے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آ گئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا: اے ابوسلیمان! ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لیے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ «لام» متعلق «اَترَاباً» کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے۔ یہ پاخانے، پیشاب، تھوک، رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حورعین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ آدم علیہ السلام کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لمبے قد کے ہوں گے }۔ [صحیح بخاری:3327]
طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش، گورے رنگ والے، خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے، سات ہاتھ لمبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ [مسند احمد:295/2:حسن] اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي:2545،قال الشيخ الألباني:حسن] اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم علیہ السلام، حسن یوسف علیہ السلام، عمر عیسیٰ علیہ السلام یعنی تینتیس سال اور زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے [ابن ابی الدنیا:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں، نہ سڑیں، نہ پرانے ہوں، نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے، نہ جائے، نہ فنا ہو۔ [ابونعیم فی صفةالجنة:255ضعیف] اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گزرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی نہ تھا راوی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی «اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ» [11-ھود:78] کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں؟ یہاں تک کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لیے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: ”پروردگار یہ کون ہیں؟“ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے، میں نے پوچھا: ”الٰہی پھر میری امت کہاں ہے؟“ فرمایا: اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا: کہو اب تو خوش ہو، میں نے کہا: ”ہاں الٰہی میں خوش ہوں“، مجھ سے فرمایا: اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بےشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہو گئے؟ میں نے کہا: ”ہاں میرے رب میں راضی ہوں“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالٰی مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میرے لیے بھی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو، جو بے حساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہو جاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ، میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہو گی۔“ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا: ”بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہو گے۔“ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا: ”اور سنو! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہو گے“، ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہو گیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے؟ پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں“ }۔ [مسند احمد:401/1:صحیح] یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔
ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:646/11:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 35) {اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءً: ” اَنْشَاْنٰهُنَّ “} میں{”هُنَّ “} کی ضمیر ان عورتوں کی طرف جا رہی ہے جن کا پچھلی آیت {” وَ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ “} کے ضمن میں ذکر ہے، کیونکہ جنتیوں کے بستروں میں ان کے ساتھ ان کی بیویاں بھی ہوں گی، جیسا کہ فرمایا: «هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِيْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآىِٕكِ مُتَّكِـُٔوْنَ» [ یٰسٓ: ۵۶ ] ”وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔“ {” أَنْشَأَ يُنْشِئُ إِنْشَاءً “} کا معنی ”نیا پیدا کرنا“ ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مومن عورتیں بوڑھی یا بد صورت یا جیسی بھی تھیں، اللہ تعالیٰ انھیں نئے سرے سے جوان، کنواری، خوبصورت اور ان اوصاف والی بنا دے گا جن کا ان آیات میں ذکر ہے۔ اس کے علاوہ ان الفاظ میں وہ ”حور عین“ بھی شامل ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ جنتیوں ہی کے لیے پیدا فرمائے گا۔
پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ بلکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نوعمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظرافت و ملاحت، حسن و صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں۔ بعض کہتے ہیں «عرباء» کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو۔ حدیث میں ہے کہ { یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نوعمر وغیرہ کر دیا ہے }۔ [سنن ترمذي:3296،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:3393:ضعیف] ایک بڑھیا عورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یا رسول اللہ! میرے لیے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام فلاں! جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، انہیں سمجھا دو“، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی، بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کر دیں گے شمائل ترمذی وغیرہ۔ [شمائل ترمذی:240ضعیف] طبرانی میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہ! حورعین کی خبر مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ گورے رنگ کی ہیں، بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں، سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر۔“ میں نے کہا «اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ» [56-الواقعة:23] کی بابت خبر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو“، میں نے کہا «خَيراتٌ حِسانٌ» [33-الأحزاب:70] کی کیا تفسیر ہے؟ فرمایا: ”خوش خلق خوبصورت“ میں نے کہا «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ان کی نزاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہو گی جو اندر ہوتی ہے“، میں نے «عُرُبًا أَترابًا» [56-الواقعة:37] کے معنی دریافت کئے، فرمایا: ”اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنا دیں“، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا حورعین؟ فرمایا: ”دنیا کی عورتیں حورعین سے بہت افضل ہیں، جیسے استر سے ابرا ہوتا ہے“، میں نے کہا: اس فضیلت کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”نمازیں، روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے، ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی۔ «نحن الخالدات فلا نموت ابدا» *** «ونحن الناعمات فلا نباس ابدا» *** «ونحن المقیمات فلانطعن ابدا» *** «ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا» *** «طوبی لمن کنا لہ وکان لنا» یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لیے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لیے ہیں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے“، چنانچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی، پروردگار! یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے“، اے ام سلمہ! حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لیے ہوئے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33402:ضعیف]
«صور» کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا، اللہ کی قسم! تم جس قدر اپنے گھربار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتّر بہتّر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہو گی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا، یہ اس بالاخانے میں ہو گی، جو یاقوت کا بنا ہوا ہو گا، اس پلنگ پر ہو گی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہو گا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہو گا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہو گی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آ جائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہو گی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہو گا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہو گا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہو گی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہو گا، نہ یہ تھکے، نہ وہ اس کا دل بھرے، نہ اس کا، جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا، نہ اس کا عضو سست ہو، نہ اسے گراں گزرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہو گا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہو گا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے۔ «بیھقی فی البعث والنشور669:ضعیف» سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ! کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح، بہترین طریق پر جب الگ ہو گا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔“ «حسن» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، سیدنا انس رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اتنی طاقت رکھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی۔“ [سنن ترمذي:2536،قال الشيخ الألباني:حسن]
طبرانی کی حدیث میں ہے ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ [طبرانی اوسط:5236:ضعیف] حافظ عبداللہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «عربا» کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔ عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں «عربا» اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہو گی۔ «ضعیف و منقطع» «اتراب» کے معنی ہیں ہم عمر یعنی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر، بغض، سوتیا، ڈاہ، حسد اور رشک نہ ہو گا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں، کھیلیں کودیں۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہو گی۔ [سنن ترمذي:2564،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ان کا گانا وہی ہو گا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلیٰ میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہو گا «نحن خیرات حسان» *** «خبئنا لازواج کرام» ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لیے چھپا کر رکھی گئی تھیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:280/2] اور روایت میں «خیرات» کے بدلے «جوار» کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لیے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے «اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاءً» [56-الواقعة:35] کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لیے پیدا کیا ہے۔
ابوسلیمان دارانی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لیے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آ گئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا: اے ابوسلیمان! ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لیے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ «لام» متعلق «اَترَاباً» کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے۔ یہ پاخانے، پیشاب، تھوک، رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حورعین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ آدم علیہ السلام کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لمبے قد کے ہوں گے }۔ [صحیح بخاری:3327]
طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش، گورے رنگ والے، خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے، سات ہاتھ لمبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ [مسند احمد:295/2:حسن] اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي:2545،قال الشيخ الألباني:حسن] اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم علیہ السلام، حسن یوسف علیہ السلام، عمر عیسیٰ علیہ السلام یعنی تینتیس سال اور زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے [ابن ابی الدنیا:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں، نہ سڑیں، نہ پرانے ہوں، نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے، نہ جائے، نہ فنا ہو۔ [ابونعیم فی صفةالجنة:255ضعیف] اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گزرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی نہ تھا راوی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی «اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ» [11-ھود:78] کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں؟ یہاں تک کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لیے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: ”پروردگار یہ کون ہیں؟“ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے، میں نے پوچھا: ”الٰہی پھر میری امت کہاں ہے؟“ فرمایا: اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا: کہو اب تو خوش ہو، میں نے کہا: ”ہاں الٰہی میں خوش ہوں“، مجھ سے فرمایا: اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بےشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہو گئے؟ میں نے کہا: ”ہاں میرے رب میں راضی ہوں“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالٰی مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میرے لیے بھی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو، جو بے حساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہو جاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ، میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہو گی۔“ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا: ”بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہو گے۔“ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا: ”اور سنو! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہو گے“، ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہو گیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے؟ پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں“ }۔ [مسند احمد:401/1:صحیح] یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔
ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:646/11:ضعیف]
36-1اس سے مراد اہل جنت کو ملنے والی بیویاں اور حور عین ہیں۔ حوریں، ولادت کے عام طریقے سے پیدا شدہ نہیں ہونگی، بلکہ اللہ تعالیٰ خاص طور پر انہیں جنت میں اپنی قدرت خاص سے بنائے گا، اور جو دنیاوی عورتیں ہونگی، تو وہ بھی حوروں کے علاوہ اہل جنت کی بیویوں کے
(آیت 36) {فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًا:” اَبْكَارًا “ ”بِكْرٌ“} کی جمع ہے، کنواریاں۔ یعنی دنیا میں شوہر والی مومن عورتوں کو بھی اللہ تعالیٰ باکرہ بنا دے گا۔ اس کے علاوہ دنیا کی عورتیں ہوں یا جنتیوں کے لیے پیدا کی گئی نئی عورتیں، سب ہمیشہ باکرہ رہیں گی، ان کے خاوند جب بھی ان سے ملاپ کریں گے انھیں باکرہ پائیں گے۔
پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ بلکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نوعمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظرافت و ملاحت، حسن و صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں۔ بعض کہتے ہیں «عرباء» کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو۔ حدیث میں ہے کہ { یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نوعمر وغیرہ کر دیا ہے }۔ [سنن ترمذي:3296،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:3393:ضعیف] ایک بڑھیا عورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یا رسول اللہ! میرے لیے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام فلاں! جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، انہیں سمجھا دو“، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی، بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کر دیں گے شمائل ترمذی وغیرہ۔ [شمائل ترمذی:240ضعیف] طبرانی میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہ! حورعین کی خبر مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ گورے رنگ کی ہیں، بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں، سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر۔“ میں نے کہا «اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ» [56-الواقعة:23] کی بابت خبر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو“، میں نے کہا «خَيراتٌ حِسانٌ» [33-الأحزاب:70] کی کیا تفسیر ہے؟ فرمایا: ”خوش خلق خوبصورت“ میں نے کہا «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ان کی نزاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہو گی جو اندر ہوتی ہے“، میں نے «عُرُبًا أَترابًا» [56-الواقعة:37] کے معنی دریافت کئے، فرمایا: ”اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنا دیں“، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا حورعین؟ فرمایا: ”دنیا کی عورتیں حورعین سے بہت افضل ہیں، جیسے استر سے ابرا ہوتا ہے“، میں نے کہا: اس فضیلت کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”نمازیں، روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے، ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی۔ «نحن الخالدات فلا نموت ابدا» *** «ونحن الناعمات فلا نباس ابدا» *** «ونحن المقیمات فلانطعن ابدا» *** «ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا» *** «طوبی لمن کنا لہ وکان لنا» یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لیے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لیے ہیں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے“، چنانچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی، پروردگار! یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے“، اے ام سلمہ! حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لیے ہوئے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33402:ضعیف]
«صور» کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا، اللہ کی قسم! تم جس قدر اپنے گھربار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتّر بہتّر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہو گی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا، یہ اس بالاخانے میں ہو گی، جو یاقوت کا بنا ہوا ہو گا، اس پلنگ پر ہو گی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہو گا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہو گا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہو گی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آ جائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہو گی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہو گا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہو گا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہو گی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہو گا، نہ یہ تھکے، نہ وہ اس کا دل بھرے، نہ اس کا، جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا، نہ اس کا عضو سست ہو، نہ اسے گراں گزرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہو گا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہو گا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے۔ «بیھقی فی البعث والنشور669:ضعیف» سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ! کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح، بہترین طریق پر جب الگ ہو گا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔“ «حسن» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، سیدنا انس رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اتنی طاقت رکھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی۔“ [سنن ترمذي:2536،قال الشيخ الألباني:حسن]
طبرانی کی حدیث میں ہے ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ [طبرانی اوسط:5236:ضعیف] حافظ عبداللہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «عربا» کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔ عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں «عربا» اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہو گی۔ «ضعیف و منقطع» «اتراب» کے معنی ہیں ہم عمر یعنی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر، بغض، سوتیا، ڈاہ، حسد اور رشک نہ ہو گا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں، کھیلیں کودیں۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہو گی۔ [سنن ترمذي:2564،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ان کا گانا وہی ہو گا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلیٰ میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہو گا «نحن خیرات حسان» *** «خبئنا لازواج کرام» ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لیے چھپا کر رکھی گئی تھیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:280/2] اور روایت میں «خیرات» کے بدلے «جوار» کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لیے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے «اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاءً» [56-الواقعة:35] کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لیے پیدا کیا ہے۔
ابوسلیمان دارانی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لیے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آ گئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا: اے ابوسلیمان! ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لیے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ «لام» متعلق «اَترَاباً» کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے۔ یہ پاخانے، پیشاب، تھوک، رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حورعین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ آدم علیہ السلام کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لمبے قد کے ہوں گے }۔ [صحیح بخاری:3327]
طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش، گورے رنگ والے، خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے، سات ہاتھ لمبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ [مسند احمد:295/2:حسن] اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي:2545،قال الشيخ الألباني:حسن] اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم علیہ السلام، حسن یوسف علیہ السلام، عمر عیسیٰ علیہ السلام یعنی تینتیس سال اور زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے [ابن ابی الدنیا:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں، نہ سڑیں، نہ پرانے ہوں، نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے، نہ جائے، نہ فنا ہو۔ [ابونعیم فی صفةالجنة:255ضعیف] اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گزرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی نہ تھا راوی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی «اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ» [11-ھود:78] کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں؟ یہاں تک کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لیے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: ”پروردگار یہ کون ہیں؟“ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے، میں نے پوچھا: ”الٰہی پھر میری امت کہاں ہے؟“ فرمایا: اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا: کہو اب تو خوش ہو، میں نے کہا: ”ہاں الٰہی میں خوش ہوں“، مجھ سے فرمایا: اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بےشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہو گئے؟ میں نے کہا: ”ہاں میرے رب میں راضی ہوں“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالٰی مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میرے لیے بھی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو، جو بے حساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہو جاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ، میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہو گی۔“ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا: ”بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہو گے۔“ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا: ”اور سنو! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہو گے“، ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہو گیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے؟ پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں“ }۔ [مسند احمد:401/1:صحیح] یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔
ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:646/11:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 38،37) {عُرُبًا اَتْرَابًا (37) لِّاَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ: ” عُرُبًا “ ”عَرُوْبٌ“} (بفتح عین) کی جمع ہے، جیسے {”رَسُوْلٌ“} کی جمع {”رُسُلٌ“} ہے۔ یہ {”أَعْرَبَ فُلَانٌ فِيْ قَوْلِهٖ“} سے ہے، جب کوئی شخص فصاحت اور حسنِ بیان سے بات کرے۔ یعنی میٹھی میٹھی باتوں اور ناز و انداز سے خاوند کا دل لبھانے والی اور اس کی محبت حاصل کرنے والی عورتیں، خاوند کی محبوب عورتیں۔{” اَتْرَابًا “” تِرْبٌ“} کی جمع ہے، ہم عمر جو مل کر مٹی میں کھیلتے رہے ہوں۔ {” لِاَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ “ ” اَتْرَابًا “} سے متعلق ہے، یعنی وہ اصحاب الیمین کی ہم عمر ہوں گی۔ ہم عمری میں جو موافقت پائی جاتی ہے وہ اس کے سوا میں حاصل نہیں ہوتی۔ واضح رہے کہ ان آیات کا یہ مطلب نہیں کہ سابقون کو ملنے والی نعمتیں اور ہوں گی اور اصحاب الیمین کو ملنے والی دوسری، بلکہ دونوں کو ملنے والی بے شمار نعمتیں مشترک ہوں گی، مثلاً جنت کے پھل، مکانات، نہریں، بیویاں، خدام وغیرہ۔ ہاں، ان کی کیفیت میں ضرور فرق ہو گا کہ سابقون کو ملنے والی نعمتیں اصحاب الیمین کو ملنے والی نعمتوں سے اعلیٰ درجے کی ہوں گی۔ دونوں کے لیے نعمتوں کے بیان سے مقصود ترغیب اور ان کا شوق دلانا ہے۔
پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ بلکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نوعمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظرافت و ملاحت، حسن و صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں۔ بعض کہتے ہیں «عرباء» کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو۔ حدیث میں ہے کہ { یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نوعمر وغیرہ کر دیا ہے }۔ [سنن ترمذي:3296،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:3393:ضعیف] ایک بڑھیا عورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یا رسول اللہ! میرے لیے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام فلاں! جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، انہیں سمجھا دو“، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی، بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کر دیں گے شمائل ترمذی وغیرہ۔ [شمائل ترمذی:240ضعیف] طبرانی میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہ! حورعین کی خبر مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ گورے رنگ کی ہیں، بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں، سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر۔“ میں نے کہا «اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ» [56-الواقعة:23] کی بابت خبر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو“، میں نے کہا «خَيراتٌ حِسانٌ» [33-الأحزاب:70] کی کیا تفسیر ہے؟ فرمایا: ”خوش خلق خوبصورت“ میں نے کہا «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ان کی نزاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہو گی جو اندر ہوتی ہے“، میں نے «عُرُبًا أَترابًا» [56-الواقعة:37] کے معنی دریافت کئے، فرمایا: ”اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنا دیں“، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا حورعین؟ فرمایا: ”دنیا کی عورتیں حورعین سے بہت افضل ہیں، جیسے استر سے ابرا ہوتا ہے“، میں نے کہا: اس فضیلت کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”نمازیں، روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے، ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی۔ «نحن الخالدات فلا نموت ابدا» *** «ونحن الناعمات فلا نباس ابدا» *** «ونحن المقیمات فلانطعن ابدا» *** «ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا» *** «طوبی لمن کنا لہ وکان لنا» یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لیے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لیے ہیں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے“، چنانچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی، پروردگار! یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے“، اے ام سلمہ! حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لیے ہوئے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33402:ضعیف]
«صور» کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا، اللہ کی قسم! تم جس قدر اپنے گھربار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتّر بہتّر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہو گی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا، یہ اس بالاخانے میں ہو گی، جو یاقوت کا بنا ہوا ہو گا، اس پلنگ پر ہو گی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہو گا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہو گا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہو گی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آ جائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہو گی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہو گا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہو گا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہو گی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہو گا، نہ یہ تھکے، نہ وہ اس کا دل بھرے، نہ اس کا، جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا، نہ اس کا عضو سست ہو، نہ اسے گراں گزرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہو گا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہو گا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے۔ «بیھقی فی البعث والنشور669:ضعیف» سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ! کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح، بہترین طریق پر جب الگ ہو گا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔“ «حسن» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، سیدنا انس رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اتنی طاقت رکھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی۔“ [سنن ترمذي:2536،قال الشيخ الألباني:حسن]
طبرانی کی حدیث میں ہے ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ [طبرانی اوسط:5236:ضعیف] حافظ عبداللہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «عربا» کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔ عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں «عربا» اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہو گی۔ «ضعیف و منقطع» «اتراب» کے معنی ہیں ہم عمر یعنی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر، بغض، سوتیا، ڈاہ، حسد اور رشک نہ ہو گا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں، کھیلیں کودیں۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہو گی۔ [سنن ترمذي:2564،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ان کا گانا وہی ہو گا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلیٰ میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہو گا «نحن خیرات حسان» *** «خبئنا لازواج کرام» ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لیے چھپا کر رکھی گئی تھیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:280/2] اور روایت میں «خیرات» کے بدلے «جوار» کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لیے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے «اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاءً» [56-الواقعة:35] کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لیے پیدا کیا ہے۔
ابوسلیمان دارانی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لیے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آ گئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا: اے ابوسلیمان! ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لیے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ «لام» متعلق «اَترَاباً» کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے۔ یہ پاخانے، پیشاب، تھوک، رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حورعین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ آدم علیہ السلام کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لمبے قد کے ہوں گے }۔ [صحیح بخاری:3327]
طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش، گورے رنگ والے، خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے، سات ہاتھ لمبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ [مسند احمد:295/2:حسن] اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي:2545،قال الشيخ الألباني:حسن] اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم علیہ السلام، حسن یوسف علیہ السلام، عمر عیسیٰ علیہ السلام یعنی تینتیس سال اور زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے [ابن ابی الدنیا:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں، نہ سڑیں، نہ پرانے ہوں، نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے، نہ جائے، نہ فنا ہو۔ [ابونعیم فی صفةالجنة:255ضعیف] اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گزرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی نہ تھا راوی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی «اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ» [11-ھود:78] کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں؟ یہاں تک کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لیے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: ”پروردگار یہ کون ہیں؟“ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے، میں نے پوچھا: ”الٰہی پھر میری امت کہاں ہے؟“ فرمایا: اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا: کہو اب تو خوش ہو، میں نے کہا: ”ہاں الٰہی میں خوش ہوں“، مجھ سے فرمایا: اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بےشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہو گئے؟ میں نے کہا: ”ہاں میرے رب میں راضی ہوں“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالٰی مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میرے لیے بھی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو، جو بے حساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہو جاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ، میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہو گی۔“ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا: ”بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہو گے۔“ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا: ”اور سنو! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہو گے“، ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہو گیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے؟ پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں“ }۔ [مسند احمد:401/1:صحیح] یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔
ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:646/11:ضعیف]
پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ بلکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نوعمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظرافت و ملاحت، حسن و صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں۔ بعض کہتے ہیں «عرباء» کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو۔ حدیث میں ہے کہ { یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نوعمر وغیرہ کر دیا ہے }۔ [سنن ترمذي:3296،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:3393:ضعیف] ایک بڑھیا عورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یا رسول اللہ! میرے لیے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام فلاں! جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، انہیں سمجھا دو“، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی، بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کر دیں گے شمائل ترمذی وغیرہ۔ [شمائل ترمذی:240ضعیف] طبرانی میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہ! حورعین کی خبر مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ گورے رنگ کی ہیں، بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں، سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر۔“ میں نے کہا «اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ» [56-الواقعة:23] کی بابت خبر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو“، میں نے کہا «خَيراتٌ حِسانٌ» [33-الأحزاب:70] کی کیا تفسیر ہے؟ فرمایا: ”خوش خلق خوبصورت“ میں نے کہا «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ان کی نزاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہو گی جو اندر ہوتی ہے“، میں نے «عُرُبًا أَترابًا» [56-الواقعة:37] کے معنی دریافت کئے، فرمایا: ”اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنا دیں“، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا حورعین؟ فرمایا: ”دنیا کی عورتیں حورعین سے بہت افضل ہیں، جیسے استر سے ابرا ہوتا ہے“، میں نے کہا: اس فضیلت کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”نمازیں، روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے، ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی۔ «نحن الخالدات فلا نموت ابدا» *** «ونحن الناعمات فلا نباس ابدا» *** «ونحن المقیمات فلانطعن ابدا» *** «ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا» *** «طوبی لمن کنا لہ وکان لنا» یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لیے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لیے ہیں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے“، چنانچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی، پروردگار! یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے“، اے ام سلمہ! حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لیے ہوئے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33402:ضعیف]
«صور» کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا، اللہ کی قسم! تم جس قدر اپنے گھربار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتّر بہتّر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہو گی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا، یہ اس بالاخانے میں ہو گی، جو یاقوت کا بنا ہوا ہو گا، اس پلنگ پر ہو گی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہو گا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہو گا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہو گی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آ جائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہو گی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہو گا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہو گا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہو گی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہو گا، نہ یہ تھکے، نہ وہ اس کا دل بھرے، نہ اس کا، جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا، نہ اس کا عضو سست ہو، نہ اسے گراں گزرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہو گا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہو گا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے۔ «بیھقی فی البعث والنشور669:ضعیف» سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ! کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح، بہترین طریق پر جب الگ ہو گا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔“ «حسن» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، سیدنا انس رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اتنی طاقت رکھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی۔“ [سنن ترمذي:2536،قال الشيخ الألباني:حسن]
طبرانی کی حدیث میں ہے ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ [طبرانی اوسط:5236:ضعیف] حافظ عبداللہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «عربا» کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔ عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں «عربا» اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہو گی۔ «ضعیف و منقطع» «اتراب» کے معنی ہیں ہم عمر یعنی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر، بغض، سوتیا، ڈاہ، حسد اور رشک نہ ہو گا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں، کھیلیں کودیں۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہو گی۔ [سنن ترمذي:2564،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ان کا گانا وہی ہو گا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلیٰ میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہو گا «نحن خیرات حسان» *** «خبئنا لازواج کرام» ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لیے چھپا کر رکھی گئی تھیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:280/2] اور روایت میں «خیرات» کے بدلے «جوار» کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لیے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے «اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاءً» [56-الواقعة:35] کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لیے پیدا کیا ہے۔
ابوسلیمان دارانی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لیے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آ گئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا: اے ابوسلیمان! ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لیے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ «لام» متعلق «اَترَاباً» کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے۔ یہ پاخانے، پیشاب، تھوک، رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حورعین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ آدم علیہ السلام کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لمبے قد کے ہوں گے }۔ [صحیح بخاری:3327]
طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش، گورے رنگ والے، خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے، سات ہاتھ لمبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ [مسند احمد:295/2:حسن] اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي:2545،قال الشيخ الألباني:حسن] اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم علیہ السلام، حسن یوسف علیہ السلام، عمر عیسیٰ علیہ السلام یعنی تینتیس سال اور زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے [ابن ابی الدنیا:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں، نہ سڑیں، نہ پرانے ہوں، نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے، نہ جائے، نہ فنا ہو۔ [ابونعیم فی صفةالجنة:255ضعیف] اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گزرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی نہ تھا راوی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی «اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ» [11-ھود:78] کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں؟ یہاں تک کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لیے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: ”پروردگار یہ کون ہیں؟“ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے، میں نے پوچھا: ”الٰہی پھر میری امت کہاں ہے؟“ فرمایا: اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا: کہو اب تو خوش ہو، میں نے کہا: ”ہاں الٰہی میں خوش ہوں“، مجھ سے فرمایا: اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بےشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہو گئے؟ میں نے کہا: ”ہاں میرے رب میں راضی ہوں“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالٰی مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میرے لیے بھی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو، جو بے حساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہو جاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ، میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہو گی۔“ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا: ”بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہو گے۔“ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا: ”اور سنو! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہو گے“، ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہو گیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے؟ پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں“ }۔ [مسند احمد:401/1:صحیح] یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔
ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:646/11:ضعیف]
39-1یعنی آدم ؑ سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک کے لوگوں میں سے یا خود امت محمدیہ کے اگلوں میں سے۔
(آیت 40،39) {ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ (39) وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ:} یعنی اصحاب الیمین پہلی امتوں میں سے بہت بڑی جماعت ہوں گے اور آخری امت سے بھی بہت بڑی جماعت ہوں گے۔ اس میں یہ وضاحت نہیں کہ دونوں میں سے کون سی جماعت تعداد میں دوسری سے زیادہ ہو گی، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمائی ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ قُبَّةٍ نَحْوًا مِّنْ أَرْبَعِيْنَ رَجُلاً فَقَالَ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُوْنُوْا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ، فَقَالَ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُوْنُوْا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ فَقُلْنَا نَعَمْ، فَقَالَ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! إِنِّيْ لَأَرْجُوْ أَنْ تَكُوْنُوْا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُّسْلِمَةٌ وَمَا أَنْتُمْ فِيْ أَهْلِ الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِيْ جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِيْ جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ ] [مسلم، الإیمان، باب کون ھٰذہ الأمۃ نصف أھل الجنۃ: ۳۷۷ /۲۲۱ ] ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمہ میں تقریباً چالیس آدمی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہلِ جنت کا چوتھا حصہ ہو؟“ ہم نے کہا: ”ہاں!“ پھر فرمایا: ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہو؟“ ہم نے کہا: ”ہاں!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں امید کرتا ہوں کہ تم اہلِ جنت کا نصف ہو گے اور یہ اس لیے کہ جنت میں مسلمان کے سوا کوئی نہیں جائے گا۔ اور مشرکوں کے مقابلے میں تمھاری تعداد اتنی ہی ہے جتنی سیاہ بیل کی جلد میں ایک سفید بال یا سرخ بیل کی جلد میں ایک سیاہ بال۔“
پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ بلکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نوعمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا۔ وہ اپنے ظرافت و ملاحت، حسن و صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں۔ بعض کہتے ہیں «عرباء» کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو۔ حدیث میں ہے کہ { یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نوعمر وغیرہ کر دیا ہے }۔ [سنن ترمذي:3296،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:3393:ضعیف] ایک بڑھیا عورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یا رسول اللہ! میرے لیے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام فلاں! جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، انہیں سمجھا دو“، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی، بڑھیا نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کر دیں گے شمائل ترمذی وغیرہ۔ [شمائل ترمذی:240ضعیف] طبرانی میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا: یا رسول اللہ! حورعین کی خبر مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ گورے رنگ کی ہیں، بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں، سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر۔“ میں نے کہا «اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ» [56-الواقعة:23] کی بابت خبر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو“، میں نے کہا «خَيراتٌ حِسانٌ» [33-الأحزاب:70] کی کیا تفسیر ہے؟ فرمایا: ”خوش خلق خوبصورت“ میں نے کہا «كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ» [37-الصافات:49] سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ان کی نزاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہو گی جو اندر ہوتی ہے“، میں نے «عُرُبًا أَترابًا» [56-الواقعة:37] کے معنی دریافت کئے، فرمایا: ”اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنا دیں“، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا حورعین؟ فرمایا: ”دنیا کی عورتیں حورعین سے بہت افضل ہیں، جیسے استر سے ابرا ہوتا ہے“، میں نے کہا: اس فضیلت کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”نمازیں، روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے، ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی۔ «نحن الخالدات فلا نموت ابدا» *** «ونحن الناعمات فلا نباس ابدا» *** «ونحن المقیمات فلانطعن ابدا» *** «ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا» *** «طوبی لمن کنا لہ وکان لنا» یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لیے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لیے ہیں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے“، چنانچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو، اللہ تعالیٰ سے کہے گی، پروردگار! یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے“، اے ام سلمہ! حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لیے ہوئے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33402:ضعیف]
«صور» کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا، اللہ کی قسم! تم جس قدر اپنے گھربار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتّر بہتّر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہو گی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا، یہ اس بالاخانے میں ہو گی، جو یاقوت کا بنا ہوا ہو گا، اس پلنگ پر ہو گی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہو گا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہو گا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہو گی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آ جائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہو گی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہو گا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہو گا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہو گی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہو گا، نہ یہ تھکے، نہ وہ اس کا دل بھرے، نہ اس کا، جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا، نہ اس کا عضو سست ہو، نہ اسے گراں گزرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہو گا جس سے گھن آئے، یہ یونہی مشغول ہو گا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے۔ «بیھقی فی البعث والنشور669:ضعیف» سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ! کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح، بہترین طریق پر جب الگ ہو گا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔“ «حسن» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی، سیدنا انس رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اتنی طاقت رکھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی۔“ [سنن ترمذي:2536،قال الشيخ الألباني:حسن]
طبرانی کی حدیث میں ہے ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔ [طبرانی اوسط:5236:ضعیف] حافظ عبداللہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «عربا» کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق۔ عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے، تمیم بن حدلم کہتے ہیں «عربا» اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہو گی۔ «ضعیف و منقطع» «اتراب» کے معنی ہیں ہم عمر یعنی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر، بغض، سوتیا، ڈاہ، حسد اور رشک نہ ہو گا۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں، کھیلیں کودیں۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہو گی۔ [سنن ترمذي:2564،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ان کا گانا وہی ہو گا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلیٰ میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہو گا «نحن خیرات حسان» *** «خبئنا لازواج کرام» ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لیے چھپا کر رکھی گئی تھیں۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:280/2] اور روایت میں «خیرات» کے بدلے «جوار» کا لفظ آیا ہے۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لیے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے «اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاءً» [56-الواقعة:35] کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لیے پیدا کیا ہے۔
ابوسلیمان دارانی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لیے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آ گئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا: اے ابوسلیمان! ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لیے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ «لام» متعلق «اَترَاباً» کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے۔ یہ پاخانے، پیشاب، تھوک، رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حورعین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ آدم علیہ السلام کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لمبے قد کے ہوں گے }۔ [صحیح بخاری:3327]
طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش، گورے رنگ والے، خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے، سات ہاتھ لمبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔ [مسند احمد:295/2:حسن] اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔ [سنن ترمذي:2545،قال الشيخ الألباني:حسن] اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم علیہ السلام، حسن یوسف علیہ السلام، عمر عیسیٰ علیہ السلام یعنی تینتیس سال اور زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے [ابن ابی الدنیا:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں، نہ سڑیں، نہ پرانے ہوں، نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے، نہ جائے، نہ فنا ہو۔ [ابونعیم فی صفةالجنة:255ضعیف] اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گزرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی نہ تھا راوی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی «اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ» [11-ھود:78] کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں؟ یہاں تک کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لیے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: ”پروردگار یہ کون ہیں؟“ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے، میں نے پوچھا: ”الٰہی پھر میری امت کہاں ہے؟“ فرمایا: اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے، پھر مجھ سے پوچھا: کہو اب تو خوش ہو، میں نے کہا: ”ہاں الٰہی میں خوش ہوں“، مجھ سے فرمایا: اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بےشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہو گئے؟ میں نے کہا: ”ہاں میرے رب میں راضی ہوں“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالٰی مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میرے لیے بھی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو، جو بے حساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہو جاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ، میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہو گی۔“ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا: ”بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہو گے۔“ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ فرمایا: ”اور سنو! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہو گے“، ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ» * «وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39،40] کی تلاوت کی۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہو گیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے؟ پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں“ }۔ [مسند احمد:401/1:صحیح] یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔
ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:646/11:ضعیف]
40-1یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے یا آپ کی امت کے پچھلوں میں سے۔
اور بائیں بازو والے، بائیں بازو والوں کی بد نصیبی کا کیا پوچھنا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بائیں ہاتھ والے کیا ہیں بائیں ہاتھ والے
احمد رضا خان بریلوی
اور بائیں طرف والے کیسے بائیں طرف والے
علامہ محمد حسین نجفی
اور بائیں ہاتھ والے اور کیا برے ہیں بائیں ہاتھ والے۔
عبدالسلام بن محمد
اوربائیں ہاتھ والے ،کیا (ہی برے) ہیں بائیں ہاتھ والے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ’ اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔ «الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔ جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟ سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
41-1اس سے مراد اہل جہنم ہیں، جن کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔
(آیت 41تا44) {وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ …: ” سَمُوْمٍ “} کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ طور (۲۷) کی تفسیر۔ {” يَحْمُوْمٍ “} سیاہ دھواں۔ یہ {”حُمَمٌ“} (بروزن {”صُرَدٌ“}، بمعنی کوئلہ) سے {”يَفْعُوْلٌ“} کے وزن پر ہے۔ {”أَحَمُّ“} سیاہ۔ یعنی وہ دھواں جس میں سیاہی اور گرمی دونوں ہوں۔ یعنی جہنمیوں کو کہیں سایہ نہیں ملے گا، ملے گا تو سخت سیاہ اور گرم دھوئیں کا، جس میں نہ کوئی ٹھنڈک ہو گی اور نہ کوئی راحت یا آسائش ہو گی۔ مزید دیکھیے سورۂ مرسلات (۲۹ تا ۳۴)۔
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ’ اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔ «الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔ جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟ سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ’ اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔ «الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔ جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟ سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ’ اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔ «الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔ جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟ سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
44-1یعنی سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے، لیکن یہ جس کا سایہ سمجھ رہے ہونگے، وہ سایہ ہی نہیں ہوگا، جو ٹھنڈا ہو، وہ تو جہنم کا دھواں ہوگا جس میں کوئی حسن منظر یا خیر نہیں۔ یا مٹھاس نہیں۔
یہ وہ لوگ ہوں گے جو اِس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک یہ لوگ اس سے پہلے بہت نازوں میں پلے ہوئے تھے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ اس سے پہلے نعمتوں میں تھے
علامہ محمد حسین نجفی
(کیونکہ) وہ اس سے پہلے (دنیا میں) خوشحال (اور عیش و عشرت میں) تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ اس سے پہلے نعمتوں میںپالے ہوئے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ’ اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔ «الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔ جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟ سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
45-1یعنی دنیا اور آخرت سے غافل ہو کر عیش و عشرت کی زندگی میں ڈوبے ہوئے تھے۔
(آیت 45){ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِيْنَ:} یعنی ان کا یہ انجام بد اس لیے ہوا کہ اس سے پہلے دنیا میں انھیں ہر طرح کی خوش حالی عطا کی گئی تھی، مگر اس خوش حالی نے ان پر الٹا اثر کیا اور وہ شکر گزار ہونے کے بجائے نافرمانی پر تل گئے اور حلال و حرام کی پروا کیے بغیر اپنے نفس کی لذتوں میں منہمک ہو گئے۔
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ’ اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔ «الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔ جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟ سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 46) {وَ كَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ:} بہت بڑے گناہ سے مراد شرک ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» [ لقمان: ۱۳ ] ”بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔“ یعنی ان کے عذاب کا باعث اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خوش حالی کو نافرمانی کے لیے استعمال کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک پر اصرار کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وہ قیامت اور پیغمبروں کو بھی جھٹلاتے تھے، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے۔
کہتے تھے "کیا جب ہم مر کر خاک ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر دوباره اٹھا کھڑے کیے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور کہتے تھے کیا جب ہم مرجائیں اور ہڈیاں ہوجائیں تو کیا ضرور ہم اٹھائے جائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کہتے تھے کہ جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کہا کرتے تھے کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا واقعی ہم ضرور اٹھائے جانے والے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ’ اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔ «الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔ جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟ سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 48،47) {وَ كَانُوْا يَقُوْلُوْنَ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ مومنون (۸۲، ۸۳) اور سورۂ صافات (۱۶، ۱۷)۔
اور کیا ہمارے وہ باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کیا ہمارے پہلے باپ دادا بھی (اٹھائے جائیں گے؟)
عبدالسلام بن محمد
اور کیا ہمارے پہلے باپ دادا بھی ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ’ اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔ «الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔ جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟ سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہو، یقیناً اگلے اور پچھلے سب
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے کہ یقیناً سب اگلے اور پچھلے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ بیشک سب اگلے اور پچھلے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ بےشک اگلے اور پچھلے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے بے شک تمام پہلے اور پچھلے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ’ اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔ «الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔ جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟ سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔
ایک دن ضرور جمع کیے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جا چکا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ضرور جمع کئے جائیں گے ایک مقرر دن کے وقت
احمد رضا خان بریلوی
ضرور اکٹھے کیے جائیں گے، ایک جانے ہوئے دن کی میعاد پر
علامہ محمد حسین نجفی
سب ایک دن کے مقرروقت پر اکٹھے کئے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ایک معلوم دن کے مقرر وقت پر یقینا اکٹھے کیے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی ٭٭
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال ہے یہ کس عذاب میں ہوں گے؟ پھر ان عذابوں کا بیان فرماتا ہے کہ یہ گرم ہوا کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیاہ سائے میں جیسے اور جگہ «انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» * «انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ» * «لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّـهَبِ» * «إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ» * «كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [77-المرسلات:34-29] فرمایا ہے یعنی ’ اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے ‘۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے، نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر لی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد «وَلَا كَرِيمٍ» کہہ دیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لیے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔ «الْحِنْثِ الْعَظِيمِ» سے مراد بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ «إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» * «وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ» * «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-ھود:103-105] تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہو گی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہو گا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو۔ جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے، قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے؟ انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہو گی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو! زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے، انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے حلق میں ٹھونسا جائے گا،پھر اس پر کھولتا ہوا پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو۔ «هِيمِ» جمع ہے اس کا واحد «اهِيم» ہے مونث «ہیماء» ہے «ہائم» اور «ہائمہ» بھی کہا جاتا ہے۔ سخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے پیاس کی بیماری ہوتی ہے پانی چوستا رہتا ہے لیکن سیرابی نہیں ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جہنمی جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہو گا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟ سیدنا خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے «إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً» [18-الکھف:107] ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔