بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الواقعة — Surah Waqiah
آیت نمبر 68
کل آیات: 96
قرآن کریم الواقعة آیت 68
آیت نمبر: 68 — سورۃ الواقعة islamicurdubooks.com ↗
اَفَرَءَیۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِیۡ تَشۡرَبُوۡنَ ﴿ؕ۶۸﴾
کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا، یہ پانی جو تم پیتے ہو
اچھا یہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو
تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو پیتے ہو،
کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو۔
پھر کیا تم نے دیکھا وہ پانی جو تم پیتے ہو؟

📖 تفسیر ابن کثیر

آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏‏‏‏ امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔ پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔ «مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔ عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏‏‏‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏‏‏‏ «مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏‏‏‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 68تا70) ➊ { اَفَرَءَيْتُمُ الْمَآءَ الَّذِيْ تَشْرَبُوْنَ …: ” الْمُزْنِ “} اسم جمع ہے، بادل۔ مفرد اس کا {”مُزْنَةٌ“} ہے۔ تیسیر القرآن میں ہے:”یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک اور کرشمہ ہے، سطح سمندر سے سورج کی حرارت کی وجہ سے آبی بخارات اٹھتے ہیں۔ یہی بخارات بعد میں بادلوں کی شکل اختیار کر کے بارش کی صورت میں برستے ہیں۔ سمندر کا پانی جس سے بخارات اٹھتے ہیں، سخت نمکین اور چھاتی جلانے والا ہوتا ہے، مگر جو بارش برستی ہے اس میں نمکینی نام کو نہیں ہوتی۔ حالانکہ جن جڑی بوٹیوں یا دواؤں کا ہم اس طرح عرق کشید کرتے ہیں ان میں ذائقہ بھی منتقل ہوتا ہے اور ُبو بھی۔ مثلاً سونف یا اجوائن یا گاؤ زبان یا گلاب کے عرق میں ان اشیاء کا ذائقہ بھی منتقل ہو جاتا ہے اور ُبو بھی، لیکن سمندر کے پانی کی نمکینی آبی بخارات کے ساتھ منتقل نہیں ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے، ورنہ اس زمین کا کوئی جاندار ایسا پانی پی کر زندہ ہی نہ رہ سکتا اور نہ ہی ایسے پانی سے پیداوار اُگ سکتی ہے جو پانی کے بعد جانداروں کی زندگی کا دوسرا بڑا سہارا ہے۔“ (بتصرف) ➋ قیامت کی دلیل کے طور پر انسان کی پہلی پیدائش کا ذکر فرمایا اور زمین سے مردہ بیج سے کھیتی اگانے کا ذکر فرمایا۔ کھیتی اگانے میں پانی خصوصاً بارش کا دخل ظاہر ہے، اس لیے اس کا ذکر فرمایا۔ قیامت کے دن انسانی جسم بھی بارش سے اگیں گے۔ حدیث کے لیے دیکھیے سورۂ نمل (۸۷) کی تفسیر۔ اللہ تعالیٰ نے بارش کو قیامت کے علاوہ اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بھی جا بجا پیش فرمایا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱، ۲۲)، نمل (۶۰)، عنکبوت (۶۳) اور سورۂ روم (۴۸ تا ۵۱)۔
← پچھلی آیت (67) پوری سورۃ اگلی آیت (69) →