بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الواقعة — Surah Waqiah
آیت نمبر 77
کل آیات: 96
قرآن کریم الواقعة آیت 77
آیت نمبر: 77 — سورۃ الواقعة islamicurdubooks.com ↗
اِنَّہٗ لَقُرۡاٰنٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۷۷﴾
کہ یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے
کہ بیشک یہ قرآن بہت بڑی عزت واﻻ ہے
بیشک یہ عزت والا قرآن ہے
بےشک یہ قرآن بڑی عزت والا ہے۔
کہ بلاشبہ یہ یقینا ایک باعزت پڑھی جانے والی چیز ہے ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قرآن کا مقام ٭٭

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لیے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر «لا» زائد ہے اور «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» [56-الواقعہ:77] ‏‏‏‏ جواب قسم ہے اور لوگ کہتے ہیں «لا» کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں، کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول میں ہے «لا واللہ ما مست ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ید امراۃ قط» یعنی اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا۔ [صحیح مسلم:1866] ‏‏‏‏ اسی طرح یہاں بھی «لا» قسم کے شروع میں مطابق قاعدہ ہے نہ کہ زائد۔ تو کلام کا مقصود یہ ہے کہ تمہارے جو خیالات قرآن کریم کی نسبت ہیں یہ جادو ہے یا کہانت ہے غلط ہیں۔ بلکہ یہ پاک کتاب کلام اللہ ہے۔ بعض عرب کہتے ہیں کہ «لا» سے ان کے کلام کا انکار ہے پھر اصل امر کا اثبات الفاظ میں ہے «فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ» [56-الواقعة:75] ‏‏‏‏ سے مراد قرآن کا بتدریج اترنا ہے، لوح محفوظ سے تو لیلۃ القدر میں ایک ساتھ آسمان اوّل پر اترا آیا پھر حسب ضروت تھوڑا تھوڑا وقت بروقت اترتا رہا یہاں تک کہ کئی برسوں میں پورا اتر آیا۔ حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ستاروں کے طلوع اور ظاہر ہونے کی آسمان کی جگہیں ہیں۔ «مَوَاقِعِ» سے مراد منازل ہیں۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیامت کے دن ان کا منتشر ہو جانا ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ ستارے ہیں جن کی نسبت مشرکین عقیدہ رکھتے تھے کہ فلاں فلاں تارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسی۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی قسم ہے اس لیے کہ جس امر پر یہ قسم کھائی جا رہی ہے وہ بہت بڑا امر ہے یعنی یہ قرآن بڑی عظمت والی کتاب ہے معظم و محفوظ اور مضبوط کتاب میں ہے۔ جسے صرف پاک ہاتھ ہی لگتے ہیں یعنی فرشتوں کے ہاں یہ اور بات ہے کہ دنیا میں اسے سب کے ہاتھ لگتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «مَا يَمَسُّهُ» ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہاں پاک سے مراد انسان نہیں انسان تو گنہگار ہے۔ یہ کفار کا جواب ہے وہ کہتے تھے کہ اس قرآن کو لے کر شیطان اترتے ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ» * «وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ» * «إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ» [26-الشعراء:212-210] ‏‏‏‏ یعنی اسے نہ تو شیطان لے کر اترے ہیں، نہ ان کے یہ لائق، نہ ان کی یہ مجال بلکہ وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ ہیں ‘۔ یہی قول اس آیت کی تفسیر میں دل کو زیادہ لگتا ہے۔ اور اقوال بھی اس کے مطابق ہو سکتے ہیں۔ فراء نے کہا ہے اس کا ذائقہ اور اس کا لطف صرف باایمان لوگوں کو ہی میسر آتا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد جنابت اور حدث سے پاک ہونا ہے گو یہ خبر ہے لیکن مراد اس سے انشاء ہے۔ اور قرآن سے مراد یہاں پر مصحف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے۔ ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ساتھ لے کر حربی کافروں کے ملک میں جانے سے منع فرمایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسے دشمن کچھ نقصان پہنچائے }۔ [صحیح مسلم:4816] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمان سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک۔ [موطامالک 199/1] ‏‏‏‏ مراسیل ابوداؤد میں ہے زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے خود اس کتاب کو دیکھا ہے اور اس میں یہ جملہ پڑھا ہے گو اس روایت کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ہر ایک قابل غور ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر ارشاد ہے کہ یہ قرآن شعر و سخن جادو اور فن نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی جانب سے اترا ہے، یہ سراسر حق ہے بلکہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا اس کے خلاف جو ہے باطل اور یکسر مردود ہے۔ پھر تم ایسی پاک بات سے کیوں انکار کرتے ہو؟ کیوں اس سے ہٹنا اور یکسو ہو جانا چاہتے ہو؟ کیا اس کا شکر یہی ہے کہ تم اسے جھٹلاؤ؟ قبیلہ ازد کے کلام میں رزق شکر کے معنی میں آتا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر کیا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر ہے۔ یعنی تم کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہمیں پانی ملا اور فلاں ستارے سے فلاں چیز۔ [سنن ترمذي:3295،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر بارش کے موقعہ پر بعض لوگ کفریہ کلمات بک دیتے ہیں کہ بارش کا باعث فلاں ستارہ ہے۔ موطا میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں تھے رات کو بارش ہوئی، صبح کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جانتے بھی ہو آج شب تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم۔ آپ نے فرمایا سنو! یہ فرمایا کہ آج میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ کافر ہو گئے اور بہت سے ایماندار بن گئے۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل و کرم سے پانی برسا وہ میری ذات پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں سے کفر کرنے والا ہوا۔ اور جس نے کہا فلاں فلاں ستارے سے بارش برسی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور اس ستارے پر ایمان لایا۔ [صحیح بخاری:810] ‏‏‏‏ مسلم کی حدیث میں عموم ہے کہ آسمان سے جو برکت نازل ہوتی ہے وہ بعض کے ایمان کا اور بعض کے کفر کا باعث بن جاتی ہے۔ [صحیح مسلم72-126] ‏‏‏‏ ہاں یہ خیال رہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ ثریا ستارہ کتنا باقی ہے؟ پھر کہا تھا کہ اس علم والوں کا خیال ہے کہ یہ اپنے ساقط ہو جانے کے ہفتہ بھر بعد افق پر نمودار ہوتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ اس سوال جواب اور استسقاء کو سات روز گزرے تھے جو پانی برسا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:662/11] ‏‏‏‏ یہ واقعہ محمول ہے عادت اور تجربہ پر نہ یہ کہ اس ستارے میں ہے اور اس ستارے کو ہی اثر کا موجد جانتے ہوں۔ اس قسم کا عقیدہ تو کفر ہے ہاں تجربہ سے کوئی چیز معلوم کر لینا یا کوئی بات کہہ دینا دوسری چیز ہے، اس بارے کی بہت سی حدیثیں آیت «‏‏‏‏مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ‏‏‏‏ [ 35- فاطر: 2 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے سن لیا کہ فلاں ستارے کے اثر سے بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو جھوٹا ہے یہ تو اللہ کی برسائی ہوئی ہے، یہ رزق الٰہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33560:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرفوع حدیث میں ہے لوگوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے اگر سات سال قحط سالی رہے اور پھر اللہ اپنے فضل و کرم سے بارش برسائے تو بھی یہ جھٹ سے زبان سے نکالنے لگیں گے کہ فلاں تارے نے برسایا۔ [مسند احمد:7/3:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد فرماتے ہیں اپنی روزی تکذیب کو ہی نہ بنا لو یعنی یوں نہ کہو کہ فلاں فراخی کا سبب فلاں چیز ہے بلکہ یوں کہو کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس یہ بھی مطلب ہے اور یہ بھی کہ قرآن میں ان کا حصہ کچھ نہیں بلکہ ان کا حصہ یہی ہے کہ یہ اسے جھوٹا کہتے رہیں اور اسی مطلب کی تائید اس سے پہلے کی آیت سے بھی ہوتی ہے۔

📖 احسن البیان

77-1یہ جواب قسم ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 77تا80) ➊ {اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ (77) فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ …: ” كَرِيْمٌ “} ہر چیز میں سے اپنی قسم میں سب سے اعلیٰ اور عمدہ چیز کو ”کریم “کہتے ہیں۔ {”اَلْقُرْآنُ“} مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی پڑھا جانے والا۔ یہ نام اس لیے ہے کہ یہ کتاب اتنی پڑھی گئی اور قیامت تک پڑھی جائے گی کہ پڑھے جانے میں کسی اور کتاب کو اس کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں۔ یعنی یہ کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں، تمام پڑھی جانے والی چیزوں میں سب سے اعلیٰ ہے اور ہر قسم کی کمی بیشی سے پوری طرح محفوظ ہے۔ کسی شیطان کی مجال نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے سے پہلے یا نازل ہونے کے دوران اس پر مطلع ہی ہو سکے، کیوں کہ یہ اس کتاب یعنی لوحِ محفوظ میں درج ہے جو چھپا کر رکھی ہوئی ہے، جن و انس میں سے کسی کی اس تک رسائی ہی نہیں۔ اسے پڑھنا تو درکنار، کوئی اسے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا، سوائے اللہ تعالیٰ کے ان فرشتوں کے جنھیں ہر قسم کی خیانت اور معصیت سے ہر طرح پاک پیدا کیا گیا ہے۔ ان پاک باز فرشتوں نے رب العالمین کی طرف سے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تصنیف ہے، نہ یہ کسی انسان یا دوسری مخلوق کا کلام ہے اور نہ شیاطین کا اس میں کوئی دخل ہو سکتا ہے، بلکہ یہ ہر طرح کی حفاظت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والا کلام ہے۔ {” كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ “} سے مراد لوح محفوظ ہونے کی دلیل یہ آیت ہے، فرمایا: «بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ (21) فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ» ‏‏‏‏ [ البروج: ۲۱،۲۲ ] ”بلکہ وہ ایک بڑی شان والا قرآن ہے۔ اس تختی میں (لکھا ہوا) ہے جس کی حفاظت کی گئی ہے۔“ مزید دیکھیے سورۂ عبس (۱۱ تا ۱۶) اور سورۂ شعراء (۱۹۲ تا ۱۹۴ اور ۲۱۰ تا ۲۱۲)۔ ➋ یہ چاروں آیات {” فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ “} کا جوابِ قسم ہیں۔ اس قسم اور جواب قسم کی مناسبت کے لیے سورۂ نجم کی ابتدائی آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ ➌ جیسا کہ آیت کی تفسیر بیان ہوئی، تو {” لَا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ“} میں حدث اصغر یا حدث اکبر کی صورت میں قرآن مجید کو ہاتھ لگانے یا نہ لگانے کا کوئی حکم بیان نہیں کیا گیا، بلکہ یہ بات بیان فرمائی گئی ہے کہ قرآن مجید جس کتاب مکنون میں ہے اسے فرشتوں کے سوا کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ اس لیے جو اہلِ علم اس آیت سے یہ مسئلہ نکالتے ہیں کہ جنبی یا حائضہ یا بے وضو شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ قرآن مجید کو ہاتھ لگائے، ان کی بات درست نہیں، کیونکہ انسان جتنی بھی طہارت کرلے اس کے لیے فرشتوں جیسا مطہر بننا مشکل ہے۔ (الا ما شاء اللہ) ➍ بہت سے اہلِ علم نے فرمایا کہ یہ مسئلہ قرآن مجید کی اس آیت سے نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ موطا امام مالک میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو جو خط لکھ کر دیا اس میں یہ بھی لکھا کہ {”لَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ“} ”قرآن کو طاہر کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔“ شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ”ارواء الغلیل“ کی حدیث (۱۲۲) میں اس حدیث کی تمام سندوں پر مفصل کلام کے بعد لکھا ہے: ”خلاصہ یہ ہے کہ حدیث کے جتنے طرق ہیں کوئی بھی ضعف سے خالی نہیں، لیکن یہ معمولی ضعف ہے، کیونکہ ان میں سے کسی میں بھی ایسا راوی نہیں جس پر جھوٹ کی تہمت ہو، علت صرف ارسال ہے یا سوئے حفظ اور اُصول حدیث میں طے ہے کہ کئی سندیں ہوں تو وہ ایک دوسری کو قوت دیتی ہیں، جب ان میں کوئی متہم شخص نہ ہو، جیسا کہ نووی نے اپنی تقریب میں، پھر سیوطی نے اس کی شرح میں قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق دل کو اس حدیث کی صحت پر اطمینان ہوتا ہے…۔“(ارواء الغلیل) مگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو اس سے یہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا، ہمارے استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں: ”مگر یہ اپنے مفہوم میں صریح نہیں ہے، کیونکہ اس کے معنی ”کفر و شرک“ سے پاک ہونے کے بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ مسلمان تو جنابت کی حالت میں بھی پاک ہی رہتا ہے۔ {”سُبْحَانَ اللّٰهِ! إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ۔“} (اشرف الحواشی)استاذ مرحوم نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ” مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی راستے میں ملے، جب کہ میں جنابت کی حالت میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا، میں آپ کے ساتھ چلتا رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو میں کھسک گیا، گھر آیا، غسل کیا، پھر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، فرمایا: [ أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ!؟ ] ”ابوہریرہ!تم کہاں تھے؟“ میں نے آپ کو بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ سُبْحَانَ اللّٰهِ! يَا أَبَا هِرٍّ! إِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ يَنْجُسُ ] [ بخاري، الغسل، باب الجنب یخرج…: ۲۸۵ ] ”سبحان اللہ! ابوہریرہ! مومن تو نجس نہیں ہوتا۔“ حائضہ کے لیے نماز اور روزہ کی اجازت نہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا ہاتھ نجس ہے جسے وہ قرآن کو نہیں لگا سکتی، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ نَاوِلِيْنِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ ] ”مجھے مسجد سے چٹائی پکڑاؤ۔“ میں نے کہا: ”میں تو حائضہ ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِيْ يَدِكِ ] [ مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجھا…: ۲۹۸ ] ”تمھارا حیض تمھارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا: ” ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے، آپ نے فرمایا: [ يَا عَائِشَةُ! نَاوِلِيْنِي الثَّوْبَ ] ”اے عائشہ! مجھے کپڑا پکڑاؤ۔“ انھوں نے کہا: ”میں حائضہ ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِيْ يَدِكِ ] ”تمھارا حیض تمھارے ہاتھ میں تو نہیں۔“ تو انھوں نے آپ کو وہ کپڑا پکڑا دیا۔“ [ مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجھا…: ۲۹۹ ] شیخ ناصر الدین البانی نے ” تمام المنۃ “ کے {” بَابُ مَا يَجِبُ بِهِ الْوُضُوْءَ “} میں فرمایا: ”تو زیادہ قریب بات (واللہ اعلم) یہ ہے کہ اس حدیث میں {” طَاهِرٌ “} سے مراد مومن ہی ہے، خواہ وہ حدث اکبر (جنابت) کی حالت میں ہو یا حدث اصغر (بے وضو ہونے) کی حالت میں، یا حائضہ ہو یا اس کے جسم پر کوئی نجاست لگی ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ يَنْجُسُ ] ”مومن نجس نہیں ہوتا۔“ اس حدیث کی صحت پر اتفاق ہے اور {”لَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ “} کا مطلب یہ ہے کہ مشرک کو اسے ہاتھ لگانے کی اجازت نہ دی جائے۔ چنانچہ یہ اس حدیث ہی کی طرح ہے جس میں ہے: [ نَهٰی أَنْ يُّسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلٰی أَرْضِ الْعَدُوِّ ] ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی سرزمین کی طرف قرآن لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا۔“ یہ حدیث بھی متفق علیہ ہے۔ اور شوکانی نے ”نیل الاوطار“ ({بَابُ إِيْجَابِ الْوُضُوْءِ لِلصَّلَاةِ وَ الطَّوَافِ وَ مَسِّ الْمُصْحَفِ}) میں اس مسئلے پر تفصیل سے کلام کیا ہے، اگر زیادہ تحقیق چاہو تو اس کی طرف مراجعت کرو۔“ اور ” تمام المنۃ “ کے {”بَابُ مَا يَحْرُمُ عَلَي الْجُنُبِ“} میں لکھتے ہیں: {”وَالْبَرَاءَةُ الْأَصْلِيَّةُ مَعَ الَّذِيْنَ قَالُوْا بِجَوَازِ مَسِّ الْقُرْآنِ مِنَ الْمُسْلِمِ الْجُنُبِ وَلَيْسَ فِي الْبَابِ نَقْلٌ صَحِيْحٌ يُجِيْزُ الْخُرُوْجَ عَنْهَا“} یعنی ”یہ قاعدہ کہ جس کام کی ممانعت نہ ہو اس میں اصل یہی ہے کہ وہ جائز ہے، ان لوگوں کی تائید میں ہے جو کہتے ہیں کہ مسلمان جنبی بھی ہو تو قرآن کو ہاتھ لگا سکتا ہے اور اس مسئلے میں کوئی صحیح حدیث نہیں جس کی وجہ سے اسے اس سے خارج کیا جا سکے۔“
← پچھلی آیت (76) پوری سورۃ اگلی آیت (78) →