بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الواقعة — Surah Waqiah
آیت نمبر 58
کل آیات: 96
قرآن کریم الواقعة آیت 58
آیت نمبر: 58 — سورۃ الواقعة islamicurdubooks.com ↗
اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تُمۡنُوۡنَ ﴿ؕ۵۸﴾
کبھی تم نے غور کیا، یہ نطفہ جو تم ڈالتے ہو
اچھا پھر یہ تو بتلاؤ کہ جو منی تم ٹپکاتے ہو
تو بھلا دیکھو تو وہ منی جو گراتے ہو
کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ جو نطفہ تم ٹپکاتے ہو۔
تو کیا تم نے دیکھا وہ (نطفہ) جو تم ٹپکاتے ہو؟

📖 تفسیر ابن کثیر

منکرین قیامت کو جواب ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لیے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہو گا؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں، پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے۔ پس جبکہ جانتے ہو، مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو؟ یہی اور جگہ ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [30-الروم:27] ‏‏‏‏ اللہ ہی نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے، سورۃ یاسین میں «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ» * «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ» * «قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] ‏‏‏‏ تک ارشاد فرمایا یعنی ’ ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی! ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے ‘۔ سورۃ القیامہ میں فرمایا «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى» * «أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى» * «ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى» * «فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى» * «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى» [75-القيامة:40-36] ‏‏‏‏ سے آخر سورۃ تک، یعنی ’ کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایاں ہوا تھا؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مُردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ ‘

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 59،58) {اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَ …: ” تُمْنُوْنَ”أَمْنٰي يُمْنِيْ إِمْنَاءً “} (افعال) (گرانا، ٹپکانا) سے جمع مذکر حاضر مضارع معلوم ہے۔ {” اَفَرَءَيْتُمْ “} میں رؤیت سے مراد رؤیت علمی ہے، کیونکہ یہ آنکھوں سے نظر آنے والی چیز نہیں۔ (دیکھیے سورۂ یٰس: ۷۷) منی کے قطرے سے انسان کی پیدائش کا قیامت کی دلیل ہونا ایسی بات ہے جس پر غور کرنا ہر شخص پر واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ (4) خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ» [الطارق: ۵،۴ ] ”پس انسان کو لازم ہے کہ دیکھے وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔وہ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ “ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ طارق (۵ تا ۸) کی تفسیر۔ مفسر عبدالرحمن کیلانی لکھتے ہیں: ”پہلی قابلِ غور بات یہ ہے کہ انسان کا نطفہ بذات خود کیا چیز ہے؟ وہ کن چیزوں سے بنتا ہے؟ پھر جن چیزوں سے بنتا ہے وہ زندہ تھیں یا مردہ؟ اور اس نطفہ کے بننے یا بنانے میں تمھارا بھی کچھ عمل دخل یا اختیار تھا؟ پھر اس نطفہ کو رحمِ مادر میں ٹپکانے کی حد تک تو اختیار انسان کو ہے، اس کے بعد اس کا اختیار کلی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ نطفہ کا ایک قطرہ لاکھوں جراثیم، کیڑوں پر مشتمل ہوتا ہے جو صرف طاقتور خورد بین سے نظر آ سکتے ہیں۔ اسی طرح رحمِ مادر میں نسوانی بیضہ کا وجود بھی خورد بین کے بغیر نظر نہیں آ سکتا۔ نطفہ کا ایک جرثومہ جب نسوانی بیضہ میں داخل ہوتا ہے، پھر ان دونوں کے ملنے سے ایک چھوٹا سا زندہ خلیہ (Cell) بن جاتا ہے، یہی انسانی زندگی کا نقطۂ آغازہے اور اسی کا نام استقرارِ حمل ہے، نطفہ ٹپکانے کی حد تک مرد کو اختیار ہے، مگر یہ طاقت نہ مرد میں ہے نہ عورت میں اور نہ دنیا کی کسی اور ہستی میں کہ وہ نطفہ سے حمل کا استقرار کرا دے، پھر اس نقطۂ آغاز سے ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں بچے کی درجہ بدرجہ پرورش، ہر بچے کی الگ الگ صورت گری، ہر بچے کے اندر مختلف ذہنی و جسمانی قوتوں کو ایک خاص تناسب کے ساتھ رکھنا جس سے وہ ایک امتیازی انسان بن کر اٹھے، کیا یہ ایک خالق کے سوا کسی اور کا کام ہو سکتا ہے؟ یا اس میں ذرہ برابر بھی کسی (ڈاکٹر، ولی یا پیر فقیر یا کسی) دوسرے کا کوئی دخل ہے؟ پھر یہ فیصلہ کرنا بھی اللہ کے اختیار میں ہے کہ بچہ لڑکا ہو یا لڑکی، خوش شکل ہو یا بدشکل، اس کے نقوش تیکھے ہوں یا بھرے؟ طاقتور اور قد کاٹھ والا ہو یا کمزور، نحیف اور تھوڑے وزن والا، تندرست ہو یا اندھا بہرا لنگڑا، ذہین ہو یا کند ذہن۔ یہ سب ایسی باتیں ہیں جو خالصتاً اللہ تعالیٰ خالق کائنات کے اختیار میں ہیں، کیا ان سب باتوں کو سمجھ لینے کے بعد بھی انسان یہ تصدیق نہیں کر سکتا کہ اسے پیدا کرنے والا اکیلا رب العالمین ہے اور یہ کہ وہ جو مردہ نطفے سے ہر روز لاکھوں کروڑوں کی تعدادمیں انسان اور دوسرے جاندار پیدا کر رہا ہے وہ مرنے کے بعد انسانوں کے بے جان ذرّات کو دوبارہ بھی زندگی بخش سکتا ہے؟“ (تیسیر القرآن) اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر پہلی دفعہ پیدا کرنے کو دوبارہ پیدا کرنے کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ دیکھیے سورۂ روم (۲۷)، انبیاء (۱۰۴)، حج (۵)، یٰس (۷۷ تا ۷۹)، بنی اسرائیل (۵۱)، مریم (۶۷) اور سورۂ قیامہ (۳۶تا ۴۰)۔
← پچھلی آیت (57) پوری سورۃ اگلی آیت (59) →