حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس سیدنا حذیفہرضی اللہ عنہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کر لیا پھر منہ پھیر لیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی منہ پھیر لیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے «عبد الا لہٰ» اور عبداللہ کہا جاتا ہو گا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہو گا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہو گا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں «حم عسق» کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضاء کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد ”سَِیَکوُنٌ“ یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا [ ق ] سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلیٰ کی دوسری جلد میں مسند سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعیف ہے اور منقطع بھی ہے۔ اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے «حم» اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد «عاین المولون عذاب یوم بدر» ہے۔ سین سے مراد «وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ» [ سورة الشعراء: 227 ] [ ق ] سے کیا مراد ہے اسے آپ رضی اللہ عنہ نہ بتا سکے تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا [ ق ] سے مراد «قارعہ» آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا «ضعیف» ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہو چکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے۔
سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کر جاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہو جاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ [صحیح بخاری:2] مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ [مسند احمد:222/2:حدیث صحیح و ھذا اسناد ضعیف] شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کر چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
تفسیر احسن البیان
(آیت 2،1) {حٰمٓ (1) عٓسٓقٓ:} یہ حروف مقطعات ہیں، ان کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔
حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس سیدنا حذیفہرضی اللہ عنہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کر لیا پھر منہ پھیر لیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی منہ پھیر لیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے «عبد الا لہٰ» اور عبداللہ کہا جاتا ہو گا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہو گا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہو گا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں «حم عسق» کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضاء کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد ”سَِیَکوُنٌ“ یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا [ ق ] سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلیٰ کی دوسری جلد میں مسند سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعیف ہے اور منقطع بھی ہے۔ اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے «حم» اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد «عاین المولون عذاب یوم بدر» ہے۔ سین سے مراد «وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ» [ سورة الشعراء: 227 ] [ ق ] سے کیا مراد ہے اسے آپ رضی اللہ عنہ نہ بتا سکے تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا [ ق ] سے مراد «قارعہ» آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا «ضعیف» ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہو چکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے۔
سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کر جاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہو جاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ [صحیح بخاری:2] مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ [مسند احمد:222/2:حدیث صحیح و ھذا اسناد ضعیف] شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کر چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
اِسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے (رسولوں) کی طرف وحی کرتا رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اور حکمت واﻻ ہے اسی طرح تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا
احمد رضا خان بریلوی
یونہی وحی فرماتا ہے تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف اللہ عزت و حکمت والا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) اسی طرح اللہ غالب اور بڑا حکمت والا ہے آپ(ص) کی طرف اور آپ(ص) سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں(ع) کی طرف وحی کرتا رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی طرح وحی کرتا ہے تیری طرف اور ان لوگوں کی طرف جو تجھ سے پہلے تھے، وہ اللہ جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حم عسق کی تفسیر ٭٭
حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس سیدنا حذیفہرضی اللہ عنہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کر لیا پھر منہ پھیر لیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی منہ پھیر لیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے «عبد الا لہٰ» اور عبداللہ کہا جاتا ہو گا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہو گا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہو گا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں «حم عسق» کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضاء کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد ”سَِیَکوُنٌ“ یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا [ ق ] سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلیٰ کی دوسری جلد میں مسند سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعیف ہے اور منقطع بھی ہے۔ اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے «حم» اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد «عاین المولون عذاب یوم بدر» ہے۔ سین سے مراد «وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ» [ سورة الشعراء: 227 ] [ ق ] سے کیا مراد ہے اسے آپ رضی اللہ عنہ نہ بتا سکے تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا [ ق ] سے مراد «قارعہ» آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا «ضعیف» ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہو چکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے۔
سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کر جاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہو جاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ [صحیح بخاری:2] مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ [مسند احمد:222/2:حدیث صحیح و ھذا اسناد ضعیف] شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کر چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
3۔ 1 یعنی جس طرح یہ قرآن تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسی طرح تجھ سے پہلے انبیاء پر آسمانی کتابیں نازل کی گئیں وحی اللہ کا کلام ہے جو فرشتے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کے پاس بھیجتا رہا ہے ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ کبھی تو یہ میرے پاس گھنٹی کی آواز کی مثل آتی ہے اور یہ مجھ پر سب سے سخت ہوتی ہے، جب یہ ختم ہوجاتی ہے تو مجھے یاد ہوچکی ہوتی ہے اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں یاد کرلیتا ہوں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں، میں نے سخت سردی میں مشاہدہ کیا کہ جب وحی کی کیفیت ختم ہوتی تو آپ پسینے میں شرابور ہوتے اور آپ کی پیشانی سے پسینے کے قطرے گر رہے ہوتے۔ (صحیح بخاری)
(آیت 3) ➊ { كَذٰلِكَ يُوْحِيْۤ اِلَيْكَ: ” كَذٰلِكَ “} (اسی طرح) سے مراد ایک تو وہ مضامین و معانی ہیں جو اس قرآن یا اس سورت میں ہیں، یعنی آپ کی طرف توحید، آخرت، نبوت اور دوسرے عقائد و اعمال اور واقعات پر مشتمل جو وحی کی گئی ہے یہ کوئی نرالی نہیں کہ کفار کو اس پر تعجب ہو رہا ہے، بلکہ ایسے ہی مضامین کی وحی اللہ تعالیٰ آپ کی طرف اور آپ سے پہلے پیغمبروں کی طرف کرتا چلا آیا ہے۔ بعض وقتی احکام میں فرق ہو سکتا ہے، مگر اصل دعوت جس کے لیے آپ کو اور پہلے تمام پیغمبروں کو مبعوث کیا گیا ایک ہی ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [الأنبیاء: ۲۵ ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔ “ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتّٰی وَ دِيْنُهُمْ وَاحِدٌ ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «واذکر في الکتاب مریم…» : ۳۴۴۳ ] ”انبیاء علاتی (مختلف ماؤں سے پیدا ہونے والے) بھائی ہیں، ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔“ اور {” كَذٰلِكَ “} (اسی طرح) سے مراد وحی کرنے کا طریقہ بھی ہے، یعنی جس طرح یہ سورت یا یہ کتاب آپ کی طرف وحی کی جا رہی ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح آپ سے پہلے پیغمبروں کی طرف بھی وحی کرتا چلا آیا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے، پھر اس کے ساتھ وحی کی ان صورتوں میں سے کسی صورت کے ساتھ کلام کرتا ہے جو اس نے اس سورت کے آخر میں کسی بھی بشر کے ساتھ کلام کرنے کی بیان فرمائی ہیں۔ (دیکھیے شوریٰ: ۵۱،۵۲) کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کیوں نازل نہیں کی، یا مجھ سے کلام کیوں نہیں فرمایا۔ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَحْيَانًا يَأْتِيْنِيْ مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيُفْصَمُ عَنِّيْ وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلاً فَيُكَلِّمُنِيْ فَأَعِيْ مَا يَقُوْلُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيْدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَ إِنَّ جَبِيْنَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا ] [ بخاري، بدء الوحي إلی الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ، باب: ۲ ] ”میرے پاس وحی کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح آتی ہے جو مجھ پر وحی کی سب سے زیادہ سخت صورت ہے، پھر وہ مجھ سے اس حال میں ختم ہوتی ہے کہ جو کچھ مجھے کہا ہے وہ میں یاد کر چکا ہوتا ہوں اور کبھی فرشتہ ایک آدمی کی شکل میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، تو جو کچھ وہ کہتا ہے میں یاد کر لیتا ہوں۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: ”میں نے آپ کو سخت سردی والے دن میں آپ پر وحی اترنے کی حالت میں دیکھا کہ وہ کیفیت آپ سے ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پسینے سے ٹپک رہی ہوتی تھی۔“ ➋ { وَ اِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیات (۱۶۳ تا ۱۶۵)۔ ➌ {اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} سورہ نساء کی آیات، جن کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے، ان میں پیغمبروں کی طرف وحی کا ذکر فرما کر بات کا خاتمہ اپنے ہمیشہ سے عزیز و حکیم ہونے کے ساتھ کیا، چنانچہ فرمایا: «وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا» [ النساء: ۱۶۵ ] ”اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ قرآن مجید میں جہاں جہاں وحی نازل کرنے کا ذکر ہے اس کے بعد مقام کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کے بعض اسماء و صفات کا ذکر بھی ہے۔ کتاب اللہ نازل کرنے کے ساتھ عزیز و حکیم کے ذکر کی مناسبت کے لیے دیکھیے سورۂ زمر کی پہلی آیت کی تفسیر، ساتھ سورۂ مومن کی پہلی آیت کی تفسیر بھی ملاحظہ فرمائیں۔
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اُسی کا ہے، وہ برتر اور عظیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں کی (تمام) چیزیں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے وه برتر اور عظیم الشان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اسی کا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہی بلندی و عظمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے وہ اسی (اللہ) کا ہے وہ بلند و برتر اور عظیم الشان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی بے حد بلند، بڑی عظمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» [ 13-الرعد: 9 ] وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے۔ اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ» [ 40- غافر: 7 ] یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [ 88-سورة الغاشية: 21، 22 ] تیرا کام صرف انہیں آگاہ کر دینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 4) ➊ { لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) پر یہ کتاب پہلے پیغمبروں کی طرح نازل ہوئی ہے تو ہوتی رہے، ہم پر کیوں لازم ہے کہ ہم اس کے احکام کی پابندی کریں اور اپنی مرضی پر عمل نہ کریں؟ فرمایا، اس لیے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، خود تم بھی اس کی ملکیت ہو۔ بھلا وہ مالک برداشت کر سکتا ہے کہ اس کی ملکیت میں کسی اور کی خدائی چلے اور اس کا مملوک ہو کر کوئی اپنی مرضی کرتا پھرے اور اس کے بھیجے ہوئے احکام پر عمل نہ کرے۔ مزید دیکھیے آیت الکرسی یعنی سورۂ بقرہ کی آیت (۲۵۵) میں اس جملے کی تفسیر۔ ➋ { وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ:} بے حد بلندی اور بے انتہا عظمت والا صرف وہی ہے ({الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ} خبر پر الف لام آنے سے قصر پیدا ہو گیا کہ وہی علیّ و عظیم ہے) تو وہ کیسے گوارا کر سکتا ہے کہ اس کی بنائی ہوئی مخلوق اس کے مقابلے میں بے حد پست اور بے انتہا حقیر ہو کر اس کے احکام نہ مانے۔
قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جاتے ہیں آگاہ رہو، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
قریب ہے آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اور زمین والوں کے لیے استغفار کر رہے ہیں۔ خوب سمجھ رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی معاف فرمانے واﻻ رحمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
قریب ہوتا ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے شق ہوجائیں اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور زمین والوں کے لیے معافی مانگتے ہیں سن لو بیشک اللہ ہی بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے شگافتہ ہوجائیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی حمد و تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اہلِ زمین کیلئے مغفرت طلب کرتے ہیں۔آگاہ رہو کہ اللہ یقیناً بڑابخشنے والا (اور) بڑا مہربان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
آسمان قریب ہیں کہ اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیںاور ان لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو زمین میں ہیں، سن لو! بے شک اللہ ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» [ 13-الرعد: 9 ] وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے۔ اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ» [ 40- غافر: 7 ] یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [ 88-سورة الغاشية: 21، 22 ] تیرا کام صرف انہیں آگاہ کر دینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔
5۔ 1 اللہ کی عظمت و جلال کی وجہ سے۔ 5۔ 2 یہ مضمون سورة مومن کی (اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ) 40۔ غافر:7) میں بھی بیان ہوا ہے۔ 5۔ 3 اپنے دوستوں اور اہل اطاعت کے لئے یا تمام ہی بندوں کے لئے، کیونکہ کفار اور نافرمانوں کی فوراً گرفت نہ کرنا بلکہ انہیں ایک وقت معین تک مہلت دینا، یہ بھی اس کی رحمت و مغفرت ہی کی قسم سے ہے۔
(آیت 5) ➊ { تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ: ” وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ “} کے بعد یہ فرمانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آسمان قریب ہیں کہ اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے علیّ و عظیم ہونے کی وجہ سے اس کے رعب اور جلال کا یہ عالم ہے کہ آسمان اس کی ہیبت و قوت برداشت نہ کرتے ہوئے پھٹ جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت و ہیبت کا آسمانوں پر جو اثر ہے اس کا کچھ اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے جو ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنِّيْ أَرٰی مَا لاَ تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لاَ تَسْمَعُوْنَ أَطَّتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيْهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلاَّ وَ مَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلّٰهِ، وَاللّٰهِ! لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيْلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيْرًا وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاء عَلَی الْفُرُشِ وَلَخَرَجْتُمْ إِلَی الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُوْنَ إِلَی اللّٰهِ ] [ترمذي، الزھد، باب في قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم لو تعلمون …: ۲۳۱۲، و حسنہ الترمذي، و قال الألباني حسن ] ”میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کا حق ہے کہ چر چرائے، اس میں چار انگلیوں کی جگہ نہیں مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی رکھ کر اللہ کے لیے سجدے میں ہے۔ اللہ کی قسم! اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ اور تم بستروں پر عورتوں سے لذت حاصل نہ کرو اور تم اللہ کی طرف گڑ گڑاتے ہوئے بیابانوں کی طرف نکل جاؤ۔“ اور ایک مطلب یہ ہے کہ اس عزیز و حکیم اور علیّ و عظیم مالک کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لانے اور اس اکیلے کی عبادت کے بجائے کسی مخلوق کو، جس کے اختیار میں کچھ بھی نہیں مشکل کشا، حاجت روا، داتا، دستگیر، غریب نواز، بگڑی بنانے والا اور ڈوبتے ہوئے کو پار لگانے والا مان لینا، یا اسے اللہ تعالیٰ کی بیوی یا بیٹا یا اس کے ذاتی نور کا ٹکڑا قرار دے کر اس کی عبادت اور اس سے مانگنا شروع کر دینا کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ اتنی خوفناک بات ہے کہ قریب ہے یہ بات کہنے پر آسمان اپنے اوپر سے گر پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ڈھے کر گر پڑیں۔ سورۂ مریم کی آیات (۸۸ تا ۹۵) میں یہ بات تفصیل سے بیان ہوئی ہے، وہ آیات مع تفسیر ملاحظہ فرما لیں۔ ➋ {مِنْ فَوْقِهِنَّ:} آسمانوں کے اپنے اوپر سے پھٹنے کا مطلب یہ ہے کہ قریب ہے کہ یہ آسمان اپنے اوپر کی جانب سے پھٹ جائیں۔ چنانچہ سب سے اوپر والا آسمان پھٹ کر نیچے والے آسمان پر گرے، وہ اس سے نچلے پر گرے، اس طرح تمام آسمان پھٹیں اور نیچے والوں کے اوپر گر جائیں۔ آسمانوں کے اپنے اوپر سے پھٹنے کی وجہ وہاں بے شمار فرشتوں کا سجدہ ریز ہونا اور عرش الٰہی کے قریب ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کی ہیبت کے آثار کا بہت زیادہ ہونا ہے۔ ➌ {وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ:} تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کو ہر عیب اور ہر کمی سے پاک قرار دینا اور حمد سے مراد اسے ہر خوبی کا مالک قرار دینا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی توحید ہے اور اس کی طرف منسوب کیے جانے والے تمام عیوب میں سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ کوئی اس کا شریک ہے یا اس کی اولاد یا بیوی ہے۔ سب سے بڑا عیب اس لیے کہ یہ مان لینے کی صورت میں اس کا محتاج اور عاجز ہونا ثابت ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے لیے گالی قرار دیا۔ فرشتے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی صفاتِ جمال و جلال اور صفاتِ کمال کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ➍ { وَ يَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِي الْاَرْضِ:} اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ {” لِمَنْ فِي الْاَرْضِ “} سے مراد مومن ہیں اور فرشتے زمین والوں میں سے صرف ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے ہیں، کیونکہ دوسری جگہ فرمایا: «اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ» [ المؤمن: ۷ ] ”وہ(فرشتے) جو عرش کواٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے ارد گرد ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو ایمان لائے، اے ہمارے رب! تو نے ہر چیز کو رحمت اور علم سے گھیر رکھا ہے، تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے اور انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا۔ “ مگر بعض مفسرین نے فرمایا: ”آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ (فرشتے ان لوگوں کے لیے استغفار کرتے ہیں جو زمین میں ہیں) اس میں مومن و کافر دونوں شامل ہیں اور فرشتوں کے مسلم و کافر سب کے لیے استغفار کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام زمین والوں کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، خواہ مومن ہوں یا کافر کہ اے اللہ! ان کے لیے ایسے اسباب مہیا فرما جن کی بدولت ان سے عذاب ٹلے، کافر ہیں تو ایمان لائیں، فاسق ہیں تو توبہ کریں، تاکہ ان کی بخشش ہو جائے۔“ قرطبی نے اس بات کو راجح قرار دیا ہے۔ اس تفسیر پر ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والوں کو مشرکین کے لیے استغفار سے منع فرمایا ہے، آپ استغفار کا کوئی بھی معنی کرلیں فرشتوں کا کفار و مشرکین کے لیے استغفار ممکن ہی نہیں، کیونکہ وہ اپنے رب کے کسی حکم کی نافرمانی کرتے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «لَا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ» [ التحریم: ۶ ] ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انھیں حکم دے اور وہ کرتے ہیں جو حکم دیے جاتے ہیں۔“ اس سوال کا جواب اسی آیت میں موجود ہے جس میں مشرکین کے لیے استغفار سے منع کیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ» [ التوبۃ: ۱۱۳ ] ”اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں، اس کے بعد کہ ان کے لیے صاف ظاہر ہوگیا کہ یقینا وہ جہنمی ہیں۔ “ معلوم ہوا مشرکین کے لیے استغفار اس وقت منع ہے جب ان کا جہنمی ہونا واضح اور یقینی ہو جائے اور ظاہر ہے کسی کے جہنمی ہونے کا یقین اس کے کفر پر مرنے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ جب تک کوئی زندہ ہے کسی وقت بھی اسے ایمان کی توفیق عطا ہو سکتی ہے اور یہ علم کہ کس نے کفر پر مرنا ہے کسی انسان، جن یا فرشتے کو نہیں، اس لیے کفار کے لیے ہدایت کی دعا کرنا، جس سے ان کی بخشش ہو جائے، جائز بلکہ سنت ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! دوس قبیلے نے نافرمانی کی ہے اور ایمان لانے سے انکار کر دیا ہے، آپ ان پر بد دعا کریں۔“ لوگوں نے کہا: ”دوس قبیلہ ہلاک ہو گیا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَللّٰهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ ] [ بخاري، الجہاد، باب الدعاء للمشرکین بالھدٰی لیتألّفہم: ۲۹۳۷ ] ”اے اللہ! دوس قبیلے کو ہدایت دے اور انھیں لے آ۔“ ➎ اس آیت سے فرشتوں کی صاف دلی اور زمین والوں کے لیے خیر خواہی کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھی انسانوں کے باپ کو سجدے کے حکم سے انکار پر ابلیس ملعون ٹھہرا تھا، جب کہ اللہ کے حکم سے فرشتوں نے سجدہ بھی کیا اور ان کے حق میں دعائیں بھی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ وہ متکبر تھا ملعون ٹھہرا، یہ متواضع تھے مقرب ٹھہرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی ہی صاف دلی عطا فرمائے اور ہماری طرف سے فرشتوں کو بہترین بدلا عطا فرمائے۔ (آمین) ➏ { اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ:} خبر{” الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ “} پر الف لام اور ضمیر فصل {” هُوَ “} سے قصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے: ”سن لو! بے شک اللہ تعالیٰ ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ یعنی کسی اور میں یہ صفات نہیں ہیں۔ اس میں مشرکین کو تنبیہ ہے کہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اگر یہ بات فرشتوں کے اختیار میں ہوتی تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی درخواست کیوں کرتے؟
جن لوگوں نے اُس کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں، اللہ ہی اُن پر نگراں ہے، تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسروں کو کارساز بنالیا ہے اللہ تعالیٰ ان پر نگران ہے اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہوں نے اللہ کے سوا اور والی بنارکھے ہیں وہ اللہ کی نگاہ میں ہیں اور تم ان کے ذمہ دار نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے اس کے سوا سرپرست (اور کارساز) بنا رکھے ہیں اللہ ان سب پر نگہبان ہے اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے اس کے سوا کوئی اور کارساز بنا لیے اللہ ان پر نگران ہے اور تو ہرگز ان کا کوئی ذمہ دار نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» [ 13-الرعد: 9 ] وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے۔ اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ» [ 40- غافر: 7 ] یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [ 88-سورة الغاشية: 21، 22 ] تیرا کام صرف انہیں آگاہ کر دینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔
6۔ 1 یعنی ان کے عملوں کو محفوظ کر رہا ہے تاکہ اس پر ان کو جزا دے۔ 6۔ 2 یعنی آپ اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ان کو ہدایت کے راستے پر لگا دیں یا ان کے گناہوں پر ان کا مؤاخذہ فرمائیں، بلکہ یہ کام ہمارے ہیں، آپ کا مصرف پیغام (پہنچا دینا) ہے۔
(آیت 6) ➊ { وَ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ اللّٰهُ …:} اس جملے میں مشرکین کے لیے بہت شدید ڈانٹ اور دھمکی ہے کہ اوپر آیات میں جس اللہ کا ذکر ہوا، جو عزیز و حکیم اور علیّ و عظیم ہے، جس کی ہیبت سے آسمان پھٹنے کے قریب رہتے ہیں اور جس کی تسبیح و حمد تمام فرشتے کرتے ہیں، جن لوگوں نے اس اللہ کے سوا کسی قسم کے کارساز بنائے، جو ان کے خیال میں فوق الفطرت طریقے سے ان کی حاجتیں و مرادیں بر لاتے اور ان کی دستگیری و فریاد رسی کرتے ہیں، ان کے ایک ایک عمل کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے، وہ سب اس کے پاس محفوظ ہیں اور بہت جلد وہ انھیں ان کا بدلا دے گا۔ ➋ { وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيْلٍ: ” مَا“} نافیہ کی تاکید {” بِوَكِيْلٍ “} کی باء کے ساتھ ہو رہی ہے اور {” بِوَكِيْلٍ “} کی تنوین تنکیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”تو ہر گز ان کا کوئی ذمہ دار نہیں“ کیا گیا ہے۔ {” وَكَلَ يَكِلُ“} (ض) سپرد کرنا۔ {”وَكِيْلٌ“} جس کے سپرد کوئی کام کر دیا جائے، ذمہ دار، یعنی ان کفار و مشرکین کی نگرانی اور ان کے اعمال کی جزا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، آپ انھیں ہدایت دینے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس لیے آپ کو زیادہ پریشان یا غمزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِيْرٌ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ» [ ھود: ۱۲ ] ”تو تو صرف ڈرانے والا ہے اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔ “ مزید دیکھیے سورۂ یونس (۹۹، ۱۰۰) اور سورۂ انعام (۳۵)۔
ہاں، اِسی طرح اے نبیؐ، یہ قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے تاکہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکہ) اور اُس کے گرد و پیش رہنے والوں کو خبردار کر دو، اور جمع ہونے کے دن سے ڈرا دو جن کے آنے میں کوئی شک نہیں ایک گروہ کو جنت میں جانا ہے اور دوسرے گروہ کو دوزخ میں
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی قرآن کی وحی کی ہے تاکہ آپ مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو خبردار کردیں اور جمع ہونے کے دن سے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ڈرا دیں۔ ایک گروه جنت میں ہوگا اور ایک گروه جہنم میں ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
اور یونہی ہم نے تمہاری طرف عربی قرآن وحی بھیجا کہ تم ڈراؤ سب شہروں کی اصل مکہ والوں کو اور جتنے اس کے گرد ہیں اور تم ڈراؤ اکٹھے ہونے کے دن سے جس میں کچھ شک نہیں ایک گروہ جنت میں ہے اور ایک گروہ دوزخ میں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی طرح ہم نے وحی کے ذریعہ یہ قرآن عربی زبان میں آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ اہلِ مکہ اور اس کے گِردو پیش رہنے والوں کو ڈرائیں اورجمع ہو نے کے دن (قیامت) سے ڈرائیں جس (کے آنے) میں کوئی شک نہیں ہے (اس دن) ایک گروہ جنت میں جائے گااور ایک گروہ دوزخ میں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم نے تیری طرف عربی قرآن وحی کیا، تاکہ تو بستیوں کے مرکز(مکہ)کو ڈرائے اور ان لوگوں کو بھی جو اس کے ارد گرد ہیں اور تو اکٹھا کرنے کے دن سے ڈرائے جس میں کوئی شک نہیں، ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ بھڑکتی آگ میں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کا آنا یقینی ہے ٭٭
یعنی جس طرح اے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تم سے پہلے انبیاء پر وحی الٰہی آتی رہی تم پر بھی یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے۔ یہ عربی میں بہت واضح بالکل کھلا ہوا اور سلجھے ہوئے بیان والا ہے تاکہ تو شہر مکہ کے رہنے والوں کو احکام الٰہی اور اللہ کے عذاب سے آگاہ کر دے نیز تمام اطراف عالم کو۔ آس پاس سے مراد مشرق و مغرب کی ہر سمت ہے مکہ شریف کو ام القرٰی اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ تمام شہروں سے افضل و بہتر ہے اس کے دلائل بہت سے ہیں جو اپنی اپنی جگہ مذکور ہیں ہاں! یہاں پر ایک دلیل جو مختصر بھی ہے اور صاف بھی ہے سن لیجئے۔ ترمذی نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد وغیرہ میں ہے سیدنا عبداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف کے بازار خزورہ میں کھڑے ہوئے فرما رہے تھے کہ اے مکہ! قسم ہے اللہ کی تو اللہ کی ساری زمین سے اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور زیادہ افضل ہے اگر میں تجھ میں سے نہ نکالا جاتا تو قسم ہے اللہ کی ہرگز تجھے نہ چھوڑتا۔ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن صحیح فرماتے ہیں [مسند احمد:305/4:صحیح] اور اس لیے کہ تو قیامت کے دن سے سب کو ڈرا دے جس دن تمام اول و آخر زمانے کے لوگ ایک میدان میں جمع ہوں گے۔ جس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں جس دن کچھ لوگ جنتی ہوں گے اور کچھ جہنمی یہ وہ دن ہو گا کہ جنتی نفع میں رہیں گے اور جہنمی گھاٹے میں۔
دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [ 11-ھود: 105-103 ] یعنی ان واقعات میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو آخرت کا وہ دن ہے جس میں تمام لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے۔ ہم تو اسے تھوڑی سی مدت معلوم کے لیے مؤخر کئے ہوئے ہیں۔ اس دن کوئی شخص بغیر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بات تک نہ کر سکے گا ان میں سے بعض تو بدقسمت ہوں گے اور بعض خوش نصیب۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس ایک مرتبہ دو کتابیں اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر آئے اور ہم سے پوچھا جانتے ہو یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا ہمیں تو خبر نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داہنے ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ رب العالمین کی کتاب ہے جس میں جنتیوں کے نام ہیں مع ان کے والد اور ان کے قبیلہ کے نام کے اور آخر میں حساب کر کے میزان لگا دی گئی ہے اب ان میں نہ ایک بڑھے نہ ایک گھٹے۔ پھر اپنے بائیں ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ جہنمیوں کے ناموں کا رجسٹر ہے ان کے نام ان کی ولدیت اور ان کی قوم سب اس میں لکھی ہوئی ہے پھر آخر میں میزان لگا دی گئی ہے ان میں بھی کمی بیشی ناممکن ہے۔
صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا پھر ہمیں عمل کی کیا ضرورت؟ جب کہ سب لکھا جا چکا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ٹھاک رہو بھلائی کی نزدیکی لیے رہو۔ اہل جنت کا خاتمہ نیکیوں اور بھلے اعمال پر ہی ہو گا گو وہ کیسے ہی اعمال کرتا ہو اور نار کا خاتمہ جہنمی اعمال پر ہی ہو گا گو وہ کیسے ہی کاموں کا مرتکب رہا ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا تمہارا رب عزوجل بندوں کے فیصلوں سے فراغت حاصل کر چکا ہے ایک فرقہ جنت میں ہے اور ایک جہنم میں اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں بائیں ہاتھوں سے اشارہ کیا گویا کوئی چیز پھینک رہے ہیں۔ [سنن ترمذي:2141،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ یہی حدیث اور کتابوں میں بھی ہے کسی میں یہ بھی ہے کہ یہ تمام عدل ہی عدل ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی تمام اولاد ان میں سے نکالی اور چیونٹیوں کی طرح وہ میدان میں پھیل گئی تو اسے اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا ایک حصہ نیکوں کا دوسرا بدوں کا۔ پھر انہیں پھیلا دیا دوبارہ انہیں سمیٹ لیا اور اسی طرح اپنی مٹھیوں میں لے کر فرمایا ایک حصہ جنتی اور دوسرا جہنمی یہ روایت موقوف ہی ٹھیک ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ابوعبداللہ نامی صحابی رضی اللہ عنہ بیمار تھے ہم لوگ ان کی بیمار پرسی کے لیے گئے۔ دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں تو کہا کہ آپ کیوں روتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ اپنی مونچھیں کم رکھا کرو یہاں تک کہ مجھ سے ملو اس پر صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے تو یہ حدیث رلا رہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اللہ تعالیٰ اپنی دائیں مٹھی میں مخلوق لی اور اسی طرح دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں بھی اور فرمایا یہ لوگ اس کے لیے ہیں یعنی جنت کے لیے اور یہ اس کے لیے ہیں یعنی جہنم کے لیے اور مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ پس مجھے خبر نہیں کہ اللہ کی کس مٹھی میں میں تھا؟ [مسند احمد:176/4:صحیح] اس طرح کی اثبات تقدیر کی اور بہت سی حدیثیں ہیں پھر فرماتا ہے اگر اللہ کو منظور ہوتا تو سب کو ایک ہی طریقے پر کر دیتا یعنی یا تو ہدایت پر یا گمراہی پر لیکن رب نے ان میں تفاوت رکھا بعض کو حق کی ہدایت کی اور بعض کو اس سے بھلا دیا اپنی حکمت کو وہی جانتا ہے وہ جسے چاہے اپنی رحمت تلے کھڑا کر لے ظالموں کا حمایتی اور مددگار کوئی نہیں۔ ابن جریر میں ہے اللہ تعالیٰ سے موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی کہ اے میرے رب تو نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا پھر ان میں سے کچھ کو تو جنت میں لے جائے گا اور کچھ اوروں کو جہنم میں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سب ہی جنت میں جاتے جناب باری نے ارشاد فرمایا موسیٰ اپنا پیرہن اونچا کرو آپ علیہ السلام نے اونچا کیا پھر فرمایا اور اونچا کرو آپ علیہ السلام نے اور اونچا کیا فرمایا اور اوپر اٹھاؤ جواب دیا اے اللہ اب تو سارے جسم سے اونچا کر لیا سوائے اس جگہ کے جس کے اوپر سے ہٹانے میں خیر نہیں فرمایا بس موسیٰ اسی طرح میں بھی اپنی تمام مخلوق کو جنت میں داخل کروں گا سوائے ان کے جو بالکل ہی خیر سے خالی ہیں۔
7۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے ہر رسول اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، اسی طرح ہم نے آپ پر عربی زبان میں قرآن نازل کیا ہے، کیونکہ آپ کی قوم یہی زبان بولتی اور سمجھتی ہے۔ 7۔ 2 قیامت والے دن کو جمع ہونے والا دن اس لئے کہا کہ اس میں اگلے پچھلے تمام انسان جمع ہونگیں علاوہ ازیں ظالم مظلوم اور مومن و کافر سب جمع ہونگے اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق جزا و سزا سے بہرہ ور ہونگے۔
(آیت 7) ➊ { وَ كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا:} قرآن عربی زبان میں نازل کرنے کی چند حکمتوں کے جاننے کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف کی آیت(۲) کی تفسیر۔ ➋ { لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا: ” اُمَّ الْقُرٰى “} کا معنی بستیوں کی ماں یا بستیوں کی جڑ یا اصل ہے، یعنی بستیوں کا مرکز۔ مراد مکہ معظمہ ہے، کیونکہ زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے سب سے پہلا گھر یہیں تعمیر ہوا، جسے تمام دنیا کی ہدایت کا مرکز قرار دیا گیا، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِيْنَ» [ آل عمران: ۹۶ ] ”بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا، یقینا وہی ہے جو بکہ میں ہے، بہت با برکت اور جہانوں کے لیے ہدایت ہے۔“ تمام دنیا کے لوگوں کے لیے اس شہر میں موجود بیت اللہ کا حج صاحبِ استطاعت لوگوں پر فرض کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تمام روئے زمین سے بہتر قرار دیا۔ عبد اللہ بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو {”حَزْوَرَةٌ “} (شہر مکہ کی ایک جگہ) پر کھڑے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَاللَّهِ! إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللّٰهِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللّٰهِ إِلَی اللّٰهِ وَلَوْلاَ أَنِّيْ أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ ] [ ترمذي، المناقب، باب في فضل مکۃ: ۳۹۲۵، و قال الألباني صحیح ] ”اللہ کی قسم! یقینا تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر اور اللہ کی زمین میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے اور اگر مجھے اس سے نکالا نہ جاتا تو میں نہ نکلتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا یہاں سے ہوئی اور آپ کی دعوت کا آغاز یہیں سے ہوا۔ ➌ یہاں ایک سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو کل عالم اور تمام روئے زمین کے لیے ڈرانے والے تھے، پھر یہاں آپ کے بھیجنے کا مقصد صرف مکہ اور اس کے اردگرد کو کیوں بتایا گیا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اوّل تو {” مَنْ حَوْلَهَا “} میں پوری زمین شامل ہے، مکہ پوری زمین کا مرکز ہے، سب اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں اور اس کے حج کے لیے جاتے ہیں۔ اگر {” مَنْ حَوْلَهَا “} سے قریب قریب ارد گرد کی بستیاں مراد لی جائیں تب بھی آپ کو مکہ اور اس کے ارد گرد ڈرانے کے لیے بھیجنے کی بات کا مقصد یہ نہیں کہ آپ دوسری اقوام کی طرف مبعوث نہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» [الشعراء: ۲۱۴ ] ”اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرا۔“ سب جانتے اور مانتے ہیں کہ اس کا مقصد یہ نہیں کہ آپ صرف قریبی رشتہ داروں کے لیے مبعوث ہوئے تھے، ورنہ اہلِ مکہ و مدینہ کو دعوت دینے کی کیا ضرورت تھی؟ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ام القریٰ اور اس کے ارد گرد لوگوں کو ڈرانے کے لیے بھیجنے کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو یہاں تک محدود کرنا نہیں۔ اس بات کا ذکر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تمام جن و انس کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۹)، اعراف (۱۵۸)، فرقان (۱)، احقاف (۲۹ تا ۳۲) اور سورۂ سبا (۲۸)۔ ➍ {وَ تُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ: ” أَنْذَرَ يُنْذِرُ “} (ڈرانا) کے دو مفعول ہوتے ہیں، کیونکہ ڈرانے میں دو چیزیں ملحوظ ہوتی ہیں، ایک یہ کہ کسے ڈرایا جا رہا ہے اور دوسری یہ کہ اسے کس چیز سے ڈرایا جا رہا ہے۔ اس آیت میں {” لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا “} اور {” وَ تُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ “} دو جملے ہیں، دونوں میں {” تُنْذِرَ “} کے دو دو مفعول ہیں۔ پہلے جملے میں پہلا مفعول ذکر فرمایا اور دوسرا حذف کر دیا، جو آیت کے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے: {”أَيْ لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرٰي وَ مَنْ حَوْلَهَا الْعَذَابَ“} ”یعنی تاکہ تو امّ القریٰ اور اس کے اردگرد کے لوگوں کو عذاب سے ڈرا دے۔“ دوسرے جملہ میں پہلا مفعول حذف کر دیا اور دوسرا ذکر فرمایا: {” أَيْ لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا يَوْمَ الْجَمْعِ“} ”یعنی تاکہ تو امّ القریٰ اور اس کے ارد گرد کی بستیوں کو یوم الجمع سے ڈرا دے۔“ مطلب یہ ہے کہ اسی طرح ہم نے تیری طرف عربی قرآن وحی کیا، تاکہ تو بستیوں کے مرکز اور اس کے اردگرد کے لوگوں کو گزشتہ اقوام پر آنے والے عذاب سے ڈرائے اور تاکہ تو ام القریٰ اور اس کے اردگرد کی بستیوں کو گزشتہ اقوام جیسے عذاب کے ساتھ ساتھ یوم الجمع سے بھی ڈرائے۔ اتنی لمبی بات کو ان مختصر الفاظ میں سمیٹ دیا: «لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ» اسے احتباک کہتے ہیں اور اس سے کلام میں اختصار، جامعیت اور حسن پیدا ہوتا ہے۔ ➎ {” يَوْمَ الْجَمْعِ “} قیامت کے دن کو کہتے ہیں، کیونکہ اس دن سب پہلے پچھلے جمع ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ» [ التغابن: ۹ ] ”جس دن وہ تمھیں جمع کرنے کے دن کے لیے جمع کرے گا، وہی ہار جیت کا دن ہے۔“ ➏ { لَا رَيْبَ فِيْهِ:} ”جس میں کوئی شک نہیں“ کیونکہ یہ بات فطرت میں رکھ دی گئی ہے کہ مالک اپنے غلاموں کو کسی کام پر مقرر کرے، پھر وہ ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کریں تو ضروری ہے کہ وہ کسی دن انھیں اکٹھا کر کے مظلوم کو ظالم سے انصاف دلائے، اگر ایسا نہیں کرے گا تو بے انصاف شمار ہو گا۔ تو احکم الحاکمین کے سب کو جمع کرنے کے دن میں کیا شک ہو سکتا ہے؟ رہی یہ بات کہ کچھ لوگ اس میں شک کرتے ہیں، تو ان کے شک کو کالعدم قرار دیا کہ اس کا کچھ اعتبار نہیں۔ ➐ { فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ:} یہ {” يَوْمَ الْجَمْعِ “} کا انجام ہے کہ ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک گروہ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائے گا۔
اگر اللہ چاہتا تو اِن سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے، اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے نہ مدد گار
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت کا بنا دیتا لیکن وه جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ﻇالموں کا حامی اور مددگار کوئی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک دین پر کردیتا لیکن اللہ اپنی رحمت میں لیتا ہے جسے چاہے اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ مددگار
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر اللہ (زبردستی) چاہتا تو سب کو ایک امت بنا دیتا۔ لیکن وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور جو ظالم ہیں ان کا کوئی سرپرست اور مددگار نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور انھیں ایک امت بنا دیتا اور لیکن وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور جو ظالم ہیں ان کے لیے نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کا آنا یقینی ہے ٭٭
یعنی جس طرح اے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تم سے پہلے انبیاء پر وحی الٰہی آتی رہی تم پر بھی یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے۔ یہ عربی میں بہت واضح بالکل کھلا ہوا اور سلجھے ہوئے بیان والا ہے تاکہ تو شہر مکہ کے رہنے والوں کو احکام الٰہی اور اللہ کے عذاب سے آگاہ کر دے نیز تمام اطراف عالم کو۔ آس پاس سے مراد مشرق و مغرب کی ہر سمت ہے مکہ شریف کو ام القرٰی اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ تمام شہروں سے افضل و بہتر ہے اس کے دلائل بہت سے ہیں جو اپنی اپنی جگہ مذکور ہیں ہاں! یہاں پر ایک دلیل جو مختصر بھی ہے اور صاف بھی ہے سن لیجئے۔ ترمذی نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد وغیرہ میں ہے سیدنا عبداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف کے بازار خزورہ میں کھڑے ہوئے فرما رہے تھے کہ اے مکہ! قسم ہے اللہ کی تو اللہ کی ساری زمین سے اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور زیادہ افضل ہے اگر میں تجھ میں سے نہ نکالا جاتا تو قسم ہے اللہ کی ہرگز تجھے نہ چھوڑتا۔ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن صحیح فرماتے ہیں [مسند احمد:305/4:صحیح] اور اس لیے کہ تو قیامت کے دن سے سب کو ڈرا دے جس دن تمام اول و آخر زمانے کے لوگ ایک میدان میں جمع ہوں گے۔ جس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں جس دن کچھ لوگ جنتی ہوں گے اور کچھ جہنمی یہ وہ دن ہو گا کہ جنتی نفع میں رہیں گے اور جہنمی گھاٹے میں۔
دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [ 11-ھود: 105-103 ] یعنی ان واقعات میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو آخرت کا وہ دن ہے جس میں تمام لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے۔ ہم تو اسے تھوڑی سی مدت معلوم کے لیے مؤخر کئے ہوئے ہیں۔ اس دن کوئی شخص بغیر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بات تک نہ کر سکے گا ان میں سے بعض تو بدقسمت ہوں گے اور بعض خوش نصیب۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس ایک مرتبہ دو کتابیں اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر آئے اور ہم سے پوچھا جانتے ہو یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا ہمیں تو خبر نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داہنے ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ رب العالمین کی کتاب ہے جس میں جنتیوں کے نام ہیں مع ان کے والد اور ان کے قبیلہ کے نام کے اور آخر میں حساب کر کے میزان لگا دی گئی ہے اب ان میں نہ ایک بڑھے نہ ایک گھٹے۔ پھر اپنے بائیں ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ جہنمیوں کے ناموں کا رجسٹر ہے ان کے نام ان کی ولدیت اور ان کی قوم سب اس میں لکھی ہوئی ہے پھر آخر میں میزان لگا دی گئی ہے ان میں بھی کمی بیشی ناممکن ہے۔
صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا پھر ہمیں عمل کی کیا ضرورت؟ جب کہ سب لکھا جا چکا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ٹھاک رہو بھلائی کی نزدیکی لیے رہو۔ اہل جنت کا خاتمہ نیکیوں اور بھلے اعمال پر ہی ہو گا گو وہ کیسے ہی اعمال کرتا ہو اور نار کا خاتمہ جہنمی اعمال پر ہی ہو گا گو وہ کیسے ہی کاموں کا مرتکب رہا ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا تمہارا رب عزوجل بندوں کے فیصلوں سے فراغت حاصل کر چکا ہے ایک فرقہ جنت میں ہے اور ایک جہنم میں اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں بائیں ہاتھوں سے اشارہ کیا گویا کوئی چیز پھینک رہے ہیں۔ [سنن ترمذي:2141،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ یہی حدیث اور کتابوں میں بھی ہے کسی میں یہ بھی ہے کہ یہ تمام عدل ہی عدل ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی تمام اولاد ان میں سے نکالی اور چیونٹیوں کی طرح وہ میدان میں پھیل گئی تو اسے اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا ایک حصہ نیکوں کا دوسرا بدوں کا۔ پھر انہیں پھیلا دیا دوبارہ انہیں سمیٹ لیا اور اسی طرح اپنی مٹھیوں میں لے کر فرمایا ایک حصہ جنتی اور دوسرا جہنمی یہ روایت موقوف ہی ٹھیک ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ابوعبداللہ نامی صحابی رضی اللہ عنہ بیمار تھے ہم لوگ ان کی بیمار پرسی کے لیے گئے۔ دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں تو کہا کہ آپ کیوں روتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ اپنی مونچھیں کم رکھا کرو یہاں تک کہ مجھ سے ملو اس پر صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے تو یہ حدیث رلا رہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اللہ تعالیٰ اپنی دائیں مٹھی میں مخلوق لی اور اسی طرح دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں بھی اور فرمایا یہ لوگ اس کے لیے ہیں یعنی جنت کے لیے اور یہ اس کے لیے ہیں یعنی جہنم کے لیے اور مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ پس مجھے خبر نہیں کہ اللہ کی کس مٹھی میں میں تھا؟ [مسند احمد:176/4:صحیح] اس طرح کی اثبات تقدیر کی اور بہت سی حدیثیں ہیں پھر فرماتا ہے اگر اللہ کو منظور ہوتا تو سب کو ایک ہی طریقے پر کر دیتا یعنی یا تو ہدایت پر یا گمراہی پر لیکن رب نے ان میں تفاوت رکھا بعض کو حق کی ہدایت کی اور بعض کو اس سے بھلا دیا اپنی حکمت کو وہی جانتا ہے وہ جسے چاہے اپنی رحمت تلے کھڑا کر لے ظالموں کا حمایتی اور مددگار کوئی نہیں۔ ابن جریر میں ہے اللہ تعالیٰ سے موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی کہ اے میرے رب تو نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا پھر ان میں سے کچھ کو تو جنت میں لے جائے گا اور کچھ اوروں کو جہنم میں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سب ہی جنت میں جاتے جناب باری نے ارشاد فرمایا موسیٰ اپنا پیرہن اونچا کرو آپ علیہ السلام نے اونچا کیا پھر فرمایا اور اونچا کرو آپ علیہ السلام نے اور اونچا کیا فرمایا اور اوپر اٹھاؤ جواب دیا اے اللہ اب تو سارے جسم سے اونچا کر لیا سوائے اس جگہ کے جس کے اوپر سے ہٹانے میں خیر نہیں فرمایا بس موسیٰ اسی طرح میں بھی اپنی تمام مخلوق کو جنت میں داخل کروں گا سوائے ان کے جو بالکل ہی خیر سے خالی ہیں۔
8۔ 1 اس صورت میں قیامت والے دن صرف ایک ہی گروہ ہوتا یعنی اہل ایمان اور اہل جنت کا لیکن اللہ کی حکمت و مشیت نے اس جبر کو پسند نہیں کیا بلکہ انسانوں کو آزمانے کے لئے اس نے انسانوں کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی، جس نے آزادی کا صحیح استعمال کیا، وہ اللہ کی رحمت کا مستحق ہوگیا، اور جس نے اس کا غلط استعمال کیا، اس نے ظلم کا ارتکاب کیا کہ اللہ کی دی ہوئی آزادی اور اختیار کو اللہ ہی کی نافرمانی میں استعمال کیا۔ چناچہ ایسے ظالموں کا قیامت والے دن کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
(آیت 8) ➊ {وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فریق جنتی اور ایک جہنمی کیوں بنایا، سبھی کو ایک جیسا کیوں نہیں بنا دیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا تو جس طرح اس نے کائنات کی تمام چیزوں کو بے اختیار بنایا ہے وہ جن و انس کو بھی کسی قسم کا اختیار نہ دیتا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو وہ سب دین حق پر ہوتے، مگر اس نے انھیں اختیار اور ارادہ میں آزادی دے کر پیدا فرمایا، تاکہ ان کا امتحان ہو اور اس کی صفات رحمت، غضب اور عدل کا ظہور ہو۔ یہ اس کی مشیت ہے، جس میں بے شمار حکمتیں ہیں، جنھیں پوری طرح وہی جانتا ہے، انسان چاہے بھی تو ان کی تہ تک نہیں پہنچ سکتا، وہ اتنا ہی جان سکتا ہے جتنا پروردگار چاہے۔ ➋ {وَ لٰكِنْ يُّدْخِلُ مَنْ يَّشَآءُ فِيْ رَحْمَتِهٖ:} نیکی و بدی کی تمیز اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی آزادی دینے کے بعد وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے، مگر اس کی یہ مشیت اندھی نہیں کہ اس کا کوئی قاعدہ نہ ہو، بلکہ اس سے اگلے جملے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کی رحمت کے حق دار بنتے ہیں اور وہ کون ہیں جو اس سے محروم رہتے ہیں۔ ➌ {وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ:} قرآن مجید کی اصطلاح میں ”ظلم“ اور ”ظالمين“ کا لفظ شرک اور مشرکین کے لیے استعمال ہوتا ہے (دیکھیے انعام: ۸۲) اور ”قسط“ اور ”عدل“ کا لفظ توحید کے لیے آیا ہے، کیونکہ سب سے بڑا ظلم شرک ہے اور سب سے بڑا عدل توحید ہے، جیسا کہ فرمایا: «شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ» [آل عمران: ۱۸ ] ”اللہ نے گواہی دی کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔“ ارادہ و عمل کا اختیار ملنے کے بعد جن لوگوں نے اپنی جان پر ظلم کیا، اپنے خالق و مالک اور رازق کو اکیلا معبود بنانے اور اسی کی عبادت پر قائم رہنے کے بجائے غیروں کو معبود بنایا، جن کے اختیار میں کچھ بھی نہیں، تو ان کا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔ معلوم ہوا ایسے لوگ اللہ کی رحمت میں داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ انھیں اپنی رحمت میں داخل کرنا اللہ تعالیٰ کے عدل اور مشیت کے خلاف ہے اور وہ خود بھی اللہ کی رحمت سے ناامید ہیں، ورنہ کبھی غیروں کی طرف نہ جاتے، جیسا کہ فرمایا: «اُولٰٓىِٕكَ يَىِٕسُوْا مِنْ رَّحْمَتِيْ» [ العنکبوت: ۲۳ ] ”وہ میری رحمت سے ناامید ہو چکے ہیں۔“یہی بات نہایت وضاحت کے ساتھ سورۂ دہر (۲۹، ۳۰) میں بیان فرمائی گئی ہے۔ہاں، جو لوگ ایمان لائے اور اس میں ظلم عظیم یعنی شرک کی آمیزش نہیں کی وہی اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہوں گے اور وہی اس کی امید رکھ سکتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اُولٰٓىِٕكَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ» [ البقرۃ: ۲۱۸ ] ”وہی اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔“ ➍ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو تسلی بھی دی گئی ہے کہ اگر کچھ لوگ حق واضح ہونے کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے اور کفر و شرک پر اڑے رہتے ہیں تو آپ کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت دے دیتا، مگر یہ جبر ہوتا جو اللہ تعالیٰ کی مشیت نہیں۔ اس نے اپنی حکمت اور مشیت کے تحت انسان کو اختیار دے رکھا ہے، جو چاہے ایمان لائے جو چاہے کفر کرے، اس لیے لوگوں میں یہ اختلاف ہمیشہ رہے گا۔ یہ مضمون متعدد آیات میں بیان ہوا ہے، دیکھیے سورۂ یونس (۹۹، ۱۰۰)، ہود (۱۱۸، ۱۱۹) اور سورۂ سجدہ (۱۳)۔
کیا یہ (ایسے نادان ہیں کہ) اِنہوں نے اُسے چھوڑ کر دوسرے ولی بنا رکھے ہیں؟ ولی تو اللہ ہی ہے، وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز بنالیے ہیں، (حقیقتاً تو) اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے وہی مُردوں کو زنده کرے گا اور وہی ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا اللہ کے سوا اور والی ٹھہرالیے ہیں تو اللہ ہی والی ہے اور وہ مُردے جِلائے گا، اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور سرپرست (کارساز) بنا لئے ہیں (حالانکہ) حقیقی سرپرست (اور کارساز) تواللہ ہی ہے اور وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یا انھوں نے اس کے سوا اور کارساز بنارکھے ہیں؟ سو اللہ ہی اصل کارساز ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیزپر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا شرک ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہو جائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [ 4- النسآء: 59 ] اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اسے اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ۔ پھر فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر حاکم ہے وہی میرا رب ہے۔ میرا توکل اسی پر ہے اور اپنے تمام کام اسی کی طرف سونپتا ہوں اور ہر وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں وہ آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان کی کل مخلوق کا خالق ہے اس کا احسان دیکھو کہ اس نے تمہاری ہی جنس اور تمہاری ہی شکل کے تمہارے جوڑے بنا دئیے یعنی مرد و عورت اور چوپایوں کے بھی جوڑے پیدا کئے جو آٹھ ہیں وہ اسی پیدائش میں تمہیں پیدا کرتا ہے یعنی اسی صفت پر یعنی جوڑ جوڑ پیدا کرتا جا رہا ہے نسلیں کی نسلیں پھیلا دیں قرنوں گذر گئے اور سلسلہ اسی طرح چلا آ رہا ہے ادھر انسانوں کا ادھر جانوروں کا۔
حضرت بغوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد رحم میں پیدا کرتا ہے بعض کہتے ہیں پیٹ میں بعض کہتے ہیں اسی طریق پر پھیلانا ہے حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نسلیں پھیلانی مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں یہاں «فِیُہِ» معنی «بِہِ» کے ہے یعنی مرد اور عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو وہ پھیلا رہا اور پیدا کر رہا ہے حق یہ ہے کہ خالق کے ساتھ کوئی اور نہیں وہ فرد و صمد ہے وہ بینظیر ہے وہ سمیع و بصیر ہے آسمان و زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھوں میں ہیں سورۃ الزمر میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے مقصد یہ ہے کہ سارے عالم کا متصرف مالک حاکم وہی یکتا لا شریک ہے جسے چاہے کشادہ روزی دے جس پر چاہے تنگی کر دے اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔ کسی حالت میں وہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں اس کا وسیع علم ساری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔
9۔ 1 جب یہ بات ہے تو پھر اللہ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو ولی اور کار ساز مانا جائے نہ کہ ان کو جن کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اور جو سننے اور جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں، نہ نفع نقصان پہنچانے کی صلاحیت۔
(آیت 9){ اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ …:} پچھلی آیت میں جو فرمایا کہ ظالموں کے لیے نہ ولی (دوست) ہے نہ کوئی مددگار، یہ اس کی تفصیل ہے کہ آیا انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر کوئی اولیاء، کارساز اور دوست بنا رکھے ہیں۔ سو اصل دوست جو فی الواقع کارسازی اور مدد کر سکتا ہے وہ تو صرف اللہ ہے۔ ساتھ ہی اس کی دو زبردست دلیلیں بیان فرمائیں کہ وہی مردوں کو زندگی بخشتا ہے اور بخشے گا اور وہی ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، کیونکہ اس کا حق وہی رکھتا ہے جس میں یہ صفات ہوں۔ پھر اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ ایسی ہستیوں کو اولیاء اور کارساز بنا لیا جائے جو کسی کو زندگی بخشنا تو درکنار خود مرنے والے ہیں، فرمایا: «اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [ النحل: ۲۱ ] ”مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں اور وہ نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے۔ “ ہر چیز پر قدرت تو بہت دور، ایک ذرّے کے بھی مالک نہیں ہیں۔ دیکھیے سورۂ سبا (۲۲)۔
تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو، اُس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے وہی اللہ میرا رب ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور اُسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے، یہی اللہ میرا رب ہے جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور جس کی طرف میں جھکتا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تم جس بات میں اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے یہ ہے اللہ میرا رب میں نے اس پر بھروسہ کیا، اور میں اس کی طرف رجوع لاتا ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس چیز کے بارے میں تمہارے درمیان اختلاف پیدا ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے حوالے ہے۔ یہی اللہ میرا پروردگار ہے جس پرمیں توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ چیز جس میں تم نے اختلاف کیا، کوئی بھی چیز ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے، وہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسا کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا شرک ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہو جائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [ 4- النسآء: 59 ] اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اسے اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ۔ پھر فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر حاکم ہے وہی میرا رب ہے۔ میرا توکل اسی پر ہے اور اپنے تمام کام اسی کی طرف سونپتا ہوں اور ہر وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں وہ آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان کی کل مخلوق کا خالق ہے اس کا احسان دیکھو کہ اس نے تمہاری ہی جنس اور تمہاری ہی شکل کے تمہارے جوڑے بنا دئیے یعنی مرد و عورت اور چوپایوں کے بھی جوڑے پیدا کئے جو آٹھ ہیں وہ اسی پیدائش میں تمہیں پیدا کرتا ہے یعنی اسی صفت پر یعنی جوڑ جوڑ پیدا کرتا جا رہا ہے نسلیں کی نسلیں پھیلا دیں قرنوں گذر گئے اور سلسلہ اسی طرح چلا آ رہا ہے ادھر انسانوں کا ادھر جانوروں کا۔
حضرت بغوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد رحم میں پیدا کرتا ہے بعض کہتے ہیں پیٹ میں بعض کہتے ہیں اسی طریق پر پھیلانا ہے حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نسلیں پھیلانی مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں یہاں «فِیُہِ» معنی «بِہِ» کے ہے یعنی مرد اور عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو وہ پھیلا رہا اور پیدا کر رہا ہے حق یہ ہے کہ خالق کے ساتھ کوئی اور نہیں وہ فرد و صمد ہے وہ بینظیر ہے وہ سمیع و بصیر ہے آسمان و زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھوں میں ہیں سورۃ الزمر میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے مقصد یہ ہے کہ سارے عالم کا متصرف مالک حاکم وہی یکتا لا شریک ہے جسے چاہے کشادہ روزی دے جس پر چاہے تنگی کر دے اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔ کسی حالت میں وہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں اس کا وسیع علم ساری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔
11۔ 1 اس اختلاف سے مراد دین کا اختلاف ہے جس طرح یہودیت، عیسائیت اور اسلام وغیرہ میں آپس میں اختلاف ہیں اور ہر مذہب کا پیروکار دعویٰ کرتا ہے اس کا دین سچا ہے اور حق کا راستہ پہنچاننے کے لئے اللہ تعالیٰ کا قرآن موجود ہے۔ لیکن دنیا میں لوگ اس کلام الٰہی کو اپنا اور ثالث ماننے کے لئے تیار نہیں۔ بالآخر پھر قیامت کا دن ہی رہ جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ ان اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا اور سچوں کو جنت میں اور دوسروں کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔
(آیت 10) ➊ {وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِيْهِ مِنْ شَيْءٍ …:} یہ آیت اگرچہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے مگر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلوائی گئی ہے، جیسا کہ سورۂ فاتحہ بندوں کی زبانی کہلوائی گئی ہے۔ ➋ اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں کہ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک اور ولی و کارساز ہے، موت و حیات اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، ان صفات سے خود بخود وہ بات ثابت ہو رہی ہے جو اس آیت میں فرمائی ہے کہ جب مالک وہ ہے تو حاکم بھی وہی ہے اور انسانوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا فیصلہ بھی اسی کا کام ہے۔ وہ اختلاف عقیدہ میں ہو یا عمل میں، عبادات میں ہو یا معاملات میں، نیکی و بدی قرار دینے میں ہو یا حلال و حرام ٹھہرانے میں، غرض ہر بات میں فیصلہ اسی کا چلے گا۔ کسی اور کو یہ حق دینا کہ وہ شریعت سازی کرے یا حلال و حرام کا فیصلہ کرے درحقیقت اس کی عبادت اور اسے اللہ تعالیٰ کا شریک بنانا ہے، فرمایا: «اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ» [ یوسف: ۴۰ ] ”حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت مت کرو۔“ مزید دیکھیے سورۂ یوسف (۶۷)، انعام (۵۷)، مائدہ (۴۴)، کہف (۲۶) اور سورۂ قصص (۷۰، ۸۸)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے سے اور اس کے حکم کے تحت کرتے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر تنازع کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد کرنے کو ایمان کی شرط قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ» [النساء: ۵۹ ] ”پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔“ اور فرمایا: «فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا» [ النساء: ۶۵ ] ”پس نہیں! تیرے رب کی قسم ہے! وہ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ تجھے اس میں فیصلہ کرنے والا مان لیں جو ان کے درمیان جھگڑا پڑ جائے، پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ کریں جو تو فیصلہ کرے اور تسلیم کرلیں، پوری طرح تسلیم کرنا۔ “ ➌ یہود و نصاریٰ نے اپنے احبار و رہبان کو حلال و حرام کے فیصلے کا اختیار دیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انھوں نے اپنے احبار و رہبان کو {” اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} بنا لیا۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۳۱) کی تفسیر۔ ➍ یہود و نصاریٰ نے ایک مدت تک حلال و حرام قرار دینے کا اختیار آسمانی شریعت کے بجائے اپنے احبار و رہبان کو دیے رکھا، آخر کار انھوں نے یہ تکلف بھی برطرف کیا اور اپنی آسمانی کتاب یا احبار و رہبان کے بجائے جمہوریت کے نام پر یہ اختیار خود سنبھال لیا کہ عوام کی اکثریت جو فیصلہ کرے وہ حق ہے، ان کے منتخب نمائندے اپنی اکثریت کے ساتھ جسے حلال کہہ دیں وہ حلال اور جسے حرام کہہ دیں وہ حرام ہے۔ آج اگر اکثریت کسی چیز کو حلال کہہ رہی ہے تو وہ حلال ہے، کچھ دن بعد اکثریت اگر حرام کہہ دے تو وہ حرام ہے۔ اب تورات کی ہر قید جو طبیعتوں پر گراں تھی توڑ دی گئی، باہمی رضا سے زنا جائز قرار دیا گیا، رجم کو کالعدم کر دیا گیا، قومِ لوط کا عمل جائز قرار دیا گیا، قتل اور قطع اعضا میں قصاص ختم کر دیا گیا اور سود حلال ٹھہرا۔ غرض جمہوریت کے نام پر ایک نئی شریعت ایجاد کی گئی جس کا رب، رسول اور شریعت سب کچھ انسان قرار پائے، اس طرح بندوں کو مالک کی گدی پر بٹھا دیا گیا۔ ➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: [ لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا ذِرَاعًا، حَتّٰی لَوْ دَخَلُوْا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوْهُمْ، قُلْنَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! الْيَهُوْدُ وَالنَّصَارٰی؟ قَالَ فَمَنْ؟ ] [ بخاري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ” لتتبعن سنن من کان قبلکم“: ۷۳۲۰، عن أبي سعید الخدري رضی اللہ عنہ ] ”تم ہر صورت اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چل پڑو گے، جیسے بالشت بالشت کے ساتھ اور ہاتھ ہاتھ کے ساتھ برابر ہوتا ہے، حتیٰ کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے تو تم ان کی پیروی کرو گے۔“ ہم نے کہا: ”یا رسول اللہ! یہود و نصاریٰ کے طریقوں پر؟“ آپ نے فرمایا: ”تو اور کون؟“ مسلمان خیر القرون میں اور اس کے کچھ عرصہ بعد تک صرف اور صرف قرآن و سنت پر کار بند رہے، یہ اسلام کی ترقی و عروج کا دور ہے، پھر بعض ائمہ کی تقلید شروع ہوئی اور ان کے نام پر ایسی گروہ بندی اور فرقہ سازی ہوئی کہ بعض لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے امام کا قول اللہ اور اس کے رسول کے صریح خلاف ہے، اپنے امام کے قول پر اڑ گئے۔ احبار و رہبان کو ارباب بنانے کا نقشہ اہلِ کتاب کی طرح اہلِ اسلام میں بھی نظر آنے لگا، حتیٰ کہ یہ دین حق کئی مذہبوں میں تقسیم ہو گیا۔ ہر کسی کی مساجد الگ، عدالتیں اور قاضی الگ ہو گئے، امت کی وحدت جو صرف کتاب و سنت کو حاکم ماننے سے حاصل ہوتی تھی پارہ پارہ ہو گئی، مسلمانوں کی توانائیاں کفار کے ساتھ جہاد اور اس کی تیاری کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف صرف ہونے لگیں۔ یہی لوگ حاکم تھے یہی قاضی، اصلاح کی آوازیں اٹھتی رہیں، مگر بے سود۔ چنانچہ کچھ مدت تک تو کتاب و سنت سے انحراف کے باوجود الگ الگ سلطنتوں کی شکل میں مسلمانوں کی حکمرانی کا سلسلہ چلتا رہا، پھر باہمی فساد اور ترکِ جہاد کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو چار ملکوں کے سوا تمام مسلم ممالک نصرانی یا کمیونسٹ کفار کے قبضے میں چلے گئے، جنھوں نے جبراً ان ممالک میں اپنے کفریہ احکام نافذ کر دیے، پھر نہ کتاب و سنت کے احکام باقی رہے نہ ائمہ کے مذاہب۔ ہر جگہ کفار کا حکم چلنے لگا اور بنی اسرائیل کی طرح مسلمانوں پر بھی اللہ کے عذاب کا کوڑا کفار کی غلامی کی صورت میں برسنے لگا۔ مسلمان آزادی حاصل کرنے کے لیے مسلسل جد و جہد اور دعائیں کرتے رہے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کی آزادی کے لیے جد و جہد اور کفار کی باہمی جنگ عظیم کے نتیجے میں بہت سے مسلم ممالک کو آزادی ملی۔ اس کے بعد جہاد کے نتیجے میں بہت سے ممالک کمیونسٹوں کے تسلط سے بھی آزاد ہوئے، مگر تمام ممالک میں برسر اقتدار طبقے نے کفر کا وہی نظامِ حکومت برقرار رکھا جو کفار کے زمانے میں تھا، جس میں فیصلہ اللہ اوراس کے رسول کے احکام کے مطابق نہیں بلکہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق ہوتا ہے۔ اس طرح مسلمانوں کے اہلِ کتاب کے نقش قدم پر چلنے کی پیش گوئی پوری ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ کا دین صرف نماز روزے وغیرہ کے لیے باقی رہ گیا، گھروں، بازاروں، عدالتوں اور حکومت کے ایوانوں سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو جلاوطن کرکے اس کی جگہ جمہوریت کے بت کی پرستش شروع کر دی گئی۔ البتہ بعض ملکوں میں یہ تکلف کیا گیا کہ اس کا نام اسلامی جمہوریت رکھ دیا گیا، حالانکہ اسلام میں حکم اللہ کا ہوتا ہے اور جمہوریت میں بندوں کا، دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے شراب کو اسلامی شراب اور سود کو اسلامی سود کہہ کر حلال کر لیا جائے، جیسا کہ یہ ظلم بھی اس سے پہلے مسلمان اپنی جانوں پر کر چکے ہیں۔ ان کے بہت سے برسراقتدار طبقوں نے ان علماء کے اقوال کو اپنی مملکتوں میں نافذ کیا جنھوں نے صرف انگور اور کھجور کی شراب کو حرام قرار دے کر دوسرے تمام نشہ آور مشروبات پینے پر حد ختم کر دی، خواہ ان سے نشہ بھی آ جائے۔ جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی عظیم سلطنتیں شراب کے سمندر میں غرق ہو گئیں کہ حکمران بھی پیتے تھے اور رعایا بھی اور جائز سمجھ کر پیتے تھے۔ اسی طرح سود کی بہت سی قسموں کو جائز قرار دے کر اسلامی سود رائج ہونے کے نتیجے میں طمع و ہوس کے طوفان نے ہمدردی و ایثار کا سلسلہ ختم کر دیا اور حرام ہوسِ زرّ نے مسلمانوں کو آخرت سے غافل کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اب بھی دنیا اور آخرت دونوں میں مسلمانوں کی نجات اسی میں ہے کہ وہ دوبارہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی طرف واپس پلٹیں اور اپنی پوری زندگی میں اس کی اطاعت اختیار کریں۔ ان شاء اللہ وہ وقت آنے والا ہے جب دوبارہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہو گی، جس میں اللہ کی زمین پر صرف اللہ کا حکم چلے گا۔ یہ رسول صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہے اور ہر صورت پوری ہو گی۔ ہمارا کام جد و جہد ہے، اللہ چاہے گا تو ہم اپنی آنکھوں سے وہ مبارک دن دیکھیں گے، ورنہ ہمارے بعد آنے والے اسے ضرور دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے ان بندوں میں شامل فرمائے جو قیامت تک دین حق قائم رکھنے کے لیے لڑتے رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَنْ يَّبْرَحَ هٰذَا الدِّيْنُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةُ ] [ مسلم، الإمارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : ”لا تزال طائفۃ من أمتي ظاھرین علی الحق…“: ۱۹۲۲، عن جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ ] ”یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس پر لڑتی رہے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔“ ➏ { فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ:} ہر جھگڑے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہونے میں شرعی احکام کا فیصلہ بھی شامل ہے، جیسا کہ اوپر گزرا اور یہ بھی کہ دنیا میں لوگوں کے درمیان جتنے جھگڑے ہیں ان کا واضح فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا۔ دنیا میں کفار اپنے آپ کو حق پر کہتے رہیں، مگر وہاں انبیاء اور ان کے متبعین کا حق پر ہونا اور کفار کا باطل پر ہونا سب کے سامنے واضح ہو کر آ جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيْ مَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ» [ الزمر: ۴۶ ] ”تو کہہ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! ہر چھپی اور کھلی کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔“ ➐ { ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّيْ:} یعنی وہی اللہ جس کی چند صفات اوپر کی آیات میں بیان ہوئیں، جنھیں تم بھی مانتے ہو، جو مختصراً یہ ہیں کہ وہ عزیز و حکیم ہے، علیّ و عظیم ہے، غفور و رحیم ہے، حقیقی ولی ہے، مردوں کو زندہ کرنے والا اور ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، تمام اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہے، وہی اللہ میرا رب ہے، ان میں سے ایک بھی صفت جب کسی اور میں پائی ہی نہیں جاتی تو میں کسی اور کو اپنا رب کیسے مان لوں؟ ➑ { ” عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ “} (اسی پر میں نے بھروسا کیا) فعل ماضی ہے اور {” وَ اِلَيْهِ اُنِيْبُ “} (اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں) فعل مضارع ہے، جس میں استمرار اور ہمیشگی پائی جاتی ہے۔ {” عَلَيْهِ “} اور {” اِلَيْهِ “} پہلے آنے سے قصر کا معنی پیدا ہوا، اس لیے ترجمہ ”اسی پر“ اور ”اسی کی طرف“ کیا گیا ہے۔ یعنی میں شروع سے اسی پر بھروسا کر چکا اور اب ہر بات میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، ہر مسئلے کا حکم اسی سے لیتا ہوں، ہر جھگڑے کا فیصلہ اسی سے کرواتا ہوں اور ہر گناہ پر اسی سے معافی مانگتا ہوں اور اسی کو حق سمجھتا ہوں۔
آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، جس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے، اور اسی طرح جانوروں میں بھی (اُنہی کے ہم جنس) جوڑے بنائے، اور اِس طریقہ سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے واﻻ ہے اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس کے جوڑے بنادیئے ہیں اور چوپایوں کے جوڑے بنائے ہیں تمہیں وه اس میں پھیلا رہا ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، تمہارے لیے تمہیں میں سے جوڑے بنائے اور نر و مادہ چوپائے، اس سے تمہاری نسل پھیلاتا ہے، اس جیسا کوئی نہیں، اور وہی سنتا دیکھتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(وہ) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اسی نے تمہاری جنس سے تمہارے لئے جوڑے پیدا کئے اور چوپایوں میں سے بھی جوڑے بنائے ہیں اس کے ذریعہ سے تمہیں پھیلاتا ہے (کائنات کی) کوئی چیز اس کی مثل (مانند) نہیں ہے وہ بڑا سننے والا اور بڑا دیکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
(وہ) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمھارے لیے تمھارے نفسوں سے جوڑے بنائے اور جانوروں سے بھی جوڑے۔ وہ تمھیں اس (جہاں) میں پھیلاتا ہے، اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا شرک ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہو جائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [ 4- النسآء: 59 ] اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اسے اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ۔ پھر فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر حاکم ہے وہی میرا رب ہے۔ میرا توکل اسی پر ہے اور اپنے تمام کام اسی کی طرف سونپتا ہوں اور ہر وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں وہ آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان کی کل مخلوق کا خالق ہے اس کا احسان دیکھو کہ اس نے تمہاری ہی جنس اور تمہاری ہی شکل کے تمہارے جوڑے بنا دئیے یعنی مرد و عورت اور چوپایوں کے بھی جوڑے پیدا کئے جو آٹھ ہیں وہ اسی پیدائش میں تمہیں پیدا کرتا ہے یعنی اسی صفت پر یعنی جوڑ جوڑ پیدا کرتا جا رہا ہے نسلیں کی نسلیں پھیلا دیں قرنوں گذر گئے اور سلسلہ اسی طرح چلا آ رہا ہے ادھر انسانوں کا ادھر جانوروں کا۔
حضرت بغوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد رحم میں پیدا کرتا ہے بعض کہتے ہیں پیٹ میں بعض کہتے ہیں اسی طریق پر پھیلانا ہے حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نسلیں پھیلانی مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں یہاں «فِیُہِ» معنی «بِہِ» کے ہے یعنی مرد اور عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو وہ پھیلا رہا اور پیدا کر رہا ہے حق یہ ہے کہ خالق کے ساتھ کوئی اور نہیں وہ فرد و صمد ہے وہ بینظیر ہے وہ سمیع و بصیر ہے آسمان و زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھوں میں ہیں سورۃ الزمر میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے مقصد یہ ہے کہ سارے عالم کا متصرف مالک حاکم وہی یکتا لا شریک ہے جسے چاہے کشادہ روزی دے جس پر چاہے تنگی کر دے اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔ کسی حالت میں وہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں اس کا وسیع علم ساری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔
11۔ 1 یعنی یہ اس کا احسان ہے کہ تمہاری جنس سے ہی اس نے تمہارے جوڑے بنائے ورنہ اگر تمہاری بیویاں انسانوں کی بجائے کسی اور مخلوق سے بنائی جاتیں تو تمہیں یہ سکون حاصل نہ ہوتا جو اپنی ہم جنس اور ہم شکل بیوی سے ملتا ہے۔ 11۔ 2 نہ ذات میں نہ صفات میں، پس وہ اپنی نظیر آپ ہی ہے، واحد اور بےنیاز۔
(آیت 11) ➊ { فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} یہ اللہ ہی کو رب ماننے، اسی پر توکل اور اسی کی طرف رجوع کی مزید دلیلیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہی کسی نمونے اور مادے کے بغیر آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، جب کہ تمھارے بنائے ہوئے معبودوں نے نہ ایک ذرہ پیدا کیا نہ کر سکتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورہ حج (۷۳)۔ ➋ { جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا …:} آسمان و زمین کو پیدا کرنے کے بعد اس نے تمھارے لیے خود تمھی میں سے تمھارے جوڑے بنائے، تاکہ تمھاری نسل جاری ہو اور مسلسل چلتی رہے۔ اپنی جنس سے جوڑے بنانے سے جو باہمی انس حاصل ہوتا ہے وہ کسی اور جنس سے جوڑا بنانے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ ابن عاشور نے فرمایا کہ عربوں میں جننیوں وغیرہ سے نکاح کی جتنی داستانیں مشہور ہیں سب جھوٹی اور خود ساختہ ہیں، کچھ لوگوں کے تخیل نے انھیں ایسا دکھایا، ورنہ حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ اور تمھاری ضروریات کے لیے چوپاؤں کے جوڑے بنائے، تاکہ وہ بڑھتے پھیلتے رہیں اور تم ان سے اپنی ضروریات پوری کرتے رہو۔ ➌ { يَذْرَؤُكُمْ فِيْهِ:} یعنی جوڑے اس لیے بنائے تاکہ توالد و تناسل کا سلسلہ قائم رہے اور تمھاری نسل پھلتی پھولتی اور پھیلتی رہے۔ ➍ { لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ:} انسانوں کے درمیان اگرچہ رنگوں اور زبانوں کا اختلاف پایا جاتا ہے اور ہر انسان دوسرے سے الگ تشخص رکھتا ہے، اس کے باوجود وہ بہت سی چیزوں میں ایک دوسرے کے مشابہ اور ایک دوسرے کے مثل ہیں۔ چوپاؤں اور دوسرے حیوانات کا بھی یہی حال ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کا امتیاز ہے کہ کوئی چیز اس کی ذات یا صفات کی مثل کسی طرح بھی نہیں۔ ➎ { لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ:} اپنے سلسلۂ ازدواج اور سلسلۂ توالد و تناسل کو دیکھ کر یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ اللہ تعالیٰ بھی تمھاری طرح ہے۔ نہیں، خالق و مخلوق ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔ اس جیسی کوئی چیز نہیں، نہ ذات میں، نہ صفات میں اور نہ افعال و حقوق میں۔ اس کا کوئی جوڑا نہیں اور وہ نہ کسی کی اولاد ہے، نہ کوئی اس کی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کا شریک و ہمسر ہے۔ مزید دیکھیے سورہ اخلاص۔ ➏ {” لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ “} پر ایک مشہور سوال ہے کہ جب کہنا یہ مقصود ہے کہ اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں تو {”لَيْسَ مِثْلَهُ شَيْءٌ “} کافی تھا، ”کاف“ لانے کی کیا ضرورت تھی؟ ”کاف“ لانے سے تو بظاہر ایسا معنی پیدا ہو رہا ہے جو محال ہے، کیونکہ {” لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ “} کا ترجمہ ہو گا ”اس کی مثل جیسی کوئی چیز نہیں“ جب کہ اس ترجمے سے دو محال باتیں لازم آتی ہیں، پہلی یہ کہ اللہ کی مثل کوئی ہے جب کہ یہ محال ہے۔ دوسری یہ کہ اس کی مثل جیسی کوئی چیز نہیں، حالانکہ جب وہ اللہ کی مثل ہے تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ اس جیسا ہے، تبھی وہ اس کی مثل ہے۔ اس سوال کا حل اہل علم نے مختلف طریقوں سے کیا ہے، ایک یہ ہے کہ اس میں ”کاف“ زائد ہے۔ زائد کا یہ مقصد نہیں کہ بے فائدہ ہے، بلکہ وہ {”مِثْلٌ“} کی تاکید اور اس میں مبالغہ کے لیے لایا گیا ہے۔ گویا یہ بات کہ” اللہ تعالیٰ جیسی کوئی چیز نہیں“ دو دفعہ کہی گئی ہے، ایک ”کاف“ کے ساتھ اور ایک {”مِثْلٌ“} کے ساتھ، مگر مثلیث کے معنی میں یہ مبالغہ محلِ نظر ہے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ عرب کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے {”مِثْلٌ“} کا لفظ کسی جیسے کے لیے نہیں بلکہ اس کی ذات اور شخصیت کے لیے استعمال کرتے ہیں، مثلاً {”مِثْلِيْ لَا يَكْذِبُ“} سے مراد یہ نہیں کہ میرے جیسا شخص جھوٹ نہیں بولتا، بلکہ یہ ہے کہ ”میں جھوٹ نہیں بولتا۔“ اسی طرح {”مِثْلُهُ لَا يُعْبَؤُ بِهٖ“} کا معنی یہ نہیں کہ اس جیسے شخص کی پروا نہیں کی جاتی، بلکہ مراد یہ ہے کہ” اس کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔“ اسی طرح {” لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ “} کا معنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مثل جیسی کوئی چیز نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کی ذات جیسی کوئی چیز نہیں۔“ یہاں ”کاف“ کا اضافہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اگر ”کاف“ نہ لایا جاتا تو عرب محاورہ ذہن میں آنے سے خیال ایک غلط مفہوم کی طرف جا سکتا تھا، جیسے {”مِثْلُهُ لَا يُعْبَؤُ بِهٖ“} کا معنی ہے کہ فلاں شخص کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔ اسی طرح ”کاف“ کے بغیر {”لَيْسَ مِثْلَهُ شَيْءٌ“} کا معنی یہ ہو سکتا تھا کہ (معاذ اللہ) اس کی ذات کوئی شے نہیں، یااس کی کچھ حیثیت نہیں۔ اب {” لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ “} کہنے سے یہ اندیشہ دور ہو گیا اور بات صاف ہو گئی کہ اس کی ذات جیسی کوئی چیز نہیں۔ طبری، بقاعی، ابن ہشام اور بہت سے ائمہ نے یہاں {”مِثْلٌ“} کو شخص، ذات یا نفس کا ہم معنی قرار دے کر اس کے شواہد پیش فرمائے ہیں۔ یہ حل معنوی طور پر بہت مضبوط ہے۔ تیسرا حل یہ ہے کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر {” مَثَلُ “} کا لفظ صفتِ شان کے معنی میں آیا ہے، جیسے یہ آیت: «مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ فِيْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ» [ محمد: ۱۵ ] ”اس جنت کی صفت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جو بگڑنے والا نہیں۔“ اسی طرح یہ آیت: «وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ» [ الروم: ۲۷ ] ”اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی صفت (شان) اسی کی ہے۔“ اس لیے {” لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ “} کا معنی یہ ہے کہ ”اللہ کی صفت جیسی کوئی چیز نہیں۔“ یہ حل سمجھنے میں سب سے آسان ہے، معنوی طور پر بالکل درست ہے اور ائمۂ تفسیر سے منقول ہے۔ سیاق کے لحاظ سے بھی بہت مناسب ہے، کیونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات بیان فرمائی گئی ہیں، پھر فرمایا کہ اس کی صفت جیسی کوئی چیز نہیں۔ ➐ {وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ: ” السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ “ ” هُوَ “} مبتدا کی خبر ہے۔ خبر پر الف لام لانے سے قصر کا مفہوم پیدا ہو گیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ یہ {” لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ “} (اس کی ذات و صفات جیسی کوئی چیز نہیں) سے پیدا ہونے والے ایک سوال کا جواب ہے کہ {” لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ “} کے باوجود یہ کیا بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سمیع و بصیر ہے اور انسان بھی سمیع و بصیر ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا» [ الدھر: ۲] ”سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنا دیا۔“ بلکہ سمع و بصر انسان کے علاوہ جانوروں میں بھی موجود ہیں اور حنانہ کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جمادات بھی سمع و بصر سے بے بہرہ نہیں ہیں، تو اللہ تعالیٰ بے مثل کیسے ہوا؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کامل اور اصل سمیع و بصیر صرف اللہ تعالیٰ ہے، کسی اور میں پائی جانے والی یہ صفات اللہ تعالیٰ کی صفات سے کچھ مشابہت نہیں رکھتیں اور نہ ان کے مقابلے میں کوئی حقیقت رکھتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق بہت سے لوگوں کو ایسے اشکالات پیدا ہوئے کہ بے شمار مخلوق گمراہ ہو گئی، انھوں نے دیکھا کہ وہی الفاظ اللہ تعالیٰ کے متعلق آ رہے ہیں اور وہی مخلوق کے متعلق، مثلاً اللہ تعالیٰ کے متعلق آیا ہے: «ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ» [ الأعراف: ۵۴ ] (پھر وہ عرش پر بلند ہوا) اور مخلوق کے متعلق الفاظ ہیں: «لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ» [ الزخرف: ۱۳ ] (تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو) اور یہ الفاظ: «فَاِذَا اسْتَوَيْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ» [ المؤمنون: ۲۸ ] (پھر جب تو اور جو تیرے ساتھ ہیں، کشتی پر چڑھ جاؤ)۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان: «يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ» [ الفتح: ۱۰ ] (اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے) میں لفظ ”ید“ اللہ تعالیٰ اور بندوں دونوں کے لیے آیا ہے، یہی حال سمیع و بصیر کا ہے۔ اب کچھ لوگ اس وجہ سے گمراہ ہو گئے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے مشابہ قرار دیا۔ اس کے استواء، اس کے ید، اس کے سمع و بصر اور اس کی دوسری صفات کو مخلوق کے استواء، اس کے ید، اس کے سمع و بصر اور اس کی دوسری صفات کی طرح سمجھ بیٹھے، ان لوگوں کو {”مشبهه“} کہتے ہیں اور کچھ اس وجہ سے گمراہ ہو گئے کہ انھوں نے یہ کہہ کر کہ اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں، اس کی اُن صفات کا بھی انکار کر دیا جو اس نے خود اپنی بیان فرمائی ہیں۔ انھوں نے کہا، اللہ تعالیٰ نہ عرش پر مستوی ہے، نہ اس کا ہاتھ ہے، نہ اس کا سمع و بصر ہے، نہ وہ کلام کرتا ہے، کیونکہ اگر ہم اس کے لیے یہ چیزیں تسلیم کریں تو وہ مخلوق جیسا ٹھہرتا ہے۔ ان منکرینِ صفات کو {”معطّله“} کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تشبیہ و تعطیل دونوں سے بلند و برتر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی صفات کا مسئلہ انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا ہے، اس میں کوئی پیچیدگی یا اشکال باقی نہیں رہنے دیا۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ آیاتِ صفات میں حق دو چیزوں سے مرکب ہے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کو مخلوق کی صفات کی مشابہت سے پاک سمجھا جائے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنی جو بھی صفت بیان فرمائی ہے، یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جو بھی صفت بیان فرمائی ہے اس پر مکمل ایمان رکھا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت اس سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا، جیسا کہ فرمایا: «قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ» [ البقرۃ: ۱۴۰ ] ”کیا تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ؟“ اور اللہ تعالیٰ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم رکھنے والا کوئی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى (3) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى» [ النجم: 4،3 ] ” اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔“ اب جو شخص کسی ایسی صفت کی نفی کرے جو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنے لیے بیان فرمائی ہے، یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے، یہ کہہ کر کہ یہ صفت اللہ تعالیٰ کے لائق نہیں، تو وہ اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول سے بھی زیادہ علم رکھنے والا سمجھتا ہے کہ اللہ کی شان کے لائق کون سی بات ہے اور کون سی نہیں۔ اور جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات مخلوق کی صفات کے مشابہ ہیں وہ بھی ملحد اور گمراہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور یہ اللہ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے مشابہ سمجھتا ہے۔ ہاں، جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے ان تمام صفات کو مانتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لیے بیان کی ہیں، یا اس کے رسول نے اس کے لیے بیان کی ہیں اور ساتھ ہی اللہ عز و جل اور اس کی صفات کو مخلوق کی مشابہت سے پاک قرار دیتا ہے، یہ صحیح مومن ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کمال پر بھی ایمان رکھتا ہے اور اس کی مخلوق کی مشابہت سے پاک ہونے پر بھی ایمان رکھتا ہے۔ زیرِ تفسیر آیت: «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» نے اس حقیقت کو خوب واضح فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سمع و بصر کی صفات بھی رکھتا ہے اور کوئی چیز اس کی مثل اور مشابہ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں {” وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ “} کے بجائے {” وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ “} اس لیے فرمایا کہ سمع و بصر کی دونوں صفات تمام حیوانات میں بھی پائی جاتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ دونوں صفات رکھتا ہے، لیکن اس کی ان صفات کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور مخلوق کی صفات میں کوئی مماثلت نہیں، اس لیے {” وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ “} کا لفظ {” لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ “} کہنے کے بعد ارشاد فرمایا۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا اس لیے انکار کیا ہے کہ صفات کے لیے وہی الفاظ مخلوق پر بھی آئے ہیں، انھیں لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کے وجود اور اس کی حیات کا بھی انکار کر دیں، کیونکہ مخلوق کی بھی ذات ہے، وہ بھی وجود رکھتی ہے اور اس میں بھی حیات پائی جاتی ہے، مگر جس طرح خالق اور مخلوق میں کوئی مماثلت نہیں اور دونوں کی ذات، وجود اور حیات میں کوئی مماثلت نہیں، اسی طرح خالق و مخلوق کی کسی صفت میں بھی کوئی مماثلت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کامل اور حقیقی ہیں۔ مخلوق کی صفات اگرچہ ان کے حسبِ حال موجود ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی صفات کے مقابلے میں کالعدم ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» وہی سمیع و بصیر ہے اور کوئی نہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی انسان کو سمیع و بصیر بتایا ہے۔ اس کی تھوڑی سی تفصیل سنیے، متکلمین اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات میں سے سات صفات کو صفاتِ معانی کہتے ہیں، وہ ہیں حیات، قدرت، ارادہ، علم، سمع، بصر اور کلام۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفتِ حیات خود بیان فرمائی، فرمایا: «هُوَ الْحَيُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ» [المؤمن: ۶۵ ] ”وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ اور فرمایا: «وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ» [الفرقان: ۵۸ ] ”اور اس زندہ پر بھروسا کر جو نہیں مرے گا۔“ اور دوسری بہت سی آیات۔ مخلوق کی صفت بھی حیات بیان فرمائی، فرمایا: «وَ سَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَ يَوْمَ يَمُوْتُ وَ يَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا» [ مریم: ۱۵ ] ”اور سلام اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوگا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائے گا۔ “ اور فرمایا: «وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ» [ الأنبیاء: ۳۰ ] ”اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی۔“ اور فرمایا: «يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ يُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ» [ الروم: ۱۹ ] ”وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔“ یہاں دیکھیے {” هُوَ الْحَيِّ “} (صرف وہ زندہ ہے) کہنے کے باوجود مخلوق کی حیات کا بھی ذکر فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقی اور کامل حیات صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، مخلوق کو بھی اس کے حسبِ حال ایک طرح کی حیات حاصل ہے، مگر خالق و مخلوق کی حیات میں اتنی ہی منافات ہے جتنی دونوں کی ذات میں ہے، خالق والی حیات کا ایک شمّہ بھی مخلوق کو حاصل نہیں۔ دوسری صفت قدرت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ صفت خود بیان فرمائی ہے، فرمایا: «وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [البقرۃ: ۲۸۴ ] ”اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ “ مخلوق کے متعلق بھی یہ لفظ استعمال فرمایا: «اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهِمْ» [ المائدۃ: ۳۴ ] ”مگر جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر قابو پاؤ۔ “ اللہ تعالیٰ کی قدرت حقیقی، کامل اور اس کی شان کے لائق ہے، جبکہ مخلوق کی قدرت صرف اس کے حسبِ حال ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مخلوق کی قدرت میں اتنی منافات ہے جتنی دونوں کی ذات میں ہے۔ تیسری صفت ارادہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا: «فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ» [ ھود: ۱۰۷ ] ”کر گزرنے والا ہے جو چاہتا ہے۔ “ اور فرمایا: «اِنَّمَااَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» [ یٰسٓ: ۸۲ ] ”اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہو جا“ تو وہ ہو جاتی ہے۔“ اور فرمایا: «يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ» [البقرۃ: ۱۸۵ ] ”اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اورتمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔“ اور دوسری آیات۔ مخلوق کے ارادے کا بھی ذکر کیا، فرمایا: «تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا» [ الأنفال: ۶۷ ] ”تم دنیا کا سامان چاہتے ہو۔“ اور فرمایا: «اِنْ يُّرِيْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا» [ الاحزاب: ۱۳ ] ”وہ بھاگنے کے سوا کچھ چاہتے ہی نہیں۔ “ اور فرمایا: «يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ» [ الصف: ۸ ] ”وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں۔ “ اور دوسری آیات۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا ارادہ حقیقی، کامل اور اس کی ذات کے لائق ہے، جبکہ مخلوق کا ارادہ اس کے حسبِ حال ہے۔ دونوں کے ارادوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا دونوں کی ذات میں ہے۔ چوتھی صفت علم ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا: «وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» [ البقرۃ: ۲۸۲ ] ”اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والاہے۔“ اور فرمایا: «لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ» [ النساء: ۱۶۶ ] ”لیکن اللہ شہادت دیتا ہے اس کے متعلق جو اس نے تیری طرف نازل کیا ہے کہ اس نے اسے اپنے علم سے نازل کیا ہے۔“ اور مخلوق کے متعلق فرمایا: «وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ» [ یوسف: ۶۸ ] ”اور بلاشبہ وہ یقینا بڑے علم والا تھا، اس وجہ سے کہ ہم نے اسے سکھایا تھا۔“ اور اس جیسی آیات۔ تو اللہ تعالیٰ کا علم کامل، حقیقی اور اس کے کمال و جلال کے لائق ہے، جب کہ مخلوق کا علم اس کے حال کے مناسب ہے۔ خالق و مخلوق کے علم میں اتنی ہی منافات ہے جتنی خالق و مخلوق کی ذات میں ہے۔ پانچویں اور چھٹی صفت سمع و بصر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا: «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» [ الشورٰی: ۱۱ ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ اور فرمایا: «وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ» [ الحج: ۶۱ ] ”اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ “ اور مخلوق کے متعلق فرمایا: «اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا» [ الدھر: ۲ ] ”بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا، ہم اسے آزماتے ہیں، سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنا دیا۔“ اور فرمایا: «اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ يَوْمَ يَاْتُوْنَنَا» [ مریم: ۳۸ ] ”کس قدر سننے والے ہوں گے وہ اور کس قدر دیکھنے والے، جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے۔“ اور اس جیسی آیات۔ تو اللہ عز و جل کے سمع و بصر حقیقی، کامل اور اس کی شان کے لائق ہیں اور مخلوق کے سمع و بصر ان کے حال کے مناسب ہیں۔ جس طرح خالق و مخلوق کی ذات میں کوئی مماثلت نہیں، ان کے سمع و بصر میں بھی کوئی مماثلت نہیں۔ ساتویں صفت کلام ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا: «وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِيْمًا» [ النساء: ۱۶۴ ] ”اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔ “ اور فرمایا: «اِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَ بِكَلَامِيْ» [الأعراف: ۱۴۴ ] ”بے شک میں نے تجھے اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے ساتھ لوگوں پر چن لیا ہے۔“ اور فرمایا: «فَاَجِرْهُ حَتّٰى يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ» [ التوبۃ: ۶ ] ”تو اسے پناہ دے دے، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔“ اور مخلوق کے متعلق فرمایا: «فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ» [یوسف: ۵۴ ] ”پھر جب اس نے اس سے بات کی تو کہا بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحبِ اقتدار، امانت دار ہے۔ “ اور فرمایا: «اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَيْدِيْهِمْ» [ یٰسٓ: ۶۵ ] ”آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے۔“ اور فرمایا: «قَالُوْا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا» [ مریم: ۲۹ ] ”انھوں نے کہا ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی تک گود میں بچہ ہے۔ “ تو اللہ تعالیٰ کا کلام حقیقی، کامل اور اس کی شان کے لائق ہے اور مخلوق کی صفت بھی کلام ہے جو اس کے حسبِ حال ہے اور خالق و مخلوق کے کلام میں اتنی ہی منافات ہے جتنی ان دونوں کی ذات میں ہے۔ اہلِ علم یہ بحث تفصیل سے پڑھنا چاہیں تو مفسر شنقیطی کی{” أَضْوَاءُ الْبَيَانِ “} میں سورہ اعراف کی آیت (۵۴): «ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ» کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ تعجب ہوتا ہے کہ اتنی واضح بات بڑے بڑے مفسر اور مصنف نہیں سمجھ سکے۔ وہ جہاں {”استوى على الْعرش“} کا لفظ آئے گا اس کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے اس سے مراد حکومت کرنا ہے، سمع و بصر آئے گا تو کہیں گے اس سے مراد علم ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی محبت، رضا، غضب، انتقام، اس کے نزول اور دوسری صفات کا مطلب کچھ اور ہی بیان کرتے ہوئے اصل صفات کا انکار کر دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ سلف صالحین اور محدثین ہی اس مقام پر سلامت رہے ہیں، ان کی ترجمانی امام مالک رحمہ اللہ نے فرمائی، جب ان سے اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: {” اَلْإِسْتِوَاءُ مَعْلُوْمٌ وَالْكَيْفُ مَجْهُوْلٌ وَالسُّؤَالُ عَنْهُ بِدْعَةٌ “} ”اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا معلوم ہے اور یہ بات کہ کیسے مستوی ہے، کسی کو معلوم نہیں اور یہ پوچھنا کہ کیسے مستوی ہے بدعت ہے۔“ بالکل اسی طرح ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ سمیع ہے، بصیر ہے، اس کے ہاتھ ہیں، آنکھیں ہیں، چہرہ ہے، وہ محبت کرتا ہے، ناراض ہوتا ہے، کلام کرتا ہے، ہنستا ہے، اترتا ہے اور قیامت کے دن زمین پر آئے گا، مگر ہمیں ان صفات کی کیفیت معلوم نہیں، نہ ہم عاجز مخلوق اس بے نہایت خالق کی ذات یا صفات کی حقیقت یا کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ ہم اس کی ان تمام صفات کو انھی الفاظ و معانی میں مانتے ہیں جو خود اس نے یا اس کے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں اور ان تمام لوگوں کی باتوں سے بری ہونے کا اعلان کرتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفات نہیں ہیں، یا کہتے ہیں کہ مخلوق جیسی ہیں، یا کہتے ہیں کہ ہمیں ان صفات کے معنی ہی کا علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق پر استقامت عطا فرمائے۔ (آمین)
آسمانوں اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں، جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے، اُسے ہر چیز کا علم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کی ہیں، جس کی چاہے روزی کشاده کردے اور تنگ کردے، یقیناً وه ہر چیز کو جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں روزی وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ فرماتا ہے بیشک وہ سب کچھ جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
آسمانوں اور زمین (کے خزانوں) کی کنجیاں اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے۔ بےشک وہ ہر چیز کا بڑا جا ننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی کے پاس آسمانوں کی اور زمین کی کنجیاں ہیں، وہ رزق فراخ کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے، بے شک وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا شرک ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہو جائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [ 4- النسآء: 59 ] اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اسے اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ۔ پھر فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر حاکم ہے وہی میرا رب ہے۔ میرا توکل اسی پر ہے اور اپنے تمام کام اسی کی طرف سونپتا ہوں اور ہر وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں وہ آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان کی کل مخلوق کا خالق ہے اس کا احسان دیکھو کہ اس نے تمہاری ہی جنس اور تمہاری ہی شکل کے تمہارے جوڑے بنا دئیے یعنی مرد و عورت اور چوپایوں کے بھی جوڑے پیدا کئے جو آٹھ ہیں وہ اسی پیدائش میں تمہیں پیدا کرتا ہے یعنی اسی صفت پر یعنی جوڑ جوڑ پیدا کرتا جا رہا ہے نسلیں کی نسلیں پھیلا دیں قرنوں گذر گئے اور سلسلہ اسی طرح چلا آ رہا ہے ادھر انسانوں کا ادھر جانوروں کا۔
حضرت بغوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد رحم میں پیدا کرتا ہے بعض کہتے ہیں پیٹ میں بعض کہتے ہیں اسی طریق پر پھیلانا ہے حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نسلیں پھیلانی مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں یہاں «فِیُہِ» معنی «بِہِ» کے ہے یعنی مرد اور عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو وہ پھیلا رہا اور پیدا کر رہا ہے حق یہ ہے کہ خالق کے ساتھ کوئی اور نہیں وہ فرد و صمد ہے وہ بینظیر ہے وہ سمیع و بصیر ہے آسمان و زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھوں میں ہیں سورۃ الزمر میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے مقصد یہ ہے کہ سارے عالم کا متصرف مالک حاکم وہی یکتا لا شریک ہے جسے چاہے کشادہ روزی دے جس پر چاہے تنگی کر دے اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔ کسی حالت میں وہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں اس کا وسیع علم ساری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12) ➊ { لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ زمر (۶۳)۔ ➋ { يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت (۶۲)۔
اُس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اُس نے نوحؑ کو دیا تھا، اور جسے (اے محمدؐ) اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کو دے چکے ہیں، اِس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اِس دین کو اور اُس میں متفرق نہ ہو جاؤ یہی بات اِن مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف اے محمدؐ تم انہیں دعوت دے رہے ہو اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کر لیتا ہے، اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا، کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وه تو (ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنا برگزیده بناتا ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وه اس کی صحیح ره نمائی کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے لیے دین کی وہ راہ ڈالی جس کا حکم اس نے نوح کو دیا اور جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا کہ دین ٹھیک رکھو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو مشرکوں پر بہت ہی گراں ہے وہ جس کی طرف تم انہیں بلاتے ہو، اور اللہ اپنے قریب کے لیے چن لیتا ہے جسے چاہے اور اپنی طرف راہ دیتا ہے اسے جو رجوع لائے
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح(ع) کو حکم دیا تھا اور جو ہم نے بذریعۂ وحی آپ(ص) کی طرف بھیجا ہے اور جس کا ہم نے ابراہیم(ع)، موسیٰ(ع) اور عیسیٰ(ع) کو حکم دیا تھا یعنی اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔ مشرکین پر وہ بات بہت شاق ہے جس کی طرف آپ(ص) انہیں دعوت دیتے ہیں اللہ جسے چاہتا ہے اپنی بارگاہ کیلئے منتخب کر لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ اسے اپنی طرف (پہنچنے کا) راستہ دکھاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے تمھارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جس کا تاکیدی حکم اس نے نوح کو دیا اور جس کی وحی ہم نے تیری طرف کی اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا، یہ کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں جدا جدا نہ ہو جاؤ۔ مشرکوں پر وہ بات بھاری ہے جس کی طرف تو انھیں بلاتا ہے، اللہ اپنی طرف چن لیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنی طرف راستہ اسے دیتا ہے جو رجوع کرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امت محمدیہ پر شریعت الٰہی کا انعام ٭٭
اللہ تعالیٰ نے جو انعام اس امت پر کیا ہے اس کا ذکر یہاں فرماتا ہے کہ تمہارے لیے جو شرع مقرر کی ہے وہ ہے جو آدم کے بعد دنیا کے سب سے پہلے پیغمبر اور دنیا کے سب سے آخری پیغمبر اور ان کے درمیان کے اولو العزم پیغمبروں کی تھی۔ پس یہاں جن پانچ پیغمبروں کا ذکر ہوا ہے انہی پانچ کا ذکر سورۃ الاحزاب میں بھی کیا گیا ہے فرمایا: «وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۠ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا» [ 33- الأحزاب: 7 ] ، وہ دین جو تمام انبیاء کا مشترک طور پر ہے وہ اللہ واحد کی عبادت ہے جیسے اللہ جل و علا کا فرمان ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [ سورة الأنبياء21: 25 ] یعنی تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ان سب کی طرف ہم نے یہی وحی کی ہے کہ معبود میرے سوا کوئی نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرتے رہو حدیث میں ہے ہم انبیاء کی جماعت آپس میں علاتی بھائیوں کی طرح ہیں ہم سب کا دین ایک ہی ہے جیسے علاتی بھائیوں کا باپ ایک ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:3443]
الغرض احکام شرع میں گو جزوی اختلاف ہو۔ لیکن اصولی طور پر دین ایک ہی ہے اور وہ توحید باری تعالیٰ ہے، فرمان اللہ ہے «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا» [ 5- المآئدہ: 48 ] تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے شریعت و راہ بنا دی ہے۔ یہاں اس وحی کی تفصیل یوں بیان ہو رہی ہے کہ دین کو قائم رکھو جماعت بندی کے ساتھ اتفاق سے رہو اختلاف اور پھوٹ نہ کرو پھر فرماتا ہے کہ یہی توحید کی صدائیں ان مشرکوں کو ناگوار گزرتی ہیں۔ حق یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے جو مستحق ہدایت ہوتا ہے وہ رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور اللہ اس کا ہاتھ تھام کر ہدایت کے راستے لا کھڑا کرتا ہے اور جو از خود برے راستے کو اختیار کر لیتا ہے اور صاف راہ چھوڑ دیتا ہے اللہ بھی اس کے ماتھے پر ضلالت لکھ دیتا ہے۔
13۔ 1 صرف ایک اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت (یا اس کے رسول کی اطاعت جو دراصل اللہ ہی کی اطاعت ہے)، اس کی عبادت و اطاعت سے گریزاں ان میں دوسروں کو شریک کرنا، انتشار انگیزی، جس سے ' پھوٹ ڈالنا ' کہہ کر منع کیا گیا ہے۔ 13۔ 2 اور وہی توحید اور اللہ و رسول کی اطاعت ہے۔ 13۔ 3 یعنی جس کی ہدایت کا مستحق سمجھتا ہے، اسے ہدایت کے لئے چن لیتا ہے 13۔ 4 یعنی اپنے دین اپنانے کی اور عبادت کو اللہ کے لئے خالص کرنے کی توفیق اس شخص کو عطا کردیتا ہے جو اس کی اطاعت و عبادت کی طرف رجوع کرتا ہے۔
(آیت 13) ➊ { شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا:} سورت کے شروع میں جو بات فرمائی: «كَذٰلِكَ يُوْحِيْۤ اِلَيْكَ وَ اِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» (اسی طرح وحی کرتا ہے تیری طرف اور ان لوگوں کی طرف جو تجھ سے پہلے تھے، وہ اللہ جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے) یہاں سے وہی بات مزید تفصیل کے ساتھ بیان ہو رہی ہے۔ {” لَكُمْ “} سے خطاب ہماری امت کو ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے کوئی اجنبی یا انوکھا دین مقرر نہیں فرمایا، یہ وہی دین ہے جو اس نے پہلے اور پچھلے تمام انبیاء کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کا دین ایک ہے اور وہ ہے اسلام، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ» [ آل عمران: ۱۹ ] ”بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔“ جس کا معنی مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہو جانا ہے۔ اس دین کا عنوان {”لَا إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ“} یعنی اللہ واحد کی عبادت و اطاعت ہے۔ تمام انبیاء و رسل کی طرف اسی ایک دین کی وحی کی گئی ہے، فرمایا: «وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [ الأنبیاء: ۲۵ ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ سورۂ انعام میں توحید کی تاکید اور شرک کا رد کرنے کے بعد نوح اور ابراہیم علیھما السلام سمیت اٹھارہ پیغمبروں کا ذکر ان کا نام لے کر فرمایا، پھر ان کے آباء، اولاد اور بھائیوں کا ذکر کرکے فرمایا کہ اگر یہ لوگ شرک کرتے تو ان کا وہ سب کچھ ضائع ہو جاتا جو وہ کرتے رہے تھے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے طریقے پر چلنے کا حکم دیا اور فرمایا: «اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ» [الأنعام: ۹۰ ] ”یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔“ ➋ دین کن چیزوں کا نام ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ حُنَفَآءَ وَ يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ يُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ» [ البینۃ: ۵ ] ”اور انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس حال میں کہ اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے، ایک طرف ہونے والے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اخلاص کے ساتھ اللہ واحد کی عبادت کرنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا دین ہے، جس کا پہلی امتوں کو بھی حکم تھا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی مشہور حدیثِ جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام، ایمان اور احسان کی تفصیل فرمائی، پھر قیامت اور اس کی چند علامات کا ذکر فرمایا، جب جبریل علیہ السلام چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَإِنَّهُ جِبْرِيْلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِيْنَكُمْ ] [ مسلم، الإیمان، باب بیان الإیمان و الإسلام…: ۸۔ بخاري: ۵۰ ] ”وہ جبریل(علیہ السلام) تھے، تمھارے پاس آئے تھے، تمھیں تمھارا دین سکھا رہے تھے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کے پانچوں ارکان دین ہیں، اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، یوم آخرت اور تقدیر پر ایمان دین ہے، عمل میں اخلاص اور احسان دین ہے، قیامت کے معاملات کی فکر دین ہے۔ پھر جب ایمان دین ہے تو ایمان میں شامل وہ تمام چیزیں بھی دین ہیں جنھیں قرآن مجید یا حدیث میں ایمان یا ایمان کی شاخ قرار دیا گیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”بَابُ أُمُوْرِ الْإِيْمَانِ“} میں قرآن مجید کی دو آیات نقل فرمائی ہیں، ایک سورۂ بقرہ کی آیت: «لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِيّٖنَ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنَ وَ ابْنَ السَّبِيْلِ وَ السَّآىِٕلِيْنَ وَ فِي الرِّقَابِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا وَ الصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِيْنَ الْبَاْسِ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ» [ البقرۃ: ۱۷۷ ] ”نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو اور لیکن اصل نیکی اس کی ہے جو اللہ اور یوم آخرت اور فرشتوں اور کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال دے اس کی محبت کے باوجود قرابت والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں۔ اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جو اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں جب عہد کریں اور خصوصاً جو تنگی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ہیں، یہی لوگ ہیں جنھوں نے سچ کہا اور یہی بچنے والے ہیں۔ “ اور سورۂ مومنون کی ابتدائی آیات: «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ (1) الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ (2) وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ (3) وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ (4) وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ (5) اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ (6) فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ (7) وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ (8) وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ (9) اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ (10) الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [ المؤمنون: ۱تا۱۱ ] ”یقینا کامیاب ہوگئے مومن۔ وہی جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔ اور وہی جو لغو کاموں سے منہ موڑنے والے ہیں۔ اور وہی لوگ جو (ہر عمل) پاک ہونے ہی کے لیے کرنے والے ہیں۔اور وہی جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں، یا ان (عورتوں) پر جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں تو بلاشبہ وہ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں۔ پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ اور وہی جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والے ہیں۔ اور وہی جو اپنی نمازوں کی خوب حفاظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو وارث ہیں۔ جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“ اس کے بعد یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْإِيْمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّوْنَ شُعْبَةً، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيْمَانِ ] [ بخاري، الإیمان، باب أمور الإیمان: ۹۔ مسلم: ۳۵ ] ”ایمان کی ساٹھ(۶۰) سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کا جزو ہے۔“ اس کے بعد مختلف ابواب میں امورِ دین کا بیان فرمایا ہے۔ خلاصہ یہ کہ تمام انبیاء کا اصل دین ایک ہے، البتہ کسی عمل کی ادائیگی کی کیفیت میں فرق ہو سکتا ہے۔ مثلاً نماز ہر امت پر فرض تھی، اس کے اوقات اور رکعات کی تعداد وغیرہ میں فرق ہو سکتا ہے۔ روزہ سب پر فرض تھا، مگر اس کی کیفیت میں اختلاف معلوم ہے۔ زکوٰۃ ہر امت پر فرض تھی، مگر اس کے نصاب اور مقدار وغیرہ میں فرق ہو سکتا ہے۔ اسی طرح مختلف اقوام اور اوقات کے لحاظ سے بعض اشیاء کی تحلیل و تحریم میں اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق نسخ ہو سکتا ہے، تبدیلی ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے۔ بعض امتوں میں کئی معاملات میں تخفیف اور بعض میں سختی ہو سکتی ہے، مگر اصل دین ایک ہے۔ یہی مطلب ہے اس حدیث کا جو اس سورت کی تیسری آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہے: [اَلْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلاَّتٍ ] [ بخاري: ۳۴۴۳ ] ”انبیاء علاتی (مختلف ماؤں سے پیدا ہونے والے) بھائی ہیں۔“یہاں تک کہ خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ نے اپنا دین مکمل فرما دیا، فرمایا: «اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا» [ المائدۃ: ۳ ] ”آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔“ ➌ {وَ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ وَ مَا وَصَّيْنَا بِهٖۤ …:} اگرچہ تمام انبیاء کا دین ایک تھا، مگر یہاں صرف پانچ پیغمبروں کا ذکر فرمایا اور ان کی ترتیب بھی ان کے زمانے کے حساب سے نہیں رکھی۔ مفسرین فرماتے ہیں تمام انبیاء کا نام لینا تو ممکن نہ تھا اور نہ ہی اس کی ضرورت تھی (دیکھیے مومن: ۷۸) اس لیے ہر مقام پر اس کے مناسب انبیاء کا ذکر فرمایا۔ یہاں پہلے دو رسولوں کا ذکر فرمایا جن میں سے نوح علیہ السلام زمین والوں کی طرف سب سے پہلے رسول تھے، جیسا کہ حدیث شفاعت میں ہے۔ [ دیکھیے بخاري: ۳۳۴۰ ] اس سے پہلے آدم علیہ السلام بے شک نبی تھے، مگر انھیں کسی امت کی طرف مبعوث نہیں کیا گیا تھا۔ سب سے پہلے رسول کے ساتھ ہی سب سے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا گیا، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ دین پہلے رسول سے آخری رسول تک ایک ہی ہے۔ اس کے بعد تین جلیل القدر رسولوں کا ذکر فرمایا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے وقت آسمانی مذاہب میں سے انھی تینوں کے پیروکار ہونے کے مدعی تمام دنیا میں پائے جاتے تھے۔ عرب کے مشرکین ابراہیمی ہونے کے دعوے دار تھے، یہودی موسیٰ علیہ السلام اور نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کے امتی کہلاتے تھے۔ ان کے علاوہ کسی پیغمبر کی طرف منسوب کوئی قابل ذکر قوم نہ تھی۔ اس لیے فرمایا کہ ان سب کا دین ایک ہے، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں۔ سورۂ احزاب میں بھی ان پانچ انبیاء کا ذکر ایک آیت میں آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ احزاب (۷)۔ ➍ { اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے ان تمام پیغمبروں کو حکم دیا کہ دین قائم کرو۔ دین قائم کرنے میں خود اس پر عمل کرنا بھی شامل ہے، اس کی دعوت و تبلیغ بھی اور عملاً اسے نافذ کرنا بھی۔ دعوت کے ساتھ ساتھ حسبِ استطاعت کفار سے جنگ کا بھی حکم دیا، اس وقت تک کہ وہ کلمہ پڑھیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ سورۂ توبہ میں مشرکین کے متعلق حکم دیا کہ انھیں چار ماہ تک مکہ میں آنے جانے کی اجازت ہے، فرمایا: «فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِيْلَهُمْ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [ التوبۃ: ۵ ] ”پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ان کے لیے ہر گھات کی جگہ بیٹھو، پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی يَشْهَدُوْا أَنْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، وَ يُقِيْمُوا الصَّلاَةَ، وَ يُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَهُمْ وَ أَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّ الْإِسْلاَمِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَی اللّٰهِ ] [ بخاري، الإیمان، باب: «فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ…» : ۲۵ ] ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، تو جب وہ ایسا کریں تو انھوں نے مجھ سے اپنے خون اور اموال محفوظ کر لیے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“ اہلِ کتاب میں سے جو لوگ دینِ حق قبول نہیں کرتے ان سے جزیہ وصول کرنے تک لڑتے رہنے کا حکم دیا، فرمایا: «قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ» [ التوبۃ: ۲۹ ] ”لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یومِ آخر پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔ “ ظاہر ہے دین کا قیام اور اس پر پوری طرح عمل اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ دوسرے تمام ادیان پر غالب ہو، جیسا کہ فرمایا: «هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا» [ الفتح: ۲۸ ] ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے اور اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے۔ “ دین اسلام میں نماز پڑھنا اور اپنی زکوٰۃ دے دینا کافی نہیں، اللہ کی زمین پر اس کا نظام قائم کرنا بھی ضروری ہے کہ ہر شخص مسجد میں آ کر نماز پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے، فرمایا: «وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ (40) اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ» [ الحج: ۴۰، ۴۱ ] ”اور یقینا اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا، بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔ وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔ “ اسلام کا بہت بڑا حصہ وہ ہے جس پر عمل اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب حکومت کی باگ ڈور ایمان والوں کے ہاتھ میں ہو، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل کرنے کا مقصد بیان فرمایا: «اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ» [ النساء: ۱۰۵ ] ”بے شک ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی، تاکہ تو لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ نے تجھے دکھایا ہے۔ “ ظاہر ہے لوگوں کے درمیان اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ تبھی ہو سکے گا جب اس کے مطابق فیصلہ کرنے والوں کی حکومت ہو گی، کفار کی سلطنت میں نماز کا وہ نظام جس میں ہر مسلم حتیٰ کہ منافقین بھی مسجد میں آ کر نماز پڑھتے ہیں، خواہ سست کھڑے ہو کر پڑھیں یا دکھاوے کے لیے پڑھیں، قائم ہو ہی نہیں سکتا۔ (دیکھیے نساء: ۱۴۳) زکوٰۃ کی تحصیل (توبہ: ۱۰۳) اور اس کی اللہ کے حکم کے مطابق تقسیم (توبہ: ۶۰) مسلمانوں کی اپنی حکومت کے علاوہ ممکن نہیں۔ سود کو بند کرنے کا حکم اور سود خوری جاری رکھنے والوں کے خلاف اعلان جنگ اسی وقت عمل میں آ سکتا ہے کہ ملک کی حکومت اور معیشت ایمان والوں کے ہاتھ میں ہو۔ کتاب اللہ میں قتل اور جراحات کے قصاص کا حکم (بقرہ: ۱۷۸۔ مائدہ: ۴۵)، چوری پر ہاتھ کاٹنے کا حکم (مائدہ: ۳۸) اور زنا اور قذف پر حد جاری کرنے کا حکم (نور: ۲تا ۴) مسلم حکام کو دیا گیا ہے، کفار کی عدالت اور ان کی پولیس کو نہیں دیا گیا اور نہ ہی وہ کبھی اسے نافذ کریں گے۔ اس کتاب میں مسلمانوں پر کفار سے قتال اس لیے فرض نہیں کیا گیا (بقرہ: ۱۹۰، ۲۱۶) کہ وہ کفار کی حکومت میں رہ کر ان کی فوج میں بھرتی ہو کر کفر کی خاطر لڑیں گے اور کفار سے جزیہ لینے کا حکم (توبہ: ۲۹) اس مفروضے کے ساتھ نہیں دیا گیا کہ مسلمان کفار کے محکوم رہ کر ان سے جزیہ وصول کریں گے۔ اسلامی احکام کا یہ نقشہ صرف مدینہ میں جا کر ہی پیش نہیں ہوا، مکی سورتوں میں بھی یہی بات سمجھائی گئی ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۸۰، ۸۱)، قصص (۸۵)، روم (۱ تا ۷)، صافات (۱۷۱ تا ۱۷۳)، ص (۱۱)، قمر (۴۳ تا ۴۵) اور سورۂ مزمل (۲۰)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اقامتِ دین کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین قائم کرنے کے لیے دعوت و تبلیغ اور تلوار دونوں سے پورے عرب کو حلقۂ بگوش اسلام کیا اور ایسی حکومت قائم کر دی جو اللہ تعالیٰ کے پورے دین پر عمل کی ضامن تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے اسلام نے اس فریضہ کی تکمیل کی، حتیٰ کہ اللہ کا دین زمین کے مشرق و مغرب میں قائم ہو گیا۔ پھر مسلمان اپنی نااہلی اور کتاب اللہ کے تقاضوں کو نہ سمجھنے یا جان بوجھ کر اسے پس پشت پھینک کر جہاد ترک کر دینے کے نتیجے میں کفار کے محکوم ہو گئے۔ اب ان میں سے کسی کے ہاتھ میں اسلام کی دو چار چیزیں ہیں اور کسی کے ہاتھ میں پانچ دس یا کم و بیش۔ ان کی باقی ساری زندگی کفر کے نظام کی پابند ہے اور افسوس یہ کہ وہ اس پر قانع ہیں اور کفر کے نظام کے پرزے بن چکے ہیں اور ان کے بہت سے لوگ دین اسلام کے غلبے سے مایوس ہو کر جمہوریت اور کفر کے دوسرے نظاموں کو توڑنے کی کوشش کے بجائے انھیں اسلام ثابت کرنے کی جدوجہد میں لگ گئے ہیں۔ ہاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کے مطابق ایک مجاہدین کی جماعت ”طائفہ منصورہ“ باقی ہے اور ہمیشہ رہے گی، جو کبھی کفر کی بالادستی قبول نہیں کرے گی اور دین کے غلبہ کے لیے زبانی کلامی فلسفوں کے بجائے دعوت کے ساتھ ساتھ قتال کا فریضہ بھی سر انجام دیتی رہے گی اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے بہرہ یاب رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس مبارک طائفہ میں شامل فرما دے۔ (آمین) ➎ { وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ:} دین میں جدا جدا ہونے کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ اہلِ کتاب کی طرح بعض باتوں میں کتاب اللہ پر عمل کیا جائے اور بعض میں کتاب اللہ کے بجائے اپنی مرضی پر عمل کیا جائے، جیسا کہ اہلِ کتاب کے متعلق فرمایا: «اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ» [ البقرۃ: ۸۵ ] ”پھر کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟“ ایک صورت یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات ثابت نہیں اسے دین بنا لیا جائے۔ اسے بدعت کہتے ہیں۔ سنت ہمیشہ ایک ہو گی، کیونکہ جس کی سنت ہے وہ ایک ہے، جبکہ بدعات کا شمار نہیں ہو گا، کیونکہ انھیں ایجاد کرنے والوں کا شمار نہیں ہو سکتا۔ پھر جب آدمی اصل سنت سے بہکتا ہے تو ایک بدعت پر نہیں رہتا بلکہ بدعات اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کر جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنا الگ فرقہ بنا لیتا ہے۔ اسے معلوم ہو بھی جائے کہ اس کی یا اس کے فرقے یا پیشوا کی فلاں بات کتاب اللہ یا حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے پھر بھی وہ اپنے دھڑے کی غلط بات پر اڑا رہے گا، حق کی طرف رجوع نہیں کرے گا اور اپنی یا اپنے امام کی بات کو کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع کرنے کے بجائے آیات و احادیث کے معانی میں تحریف کرکے انھیں اپنے مطابق ثابت کرے گا۔ نام اس کا تاویل رکھے گا اور کہے گا کہ ہر وہ آیت یا حدیث جو ہمارے فرقے کے بزرگوں کے خلاف ہے اس کی تاویل ہو گی یا وہ منسوخ ہے۔ حالانکہ وہ آیت یا حدیث اس کے بزرگوں کے خلاف نہیں، کیونکہ وہ تو ان بزرگوں سے بہت پہلے نازل ہو چکی ہیں، بلکہ اس کے بزرگوں کی بات آیت یا حدیث کے خلاف ہے کہ انھیں اس کا علم نہیں ہو سکا، یا ان کے ذہن میں نہیں رہی۔ معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: [ أَلاَ إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوْا عَلٰی ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِيْنَ مِلَّةً وَ إِنَّ هٰذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلٰی ثَلاَثٍ وَسَبْعِيْنَ، ثِنْتَانِ وَ سَبْعُوْنَ فِي النَّارِ وَ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَهِيَ الْجَمَاعَةُ، وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ تَجَارٰی بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَی الْكَلَبُ لِصَاحِبِهِ لاَ يَبْقٰی مِنْهُ عِرْقٌ وَلاَ مَفْصِلٌ إِلاَّ دَخَلَهُ ] [أبوداوٗد، السنۃ، باب شرح السنۃ: ۴۵۹۷ ] ”سنو! تم سے پہلے اہل کتاب کے لوگ بہتر (۷۲) ملتوں میں جدا جدا ہو گئے اور یہ ملت تہتر (۷۳) ملتوںمیں جدا جدا ہو جائے گی، بہتر (۷۲) آگ میں اور ایک جنت میں ہو گی اور وہی ”الجماعة “ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ میری امت میں کئی اقوام نکلیں گی جن میں یہ خواہشات (بدعات) اس طرح سرایت کر جائیں گی جیسے کتے کے ہلکاؤ کی بیماری اس کے مریض میں سرایت کر جاتی ہے، نہ اس کی کوئی رگ باقی رہتی ہے اور نہ کوئی جوڑ مگر وہ اس میں داخل ہو جاتی ہے۔“ مزید دیکھیے سورہ انعام کی آیت (۱۵۹): «اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِيَعًا» کی تفسیر۔ ➏ { كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِيْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ:} وہ بات جس کی دعوت آپ مشرکین کو دیتے ہیں وہ ان پر بہت بھاری ہے، مراد اس سے ایک اللہ کی عبادت کی دعوت ہے۔ کفار پر یہ دعوت اس قدر بھاری ہے کہ اس کا ماننا تو درکنار وہ اس کا سننا بھی برداشت نہیں کرتے، فرمایا: «وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَاهُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ» [ الزمر: ۴۵ ] ” اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں۔ “ وہ اس مجلس سے اٹھ جاتے ہیں جس میں ایک معبود کی بات ہو، فرمایا: «اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ (5) وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى
لوگوں میں جو تفرقہ رو نما ہوا وہ اِس کے بعد ہوا کہ اُن کے پاس علم آ چکا تھا، اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے اگر تیرا رب پہلے ہی یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اُس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان لوگوں نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد ہی اختلاف کیا (اور وه بھی) باہمی ضد بحﺚ سے اور اگر آپ کے رب کی بات ایک وقت مقرر تک کے لیے پہلے ہی سے قرار پا گئی ہوئی نہ ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی ہے وه بھی اس کی طرف سے الجھن والے شک میں پڑے ہوئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور انہوں نے پھوٹ نہ ڈالی مگر بعد اس کے کہ انہیں علم آچکا تھا آپس کے حسد سے اور اگر تمہارے رب کی ایک بات گزر نہ چکی ہوتی ایک مقرر میعاد تک تو کب کا ان میں فیصلہ کردیا ہوتا اور بیشک وہ جو ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے وہ اس سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ لوگ تفرقہ میں نہیں پڑے مگر بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا یہ (تفرقہ) محض باہمی ضدا ضدی (اور باہمی حسد) سے ہے اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے یہ بات طے نہ ہوچکی ہوتی کہ ان لوگوں کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دی جائے تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کے بارے میں اضطراب انگیز شک میں گرفتار ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جدا جدا نہیںہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آگیا، آپس کی ضد کی وجہ سے اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے ایک مقر ر وقت تک پہلے طے ہو چکی تو ضرور ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا اور بے شک وہ لوگ جو ان کے بعد اس کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کے متعلق یقینا ایسے شک میںمبتلا ہیںجو بے چین رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آیت ۱۴
جب ان کے پاس حق آ گیا حجت ان پر قائم ہو چکی۔ اس وقت وہ آپس میں ضد اور بحث کی بنا پر مختلف ہو گئے۔ اگر قیامت کا دن حساب کتاب اور جزا سزا کے لیے مقرر شدہ نہ ہوتا تو ان کے ہر بد عمل کی سزا انہیں یہیں مل جایا کرتی۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ گزشتہ جو پہلوں سے کتابیں پائے ہوئے ہیں۔ یہ صرف تقلیدی طور پر مانتے ہیں اور ظاہر ہے کہ مقلد کا ایمان شک شبہ سے خالی نہیں ہوتا۔ انہیں خود یقین نہیں دلیل و حجت کی بناء پر ایمان نہیں، بلکہ یہ اپنے پیشروؤں کے جو حق کے جھٹلانے والے تھے مقلد ہیں۔
14۔ 1 یعنی اگر ان کی بابت عقوبیت میں تاخیر کا فیصلہ پہلے سے نہ ہوتا تو فوراً عذاب بھیج کر ان کو ہلاک کردیا جاتا۔
(آیت 14) ➊ { وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ:} یعنی ان کے فرقوں میں بٹ جانے کا باعث یہ نہیں تھا کہ انھیں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کا علم نہیں تھا اور لاعلمی کی وجہ سے انھوں نے اپنے اپنے الگ مذاہب اور مکاتب فکر بنا لیے، بلکہ یہ تفرقہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم آ جانے کے بعد پیدا ہوا۔ ➋ { بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ:} یعنی الگ الگ گروہ اور فرقے بنانے کا باعث ان کا باہمی حسد، ضد اور عناد تھا، جس کی وجہ سے اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے انھوں نے اپنے اپنے قیاس و آراء کی بنیاد پر الگ الگ فرقے بنا ئے اور کتاب اللہ میں تحریف تک سے گریز نہ کیا، حتیٰ کہ نوبت باہمی اختلاف سے بڑھ کر ایک دوسرے کی مخالفت اور پھر جنگ و جدل تک پہنچ گئی۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۳) کی تفسیر۔ ➌ { وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حم سجدہ (۴۵) کی تفسیر۔ ➍ { وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ …:} یعنی شروع میں فرقے بنانے والوں نے علم ہونے کے باوجود حق سے انحراف کیا اور اللہ کی کتاب میں ایسی لفظی و معنوی تحریفیں کیں کہ بعد میں آنے والے لوگ، جو اس کتاب کے وارث بننے کے قابل تو نہ تھے مگر انھیں اس کا وارث بنا دیا گیا، وہ اس کتاب میں کی گئی لفظی اور معنوی تحریفات کی وجہ سے اس کی حقانیت کے متعلق ایسے شک میں مبتلا ہو گئے جو انھیں شدید مضطرب اور بے چین رکھتا تھا۔ انھیں اپنی کتابوں کے الہامی ہونے کا یقین باقی نہ رہا، بلکہ وہ کسی دلیل و برہان کے بغیر محض آنکھیں بند کرکے آبا و اکابر کی تقلید کرتے چلے گئے۔ ➎ مفسر عبدالرحمن کیلانی لکھتے ہیں: ”ان وارثوں کے اپنی الہامی کتابوں کے بارے میں شک میں پڑنے کی کئی وجوہ تھیں، جن میں سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں کی اصل زبان اور اصل عبارت کو محفوظ رکھ کر آنے والی نسلوں تک نہ پہنچایا گیا، صرف تراجم سے کام لیا جانے لگا اور ان تراجم کو ہی الہامی کتاب سمجھا جانے لگا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ بزرگوں کے اقوال اور الحاقی مضامین ان میں شامل کر دیے گئے، حتیٰ کہ ان دونوں قسم کی عبارتوں میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا اور تیسری وجہ یہ تھی کہ ان کی تاریخی سند بھی ضائع کر دی گئی (بلکہ سند رکھی ہی نہیں گئی)۔ ان سب باتوں کا اثر یہ ہوا کہ بعد میں آنے والے علماء خود اس کتاب سے شک میں پڑ گئے کہ کون سا حصہ درست اور الہامی ہے اور کون سی عبارت بزرگوں کے اقوال وغیرہ ہیں اور کسی بات کا صحیح فیصلہ کرنے میں یہی شک و شبہ انھیں اضطراب میں ڈالے رکھتا تھا۔“ (تیسیر القرآن)
چونکہ یہ حالت پیدا ہو چکی ہے اس لیے اے محمدؐ، اب تم اُسی دین کی طرف دعوت دو، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اُس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاؤ، اور اِن لوگو ں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو، اور اِن سے کہہ دو کہ: "اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اُس پر ایمان لایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اُسی کی طرف سب کو جانا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آپ لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیں اور جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اس پر مضبوطی سے جم جائیں اور ان کی خواہشوں پر نہ چلیں اور کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میرا ان پر ایمان ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم میں انصاف کرتا رہوں۔ ہمارا اور تم سب کا پروردگار اللہ ہی ہے ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں، ہم تم میں کوئی کٹ حجتی نہیں اللہ تعالیٰ ہم (سب) کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو اسی لیے بلاؤ اور ثابت قدم رہو جیسا تمہیں حکم ہوا ہے اور ان کی خواہشوں پر نہ چلو اور کہو کہ میں ایمان لایا اس پر جو کوئی کتاب اللہ نے اتاری اور مجھے حکم ہے کہ میں تم میں انصاف کروں اللہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے ہمارے لیے ہمارا عمل اور تمہارے لیے تمہارا کیا کوئی حجت نہیں ہم میں اور تم میں اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف پھرنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس آپ(ص) اس (دین) کی طرف دعوت دیتے رہیں اور ثابت قدم رہیں جس طرح آپ(ص) کو حکم دیا گیا ہے اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اور کہیں کہ میں ہر اس کتاب پر ایمان رکھتا ہوں جو اللہ نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں۔ ہمارے، تمہارے درمیان کوئی بحث درکار نہیں ہے اللہ ہم سب کو (ایک دن) جمع کرے گا اور اسی کی طرف بازگشت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
سو تو اسی کی طرف پھر دعوت دے اور مضبوطی سے قائم رہ، جیسے تجھے حکم دیاگیا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی مت کر اور کہہ دے کہ اللہ نے جو بھی کتاب نازل فرمائی میں اس پر ایمان لایا اور مجھے حکم دیاگیا ہے کہ میںتمھارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا رب اور تمھارا رب ہے، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں، اللہ ہمیں آپس میں جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام انبیاء کی شریعت یکساں ہے ٭٭
اس آیت میں ایک لطیفہ ہے جو قرآن کریم کی صرف ایک اور آیت میں پایا جاتا ہے باقی کسی اور آیت میں نہیں وہ یہ کہ اس میں دس کلمے ہیں جو سب مستقل ہیں الگ الگ ایک ایک کلمہ اپنی ذات میں ایک مستقل حکم ہے یہی بات دوسری آیت یعنی آیت الکرسی میں بھی ہے۔ 1 - پہلا حکم تو یہ ہوتا ہے کہ جو وحی تجھ پر نازل کی گئی ہے اور وہی وحی تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء پر آتی رہی ہے اور جو شرع تیرے لیے مقرر کی گئی ہے اور وہی تجھ سے پہلے تمام انبیاء کرام کے لیے بھی مقرر کی گئی تھی تو تمام لوگوں کو اس کی دعوت دے ہر ایک کو اسی کی طرف بلا اور اسی کے منوانے اور پھیلانے کی کوشش میں لگا رہ۔ 2 - اور اللہ تعالیٰ کی عبادت و وحدانیت پر تو آپ استقامت کر اور اپنے ماننے والوں سے استقامت کروا۔ 3 - مشرکین نے جو کچھ اختلاف کر رکھے ہیں جو تکذیب و افتراء ان کا شیوہ ہے جو عبادت غیر اللہ ان کی عادت ہے خبردار تو ہرگز ہرگز ان کی خواہش اور ان کی چاہتوں میں نہ آ جانا۔ ان کی ایک بھی نہ ماننا۔ 4 - اور علی الاعلان اپنے اس عقیدے کی تبلیغ کر کہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر میرا ایمان ہے میرا یہ کام نہیں کہ ایک کو مانوں اور دوسری سے انکار کروں، ایک کو لے لوں اور دوسری کو چھوڑ دوں۔ 5 - میں تم میں بھی وہی احکام جاری کرنا چاہتا ہوں جو اللہ کی طرف سے میرے پاس پہنچائے گئے ہیں اور جو سراسر عدل اور یکسر انصاف پر مبنی ہیں۔ 6 - معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ہمارا تمہارا معبود برحق وہی ہے اور وہی سب کا پالنہار ہے گو کوئی اپنی خوشی سے اس کے سامنے نہ جھکے لیکن دراصل ہر شخص بلکہ ہر چیز اس کے آگے جھکی ہوئی ہے اور سجدے میں پڑی ہوئی ہے۔ 7 - ہمارے عمل ہمارے ساتھ تمہاری کرنی تمہیں بھرنی۔ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [ 10-يونس: 41 ] اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں۔ تم میرے اعمال سے بری اور میں تمہارے اعمال سے بیزار۔ 8 - ہم؎ تم میں کوئی خصومت اور جھگڑا نہیں۔ کسی بحث مباحثے کی ضرورت نہیں۔ حضرت سدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ حکم تو مکہ میں تھا لیکن مدینے میں جہاد کے احکام اترے۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور جہاد کی آیتیں ہجرت کے بعد کی ہیں۔ 9 - قیامت کے دن اللہ ہم سب کو جمع کرے گا جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ» [ 34- سبأ: 26 ] ، یعنی تو کہہ دے کہ ہمیں ہمارا رب جمع کرے گا پھر ہم میں حق کے ساتھ فیصلے کرے گا اور وہی فیصلے کرنے والا اور علم والا ہے۔ 10 - پھر فرماتا ہے لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے۔
15۔ 1 یعنی اس تفرق اور شک کی وجہ سے، جس کا ذکر پہلے ہوا، آپ ان کو توحید کی دعوت دیں اور اس پر جمے رہیں۔
(آیت 15) ➊ { فَلِذٰلِكَ فَادْعُ:} مفسر ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ آیت کریمہ دس جملوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر جملہ اپنی جگہ مستقل مضمون ہے۔ آیت الکرسی کے سوا کوئی اور آیت ایسی نہیں۔“ (ابن کثیر) {” فَلِذٰلِكَ “} جار مجرور {” فَلِذٰلِكَ فَادْعُ “} کے متعلق ہے، پہلے لانے سے اس میں اختصاص پیدا ہو گیا، یعنی لوگوں کو کسی اور نہیں بلکہ دین کے اسی طریقے کی دعوت دیں جو اس نے وحی کے ذریعے سے تمام انبیاء کے لیے مقرر فرمایا ہے اور وہ ہے ایک اللہ کی عبادت۔ اس کے دین کو قائم کرنا اور اس میں جدا جدا نہ ہو جانا، بلکہ اکٹھے ہو کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا۔ ➋ { وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ:} دوسروں کو دعوت کے لیے خود اس پر عمل اور استقامت ضروری ہے، اس لیے اس پر مضبوطی سے قائم رہنے کا حکم دیا۔ {” وَ اسْتَقِمْ “} اور {” كَمَاۤ اُمِرْتَ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۱۱۲)۔ ➌ { وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ:} یعنی آپ اس کی پیروی کریں جس کا اللہ کی طرف سے آپ کو حکم دیا گیا ہے، اس کے سوا جو کچھ ہے محض خواہشات ہیں۔ اس لیے ان لوگوں کو خوش کرنے کے لیے یا ان سے صلح کی خاطر ان کی خواہشات کی پیروی مت کریں اور نہ دین میں کسی قسم کی مداہنت سے کام لیں۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۵) اور سورۂ مائدہ (۴۹)۔ ➍ { وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ:} اہلِ کتاب چونکہ کسی آسمانی کتاب کو مانتے اور کسی کو نہیں مانتے تھے، اسی طرح اپنی کتاب کے بھی بعض حصوں کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے۔ (دیکھیے بقرہ: ۸۵) حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہر کتاب اور اس کی ہر بات پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس لیے فرمایا، ان سے کہہ دیں کہ میں فرقہ پرستوں کی طرح نہیں جو مرضی کی بات مانتے ہیں دوسری نہیں، بلکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہر کتاب پر ایمان رکھتا ہوں، وہ خواہ کوئی ہو۔ میں پہلے انبیاء کی تکذیب کے لیے نہیں بلکہ ان کی تصدیق کے لیے آیا ہوں۔ تم پر بھی لازم ہے کہ تمھاری کتابوں میں میری اور قرآن کی جو تصدیق موجود ہے اس پر بھی ایمان لاؤ، تاکہ تمھارا ایمان بھی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر کتاب پر ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۳۶): «لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ» کی تفسیر۔ ➎ { وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ:} عدل کا معنی انصاف اور برابری ہے، اس کے مقابلے میں ظلم ہے۔ یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے درمیان عدل کروں، تمام لوگوں کو انصاف مہیا کروں، دنیا میں جو ظلم و زیادتی ہو رہی ہے اس کا خاتمہ کروں اور فیصلہ کرتے ہوئے اپنے پرائے میں فرق نہ کروں، بلکہ سب کو برابر رکھوں۔ اسی طرح چھوٹے و بڑے، کمزور و طاقتور اور امیر و غریب کے درمیان فرق نہ کروں۔ اس جملے میں اس غلبہ و اقتدار کی طرف بھی اشارہ ہے جو مدینہ جا کر حاصل ہونے والا تھا، کیونکہ بے اختیار شخص کیا عدل کرے گا اور اس کے پاس عدل طلب کرنے کے لیے کون جائے گا۔ ➏ { اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ:} تمام بندوں میں عدل کا حکم اس لیے ہے کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور وہی تمھارا رب ہے، ہم تم سب اس کے بندے ہیں۔ سو عدل کا حکم بھی سب کے لیے ہے، خواہ اپنا ہو یا پرایا، ضعیف ہو یا شریف، حکمران ہو یا رعایا۔ ➐ {لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ:} اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک اظہارِ براء ت، جیسے فرمایا: «لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَ لِيَ دِيْنِ» [الکافرون: ۶ ] ”تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔“ اور جیسا کہ سورۂ انعام (۱۳۵)، ہود (۹۳، ۱۲۱) اور سورۂ زمر (۳۹)میں اظہارِ براء ت فرمایا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ ہمارے اچھے یا برے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اعمال تمھارے لیے ہیں، نہ ہمارے اچھے اعمال تمھیں دیے جائیں گے اور نہ تمھارے اچھے اعمال ہمیں دیے جائیں گے۔ اسی طرح نہ تم ہمارے بد اعمال میں پکڑے جاؤ گے اور نہ ہم تمھارے بد اعمال میں پکڑے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا: «فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ» [ النور: ۵۴ ] ” تو اس کے ذمے صرف وہ ہے جو اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور تمھارے ذمے وہ جو تم پر بوجھ ڈالا گیا۔“ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۳۹)، یونس (۴۱)، ہود (۳۵) اور قصص (۵۵)۔ ➑ {لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ:} یعنی جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں، جو بات حق تھی وہ ہم نے دلائل کے ساتھ واضح کر دی، ہمیں تمھارے باطل پر اور اپنے حق پر ہونے کا پورا یقین ہے۔ تم اپنی بات پر اڑے ہوئے ہو، اس لیے جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں، تم جھگڑو بھی تو ہم جھگڑنے کے لیے تیار نہیں، اب تلوار کے ساتھ فیصلہ باقی رہ جاتاہے، وہ اپنے وقت پر ہو جائے گا۔ ➒ { اَللّٰهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا:} باطل پر جمے رہنے اور اس پر ناحق جھگڑا کرنے سے ڈراتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمھیں جمع کرے گا، کیا تمھیں اس بات سے خوف نہیں آتا کہ ناحق جھگڑے کا وہاں کیا جواب دو گے؟ ➓ { وَ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ:} اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے، وہاں پورا انصاف ہو جائے گا۔
اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ (لبیک کہنے والوں سے) اللہ کے دین کے معاملہ میں جھگڑے کرتے ہیں، اُن کی حجت بازی اُن کے رب کے نزدیک باطل ہے، اور اُن پر اس کا غضب ہے اور اُن کے لیے سخت عذاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی باتوں میں جھگڑا ڈالتے ہیں اس کے بعد کہ (مخلوق) اسے مان چکی ان کی کٹ حجتی اللہ کے نزدیک باطل ہے، اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ مسلمان اس کی دعوت قبول کرچکے ہیں ان کی دلیل محض بے ثبات ہے ان کے رب کے پاس اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ اللہ کے(دین) کے بارے میں(بلا وجہ) جھگڑا کرتے ہیں بعد اس کے کہ اسے قبول بھی کیا جاچکا ہے ان کی حجت بازی ان کے پروردگار کے نزدیک باطل ہے اور ان پر(خدا کا) غضب ہے ان کیلئے سخت عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں، اس کے بعد کہ اس کی دعوت قبول کر لی گئی، ان کی دلیل ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر بڑا غضب ہے اور ان کے لیے بہت سخت سزا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کے لئے وعیدیں ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو ایمان داروں سے فضول حجتیں کیا کرتے ہیں، انہیں راہ ہدایت سے بہکانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ ان کی حجت باطل ہے ان پر رب غضبناک ہے۔ اور انہیں قیامت کے روز سخت اور ناقابل برداشت مار ماری جائے گی۔ ان کی طمع پوری ہونی یعنی مسلمانوں میں پھر دوبارہ جاہلیت کی خو بو آنا محال ہے ٹھیک اسی طرح یہود و نصارٰی کا بھی یہ جادو نہیں چلنے دے گا۔ ناممکن ہے کہ مسلمان ان کے موجودہ دین کو اپنے سچے اچھے اصل اور کھرے دین پر ترجیح دیں۔ اور اس دین کو لیں جس میں جھوٹ ملا ہوا ہے جو محرف و مبدل ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور عدل و انصاف اتارا۔ جیسے فرمان باری ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» [ 57- الحديد: 25 ] ، یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو ظاہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا قرآن کے ہمراہ کتاب اور میزان اتارا تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو جائیں۔ ایک اور آیت میں ہے «وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ» [ 55- الرحمن: 9-7 ] یعنی آسمان کو اسی نے اونچا کیا اور ترازؤں کو اسی نے رکھا تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔ اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو مت گھٹاؤ۔ پھر فرماتا ہے تو نہیں جان سکتا کہ قیامت بالکل قریب ہے اس میں خوف اور لالچ دونوں ہی ہیں اور اس میں دنیا سے بے رغبت کرنا بھی مقصود ہے۔ پھر فرمایا «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [ 34-سبأ: 29 ] اس کے منکر تو جلدی مچا رہے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آتی؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو قیامت قائم کر دو کیونکہ ان کے نزدیک قیامت ہونا محال ہے۔ لیکن ان کے برخلاف ایماندار اس سے کانپ رہے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ روز جزا کا آنا حتمی اور ضروری ہے۔ یہ اس سے ڈر کر وہ اعمال بجا لا رہے ہیں جو انہیں اس روز کام دیں۔
ایک بالکل صحیح حدیث میں ہے جو تقریباً تواتر کے درجہ کو پہنچی ہوئی ہے کہ ایک شخص نے بلند آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب ہو گی؟ یہ واقعہ سفر کا ہے وہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دور تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں وہ یقیناً آنے والی ہے تو بتا کہ تو نے اس کے لیے تیاری کیا کر رکھی ہے؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ان کے ساتھ ہو گا جن سے تو محبت رکھتا ہے۔ [صحیح بخاری:6171] اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ہر شخص اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا۔ [صحیح بخاری:6171] یہ حدیث یقیناً متواتر ہے الغرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کے جواب میں قیامت کے وقت کا تعین نہیں کیا بلکہ سائل کو اس دن کے لیے تیاری کرنے کو فرمایا پس قیامت کے آنے کے وقت علم کا سوائے اللہ کے کسی اور کو نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ قیامت کے آنے میں جو لوگ جھگڑ رہے ہیں اور اس کے منکر ہیں اسے محال جانتے ہیں وہ نرے جاہل ہیں سچی سمجھ صحیح عقل سے دور پڑے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ تعجب ہے کہ زمین و آسمان کا ابتدائی خالق اللہ کو مانیں اور انسان کو مار ڈالنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دینے پر اسے قادر نہ جانیں جس نے بغیر کسی نمونے کے اور بغیر کسی جز کے ابتداء ً اسے پیدا کر دیا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [ 30-الروم: 27 ] تو دوبارہ جب کہ اس کے اجزاء بھی کسی نہ کسی صورت میں کچھ نہ کچھ موجود ہیں اسے پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہے بلکہ عقل سلیم بھی اسے تسلیم کرتی ہے اور اب تو اور بھی آسان ہے۔
16۔ 1 یعنی یہ مشرکین مسلمانوں سے لڑتے جھگڑتے ہیں، جنہوں نے اللہ اور رسول کی بات مان لی، تاکہ انہیں پھر راہ ہدایت سے ہٹا دیں۔ یا مراد یہود انصاریٰ ہیں جو مسلمانوں سے جھگڑتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارا دین تمہارے دین سے بہتر ہے اور ہمارا نبی بھی تمہارے نبی سے پہلے ہوا ہے، اس لئے ہم تم سے بہتر ہیں۔
(آیت 16) ➊ {وَ الَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ فِي اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ …: ” دَاحِضَةٌ “ ”دَحَضَ يَدْحَضُ دَحْضًا و دُحُوْضًا “} (ف) {”دَحَضَتِ الْحُجَّةُ“} دلیل باطل ہونا اور {”دَحَضَتِ الرِّجْلُ“} پاؤں کا پھسل جانا۔ {”حُجَّةٌ“} کا معنی جھگڑا بھی ہے اور دلیل بھی۔ پچھلی آیت میں فرمایا: «لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ» کہ ”ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں“ کیونکہ جو بات حق تھی وہ ہم نے تمھیں پہنچا دی، اب جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں، اس آیت میں فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کی بات قبول کر لی گئی، اس کا حق ہونا واضح ہو گیا، حتیٰ کہ بہت سے سمجھ دار لوگ اسے قبول کر چکے اور بہت سے دل میں تسلیم کر چکے ہیں تو لوگ اب بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں خواہ مخواہ جھگڑ رہے ہیں اور اپنے خیال میں بڑی مضبوط دلیلیں لا رہے ہیں، کبھی اس کی توحید میں بحث کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا» [ صٓ: ۵ ] ”کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا؟“ کبھی اس کی دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کے بارے میں جھگڑتے ہیں،جیسا کہ فرمایا: «مَنْ يُّحْيِ الْعِظَامَ وَ هِيَ رَمِيْمٌ» [ یٰسٓ: ۷۸ ] ”کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جب کہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟ “ کبھی اس کے انسان کو رسول بنا کر بھیجنے کے بارے میں جھگڑتے ہیں، فرمایا: «وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ» [الفرقان: ۷ ] ”اور انھوں نے کہا اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔“ کبھی اس کے شرکاء بنانے کے جواز میں اپنے معبودوں کو اللہ کے ہاں سفارشی اور اس کے قریب کرنے والے قرار دیتے ہیں، فرمایا: «هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ» [ یونس: ۱۸ ] ”یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔“ اور فرمایا: «مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى» [ الزمر: ۳ ] ”ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں۔“ ان کی مزعومہ یہ اور اس جیسی سب دلیلیں اللہ تعالیٰ کے ہاں باطل اور بے کار ہیں، انھیں اس جھگڑے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ➋ { وَ عَلَيْهِمْ غَضَبٌ: ” غَضَبٌ “} پر تنوین تعظیم کی ہے، یعنی ان پر بھاری غضب ہے۔ ➌ { وَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ:} جس کا دنیا میں مظاہرہ اہلِ مکہ پر مسلط خوف، قحط، جنگِ بدر اور دوسرے معرکوں میں ہوا اور جس کی شدت قیامت کے دن نعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تُوْضَعُ فِيْ أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَةٌ يَغْلِيْ مِنْهَا دِمَاغُهُ ] [ بخاري، الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار: ۶۵۶۱ ] ”قیامت کے دن آگ والوں میں سب سے ہلکے عذاب والا شخص وہ ہو گا جس کے دونوں پاؤں کے تلوؤں میں ایک انگارا رکھا جائے گا، جس سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا۔“
وہ اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اور میزان نازل کی ہے اور تمہیں کیا خبر، شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آ لگی ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے اور ترازو بھی (اتاری ہے) اور آپ کو کیا خبر شاید قیامت قریب ہی ہو
احمد رضا خان بریلوی
اللہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری اور انصاف کی ترازو اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ وہ ہے جس نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور میزان کو بھی اور تمہیں کیا خبر شاید قیامت قریب ہی ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ وہ ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب نازل کی اور میزان بھی، اور تجھے کون سی چیز آگاہ کرتی ہے، شاید کہ قیامت قریب ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کے لئے وعیدیں ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو ایمان داروں سے فضول حجتیں کیا کرتے ہیں، انہیں راہ ہدایت سے بہکانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ ان کی حجت باطل ہے ان پر رب غضبناک ہے۔ اور انہیں قیامت کے روز سخت اور ناقابل برداشت مار ماری جائے گی۔ ان کی طمع پوری ہونی یعنی مسلمانوں میں پھر دوبارہ جاہلیت کی خو بو آنا محال ہے ٹھیک اسی طرح یہود و نصارٰی کا بھی یہ جادو نہیں چلنے دے گا۔ ناممکن ہے کہ مسلمان ان کے موجودہ دین کو اپنے سچے اچھے اصل اور کھرے دین پر ترجیح دیں۔ اور اس دین کو لیں جس میں جھوٹ ملا ہوا ہے جو محرف و مبدل ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور عدل و انصاف اتارا۔ جیسے فرمان باری ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» [ 57- الحديد: 25 ] ، یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو ظاہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا قرآن کے ہمراہ کتاب اور میزان اتارا تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو جائیں۔ ایک اور آیت میں ہے «وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ» [ 55- الرحمن: 9-7 ] یعنی آسمان کو اسی نے اونچا کیا اور ترازؤں کو اسی نے رکھا تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔ اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو مت گھٹاؤ۔ پھر فرماتا ہے تو نہیں جان سکتا کہ قیامت بالکل قریب ہے اس میں خوف اور لالچ دونوں ہی ہیں اور اس میں دنیا سے بے رغبت کرنا بھی مقصود ہے۔ پھر فرمایا «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [ 34-سبأ: 29 ] اس کے منکر تو جلدی مچا رہے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آتی؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو قیامت قائم کر دو کیونکہ ان کے نزدیک قیامت ہونا محال ہے۔ لیکن ان کے برخلاف ایماندار اس سے کانپ رہے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ روز جزا کا آنا حتمی اور ضروری ہے۔ یہ اس سے ڈر کر وہ اعمال بجا لا رہے ہیں جو انہیں اس روز کام دیں۔
ایک بالکل صحیح حدیث میں ہے جو تقریباً تواتر کے درجہ کو پہنچی ہوئی ہے کہ ایک شخص نے بلند آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب ہو گی؟ یہ واقعہ سفر کا ہے وہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دور تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں وہ یقیناً آنے والی ہے تو بتا کہ تو نے اس کے لیے تیاری کیا کر رکھی ہے؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ان کے ساتھ ہو گا جن سے تو محبت رکھتا ہے۔ [صحیح بخاری:6171] اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ہر شخص اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا۔ [صحیح بخاری:6171] یہ حدیث یقیناً متواتر ہے الغرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کے جواب میں قیامت کے وقت کا تعین نہیں کیا بلکہ سائل کو اس دن کے لیے تیاری کرنے کو فرمایا پس قیامت کے آنے کے وقت علم کا سوائے اللہ کے کسی اور کو نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ قیامت کے آنے میں جو لوگ جھگڑ رہے ہیں اور اس کے منکر ہیں اسے محال جانتے ہیں وہ نرے جاہل ہیں سچی سمجھ صحیح عقل سے دور پڑے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ تعجب ہے کہ زمین و آسمان کا ابتدائی خالق اللہ کو مانیں اور انسان کو مار ڈالنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دینے پر اسے قادر نہ جانیں جس نے بغیر کسی نمونے کے اور بغیر کسی جز کے ابتداء ً اسے پیدا کر دیا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [ 30-الروم: 27 ] تو دوبارہ جب کہ اس کے اجزاء بھی کسی نہ کسی صورت میں کچھ نہ کچھ موجود ہیں اسے پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہے بلکہ عقل سلیم بھی اسے تسلیم کرتی ہے اور اب تو اور بھی آسان ہے۔
17۔ 1 الْکِتَابَ سے مراد جنس ہے یعنی تمام پیغمبروں پر جتنی کتابیں نازل ہوئیں، وہ سب حق اور سچی تھیں یا بطور خاص قرآن مجید مراد ہے اور اس کی صداقت کو واضح کیا جا رہا ہے۔
(آیت 17) ➊ {اَللّٰهُ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِيْزَانَ:” الْكِتٰبَ “ } میں الف لام جنس کا ہو تو مراد تمام روحانی کتابیں ہیں اور اگرعہد کا ہو تو مراد یہ کتاب یعنی قرآن مجید ہے۔ یعنی کیا جانتے بھی ہو کہ جس اللہ کے بارے میں تم جھگڑ رہے ہو وہ کون ہے اور اس کی صفات اور اس کے احکام کیسے معلوم ہو سکتے ہیں؟ فرمایا اللہ وہی ہے جس نے یہ کتاب یعنی قرآن مجید حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے، اس کی ہر بات حق ہے، اس میں باطل کی آمیزش ہو ہی نہیں سکتی، جیسا کہ فرمایا: «لَا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ» [ حٰمٓ السجدۃ: ۴۲ ] ”اس کے پاس باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔“ اور اسی نے میزان اتارا ہے جس کے ساتھ لوگ اپنے تمام معاملات میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر سکیں۔ {” الْمِيْزَانَ “} سے مراد اکثر مفسرین نے عدل و انصاف لیا ہے، بعض نے اس سے مراد دین حق اور بعض نے جزا و سزا کا قانون لیا ہے۔ ان میں سے جو بھی مراد لیں بات ایک ہی ہے اور اس میزان سے مراد اللہ کے دین اور اس کی شریعت پر مشتمل یہ کتاب ہی ہے جو خالق و مخلوق کے درمیان معاملات اور مخلوق کے باہمی معاملات اور تمام تنازعات کے لیے میزان ہے، جو ہر بات ترازو کی طرح تول کر صحیح یا غلط اور حق یا باطل کا فیصلہ کر دیتی ہے۔ اوپر فرمایا تھا: «وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ» [الشورٰی: ۱۵ ] (اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھارے درمیان انصاف کروں) اور اس آیت میں بتا دیا کہ اس کتاب پاک کی صورت میں میزان آ گئی ہے، جس کے ساتھ وہ عدل قائم کیا جائے گا۔ یہ کتاب دوسرے معاملات کی طرح پہلی کتابوں کے لیے بھی میزان اور ان کی نگران ہے کہ ان میں کون سی باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور کون سی ملا دی گئی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَيْمِنًا عَلَيْهِ» [ المائدۃ: ۴۸ ] ”اور ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ بھیجی، اس حال میں کہ اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو کتابوں میں سے اس سے پہلے ہے اور اس پر محافظ ہے۔“ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ آیت میں {” الْكِتٰبَ “} اور {” الْمِيْزَانَ “} کے درمیان واؤ عطف ہے جو مغایرت کے لیے ہوتی ہے، جس سے ظاہر ہے کہ کتاب اور میزان الگ الگ چیزیں ہیں، اب اگر میزان سے مراد کتاب ہی ہو تو مغایرت ختم ہو جاتی ہے، اسی طرح اگر میزان سے مراد عدل و انصاف لیں تب بھی کتاب اور میزان کے درمیان مغایرت نہیں رہتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں عین عدل و انصاف ہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ ایک ہی چیز کا ذکر جب اس کی مختلف صفات کے ساتھ کیا جائے تو اس کا عطف خود اس پر ہو سکتا ہے، کیونکہ صفات کے تغایر کو ذوات کے تغایر کی طرح قرار دے لیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثالوں میں سے ایک مثال یہ ہے: «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى (1) الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى (2) وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى (3) وَ الَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى» [ الأعلٰی: ۱ تا ۴ ] ان آیات میں {” الَّذِيْ “} (وہ ذات) کو عطف کے ساتھ الگ الگ بیان کیا گیا ہے، حالانکہ وہ ایک ہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہر جملے میں وہ الگ الگ صفت کے ساتھ مذکور ہے۔ کلامِ عرب میں سے اس کی مثال یہ شعر ہے: {إِلَي الْمَلِكِ الْقَرْمِ وَابْنِ الْهُمَامِ وَ لَيْثِ الْكَتِيْبَةِ فِي الْمُزْدَحَمِ} [ أضواء البیان ] ➌ {وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيْبٌ:} اور تجھے کیا چیز آگاہ کرتی ہے شاید کہ وہ قیامت بالکل نزدیک ہو اور جو سانس تم لے رہے ہو یہی آخری ہو، اس لیے اس فکر میں مت پڑو کہ وہ کب ہے، بلکہ یہ فکر کرو کہ تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بادیہ والوںمیں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مَتَی السَّاعَةُ قَائِمَةٌ؟ قَالَ وَيْلَكَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا إِلاَّ أَنِّيْ أُحِبُّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ، قَالَ إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ فَقُلْنَا وَ نَحْنُ كَذٰلِكَ؟ قَالَ نَعَمْ، فَفَرِحْنَا يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيْدًا، فَمَرَّ غُلاَمٌ لِلْمُغِيْرَةِ وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِيْ فَقَالَ إِنْ أُخِّرَ هٰذَا فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةُ ] [ بخاري، الأدب، باب ما جاء في قول الرجل ویلک: ۶۱۶۷ ] ”یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہونے والی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تم پر! تم نے اس کے لیے تیاری کیا کی ہے؟“ اس نے کہا: ”میں نے اس کے لیے اس کے سوا کوئی تیاری نہیں کی کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یقینا اس کے ساتھ ہوگے جس سے تمھیں محبت ہو گی۔“ تو ہم نے کہا: ”اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ تو ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے۔ مغیرہ کا ایک غلام وہاں سے گزرا، وہ میرا ہم عمر تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کی عمر دراز ہوئی تو اسے سخت بڑھاپا آنے سے پہلے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی۔“ مراد اس وقت موجود لوگوں کی قیامت ہے۔ حدیث میں قابل توجہ بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر آدمی کی موت کو اس کے لیے قیامت قرار دیا، کیونکہ اس کے ساتھ اس کے لیے عمل کی مہلت ختم ہو جاتی ہے۔ ➍ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ {” السَّاعَةَ “} مؤنث ہے، اس کی خبر {” قَرِيْبٌ “} مذکر ہے، حالانکہ دونوں میں مطابقت ہونی چاہیے؟ جواب کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف کی آیت (۵۶): «اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ» کی تفسیر۔
جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یقیناً وہ آنے والی ہے خوب سن لو، جو لوگ اُس گھڑی کے آنے میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کی جلدی انہیں پڑی ہے جو اسے نہیں مانتے اور جو اس پر یقین رکھتے ہیں وه تو اس سے ڈر رہے ہیں انہیں اس کے حق ہونے کا پورا علم ہے۔ یاد رکھو جو لوگ قیامت کے معاملہ میں لڑ جھگڑ رہے ہیں، وه دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اس کی جلدی مچارہے ہیں وہ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے اور جنہیں اس پر ایمان ہے وہ اس سے ڈر رہے ہیں اورجانتے ہیں کہ بیشک وہ حق ہے، سنتے ہو بیشک جو قیامت میں شک کرتے ہیں ضرور دُور کی گمراہی میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے تو اس کے لئے جلدی کرتے ہیں اور جو ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جا نتے ہیں کہ وہ برحق ہے آگاہ رہو جو قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں (تکرار کرتے ہیں) وہ بڑی کھلی گمراہی میں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اسے وہ لوگ جلدی مانگتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ لوگ جو ایمان لائے، وہ اس سے ڈرنے والے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے۔ سنو! بے شک وہ لوگ جو قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں یقینا وہ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت کے لئے وعیدیں ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو ایمان داروں سے فضول حجتیں کیا کرتے ہیں، انہیں راہ ہدایت سے بہکانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ ان کی حجت باطل ہے ان پر رب غضبناک ہے۔ اور انہیں قیامت کے روز سخت اور ناقابل برداشت مار ماری جائے گی۔ ان کی طمع پوری ہونی یعنی مسلمانوں میں پھر دوبارہ جاہلیت کی خو بو آنا محال ہے ٹھیک اسی طرح یہود و نصارٰی کا بھی یہ جادو نہیں چلنے دے گا۔ ناممکن ہے کہ مسلمان ان کے موجودہ دین کو اپنے سچے اچھے اصل اور کھرے دین پر ترجیح دیں۔ اور اس دین کو لیں جس میں جھوٹ ملا ہوا ہے جو محرف و مبدل ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور عدل و انصاف اتارا۔ جیسے فرمان باری ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» [ 57- الحديد: 25 ] ، یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو ظاہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا قرآن کے ہمراہ کتاب اور میزان اتارا تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو جائیں۔ ایک اور آیت میں ہے «وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ» [ 55- الرحمن: 9-7 ] یعنی آسمان کو اسی نے اونچا کیا اور ترازؤں کو اسی نے رکھا تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔ اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو مت گھٹاؤ۔ پھر فرماتا ہے تو نہیں جان سکتا کہ قیامت بالکل قریب ہے اس میں خوف اور لالچ دونوں ہی ہیں اور اس میں دنیا سے بے رغبت کرنا بھی مقصود ہے۔ پھر فرمایا «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [ 34-سبأ: 29 ] اس کے منکر تو جلدی مچا رہے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آتی؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو قیامت قائم کر دو کیونکہ ان کے نزدیک قیامت ہونا محال ہے۔ لیکن ان کے برخلاف ایماندار اس سے کانپ رہے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ روز جزا کا آنا حتمی اور ضروری ہے۔ یہ اس سے ڈر کر وہ اعمال بجا لا رہے ہیں جو انہیں اس روز کام دیں۔
ایک بالکل صحیح حدیث میں ہے جو تقریباً تواتر کے درجہ کو پہنچی ہوئی ہے کہ ایک شخص نے بلند آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب ہو گی؟ یہ واقعہ سفر کا ہے وہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دور تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں وہ یقیناً آنے والی ہے تو بتا کہ تو نے اس کے لیے تیاری کیا کر رکھی ہے؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ان کے ساتھ ہو گا جن سے تو محبت رکھتا ہے۔ [صحیح بخاری:6171] اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ہر شخص اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا۔ [صحیح بخاری:6171] یہ حدیث یقیناً متواتر ہے الغرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کے جواب میں قیامت کے وقت کا تعین نہیں کیا بلکہ سائل کو اس دن کے لیے تیاری کرنے کو فرمایا پس قیامت کے آنے کے وقت علم کا سوائے اللہ کے کسی اور کو نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ قیامت کے آنے میں جو لوگ جھگڑ رہے ہیں اور اس کے منکر ہیں اسے محال جانتے ہیں وہ نرے جاہل ہیں سچی سمجھ صحیح عقل سے دور پڑے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ تعجب ہے کہ زمین و آسمان کا ابتدائی خالق اللہ کو مانیں اور انسان کو مار ڈالنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دینے پر اسے قادر نہ جانیں جس نے بغیر کسی نمونے کے اور بغیر کسی جز کے ابتداء ً اسے پیدا کر دیا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [ 30-الروم: 27 ] تو دوبارہ جب کہ اس کے اجزاء بھی کسی نہ کسی صورت میں کچھ نہ کچھ موجود ہیں اسے پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہے بلکہ عقل سلیم بھی اسے تسلیم کرتی ہے اور اب تو اور بھی آسان ہے۔
18۔ 1 یعنی استہزاد کے طور پر یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کو آنا ہی کہاں سے ہے؟ اس لئے کہتے ہیں کہ قیامت جلدی آئے۔ 18۔ 2 اس لئے کہ وہ ان دلائل پر غور و فکر ہی نہیں کرتے جو ایمان لانے کے موجب بن سکتے ہیں حالانکہ یہ دلائل روز و شب ان کے مشاہدے میں آتے ہیں۔ ان کی نظروں سے گزرتے ہیں اور ان کی عقل و فہم میں آسکتے ہیں۔ اس لئے وہ حق سے بہت دور جا پڑے ہیں۔
(آیت 18) ➊ { يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا: ”اِسْتِعْجَالٌ“} کا معنی ہے کسی چیز کے وقت سے پہلے اس کےلانے کا مطالبہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت سے اور اس کے قریب ہونے سے ڈراتے تو کفار اسے جلد از جلد لانے کا مطالبہ کرتے۔ مقصد ان کا صرف قیامت کا انکار اور اس کا مذاق اڑانا ہوتا تھا کہ جب وہ ان کے مطالبے پر فوراً برپا نہیں ہو گی تو وہ اسے جھٹلائیں گے اور اس کا مذاق اڑائیں گے کہ اگر قیامت ہوتی تو ہمارے مطالبے پر آ جاتی، حالانکہ وہ ان کی فرمائش پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ وقت پر آئے گی جس کا اس کے سوا کسی کو علم نہیں۔ اس آیت میں ان کی اس جرأت کی وجہ بیان فرمائی کہ ان کے اس مطالبے کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن پر یقین نہیں رکھتے جس میں اعمال کی باز پرس ہو گی۔ اگر انھیں اس بات کا یقین ہوتا تو وہ کبھی اس کے لیے جلدی نہ مچاتے، بلکہ اس کی تیاری کی فکر کرتے۔ ➋ { وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا …:} یعنی منکرین قیامت کے برعکس جو لوگ اس پر یقین و ایمان رکھتے ہیں وہ ہر وقت اس بات سے سخت ڈرتے رہتے ہیں کہ کب موت آ کر عمل کی مہلت ختم کر دے، پھر قیامت کبریٰ برپا ہونے پر حساب کے وقت ان کا کیا حال ہو۔ (دیکھیے انبیاء: ۴۹۔ نور: ۳۷۔ دہر: ۷) کیونکہ انھیں یقین ہے کہ وہ ہو کر رہنے والی ہے۔ ➌ { اَلَاۤ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍۭ بَعِيْدٍ: ” يُمَارُوْنَ “} کا معنی ”شک کرتے ہیں“ بھی ہے اور ”جھگڑتے ہیں“ بھی۔ یعنی قیامت کا یقین ہو تو انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور حق واضح ہونے پر اسے قبول بھی کر لیتا ہے، مگر جسے اس کے آنے ہی میں شک ہو اور وہ اس کے متعلق جھگڑا کرتا رہتا ہو وہ ایمان لانے اور نیک اعمال اختیار کرنے کو بے کار سمجھے گا اور محاسبے کا خوف نہ ہونے کی وجہ سے ہر گناہ پر دلیر ہو گا اور بڑے سے بڑے ظلم سے بھی گریز نہیں کرے گا، ایسے لوگ راہِ حق سے بہت دور جا چکے ہیں، جہاں سے ان کی واپسی ممکن نہیں۔ {” ضَلٰلٍۭ بَعِيْدٍ “} میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ سیدھے راستے سے اتنے دور جا چکے ہیں کہ ان کی آنکھیں قیامت کے دن ہی کھلیں گی، جب واپس پلٹنا ممکن نہیں ہو گا۔ دیکھیے سورۂ سبا (۵۱ تا ۵۴)۔
اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے جسے جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے، وہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی لطف کرنے واﻻ ہے، جسے چاہتا ہے کشاده روزی دیتا ہے اور وه بڑی طاقت، بڑے غلبہ واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ اپنے بندوں پر لطف فرماتا ہے جسے چاہے روزی دیتا ہے اور وہی قوت و عزت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے جسے چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے وہ بڑا طاقتور (اور) زبردست ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہی بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غفور و رحیم اللہ ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے روزی پہنچا رہا ہے ایک بھی نہیں جسے اللہ بھول جائے نیک بد ہر ایک اس کے ہاں کا وظیفہ خوار ہے جیسے فرمایا «وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [ 11-ھود: 6 ] ، زمین پر چلنے والے تمام جانداروں کی روزیوں کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کے رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا بھی ہے وہ جس کے لیے چاہتا ہے کشادہ روزی مقرر کرتا ہے وہ طاقتور غالب ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی پھر فرماتا ہے جو آخرت کے اعمال کی طرف توجہ کرتا ہے ہم خود اس کی مدد کرتے ہیں اسے قوت طاقت دیتے ہیں اس کی نیکیاں بڑھاتے رہتے ہیں کسی نیکی کو دس گنی کر دیتے ہیں کسی کو سات سو گنا کسی کو اس سے بھی زیادہ۔
الغرض آخرت کی چاہت جس دل میں ہوتی ہے اس شخص کو نیک اعمال کی توفیق اللہ کی طرف سے عطا فرمائی جاتی ہے۔ اور جس کی تمام کوشش دنیا حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہیں آخرت کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی تو وہ دونوں جہاں سے محروم رہتا ہے دنیا کا ملنا اللہ کے ارادے پر موقوف ہے ممکن ہے وہ ہزاروں جتن کر لے اور دنیا سے بھی محروم رہ جائے۔ بد نیتی کے باعث عقبیٰ تو برباد کر ہی چکا تھا۔ دنیا بھی نہ ملی تو دونوں جہان سے بھی گیا اور تھوڑی سی دنیا مل بھی گئی تو کیا۔ دوسری آیت میں اس مضمون کو مقید بیان کیا گیا ہے۔ فرمان ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰؤُلَاءِ وَهَـٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا» [ 17- الإسراء: 21-18 ] ، یعنی جو شخص دنیا کا ہو گا ایسے لوگوں میں سے ہم جسے چاہیں اور جتنا چاہیں دے دیں گے پھر اس کے لیے جہنم تجویز کریں گے جس میں وہ بدحال اور راندہ درگاہ ہو کر داخل ہو گا اور جو آخرت کی طلب کرے گا اور اس کے لیے جو کوشش کرنی چاہیئے کرے گا اور وہ با ایمان بھی ہو گا۔ تو ناممکن ہے کہ اس کی کوشش کی قدر دانی نہ کی جائے۔ دنیوی بخشش و عطا تو عام ہے۔ اس سے ہم ان سب کی امداد کیا کرتے ہیں اور تیرے رب کی یہ دنیوی عطا کسی پر بند نہیں، خود دیکھ لو کہ ہم نے ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دے رکھی ہے یقین مان لو کہ درجوں کے اعتبار سے بھی اور فضیلت کی حیثیت سے بھی آخرت بہت بڑی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس امت کو برتری اور بلندی کی نصرت اور سلطنت کی خوشخبری ہو ان میں سے جو شخص دینی عمل دنیا کے لیے کرے گا اسے آخرت میں کوئی حصہ نہ ملے گا۔ [مسند احمد:134/5:اسناد قوی] ۔
اور جس کا ارادہ آخر کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے (1) اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس دنیا میں سے ہی کچھ دے دیں گے ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔
(آیت 19) ➊ { اَللّٰهُ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ: ” لَطِيْفٌ“} ایسی چیز جوگرفت میں نہ آ سکے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ”لطيف“ اس لحاظ سے ہے کہ وہ باریک سے باریک چیز کی خبر رکھنے والا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی تدبیر نہایت باریک ہوتی ہے جو نظر نہیں آتی۔ اس لحاظ سے اس کا معنی لطف و کرم کرنے والا بھی ہے کہ وہ ایسے باریک طریقے سے مہربانی فرماتا ہے کہ نظر ہی نہیں آتا کہ یہ کیسے ہو گئی۔ (مفردات) گویا {” لَطِيْفٌ“} میں دو صفتیں جمع ہیں، ایک نہایت باریک بین اور دوسری نہایت مہربانی والا۔ ان کے ضمن میں کمال علم بھی ہے جس کے بغیر باریک بینی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بندوں پر لطیف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے ان کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی مادی یا روحانی ضرورت پوشیدہ نہیں اور وہ اپنی کمال مہربانی اور باریک طریقوں سے ایسے انتظام فرماتا ہے کہ ہر بندے کی بلکہ ہر مخلوق کی ضرورت جو اس کے حسبِ حال ہو، پوری ہو اور اسے خبر بھی نہ ہو کہ وہ کیسے پوری ہو گئی۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ {” بِعِبَادِهٖ “} کا لفظ اگرچہ عام ہے مگر اس سے مراد یہاں اللہ کے مومن بندے ہیں اور بعض نے فرمایا کہ{” بِعِبَادِهٖ “} میں مومن و کافر دونوں شامل ہیں، دنیا میں دونوں اس کے لطفِ عام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، البتہ آخرت میں اس کا لطف و کرم مومنوں کے لیے خاص ہو گا۔ ➋ { يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ:} اسی لیے ان میں سے بے شمار لوگوں کو جھٹلانے اور مذاق اڑانے کے باوجود بھوکا نہیں مارتا، بلکہ ان کی تمام ضرورتیں اپنے لطف و کرم سے پوری کرتا ہے۔ مگر جسے چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور جس کی روزی کا دفتر بند کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے۔ یہ بات یہاں ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ اکثر لوگ رزق کے پیچھے رزاق کو بھول جاتے ہیں۔ ➌ { وَ هُوَ الْقَوِيُّ:} یعنی وہ جو کرنا چاہے، جسے جتنا رزق دینا چاہے اس کی پوری قوت رکھتا ہے، کسی کام میں کسی کا محتاج نہیں۔ ➍ {الْعَزِيْزُ:} یعنی دوسرے تمام معاملات کی طرح رزق کے معاملے میں بھی کسی کا اس پر زور نہیں کہ وہ دینا چاہے تو کوئی اسے روک سکے، یا نہ دینا چاہے تو کوئی اس سے لے سکے۔ خبر {” الْقَوِيُّ الْعَزِيْزُ “} پر الف لام سے قصر پیدا ہو گیا ہے، یعنی دونوں صفتیں صرف اس میں ہیں، کسی اور میں نہیں، جیساکہ فرمایا: [ اَللّٰهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ] [ بخاري، القدر، باب لا مانع لما أعطی اللّٰہ: ۶۶۱۵ ] ”اے اللہ! تو جو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک دے وہ کوئی دینے والا نہیں۔“
جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اُس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اُسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اُس کا کوئی حصہ نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس کا اراده آخرت کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس میں سے ہی کچھ دے دیں گے، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں
احمد رضا خان بریلوی
جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جوشخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے تو ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کردیتے ہیں اور جو (صرف) دنیا کی کھیتی چاہتا ہے تو ہم اس میں سے اسے کچھ دے دیتے ہیں مگر اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
جو کوئی آخر ت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے اورجو کوئی دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے ہم اس میںسے کچھ دے دیں گے اور آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غفور و رحیم اللہ ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے روزی پہنچا رہا ہے ایک بھی نہیں جسے اللہ بھول جائے نیک بد ہر ایک اس کے ہاں کا وظیفہ خوار ہے جیسے فرمایا «وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [ 11-ھود: 6 ] ، زمین پر چلنے والے تمام جانداروں کی روزیوں کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کے رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا بھی ہے وہ جس کے لیے چاہتا ہے کشادہ روزی مقرر کرتا ہے وہ طاقتور غالب ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی پھر فرماتا ہے جو آخرت کے اعمال کی طرف توجہ کرتا ہے ہم خود اس کی مدد کرتے ہیں اسے قوت طاقت دیتے ہیں اس کی نیکیاں بڑھاتے رہتے ہیں کسی نیکی کو دس گنی کر دیتے ہیں کسی کو سات سو گنا کسی کو اس سے بھی زیادہ۔
الغرض آخرت کی چاہت جس دل میں ہوتی ہے اس شخص کو نیک اعمال کی توفیق اللہ کی طرف سے عطا فرمائی جاتی ہے۔ اور جس کی تمام کوشش دنیا حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہیں آخرت کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی تو وہ دونوں جہاں سے محروم رہتا ہے دنیا کا ملنا اللہ کے ارادے پر موقوف ہے ممکن ہے وہ ہزاروں جتن کر لے اور دنیا سے بھی محروم رہ جائے۔ بد نیتی کے باعث عقبیٰ تو برباد کر ہی چکا تھا۔ دنیا بھی نہ ملی تو دونوں جہان سے بھی گیا اور تھوڑی سی دنیا مل بھی گئی تو کیا۔ دوسری آیت میں اس مضمون کو مقید بیان کیا گیا ہے۔ فرمان ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰؤُلَاءِ وَهَـٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا» [ 17- الإسراء: 21-18 ] ، یعنی جو شخص دنیا کا ہو گا ایسے لوگوں میں سے ہم جسے چاہیں اور جتنا چاہیں دے دیں گے پھر اس کے لیے جہنم تجویز کریں گے جس میں وہ بدحال اور راندہ درگاہ ہو کر داخل ہو گا اور جو آخرت کی طلب کرے گا اور اس کے لیے جو کوشش کرنی چاہیئے کرے گا اور وہ با ایمان بھی ہو گا۔ تو ناممکن ہے کہ اس کی کوشش کی قدر دانی نہ کی جائے۔ دنیوی بخشش و عطا تو عام ہے۔ اس سے ہم ان سب کی امداد کیا کرتے ہیں اور تیرے رب کی یہ دنیوی عطا کسی پر بند نہیں، خود دیکھ لو کہ ہم نے ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دے رکھی ہے یقین مان لو کہ درجوں کے اعتبار سے بھی اور فضیلت کی حیثیت سے بھی آخرت بہت بڑی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس امت کو برتری اور بلندی کی نصرت اور سلطنت کی خوشخبری ہو ان میں سے جو شخص دینی عمل دنیا کے لیے کرے گا اسے آخرت میں کوئی حصہ نہ ملے گا۔ [مسند احمد:134/5:اسناد قوی] ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20) ➊ { مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ …:} اللہ تعالیٰ نے دنیا کو آدمی کے لیے کھیت بنایا ہے، وہ اس میں جو بوئے گا وہی کاٹے گا اور جس چیز کا ارادہ کرے گا وہی ملے گی۔ اسی طرح اس نے دنیا کو تجارت کی جگہ بنایا ہے، اگر خیر کا سودا کرے گا تو نفع میں خیر ملے گی، اگر شر کا سودا کرے گا تو نتیجہ میں شر پائے گا۔ اسی طرح دنیا کو آخرت کا راستہ بنایا ہے، اگر خیر کے راستے پر چلے گا تو منزل مراد پا لے گا اور ہمیشہ کی جنت میں پہنچ جائے گا، اگر شر کے راستے پر چلے گا تو ہمیشہ کے عذاب اور دائمی غم میں جا پڑے گا۔ اس تجارت کے نفع و نقصان کا کئی آیات میں ذکر فرمایا ہے، فرمایا: «اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ» [ التوبۃ: ۱۱۱ ] ”بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے۔“ اور فرمایا: «وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ» [ البقرۃ: ۲۰۷ ] ”اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو اللہ کی رضا مندی تلاش کرنے کے لیے اپنی جان بیچ دیتا ہے۔“ اور فرمایا: «اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا بِالْاٰخِرَةِ» [ البقرۃ: ۸۶ ] ”یہی لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے خریدی۔“ ➋ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے رزق کا قانون بیان فرمایا کہ وہ سب کے لیے یکساں نہیں، وہ جسے چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے دیتا ہے اور اس میں اس کی بے شمار حکمتیں ہیں۔ (دیکھیے زخرف: ۳۲) اس آیت میں فرمایا کہ آدمی کی کوشش اور نیت کے مختلف ہونے کے لحاظ سے بھی اسے ملنے والا رزق مختلف ہے۔ ➌ آخرت کی کھیتی کا ارادہ رکھنے والے کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ اسے دنیا میں کچھ نہیں ملے گا۔ دنیا تو نیک ہو یا بد ہر ایک کو تھوڑی یا زیادہ ملنی ہی ملنی ہے، آخرت کے متعلق بشارت دی کہ ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے، کیونکہ اس کی نیت اور کوشش اسی کی ہے۔ اضافہ یہ ہے کہ دنیا میں اسے مزید نیکیوں کی توفیق دیں گے اور آخرت میں ایک نیکی کو دس گنا سے ہزاروں لاکھوں تک بلکہ شمار سے بھی زیادہ بڑھائیں گے اور دائمی نعمتیں عطا کریں گے، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا» [ بني إسرائیل: ۱۹ ] ”اور جس نے آخرت کا ارادہ کیا اور اس کے لیے کوشش کی جو اس کے لائق کوشش ہے، جب کہ وہ مومن ہو تو یہی لوگ ہیں جن کی کوشش ہمیشہ سے قدر کی ہوئی ہے۔“ ➍ { وَ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا …:” مِنْهَا “} میں {”مِنْ“} تبعیض کے لیے ہے۔ یعنی جو شخص دنیا کی کھیتی کا ارادہ کرے گا اور دنیا ہی کے لیے کوشش اور محنت کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے وہ نہیں ملے گا جو وہ چاہتا ہے بلکہ ہم اسے اس میں سے کچھ حصہ ہی دیں گے، دوسرا یہ کہ وہ حصہ بھی ہم دنیا ہی میں دے دیں گے، آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہیں، کیونکہ آخرت کی نیت سے اس نے کچھ کیا ہی نہیں۔ یہی بات ایک اور آیت میں یوں بیان فرمائی: «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا» [بني إسرائیل: ۱۸ ] ”جو شخص اس جلدی والی (دنیا) کا ارادہ رکھتا ہو ہم اس کو اس میں جلدی دے دیں گے جو چاہیں گے، جس کے لیے چاہیں گے، پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بنا رکھی ہے، اس میں داخل ہوگا، مذمت کیا ہوا، دھتکارا ہوا۔ “ اور فرمایا: «فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا وَ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ» [ البقرۃ: ۲۰۰ ] ”پھر لوگوں میں سے کوئی تو وہ ہے جو کہتا ہے اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دے دے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ “
کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریک خدا رکھتے ہیں جنہوں نے اِن کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات پہلے طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا یقیناً اِن ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں۔ اگر فیصلے کے دن کا وعده نہ ہوتا تو (ابھی ہی) ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ یقیناً (ان) ﻇالموں کے لیے ہی دردناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
یا ان کے لیے کچھ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے وہ دین نکال دیا ہے کہ اللہ نے اس کی اجازت نہ دی اور اگر ایک فیصلہ کا وعدہ نہ ہوتا تو یہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ان کے کچھ ایسے شریک (خدا) ہیں جنہوں نے ان کیلئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی اور اگر فیصلہ کے متعلق طےشدہ بات نہ ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیا گیا ہوتا اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یا ان کے لیے کچھ ایسے شریک ہیں جنھوں نے ان کے لیے دین کا وہ طریقہ مقرر کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی اور اگر فیصلہ شدہ بات نہ ہوتی تو ضرور ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا اور بے شک جو ظالم ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا ہے کہ یہ مشرکین دین اللہ کی تو پیروی کرتے نہیں بلکہ جن شیاطین اور انسانوں کو انہوں نے اپنا بڑا سمجھ رکھا ہے یہ جو احکام انہیں بتاتے ہیں انہی احکام کے مجموعے کو دین سمجھتے ہیں۔ حلال و حرام کا تعین اپنے ان بڑوں کے کہنے پر کرتے ہیں انہی کے ایجاد کردہ عبادات کے طریقے استعمال کر رہے ہیں اسی طرح مال کے احکام بھی ازخود تراشیدہ ہیں جنہیں شرعی سمجھ بیٹھے ہیں چنانچہ جاہلیت میں بعض جانوروں کو انہوں نے از خود حرام کر لیا تھا مثلا وہ جانور جس کا کان چیر کر اپنے معبودان باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور داغ دے کر سانڈ چھوڑ دیتے تھے اور مادہ بچے کو حمل کی صورت میں ہی ان کے نام کر دیتے تھے جس اونٹ سے دس بچے حاصل کر لیں اسے ان کے نام چھوڑ دیتے تھے پھر انہیں ان کی تعظیم کے خیال سے اپنے اوپر حرام سمجھتے تھے۔ اور بعض چیزوں کو حلال کر لیا تھا جیسے مردار، خون اور جوا۔ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے عمرو بن لحی بن قمعہ کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے غیر اللہ کے نام پر جانوروں کا چھوڑنا بتایا۔ [صحیح بخاری:3521] یہ شخص خزاعہ کے بادشاہوں میں سے ایک تھا اسی نے سب سے پہلے ان کاموں کی ایجاد کی تھی۔ جو جاہلیت کے کام عربوں میں مروج تھے۔ اسی نے قریشیوں کو بت پرستی میں ڈال دیا اللہ اس پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے۔ فرماتا ہے کہ اگر میری یہ بات پہلے سے میرے ہاں طے شدہ نہ ہوتی کہ میں گنہگاروں کو قیامت کے آنے تک ڈھیل دوں گا تو میں آج ہی ان کفار کو اپنے عذاب میں جکڑ لیتا۔
اب انہیں قیامت کے دن جہنم کے المناک اور بڑے سخت عذاب ہوں گے،میدان قیامت میں تم دیکھو گے کہ یہ ظالم لوگ اپنے کرتوتوں سے لرزاں و ترساں ہوں گے۔ مارے خوف کے تھرا رہے ہوں گے۔لیکن آج کوئی چیز نہ ہو گی جو انہیں بچا سکے۔ آج تو یہ اعمال کا مزہ چکھ کر ہی رہیں گے ان کے بالکل برعکس ایماندار نیکوکار لوگوں کا حال ہو گا کہ وہ امن چین سے جنتوں کے باغات میں مزے کر رہے ہوں گے ان [ظالموں ] کی ذلت و رسوائی ڈر،خوف کو دیکھو اور ان [ایمانداروں] کی عزت بڑائی امن چین کا خیال کر لو، وہ [ظالم] طرح طرح کی مصیبتوں تکلیفوں میں ہوں گے یہ [ایماندار] طرح طرح کی راحتوں اور لذتوں میں ہوں گے۔ عمدہ بہترین غذائیں، بہترین لباس، مکانات، بہترین بیویاں اور بہترین سازو سامان انہیں ملے ہوئے ہوں گے جن کا دیکھنا سننا تو کہاں؟ کسی انسان کے ذہن اور تصور میں بھی یہ چیزیں نہیں آسکتیں۔ حضرت ابوطیبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتیوں کے سروں پر ابر آئے گا اور انہیں ندا ہو گی کہ بتاؤ کس چیز کی بارش چاہتے ہو؟ پس جو لوگ جس چیز کی بارش چاہیں گے وہی چیز ان پر اس بادل سے برسے گی یہاں تک کہ کہیں گے ہم پر ابھرے ہوئے سینے والی ہم عمر عورتیں برسائی جائیں چنانچہ وہی برسیں گی۔ اسی لیے فرمایا کہ فضل کبیر یعنی زبردست کامیابی کامل نعمت یہی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 21) ➊ { اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ …:} ظاہر ہے اس آیت میں {” شُرَكٰٓؤُا “} سے مراد وہ شریک نہیں ہیں جن سے لوگ دعائیں مانگتے یا جن کی نذر و نیاز چڑھاتے اور پوجا پاٹ کرتے ہیں، کیونکہ وہ دین کا کوئی طریقہ مقرر کر سکتے ہیں نہ حلال و حرام قرار دینے میں ان کا کوئی دخل ہے اور نہ وہ کوئی قانون یا ضابطہ مقرر کر سکتے ہیں۔ لا محالہ اس سے مراد کوئی انسان یاانسانوں کی کوئی جماعت ہی ہے جنھوں نے اللہ کی شریعت کے مقابلے میں اپنی شریعت چلا رکھی ہو، حرام و حلال قرار دینے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہوں اور لوگوں کے لیے ایسے نظام اور قانون مقرر کرتے ہوں جو اللہ تعالیٰ کی شریعت کے خلاف ہوں، پھر انھیں لوگوں میں رائج اور نافذ بھی کرتے ہوں۔ ایسے لوگ پارلیمنٹ یا ایوانوں کے ممبر بھی ہو سکتے ہیں، خود سر حکمران بھی، آستانوں اور مزاروں کے مجاور اور متولی بھی اور گمراہ قسم کے فلسفی اور مصنف بھی۔ علاوہ ازیں یہ شرکاء ایسے صالح اور متقی ائمہ بھی ہو سکتے ہیں جو اللہ کے مقابلے میں قانون سازی کا سوچ بھی نہ سکتے ہوں مگر لوگوں نے ان کے نام پر قرآن و سنت کے بالمقابل شریعت سازی کر کے انھیں اللہ کا شریک بنا رکھا ہو۔ شرک کسی بھی طرح کا ہو ظلم عظیم ہے، خواہ شرک فی العبادۃ ہو یا شرک فی الحکم۔ جس طرح وہ شخص مشرک ہے جو اللہ کے سوا کسی کی پوجا کرتا ہے، اس کی نذر و نیاز دیتا ہے، مصیبت کے وقت اسے پکارتا ہے، اسے حاجت روا یا مشکل کشا سمجھتا ہے، خواہ کسی زندہ کی پوجا کرے یا مردہ کی، جن کی کرے یا انسان یا فرشتے کی، قبر کی پوجا کرے یا بت کی، اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی آدمی کو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں زندگی کا نظام بنانے کا یا قانون بنانے کا یا حلال و حرام قرار دینے کا اختیار دیتا ہے وہ بھی مشرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کسی قسم کا بھی شریک بنانے کی اجازت نہیں دی۔ ➋ {وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ:} یعنی یہ شرک اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی ایسی جسارت ہے کہ اگر لوگوں کو مہلت دینے کا فیصلہ نہ ہوتا اور یہ طے نہ کر دیا گیا ہوتا کہ فیصلے قیامت کے دن ہوں گے تو دنیا ہی میں ان لوگوں پر عذاب آ جاتا جو اللہ کے دین کے مقابلے میں اپنی شریعت اور قانون بناتے ہیں، یا ایسی شریعت کو قبول کرکے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ➌ { وَ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ” الظّٰلِمِيْنَ “} میں الف لام عہد کا ہے، یعنی ان ظالموں کے لیے عذاب الیم ہے جو شرک کے ظلمِ عظیم کا ارتکاب کرتے ہیں اور وہ عذابِ الیم جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے اور جنت ان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ» [ المائدۃ: ۷۲ ] ”بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقینا اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔ “
تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اُس وقت اپنے کیے کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ اِن پر آ کر رہے گا بخلاف اِس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے، جو کچھ بھی وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے، یہی بڑا فضل ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ دیکھیں گے کہ یہ ﻇالم اپنے اعمال سے ڈر رہے ہوں گے جن کے وبال ان پر واقع ہونے والے ہیں، اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک اعمال کیے وه بہشتوں کے باغات میں ہوں گے وه جو خواہش کریں اپنے رب کے پاس موجود پائیں گے یہی ہے بڑا فضل
احمد رضا خان بریلوی
تم ظالموں کو دیکھو گے کہ اپنی کمائیوں سے سہمے ہوئے ہوں گے اور وہ ان پر پڑ کر رہیں گی اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ جنت کی پھلواریوں میں ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے جو چاہیں، یہی بڑا فضل ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم ظالموں کو دیکھو گے کہ وہ اپنے کئے ہوئے کاموں (کے انجام) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ (وبال) ان پر پڑ کر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے وہ بہشتوں کے باغوں میں ہوں گے وہ جو کچھ چاہیں گے اپنے پروردگار کے ہاں سے پائیں گے یہی بڑا فضل ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ظالموں کو دیکھے گا کہ اس سے ڈرنے والے ہوں گے جو انھوں نے کمایا، حالانکہ وہ ان پر آکر رہنے والاہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وہ جنتوں کے باغوں میں ہوں گے۔ ان کے لیے جو وہ چاہیں گے ان کے رب کے پاس ہوگا، یہی بہت بڑا فضل ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا ہے کہ یہ مشرکین دین اللہ کی تو پیروی کرتے نہیں بلکہ جن شیاطین اور انسانوں کو انہوں نے اپنا بڑا سمجھ رکھا ہے یہ جو احکام انہیں بتاتے ہیں انہی احکام کے مجموعے کو دین سمجھتے ہیں۔ حلال و حرام کا تعین اپنے ان بڑوں کے کہنے پر کرتے ہیں انہی کے ایجاد کردہ عبادات کے طریقے استعمال کر رہے ہیں اسی طرح مال کے احکام بھی ازخود تراشیدہ ہیں جنہیں شرعی سمجھ بیٹھے ہیں چنانچہ جاہلیت میں بعض جانوروں کو انہوں نے از خود حرام کر لیا تھا مثلا وہ جانور جس کا کان چیر کر اپنے معبودان باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور داغ دے کر سانڈ چھوڑ دیتے تھے اور مادہ بچے کو حمل کی صورت میں ہی ان کے نام کر دیتے تھے جس اونٹ سے دس بچے حاصل کر لیں اسے ان کے نام چھوڑ دیتے تھے پھر انہیں ان کی تعظیم کے خیال سے اپنے اوپر حرام سمجھتے تھے۔ اور بعض چیزوں کو حلال کر لیا تھا جیسے مردار، خون اور جوا۔ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے عمرو بن لحی بن قمعہ کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے غیر اللہ کے نام پر جانوروں کا چھوڑنا بتایا۔ [صحیح بخاری:3521] یہ شخص خزاعہ کے بادشاہوں میں سے ایک تھا اسی نے سب سے پہلے ان کاموں کی ایجاد کی تھی۔ جو جاہلیت کے کام عربوں میں مروج تھے۔ اسی نے قریشیوں کو بت پرستی میں ڈال دیا اللہ اس پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے۔ فرماتا ہے کہ اگر میری یہ بات پہلے سے میرے ہاں طے شدہ نہ ہوتی کہ میں گنہگاروں کو قیامت کے آنے تک ڈھیل دوں گا تو میں آج ہی ان کفار کو اپنے عذاب میں جکڑ لیتا۔
اب انہیں قیامت کے دن جہنم کے المناک اور بڑے سخت عذاب ہوں گے،میدان قیامت میں تم دیکھو گے کہ یہ ظالم لوگ اپنے کرتوتوں سے لرزاں و ترساں ہوں گے۔ مارے خوف کے تھرا رہے ہوں گے۔لیکن آج کوئی چیز نہ ہو گی جو انہیں بچا سکے۔ آج تو یہ اعمال کا مزہ چکھ کر ہی رہیں گے ان کے بالکل برعکس ایماندار نیکوکار لوگوں کا حال ہو گا کہ وہ امن چین سے جنتوں کے باغات میں مزے کر رہے ہوں گے ان [ظالموں ] کی ذلت و رسوائی ڈر،خوف کو دیکھو اور ان [ایمانداروں] کی عزت بڑائی امن چین کا خیال کر لو، وہ [ظالم] طرح طرح کی مصیبتوں تکلیفوں میں ہوں گے یہ [ایماندار] طرح طرح کی راحتوں اور لذتوں میں ہوں گے۔ عمدہ بہترین غذائیں، بہترین لباس، مکانات، بہترین بیویاں اور بہترین سازو سامان انہیں ملے ہوئے ہوں گے جن کا دیکھنا سننا تو کہاں؟ کسی انسان کے ذہن اور تصور میں بھی یہ چیزیں نہیں آسکتیں۔ حضرت ابوطیبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتیوں کے سروں پر ابر آئے گا اور انہیں ندا ہو گی کہ بتاؤ کس چیز کی بارش چاہتے ہو؟ پس جو لوگ جس چیز کی بارش چاہیں گے وہی چیز ان پر اس بادل سے برسے گی یہاں تک کہ کہیں گے ہم پر ابھرے ہوئے سینے والی ہم عمر عورتیں برسائی جائیں چنانچہ وہی برسیں گی۔ اسی لیے فرمایا کہ فضل کبیر یعنی زبردست کامیابی کامل نعمت یہی ہے۔
22۔ 1 یعنی قیامت والے دن۔ 22۔ 2 حالانکہ ڈرنا بےفائدہ ہوگا کیونکہ اپنے کئے کی سزا تو انہیں بہرحال بھگتنی ہوگی۔
(آیت 22) ➊ {تَرَى الظّٰلِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا كَسَبُوْا …: ” الظّٰلِمِيْنَ “} سے یہاں بھی وہی ظالم یعنی کافر و مشرک مراد ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے، کیونکہ کوئی اسم معرف باللّام ہو کر دوبارہ آئے تو اس سے پہلا ہی مراد ہوتا ہے اور اس لیے کہ ان کے مقابلے میں ایمان اور عمل صالح والے لوگوں کا ذکر آ رہا ہے، یعنی {” وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …۔“} اس آیت میں قیامت کے دن ان مشرکین کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے۔ عذاب سے پہلے اس کا شدید خوف بجائے خود ایک بڑا عذاب ہے، پھر ہر حال میں ان کے کفر و شرک کا وبال ان پر آ کر رہنے والا ہے، خواہ ڈریں یا نہ ڈریں۔ دنیا میں کفار قیامت سے بے خوف تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے، جیسا کہ پیچھے گزرا ہے: «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا» [الشورٰی: ۱۸ ] ”اسے وہ لوگ جلدی مانگتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے۔“ قیامت کے دن وہی کافر سخت خوف زدہ ہوں گے۔ ان کے برعکس ایمان والے دنیا میں قیامت سے سخت خوف زدہ رہتے تھے، جیسا کہ پہلے گزرا ہے: «وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا» [ الشورٰی: ۱۷ ] ”اور وہ لوگ جو ایمان لائے، وہ اس (قیامت) سے ڈرنے والے ہیں۔“ سو اب وہ جنتوں کے باغوں میں بے خوف ہوں گے۔ ➋ {وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِيْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ …:”رَوْضَةٌ“} کا معنی ہے {”الْمَوْضِعُ النَّزِهُ الْكَثِيْرُ الْخُضْرَةِ“} کہ نہایت صاف ستھری اور بہت سرسبز جگہ۔ {” رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ “} سے ظاہر ہے کہ جنتیں بھی بہت سی ہیں اور روضات بھی بہت سے ہیں، یعنی (مومن کسی درجے کے بھی ہوں جنت میں ہوں گے، مگر) ایمان اور عمل صالح والے جنت کے بھی پاکیزہ ترین اور سب سے سرسبز مقامات میں ہوں گے۔ جن میں سب سے عالی مقام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گا، جیسا کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طویل خواب روایت کیا ہے، جس میں ہے کہ دو فرشتوں نے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف گناہوں کے عذاب کا منظر دکھایا، اس کے بعد ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے چلنے کے لیے کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی انْتَهَيْنَا إِلٰی رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ، فِيْهَا شَجَرَةٌ عَظِيْمَةٌ، وَ فِيْ أَصْلِهَا شَيْخٌ وَصِبْيَانٌ، وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيْبٌ مِنَ الشَّجَرَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ يُوْقِدُهَا، فَصَعِدَا بِيْ فِي الشَّجَرَةِ، وَ أَدْخَلاَنِيْ دَارًا لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا، فِيْهَا رِجَالٌ شُيُوْخٌ وَشَبَابٌ، وَ نِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ، ثُمَّ أَخْرَجَانِيْ مِنْهَا فَصَعِدَا بِي الشَّجَرَةَ فَأَدْخَلاَنِيْ دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَ أَفْضَلُ، فِيْهَا شُيُوْخٌ وَ شَبَابٌ، فَقُلْتُ طَوَّفْتُمَانِي اللَّيْلَةَ، فَأَخْبِرَانِيْ عَمَّا رَأَيْتُ؟ قَالاَ نَعَمْ، فَذَكَرَ الْحَدِيْثَ حَتّٰی قَالَ وَالشَّيْخُ فِيْ أَصْلِ الشَّجَرَةِ إِبْرَاهِيْمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهُ فَأَوْلاَدُ النَّاسِ، وَالَّذِيْ يُوْقِدُ النَّارَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ، وَالدَّارُ الْأُوْلَی الَّتِيْ دَخَلْتَ، دَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِيْنَ، وَأَمَّا هٰذِهِ الدَّارُ، فَدَارُ الشُّهَدَاءِ، وَ أَنَا جِبْرِيْلُ، وَ هٰذَا مِيْكَاءِيْلُ، فَارْفَعْ رَأْسَكَ، فَرَفَعْتُ رَأْسِيْ، فَإِذَا فَوْقِيْ مِثْلُ السَّحَابِ، قَالاَ ذَاكَ مَنْزِلُكَ، قُلْتُ دَعَانِيْ أَدْخُلْ مَنْزِلِيْ، قَالاَ إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ، فَلَوِ اسْتَكْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَكَ ] [بخاري، الجنائز، باب ما قیل في أولاد المشرکین: ۱۳۸۶ ] ”پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم ایک سر سبز روضہ (باغ) میں پہنچے جس میں ایک بہت بڑا درخت تھا، اس کی جڑ (تنے) کے پاس ایک بزرگ اور کچھ بچے تھے اور اس درخت کے قریب ایک آدمی تھا جس کے سامنے آگ تھی، جسے وہ بھڑکا رہا تھا، پھر وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر چڑھ گئے اور مجھے ایک ایسے گھر کے اندر لے گئے جس سے خوبصورت گھر میں نے نہیں دیکھا، اس میں کچھ بزرگ اور جوان آدمی اور عورتیں اور بچے تھے، پھر انھوں نے مجھے اس گھر سے نکالا اور مجھے لے کر اس درخت کے اور اوپر چڑھے اور ایک گھر کے اندر لے گئے جو پہلے سے زیادہ خوبصورت اور برتر تھا، اس میں کچھ بزرگ تھے اور کچھ جوان۔ میں نے کہا: ”تم دونوں نے آج رات مجھے خوب گھمایا ہے، اب جو کچھ میں نے دیکھا ہے مجھے اس کی حقیقت بتاؤ؟“ تو انھوں نے کہا: ”ہاں، ٹھیک ہے (پھر انھوں نے عذاب والے مناظر کی حقیقت بتانے کے بعد کہا) اور درخت کی جڑ کے پاس جو بزرگ تھے وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے اردگرد بچے لوگوں کی اولاد تھے اور جو آگ بھڑکا رہا تھا وہ آگ کا خازن مالک تھا اور پہلا گھر جس میں آپ داخل ہوئے عام ایمان والوں کا گھر تھا۔ رہا یہ گھر تو یہ شہداء کا گھر ہے اور میں جبریل ہوں اور یہ میکائیل ہے، اب سر اٹھاؤ!“ میں نے سر اٹھایا تو اچانک میرے اوپر بادل کی طرح کی چیز تھی۔ دونوں نے کہا: ”وہ تمھارا گھر ہے۔“ میں نے کہا: ”مجھے چھوڑو میں اپنے گھر جاؤں۔“ انھوں نے کہا: ”آپ کی کچھ عمر باقی ہے جو آپ نے پوری نہیں کی، اگر پوری کر لو گے تو اپنے گھر میں آ جاؤ گے۔“ اس حدیث سے {” رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ “} کا مفہوم بھی اچھی طرح سمجھ میں آ جاتا ہے اور یہ بھی کہ {” رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ “} میں سب سے اعلیٰ {”رَوْضَةُ الْجَنَّةِ“} ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے۔ ➌ ان آیات میں متعدد وجہوں سے مومنوں کو ملنے والے ثواب کی عظمت بیان کی گئی ہے، ایک یہ کہ وہ {” رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ “} میں ہوں گے، دوسری یہ کہ {” لَهُمْ مَّا يَشَآءُوْنَ “} یعنی انھیں وہاں جو چاہیں گے ملے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انھیں حاصل ہونے والی نعمتوں کی انتہا نہیں ہو گی، کیونکہ آدمی ہر نعمت کے بعد اس سے اعلیٰ نعمت کا خواہش مند ہوتا ہے۔ تیسری {” عِنْدَ رَبِّهِمْ “} کہ ان کی رہائش گاہیں ان کے رب کے پڑوس میں ہوں گی۔ یہ وہ چیز ہے جس کی دعا فرعون کی بیوی نے کی تھی: «رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» [ التحریم: ۱۱ ] ”اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا۔“ چوتھی یہ کہ انھیں عطا ہونے والی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ نے فضل کبیر قرار دیا ہے، فرمایا: «ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ» پھر جسے اللہ تعالیٰ اکبر اور کبیر قرار دے اس کی عظمت کا کیا ٹھکانا ہو گا۔ پانچویں وجہ سے انھیں ملنے والے ثواب کی عظمت کا بیان اگلی آیت میں ہے۔ ➍ { ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ:} اس سے معلوم ہوا کہ جنت محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، اس پر کسی کا حق واجب نہیں۔
یہ ہے وہ چیز جس کی خوش خبری اللہ اپنے اُن بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے مان لیا اور نیک عمل کیے اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ میں اِس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، البتہ قرابت کی محبت ضرور چاہتا ہوں جو کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لیے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کر دیں گے بے شک اللہ بڑا در گزر کرنے والا اور قدر دان ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی وه ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان ﻻئے اور (سنت کے مطابق) نیک عمل کیے تو کہہ دیجئے! کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی، جو شخص کوئی نیکی کرے ہم اس کے لیے اس کی نیکی میں اور نیکی بڑھا دیں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ (اور) بہت قدر دان ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہے وہ جس کی خوشخبری دیتا ہے اللہ اپنے بندوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے، تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھائیں، بیشک اللہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ بات ہے جس کی خوشخبری خدا اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال بھی کئے آپ(ص) کہیے کہ میں تم سے اس(تبلیغ و رسالت) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا سوائے اپنے قرابتداروں کی محبت کے اورجو کوئی نیک کام کرے گا ہم اسکی نیکی میں اضافہ کردیں گے یقیناً اللہ بڑا بخشنے والا(اور) بڑا قدردان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ہے وہ چیز جس کی خوش خبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اورانھوں نے نیک اعمال کیے۔ کہہ دے میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیںمانگتا مگر رشتہ داری کی وجہ سے دوستی۔ اور جو کوئی نیکی کمائے گا ہم اس کے لیے اس میں خوبی کا اضافہ کریں گے۔ یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت قدردان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ سے قرابت داری کی فضیلت ٭٭
اوپر کی آیتوں میں جنت کی نعمتوں کا ذکر کر کے بیان فرما رہا ہے کہ ایماندار , نیک کار بندوں کو اس کی بشارت ہو پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ قریش کے مشرکین سے کہہ دو کہ اس تبلیغ پر اور اس تمہاری خیر خواہی پر میں تم سے کچھ طلب تو نہیں کر رہا۔ تمہاری بھلائی تو ایک طرف رہی تم اگر اپنی برائی سے ہی ٹل جاؤ اور مجھے رب کی رسالت پہنچانے دو اور قرابت داری کے رشتے کو سامنے رکھ کر میری ایذاء رسانی سے ہی رک جاؤ تو یہی بہت ہے صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا اس سے مراد قرابت آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے عجلت سے کام لیا سنو قریش کے جس قدر قبیلے تھے سب کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری تھی تو مطلب یہی کہ تم اس رشتے داری کا لحاظ رکھو جو مجھ میں اور تم میں ہے۔ [صحیح بخاری:4818]
حضرت مجاہدرحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ، سدی رحمہ اللہ، ابو مالک رحمہ اللہ، عبد الرحمن رحمہ اللہ وغیرہ بھی اس آیت کی یہی تفسیر کرتے ہیں۔طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش سے کہا میں تم سے اس کی کوئی اجرت طلب نہیں کرتا مگر یہ کہ تم اس قرابت داری کا خیال رکھو جو مجھ اور تم میں ہے۔ اس میری قرابت کا حق جو تم پر ہے وہ ادا کرو۔ [طبرانی اوسط:3347:ضعیف] مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں جو دلیلیں دی ہیں جس ہدایت کا راستہ بتایا ہے اس پر کوئی اجر تم سے نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ تم اللہ کو چاہنے لگو اور اس کی اطاعت کی وجہ سے اس سے قرب اور نزدیکی حاصل کر لو۔ [مسند احمد:268/1:ضعیف] حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی یہی تفسیر منقول ہے تو یہ دوسرا قول ہوا پہلا قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی رشتے داری کو یاد دلانا۔
دوسرا قول آپ کی یہ طلب کہ لوگ اللہ کی نزدیکی حاصل کر لیں۔ تیسرا قول جو حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی روایت سے گزرا کہ تم میری قرابت کے ساتھ احسان اور نیکی کرو۔ ابو الدیلم کا بیان ہے کہ جب حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ کو قید کر کے لایا گیا اور دمشق کے بالاخانے میں رکھا گیا تو ایک شامی نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہیں قتل کرایا اور تمہارا ناس کرا دیا اور فتنہ کی ترقی کو روک دیا یہ سن کر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کیا تو نے قرآن بھی پڑھا ہے اس نے کہا کیوں نہیں؟ فرمایا اس میں «حٰم» والی سورتیں بھی پڑھی ہیں؟ اس نے کہا واہ سارا قرآن پڑھ لیا اور «حٰم» والی سورتیں نہیں پڑھیں؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا پھر کیا ان میں اس آیت کی تلاوت تو نے نہیں کی؟ آیت «قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ» [ 42- الشورى: 23 ] یعنی میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا مگر محبت قرابت کی۔ اس نے کہا پھر کیا تم وہ ہو؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ہاں! حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا مراد قرابت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
ابن جریر میں ہے کہ انصار رضی اللہ عنہم نے اپنی خدمات اسلام گنوائیں گویا فخر کے طور پر۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم تم سے افضل ہیں جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مجلس میں آئے اور فرمایا انصاریو کیا تم ذلت کی حالت میں نہ تھے؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے عزت بخشی! انہوں نے کہا بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں۔ فرمایا: کیا تم گمراہ نہ تھے؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے ہدایت کی؟ انہوں نے کہا ہاں بیشک آپ نے سچ فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم مجھے کیوں نہیں کہتے؟ انہوں نے کہا کیا کہیں؟ فرمایا: کیوں نہیں کہتے؟ کہ کیا تیری قوم نے تجھے نکال نہیں دیا تھا؟ اس وقت ہم نے تجھے پناہ دی کیا انہوں نے تجھے جھٹلایا نہ تھا؟ اس وقت ہم نے تیری تصدیق کی؟ کیا انہوں نے تجھے پست کرنا نہیں چاہا تھا اس وقت ہم نے تیری مدد کی؟ اس طرح کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور بھی بہت سی باتیں کیں یہاں تک کہ انصار اپنے گھٹنوں پر جھک پڑے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہماری اولاد اور جو کچھ ہمارے پاس ہے سب اللہ کا اور سب اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30678:ضعیف]
پھر یہ آیت «قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ» [ 42- الشورى: 23 ] نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں بھی اسی کے قریب ضعیف سند سے مروی ہے بخاری و مسلم میں یہ حدیث ہے . [صحیح بخاری:4330] اس میں ہے کہ یہ واقعہ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت پیش آیا تھا اور اس میں آیت کے اترنے کا ذکر بھی نہیں اور اس آیت کو مدینے میں نازل شدہ ماننے میں بھی قدرے تامل ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے پھر جو واقعہ حدیث میں مذکور ہے اس واقعہ میں اور اس آیت میں کچھ ایسی زیادہ ظاہر مناسبت بھی نہیں ایک روایت میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں جن کی محبت رکھنے کا ہمیں حکم باری ہوا ہے آپ نے فرمایا فاطمہ اور ان کی اولاد رضی اللہ عنہم۔ [طبرانی کبیر:12384:ضعیف] لیکن اس کی سند ضعیف ہے اور اس کا راوی مبہم ہے جو معروف نہیں پھر اس کا استاد ایک شیعہ ہے جو بالکل ثقاہت سے گرا ہوا ہے اس کا نام حسین اشغر ہے اس جیسی حدیث بھلا اس کی روایت سے کیسے مان لی جائے گی؟ پھر مدینے میں آیت نازل ہونا ہی مستعد ہے حق یہ ہے کہ آیت مکی ہے اور مکہ شریف میں فاطمہ کا عقد ہی نہ ہوا تھا اولاد کیسی؟ آپ رضی اللہ عنہا کا عقد تو صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ بدر کے بعد سنہ 2 ھ میں ہوا۔
پس صحیح تفسیر اس کی وہی ہے جو حبرالامة ترجمان القرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کی ہے جو بحوالہ بخاری پہلے گذر چکی ہم اہل بیت کے ساتھ خیر خواہی کرنے کے منکر نہیں ہے ہم مانتے ہیں کہ ان کے ساتھ احسان و سلوک اور ان کا اکرام و احترام ضروری چیز ہے روئے زمین پر ان سے زیادہ پاک اور صاف ستھرا گھرانا اور نہیں حسب و نسب میں اور فخر و مباہات میں بلا شک یہ سب سے اعلیٰ ہیں۔ بالخصوص ان میں سے وہ جو متبع سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں جیسے کہ اسلاف کی روش تھی یعنی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور آل عباس رضی اللہ عنہ کی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور آل علی رضی اللہ عنہ کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا ہے میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب اللہ اور میری عترت اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گے جب تک کہ حوض پر میرے پاس نہ آئیں۔ [صحیح مسلم:2408]
مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ قریشی جب آپس میں ملتے ہیں تو بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں۔ لیکن ہم سے اس ہنسی خوشی کے ساتھ نہیں ملتے۔ یہ سن کر آپ بہت رنجیدہ ہوئے اور فرمانے لگے اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کسی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ کے لیے اور اس کے رسول کی وجہ سے تم سے محبت نہ رکھے۔ [سنن ترمذي:3758،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا قریشی باتیں کرتے ہوتے ہیں ہمیں دیکھ کر چپ ہو جاتے ہیں اسے سن کر مارے غصے کے آپ کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور فرمایا واللہ! کسی مسلمان کے دل میں ایمان جاگزیں نہیں ہو گا جب تک کہ وہ تم سے اللہ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ رکھے۔ [مسند احمد:207/1:ضعیف] صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لحاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں رکھو۔ [صحیح بخاری:3713] ایک اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں کے سلوک سے بھی پیارا ہے۔ [صحیح بخاری:3712] سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا واللہ تمہارا اسلام لانا مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام لانے سے بھی زیادہ اچھا لگا اس لیے کہ تمہارا اسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا۔ پس اسلام کے ان دو چمکتے ستاروں کا مسلمانوں کے ان دونوں سیدوں کا جو معاملہ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اقربا پیغمبر کے ساتھ تھا وہی عزت و محبت کا معاملہ مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور قرابت داروں سے رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ نبیوں اور رسولوں کے بعد تمام دنیا سے افضل یہی دونوں بزرگ خلیفہ رسول تھے رضی اللہ عنہما۔ پس مسلمانوں کو ان کی پیروی کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور کنبے قبیلے کے ساتھ جس عقیدت سے پیش آنا چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں خلیفہ سے اہل بیت سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کل صحابہ رضی اللہ عنہم سے خوش ہو جائے اور سب کو اپنی رضا مندی میں لے لے۔ آمین۔
صحیح مسلم وغیرہ میں حدیث ہے کہ یزید بن حیان اور حصین بن میسرہ اور عمر بن مسلم رحمہ اللہ علیہم سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے حصین نے کہا: اے حضرت! آپ کو تو بڑی بڑی خیر و برکت مل گئی، آپ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا آپ نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اپنے کانوں سے سنیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھیں، حق تو یہ ہے کہ بڑی بڑی فضیلتیں آپ نے سمیٹ لیں، اچھا اب کوئی حدیث ہمیں بھی بتائیے۔ اس پر سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے بھتیجے سنو، میری عمر اب بڑی ہو گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کو عرصہ گزر چکا بعض چیزیں ذہن میں محفوظ نہیں رہیں اب تو یہی رکھو کہ جو از خود سنا دوں اسے مان لیا کرو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو کہ تکلف سے بیان کرنا پڑے، پھر آپ نے فرمایا کہ مکے اور مدینے کے درمیان پانی کی جگہ کے پاس جسے خم کہا جاتا تھا کھڑے ہو کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ سنایا اللہ کی حمد و ثنا کی وعظ و پند کیا پھر فرمایا: لوگو! میں ایک انسان ہوں کیا عجب کہ ابھی ابھی میرے پاس اللہ کا قاصد پہنچ جائے اور میں اس کی مان لوں سنو میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک تو کتاب اللہ جس میں نور و ہدایت ہے تم اللہ کی کتاب کو مضبوط تھام لو اور اس کو مضبوطی سے تھامے رہو پس اس کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تاکید کی پھر فرمایا اے میرے اہل بیت میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں یہ سن کر حصین رحمہ اللہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے زید! آپ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ کی بیویاں اہل بیت میں داخل نہیں؟ فرمایا بیشک آپ کی بیویاں وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس رضی اللہ عنہم پوچھا کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ فرمایا ہاں! [صحیح مسلم:4208]
ترمذی شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط تھامے رہے تو بہکو گے نہیں ایک دوسرے سے زیادہ عظمت والی ہے کتاب اللہ جو اللہ کی طرف سے ایک لٹکائی ہوئی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک آئی ہے اور دوسری چیز میری عترت میرے اہل بیت ہے اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر آئیں۔ پس دیکھ لو کہ میرے بعد کس طرح ان میں میری جانشینی کرتے ہو؟ [سنن ترمذي:3788، قال الشيخ الألباني:صحیح ] امام صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے اور صرف ترمذی میں ہے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ترمذی میں ہے کہ عرفے والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جسے قصواء کہا جاتا تھا خطبہ دیا جس میں فرمایا لوگو میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے تھامے رہے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے کتاب اللہ اور میری عترت اہل بیت۔ [سنن ترمذي:3786، قال الشيخ الألباني:صحیح] ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو مدنظر رکھ کر تم لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت رکھو اور میری محبت کی وجہ سے میری اہل بیت سے محبت رکھو۔ [سنن ترمذي:3789، قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث اور اوپر کی حدیث حسن غریب ہے اس مضمون کی اور احادیث ہم نے آیت: «اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا» [ 33- الأحزاب: 33 ] کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں یہاں ان کے دہرانے کی ضرورت نہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
ایک ضعیف حدیث مسند ابو یعلیٰ میں ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا تھامے ہوئے فرمایا لوگو جو مجھے جانتے ہیں وہ تو جانتے ہی ہیں جو نہیں پہچانتے وہ اب پہچان کر لیں کہ میرا نام ابوذر ہے سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال مثل نوح علیہ السلام کی کشتی کے ہے اس میں جو چلا گیا اس نے نجات پالی اور جو اس میں داخل نہ ہوا ہلاک ہوا۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف] پھر فرماتا ہے جو نیک عمل کرے ہم اس کا ثواب اور بڑھا دیتے ہیں جیسے ایک اور آیت میں فرمایا اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اگر نیکی ہو تو اور بڑھا دیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے بعض سلف کا قول ہے کہ نیکی کا ثواب اس کے بعد نیکی ہے اور برائی کا بدلہ اس کے بعد برائی ہے پھر فرمان ہوا کہ اللہ گناہوں کو بخشنے والا ہے اور نیکیوں کی قدر دانی کرنے والا ہے انہیں بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔
23۔ 1 یعنی اجر وثواب میں اضافہ کریں گے یا نیکی کے بعد اس کا بدلہ مزید نیکی کی توفیق کی صورت میں دیں گے جس طرح بدی کا بدلہ مذید بدیوں کا ارتکاب ہے۔ 23۔ 2 اس لئے وہ پردہ پوشی فرماتا اور معاف کردیتا ہے اور زیادہ سے زیادہ اجر دیتا ہے۔
(آیت 23) ➊ { ذٰلِكَ الَّذِيْ يُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ …:} یہ پانچویں وجہ ہے۔ {” ذٰلِكَ “} اسم اشارہ بعید اس ثواب کی عظمت کے بیان کے لیے ہے۔ جنتوں کے باغوں اور ان کی نعمتوں کی طرف اشارہ کرکے ان کی طرف دوبارہ توجہ دلانے سے مقصود ان کی عظمت کا اظہار ہے اور ساتھ ہی ایمان اور عملِ صالح کا ذکر اس لیے ہے کہ اتنی بڑی نعمتوں کے حصول کے لیے ایمان اور عمل صالح ضروری ہے۔ ➋ { قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى:” قَرِبَ يَقْرَبُ قُرْبًا وَ قُرْبَانًا وَ قِرْبَانًا“} (س، ک) قریب ہونا۔ {” قُرْبٰي“} اور {”قَرَابَةً “} بھی مصدر ہیں، جیسے {” بُشْرٰي“} اور {” رُجْعٰي“} ہیں۔ ان کا معنی رشتہ داری اور قرابت ہے۔ رشتہ دار اور قرابت دار کے لیے ”ذوالقربیٰ“ (قرابت والا) کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ» [ بنی إسرائیل: ۲۶ ] ”اور رشتہ دار کو اس کا حق دے۔“ {” فِي الْقُرْبٰى “} میں {” فِيْ“} تعلیل کے لیے ہے: {”أَيْ مِنْ أَجْلِ الْقُرْبٰي“} یعنی رشتہ داری کی وجہ سے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِيْ هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا، حَتّٰی مَاتَتْ جُوْعًا، فَدَخَلَتْ فِيْهَا النَّارَ ] [ بخاري، المساقاۃ، باب فضل سقي الماء: ۲۳۶۵ ] ”ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ اس نے اسے باندھ کر رکھا، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی، تو اس کی وجہ سے وہ آگ میں داخل ہو گئی۔“ یعنی آپ کہہ دیں کہ میں اس تبلیغِ دین پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، سوائے رشتہ داری کی وجہ سے دوستی کے کہ کچھ نہ سہی، کم از کم میرے اور تمھارے درمیان جو قرابت اور رشتہ داری ہے اس کی وجہ سے میرا حق ہے کہ مجھ سے دوستی رکھو، اس حق کا مطالبہ میں تم سے ضرور کرتا ہوں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ تم میری بات مان لیتے، اگر نہیں مانتے تو سارے عرب میں سب سے بڑھ کر دشمنی تو نہ کرو۔ کم از کم اس قرابت کا تو خیال رکھو جو میرے اور تمھارے درمیان ہے۔ جیسا کہ ابوطالب اگرچہ ایمان نہیں لایا مگر وہ قرابت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتا رہا۔ آیت کا یہی مطلب ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما نے بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ طاؤس فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے {” اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى “} کے متعلق سوال کیا گیا تو سعید بن جبیر کہنے لگے کہ اس سے مراد {” قُرْبٰي آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“} (آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت) ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ عَجِلْتَ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلاَّ كَانَ لَهُ فِيْهِمْ قَرَابَةٌ فَقَالَ إِلاَّ أَنْ تَصِلُوْا مَا بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «إلا المودۃ فی القربٰی» : ۴۸۱۸ ] ”تم نے جلدی کی، قریش کا کوئی خاندان ایسا نہ تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت اور رشتہ داری نہ ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا) مگر یہ کہ تم اس رشتہ داری کو ملاؤ جو میرے اور تمھارے درمیان ہے۔“ ➌ بعض لوگ خصوصاً شیعہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ آپ کہہ دیں کہ میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا مگر قرابت والوں سے دوستی کا، یعنی میں تم سے اس پر اس کے سوا کچھ نہیں مانگتا کہ تم میرے قرابت داروں سے دوستی رکھو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن قرابت داروں سے دوستی اپنی جگہ مسلمہ ہے، جو دوسرے دلائل سے ثابت ہے، مگر اس آیت کا وہ مطلب ہر گز نہیں جو ان لوگوں نے بیان کیا ہے، کیونکہ {” الْقُرْبٰى “} کا معنی رشتہ داری ہے، رشتہ دار نہیں۔ رشتہ داروں کے لیے {”ذَوِي الْقُرْبٰي“} کا لفظ آتا ہے۔ اگر {” الْقُرْبٰى “} کا معنی رشتہ دار ہو بھی تو آیت کے الفاظ یہ ہونے چاہییں: {” إِلاَّ مَوَدَّةَ الْقُرْبٰي“} ”مگر رشتہ داروں کی دوستی کا۔“ جب کہ الفاظ ہیں: «اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى» ان الفاظ کا وہ معنی ہو ہی نہیں سکتا جو یہ حضرات بیان کرتے ہیں۔ پھر دیکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سوال کن لوگوں سے کر رہے ہیں، ظاہر ہے کفار سے کر رہے ہیں جو آپ کے شدید مخالف تھے، جو آپ سے بھی دوستی کے روا دار نہیں تھے، آیا ممکن بھی ہے کہ آپ ان سے کہیں کہ میرے رشتہ داروں سے دوستی کرو۔ اگر مان بھی لیں کہ آپ ان سے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ دوستی کا سوال کر رہے ہیں تو وہ رشتے دار کون سے ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پورے قبیلۂ قریش کے ساتھ دوستی کا سوال کر رہے ہیں یا اپنے قریب ترین خاندان بنو عبد المطلب کے ساتھ؟ دونوں میں مخلص مسلمانوں کے علاوہ ابوجہل اور ابو لہب جیسے آپ کے بدترین دشمن بھی موجود تھے، جن کے ساتھ دوستی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور اگر اس سے مراد علی و فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنھم ہیں، جیسا کہ شیعہ حضرات کہتے ہیں تو یہ سورت مکی ہے اور مکہ میں فاطمہ اور علی رضی اللہ عنھما کا نکاح تک نہیں ہوا تھا اور نہ ہی حسن و حسین رضی اللہ عنھما پیدا ہوئے تھے، لہٰذا اس سے یہ لوگ مراد ہو ہی نہیں سکتے۔ ➍ بعض مفسرین نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا کہ میں تم سے صرف رشتہ داری کی وجہ سے دوستی کا سوال کرتا ہوں، یہ دین کی تبلیغ کی اجرت یا مزدوری نہیں جو آپ ان سے مانگ رہے ہیں، بلکہ آپ اپنے اس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں جو تمام دنیا کے ہاں مسلم ہے، خواہ آپ تبلیغ کریں یا نہ کریں۔ غرض اس آیت میں بھی وہی بات بیان ہوئی ہے جو تمام انبیاء نے اپنی اپنی قوم سے کہی کہ میں تم سے اس تبلیغ دین پر کسی قسم کی مزدوری کا سوال نہیں کرتا، کیونکہ میری مزدوری صرف اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے، جیسا کہ سورۂ شعراء میں ہے: «وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [ الشعراء: ۱۰۹ ] ”اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ “ قواعدِ نحو میں یہ بات ان الفاظ میں بیان کی جائے گی کہ یہاں استثنا متصل نہیں منقطع ہے، یعنی صلہ رحمی کے سوال کا تبلیغِ دین پر اجرت سے کوئی تعلق نہیں۔ ➎ { وَ مَنْ يَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا: ” حَسَنَةً “} میں تنوین تنکیر کے لیے ہے۔ جو شخص کوئی بھلائی کرے گا، خواہ کتنی معمولی ہو، ہم اس کے لیے اس کے حسن و خوبی میں اضافہ کر دیں گے۔ یہ اضافہ کئی طرح سے ہے، ایک تو وہ جتنی نیکی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس سے زیادہ نیکی کی توفیق دے گا۔ دوسرا جو لوگ اسے دیکھ کر وہ نیکی کریں گے ان سب کے اجر اسے بھی ملیں گے جس سے اس کی نیکی میں اضافہ ہو گا۔ تیسرا اللہ تعالیٰ ہر نیکی کو دس گنا سے سات سو گنا بلکہ شمار سے زیادہ تک بڑھا دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْهَا وَ يُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِيْمًا» [ النساء: ۴۰ ] ”اگر ایک نیکی ہوگی تو وہ اسے کئی گنا کر دے گا اور اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ “ چوتھا یہ کہ نیکیوں کے ساتھ گناہ معاف ہوتے ہیں، فرمایا: «اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ» [ ھود: ۱۱۴ ] ”بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“ ➏ {اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ: ” اِنَّ “} تعلیل کے لیے آتا ہے، یعنی نیکی کرنے والے کی نیکی میں ہم اضافہ اس لیے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ گناہوں پر بہت پردہ ڈالنے والا اور نیک عمل کی بے حد قدر کرنے والا ہے۔
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے اللہ پر جھوٹا بہتان گھڑ لیا ہے؟ اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مہر کر دے وہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے فرمانوں سے حق کر دکھاتا ہے وہ سینوں کے چھپے ہوئے راز جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ کہتے ہیں کہ (پیغمبر نے) اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے دل پر مہر لگادے اور اللہ تعالیٰ اپنی باتوں سے جھوٹ کو مٹا دیتا ہے اور سچ کو ﺛابت رکھتا ہے۔ وه سینے کی باتوں کو جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
یا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا اور اللہ چاہے تو تمہارے اوپر اپنی رحمت و حفاظت کی مہر فرمادے اور مٹا تا ہے باطل کو اور حق کو ثابت فرماتا ہے اپنی باتوں سے بیشک وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ کہتے ہیں کہ اس(رسول(ص)) نے خدا پر جھوٹا بہتان باندھا ہے اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مہر لگا دے اور اللہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنی باتوں سے حق ثابت کرتا ہے بےشک وہ سینوں کی چھپی ہوئی باتوں (رازوں) کو خوب جانتا ہے۔ وہ وہی ہے جو اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، سو اگر اللہ چاہے توتیرے دل پر مہر کر دے اور اللہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنی باتوں کے ساتھ ثابت کر دیتا ہے، یقینا وہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جاہل کفار کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت لگانا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ یہ جاہل کفار جو کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو نے گھڑ لیا ہے اور اللہ کے نام لگا دیا ہے ایسا نہیں اگر ایسا ہوتا تو اللہ تیرے دل پر مہر لگا دیتا اور تجھے کچھ بھی یاد نہ رہتا جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ» [ 69- الحاقة: 44 ] ، اگر یہ رسول ہمارے ذمے کچھ باتیں لگا دیتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ کر ان کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی انہیں اس سزا سے نہ بچا سکتا۔ یعنی یہ اگر ہمارے کلام میں کچھ بھی زیادتی کرتے تو ایسا انتقام لیتے کہ دنیا کی کوئی ہستی اسے نہ بچا سکتی۔ اس کے بعد کا جملہ «أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا ۖ فَإِن يَشَإِ اللَّـهُ يَخْتِمْ عَلَىٰ قَلْبِكَ ۗ وَيَمْحُ اللَّـهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [سورةالشورى 42:24 ] ، «یَخْتِمْ» پر معطوف نہیں بلکہ یہ مبتدا ہے اور مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ «یَخْتِمْ» پر عطف نہیں جو مجزوم ہو۔ واؤ کا کتابت میں نہ آنا یہ صرف امام کے رسم خط کی موافقت کی وجہ سے ہے جیسے آیت «سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ» [ 96- العلق: 18 ] میں واؤ لکھنے میں نہیں آئی۔ اور آیت «وَيَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا» [ الإسراء 17: 11 ] میں واؤ نہیں لکھی گئی ہاں اس کے بعد کے جملے «اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ» [ 8- الانفال: 7 ] کا عطف «وَيَمْــحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ» [ 42- الشورى: 24 ] ، پر ہے یعنی اللہ تعالیٰ حق کو واضح اور مبین کر دیتا ہے اپنے کلمات سے یعنی دلائل بیان فرما کر حجت پیش کر کے وہ خوب دانا بینا ہے دلوں کے راز سینوں کے بھید اس پر کھلے ہوئے ہیں۔
24۔ 1 یعنی اس الزام میں اگر صداقت ہوتی تو ہم آپ کے دل پر مہر لگا دیتے، جس سے وہی محو ہوجاتا جس کے گھڑنے کا انتساب آپ کی طرف کیا جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم آپ کو اس کی سخت ترین سزا دیتے۔ 24۔ 2 یہ قرآن بھی اگر باطل ہوتا (جیسا کہ مکذبین کا دعویٰ ہے) تو یقینا اللہ تعالیٰ اس کو بھی مٹا ڈالتا، جیسا کہ اس کی عادت ہے۔
(آیت 24) ➊ { اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا: ” اَمْ“} کے لفظ سے پہلے ایک جملہ ظاہر یا مقدر ہوتا ہے جو ہمزہ استفہام سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنے کے بعد کہ تمھیں دین کی دعوت دینے سے مقصود سراسر تمھارا فائدہ اور تمھاری نجات ہے، اس میں تم سے میری کوئی ذاتی غرض نہیں، نہ ہی میں اس پر تم سے کسی مزدوری کا سوال کرتا ہوں۔ ہاں یہ ضرور کہتا ہوں کہ کم از کم رشتہ داری کی وجہ سے میرا دوستی کا حق تو ادا کرو۔ اس سے آگے اس مفہوم کی عبارت مقدر مانی جائے گی کہ آیا وہ یہ دعوت قبول کرتے ہوئے آپ پر ایمان لاتے ہیں {” اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى “} یا ضد اور عناد پر قائم رہ کر یہی بات کہے جاتے ہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے۔ ➋ { فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ يَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ:} مفسرین نے اس کی تفسیر کئی طرح سے کی ہے، زیادہ واضح دو تفسیریں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر تو نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہو، جیسا کہ یہ جاہل کہہ رہے ہیں تو اگر وہ چاہے تو {” يَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ “} وہ تیرے دل پر مہر لگا دے اور جتنا قرآن تجھے عطا کیا ہے وہ تجھ سے سلب کر لے، جیسا کہ اس کا ارشاد ہے: «وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْل (44) لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ (45) ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ (46) فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِيْنَ» [ الحاقۃ: ۴۴ تا ۴۷ ] ”اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا۔ تو یقینا ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ پھر یقینا ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔ پھر تم میں سے کوئی بھی(ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔ “ یعنی ہم اس سے شدید ترین انتقام لیں اور کوئی شخص اسے بچا نہ سکے۔ (ابن کثیر) مزید تفصیل سورۂ حاقہ کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ مفسر قاسمی نے فرمایا: ”یہ قرآنی آیات کی تفسیر قرآن کی آیات کے ساتھ ہے، جہاں ممکن ہو یہ تفسیر سب سے بہتر ہوتی ہے، کیونکہ قرآنی آیات ایک دوسری کی تفسیر کرتی ہیں۔ اس مفہوم کے مطابق آیت کا مآل جیسا کہ ابو السعود نے وضاحت فرمائی کفار کی بات کی تردید ہے، یعنی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑ تے تو اللہ آپ کو ہر حال میں اس سے روک دیتا اور آپ کے دل پر ایسی مہر لگاتا کہ نہ آپ کی زبان پر وحی کا کوئی لفظ آتا اور نہ آپ کے دل میں اس کا کوئی مفہوم آتا، جب ایسا نہیں ہوا بلکہ وحی تواتر کے ساتھ جاری رہی تو ثابت ہو گیا کہ وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔“ دوسری تفسیر مفسر شہاب کے الفاظ میں یہ ہے: ”اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہے تو تیرے دل پر مہر لگا دے، جیسے اس نے ان (بہتان لگانے والے کافروں) کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دلائی ہے اور آپ پر اپنا احسان و اکرام یاد دلایا ہے (کہ اس نے آپ کے دل پر مہر نہیں لگائی) تاکہ آپ اس کی وجہ سے شکر ادا کریں اور ان لوگوں کے حال پر ترس کھائیں جن کے دل پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی اور وہ اپنے رب کے غضب کے حق دار بن گئے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کبھی یہ جرأت نہ کرتے کہ آپ پر یہ بہتان باندھیں کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اگر ان پر گمراہی کی مہر نہ لگ گئی ہوتی تو وہ یہ محال بات کہنے کی جرأت نہ کرتے۔“ (منقول از قاسمی) ➌ {وَ يَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ …: ” يَمْحُ “} اصل میں {” يَمْحُوْ “} ہے۔ اس کا عطف {” يَخْتِمْ “} پر نہیں اور نہ ہی حالت جزم میں ہونے کی وجہ سے اس کی ”واؤ“ گری ہے، بلکہ یہ نیا جملہ ہے اور رفعی حالت میں ہونے کی وجہ سے ”واؤ“ اپنی جگہ قائم ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے رسم الخط میں یہاں ”واؤ“ نہیں لکھی گئی، کیونکہ بعض مقامات پر پڑھنے میں جو حروف نہیں آتے تھے انھوں نے وہ لکھنے میں بھی حذف کر دیے ہیں، جیسا کہ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۱۱): «وَ يَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَيْرِ» اور سورۂ علق کی آیت (۱۸): «سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ» میں ”واؤ“ نہیں لکھی گئی۔ مسلمانوں نے بعد میں قرآن مجید کے لیے اسی رسم الخط کو محفوظ رکھا۔ بعض اہلِ علم نے {” يَمْحُ “} کی واؤ حذف کرنے میں یہ نکتہ نکالا ہے کہ باطل کو مٹانے اور محو کرنے میں مبالغے کے اظہار کے لیے {” يَمْحُوْ “} کی ”واؤ“ کو بھی محو کر دیا ہے۔ ➍ یعنی اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو اپنے کلمات کے ساتھ ثابت کر دیتا ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ اللہ پر جھوٹ گھڑیں اور اللہ تعالیٰ اسے نہ مٹائے، بلکہ آپ کو ہر قدم پر اپنی فتح و نصرت کے ساتھ نوازتا جائے۔ یہ دلیل ہے کہ آپ حق لے کر آئے ہیں اور وہ شخص بدترین بہتان باز ہے جو کہتا ہے کہ آپ نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے۔ ➎ { اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ:} یعنی اسے سینوں میں چھپی ہوئی نیتوں اور ارادوں کا خوب علم ہے، وہ اپنی رسالت کے ساتھ کبھی بھی بدطینت و جھوٹ گھڑنے والوں کو نہیں نوازتا، جیسا کہ فرمایا: «اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ» [ الأنعام: ۱۲۴ ] ”اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔“ اس نے اپنے کامل علم ہی کی بنا پر آپ کو اس منصب کے لیے منتخب فرمایا ہے۔
وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے، حالانکہ تم لوگوں کے سب افعال کا اُ سے علم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کررہے ہو (سب) جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں کو معاف کرتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کر دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [ 4- النسآء: 110 ] ، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم پائے گا۔
صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی اونٹنی جنگل بیابان میں گم ہو گئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو یہ اس کی جستجو کر کے عاجز آ کر کسی درخت تلے پڑ رہا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اونٹنی سے بالکل مایوس ہو گیا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹنی اس کے پاس ہی کھڑی ہے یہ فوراً اٹھ بیٹھتا ہے اس کی نکیل تھام لیتا ہے اور اس قدر خوش ہوتا ہے کہ بے تحاشا اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ یا اللہ بیشک تو میرا غلام ہے اور میں تیرا رب ہوں وہ اپنی خوشی کی وجہ سے خطا کر جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2747] ایک مختصر حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہو گیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے برا کام کرتا ہے پھر اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نکاح میں کوئی حرج نہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:147/11:] توبہ تو مستقبل کے لیے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گذشتہ معاف کر دی جاتی ہیں تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے۔ وہ خواہ اپنے لیے دعا کریں خواہ دوسروں کے لیے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں تم ایماندار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کر دیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول فرماتا ہے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کا یہ جملہ «وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا» [ الشوری: 26 ] تلاوت فرمایا معنی اس کے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے آیت «الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ» [ 39-الزمر: 18 ] کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جو بات کو مان لیتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں اور جیسے فرمایا «اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ» [ 6- الانعام: 36 ] ابن ابی حاتم میں ہے کہ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو۔ [طبرانی کبیر:248/10:ضعیف]
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے وہ اپنے بھائیوں کی سفارش کریں گے اور انہیں زیادہ فضل ملے گا یعنی بھائیوں کے بھائیوں کی بھی شفاعت کی اجازت ہو جائے گی مومنوں کی اس عزت و شان کو بیان فرما کر کفار کی بد حالی بیان فرمائی کہ انہیں سخت درد ناک اور گھبراہٹ والے عذاب ہونگے پھر فرمایا اگر ان بندوں کو ان کی روزیوں میں وسعت مل جاتی ان کی ضرورت سے زیادہ ان کے پلے پڑ جاتا تو یہ خرمستی میں آ کر دنیا میں ہلڑ مچا دیتے اور دنیا کے امن کو آگ لگا دیتے ایک دوسرے کو پھونک دیتے، بھون کھاتے، سرکشی اور طغیان تکبر اور بےپرواہی حد سے بڑھ جاتی۔ اسی لیے حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فلسفیانہ مقولہ ہے کہ زندگی کا سامان اتنا ہی اچھا ہے جتنے میں سرکشی اور لاابالی پن نہ آئے۔ اس مضمون کی پوری حدیث کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر دنیا کی نمائش کا ہے پہلے بیان ہو چکی ہے [صحیح بخاری:6427] پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے۔ اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کر لیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں۔ [بغوی فی التفسیر:1877:ضعیف]
25۔ 1 توبہ کا مطلب ہے، معصیت پر ندامت کا اظہار اور آئندہ اس کو نہ کرنے کا عزم محض زبان سے توبہ توبہ کرلینا یا اس گناہ اور معصیت کے کام کو تو نہ چھوڑنا اور توبہ کا اظہار کئے جانا، توبہ نہیں ہے۔ یہ استہزاء اور مذاق ہے۔ تاہم خالص اور سچی توبہ اللہ تعالیٰ یقینا قبول فرماتا ہے۔
(آیت 25) ➊ { وَ هُوَ الَّذِيْ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ:} پچھلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلاتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے، اب اپنی توبہ قبول کرنے کی صفت فرمائی کہ توبہ قبول کرنا اور گناہوں سے درگزر کرنا صرف اللہ تعالیٰ کی شان ہے (دیکھیے توبہ: ۱۰۴) اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے، کیونکہ اگر وہ چاہے تو مجرم کے معافی مانگنے پر بھی اسے معاف نہ کرے۔ مقصود انھیں توبہ کی ترغیب دلانا اور کفر پر اصرار کے انجامِ بد سے ڈرانا ہے۔ کفر سے توبہ اسلام قبول کرنے سے ہوتی ہے اور گناہ سے توبہ میں تین چیزیں شامل ہیں، ایک پچھلے گناہ پر ندامت، دوسرا اسے ترک کر دینا، تیسرا آئندہ وہ گناہ نہ کرنے کا عزم اور اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حق سے ہے تو حسبِ استطاعت اسے ادا کر دینا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنا۔ اگر آئندہ وہ گناہ نہ کرنے کا عزم نہ ہو تو توبہ کا کچھ مطلب نہیں۔ ایک فارسی شاعر نے کہا ہے: سجہ در كف، توبہ بر لب، دل پُر از ذوقِ گناہ معصيت را خندہ مے آيدز استغفارِ ما ”ہاتھ میں تسبیح ہے، زبان پر توبہ اور دل گناہ کی لذت سے بھرا ہوا ہے، گناہ کو ہمارے استغفار پر ہنسی آتی ہے۔“ ➋ { عَنْ عِبَادِهٖ:} اس میں توبہ قبول کرنے کی ایک وجہ بیان فرمائی ہے کہ گناہ کرکے توبہ کرنے والے اس کے اپنے بندے ہیں اور وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۳۷)، آل عمران (۱۳۵) اور سورۂ نساء (۱۱۰)۔ ➌ { وَ يَعْفُوْا عَنِ السَّيِّاٰتِ:} توبہ مستقبل کے لیے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گزشتہ معاف کر دی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسا کریم ہے کہ توبہ پر گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے، بلکہ سورۂ فرقان کی آیت (۷۰) کے مطابق توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ بندے کی توبہ پر اللہ تعالیٰ کس قدر خوش ہوتا ہے، اس کی تفصیل انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَلّٰهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِيْنَ يَتُوْبُ إِلَيْهِ، مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلٰی رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَأَيِسَ مِنْهَا، فَأَتٰی شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِيْ ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَا هُوَ كَذٰلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ عَبْدِيْ وَ أَنَا رَبُّكَ، أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ ] [مسلم، التوبۃ، باب في الحض علی التوبۃ والفرح بھا: ۲۷۴۷ ] ”یقینا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر، جب وہ اس کی طرف توبہ کرتا ہے، اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا تم میں سے کوئی شخص خوش ہوتا ہے، جو کسی بیابان میں اپنی اونٹنی پر سوار تھا تو وہ اس سے چھوٹ کر نکل گئی، اس کا کھانا اور پانی بھی اسی پر تھا۔ تو وہ اس سے ناامید ہو گیا اور ایک درخت کے پاس جا کر اس کے سائے میں لیٹ گیا۔ حال اس کا یہ تھا کہ وہ اپنی اونٹنی سے مایوس ہو چکا تھا، وہ اسی حال میں تھا کہ اچانک اس نے اسے دیکھا کہ وہ اونٹنی اس کے پاس کھڑی تھی، چنانچہ اس نے اس کی مہار پکڑ لی، پھر شدید خوشی میں کہنے لگا: ”اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب۔“ خوشی کی شدت سے غلطی کر بیٹھا۔“ ➍ اللہ تعالیٰ اتنا مہربان ہے کہ بعض اوقات توبہ کے بغیر بھی گناہ معاف فرما دیتا ہے، جیسا کہ ہجرت کے بعد پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، حجِ مبرور کے بعد پہلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں، شہادت فی سبیل اللہ سے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور نیکیوں کی کثرت سے گناہ مٹ جاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ» [ ھود: ۱۱۴ ] ”بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“ اور کبیرہ گناہوں کے اجتناب سے صغیرہ گناہ خود بخود معاف ہو جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ کبیرہ گناہ کے مرتکب مومن کو، اگر وہ توبہ نہ کرے تو کافر یا ابدی جہنمی قرار دیتے ہیں، ان کی بات درست نہیں۔ ➎ { وَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ:} اس جملے میں بشارت بھی ہے اور نذارت بھی۔ عمل کا دارو مدار دل کی حالت پر ہے، اگر اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے اخلاص سے توبہ کی گئی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور اسے قبولیت سے نوازے گا اور اگر توبہ اپنے کسی دنیوی مقصد کے لیے کی گئی ہو، مثلاً ریا کے طور پر یا آئندہ توڑ ڈالنے کے ارادے سے، یا کسی دنیوی فائدے کے لیے، مثلاً صحت و قوت کے لیے زنا، سگریٹ یا شراب کو ترک کیا گیا ہے تو وہ اسے بھی جانتا ہے۔
وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ دیتا ہے رہے انکار کرنے والے، تو ان کے لیے دردناک سزا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ایمان والوں اور نیکوکار لوگوں کی سنتا ہے اور انہیں اپنے فضل سے اور بڑھا کر دیتا ہے اور کفار کے لیے سخت عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور دعا قبول فرماتا ہے ان کی جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور انہیں اپنے فضل سے اور انعام دیتا ہے، اور کافروں کے لیے سخت عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ ان لوگوں کی دعائیں قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے اورانہیں اپنے فضل و کرم سے اور زیادہ عطا کرتا ہے اور کافروں کیلئے سخت عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں کی دعا قبو ل کرتا ہے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ دیتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کر دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [ 4- النسآء: 110 ] ، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم پائے گا۔
صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی اونٹنی جنگل بیابان میں گم ہو گئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو یہ اس کی جستجو کر کے عاجز آ کر کسی درخت تلے پڑ رہا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اونٹنی سے بالکل مایوس ہو گیا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹنی اس کے پاس ہی کھڑی ہے یہ فوراً اٹھ بیٹھتا ہے اس کی نکیل تھام لیتا ہے اور اس قدر خوش ہوتا ہے کہ بے تحاشا اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ یا اللہ بیشک تو میرا غلام ہے اور میں تیرا رب ہوں وہ اپنی خوشی کی وجہ سے خطا کر جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2747] ایک مختصر حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہو گیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے برا کام کرتا ہے پھر اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نکاح میں کوئی حرج نہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:147/11:] توبہ تو مستقبل کے لیے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گذشتہ معاف کر دی جاتی ہیں تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے۔ وہ خواہ اپنے لیے دعا کریں خواہ دوسروں کے لیے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں تم ایماندار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کر دیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول فرماتا ہے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کا یہ جملہ «وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا» [ الشوری: 26 ] تلاوت فرمایا معنی اس کے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے آیت «الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ» [ 39-الزمر: 18 ] کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جو بات کو مان لیتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں اور جیسے فرمایا «اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ» [ 6- الانعام: 36 ] ابن ابی حاتم میں ہے کہ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو۔ [طبرانی کبیر:248/10:ضعیف]
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے وہ اپنے بھائیوں کی سفارش کریں گے اور انہیں زیادہ فضل ملے گا یعنی بھائیوں کے بھائیوں کی بھی شفاعت کی اجازت ہو جائے گی مومنوں کی اس عزت و شان کو بیان فرما کر کفار کی بد حالی بیان فرمائی کہ انہیں سخت درد ناک اور گھبراہٹ والے عذاب ہونگے پھر فرمایا اگر ان بندوں کو ان کی روزیوں میں وسعت مل جاتی ان کی ضرورت سے زیادہ ان کے پلے پڑ جاتا تو یہ خرمستی میں آ کر دنیا میں ہلڑ مچا دیتے اور دنیا کے امن کو آگ لگا دیتے ایک دوسرے کو پھونک دیتے، بھون کھاتے، سرکشی اور طغیان تکبر اور بےپرواہی حد سے بڑھ جاتی۔ اسی لیے حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فلسفیانہ مقولہ ہے کہ زندگی کا سامان اتنا ہی اچھا ہے جتنے میں سرکشی اور لاابالی پن نہ آئے۔ اس مضمون کی پوری حدیث کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر دنیا کی نمائش کا ہے پہلے بیان ہو چکی ہے [صحیح بخاری:6427] پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے۔ اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کر لیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں۔ [بغوی فی التفسیر:1877:ضعیف]
26۔ 1 یعنی ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی خواہشیں اور آرزوئیں پوری فرماتا ہے۔ بشرطیکہ دعا کے آداب و شرائط کا بھی پورا اہتمام کیا گیا ہو، اور حدیث میں آتا ہے ' اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری مع کھانے پینے کے سامان کے، صحرا، بیابان میں گم ہوجائے اور وہ ناامید ہو کر کسی درخت کے نیچے لیٹ جائے کہ اچانک اسے اپنی سواری مل جائے اور فرط مسرت میں اس کے منہ سے نکل جائے، اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب یعنی شدت فرحت میں غلطی کر جائے (صحیح مسلم)
(آیت 26) ➊ { وَ يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ:} اجابت کا معنی قبول کرنا ہے اور استجابت میں ”سین“ مبالغے کے لیے ہے۔ یہ لفظ کسی حکم پر بہت جلد عمل کرنے یا کسی دعوت پر بہت جلدی لبیک کہنے یا کسی دعا کو بہت جلدی قبول کرنے کے لیے آتا ہے۔ (ابن عاشور) یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی دعا بہت جلد اور خوشی سے قبول فرماتا ہے جو ایمان اور عمل صالح سے متصف ہوتے ہیں۔ (دیکھیے بقرہ: ۱۸۶،۲۱۸) ان معنوں میں کفار کی دعا قبول ہوتی ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ» [ الرعد: ۱۴ ] ”اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر بے سود۔“ ہاں رسی دراز کرنے کے لیے اور حجت تمام کرنے کے لیے کفار کی بھی دعائیں قبول ہوتی ہیں، مگر وہ استجابت نہیں استدراج ہے اور ناراضی کی علامت ہے، جیسا کہ ابلیس نے آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو گمراہ کرنے کے لیے مہلت مانگی تو اسے دے دی گئی۔ ➋ { وَ يَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ:} اس میں دو چیزیں شامل ہیں، ایک یہ کہ صالح اعمال والے مومن اپنی دعا اور عملِ صالح سے جو امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں وہ بھی دیتا ہے اور ان کی امید سے کہیں زیادہ بھی عطا فرماتا ہے۔ اسی طرح ان کا ہر عمل قبول بھی کرتا ہے اور اسے دس گنا سے سات سو گنا تک یا بلاحساب تک بڑھا بھی دیتا ہے۔ دوسری یہ کہ انھیں اپنے فضل سے مزید وہ کچھ بھی عطا کرتا ہے جس کی درخواست انھوں نے نہیں کی ہوتی، کیونکہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور ان کی ضروریات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ ➌ { وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ:} یہ قرآن مجید کا عام طریقہ ہے کہ ترغیب کے ساتھ ترہیب بھی ہوتی ہے۔ یعنی جو لوگ توبہ کے بجائے کفر پر اصرار کرتے اور اسی حالت میں مر جاتے ہیں ان کے لیے شدید عذاب ہے۔
اگر اللہ اپنے سب بندوں کو کھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کر دیتے، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے نازل کرتا ہے، یقیناً وہ اپنے بندوں سے با خبر ہے اور اُن پر نگاہ رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر اللہ تعالیٰ اپنے (سب) بندوں کی روزی فراخ کر دیتا تو وه زمین میں فساد برپا کردیتے لیکن وه اندازے کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔ وه اپنے بندوں سے پورا خبردار ہے اور خوب دیکھنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کردیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے لیکن وہ اندازہ سے اتارتا ہے جتنا چاہے، بیشک وہ بندوں سے خبردار ہے انہیں دیکھتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر خدا اپنے تمام بندوں کی روزی کشادہ کر دیتا تو وہ زمین میں بغاوت پھیلا دیتے اور وہ بندوں کے حالات کو جا ننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق فراخ کر دیتا تو یقینا وہ زمین میں سرکش ہو جاتے اورلیکن وہ ایک اندازے کے ساتھ اتارتا ہے، جتنا چاہتا ہے، یقینا وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کر دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [ 4- النسآء: 110 ] ، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم پائے گا۔
صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی اونٹنی جنگل بیابان میں گم ہو گئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو یہ اس کی جستجو کر کے عاجز آ کر کسی درخت تلے پڑ رہا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اونٹنی سے بالکل مایوس ہو گیا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹنی اس کے پاس ہی کھڑی ہے یہ فوراً اٹھ بیٹھتا ہے اس کی نکیل تھام لیتا ہے اور اس قدر خوش ہوتا ہے کہ بے تحاشا اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ یا اللہ بیشک تو میرا غلام ہے اور میں تیرا رب ہوں وہ اپنی خوشی کی وجہ سے خطا کر جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2747] ایک مختصر حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہو گیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے برا کام کرتا ہے پھر اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نکاح میں کوئی حرج نہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:147/11:] توبہ تو مستقبل کے لیے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گذشتہ معاف کر دی جاتی ہیں تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے۔ وہ خواہ اپنے لیے دعا کریں خواہ دوسروں کے لیے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں تم ایماندار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کر دیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول فرماتا ہے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کا یہ جملہ «وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا» [ الشوری: 26 ] تلاوت فرمایا معنی اس کے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے آیت «الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ» [ 39-الزمر: 18 ] کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جو بات کو مان لیتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں اور جیسے فرمایا «اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ» [ 6- الانعام: 36 ] ابن ابی حاتم میں ہے کہ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو۔ [طبرانی کبیر:248/10:ضعیف]
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے وہ اپنے بھائیوں کی سفارش کریں گے اور انہیں زیادہ فضل ملے گا یعنی بھائیوں کے بھائیوں کی بھی شفاعت کی اجازت ہو جائے گی مومنوں کی اس عزت و شان کو بیان فرما کر کفار کی بد حالی بیان فرمائی کہ انہیں سخت درد ناک اور گھبراہٹ والے عذاب ہونگے پھر فرمایا اگر ان بندوں کو ان کی روزیوں میں وسعت مل جاتی ان کی ضرورت سے زیادہ ان کے پلے پڑ جاتا تو یہ خرمستی میں آ کر دنیا میں ہلڑ مچا دیتے اور دنیا کے امن کو آگ لگا دیتے ایک دوسرے کو پھونک دیتے، بھون کھاتے، سرکشی اور طغیان تکبر اور بےپرواہی حد سے بڑھ جاتی۔ اسی لیے حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فلسفیانہ مقولہ ہے کہ زندگی کا سامان اتنا ہی اچھا ہے جتنے میں سرکشی اور لاابالی پن نہ آئے۔ اس مضمون کی پوری حدیث کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر دنیا کی نمائش کا ہے پہلے بیان ہو چکی ہے [صحیح بخاری:6427] پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے۔ اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کر لیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں۔ [بغوی فی التفسیر:1877:ضعیف]
27۔ 1 یعنی اللہ ہر شخص کی حاجت و ضرورت سے زیادہ یکساں طور پر وسائل رزق عطا فرما دیتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ کوئی کسی کی ماتحتی قبول نہ کرتا، ہر شخص شرو فساد اور دشمنی میں ایک سے بڑھ کر ایک ہوتا، جس سے زمین فساد سے بھر جاتی۔
(آیت 27) ➊ { وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ:} یہ ایک سوال کا جواب ہے جو یہاں ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ایمان اور عملِ صالح والوں کی دعا بہت جلدی قبول فرماتا ہے تو یہ لوگ تو رزق کی فراخی کی دعا بھی کرتے ہیں، اس کے باوجود ان پر رزق کی تنگی کیوں ہے؟ ابتدائے اسلام میں ایمان والوں پر رزق کی بہت تنگی آئی، خصوصاً جب کفار نے ان کے ساتھ میل جول اور خرید و فروخت غرض تمام چیزوں کا بائیکاٹ کر دیا۔ جواب یہ دیا گیا کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ جتنا رزق مانگیں انھیں اتنا ہی دے دیا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کا رزق ان کی مصلحت کے مطابق ایک اندازے کے ساتھ جتنا چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔ اگر وہ ان کے تقاضے کے مطابق ان کے لیے رزق فراخ کر دیتا تو یقینا وہ زمین میں سرکش ہو جاتے، کیونکہ عام طور پر آدمی جب غنی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰۤى (6) اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰى» [ العلق: 7،6 ] ”ہرگز نہیں، بے شک انسان یقینا حد سے نکل جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ غنی ہوگیا ہے۔“ اور مال و دولت کی کثرت اسے لوگوں پر زیادتی پر ابھارتی ہے۔ قارون اور فرعون کا حال دیکھ لو! اگر ان کے پاس اتنی دولت نہ ہوتی تو اس طرح برباد نہ ہوتے۔ اس لیے مومنوں کے حق میں خیر یہی ہے کہ ان کا رزق زیادہ فراخ نہ کیا جائے، اگرچہ اس کے خیر ہونے کا پورا ادراک انھیں دیر سے یعنی قیامت کے دن ہو گا۔ اس کے علاوہ مال کی کمی کا مومن کو ایک اور فائدہ بھی ہے کہ اسے عملِ صالح کے لیے فراغت حاصل رہتی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ دنیا کمانے میں مشغول رہ کر آخرت کی تیاری سے غافل نہیں ہوتا، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے جزیے کا مال لے کر آئے تو انصار صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے اور بعد میں آپ کے سامنے آ بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: [ أَظُنُّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدْ جَاءَ بِشَيْءٍ؟ قَالُوْا أَجَلْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ فَأَبْشِرُوْا وَأَمِّلُوْا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللّٰهِ! لاَ الْفَقْرَ أَخْشٰی عَلَيْكُمْ، وَلٰكِنْ أَخْشٰی عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوْهَا كَمَا تَنَافَسُوْهَا وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ ] [بخاري، الجزیۃ والموادعۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ مع أھل الذمۃ والحرب: ۳۱۵۸ ] ”میرا خیال ہے تم نے سنا ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لے کر آئے ہیں؟“ انھوں نے کہا: ”جی ہاں، یا رسول اللہ!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو خوش ہو جاؤ اور خوش کرنے والی چیزوں کی امید رکھو، پس اللہ کی قسم! میں تم پر فقیری سے تو ڈرتا ہی نہیں، بلکہ تم پر اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا فراخ کر دی جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فراخ کر دی گئی، تو تم ایک دوسرے سے زیادہ اس میں رغبت کرنے لگو، جیسا کہ انھوں نے ایک دوسرے سے بڑھ کر اس میں رغبت کی اور وہ تمھیں اسی طرح ہلاک کر دے جس طرح اس نے انھیں ہلاک کر دیا۔ “ ➋ {” وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ “} میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنا احسان بھی جتلایا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ لوگ زمین میں سرکشی کریں گے ان کا رزق فراخ کر دیتا، جیسا کہ اس نے فرعون کا رزق یہ جاننے کے باوجود فراخ کر دیا۔ چنانچہ اگر اسے ملک مصر نہ ملتا تو وہ کبھی خدائی کا دعویٰ نہ کرتا۔ لہٰذا رزق کی تنگی بھی اہلِ ایمان کے لیے ایک انعام ہے جس کا شکر ان پر واجب ہے۔ ➌ آیت کے الفاظ {” وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ “} مومن و کافر دونوں کے لیے عام ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تکوینی تدبیر کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مومن ہوں یا کافر سب کا رزق برابر نہیں رکھا، کسی کا زیادہ ہے کسی کا کم، تاکہ لوگ ایک دوسرے کے محتاج رہیں اور ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔ (دیکھیے زخرف: ۳۲) اسی طرح اس نے کسی کو ایک حد سے زیادہ رزق نہیں دیا، ورنہ لوگ زیادہ روزی پا کر زمین میں سرکشی اور فساد کرتے۔ رہے وہ لوگ جو رزق کی فراخی کی وجہ سے زمین میں فساد کرتے ہیں ان کا فساد اس فساد کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا جو وہ اپنی مرضی کے مطابق مال ملنے کی صورت میں برپا کرتے۔ اب اگر کوئی فساد فی الارض کرتا ہے تو وہ ایک حد سے نہیں بڑھ سکتا۔ کوئی کتنا بھی بڑا باغی ہو سب اپنی حد میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ➍ { وَ لٰكِنْ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَآءُ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۲۱) اور رعد (۸) اور سورۂ قمر (۴۹)کی تفسیر۔ ➎ { اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرٌۢ بَصِيْرٌ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۳۰) کی تفسیر۔
وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہو جانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی قابل تعریف ولی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے وہی ہے کارساز اور قابل حمد و ثنا
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے کہ مینہ اتارتا ہے ان کے نا امید ہونے پر اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے اور وہی کام بنانے والا ہے سب خوبیوں سراہا،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہی ہے جو بارش برساتا ہے قابلِ ستائش ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے، اس کے بعد کہ وہ نا امید ہو چکے ہوتے ہیں اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی مدد کرنے والا ہے، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ باران رحمت کا انتظار کرتے کرتے مایوس ہو جاتے ہیں ایسی پوری حاجت اور سخت مصیبت کے وقت میں بارش برساتا ہوں ان کی ناامیدی اور خشک سالی ختم ہو جاتی ہے اور عام طور پر میری رحمت پھیل جاتی ہے امیر المؤمنین خلیفتہ المسلمین فاروق اعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کہتا ہے امیر المؤمنین قحط سالی ہو گئی اور اب تو لوگ بارش سے بالکل مایوس ہو گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جاؤ اب ان شاءاللہ ضرور بارش ہو گی پھر اس آیت کی تلاوت کی وہ ولی و حمید ہے یعنی مخلوقات کے تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں اس کے کام قابل ستائش و تعریف ہیں۔ مخلوق کے بھلے کو وہ جانتا ہے اور ان کے نفع کا اسے علم ہے اس کے کام نفع سے خالی نہیں۔
28۔ 1 کار ساز ہے، اپنے نیک بندوں کی چارہ سازی فرماتا ہے، انہیں منافع سے نوازتا ہے اور شرور اور مہلکات سے ان کی حفاطت فرماتا ہے۔ اپنے ان انعامات بےپایاں اور احسنات فراواں پر قابل حمد و ثنا ہے۔
(آیت 28) ➊ { وَ هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا: ” الْغَيْثَ “} وہ بارش جو خشک سالی کے بعد آئے، کیونکہ اس کے ذریعے سے لاچار اور بے بس انسانوں اور جانوروں کی مدد ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيْهِ يُغَاثُ النَّاسُ» [ یوسف: ۴۹ ] ”پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش ہوگی۔“ یہ بیان کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کی ضرورت سے زیادہ نہیں دیتا، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ان کے تقاضے کے مطابق رزق میں اضافہ ان کی سرکشی اور نظامِ عالم کی خرابی کا باعث ہے، یہ ذکر فرمایا کہ اگر انھیں بارش کی ضرورت ہو، جس پر تمام جانداروں کی زندگی کا دارو مدار ہے، خواہ انسان ہوں یا حیوان، چرند پرند ہوں یا درندے یا حشرات الارض ہوں تو وہ انھیں اپنی رحمت سے ضرور نوازتا ہے۔ چنانچہ فرمایا، اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے۔ ➋ { مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا: ” قُنُوْطٌ“} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حم السجدہ کی آیت (۴۹) کی تفسیر۔ اس کے بعد کہ وہ ناامید ہو چکے ہوتے ہیں اور اس ناامیدی کے آثار ان کے چہروں پر ظاہر ہو چکے ہوتے ہیں، یعنی وہ ایک مدت کی قحط سالی کی وجہ سے بارش برسنے سے ناامید ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس آیت میں مادہ پرستوں کا رد بھی ہے جن کا کہنا ہے کہ دنیا میں اسباب کے مطابق سب کچھ خود بخود ہو رہا ہے، نہ اس کائنات کا کوئی پیدا کرنے والا ہے اور نہ کوئی اسے اپنی مرضی کے مطابق چلانے والا ہے۔ رد اس طرح ہے کہ ان لوگوں کے کہنے کے مطابق طبعی طور پر سورج کی تپش کے ساتھ سمندر سے بخارات اٹھتے ہیں جو بادلوں کی صورت اختیار کرتے اور زمین پر برستے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر ایک زمین، ایک سمندر، ایک سورج اور تمام اسباب یکساں ہونے کے باوجود ہر جگہ ہمیشہ ایک جیسی بارش کیوں نہیں ہوتی؟ یقینا یہ سب کچھ ان تمام چیزوں کے مالک کے اختیار میں ہے، وہ جہاں چاہتا ہے سالہا سال تک قحط اور خشک سالی مسلط کر دیتا ہے، پھر جب چاہتا ہے دوبارہ بارش کا سلسلہ شروع فرما دیتا ہے۔ ➌ { وَ يَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ:} یعنی بارش کی صورت میں اپنی رحمت میدانوں، پہاڑوں، جنگلوں اور سمندروں میں ہر جگہ پھیلا دیتا ہے، ہوا کے کاندھے پر سوار اتنے وزنی بادلوں سے زمین کو بھر دینے والی بارش برساتا ہے، جنھیں پوری مخلوق بھی اٹھانا چاہے تو نہ اٹھا سکے اور سب مل کر اس زمین پر چھڑکاؤ ہی کرنا چاہیں تو نہ کر سکیں۔ پھر ہر طرف ندی نالے، تالاب، سبزہ، پودے، درخت، کھیت، مینڈک، جھینگر، حشرات الارض اور دوسرے جاندار پھیل جاتے ہیں۔ اس بارش کے ساتھ اتنی سخت زمین سے، جو کدالوں کے ساتھ کھودنی مشکل ہوتی ہے، ریشم سے نرم کونپلیں نکال دیتا ہے اور اس بارش کے ساتھ درختوں کے سخت تنوں سے، جنھیں تراشنے والے اوزار مشکل سے تراش سکیں، پرندوں کی زبانوں سے بھی نازک شگوفے نکال دیتا ہے، پھر کس قدر جاہل اور فریب خوردہ ہیں وہ لوگ جو مردوں کے قبروں سے زندہ ہونے کو نہیں مانتے۔ (بقاعی) ➍ {وَ هُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ:} یعنی کائنات کے تمام معاملات کا متولی اور ذمہ دار وہی ہے اور ہر خوبی کا مالک بھی وہی ہے۔
اُس کی نشانیوں میں سے ہے یہ زمین اور آسمانوں کی پیدائش، اور یہ جاندار مخلوقات جو اُس نے دونوں جگہ پھیلا رکھی ہیں وہ جب چاہے انہیں اکٹھا کر سکتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور ان میں جانداروں کا پھیلانا ہے۔ وه اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے انہیں جمع کردے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو چلنے والے ان میں پھیلائے، اور وہ ان کے اکٹھا کرنے پر جب چاہے قادر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور جو چلنے پھر نے والے جاندار ان کے درمیان پھیلائے ہیں ان کا پیدا کرنا بھی ہے اور وہ ان کو جمع کرنے پر جب چاہے گا قادر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی کی نشانیوں میںسے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور وہ جو اس نے ان دونوںمیں کوئی بھی جاندار پھیلادیے ہیں اور وہ ان کو اکٹھا کرنے پر جب چاہے پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے۔ کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہو چکے ہوں گے۔ اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو! تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّـهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ» [ 35-فاطر: 45 ] اگر ہر اک گناہ پر پکڑے تو تم زمین پر چل پھر بھی نہ سکو۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کو جو تکلیف سختی غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا لگنے کے عوض بھی۔ [صحیح بخاری:5642] جب آیت «فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» [ 99- الزلزلة: 8، 7 ] ، اتری اس وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے سن کر کھانے سے ہاتھ ہٹا لیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر برائی بھلائی کا بدلہ دیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا سنو طبیعت کے خلاف جو چیزیں ہوتی ہیں یہ سب برائیوں کے بدلے ہیں اور ساری نیکیاں اللہ کے پاس جمع شدہ ہیں ابو ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی مضمون اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30704] امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں کتاب اللہ شریف کی افضل ترین آیت سناؤں اور ساتھ ہی حدیث بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی اور میرا نام لے کر فرمایا سن میں اس کی تفسیر بھی تجھے بتا دوں تجھے جو بیماریاں سختیاں اور بلائیں آفتیں دنیا میں پہنچتی ہیں وہ سب بدلہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے بہت زیادہ ہے کہ پھر انہی پر آخرت میں بھی سزا کرے اور اکثر برائیاں معاف فرما دیتا ہے تو اس کے کرم سے یہ بالکل ناممکن ہے کہ دنیا میں معاف کی ہوئی خطاؤں پر آخرت میں پکڑے [ مسند احمد 85/1:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں یہی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی کے قول سے مروی ہے اس میں ہے کہ ابوحجیفہ رحمہ اللہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جسے یاد رکھنا ہر مومن کا فرض ہے پھر یہ تفسیر آیت کی اپنی طرف سے کر کے سنائی مسند میں ہے کہ مسلمان کے جسم میں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرماتا ہے۔ [مسند احمد:98/4:صحیح] مسند ہی کی اور حدیث میں ہے جب ایماندار بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے [مسند احمد:157/6:ضعیف] ابن ابی حاتم میں حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس آیت کے اترنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ لکڑی کی ذرا سی خراش ہڈی کی ذرا سی تکلیف یہاں تک کہ قدم کا پھسلنا بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہے اور ابھی اللہ کے عفو کئے ہوئے بہت سے گناہ تو یونہی مٹ جاتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30705:مرسل] ابن ابی حاتم ہی میں ہے کہ جب حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے جسم میں تکلیف ہوئی اور لوگ ان کی عیادت کو گئے تو حضرت حسن رحمہ اللہ نے کہا آپ کی یہ حالت تو دیکھی نہیں جاتی ہمیں بڑا صدمہ ہو رہا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کہو جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب گناہوں کا کفارہ ہے اور بھی بہت سے گناہ تو اللہ معاف فرما چکا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ ابو البلاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علاء بن بدر رحمہ اللہ سے کہا کہ قرآن میں تو یہ آیت ہے اور میں ابھی نابالغ بچہ ہوں اور اندھا ہو گیا ہوں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا یہ تیرے ماں باپ کے گناہوں کا بدلہ ہے حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھ کر بھول جانے والا یقیناً اپنے کسی گناہ میں پکڑا گیا ہے۔ اس کی اور کوئی وجہ نہیں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا بتاؤ تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو گی کہ انسان یاد کر کے کلام اللہ بھول جائے۔
29۔ 1 یعنی روئے زمین پر پھیلے ہوئے، جن و انس تمام جاندار حیوانات شامل ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ایک ہی میدان میں جمع فرما دے گا۔
(آیت 29) ➊ { مِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} اس کی تفسیر متعدد مقامات پر گزر چکی ہے۔ ➋ {وَ مَا بَثَّ فِيْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ: ” دَآبَّةٍ “ ”دَبَّ يَدِبُّ دَبًّا وَ دَبِيْبًا“} (ض) سے اسم فاعل ہے۔ یہ لفظ {”دَابٌّ“} کا مؤنث ہے، مگر مذکر و مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جمع {”دَوَابُّ“} ہے، کیونکہ اس میں تاء وحدت کے لیے ہے، یعنی چلنے والا جانور خواہ سانپ کی طرح پیٹ کے بل چلے یا دو یا چار ٹانگوں پر چلے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ فَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰى بَطْنِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰى رِجْلَيْنِ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ يَخْلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [ النور: ۴۵ ] ”اور اللہ نے ہر چلنے والا (جاندار) ایک قسم کے پانی سے پیدا کیا، پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو چار پر چلتا ہے، اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، یقینا اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ “ یہ آیت دلیل ہے کہ {” دَآبَّةٍ “} سے مراد جانور ہیں فرشتے نہیں۔ زمین میں پھیلائے ہوئے مختلف جانوروں کا مشاہدہ تو ہر آدمی کرتا رہتا ہے، اس آیت میں زمین و آسمان دونوں میں پھیلائے ہوئے جانوروں کا ذکر فرمایا۔ اس لیے بعض مفسرین نے یہ خیال فرما کر کہ آسمانوں میں جانوروں کے وجود کا صراحت کے ساتھ قرآن و حدیث میں ذکر نہیں اس کی مختلف تاویلیں فرمائی ہیں۔ چنانچہ بعض نے فرمایا، اس سے مراد زمین کے جانور ہی ہیں، کیونکہ وہ زمین و آسمان کے اندر ہی ہیں۔ بعض نے فرمایا، اس سے مراد آسمانوں کے فرشتے ہیں، کیونکہ وہ اڑنے کے ساتھ ساتھ چل بھی سکتے ہیں، مگر ان تاویلوں کی ضرورت تب ہے جب آسمانوں میں جانوروں کا وجود ناممکن ہو۔ جب اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے وہ جانور بھی ہیں جو اس نے زمین و آسمان میں پھیلا دیے ہیں تو ہمیں یہ بات ماننے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے کہ آسمانوں میں بھی جانور موجود ہیں، خصوصاً جنت میں جہاں ہر نعمت موجود ہے، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہاں کتنی قسم کے خوبصورت سے خوبصورت جانور موجود ہیں۔ ➌ { وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا يَشَآءُ قَدِيْرٌ:} جس طرح زمین و آسمان کے جانوروں کو پیدا کرنا اور پھیلانا اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے اسی طرح انھیں جمع کرنے پر قدرت بھی بہت بڑی نشانی ہے۔ انسان کا حال تو یہ ہے کہ وہ پرندوں کے ایک جھنڈ کے بکھرنے والے پرندوں کو جمع نہیں کر سکتا، نہ شہد کے کسی چھتے سے بکھرنے والی مکھیوں کو جمع کر سکتا ہے، حتیٰ کہ اپنے ہم سبق ساتھیوں کو اکٹھا نہیں کر سکتا، خواہ وہ زندہ ہی ہوں۔ یہ رب تعالیٰ ہی ہے جو تمام جانوروں کو، زندہ ہوں یا مردہ، جمع کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ چنانچہ قیامت کے دن وہ انسانوں کے ساتھ جانوروں کو بھی دوبارہ زندہ فرمائے گا، فرمایا: «يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ» [ التغابن: ۹ ] ”جس دن وہ تمھیں جمع کرنے کے دن کے لیے جمع کرے گا، وہی ہار جیت کا دن ہے۔“
تم پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے، اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی در گزر کر جاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وه تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کابدلہ ہے، اور وه تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمہیں جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کئے ہوئے(کاموں) کی وجہ سے پہنچتی ہے اور وہ بہت سے(کاموں سے) درگزرکرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو بھی تمھیں کوئی مصیبت پہنچی تو وہ اس کی وجہ سے ہے جو تمھارے ہاتھوں نے کمایا اور وہ بہت سی چیزوں سے در گزر کر جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے۔ کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہو چکے ہوں گے۔ اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو! تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّـهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ» [ 35-فاطر: 45 ] اگر ہر اک گناہ پر پکڑے تو تم زمین پر چل پھر بھی نہ سکو۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کو جو تکلیف سختی غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا لگنے کے عوض بھی۔ [صحیح بخاری:5642] جب آیت «فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» [ 99- الزلزلة: 8، 7 ] ، اتری اس وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے سن کر کھانے سے ہاتھ ہٹا لیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر برائی بھلائی کا بدلہ دیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا سنو طبیعت کے خلاف جو چیزیں ہوتی ہیں یہ سب برائیوں کے بدلے ہیں اور ساری نیکیاں اللہ کے پاس جمع شدہ ہیں ابو ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی مضمون اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30704] امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں کتاب اللہ شریف کی افضل ترین آیت سناؤں اور ساتھ ہی حدیث بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی اور میرا نام لے کر فرمایا سن میں اس کی تفسیر بھی تجھے بتا دوں تجھے جو بیماریاں سختیاں اور بلائیں آفتیں دنیا میں پہنچتی ہیں وہ سب بدلہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے بہت زیادہ ہے کہ پھر انہی پر آخرت میں بھی سزا کرے اور اکثر برائیاں معاف فرما دیتا ہے تو اس کے کرم سے یہ بالکل ناممکن ہے کہ دنیا میں معاف کی ہوئی خطاؤں پر آخرت میں پکڑے [ مسند احمد 85/1:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں یہی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی کے قول سے مروی ہے اس میں ہے کہ ابوحجیفہ رحمہ اللہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جسے یاد رکھنا ہر مومن کا فرض ہے پھر یہ تفسیر آیت کی اپنی طرف سے کر کے سنائی مسند میں ہے کہ مسلمان کے جسم میں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرماتا ہے۔ [مسند احمد:98/4:صحیح] مسند ہی کی اور حدیث میں ہے جب ایماندار بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے [مسند احمد:157/6:ضعیف] ابن ابی حاتم میں حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس آیت کے اترنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ لکڑی کی ذرا سی خراش ہڈی کی ذرا سی تکلیف یہاں تک کہ قدم کا پھسلنا بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہے اور ابھی اللہ کے عفو کئے ہوئے بہت سے گناہ تو یونہی مٹ جاتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30705:مرسل] ابن ابی حاتم ہی میں ہے کہ جب حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے جسم میں تکلیف ہوئی اور لوگ ان کی عیادت کو گئے تو حضرت حسن رحمہ اللہ نے کہا آپ کی یہ حالت تو دیکھی نہیں جاتی ہمیں بڑا صدمہ ہو رہا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کہو جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب گناہوں کا کفارہ ہے اور بھی بہت سے گناہ تو اللہ معاف فرما چکا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ ابو البلاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علاء بن بدر رحمہ اللہ سے کہا کہ قرآن میں تو یہ آیت ہے اور میں ابھی نابالغ بچہ ہوں اور اندھا ہو گیا ہوں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا یہ تیرے ماں باپ کے گناہوں کا بدلہ ہے حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھ کر بھول جانے والا یقیناً اپنے کسی گناہ میں پکڑا گیا ہے۔ اس کی اور کوئی وجہ نہیں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا بتاؤ تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو گی کہ انسان یاد کر کے کلام اللہ بھول جائے۔
30۔ 1 بعض گناہوں کا کفارہ تو وہ مصائب بن جاتے ہیں، جو تمہیں گناہوں کی پاداش میں پہنچتے ہیں اور کچھ گناہ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ یوں ہی معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کی ذات بڑی کریم ہے، معاف کرنے کے بعد آخرت میں اس پر مؤاخذہ نہیں فرمائے گا۔
(آیت 30) ➊ { وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ:} اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور نشانیوں کا تذکرہ ہو رہا ہے، اس سلسلے میں لوگوں کے بارش سے ناامید ہونے کے بعد بارش برسانے کا ذکر ہوا ہے۔ اس پر سوال ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس قدر مہربان ہے تو وہ بارش روک کیوں دیتا ہے؟ فرمایا، تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ تمھاری کمائی کا نتیجہ ہے۔ وہ گناہ بھی ہو سکتے ہیں اور اونچی شان والے حضرات پر اللہ تعالیٰ کے جس قدر انعامات ہیں ان کا حق ادا کرنے میں کسی طرح کی کمی بھی۔ اس لیے پیغمبر بھی اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَ أَتُوْبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً ] [ بخاري، الدعوات، باب استغفار النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الیوم واللیلۃ: ۶۳۰۷ ] ”اللہ کی قسم! میں دن میں ستر(۷۰) بار سے زیادہ اللہ سے استغفار اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔“ انسان پر آنے والی ان مصیبتوں کا انجام مومن و کافر کے حق میں ایک جیسا نہیں ہوتا، بلکہ وہ کافر کے لیے عذاب ہوتی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [ السجدۃ: ۲۱ ] ”اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔ “ اور مومن کے لیے گناہوں کی معافی، اجر اور درجات کی بلندی کا باعث بنتی ہیں۔ ابوسعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا يُصِيْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ، وَلاَ وَصَبٍ، وَلاَ هَمٍّ، وَلاَ حُزْنٍ، وَلاَ أَذًی، وَلاَ غَمٍّ، حَتَّی الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، إِلاَّ كَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ ] [ بخاري، المرضٰی، باب ما جاء في کفارۃ المرض: ۵۶۴۱، ۵۶۴۲ ] ”مومن کو جو بھی دکھ یا چوٹ یا فکر یا حزن یا تکلیف یا غم پہنچتا ہے، حتیٰ کہ کانٹا بھی جو اسے لگتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اس کے کچھ گناہ دور فرما دیتا ہے۔“ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ بچے اور دیوانے پر آنے والی مصیبتیں بھی کیا ان کے اعمال کا نتیجہ ہیں؟ جواب یہ ہے کہ آیت میں خطاب ان لوگوں سے ہے جو مکلف ہیں، بچے اور دیوانے مکلف ہی نہیں، نہ ان پر آنے والی مصیبتیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت آتی ہیں، جسے وہی بہتر جانتا ہے۔ بیماری اور مصیبت کے اجر اور درجات کی بلندی کا باعث بننے کی دلیل قرآن مجید کی آیات، مثلاً سورۂ توبہ کی آیت (۱۲۰) کے علاوہ بہت سی احادیث بھی ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخار میں تپ رہے تھے۔ میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ کو بہت سخت بخار ہوتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَجَلْ، إِنِّيْ أُوْعَكُ كَمَا يُوْعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ، قُلْتُ ذٰلِكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ أَجَلْ ذٰلِكَ كَذٰلِكَ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيْبُهُ أَذًی، شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلاَّ كَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا سَيِّئَاتِهِ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا ] [ بخاري، المرضٰی، باب أشد الناس بلاء الأنبیاء ثم الأمثل فالأمثل: ۵۶۴۸ ] ”ہاں، مجھے اتنا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو ہوتا ہے۔“ میں نے کہا: ”یہ اس لیے کہ آپ کو دو اجر ملتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! یہی بات ہے، جس مسلم کو بھی کوئی تکلیف پہنچے، کانٹاہو یا اس سے اوپر، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس کی برائیاں گرا دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔“ ➋ { وَ يَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۶۱) اور سورۂ فاطر (۴۵) کی تفسیر۔
تم زمین میں اپنے خدا کو عاجز کر دینے والے نہیں ہو، اور اللہ کے مقابلے میں تم کوئی حامی و ناصر نہیں رکھتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم ہمیں زمین میں عاجز کرنے والے نہیں ہو، تمہارے لیے سوائے اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی کارساز ہے نہ مددگار
احمد رضا خان بریلوی
اور تم زمین میں قابو سے نہیں نکل سکتے اور نہ اللہ کے مقابل تمہارا کوئی دوست نہ مددگار
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم زمین میں خدا کو عاجز و بےبس نہیں کر سکتے اور نہ ہی اللہ کے سوا تمہارا کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی مددگار۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ تم زمین میں(اللہ کو)کسی صورت عاجز کرنے والے ہو اور نہ اللہ کے علاوہ تمھارا کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے۔ کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہو چکے ہوں گے۔ اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو! تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّـهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ» [ 35-فاطر: 45 ] اگر ہر اک گناہ پر پکڑے تو تم زمین پر چل پھر بھی نہ سکو۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کو جو تکلیف سختی غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا لگنے کے عوض بھی۔ [صحیح بخاری:5642] جب آیت «فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» [ 99- الزلزلة: 8، 7 ] ، اتری اس وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے سن کر کھانے سے ہاتھ ہٹا لیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر برائی بھلائی کا بدلہ دیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا سنو طبیعت کے خلاف جو چیزیں ہوتی ہیں یہ سب برائیوں کے بدلے ہیں اور ساری نیکیاں اللہ کے پاس جمع شدہ ہیں ابو ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی مضمون اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30704] امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں کتاب اللہ شریف کی افضل ترین آیت سناؤں اور ساتھ ہی حدیث بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی اور میرا نام لے کر فرمایا سن میں اس کی تفسیر بھی تجھے بتا دوں تجھے جو بیماریاں سختیاں اور بلائیں آفتیں دنیا میں پہنچتی ہیں وہ سب بدلہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے بہت زیادہ ہے کہ پھر انہی پر آخرت میں بھی سزا کرے اور اکثر برائیاں معاف فرما دیتا ہے تو اس کے کرم سے یہ بالکل ناممکن ہے کہ دنیا میں معاف کی ہوئی خطاؤں پر آخرت میں پکڑے [ مسند احمد 85/1:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں یہی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی کے قول سے مروی ہے اس میں ہے کہ ابوحجیفہ رحمہ اللہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جسے یاد رکھنا ہر مومن کا فرض ہے پھر یہ تفسیر آیت کی اپنی طرف سے کر کے سنائی مسند میں ہے کہ مسلمان کے جسم میں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرماتا ہے۔ [مسند احمد:98/4:صحیح] مسند ہی کی اور حدیث میں ہے جب ایماندار بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے [مسند احمد:157/6:ضعیف] ابن ابی حاتم میں حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس آیت کے اترنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ لکڑی کی ذرا سی خراش ہڈی کی ذرا سی تکلیف یہاں تک کہ قدم کا پھسلنا بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہے اور ابھی اللہ کے عفو کئے ہوئے بہت سے گناہ تو یونہی مٹ جاتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30705:مرسل] ابن ابی حاتم ہی میں ہے کہ جب حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے جسم میں تکلیف ہوئی اور لوگ ان کی عیادت کو گئے تو حضرت حسن رحمہ اللہ نے کہا آپ کی یہ حالت تو دیکھی نہیں جاتی ہمیں بڑا صدمہ ہو رہا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کہو جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب گناہوں کا کفارہ ہے اور بھی بہت سے گناہ تو اللہ معاف فرما چکا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ ابو البلاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علاء بن بدر رحمہ اللہ سے کہا کہ قرآن میں تو یہ آیت ہے اور میں ابھی نابالغ بچہ ہوں اور اندھا ہو گیا ہوں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا یہ تیرے ماں باپ کے گناہوں کا بدلہ ہے حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھ کر بھول جانے والا یقیناً اپنے کسی گناہ میں پکڑا گیا ہے۔ اس کی اور کوئی وجہ نہیں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا بتاؤ تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو گی کہ انسان یاد کر کے کلام اللہ بھول جائے۔
31۔ 1 یعنی تم بھاگ کر کسی ایسی جگہ نہیں جاسکتے کہ جہاں تم ہماری گرفت میں نہ آسکو یا جو مصیبت ہم تم پر نازل کرنا چاہیں، اس سے تم بچ جاؤ۔
(آیت 31){ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نور (۵۷) اور سورۂ عنکبوت (۲۲) کی تفسیر۔
اُس کی نشانیوں میں سے ہیں یہ جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح نظر آتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور دریا میں چلنے والی پہاڑوں جیسی کشتیاں اس کی نشانیوں میں سے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی نشانیوں سے ہیں دریا میں چلنے والیاں جیسے پہاڑیاں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے وہ بڑے بڑے پہاڑ جیسے (بحری) جہاز ہیں جو سمندر میں چلتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی کی نشانیوں سے سمندر میں چلنے والے جہاز ہیں، جو پہاڑوں جیسے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہو جائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہو جائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لیے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کر لینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے۔ ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے۔ لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کر دیتی ہے۔
علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہو جائیں۔ الغرض اگر ہوا بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔ لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہو جائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہو جائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے۔
پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں «فَسُبْحَانَہُ مَا اَعْظَمَ شَاْنَہُ»
32۔ 1 سمندروں میں پہاڑوں جیسی کشتیاں اور جہاز اس کے حکم سے چلتے ہیں، ورنہ اگر وہ حکم دے تو سمندروں میں ہی کھڑے رہیں۔
(آیت 32) {وَ مِنْ اٰيٰتِهِ الْجَوَارِ فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ:” الْجَوَارِ “ ” جَارِيَةٌ “} (چلنے والی)کی جمع ہے، یعنی کشتی یا بحری جہاز، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» [ الحاقۃ: ۱۱ ] ”بے شک ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کر گیا تمھیں کشتی میں سوار کیا۔“ {”اَلْأَعْلَامُ “ ”عَلَمٌ“} کی جمع ہے، پہاڑ۔ اصل میں کوئی نشان جس سے کسی چیز کا علم ہو، مثلاً جھنڈا وغیرہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے سمندر میں چلنے والے بحری جہاز بھی ہیں جو پہاڑوں کی طرح بلند ہیں اور دور سے نظر آتے ہیں۔ پانی میں مخصوص حجم اور وزن والی چیز کو اٹھائے رکھنے کی خاصیت اللہ واحد کی پیدا کردہ ہے، جس کی وجہ سے وہ ہزاروں لاکھوں ٹن کے بحری جہازوں کو اپنے سینے پر اٹھائے رکھتا ہے، جن سے تم بے شمار منافع حاصل کرتے ہو۔ یہاں جہازوں کے لیے {”اَلْفُلْكُ“} کے بجائے {” الْجَوَارِ “} کے لفظ کے ساتھ اس نعمت کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ ان جہازوں کو پانی میں ڈوبنے سے بچائے رکھنے کے ساتھ انھیں پانی میں چلانے کی نعمت پر بھی غور کرو، اگر یہ نعمت نہ ہوتی تو جس طرح خشک زمین پر کھڑی عمارتیں اگرچہ زمین میں نہیں دھنستیں، مگر جتنی بھی تیز ہوا آ جائے ایک انچ بھی ادھر سے ادھر نہیں ہوتیں، اسی طرح یہ جہاز بھی پانی پر کھڑے رہتے۔ تو کوئی اور ہے تو لاؤ جو کہے کہ میں نے سمندر کو پیدا کیا، یا پانی میں یہ تاثیر رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید و قدرت کی اس نشانی اور عظیم نعمت کا متعدد مقامات پر ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ یٰس (۴۱ تا ۴۴)، بقرہ (۱۶۴)، نحل (۱۴) اور سورۂ فاطر (۱۲)۔
اللہ جب چاہے ہوا کو ساکن کر دے اور یہ سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں اِس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو کمال درجہ صبر و شکر کرنے والا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر وه چاہے تو ہوا بند کردے اور یہ کشتیاں سمندروں پر رکی ره جائیں۔ یقیناً اس میں ہر صبر کرنے والے شکرگزار کے لیے نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ چاہے تو ہوا تھما دے اس کی پیٹھ پر ٹھہری رہ جائیں بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر شاکر کو
علامہ محمد حسین نجفی
اگر وہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے تو وہ (جہاز) اس کی سطح پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں بےشک اس میں ہر بڑے صبر کرنے(اور) بڑے شکر کرنے والے کیلئے نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اگر وہ چاہے ہوا کو ٹھہرا دے تو وہ اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ بے شک اس میں ہر ایسے شخص کے لیے یقینا کئی نشانیاں ہیں جو بہت صبر کرنے والا، بہت شکر کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہو جائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہو جائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لیے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کر لینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے۔ ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے۔ لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کر دیتی ہے۔
علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہو جائیں۔ الغرض اگر ہوا بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔ لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہو جائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہو جائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے۔
پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں «فَسُبْحَانَہُ مَا اَعْظَمَ شَاْنَہُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 34،33) ➊ { اِنْ يَّشَاْ يُسْكِنِ الرِّيْحَ …: ” رَوَاكِدَ “ ”رَكَدَ يَرْكُدُ رُكُوْدًا“} (ن) سے اسم فاعل {”رَاكِدَةٌ“} کی جمع ہے۔ نزول قرآن کے وقت سمندر میں بادبانی کشتیاں اور جہاز چلتے تھے، جن کے چلنے نہ چلنے کا اور سست یا تیز رفتار سے چلنے کا دارو مدار ہوا پر ہوتا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سمندروں میں جہازوں کو چلانے والی ہواؤں کی تین حالتیں بیان فرمائی ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو ساکن کر دے اور جہاز جہاں کھڑے ہیں وہیں کھڑے رہ جائیں، پھر اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو اس ہوا کو چلا دے؟ ➋ { اَوْ يُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا:} اس کا عطف {” يُسْكِنِ الرِّيْحَ “} پر ہے، گویا عبارت اس طرح ہے: {”إِنْ يَّشَأْ يُسْكِنِ الرِّيْحَ أَوْ إِنْ يَّشَأْ يُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا “} یعنی ”اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کر دے یا اگر وہ چاہے تو ان کے اعمالِ بد کی وجہ سے تند و تیز طوفانی ہوا کے ساتھ انھیں ہلاک کر دے۔“ یہ ہوا کی دوسری حالت ہے، تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ایک اور آیت میں ہے، فرمایا: «حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَ جَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ» [ یونس:۲۲] ”یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ انھیں لے کر عمدہ ہوا کے ساتھ چل پڑتی ہیں اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں تو ان (کشتیوں) پر سخت تیز ہوا آجاتی ہے۔“ ➌ {وَ يَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ:} اس کا عطف بھی {” يُسْكِنِ الرِّيْحَ “} پر ہے: {” أَيْ وَ إِنْ يَّشَأْ يَعْفُ عَنْ كَثِيْرٍ فَلَا يُعَاقِبُهُمْ بِإِسْكَانِ الرِّيْحِ أَوْ بِإِرْسَالِهَا عَاصِفَةً“} یہ تیسری حالت ہے، یعنی اگر وہ چاہے تو بہت سے لوگوں سے درگزر کر دے، پھر نہ ہوا روک کر انھیں سزا دے اور نہ ہی تند و تیز طوفان کے ساتھ انھیں ہلاک کرے، بلکہ انھیں سلامتی کے ساتھ منزلِ مقصود پر پہنچا دے۔ {” يُسْكِنِ “، ” يُوْبِقْهُنَّ “} اور {” يَعْفُ “} تینوں {” اِنْ يَّشَاْ “} شرط کی جزا ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں۔ ➍ ان آیات میں جہاں مشرکین کے لیے اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان ہوئے ہیں وہیں مادہ پرست کمیونسٹوں اور دہریوں کا رد بھی ہے، کیونکہ ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہوا نہ اپنی مرضی سے چلتی ہے اور نہ ٹھہرتی ہے، نہ اپنی مرضی سے بادِ موافق ہو کر چلتی ہے اور نہ ہی تند و تیز آندھی کی شکل اختیار کرتی ہے، بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔ اگر ہوا کا چلنا اس کا طبعی فعل ہوتا تو جس طرح آگ جلاتی ہے اور برف ٹھنڈی ہوتی ہے ہوا بھی یا ساکن رہتی اور کبھی نہ چلتی یا چلتی رہتی اور ہمیشہ تند و تیز آندھی کی صورت اختیار کیے رکھتی۔ معلوم ہوا کہ ہوا کا چلنا خود اس کا فعل نہیں بلکہ یہ اس مالک و مختار کے ہاتھ میں ہے جس نے اسے پیدا فرمایا ہے۔ ➎ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اتنی واضح اور عظیم نشانیوں کے باوجود مشرک اور دہریے ان سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ جواب کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ لقمان کی آیت (۳۱) کی تفسیر۔ ➏ یہاں یہ سوال پیدا ہو گا کہ آج کل جہاز ہوا سے نہیں چلتے بلکہ انجنوں کی طاقت سے چلتے ہیں، پھر ہوا کے رکنے سے ان پر کیا اثر ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انجن بھی عقب میں ہوا کے ساتھ پانی کو پیچھے دھکیلتے ہوئے جہازوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ {”الرِّيْحَ “} کا لفظ اس ریح کو بھی شامل ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان انجنوں میں ایسی خرابی پیدا کر دے کہ وہ ایک ہی جگہ کھڑے رہ جائیں۔ (تفسیر ثنائی بتصرف)
یا (اُن پر سوار ہونے والوں کے) بہت سے گناہوں سے در گزر کرتے ہوئے ان کے چند ہی کرتوتوں کی پاداش میں انہیں ڈبو دے
مولانا محمد جوناگڑھی
یا انہیں ان کے کرتوتوں کے باعﺚ تباه کردے، وه تو بہت سے خطاؤں سے درگزر فرمایا کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
یا انہیں تباہ کردے لوگوں کے گناہوں کے سبب اور بہت معاف فرمادے
علامہ محمد حسین نجفی
یا اگر وہ چاہے تو ان (جہازوں) کو تباہ کر دے ان لوگوں کے (برے) اعمال کی وجہ سے اور اگر چاہے تو (ان کے) بہت سے (لوگوںیا گناہوں سے) درگزر فرمائے۔
عبدالسلام بن محمد
یا وہ انھیں اس کی وجہ سے ہلاک کر دے جو انھوں نے کمایا اور (چاہے تو )بہت سے لوگوں سے درگزر کردے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہو جائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہو جائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لیے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کر لینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے۔ ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے۔ لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کر دیتی ہے۔
علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہو جائیں۔ الغرض اگر ہوا بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔ لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہو جائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہو جائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے۔
پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں «فَسُبْحَانَہُ مَا اَعْظَمَ شَاْنَہُ»
34۔ 1 یعنی سمندر کو حکم دے اور اس کی موجوں میں طغیانی آجائے اور یہ ان میں ڈوب جائیں۔ 34۔ 2 ورنہ سمندر میں سفر کرنے والا کوئی بھی سلامتی کے ساتھ واپس نہ آسکے۔
اور اُس وقت ہماری آیات میں جھگڑے کرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تاکہ جو لوگ ہماری نشانیوں میں جھگڑتے ہیں وه معلوم کرلیں کہ ان کے لیے کوئی چھٹکارا نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جان جائیں وہ جو ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں، کہ انہیں کہیں بھا گنے کی جگہ نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو جائے جو ہماری آیتوں کے بارے میں جھگڑتے ہیں کہ ان کیلئے کوئی جائے فرار نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور (تاکہ) وہ لوگ جو ہماری آیا ت میں جھگڑتے ہیں، جان لیں کہ ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہو جائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہو جائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لیے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کر لینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے۔ ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے۔ لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کر دیتی ہے۔
علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہو جائیں۔ الغرض اگر ہوا بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔ لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہو جائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہو جائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے۔
پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں «فَسُبْحَانَہُ مَا اَعْظَمَ شَاْنَہُ»
35۔ 1 یعنی اللہ کے عذاب سے وہ کہیں بھاگ کر چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتے۔
(آیت 35) {وَ يَعْلَمَ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا …:} یہاں سوال ہے کہ {” يَعْلَمَ “} پر نصب کیوں ہے اور ”واؤ“ کے ساتھ عطف کس پر ڈالا گیا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس جملے کا عطف ایک محذوف جملے پر ہے، جس میں اس بات کی علت بیان کی گئی ہے کہ ہوائیں جہازوں کے لیے کبھی موافق، کبھی شدید ترین مخالف اور کبھی ساکن کیوں ہوتی ہیں اور {” يَعْلَمَ “} پر نصب {”لَامِ كَيْ“} کی وجہ سے آیا ہے جس کے بعد {”أَنْ“} ناصبہ مقدر ہوتا ہے۔ گویا پوری عبارت اس طرح ہے: {” اَللّٰهُ فَعَلَ ذٰلِكَ لِيَعْتَبِرَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ لِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْ آيَاتِنَا “} یعنی اللہ تعالیٰ نے کشتیوں اور ہواؤں کا یہ معاملہ اس لیے ذکر فرمایا ہے تاکہ مومن اس سے عبرت حاصل کریں اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلانے کے لیے جھگڑا کرتے ہیں وہ جان لیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بھاگ کر جانے کی کوئی جگہ نہیں۔ ہو سکتا ہے یہ جاننے کے بعد وہ اللہ کی آیات پر ایمان لے آئیں۔ بعض مفسرین نے محذوف جملے کے لیے اس سے مختلف الفاظ بھی ذکر فرمائے ہیں، مقصد سب کا یہی ہے کہ {” وَ يَعْلَمَ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا “} میں گزشتہ چیزوں کی علت بیان ہوئی ہے۔ علت والے جملے کے حذف کی قرآن مجید میں کئی مثالیں ملتی ہیں، جیسے فرمایا: «وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰيَةً لِّلنَّاسِ» [ مریم: ۲۱ ] ”اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے بہت بڑی نشانی بنائیں۔“ اور جیسے فرمایا: «وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ» [ الجاثیۃ: ۲۲ ] ”اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلا دیا جائے جو اس نے کمایا۔“
جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سر و سامان ہے، اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائدار بھی وہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تو تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وه زندگانی دنیا کا کچھ یونہی سا اسباب ہے، اور اللہ کے پاس جو ہے وه اس سے بدرجہ بہتر اور پائیدار ہے، وه ان کے لیے ہے جو ایمان ﻻئے اور صرف اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تمہیں جو کچھ ملا ہے وہ جیتی دنیا میں برتنےکا ہے اور وہ جو اللہ کے پاس ہے بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ صرف دنیٰوی زندگی کا (چند روزہ) ساز و سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر بھی ہے اور زیادہ پائیدار بھی ان لوگوں کیلئے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس تمھیںجو بھی چیز دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا معمولی سامان ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
درگزر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بے قدری اور اس کی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیئے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیئے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیئے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر، کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں، اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہو جائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیئے۔
اس جملہ کی تفسیر سورۃ الاعراف میں گذر چکی ہے۔ غصے پر قابو چاہیئے کہ عین غصے اور غضب کی حالت میں بھی خوش خلقی اور درگذر کی عادت نہ چھوٹے چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے نفس کا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں اگر اللہ کے احکام کی بےعزتی اور بے توقیری ہوتی ہو تو اور بات ہے۔ [صحیح بخاری:3560] اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ [صحیح بخاری:6031] حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آ کر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے۔ ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔
بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے «وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر» [ 3- آل عمران: 159 ] یعنی ان سے مشورہ کر لیا کرو اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کر لیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہو جائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا اور وفات کا وقت آ گیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔
پس سب نے باتفاق رائے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لیے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بیزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کر سکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آ کر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ [12-يوسف:92] ۔ اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔
اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر قبضہ کر لیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ [صحیح بخاری:4135] اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے درگذر فرما لے۔ [صحیح بخاری:5763] اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ [صحیح بخاری:3169] معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے کہ اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی۔ اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
36۔ 1 یعنی معمولی اور حقیر ہے، چاہے قارون کا خزانہ ہی کیوں نہ ہو، اس لئے اس سے دھوکے میں مبتلا نہ ہونا کہ یہ عارضی اور فانی ہے۔ 36۔ 2 یعنی نیکیوں کا جو اجر وثواب اللہ کے ہاں ملے گا وہ متاع دنیا سے کہیں بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی، کیونکہ اس کو زوال اور فنا نہیں، مطلب ہے دنیا کو آخرت پر ترجیح مت دو، ایسا کرو گے تو پچھتاؤ گے۔
(آیت 36) ➊ {فَمَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا: ”مَتَاعٌ“} وہ چیز جس سے فائدہ اٹھایا جائے، برتنے کی چیز جو جلدی ختم ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور قدرت و سلطنت کے دلائل مثلاً بندوں کے لیے بارش برسانے، انھیں حسبِ حکمت رزق عطا فرمانے، آسمان و زمین کو پیدا کرنے، ان میں بے شمار جانداروں کو پھیلانے، سمندروں میں پہاڑوں جیسے بلند جہازوں کے چلنے اور انھیں پیش آنے والے احوال ذکر کرنے کے بعد دنیا کی زندگی کے سازو سامان کے بے وقعت اور عارضی ہونے کا ذکر فرمایا، کیونکہ دنیا کی زیب و زینت ہی انسان کو دلائل پر غور و فکر کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ جب وہ اس کی حقیقت سے آگاہ ہو گا اور وہ اس کی نگاہ میں حقیر ہو گی تو اسے آخرت کی طرف توجہ کا موقع ملے گا اور وہ دلائل پر غور بھی کرے گا۔ ➋ دنیا میں انسان کو جو چیز بھی دی گئی ہے، وہ خواہ کتنی زیادہ ہو یا کتنی قیمتی ہو، اس میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس پر انسان پھول جائے اور آخرت سے بے پروا ہو جائے، کیونکہ ایک تو وہ بہت تھوڑی مدت کے لیے اس کے استعمال میں آتی ہے، پھر وہ سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ یہاں سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ملکیت میں خواہ کتنی لمبی چوڑی جائداد یا دولت ہو عملاً اس کے استعمال میں اس کا معمولی سا حصہ ہی آتا ہے۔ اے انسان! تیرے لیے اس لمبی چوڑی جائداد میں سے وہی ہے: [ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ] [ مسلم، الزھد و الرقائق، باب: ۲۹۵۸ ] ”جو تو نے کھا لیا اور فنا کر دیا، یا جو پہن لیا اور پرانا کر دیا۔“ ایسی ناپائیدار چیز کے پیچھے اپنی عمر عزیز وہ شخص کبھی برباد نہیں کر سکتا جو اس کی حقیقت سے آگاہ ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ رعد (۲۶)۔ ➌ {وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى:} جو دولت و نعمت اللہ کے پاس ہے وہ ہر لحاظ سے دنیا کے ساز و سامان سے بہتر بھی ہے اور پائیدار اور لازوال بھی۔ ➍ { لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ:} یہاں سے ان لوگوں کی صفات بیان فرمائیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں آخرت میں ملنے والی نعمتوں کے حق دار ہوں گے۔ ان میں سب سے پہلی صفت {” اٰمَنُوْا “} ماضی کے صیغے کے ساتھ ہے اور {” يَتَوَكَّلُوْنَ “} مضارع کے صیغے کے ساتھ کا مطلب یہ ہے کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر ایمان لا چکے اور ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، اس کی تقدیر اور اس کے روز جزا پر پورا یقین آ چکا، اب ان کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے ہر کام میں ہمیشہ صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں، کسی اور سے انھیں نہ نفع کی امید ہے نہ کسی نقصان کا خوف۔ {” يَتَوَكَّلُوْنَ “} مضارع کا صیغہ ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے۔
جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور اگر غصہ آ جائے تو درگزر کر جا تے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کبیره گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور غصے کے وقت (بھی) معاف کردیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے معاف کردیتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ جو بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جو بڑے گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب بھی غصے ہوتے ہیں وہ معاف کر دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
درگزر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بے قدری اور اس کی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیئے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیئے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیئے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر، کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں، اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہو جائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیئے۔
اس جملہ کی تفسیر سورۃ الاعراف میں گذر چکی ہے۔ غصے پر قابو چاہیئے کہ عین غصے اور غضب کی حالت میں بھی خوش خلقی اور درگذر کی عادت نہ چھوٹے چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے نفس کا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں اگر اللہ کے احکام کی بےعزتی اور بے توقیری ہوتی ہو تو اور بات ہے۔ [صحیح بخاری:3560] اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ [صحیح بخاری:6031] حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آ کر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے۔ ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔
بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے «وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر» [ 3- آل عمران: 159 ] یعنی ان سے مشورہ کر لیا کرو اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کر لیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہو جائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا اور وفات کا وقت آ گیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔
پس سب نے باتفاق رائے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لیے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بیزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کر سکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آ کر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ [12-يوسف:92] ۔ اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔
اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر قبضہ کر لیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ [صحیح بخاری:4135] اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے درگذر فرما لے۔ [صحیح بخاری:5763] اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ [صحیح بخاری:3169] معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے کہ اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی۔ اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
37۔ 1 یعنی لوگوں سے عفو و درگزر کرنا ان کے مزاج و طبیعت کا حصہ ہے نہ کہ انتقام اور بدلہ لینا جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے ' نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے کبھی بدلہ نہیں لیا، ہاں اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کا توڑا جانا آپ کے لئے ناقابل برداشت تھا۔
(آیت 37) ➊ { وَ الَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىِٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ:} ایمان و توکل کے بعد پہلے ان چیزوں کا ذکر فرمایا جن سے اجتناب ضروری ہے، وہ ہیں کبائر و فواحش اور غضب۔ ”كبائر“ کی تعریف کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۳۱)۔ {” الْفَوَاحِشَ “ ” فَاحِشَةٌ “} کی جمع ہے، کوئی بھی قول یا فعل جس کی قباحت حد سے بڑھی ہوئی ہو، مثلاً زنا، قوم لوط کا عمل اور شدید بخل وغیرہ۔ (دیکھیے سورۂ بقرہ: ۲۶۸) آیت میں ”كبائر“ کا لفظ عام ہے، جس میں فواحش بھی آ جاتے ہیں، مگر ”فواحش“ کا ذکر ان سے نفرت دلانے کے لیے خاص طور پر الگ بھی فرمایا۔ شیخ عبد الرحمان السعدی نے فرمایا کہ فواحش ان بڑے گناہوں کو کہتے ہیں جن کی رغبت انسانی طبیعت میں پائی جاتی ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۳۲)۔ ➋ { وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ يَغْفِرُوْنَ:} غصے کی حالت میں معاف کر دینے کا ذکر خاص طور پر فرمایا، کیونکہ یہ کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جو نہایت مضبوط ارادے کے مالک ہوں، کیونکہ عموماً غصے میں آدمی عقل و ہوش سے عاری ہو جاتا ہے۔ اس حال میں اپنے آپ پر قابو رکھنا آدمی کی کمالِ عقل اور ضبطِ نفس کی دلیل ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيْسَ الشَّدِيْدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيْدُ الَّذِيْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ] [ بخاري، الأدب، باب الحذر من الغضب: ۶۱۱۴ ] ”پہلوان وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دے، پہلوان صرف وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں عفو و درگزر کی خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ (دیکھیے آل عمران: ۱۵۹) عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [ مَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِيْ شَيْءٍ يُؤْتٰی إِلَيْهِ حَتّٰی يُنْتَهَكَ مِنْ حُرُمَاتِ اللّٰهِ فَيَنْتَقِمُ لِلّٰهِ ] [بخاري، الحدود، باب کم التعزیر و الأدب؟: ۶۸۵۳ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی معاملے کا انتقام نہیں لیا جو آپ سے کیا گیا۔ ہاں! اللہ تعالیٰ کی حرمتوں میں سے کسی کو توڑا جاتا تو آپ اللہ کی خاطر انتقام لیتے۔“ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۳۳، ۱۳۴) خلفائے راشدین میں بھی یہ وصف بدرجہ کمال موجود تھا، جیسا کہ ان کی سیرت سے ظاہر ہے۔
جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں، ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے، اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہمارے نام پر) دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز قائم رکھی اور ان کا کام ان کے آپس کے مشورے سے ہے اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو اپنے پروردگار کے حکم کو مانتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کے (تمام) کام باہمی مشورہ سے طے ہوتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے وہ اس سے خرچ کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز قائم کی اور ان کا کام آپس میں مشورہ کرنا ہے اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اللہ ہوتا ہے آیت «وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر» [ 3- آل عمران: 159 ] یعنی ان سے مشورہ کر لیا کرو اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کر لیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہو جائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المؤمنین عمر نے جب کہ آپ کو زخمی کر دیا گیا اور وفات کا وقت آ گیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔ پس سب نے باتفاق رائے عثمان کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لیے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بیزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کر سکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آ کر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔ اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے اس نے آپ کی تلوار پر قبضہ کر لیا جب آپ جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا آپ نے صحابہ کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ نے اس سے درگذر فرما لے اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ کو زہر دیا تھا آپ نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
38۔ 1 یعنی اس کے حکم کی اطاعت، اس کے رسول کا اتباع اور اسکے حکم کو نہ ماننے سے پرہیز کرتے ہیں 38۔ 2 نماز کی پابندی اور اقامت کا بطور خاص ذکر کیا کہ عبادت میں اس کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔
(آیت 38) ➊ { وَ الَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ:} واجب الاجتناب چیزوں کے بعد ان اوصاف کا ذکر فرمایا جن سے آراستہ ہونا ضروری ہے۔ وہ چار ہیں، جن پر عمل اتحادِ امت کا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔ اجابت اور استجابت دونوں کا معنی ”قبول کرنا “ہے، مگر استجابت میں حروف زائد ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ پیدا ہو گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا رب انھیں جس کام کے لیے بلاتا ہے وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں، نہ دیر کرتے ہیں نہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں اور ان کے رب کا ان سے تقاضا بھی یہی ہے۔ دیکھیے سورۂ انفال (۲۴)۔ ➋ { وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ:} ان چار اوصاف میں سے سب سے پہلے نماز قائم کرنے کا ذکر فرمایا، کیونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد سب سے پہلا اور سب سے اہم فریضہ یہی نماز قائم کرنا ہے جو سب کے سامنے مسلم و کافر کے درمیان خط امتیاز کھینچ دیتا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۵، ۱۱)۔ ➌ { وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ:” شَارَ يَشُوْرُ شَوْرًا “} (ن) {” وَاشْتَارَ الْعَسَلَ“} چھتے سے شہد نکالنا۔ مشورے کو مشورہ اور شوریٰ اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ بہت سے لوگوں کی رائے حاصل کرنے کا نام ہے۔ یہ دوسرا وصف ہے۔ وہ کام جن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح احکام موجود ہیں ان میں مشورے کی ضرورت ہے نہ اجازت کی، ان میں استجابت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ ان کے علاوہ مسلمانوں کے ایک دوسرے سے تعلق رکھنے والے تمام معاملات باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ تمام لوگوں کی بہتر سے بہتر رائے سے آگاہ ہو کر بہترین بات تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی شخص اپنے آپ کو عقلِ کل نہیں سمجھتا کہ اپنی رائے کو حرف آخر قرار دے کر اس پر اصرار کرے اور فرعون کی طرح کہے: «مَاۤ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ» [ المؤمن: ۲۹ ] ”میں تو تمھیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود رائے رکھتا ہوں اور میں تمھیں بھلائی کا راستہ ہی بتا رہا ہوں۔ “ کیونکہ یہ رویہ کوئی متکبر شخص ہی اختیار کرتا ہے، جو دوسروں کو اور ان کی رائے کو کوئی وزن نہ دے، مومن کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا» [ القصص: ۸۳ ] ”یہ آخری گھر، ہم اسے ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو نہ زمین میں کسی طرح اونچا ہونے کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ کسی فساد کا۔“ مومن ہمیشہ خائف رہتا ہے کہ اس سے فہم کی غلطی ہو جائے یا لاعلمی کی وجہ سے یا شیطان یا نفس کے دخل سے غلط فیصلہ کر بیٹھے، اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے مشورہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے صحابہ سے مشورے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ان امور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مشورہ کیا جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے صریح حکم نہیں تھا۔ ➍ آج کل بہت سے لوگ ”شوريٰ “ سے مراد جمہوریت اور ووٹ لیتے ہیں، حالانکہ مشورہ تو خلیفہ بھی کرتا ہے، بادشاہ بھی، جیسے ملکہ سبا نے کیا اور چھوٹے سے چھوٹے کنبے کا سربراہ بھی، کیونکہ اس کے بغیر کوئی کام درست طریقے سے چل ہی نہیں سکتا۔ اگر نہ کرنا چاہے تو جمہوری وزیر اعظم بھی مشورے کے بجائے اپنی پارٹی کے ارکان کو اپنی استبدادی رائے پر مجبور کر سکتا ہے، جیسا کہ ہم اپنے ملک میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔ مشورے اور جمہوریت کے فرق کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ آلِ عمران کی آیت (۱۵۹): «وَ شَاوِرْهُمْ فِي الْاَمْرِ» کی تفسیر۔ سورۂ نمل کی آیت (۳۲) کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔ ➎ { وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ:} یہ تیسرا وصف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۳) کی تفسیر۔
اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ان پر ﻇلم (و زیادتی) ہو تو وه صرف بدلہ لے لیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ کہ جب انہیں بغاوت پہنچے بدلہ لیتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان پر تعدی و زیادتی کی جاتی ہے تو وہ (واجبی) بدلہ لیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی واقع ہوتی ہے وہ بدلہ لیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اللہ ہوتا ہے آیت «وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر» [ 3- آل عمران: 159 ] یعنی ان سے مشورہ کر لیا کرو اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کر لیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہو جائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المؤمنین عمر نے جب کہ آپ کو زخمی کر دیا گیا اور وفات کا وقت آ گیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔ پس سب نے باتفاق رائے عثمان کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لیے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بیزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کر سکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آ کر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔ اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے ہوئے اس نے آپ کی تلوار پر قبضہ کر لیا جب آپ جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا آپ نے صحابہ کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ نے اس سے درگذر فرما لے اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ کو زہر دیا تھا آپ نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 39) {وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ …:} یہ چوتھا وصف ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے پہلے ان کا وصف غصے کے وقت معاف کر دینا ذکر فرمایا ہے اور یہاں انتقام کو ان کی خوبی قرار دیا ہے، تطبیق کیا ہے؟ اس کا بہترین جواب مشہور تابعی ابراہیم نخعی نے دیا ہے، انھوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا طرزِ عمل بیان کرتے ہوئے فرمایا: {” كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ يَكْرَهُوْنَ أَنْ يَّسْتَذِلُّوْا وَ كَانُوْا إِذَا قَدَرُوْا عَفَوْا۔“} [ ابن کثیر بحوالہ ابن أبي حاتم: ۱۸۴۸۶، وقال حکمت بن بشیر سندہ صحیح ] ”مومن یہ بات ناپسند کرتے تھے کہ ذلت قبول کریں، مگر جب قدرت پاتے تو معاف کر دیتے تھے۔“ خلاصہ یہ ہے کہ اگر معاف کرنا مجرم کے جرم سے باز آنے کا باعث ہو تو عفو افضل ہے، لیکن اگر معاف کرنے سے اس کی سرکشی میں اور جرم پر جرأت میں اضافہ ہو تو انتقام لینا چاہیے۔ دلیل اس کی لفظ {” الْبَغْيُ “} (سرکشی) ہے۔ ایک شاعر نے کہا ہے: {إِذَا أَنْتَ أَكْرَمْتَ الْكَرِيْمَ مَلَكْتَهُ وَ إِنْ أَنْتَ أَكْرَمْتَ اللَّئِيْمَ تَمَرَّدَا} ”جب تم کسی معزز آدمی کی عزت کرو گے تو اس کے مالک بن جاؤ گے اور اگر تم کمینے کی عزت کرو گے تو وہ سرکش ہو جائے گا۔“ ابن کثیر نے فرمایا، یعنی ان میں اس شخص سے انتقام لینے کی قوت ہوتی ہے جو ان پر ظلم اور زیادتی کرے، نہ وہ عاجز ہوتے ہیں نہ ذلیل، بلکہ جو سرکشی کرے اس سے انتقام کی قدرت رکھتے ہیں، اس کے باوجود جب قابو پا لیتے ہیں تو معاف کر دیتے ہیں، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا: «لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ» [ یوسف: ۹۲ ] ”آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمھیں بخشے۔“ حالانکہ وہ ان کے مؤاخذے پر اور اس سلوک کا بدلا لینے پر پوری قدرت رکھتے تھے جو انھوں نے ان کے ساتھ کیا تھا اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ان لوگوں سے فرمایا جنھوں نے آپ سے دشمنی کی انتہا کر دی تھی اور جن کی گردنیں آپ کے ایک اشارے سے تن سے جدا ہو سکتی تھیں: [ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ] [ السنن الکبرٰی للنسائي: ۱۱۲۹۸ ] اور جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اسی (۸۰) آدمیوں کو معاف کر دیا جو کوہِ تنعیم سے آپ پر حملہ آور ہونے کے لیے اترے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر قابو پا لیا تو قدرت کے باوجود ان پر احسان فرما دیا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غورث بن حارث کو معاف کر دیا، جس نے آپ کو اچانک قتل کرنے کا ارادہ کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے تو اس نے آپ کی تلوار میان سے نکال لی، آپ بیدار ہوئے تو وہ ننگی اس کے ہاتھ میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑکا تو اس نے نیچے رکھ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو بلا کر ساری بات بتائی اور اسے معاف کر دیا۔ (دیکھیے بخاری: ۴۱۳۶) اسی طرح لبید بن اعصم کو معاف کر دیا جس نے آپ پر جادو کیا تھا، اس سے باز پرس بھی نہیں فرمائی۔ (دیکھیے بخاری: ۵۷۶۵) اسی طرح اس یہودی عورت زینب کو معاف فرما دیا جو خیبر کے یہودی مرحب کی بہن تھی، جسے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا، جس نے خیبر کے موقع پر بکری کے بازو میں زہر ملا دیا تھا، بکری کے اس بازو نے آپ کو اس کی اطلاع دے دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلایا تو اس نے اعتراف کر لیا۔ آپ نے اس سے کہا کہ تمھیں اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا، میرا ارادہ یہ تھا کہ اگر آپ نبی ہوئے تو یہ آپ کو نقصان نہیں دے گی اور اگر نبی نہ ہوئے تو ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، مگر جب اس زہر کی وجہ سے بشر بن براء رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قصاص میں اسے قتل کر دیا۔ (دیکھیے بخاری: ۳۱۶۹۔ ابو داود: ۴۵۰۹، ۴۵۱۱) ایسی احادیث اور بھی بہت ہیں۔ (و للہ الحمد) یہ تمام واقعات بخاری و مسلم دونوں میں یا ان میں سے ایک میں موجود ہیں۔
برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے، اور جو معاف کر دے اور اصلاح کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، (فی الواقع) اللہ تعالیٰ ﻇالموں سے محبت نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
اور برائی کا بدلہ اسی کی برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو
علامہ محمد حسین نجفی
اور برائی کا بدلہ تو ویسے ہی برائی ہے اور جو معاف کر دے اورا صلاح کرے تو اس کا اجر خدا کے ذمہ ہے بیشک وہ (اللہ) ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور کسی برائی کا بدلہ اس کی مثل ایک برائی ہے، پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بے شک وہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
برائی کا بدلہ لینا جائز ہے ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے۔ جیسے فرمایا «فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» [ 2- البقرة: 194 ] اور آیت میں ہے «وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ» [ 16- النحل: 126 ] یعنی خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر اسے معاف کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو جائے گا۔ یہاں بھی فرمایا جو شخص معاف کر دے اور صلح و صفائی کر لے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ حدیث میں ہے درگذر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت اور بڑھا دیتا ہے۔ [صحیح مسلم:2588] لیکن جو بدلے میں اصل جرم سے بڑھ جائے وہ اللہ کا دشمن ہے۔ پھر برائی کی ابتداء اسی کی طرف سے سمجھی جائے گی پھر فرماتا ہے جس پر ظلم ہو اسے بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ حضرت ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں اس لفظ «انتَصَرَ» کی تفسیر کی طلب میں تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان رحمہ اللہ نے بروایت اپنی والدہ ام محمد کے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جایا کرتی تھیں بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گئے اس وقت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا وہاں موجود تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھا صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا تو سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اشارے سے بتایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت پر بھی خاموش نہ ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دی کہ جواب دیں۔ اب جو جواب ہوا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا عاجز آ گئیں اور سیدھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں اور کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمہیں یوں یوں کہتی ہیں اور ایسا ایسا کرتی ہیں۔ یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا قسم رب کعبہ کی! عائشہ رضی اللہ عنہا سے میں محبت رکھتا ہوں یہ تو اسی وقت واپس چلی گئیں۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سارا واقعہ کہہ سنایا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور آپ سے باتیں کیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30729:ضعیف]
یہ روایت ابن جریر میں اسی طرح ہے لیکن اس کے راوی اپنی روایتوں میں عموماً منکر حدیثیں لایا کرتے ہیں اور یہ روایت بھی منکر ہے نسائی اور ابن ماجہ میں اس طرح ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا غصہ میں بھری ہوئی بلا اطلاع سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلی آئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نسبت کچھ کہا پھر عائشہ سے لڑنے لگیں لیکن مائی صاحبہ نے خاموشی اختیار کی جب وہ بہت کہہ چکیں تو آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تو اپنا بدلہ لے لے پھر جو صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دینے شروع کئے تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا تھوک خشک ہو گیا۔ کوئی جواب نہ دے سکیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے وہ صدمہ مٹ گیا۔ [سنن ابن ماجہ:1981،قال الشيخ الألباني:صحیح] حاصل یہ ہے کہ مظلوم ظالم کو جواب دے اور اپنا بدلہ لے لے۔ بزار میں ہے ظالم کے لیے جس نے بد دعا کی اس نے بدلہ لے لیا۔ [سنن ترمذي:3552،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہی حدیث ترمذی میں ہے لیکن اس کے ایک راوی میں کچھ کلام ہے پھر فرماتا ہے حرج و گناہ ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور زمین میں بلا وجہ شرو فساد کریں۔
40۔ 1 یہ (قصاص (بدلہ لینے) کی اجازت ہے۔ برائی کا بدلہ اگرچہ برائی نہیں ہے لیکن مشکلات کی وجہ سے اسے بھی برائی ہی کہا گیا ہے۔
(آیت 40) ➊ { وَ جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا:} سرکشی کرنے والوں سے انتقام کا ذکر مدح کے انداز میں کرنے پر خطرہ تھا کہ انتقام میں حد سے تجاوز نہ ہو جائے، اس لیے اس آیت میں کئی طرح سے زیادتی سے باز رکھنے کا اہتمام فرمایا۔ سب سے پہلے تو یہ کہہ کر کہ {” جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ “} (برائی کا بدلا برائی ہے) حالانکہ بدلا تو برائی نہیں، مگر دونوں کی صورت ایک ہونے کی وجہ سے بدلے پر بھی {” سَيِّئَةٌ “} کا لفظ بولا۔ پھر یہ پابندی لگائی کہ انتقام زیادتی کے عین برابر ہو، اس سے زیادہ نہ ہو، جیسا کہ فرمایا: «فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ» [ البقرۃ: ۱۹۴ ] ”پس جو تم پر زیادتی کرے سو تم اس پر زیادتی کرو، اس کی مثل جو اس نے تم پر زیادتی کی ہے۔“ اور فرمایا: «وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ» [ النحل: ۱۲۶ ] ”اور اگر تم بدلا لو تو اتنا ہی بدلا لو جتنی تمھیں تکلیف دی گئی ہے۔“ ➋ { ” وَ جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا “} سے جو احکام حاصل ہوتے ہیں ان میں سے چند کے لیے دیکھیے سورۂ نحل کی آیت (۲۶) کی تفسیر۔ ➌ { فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ:} ظاہر ہے انتقام لیتے ہوئے اس زیادتی سے ذرّہ برابر اضافہ نہ ہونے دینا جو کی گئی ہے محال نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے، اس لیے آخر میں پھر عفو و اصلاح کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس کا اجر اپنے ذمے لیا۔ {” فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ “} (تو اس کا اجر اللہ پر ہے) اس جملے میں اجر کی جو عظمت بیان ہوئی ہے وہ کسی بھی تفصیل سے اس طرح بیان نہیں ہو سکتی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَ مَا زَادَ اللّٰهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللّٰهُ ] [ مسلم، البر والصلۃ، باب استحباب العفو و التواضع:۲۵۸۸] ”صدقہ کسی مال میں کمی نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ معاف کر دینے کی وجہ سے بندے کی عزت ہی میں اضافہ کرتا ہے اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر نیچا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اونچا کر دیتا ہے۔“ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے یہاں فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا بہت عمدہ کلام نقل فرمایا ہے، جس میں انھوں نے دو آیات کے حوالے سے اور طبعی وعقلی حوالے سے عفو کی فضیلت بیان کی ہے۔ انھوں نے فرمایا: ”جب کوئی شخص تمھارے پاس کسی شخص کی شکایت لے کر آئے تو اسے کہو، میرے بھائی! اسے معاف کر دو، کیونکہ عفو تقویٰ کے زیادہ قریب ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى» [ البقرۃ: ۲۳۷ ] ”اور یہ (بات) کہ تم معاف کر دو تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔“ اگر وہ کہے میرا دل معاف کرنے کو برداشت نہیں کرتا، میں تو انتقام لوں گا، جیسے مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو اسے کہو، اگر تم اچھے طریقے سے انتقام لے سکتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ عفو کی طرف پلٹ آؤ، یہ بہت وسعت والا دروازہ ہے، کیونکہ جو معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، فرمایا: «فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ» [ الشورٰی: ۴۰ ] ”پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔“ اور معاف کر دینے والا رات سکون سے بستر پر سو جاتا ہے، جبکہ انتقام لینے والا مختلف معاملات کی وجہ سے پہلو بدلتا رہتا ہے۔“ [ ابن أبي حاتم: ۱۰/ ۳۲۸۰، ح: ۱۸۴۸۸، قال المحقق سندہ صحیح ] ➍ { اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ:} سب سے پہلے تو ظالم وہ ہے جو ظلم کرنے میں پہل کرتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَی الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُوْمُ ] [ مسلم، البر و الصلۃ، باب النھي عن السباب: ۲۵۸۷ ] ”دو گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ بھی کہیں وہ پہل کرنے والے پر ہے، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے۔“ پھر مظلوم اگر انتقام میں حد سے بڑھ جائے تو ظالم شمار ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہو گا۔ ➎ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بدلے کے تین مراتب بیان فرمائے ہیں، عدل، فضل اور ظلم۔ عدل کا مرتبہ{” جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا “} میں بیان ہوا ہے کہ بدلے میں نہ زیادتی ہو نہ کمی، جان کے بدلے جان، ہر عضو کے بدلے اس کے برابر عضو، اسی طرح مال پر زیادتی کا معاملہ ہے۔ فضل کا مرتبہ زیادتی کرنے والے سے عفو اور اس کی اصلاح ہے۔ {” فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ “} اس جملے میں عفو کی ترغیب ہے کہ جس طرح تم اللہ تعالیٰ سے معافی کے خواہش مند اور امید وار ہو اسی طرح تم بھی عفو و درگزر سے کام لو، فرمایا: «وَ لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ» [ النور: ۲۲ ] ”اور لازم ہے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے۔ “ اگر عفو سے مجرم کی اصلاح نہیں ہوتی بلکہ اس کی سرکشی میں اضافہ ہوتا ہے تو مصلحت عفو نہیں انتقام ہے۔ اور ظلم کا مرتبہ یہ ہے کہ اس پر جتنی زیادتی کی گئی تھی اس سے بڑھ کر زیادتی کرے۔ پہلے مظلوم تھا اب ظالم بن جائے گا اور اللہ کی محبت سے محروم ہو جائے گا۔ (سعدی)
اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کو ملامت نہیں کی جا سکتی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو شخص اپنے مظلوم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے لے تو ایسے لوگوں پر (الزام کا) کوئی راستہ نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بے شک جس نے اپنی مظلو می پر بدلہ لیا ان پر کچھ مواخذہ کی راه نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو شخض بھی ظلم کے بعد بدلہ لے اس کے اوپر کوئی الزام نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک جو شخص اپنے اوپر ظلم ہو نے کے بعد بدلہ لے لے تو یہ وہ لوگ ہیں جن پر کوئی راستہ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
برائی کا بدلہ لینا جائز ہے ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے۔ جیسے فرمایا «فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» [ 2- البقرة: 194 ] اور آیت میں ہے «وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ» [ 16- النحل: 126 ] یعنی خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر اسے معاف کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو جائے گا۔ یہاں بھی فرمایا جو شخص معاف کر دے اور صلح و صفائی کر لے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ حدیث میں ہے درگذر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت اور بڑھا دیتا ہے۔ [صحیح مسلم:2588] لیکن جو بدلے میں اصل جرم سے بڑھ جائے وہ اللہ کا دشمن ہے۔ پھر برائی کی ابتداء اسی کی طرف سے سمجھی جائے گی پھر فرماتا ہے جس پر ظلم ہو اسے بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ حضرت ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں اس لفظ «انتَصَرَ» کی تفسیر کی طلب میں تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان رحمہ اللہ نے بروایت اپنی والدہ ام محمد کے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جایا کرتی تھیں بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گئے اس وقت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا وہاں موجود تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھا صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا تو سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اشارے سے بتایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت پر بھی خاموش نہ ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دی کہ جواب دیں۔ اب جو جواب ہوا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا عاجز آ گئیں اور سیدھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں اور کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمہیں یوں یوں کہتی ہیں اور ایسا ایسا کرتی ہیں۔ یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا قسم رب کعبہ کی! عائشہ رضی اللہ عنہا سے میں محبت رکھتا ہوں یہ تو اسی وقت واپس چلی گئیں۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سارا واقعہ کہہ سنایا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور آپ سے باتیں کیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30729:ضعیف]
یہ روایت ابن جریر میں اسی طرح ہے لیکن اس کے راوی اپنی روایتوں میں عموماً منکر حدیثیں لایا کرتے ہیں اور یہ روایت بھی منکر ہے نسائی اور ابن ماجہ میں اس طرح ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا غصہ میں بھری ہوئی بلا اطلاع سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلی آئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نسبت کچھ کہا پھر عائشہ سے لڑنے لگیں لیکن مائی صاحبہ نے خاموشی اختیار کی جب وہ بہت کہہ چکیں تو آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تو اپنا بدلہ لے لے پھر جو صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دینے شروع کئے تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا تھوک خشک ہو گیا۔ کوئی جواب نہ دے سکیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے وہ صدمہ مٹ گیا۔ [سنن ابن ماجہ:1981،قال الشيخ الألباني:صحیح] حاصل یہ ہے کہ مظلوم ظالم کو جواب دے اور اپنا بدلہ لے لے۔ بزار میں ہے ظالم کے لیے جس نے بد دعا کی اس نے بدلہ لے لیا۔ [سنن ترمذي:3552،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہی حدیث ترمذی میں ہے لیکن اس کے ایک راوی میں کچھ کلام ہے پھر فرماتا ہے حرج و گناہ ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور زمین میں بلا وجہ شرو فساد کریں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 41) {وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ …:} یعنی مظلوم ظالم سے بدلا لے لے تو اس پر کوئی مؤاخذہ یا ملامت نہیں، کیونکہ اس نے اپنا حق لیا ہے، کوئی زیادتی نہیں کی، بشرطیکہ اتنا ہی بدلا لے جتنا اس پر ظلم ہوا ہے۔
ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ راستہ صرف ان لوگوں پر ہے جو خود دوسروں پر ﻇلم کریں اور زمین میں ناحق فساد کرتے پھریں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
مواخذہ تو انہیں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (ملامت) تو صرف ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں ایسے ہی لوگوں کیلئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
راستہ تو انھی پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میںحق کے بغیر سرکشی کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فسادیوں کے لئے دردناک عذاب ٭٭
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے دو برا کہنے والے جو کچھ کہیں سب کا بوجھ شروع کرنے والے پر ہے جب کہ مظلوم بدلے کی حد سے آگے نہ نکل جائے۔ [صحیح مسلم:2587] ایسے فسادی قیامت کے دن درد ناک عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے محمد بن واسع رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں مکہ جانے لگا تو دیکھا کہ خندق پر پل بنا ہوا ہے میں ابھی وہیں تھا جو گرفتار کر لیا گیا اور امیر بصرہ مروان بن مہلب کے پاس پہنچا دیا گیا اس نے مجھ سے کہا ابوعبداللہ تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا یہی کہ اگر تم سے ہو سکے تو بنو عدی کے بھائی جیسے بن جاؤ پوچھا وہ کون ہے؟ کہا علا بن زیاد کہ اپنے ایک دوست کو ایک مرتبہ کسی صیغہ پر عامل بنایا تو انہوں نے اسے لکھا کہ حمد و صلوۃ کے بعد اگر تجھ سے ہو سکے تو یہ کرنا کہ تیری کمر بوجھ سے خالی رہے تیرا پیٹ حرام سے بچ جائے تیرے ہاتھ مسلمانوں کے خون و مال سے آلودہ نہ ہوں تو جب یہ کرے گا تو تجھ پر کوئی گناہ کی راہ باقی نہ رہے گی یہ راہ تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور بیوجہ ناحق زمین میں فساد پھیلائیں۔ مروان نے کہا اللہ جانتا ہے اس نے سچ کہا اور خیر خواہی کی بات کہی۔ اچھا اب کیا آرزو ہے؟ فرمایا یہی کہ تم مجھے میرے گھر پہنچا دو مروان نے کہا بہت اچھا۔ [ ابن ابی حاتم ]
پس ظلم و اہل ظلم کی مذمت بیان کر کے بدلے کی اجازت دے کر اب افضیلت کی طرف رغبت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو ایذاء برداشت کر لے اور برائی سے درگذر کر لے اس نے بڑی بہادری سے کام کیا جس پر وہ بڑے ثواب اور پورے بدلے کا مستحق ہے۔ حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ جب تم سے آ کر کوئی شخص کسی اور کی شکایت کرے تو اسے تلقین کرو کہ بھائی معاف کر دو معافی میں ہی بہتری ہے اور یہی پرہیزگاری کا ثبوت ہے اگر وہ نہ مانے اور اپنے دل کی کمزوری کا اظہار کرے تو خیر کہدو کہ جاؤ بدلہ لے لو لیکن اس صورت میں کہ پھر کہیں تم بڑھ نہ جاؤ ورنہ ہم تو اب بھی یہی کہیں گے کہ معاف کر دو یہ دروازہ بہت وسعت والا ہے اور بدلے کی راہ بہت تنگ ہے سنو معاف کر دینے والا تو آرام سے میٹھی نیند سو جاتا ہے اور بدلے کی دھن والا دن رات متفکر رہتا ہے۔ اور توڑ جوڑ سوچتا ہے۔
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں تشریف فرما تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعجب کے ساتھ مسکرانے لگے صدیق رضی اللہ عنہ خاموش تھے لیکن جب کہ اس نے بہت گالیاں دیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی بعض کا جواب دیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو کر وہاں سے چل دئیے۔سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رہا نہ گیا آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ مجھے برا بھلا کہتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے سنتے رہے اور جب میں نے اس کی دو ایک باتوں کا جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراضگی سے اٹھ کے چلے آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو! جب تک تم خاموش تھے فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دیتا تھا جب تم آپ بولے تو فرشتہ ہٹ گیا اور شیطان بیچ میں آ گیا پھر بھلا میں شیطان کی موجودگی میں وہاں کیسے بیٹھا رہتا؟ پھر فرمایا سنو ابوبکر رضی اللہ عنہ تین چیزیں بالکل حق ہیں [ ١ ] جس پر کوئی ظلم کیا جائے اور وہ اس سے چشم پوشی کر لے تو ضرور اللہ اسے عزت دے گا اور اس کی مدد کرے گا [ ٢ ] جو شخص سلوک اور احسان کا دروازہ کھولے گا اور صلہ رحمی کے ارادے سے لوگوں کو دیتا رہے گا اللہ اسے برکت دے گا اور زیادتی عطا فرمائے گا [ ٣ ] اور جو شخص مال بڑھانے کے لیے سوال کا دروازہ کھول لے گا اور دوسروں سے مانگتا پھرے گا اللہ اس کے ہاں بے برکتی کر دے گا اور کمی میں ہی وہ مبتلا رہے گا یہ روایت ابوداؤد میں بھی ہے اور مضمون کے اعتبار سے یہ بڑی پیاری حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:4896،قال الشيخ الألباني:حسن]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 42){ اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَى الَّذِيْنَ يَظْلِمُوْنَ النَّاسَ …:} یعنی مؤاخذہ اور ملامت ان لوگوں پر ہے جو ظلم کی ابتدا کرتے ہیں، لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو پر دست درازی کرتے ہیں اور اگر بدلا لیں تو بدلا لینے میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ اس طرح زمین میں سرکشی اور تکبر سے فساد پھیلاتے ہیں، جس کا انھیں کوئی حق نہیں۔ ان لوگوں کے لیے سخت درد پہنچانے والا عذاب ہے۔
البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے، تو یہ بڑی اولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو شخص صبر کر لے اور معاف کردے یقیناً یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے (ایک کام) ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک جس نے صبر کیا اور بخش دیا تو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
البتہ جوشخص صبر کرے اور درگزر کرے تو یہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ جو شخص صبر کرے اور معاف کردے تو بے شک یہ یقینا بڑی ہمت کے کاموں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فسادیوں کے لئے دردناک عذاب ٭٭
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے دو برا کہنے والے جو کچھ کہیں سب کا بوجھ شروع کرنے والے پر ہے جب کہ مظلوم بدلے کی حد سے آگے نہ نکل جائے۔ [صحیح مسلم:2587] ایسے فسادی قیامت کے دن درد ناک عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے محمد بن واسع رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں مکہ جانے لگا تو دیکھا کہ خندق پر پل بنا ہوا ہے میں ابھی وہیں تھا جو گرفتار کر لیا گیا اور امیر بصرہ مروان بن مہلب کے پاس پہنچا دیا گیا اس نے مجھ سے کہا ابوعبداللہ تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا یہی کہ اگر تم سے ہو سکے تو بنو عدی کے بھائی جیسے بن جاؤ پوچھا وہ کون ہے؟ کہا علا بن زیاد کہ اپنے ایک دوست کو ایک مرتبہ کسی صیغہ پر عامل بنایا تو انہوں نے اسے لکھا کہ حمد و صلوۃ کے بعد اگر تجھ سے ہو سکے تو یہ کرنا کہ تیری کمر بوجھ سے خالی رہے تیرا پیٹ حرام سے بچ جائے تیرے ہاتھ مسلمانوں کے خون و مال سے آلودہ نہ ہوں تو جب یہ کرے گا تو تجھ پر کوئی گناہ کی راہ باقی نہ رہے گی یہ راہ تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور بیوجہ ناحق زمین میں فساد پھیلائیں۔ مروان نے کہا اللہ جانتا ہے اس نے سچ کہا اور خیر خواہی کی بات کہی۔ اچھا اب کیا آرزو ہے؟ فرمایا یہی کہ تم مجھے میرے گھر پہنچا دو مروان نے کہا بہت اچھا۔ [ ابن ابی حاتم ]
پس ظلم و اہل ظلم کی مذمت بیان کر کے بدلے کی اجازت دے کر اب افضیلت کی طرف رغبت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو ایذاء برداشت کر لے اور برائی سے درگذر کر لے اس نے بڑی بہادری سے کام کیا جس پر وہ بڑے ثواب اور پورے بدلے کا مستحق ہے۔ حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ جب تم سے آ کر کوئی شخص کسی اور کی شکایت کرے تو اسے تلقین کرو کہ بھائی معاف کر دو معافی میں ہی بہتری ہے اور یہی پرہیزگاری کا ثبوت ہے اگر وہ نہ مانے اور اپنے دل کی کمزوری کا اظہار کرے تو خیر کہدو کہ جاؤ بدلہ لے لو لیکن اس صورت میں کہ پھر کہیں تم بڑھ نہ جاؤ ورنہ ہم تو اب بھی یہی کہیں گے کہ معاف کر دو یہ دروازہ بہت وسعت والا ہے اور بدلے کی راہ بہت تنگ ہے سنو معاف کر دینے والا تو آرام سے میٹھی نیند سو جاتا ہے اور بدلے کی دھن والا دن رات متفکر رہتا ہے۔ اور توڑ جوڑ سوچتا ہے۔
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں تشریف فرما تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعجب کے ساتھ مسکرانے لگے صدیق رضی اللہ عنہ خاموش تھے لیکن جب کہ اس نے بہت گالیاں دیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی بعض کا جواب دیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو کر وہاں سے چل دئیے۔سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رہا نہ گیا آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ مجھے برا بھلا کہتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے سنتے رہے اور جب میں نے اس کی دو ایک باتوں کا جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراضگی سے اٹھ کے چلے آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو! جب تک تم خاموش تھے فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دیتا تھا جب تم آپ بولے تو فرشتہ ہٹ گیا اور شیطان بیچ میں آ گیا پھر بھلا میں شیطان کی موجودگی میں وہاں کیسے بیٹھا رہتا؟ پھر فرمایا سنو ابوبکر رضی اللہ عنہ تین چیزیں بالکل حق ہیں [ ١ ] جس پر کوئی ظلم کیا جائے اور وہ اس سے چشم پوشی کر لے تو ضرور اللہ اسے عزت دے گا اور اس کی مدد کرے گا [ ٢ ] جو شخص سلوک اور احسان کا دروازہ کھولے گا اور صلہ رحمی کے ارادے سے لوگوں کو دیتا رہے گا اللہ اسے برکت دے گا اور زیادتی عطا فرمائے گا [ ٣ ] اور جو شخص مال بڑھانے کے لیے سوال کا دروازہ کھول لے گا اور دوسروں سے مانگتا پھرے گا اللہ اس کے ہاں بے برکتی کر دے گا اور کمی میں ہی وہ مبتلا رہے گا یہ روایت ابوداؤد میں بھی ہے اور مضمون کے اعتبار سے یہ بڑی پیاری حدیث ہے۔ [سنن ابوداود:4896،قال الشيخ الألباني:حسن]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 43){ وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ: ” عَزْمِ “} کا معنی ہے کسی کام کا پختہ ارادہ کر لینا، اسے اپنے آپ پر واجب کر لینا کہ میں یہ کام ضرور کروں گا۔ {” عَزْمِ “} مصدر بمعنی اسم مفعول ہے جو اپنے موصوف کی طرف مضاف ہے: {” أَيْ اَلْأُمُوْرُ الْمَعْزُوْمَةُ “} یعنی یہ کام ان امور میں سے ہے جن کا بڑی ہمت سے عزم کیا جاتا ہے۔ یقینا جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے، جب کہ معاف کرنے میں ظلم اور سرکشی کی حوصلہ افزائی نہ ہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے، جو ہر عقل مند کو اپنے آپ پر واجب کر لینا چاہیے۔ مزید دیکھیے سورۂ لقمان (۱۷)۔
جس کو اللہ ہی گمراہی میں پھینک دے اُس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ہے تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے اب پلٹنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جسے اللہ تعالیٰ بہکا دے اس کا اس کے بعد کوئی چاره ساز نہیں، اور تو دیکھے گا کہ ﻇالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا واپس جانے کی کوئی راه ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی رفیق نہیں اللہ کے مقابل اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب عذاب دیکھیں گے کہیں گے کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس کو اللہ گمراہی میں چھوڑ دے تو اس کے بعد اس کا کوئی سرپرست و کارساز نہیں ہے اورتم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب دیکھیں گے تو (گھبرا کر) کہیں گے کہایا (دنیا میں) واپسی کا کوئی راستہ ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اور جسے اللہ گمراہ کر دے، پھر اس کے بعد اس کا کوئی مددگار نہیں اور تو ظالموں کو دیکھے گا کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے کیا واپس جانے کی طرف کوئی راستہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کو کوئی پوچھنے والا نہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کر سکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا اور جگہ فرمان ہے «وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا» [ 18- الكهف: 17 ] جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے جیسے اور جگہ ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [ 6- الانعام: 28، 27 ] کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم دوبارہ واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم ہرگز اپنے رب کی آیتوں کو جھوٹ نہ بتائیں بلکہ ایمان لے آئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ جس چیز کو اس سے پہلے پوشیدہ کئے ہوئے تھے وہ ان کے سامنے آ گئی۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ بھیج بھی دیئے جائیں تب بھی وہی کریں گے جس سے منع کئے جاتے ہیں یقیناً یہ جھوٹے ہیں۔
پھر فرمایا یہ جہنم کے پاس لائے جائیں گے اور اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر ذلت برس رہی ہو گی عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے اور نظریں بچاکر جہنم کو تک رہے ہوں گے۔ خوف زدہ اور حواس باختہ ہو رہے ہوں گے لیکن جس سے ڈر رہے ہیں اس سے بچ نہ سکیں گے نہ صرف اتنا ہی بلکہ ان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ عذاب انہیں ہو گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے اس وقت ایماندار لوگ کہیں گے کہ حقیقی نقصان یافتہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اپنے والوں کو بھی جہنم واصل کیا یہاں تک کہ آج کی ابدی نعمتوں سے محروم رہے اور انہیں بھی محروم رکھا آج وہ سب الگ الگ عذاب میں مبتلا ہیں دائمی ابدی اور سرمدی سزائیں بھگت رہے ہیں اور یہ ناامید ہو جائیں آج کوئی ایسا نہیں جو ان عذابوں سے چھڑا سکے یا تخفیف کرا سکے ان گمراہوں کو خلاصی دینے والا کوئی نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 44) ➊ { وَ مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِيٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ:} یعنی جس شخص کی ضد اور ہٹ دھرمی کا یہ حال ہو کہ نہ وہ عفو و درگزر کا اعلیٰ درجہ اختیار کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو اور نہ کم از کم عدل و انصاف سے کام لینے پر تیار ہو تو ظاہر ہے کہ وہ خیر سے محروم اور محض شر ہے، ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ بھی خیر کی توفیق نہیں دیتا، بلکہ گمراہی میں دھکیل دیتا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے پھر اس کا کوئی مددگار نہیں جو اسے ہدایت پر لے آئے۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۸، ۱۸۶) اور سورۂ کہف (۱۷)۔ ➋ { وَ تَرَى الظّٰلِمِيْنَ:} اور تو ان ظالموں کو دیکھے گا جو عذاب دیکھنے سے پہلے ظلم و فساد اور زمین میں سرکشی سے باز آنے پر کسی طرح تیار نہیں تھے، اس لیے یہ ظالم نہ اپنے مالک کی گرفت سے ڈرتے تھے اور نہ انھیں حساب کتاب کا کوئی خوف تھا۔ {” الظّٰلِمِيْنَ “} سے مراد یہاں کفار و مشرکین ہیں، کیونکہ قرآن کی اصطلاح میں انھی کے لیے یہ لفظ آتا ہے۔ یہاں اس کی دلیل ایک تو یہ ہے کہ آگے ان کے متعلق فرمایا: «اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ فِيْ عَذَابٍ مُّقِيْمٍ» [ الشورٰی: ۴۵ ] ”سن لو! بے شک ظالم لوگ ہمیشہ رہنے والے عذاب میں ہوں گے۔“ اور یہ بات طے شدہ ہے کہ دائمی عذاب کفار و مشرکین ہی کو ہو گا۔ دوسری دلیل یہ کہ ان کے قول کے مقابلے میں مومنون کا قول ذکر فرمایا: «وَ قَالَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ» [ الشورٰی: ۴۵ ] ”اور وہ لوگ جو ایمان لائے، کہیں گے اصل خسارے والے تو وہ ہیں جنھوں نے قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں گنوا دیا۔“ ➌ { لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ يَقُوْلُوْنَ …:} وہی متکبر اور ظالم لوگ جو پہلے نہ رب تعالیٰ سے ڈرتے تھے اور نہ اس کے عذاب یا حساب کتاب سے ڈرتے تھے، جب عذاب دیکھیں گے تو ان کی ساری اکڑ ختم ہو جائے گی اور کہیں گے، کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے کہ ہم دنیا میں جا کر اپنی کوتاہی کی تلافی کر لیں؟ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۲۷، ۲۸) اور سورۂ اعراف (۵۳)۔
اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے تو ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے اور اُس کو نظر بچا بچا کر کن آنکھیوں سے دیکھیں گے اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا خبردار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تو انہیں دیکھے گا کہ وه (جہنم کے) سامنے ﻻکھڑے کیے جائیں گے مارے ذلت کے جھکے جارہے ہوں گے اور کنکھیوں سے دیکھ رہے ہوں گے، ایمان والے صاف کہیں گے کہ حقیقی زیاںکار وه ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈال دیا۔ یاد رکھو کہ یقیناً ﻇالم لوگ دائمی عذاب میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور تم انہیں دیکھو گے کہ آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ذلت سے دبے لچے چھپی نگاہوں دیکھتے ہیں اور ایمان والے کہیں گے بیشک ہار (نقصان) میں وہ ہیں جو اپنی جانیں اور اپنے گھر والے ہار بیٹھے قیامت کے دن سنتے ہو بیشک ظالم ہمیشہ کے عذاب میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم انہیں دیکھو گے کہ جب وہ دوزخ کے سامنے پیش کئے جائیں گے تو ذلت سے جھکے ہوئے ہوں گے (اور) کنکھیوں (چھپی نگاہ) سے دیکھتے ہوں گے اور اہلِ ایمان کہیں گے کہ حقیقی خسارہ اٹھا نے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو خسارہ میں ڈالا۔ آگاہ ہو کہ ظالم لوگ دائمی عذاب میں رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو انھیں دیکھے گا کہ وہ اس( آگ) پر پیش کیے جائیں گے، ذلت سے جھکے ہو ئے ،چھپی آنکھ سے دیکھ رہے ہوں گے اور وہ لوگ جو ایمان لائے، کہیں گے اصل خسارے والے تو وہ ہیں جنھوں نے قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں گنوا دیا۔ سن لو! بے شک ظالم لوگ ہمیشہ رہنے والے عذاب میں ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کو کوئی پوچھنے والا نہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کر سکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا اور جگہ فرمان ہے «وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا» [ 18- الكهف: 17 ] جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے جیسے اور جگہ ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [ 6- الانعام: 28، 27 ] کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم دوبارہ واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم ہرگز اپنے رب کی آیتوں کو جھوٹ نہ بتائیں بلکہ ایمان لے آئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ جس چیز کو اس سے پہلے پوشیدہ کئے ہوئے تھے وہ ان کے سامنے آ گئی۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ بھیج بھی دیئے جائیں تب بھی وہی کریں گے جس سے منع کئے جاتے ہیں یقیناً یہ جھوٹے ہیں۔
پھر فرمایا یہ جہنم کے پاس لائے جائیں گے اور اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر ذلت برس رہی ہو گی عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے اور نظریں بچاکر جہنم کو تک رہے ہوں گے۔ خوف زدہ اور حواس باختہ ہو رہے ہوں گے لیکن جس سے ڈر رہے ہیں اس سے بچ نہ سکیں گے نہ صرف اتنا ہی بلکہ ان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ عذاب انہیں ہو گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے اس وقت ایماندار لوگ کہیں گے کہ حقیقی نقصان یافتہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اپنے والوں کو بھی جہنم واصل کیا یہاں تک کہ آج کی ابدی نعمتوں سے محروم رہے اور انہیں بھی محروم رکھا آج وہ سب الگ الگ عذاب میں مبتلا ہیں دائمی ابدی اور سرمدی سزائیں بھگت رہے ہیں اور یہ ناامید ہو جائیں آج کوئی ایسا نہیں جو ان عذابوں سے چھڑا سکے یا تخفیف کرا سکے ان گمراہوں کو خلاصی دینے والا کوئی نہیں۔
45۔ 1 یعنی دنیا میں یہ کافر ہمیں بیوقوف اور دنیاوی خسارے کا حامل سمجھتے تھے، جب کہ ہم دنیا میں صرف آخرت کو ترجیح دیتے تھے اور دنیا کے خساروں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ آج دیکھ لو حقیقی خسارے سے کون دو چار ہے۔ وہ جنہوں نے دنیا کے عارضی خسارے کو نظر انداز کیے رکھا اور آج جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں یا وہ جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا تھا اور آج ایسے عذاب میں گرفتار ہیں جس سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔
(آیت 45) ➊ { وَ تَرٰىهُمْ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا خٰشِعِيْنَ مِنَ الذُّلِّ يَنْظُرُوْنَ …:} آگ پر حاضری کے وقت ان کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے کہ وہ ذلت سے سر جھکائے ہوئے چھپی آنکھ سے دیکھ رہے ہوں گے، جیسے کسی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر تلوار سے مارنے لگیں تو وہ ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیتا ہے، پھر کبھی کبھی تھوڑی سی آنکھ کھول کر دیکھتا ہے کہ تلوار کب اس پر گرتی ہے۔ خوف کے مارے پوری طرح آنکھیں کھول کر دیکھنے کی ہمت نہیں پڑتی۔ ➋ {وَ قَالَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ زمر کی آیت (۱۵) کی تفسیر۔ ➌ { اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ فِيْ عَذَابٍ مُّقِيْمٍ:} یہ ایمان والوں کے کلام کا آخری حصہ بھی ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی۔ دائمی عذاب میں رہنے والے ظالم کافر و مشرک ہی ہیں، فرمایا: «اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ» [ المائدۃ: ۷۲ ] ”بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقینا اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔“
اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کو آئیں جسے اللہ گمراہی میں پھینک دے اس کے لیے بچاؤ کی کوئی سبیل نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے کوئی مددگار نہیں جو اللہ تعالیٰ سے الگ ان کی امداد کرسکیں اور جسے اللہ گمراه کردے اس کے لیے کوئی راستہ ہی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے کوئی دوست نہ ہوئے کہ اللہ کے مقابل ان کی مدد کرتے اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کہیں راستہ نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ کے سوا ان کے کوئی حامی و مددگار نہیں ہوں گے جو اللہ کے مقابلہ میں ان کی مدد کریں اور جسے اللہ گمراہی میں چھوڑ دے تو اس کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے لیے کوئی حمایتی نہیں ہوں گے جو اللہ کے سوا ان کی مدد کریں۔ اور جسے اللہ گمراہ کردے، پھر اس کے لیے کوئی بھی راستہ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کو کوئی پوچھنے والا نہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کر سکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا اور جگہ فرمان ہے «وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا» [ 18- الكهف: 17 ] جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے جیسے اور جگہ ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [ 6- الانعام: 28، 27 ] کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم دوبارہ واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم ہرگز اپنے رب کی آیتوں کو جھوٹ نہ بتائیں بلکہ ایمان لے آئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ جس چیز کو اس سے پہلے پوشیدہ کئے ہوئے تھے وہ ان کے سامنے آ گئی۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ بھیج بھی دیئے جائیں تب بھی وہی کریں گے جس سے منع کئے جاتے ہیں یقیناً یہ جھوٹے ہیں۔
پھر فرمایا یہ جہنم کے پاس لائے جائیں گے اور اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر ذلت برس رہی ہو گی عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے اور نظریں بچاکر جہنم کو تک رہے ہوں گے۔ خوف زدہ اور حواس باختہ ہو رہے ہوں گے لیکن جس سے ڈر رہے ہیں اس سے بچ نہ سکیں گے نہ صرف اتنا ہی بلکہ ان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ عذاب انہیں ہو گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے اس وقت ایماندار لوگ کہیں گے کہ حقیقی نقصان یافتہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اپنے والوں کو بھی جہنم واصل کیا یہاں تک کہ آج کی ابدی نعمتوں سے محروم رہے اور انہیں بھی محروم رکھا آج وہ سب الگ الگ عذاب میں مبتلا ہیں دائمی ابدی اور سرمدی سزائیں بھگت رہے ہیں اور یہ ناامید ہو جائیں آج کوئی ایسا نہیں جو ان عذابوں سے چھڑا سکے یا تخفیف کرا سکے ان گمراہوں کو خلاصی دینے والا کوئی نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 46) ➊ { وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِيَآءَ …:} اس آیت میں مشرکوں کا رد ہے جو اپنے بنائے ہوئے داتاؤں اور مشکل کشاؤں کے بارے میں عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ ان کے حمایتی اور مددگار ہیں، سختی اور مصیبت کے وقت ان کے کام آئیں گے اور انھیں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اس امید پر یہ ان کی عبادت کرتے اور انھیں پکارتے ہیں، حالانکہ یہ اعتقاد سراسر گمراہی ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے کوئی بھی راستہ نہیں۔ ➋ { وَ مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِيْلٍ:} اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے کوئی بھی راستہ نہیں، نہ دنیا میں ہدایت پانے کا اور نہ آخرت میں عذاب سے نجات کا۔
مان لو اپنے رب کی بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے اُس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہو گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے وه دن آجائے جس کا ہٹ جانا ناممکن ہے، تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناه کی جگہ ملے گی نہ چھﭗ کر انجان بن جانے کی
احمد رضا خان بریلوی
اپنے رب کا حکم مانو اس دن کے آنے سے پہلے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں اس دن تمہیں کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہیں انکار کرتے بنے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے لوگو) اپنے پروردگار کی دعوت پر لبیک کہواس سے پہلے کہ وہ دن آئے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں ہے اس دن نہ تمہارے لئے کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ انکار کی کوئی گنجائش ہوگی (اور نہ ہی تمہاری طرف سے کوئی روک ٹوک کرنے والا ہوگا)۔
عبدالسلام بن محمد
اپنے رب کی دعوت قبول کرو، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی اللہ کی طرف سے کوئی صورت نہیں ،اس دن نہ تمھارے لیے کوئی جائے پناہ ہو گی اور نہ تمھارے لیے انکا ر کی کوئی صورت ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسانی میں شکر تنگی میں صبر مومنوں کی صفت ہے ٭٭
چونکہ اوپر یہ ذکر تھا کہ قیامت کے دن بڑے ہیبت ناک واقعات ہوں گے وہ سخت مصیبت کا دن ہو گا تو اب یہاں اس سے ڈرا رہا ہے اور اس دن کے لیے تیار رہنے کو فرماتا ہے کہ اس اچانک آجانے والے دن سے پہلے ہی پہلے اللہ کے فرمان پر پوری طرح عمل کر لو «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ كَلَّا لَا وَزَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [ 75-القيامة: 10 - 12 ] جب وہ دن آ جائے تو تمہیں نہ تو کوئی جائے پناہ ملے گی نہ ایسی جگہ کہ وہاں انجان بن کر ایسے چھپ جاؤ کہ پہچانے نہ جاؤ اور نہ نظر پڑے۔ پھر فرماتا ہے کہ «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» [ 2-البقرة: 272 ] اگر یہ مشرک نہ مانیں تو آپ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے انہیں ہدایت پر لاکھڑا کر دینا آپ کے ذمے نہیں یہ کام اللہ کا ہے۔ «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [ 13-الرعد: 40 ] آپ پر صرف تبلیغ ہے حساب ہم خود لے لیں گے انسان کی حالت یہ ہے کہ راحت میں بدمست بن جاتا ہے اور تکلیف میں ناشکرا پن کرتا ہے اس وقت اگلی نعمتوں کا بھی منکر بن جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا صدقہ کرو میں نے تمہیں زیادہ تعداد میں جہنم میں دیکھا ہے کسی عورت نے پوچھا یہ کس وجہ سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری شکایت کی زیادتی اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کی وجہ سے اگر تو ان میں سے کوئی تمہارے ساتھ ایک زمانے تک احسان کرتا رہے پھر ایک دن چھوڑ دے تو تم کہہ دو گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی راحت پائی ہی نہیں۔ [صحیح بخاری:304] فی الواقع اکثر عورتوں کا یہی حال ہے لیکن جس پر اللہ رحم کرے اور نیکی کی توفیق دیدے۔ اور حقیقی ایمان نصیب فرمائے پھر تو اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ ہر راحت پہ شکر ہر رنج پر صبر پس ہر حال میں نیکی حاصل ہوتی ہے اور یہ وصف بجز مومن کے کسی اور میں نہیں ہوتا۔ [صحیح مسلم:233]
47۔ 1 یعنی جس کو روکنے اور ٹالنے کی کوئی طاقت نہیں رکھے گا۔ 47۔ 2 یعنی تمہارے لئے کوئی ایسی جگہ نہیں ہوگی، کہ جس میں تم چھپ کر انجان بن جاؤ اور پہنچانے نہ جاسکو یا نظر میں نہ آسکو جیسے فرمایا ' اس دن انسان کہے گا، کہیں بھاگنے کی جگہ ہے، ہرگز نہیں، کوئی راہ فرار نہیں ہوگی، اس دن تیرے رب کے پاس ہی ٹھکانا ہوگا۔
(آیت 47) ➊ {اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ …: ” مَرَدَّ “ ”رَدَّ يَرُدُّ رَدًّا“ } (ن) سے مصدر میمی بھی ہو سکتا ہے، ظرف زمان بھی اور ظرف مکان بھی، ہٹانے یا ٹالنے کی کوئی صورت یا کوئی وقت یا کوئی جگہ۔ اس جملے میں اللہ تعالیٰ کی دعوت کو جلد از جلد قبول کرنے کی تاکید کئی طرح سے فرمائی ہے۔ سب سے پہلے {” أَجِيْبُوْا “} کے بجائے {” اِسْتَجِيْبُوْا “} کے لفظ کے ساتھ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۳۸) کی تفسیر۔ پھر اپنی ربوبیت کے احسان کی یاد دہانی کے ساتھ اور آخر میں اس دن سے ڈرانے کے ساتھ جس کے آنے کے بعد نہ اس کے ٹالے جانے کی کوئی صورت ہے، نہ وہ کسی وقت ٹالا جا سکے گا اور نہ کسی مقام پر ٹلے گا۔ ➋ { لَا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ:} اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ اس کے آنے کے بعد اللہ کی طرف سے اسے ہٹانے کی کوئی صورت نہیں، یعنی اللہ تعالیٰ اسے کسی صورت نہیں ہٹائے گا۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے آنے کے بعد کوئی ایسی ہستی نہیں جو اسے ہٹا سکے۔ ➌ {وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ: ” نَكِيْرٍ “} مصدر ہو تو اس کا معنی انکار بھی ہے اور نکرہ (اجنبی اور بے پہچان) ہونا بھی اور اگر {”فَعِيْلٌ“} بمعنی اسم فاعل ہو یعنی {” مُنْكِرٌ “} تو معنی ”بدلنے والا“ ہو گا۔ یعنی قیامت کے دن تم اپنے جرائم کا کسی طرح انکار نہیں کر سکو گے، بلکہ نامۂ اعمال اور فرشتوں کی شہادتوں حتیٰ کہ اپنے اعضا کی گواہی کی وجہ سے تمھارے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔ {” مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ “} کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ تمھیں جو سزا دی جائے گی تم اس پر کوئی احتجاج نہیں کر سکو گے، نہ کوئی انکار کہ ہم یہ سزا قبول نہیں کرتے، نہ ہی تم یا کوئی اور اس حالت کو بدلنے والا ہو گا جس میں تم مبتلا ہو گے اور یہ بھی نہیں ہو گا کہ تمھاری پہچان نہ ہو سکے اور تم اجنبی اور غیر معروف بن کر چھوٹ جاؤ یا بھیس بدل کر چھپ جاؤ۔
اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے نبیؐ، ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے تم پر تو صرف بات پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اُس پر پھول جاتا ہے، اور اگر اس کے اپنے ہاتھوں کا کیا دھرا کسی مصیبت کی شکل میں اُس پر الٹ پڑتا ہے تو سخت ناشکرا بن جاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر یہ منھ پھیرلیں تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا، آپ کے ذمہ تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے، ہم جب کبھی انسان کو اپنی مہربانی کا مزه چکھاتے ہیں تو وه اس پر اترا جاتا ہے اور اگر انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو بےشک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو اگر وہ منہ پھیریں تو ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا تم پر تو نہیں مگر پہنچادینا اور جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں اور اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو انسان بڑا ناشکرا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر وہ رُوگردانی کریں تو ہم نے آپ کو ان کا نگہبان مقرر کر کے نہیں بھیجا آپ کی ذمہداری صرف پہنچا دینا ہے اور ہم جب انسان کو اپنی رحمت کامزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر انہیں ان کے اعمال کی پاداش میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو انسان بڑا ناشکرا بن جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگران بنا کر نہیں بھیجا، تیرے ذمے پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں اور بے شک ہم، جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھاتے ہیں وہ اس پر خوش ہو جاتا ہے اور اگر انھیں اس کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو بے شک انسان بہت نا شکرا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسانی میں شکر تنگی میں صبر مومنوں کی صفت ہے ٭٭
چونکہ اوپر یہ ذکر تھا کہ قیامت کے دن بڑے ہیبت ناک واقعات ہوں گے وہ سخت مصیبت کا دن ہو گا تو اب یہاں اس سے ڈرا رہا ہے اور اس دن کے لیے تیار رہنے کو فرماتا ہے کہ اس اچانک آجانے والے دن سے پہلے ہی پہلے اللہ کے فرمان پر پوری طرح عمل کر لو «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ كَلَّا لَا وَزَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [ 75-القيامة: 10 - 12 ] جب وہ دن آ جائے تو تمہیں نہ تو کوئی جائے پناہ ملے گی نہ ایسی جگہ کہ وہاں انجان بن کر ایسے چھپ جاؤ کہ پہچانے نہ جاؤ اور نہ نظر پڑے۔ پھر فرماتا ہے کہ «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» [ 2-البقرة: 272 ] اگر یہ مشرک نہ مانیں تو آپ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے انہیں ہدایت پر لاکھڑا کر دینا آپ کے ذمے نہیں یہ کام اللہ کا ہے۔ «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [ 13-الرعد: 40 ] آپ پر صرف تبلیغ ہے حساب ہم خود لے لیں گے انسان کی حالت یہ ہے کہ راحت میں بدمست بن جاتا ہے اور تکلیف میں ناشکرا پن کرتا ہے اس وقت اگلی نعمتوں کا بھی منکر بن جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا صدقہ کرو میں نے تمہیں زیادہ تعداد میں جہنم میں دیکھا ہے کسی عورت نے پوچھا یہ کس وجہ سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری شکایت کی زیادتی اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کی وجہ سے اگر تو ان میں سے کوئی تمہارے ساتھ ایک زمانے تک احسان کرتا رہے پھر ایک دن چھوڑ دے تو تم کہہ دو گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی راحت پائی ہی نہیں۔ [صحیح بخاری:304] فی الواقع اکثر عورتوں کا یہی حال ہے لیکن جس پر اللہ رحم کرے اور نیکی کی توفیق دیدے۔ اور حقیقی ایمان نصیب فرمائے پھر تو اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ ہر راحت پہ شکر ہر رنج پر صبر پس ہر حال میں نیکی حاصل ہوتی ہے اور یہ وصف بجز مومن کے کسی اور میں نہیں ہوتا۔ [صحیح مسلم:233]
48۔ 1 یعنی وسائل رزق کی فروانی، صحت و عافیت، اولاد کی کثرت، جاہ و منصب وغیرہ۔ 48۔ 2 یعنی تکبر اور غرور کا اظہار کرتا ہے، ورنہ اللہ کی نعمتوں پر خوش ہونا یا اس کا اظہار ہونا، ناپسندیدہ امر نہیں، لیکن وہ تحدیث نعمت اور شکر کے طور پر نہ کہ فخر و ریا اور تکبر کے طور پر۔ 48۔ 3 مال کی کمی، بیماری، اولاد سے محرومی وغیرہ۔
(آیت 48) ➊ { فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا:} پچھلی آیت میں کفار کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ قیامت کے دن سے پہلے جلد از جلد اپنے رب کی دعوت قبول کر لو، اب ان کے کفر پر اصرار کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اگر یہ آپ کی دعوت سے منہ موڑیں تو ہم نے آپ کو ان کا نگران اور ذمہ دار نہیں بنایا کہ ہر حال میں انھیں منوا کر چھوڑیں اور نہ آپ سے اس بات کی باز پرس ہو گی کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لائے۔ ➋ { اِنْ عَلَيْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ:} آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے (جو آپ سرانجام دے چکے ہیں)۔ ان الفاظ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سند موجود ہے کہ آپ نے پیغام واقعی پہنچا دیا ہے اور آپ اپنی ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہو چکے ہیں۔ ➌ {وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا:} اس آیت میں آپ کو تسلی دلائی ہے کہ ان کفار کا صرف آپ کے ساتھ یہ سلوک نہیں بلکہ ان کا ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کی تمام نعمتیں خواہ کتنی بڑی ہوں آخرت کے مقابلے میں چکھنے سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔ پھر {” رَحْمَةً “} میں تنوین بھی تنکیر اور تقلیل کے لیے ہے۔ فرمایا، انسان ایسا کم ظرف ہے کہ جب ہم اسے تھوڑی سی رحمت چکھا بھی دیتے ہیں تو یہ پھول جاتا ہے اور آپے سے باہر ہو جاتا ہے، ہمیں بھول کر اپنے آپ ہی کو سب کچھ سمجھ لیتا ہے۔ یہاں نعمت چکھانے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی ہے، کیونکہ نعمت صرف اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، کسی کے استحقاق کی وجہ سے اسے نہیں ملتی اور لفظ {” اِذَاۤ “} (جب) استعمال فرمایا، کیونکہ دنیا میں رحمت ہر انسان کو ملتی ہے۔ ➍ {وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ …:} اور اگر انھیں ان کے اپنے اعمال کے نتیجے میں کوئی برائی یا مصیبت آ پہنچے تو یقینا انسان بہت ناشکرا ہے، پھر اسے ہماری کوئی نعمت یاد نہیں رہتی، بلکہ اس ایک مصیبت کی وجہ سے ہماری تمام نعمتوں کا صاف انکار کر دیتا ہے۔ جس طرح خاوند ساری عمر بیوی پر احسان کرے، پھر اس سے اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو کہتی ہے: [ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ ] [ بخاري، الإیمان، باب کفران العشیر و کفر دون کفر: ۲۹ ] ”میں نے تم سے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔“ یہاں برائی کی نسبت اللہ کی طرف نہیں فرمائی، حالانکہ سبھی کچھ اللہ کی طرف سے ہے، کیونکہ اس کا باعث ان کے اعمالِ بد بنتے ہیں اور {” اِنْ “} (اگر) کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس میں مصیبت پہنچنے یا نہ پہنچنے دونوں کا امکان ہے، کیونکہ رحمت کے مقابلے میں انسان پر آنے والی مصیبتیں بہت کم ہیں۔ ➎ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے آپ کی دعوت سے اعراض سے بھی بڑی بات کے ارتکاب کا ذکر کرکے تسلی دلائی ہے کہ جن کا مالک کے ساتھ یہ حال ہے وہ آپ سے کیا کچھ نہیں کریں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر یہود کے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سلوک کا ذکر کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دلائی ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۵۳)۔ ➏ یہاں {” الْاِنْسَانَ “} سے بعض مفسرین نے کافر انسان مراد لیا ہے، کیونکہ مومن ایسا نہیں ہوتا اور بعض نے فرمایا، مطلب یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ایسا ہی ہے، مگر ایمان اور عملِ صالح میں جیسے جیسے ترقی ہوتی ہے آدمی اس خصلت سے چھٹکارا حاصل کرتا جاتا ہے، ایمان کے کمال کے ساتھ وہ پوری طرح اس سے پاک ہو جاتا ہے اور مصیبت پر صبر اور نعمت پر شکر اس کی طبیعت بن جاتے ہیں، جو دونوں اس کے حق میں خیر ہی ہوتے ہیں، مگر کافر کا حال وہی رہتا ہے۔ اسی طرح کمزور ایمان کی حالت میں بھی اس بدخصلت کا اثر باقی رہتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا (19) اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا (20) وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا (21) اِلَّا الْمُصَلِّيْنَ … اُولٰٓىِٕكَ فِيْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ» [ المعارج: ۱۹ تا ۳۵ ] ”بے شک انسان تھڑدلا پیدا کیا گیا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔ اور جب اسے خیر پہنچتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔ سوائے نماز ادا کرنے والوں کے...... یہی لوگ جنتوں میں عزت دیے جانے والے ہیں۔“ یہ دوسرا قول بہتر معلوم ہوتا ہے۔
اللہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، وه جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے
علامہ محمد حسین نجفی
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے عنایت کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اولاد کا اختیار اللہ کے پاس ہے ٭٭
فرماتا ہے کہ خالق مالک اور متصرف زمین و آسمان کا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے جو چاہے پیدا کرے اور بنائے جسے چاہے صرف لڑکیاں دے جیسے لوط علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے صرف لڑکے ہی عطا فرماتا ہے جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے لڑکے لڑکیاں سب کچھ دیتا ہے جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور جسے چاہے لا ولد رکھتا ہے جیسے یحییٰ اور عیسیٰ۔ پس یہ چار قسمیں ہوئیں۔ لڑکیوں والے لڑکوں والے دونوں والے اور دونوں سے خالی ہاتھ۔ وہ علیم ہے ہر مستحق کو جانتا ہے۔ قادر ہے جس طرح چاہے تفاوت رکھتا ہے۔ پس یہ مقام بھی مثل اس فرمان الٰہی کے ہے۔ جو عیسیٰ کے بارے میں ہے کہ «وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ» [ 19-مريم: 21 ] تاکہ کہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشان بنائیں یعنی دلیل قدرت بنائیں اور دکھا دیں کہ ہم نے مخلوق کو چار طور پر پیدا کیا آدم علیہ السلام صرف مٹی سے پیدا ہوئے نہ ماں نہ باپ۔ حواء صرف مرد سے پیدا ہوئیں باقی کل انسان مرد عورت دونوں سے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کئے گئے۔ پس آپ کی پیدائش سے یہ چاروں قسمیں ہو گئیں۔ پس یہ مقام ماں باپ کے بارے میں تھا اور وہ مقام اولاد کے بارے میں اس کی بھی چار قسمیں اور اس کی بھی چار قسمیں سبحان اللہ یہ ہے اس اللہ کے علم و قدرت کی نشانی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 50،49) ➊ { لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ:} اس سے پہلی آیت میں انسان کا ذکر فرمایا کہ اگر اسے اس کے اپنے اعمالِ بد کے نتیجے میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو انسان بہت ناشکرا ہے، وہ فوراً اللہ تعالیٰ کا شکوہ شروع کر دیتا ہے کہ اس نے مجھ سے نعمت چھین لی اور مجھ پر ظلم کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا۔ اس کی طرف ظلم کی نسبت سے بڑا ظلم کوئی نہیں، کیونکہ ایک تو انسان کو پہنچنے والی مصیبت اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، دوسرے اللہ تعالیٰ آسمان و زمین یعنی پوری کائنات اور اس میں موجود ہر نعمت کا بادشاہ اور مالک ہے۔ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اپنی جو نعمت جسے چاہے دیتا ہے، جسے چاہے نہیں دیتا یا چھین لیتا ہے۔ بندے پر اس کے اعمال کے نتیجے میں جو مصیبت آئی ہے زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کوئی نعمت نہیں دی، یا آئندہ کے لیے روک لی ہے، مثلاً صحت، دولت یا ایمان وغیرہ۔ ظلم تو تب ہوتا جب وہ اس کی ملکیت والی کوئی چیز اسے نہ دیتا یا اس سے لے لیتا۔ جب ہر چیز اس کی ملکیت ہے تو اس کی مرضی، جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے، کسی کے پاس شکوے اور ناشکری کا کیا موقع ہے۔ ایمان کی نعمت سے نوازنا بھی اس کی مرضی پر موقوف ہے، وہ چاہتا تو سب کو یہ نعمت دے دیتا مگر یہ نعمت بھی وہ اسی کو دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھ لینے سے تقدیر کے بہت سے مسئلے حل ہو جاتے ہیں اور آدمی اللہ تعالیٰ کے شکوے، اس کی ناشکری اور اسے ظالم کہنے سے بچ جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ يُّدْخِلُ مَنْ يَّشَآءُ فِيْ رَحْمَتِهٖ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ» [ الشورٰی: ۸ ] ”اور اگر اللہ چاہتا تو انھیں ایک ہی امت بنا دیتا اور لیکن وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور جو ظالم ہیں ان کے لیے نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔“ ➋ {يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا …:} یہ اس بات کی مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے دیتا ہے اور جو چاہے دیتا ہے، چنانچہ وہ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے، یا لڑکے لڑکیاں دونوں عطا کر دیتا ہے اور جسے چاہے مرد ہو یا عورت عقیم (بانجھ) بنا دیتا ہے، کسی کو اس پر اعتراض یا شکوے کا کوئی حق نہیں۔ ➌ { اِنَّهٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ:} مخلوق کو نعمت عطا کرنے میں یہ تفاوت اندھی تقسیم نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ وہ ہر چیز کا علم اور پوری قدرت رکھنے والا ہے، اس کا ہر فعل اس کے علم و قدرت کے تحت ہے اور اسی علم و قدرت کے ساتھ اس نے بعض کو اولاد سے محروم رکھا، کسی کو ہدایت سے اور کسی کو لڑکی یا لڑکے یا دونوں کی نعمت سے نواز دیا، کسی کو ہدایت کے تمام مرتبوں سے اونچے مرتبے نبوت سے نواز دیا، جس کا ذکر اگلی آیت میں ہے اور یہ سب کچھ اس کی مشیت کے تحت ہے، فرمایا: «اَللّٰهُ يَجْتَبِيْۤ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَآءُ وَ يَهْدِيْۤ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ» [ الشورٰی: ۱۳ ] ”اللہ اپنی طرف چن لیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنی طرف راستہ اسے دیتا ہے جو رجوع کرے۔“ ➍ اس آیت میں یہ حقیقت واشگاف الفاظ میں بیان کر دی گئی ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہی دنیا کے نام نہاد بادشاہوں، جباروں اور سرداروں کے حوالے نہیں کر دی گئی اور نہ ہی اس میں کسی نبی یا ولی، داتا، دستگیر یا دیوی دیوتا کا کوئی حصہ ہے، اس کا مالک اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ کتنے جابر بادشاہ اور سپہ سالار، کتنے انبیاء و اولیاء اور کتنے ماہر ڈاکٹر اور حکیم اولاد سے محروم رہے، کتنے لڑکے کو ترستے رہے اور کتنے لڑکی کی خواہش دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اگر مشرکین اس حقیقت کو سمجھ لیں تو کبھی شرک کی حماقت نہ کریں۔ ➎ {” يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا “} میں لڑکیوں کو اللہ تعالیٰ کا عطیہ قرار دیا ہے۔ جو لوگ لڑکیوں کو نحوست یا عار کا باعث سمجھتے ہیں انھیں ان الفاظ پر غور کرنا چاہیے اور کسی ایسے جوڑے کے احساسات معلوم کرنے چاہییں جنھیں لڑکی بھی عطا نہیں ہوئی۔
جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یا انہیں جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے، وه بڑے علم واﻻ اور کامل قدرت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بیشک وہ علم و قدرت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اورجسے چاہتا ہے لڑکے لڑکیاں جمع کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے۔ بےشک وہ بڑا جا ننے والا (اور) بڑا قدرت رکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یا انھیں ملا کر بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے، یقینا وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اولاد کا اختیار اللہ کے پاس ہے ٭٭
فرماتا ہے کہ خالق مالک اور متصرف زمین و آسمان کا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے جو چاہے پیدا کرے اور بنائے جسے چاہے صرف لڑکیاں دے جیسے لوط علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے صرف لڑکے ہی عطا فرماتا ہے جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے لڑکے لڑکیاں سب کچھ دیتا ہے جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور جسے چاہے لا ولد رکھتا ہے جیسے یحییٰ اور عیسیٰ۔ پس یہ چار قسمیں ہوئیں۔ لڑکیوں والے لڑکوں والے دونوں والے اور دونوں سے خالی ہاتھ۔ وہ علیم ہے ہر مستحق کو جانتا ہے۔ قادر ہے جس طرح چاہے تفاوت رکھتا ہے۔ پس یہ مقام بھی مثل اس فرمان الٰہی کے ہے۔ جو عیسیٰ کے بارے میں ہے کہ «وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ» [ 19-مريم: 21 ] تاکہ کہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشان بنائیں یعنی دلیل قدرت بنائیں اور دکھا دیں کہ ہم نے مخلوق کو چار طور پر پیدا کیا آدم علیہ السلام صرف مٹی سے پیدا ہوئے نہ ماں نہ باپ۔ حواء صرف مرد سے پیدا ہوئیں باقی کل انسان مرد عورت دونوں سے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کئے گئے۔ پس آپ کی پیدائش سے یہ چاروں قسمیں ہو گئیں۔ پس یہ مقام ماں باپ کے بارے میں تھا اور وہ مقام اولاد کے بارے میں اس کی بھی چار قسمیں اور اس کی بھی چار قسمیں سبحان اللہ یہ ہے اس اللہ کے علم و قدرت کی نشانی۔