بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشوريٰ — Surah Shura
آیت نمبر 15
کل آیات: 53
قرآن کریم الشوريٰ آیت 15
آیت نمبر: 15 — سورۃ الشوريٰ islamicurdubooks.com ↗
فَلِذٰلِکَ فَادۡعُ ۚ وَ اسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ ۚ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ ۚ وَ قُلۡ اٰمَنۡتُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنۡ کِتٰبٍ ۚ وَ اُمِرۡتُ لِاَعۡدِلَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اَللّٰہُ رَبُّنَا وَ رَبُّکُمۡ ؕ لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَ لَکُمۡ اَعۡمَالُکُمۡ ؕ لَا حُجَّۃَ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اَللّٰہُ یَجۡمَعُ بَیۡنَنَا ۚ وَ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿ؕ۱۵﴾
چونکہ یہ حالت پیدا ہو چکی ہے اس لیے اے محمدؐ، اب تم اُسی دین کی طرف دعوت دو، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اُس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاؤ، اور اِن لوگو ں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو، اور اِن سے کہہ دو کہ: "اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اُس پر ایمان لایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اُسی کی طرف سب کو جانا ہے"
پس آپ لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیں اور جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اس پر مضبوطی سے جم جائیں اور ان کی خواہشوں پر نہ چلیں اور کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میرا ان پر ایمان ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم میں انصاف کرتا رہوں۔ ہمارا اور تم سب کا پروردگار اللہ ہی ہے ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں، ہم تم میں کوئی کٹ حجتی نہیں اللہ تعالیٰ ہم (سب) کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
تو اسی لیے بلاؤ اور ثابت قدم رہو جیسا تمہیں حکم ہوا ہے اور ان کی خواہشوں پر نہ چلو اور کہو کہ میں ایمان لایا اس پر جو کوئی کتاب اللہ نے اتاری اور مجھے حکم ہے کہ میں تم میں انصاف کروں اللہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے ہمارے لیے ہمارا عمل اور تمہارے لیے تمہارا کیا کوئی حجت نہیں ہم میں اور تم میں اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف پھرنا ہے،
پس آپ(ص) اس (دین) کی طرف دعوت دیتے رہیں اور ثابت قدم رہیں جس طرح آپ(ص) کو حکم دیا گیا ہے اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اور کہیں کہ میں ہر اس کتاب پر ایمان رکھتا ہوں جو اللہ نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں۔ ہمارے، تمہارے درمیان کوئی بحث درکار نہیں ہے اللہ ہم سب کو (ایک دن) جمع کرے گا اور اسی کی طرف بازگشت ہے۔
سو تو اسی کی طرف پھر دعوت دے اور مضبوطی سے قائم رہ، جیسے تجھے حکم دیاگیا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی مت کر اور کہہ دے کہ اللہ نے جو بھی کتاب نازل فرمائی میں اس پر ایمان لایا اور مجھے حکم دیاگیا ہے کہ میںتمھارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا رب اور تمھارا رب ہے، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں، اللہ ہمیں آپس میں جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تمام انبیاء کی شریعت یکساں ہے ٭٭

اس آیت میں ایک لطیفہ ہے جو قرآن کریم کی صرف ایک اور آیت میں پایا جاتا ہے باقی کسی اور آیت میں نہیں وہ یہ کہ اس میں دس کلمے ہیں جو سب مستقل ہیں الگ الگ ایک ایک کلمہ اپنی ذات میں ایک مستقل حکم ہے یہی بات دوسری آیت یعنی آیت الکرسی میں بھی ہے۔ 1 - پہلا حکم تو یہ ہوتا ہے کہ جو وحی تجھ پر نازل کی گئی ہے اور وہی وحی تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء پر آتی رہی ہے اور جو شرع تیرے لیے مقرر کی گئی ہے اور وہی تجھ سے پہلے تمام انبیاء کرام کے لیے بھی مقرر کی گئی تھی تو تمام لوگوں کو اس کی دعوت دے ہر ایک کو اسی کی طرف بلا اور اسی کے منوانے اور پھیلانے کی کوشش میں لگا رہ۔ 2 - اور اللہ تعالیٰ کی عبادت و وحدانیت پر تو آپ استقامت کر اور اپنے ماننے والوں سے استقامت کروا۔ 3 - مشرکین نے جو کچھ اختلاف کر رکھے ہیں جو تکذیب و افتراء ان کا شیوہ ہے جو عبادت غیر اللہ ان کی عادت ہے خبردار تو ہرگز ہرگز ان کی خواہش اور ان کی چاہتوں میں نہ آ جانا۔ ان کی ایک بھی نہ ماننا۔ 4 - اور علی الاعلان اپنے اس عقیدے کی تبلیغ کر کہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر میرا ایمان ہے میرا یہ کام نہیں کہ ایک کو مانوں اور دوسری سے انکار کروں، ایک کو لے لوں اور دوسری کو چھوڑ دوں۔ 5 - میں تم میں بھی وہی احکام جاری کرنا چاہتا ہوں جو اللہ کی طرف سے میرے پاس پہنچائے گئے ہیں اور جو سراسر عدل اور یکسر انصاف پر مبنی ہیں۔ 6 - معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ہمارا تمہارا معبود برحق وہی ہے اور وہی سب کا پالنہار ہے گو کوئی اپنی خوشی سے اس کے سامنے نہ جھکے لیکن دراصل ہر شخص بلکہ ہر چیز اس کے آگے جھکی ہوئی ہے اور سجدے میں پڑی ہوئی ہے۔ 7 - ہمارے عمل ہمارے ساتھ تمہاری کرنی تمہیں بھرنی۔ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [ 10-يونس: 41 ] ‏‏‏‏ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں۔ تم میرے اعمال سے بری اور میں تمہارے اعمال سے بیزار۔ 8 - ہم؎ تم میں کوئی خصومت اور جھگڑا نہیں۔ کسی بحث مباحثے کی ضرورت نہیں۔ حضرت سدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ حکم تو مکہ میں تھا لیکن مدینے میں جہاد کے احکام اترے۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور جہاد کی آیتیں ہجرت کے بعد کی ہیں۔ 9 - قیامت کے دن اللہ ہم سب کو جمع کرے گا جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ» ‏‏‏‏ [ 34- سبأ: 26 ] ‏‏‏‏، یعنی تو کہہ دے کہ ہمیں ہمارا رب جمع کرے گا پھر ہم میں حق کے ساتھ فیصلے کرے گا اور وہی فیصلے کرنے والا اور علم والا ہے۔ 10 - پھر فرماتا ہے لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے۔

📖 احسن البیان

15۔ 1 یعنی اس تفرق اور شک کی وجہ سے، جس کا ذکر پہلے ہوا، آپ ان کو توحید کی دعوت دیں اور اس پر جمے رہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 15) ➊ { فَلِذٰلِكَ فَادْعُ:} مفسر ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ آیت کریمہ دس جملوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر جملہ اپنی جگہ مستقل مضمون ہے۔ آیت الکرسی کے سوا کوئی اور آیت ایسی نہیں۔“ (ابن کثیر) {” فَلِذٰلِكَ “} جار مجرور {” فَلِذٰلِكَ فَادْعُ “} کے متعلق ہے، پہلے لانے سے اس میں اختصاص پیدا ہو گیا، یعنی لوگوں کو کسی اور نہیں بلکہ دین کے اسی طریقے کی دعوت دیں جو اس نے وحی کے ذریعے سے تمام انبیاء کے لیے مقرر فرمایا ہے اور وہ ہے ایک اللہ کی عبادت۔ اس کے دین کو قائم کرنا اور اس میں جدا جدا نہ ہو جانا، بلکہ اکٹھے ہو کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا۔ ➋ { وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ:} دوسروں کو دعوت کے لیے خود اس پر عمل اور استقامت ضروری ہے، اس لیے اس پر مضبوطی سے قائم رہنے کا حکم دیا۔ {” وَ اسْتَقِمْ “} اور {” كَمَاۤ اُمِرْتَ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۱۱۲)۔ ➌ { وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ:} یعنی آپ اس کی پیروی کریں جس کا اللہ کی طرف سے آپ کو حکم دیا گیا ہے، اس کے سوا جو کچھ ہے محض خواہشات ہیں۔ اس لیے ان لوگوں کو خوش کرنے کے لیے یا ان سے صلح کی خاطر ان کی خواہشات کی پیروی مت کریں اور نہ دین میں کسی قسم کی مداہنت سے کام لیں۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۵) اور سورۂ مائدہ (۴۹)۔ ➍ { وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ:} اہلِ کتاب چونکہ کسی آسمانی کتاب کو مانتے اور کسی کو نہیں مانتے تھے، اسی طرح اپنی کتاب کے بھی بعض حصوں کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے۔ (دیکھیے بقرہ: ۸۵) حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہر کتاب اور اس کی ہر بات پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس لیے فرمایا، ان سے کہہ دیں کہ میں فرقہ پرستوں کی طرح نہیں جو مرضی کی بات مانتے ہیں دوسری نہیں، بلکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہر کتاب پر ایمان رکھتا ہوں، وہ خواہ کوئی ہو۔ میں پہلے انبیاء کی تکذیب کے لیے نہیں بلکہ ان کی تصدیق کے لیے آیا ہوں۔ تم پر بھی لازم ہے کہ تمھاری کتابوں میں میری اور قرآن کی جو تصدیق موجود ہے اس پر بھی ایمان لاؤ، تاکہ تمھارا ایمان بھی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر کتاب پر ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۳۶): «لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔ ➎ { وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ:} عدل کا معنی انصاف اور برابری ہے، اس کے مقابلے میں ظلم ہے۔ یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے درمیان عدل کروں، تمام لوگوں کو انصاف مہیا کروں، دنیا میں جو ظلم و زیادتی ہو رہی ہے اس کا خاتمہ کروں اور فیصلہ کرتے ہوئے اپنے پرائے میں فرق نہ کروں، بلکہ سب کو برابر رکھوں۔ اسی طرح چھوٹے و بڑے، کمزور و طاقتور اور امیر و غریب کے درمیان فرق نہ کروں۔ اس جملے میں اس غلبہ و اقتدار کی طرف بھی اشارہ ہے جو مدینہ جا کر حاصل ہونے والا تھا، کیونکہ بے اختیار شخص کیا عدل کرے گا اور اس کے پاس عدل طلب کرنے کے لیے کون جائے گا۔ ➏ { اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ:} تمام بندوں میں عدل کا حکم اس لیے ہے کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور وہی تمھارا رب ہے، ہم تم سب اس کے بندے ہیں۔ سو عدل کا حکم بھی سب کے لیے ہے، خواہ اپنا ہو یا پرایا، ضعیف ہو یا شریف، حکمران ہو یا رعایا۔ ➐ {لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ:} اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک اظہارِ براء ت، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَ لِيَ دِيْنِ» ‏‏‏‏ [الکافرون: ۶ ] ”تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔“ اور جیسا کہ سورۂ انعام (۱۳۵)، ہود (۹۳، ۱۲۱) اور سورۂ زمر (۳۹)میں اظہارِ براء ت فرمایا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ ہمارے اچھے یا برے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اعمال تمھارے لیے ہیں، نہ ہمارے اچھے اعمال تمھیں دیے جائیں گے اور نہ تمھارے اچھے اعمال ہمیں دیے جائیں گے۔ اسی طرح نہ تم ہمارے بد اعمال میں پکڑے جاؤ گے اور نہ ہم تمھارے بد اعمال میں پکڑے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ» ‏‏‏‏ [ النور: ۵۴ ] ” تو اس کے ذمے صرف وہ ہے جو اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور تمھارے ذمے وہ جو تم پر بوجھ ڈالا گیا۔“ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۳۹)، یونس (۴۱)، ہود (۳۵) اور قصص (۵۵)۔ ➑ {لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ:} یعنی جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں، جو بات حق تھی وہ ہم نے دلائل کے ساتھ واضح کر دی، ہمیں تمھارے باطل پر اور اپنے حق پر ہونے کا پورا یقین ہے۔ تم اپنی بات پر اڑے ہوئے ہو، اس لیے جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں، تم جھگڑو بھی تو ہم جھگڑنے کے لیے تیار نہیں، اب تلوار کے ساتھ فیصلہ باقی رہ جاتاہے، وہ اپنے وقت پر ہو جائے گا۔ ➒ { اَللّٰهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا:} باطل پر جمے رہنے اور اس پر ناحق جھگڑا کرنے سے ڈراتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمھیں جمع کرے گا، کیا تمھیں اس بات سے خوف نہیں آتا کہ ناحق جھگڑے کا وہاں کیا جواب دو گے؟ ➓ { وَ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ:} اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے، وہاں پورا انصاف ہو جائے گا۔
← پچھلی آیت (14) پوری سورۃ اگلی آیت (16) →