بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشوريٰ — Surah Shura
آیت نمبر 27
کل آیات: 53
قرآن کریم الشوريٰ آیت 27
آیت نمبر: 27 — سورۃ الشوريٰ islamicurdubooks.com ↗
وَ لَوۡ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزۡقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ لٰکِنۡ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۲۷﴾
اگر اللہ اپنے سب بندوں کو کھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کر دیتے، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے نازل کرتا ہے، یقیناً وہ اپنے بندوں سے با خبر ہے اور اُن پر نگاہ رکھتا ہے
اگر اللہ تعالیٰ اپنے (سب) بندوں کی روزی فراخ کر دیتا تو وه زمین میں فساد برپا کردیتے لیکن وه اندازے کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔ وه اپنے بندوں سے پورا خبردار ہے اور خوب دیکھنے واﻻ ہے
اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کردیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے لیکن وہ اندازہ سے اتارتا ہے جتنا چاہے، بیشک وہ بندوں سے خبردار ہے انہیں دیکھتا ہے،
اور اگر خدا اپنے تمام بندوں کی روزی کشادہ کر دیتا تو وہ زمین میں بغاوت پھیلا دیتے اور وہ بندوں کے حالات کو جا ننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے۔
اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق فراخ کر دیتا تو یقینا وہ زمین میں سرکش ہو جاتے اورلیکن وہ ایک اندازے کے ساتھ اتارتا ہے، جتنا چاہتا ہے، یقینا وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کر دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [ 4- النسآء: 110 ] ‏‏‏‏، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم پائے گا۔

صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی اونٹنی جنگل بیابان میں گم ہو گئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو یہ اس کی جستجو کر کے عاجز آ کر کسی درخت تلے پڑ رہا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اونٹنی سے بالکل مایوس ہو گیا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹنی اس کے پاس ہی کھڑی ہے یہ فوراً اٹھ بیٹھتا ہے اس کی نکیل تھام لیتا ہے اور اس قدر خوش ہوتا ہے کہ بے تحاشا اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ یا اللہ بیشک تو میرا غلام ہے اور میں تیرا رب ہوں وہ اپنی خوشی کی وجہ سے خطا کر جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2747] ‏‏‏‏ ایک مختصر حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہو گیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے برا کام کرتا ہے پھر اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نکاح میں کوئی حرج نہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:147/11:] ‏‏‏‏ توبہ تو مستقبل کے لیے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گذشتہ معاف کر دی جاتی ہیں تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے۔ وہ خواہ اپنے لیے دعا کریں خواہ دوسروں کے لیے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں تم ایماندار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کر دیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول فرماتا ہے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کا یہ جملہ «وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا» [ الشوری: 26 ] ‏‏‏‏ تلاوت فرمایا معنی اس کے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے آیت «الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ» ‏‏‏‏ [ 39-الزمر: 18 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جو بات کو مان لیتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں اور جیسے فرمایا «اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ» ‏‏‏‏ [ 6- الانعام: 36 ] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو۔ [طبرانی کبیر:248/10:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے وہ اپنے بھائیوں کی سفارش کریں گے اور انہیں زیادہ فضل ملے گا یعنی بھائیوں کے بھائیوں کی بھی شفاعت کی اجازت ہو جائے گی مومنوں کی اس عزت و شان کو بیان فرما کر کفار کی بد حالی بیان فرمائی کہ انہیں سخت درد ناک اور گھبراہٹ والے عذاب ہونگے پھر فرمایا اگر ان بندوں کو ان کی روزیوں میں وسعت مل جاتی ان کی ضرورت سے زیادہ ان کے پلے پڑ جاتا تو یہ خرمستی میں آ کر دنیا میں ہلڑ مچا دیتے اور دنیا کے امن کو آگ لگا دیتے ایک دوسرے کو پھونک دیتے، بھون کھاتے، سرکشی اور طغیان تکبر اور بےپرواہی حد سے بڑھ جاتی۔ اسی لیے حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فلسفیانہ مقولہ ہے کہ زندگی کا سامان اتنا ہی اچھا ہے جتنے میں سرکشی اور لاابالی پن نہ آئے۔ اس مضمون کی پوری حدیث کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر دنیا کی نمائش کا ہے پہلے بیان ہو چکی ہے [صحیح بخاری:6427] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے۔ اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کر لیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں۔ [بغوی فی التفسیر:1877:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

27۔ 1 یعنی اللہ ہر شخص کی حاجت و ضرورت سے زیادہ یکساں طور پر وسائل رزق عطا فرما دیتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ کوئی کسی کی ماتحتی قبول نہ کرتا، ہر شخص شرو فساد اور دشمنی میں ایک سے بڑھ کر ایک ہوتا، جس سے زمین فساد سے بھر جاتی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 27) ➊ { وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ:} یہ ایک سوال کا جواب ہے جو یہاں ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ایمان اور عملِ صالح والوں کی دعا بہت جلدی قبول فرماتا ہے تو یہ لوگ تو رزق کی فراخی کی دعا بھی کرتے ہیں، اس کے باوجود ان پر رزق کی تنگی کیوں ہے؟ ابتدائے اسلام میں ایمان والوں پر رزق کی بہت تنگی آئی، خصوصاً جب کفار نے ان کے ساتھ میل جول اور خرید و فروخت غرض تمام چیزوں کا بائیکاٹ کر دیا۔ جواب یہ دیا گیا کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ جتنا رزق مانگیں انھیں اتنا ہی دے دیا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کا رزق ان کی مصلحت کے مطابق ایک اندازے کے ساتھ جتنا چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔ اگر وہ ان کے تقاضے کے مطابق ان کے لیے رزق فراخ کر دیتا تو یقینا وہ زمین میں سرکش ہو جاتے، کیونکہ عام طور پر آدمی جب غنی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰۤى (6) اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰى» [ العلق: 7،6 ] ”ہرگز نہیں، بے شک انسان یقینا حد سے نکل جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ غنی ہوگیا ہے۔“ اور مال و دولت کی کثرت اسے لوگوں پر زیادتی پر ابھارتی ہے۔ قارون اور فرعون کا حال دیکھ لو! اگر ان کے پاس اتنی دولت نہ ہوتی تو اس طرح برباد نہ ہوتے۔ اس لیے مومنوں کے حق میں خیر یہی ہے کہ ان کا رزق زیادہ فراخ نہ کیا جائے، اگرچہ اس کے خیر ہونے کا پورا ادراک انھیں دیر سے یعنی قیامت کے دن ہو گا۔ اس کے علاوہ مال کی کمی کا مومن کو ایک اور فائدہ بھی ہے کہ اسے عملِ صالح کے لیے فراغت حاصل رہتی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ دنیا کمانے میں مشغول رہ کر آخرت کی تیاری سے غافل نہیں ہوتا، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے جزیے کا مال لے کر آئے تو انصار صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے اور بعد میں آپ کے سامنے آ بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: [ أَظُنُّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدْ جَاءَ بِشَيْءٍ؟ قَالُوْا أَجَلْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ فَأَبْشِرُوْا وَأَمِّلُوْا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللّٰهِ! لاَ الْفَقْرَ أَخْشٰی عَلَيْكُمْ، وَلٰكِنْ أَخْشٰی عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوْهَا كَمَا تَنَافَسُوْهَا وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ ] [بخاري، الجزیۃ والموادعۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ مع أھل الذمۃ والحرب: ۳۱۵۸ ] ”میرا خیال ہے تم نے سنا ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لے کر آئے ہیں؟“ انھوں نے کہا: ”جی ہاں، یا رسول اللہ!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو خوش ہو جاؤ اور خوش کرنے والی چیزوں کی امید رکھو، پس اللہ کی قسم! میں تم پر فقیری سے تو ڈرتا ہی نہیں، بلکہ تم پر اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا فراخ کر دی جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فراخ کر دی گئی، تو تم ایک دوسرے سے زیادہ اس میں رغبت کرنے لگو، جیسا کہ انھوں نے ایک دوسرے سے بڑھ کر اس میں رغبت کی اور وہ تمھیں اسی طرح ہلاک کر دے جس طرح اس نے انھیں ہلاک کر دیا۔ “ ➋ {” وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ “} میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنا احسان بھی جتلایا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ لوگ زمین میں سرکشی کریں گے ان کا رزق فراخ کر دیتا، جیسا کہ اس نے فرعون کا رزق یہ جاننے کے باوجود فراخ کر دیا۔ چنانچہ اگر اسے ملک مصر نہ ملتا تو وہ کبھی خدائی کا دعویٰ نہ کرتا۔ لہٰذا رزق کی تنگی بھی اہلِ ایمان کے لیے ایک انعام ہے جس کا شکر ان پر واجب ہے۔ ➌ آیت کے الفاظ {” وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ “} مومن و کافر دونوں کے لیے عام ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تکوینی تدبیر کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مومن ہوں یا کافر سب کا رزق برابر نہیں رکھا، کسی کا زیادہ ہے کسی کا کم، تاکہ لوگ ایک دوسرے کے محتاج رہیں اور ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔ (دیکھیے زخرف: ۳۲) اسی طرح اس نے کسی کو ایک حد سے زیادہ رزق نہیں دیا، ورنہ لوگ زیادہ روزی پا کر زمین میں سرکشی اور فساد کرتے۔ رہے وہ لوگ جو رزق کی فراخی کی وجہ سے زمین میں فساد کرتے ہیں ان کا فساد اس فساد کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا جو وہ اپنی مرضی کے مطابق مال ملنے کی صورت میں برپا کرتے۔ اب اگر کوئی فساد فی الارض کرتا ہے تو وہ ایک حد سے نہیں بڑھ سکتا۔ کوئی کتنا بھی بڑا باغی ہو سب اپنی حد میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ➍ { وَ لٰكِنْ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَآءُ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۲۱) اور رعد (۸) اور سورۂ قمر (۴۹)کی تفسیر۔ ➎ { اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرٌۢ بَصِيْرٌ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۳۰) کی تفسیر۔
← پچھلی آیت (26) پوری سورۃ اگلی آیت (28) →