بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشوريٰ — Surah Shura
آیت نمبر 35
کل آیات: 53
قرآن کریم الشوريٰ آیت 35
آیت نمبر: 35 — سورۃ الشوريٰ islamicurdubooks.com ↗
وَّ یَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا ؕ مَا لَہُمۡ مِّنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿۳۵﴾
اور اُس وقت ہماری آیات میں جھگڑے کرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے
اور تاکہ جو لوگ ہماری نشانیوں میں جھگڑتے ہیں وه معلوم کرلیں کہ ان کے لیے کوئی چھٹکارا نہیں
اور جان جائیں وہ جو ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں، کہ انہیں کہیں بھا گنے کی جگہ نہیں،
اور تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو جائے جو ہماری آیتوں کے بارے میں جھگڑتے ہیں کہ ان کیلئے کوئی جائے فرار نہیں ہے۔
اور (تاکہ) وہ لوگ جو ہماری آیا ت میں جھگڑتے ہیں، جان لیں کہ ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہو جائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہو جائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لیے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کر لینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے۔ ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے۔ لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کر دیتی ہے۔

علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہو جائیں۔ الغرض اگر ہوا بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔ لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہو جائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہو جائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے۔

پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں «فَسُبْحَانَہُ مَا اَعْظَمَ شَاْنَہُ»

📖 احسن البیان

35۔ 1 یعنی اللہ کے عذاب سے وہ کہیں بھاگ کر چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 35) {وَ يَعْلَمَ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا …:} یہاں سوال ہے کہ {” يَعْلَمَ “} پر نصب کیوں ہے اور ”واؤ“ کے ساتھ عطف کس پر ڈالا گیا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس جملے کا عطف ایک محذوف جملے پر ہے، جس میں اس بات کی علت بیان کی گئی ہے کہ ہوائیں جہازوں کے لیے کبھی موافق، کبھی شدید ترین مخالف اور کبھی ساکن کیوں ہوتی ہیں اور {” يَعْلَمَ “} پر نصب {”لَامِ كَيْ“} کی وجہ سے آیا ہے جس کے بعد {”أَنْ“} ناصبہ مقدر ہوتا ہے۔ گویا پوری عبارت اس طرح ہے: {” اَللّٰهُ فَعَلَ ذٰلِكَ لِيَعْتَبِرَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ لِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْ آيَاتِنَا “} یعنی اللہ تعالیٰ نے کشتیوں اور ہواؤں کا یہ معاملہ اس لیے ذکر فرمایا ہے تاکہ مومن اس سے عبرت حاصل کریں اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلانے کے لیے جھگڑا کرتے ہیں وہ جان لیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بھاگ کر جانے کی کوئی جگہ نہیں۔ ہو سکتا ہے یہ جاننے کے بعد وہ اللہ کی آیات پر ایمان لے آئیں۔ بعض مفسرین نے محذوف جملے کے لیے اس سے مختلف الفاظ بھی ذکر فرمائے ہیں، مقصد سب کا یہی ہے کہ {” وَ يَعْلَمَ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا “} میں گزشتہ چیزوں کی علت بیان ہوئی ہے۔ علت والے جملے کے حذف کی قرآن مجید میں کئی مثالیں ملتی ہیں، جیسے فرمایا: «وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰيَةً لِّلنَّاسِ» ‏‏‏‏ [ مریم: ۲۱ ] ”اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے بہت بڑی نشانی بنائیں۔“ اور جیسے فرمایا: «وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ» ‏‏‏‏ [ الجاثیۃ: ۲۲ ] ”اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلا دیا جائے جو اس نے کمایا۔“
← پچھلی آیت (34) پوری سورۃ اگلی آیت (36) →