بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشوريٰ — Surah Shura
آیت نمبر 3
کل آیات: 53
قرآن کریم الشوريٰ آیت 3
آیت نمبر: 3 — سورۃ الشوريٰ islamicurdubooks.com ↗
کَذٰلِکَ یُوۡحِیۡۤ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۙ اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳﴾
اِسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے (رسولوں) کی طرف وحی کرتا رہا ہے
اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اور حکمت واﻻ ہے اسی طرح تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا
یونہی وحی فرماتا ہے تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف اللہ عزت و حکمت والا،
(اے رسول(ص)) اسی طرح اللہ غالب اور بڑا حکمت والا ہے آپ(ص) کی طرف اور آپ(ص) سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں(ع) کی طرف وحی کرتا رہا ہے۔
اسی طرح وحی کرتا ہے تیری طرف اور ان لوگوں کی طرف جو تجھ سے پہلے تھے، وہ اللہ جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

حم عسق کی تفسیر ٭٭

حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس سیدنا حذیفہرضی اللہ عنہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کر لیا پھر منہ پھیر لیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی منہ پھیر لیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے «عبد الا لہٰ» اور عبداللہ کہا جاتا ہو گا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہو گا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہو گا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں «حم عسق» کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضاء کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد ”سَِیَکوُنٌ“ یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا [ ق ] ‏‏‏‏ سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلیٰ کی دوسری جلد میں مسند سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعیف ہے اور منقطع بھی ہے۔ اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے «حم» اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد «عاین المولون عذاب یوم بدر» ہے۔ سین سے مراد «وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ» [ سورة الشعراء: 227 ] ‏‏‏‏ [ ق ] ‏‏‏‏ سے کیا مراد ہے اسے آپ رضی اللہ عنہ نہ بتا سکے تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا [ ق ] ‏‏‏‏ سے مراد «قارعہ» آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا «ضعیف» ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہو چکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے۔

سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کر جاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہو جاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ [صحیح بخاری:2] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ [مسند احمد:222/2:حدیث صحیح و ھذا اسناد ضعیف] ‏‏‏‏ شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کر چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

📖 احسن البیان

3۔ 1 یعنی جس طرح یہ قرآن تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسی طرح تجھ سے پہلے انبیاء پر آسمانی کتابیں نازل کی گئیں وحی اللہ کا کلام ہے جو فرشتے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کے پاس بھیجتا رہا ہے ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ کبھی تو یہ میرے پاس گھنٹی کی آواز کی مثل آتی ہے اور یہ مجھ پر سب سے سخت ہوتی ہے، جب یہ ختم ہوجاتی ہے تو مجھے یاد ہوچکی ہوتی ہے اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں یاد کرلیتا ہوں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں، میں نے سخت سردی میں مشاہدہ کیا کہ جب وحی کی کیفیت ختم ہوتی تو آپ پسینے میں شرابور ہوتے اور آپ کی پیشانی سے پسینے کے قطرے گر رہے ہوتے۔ (صحیح بخاری)

📖 القرآن الکریم

(آیت 3) ➊ { كَذٰلِكَ يُوْحِيْۤ اِلَيْكَ:كَذٰلِكَ “} (اسی طرح) سے مراد ایک تو وہ مضامین و معانی ہیں جو اس قرآن یا اس سورت میں ہیں، یعنی آپ کی طرف توحید، آخرت، نبوت اور دوسرے عقائد و اعمال اور واقعات پر مشتمل جو وحی کی گئی ہے یہ کوئی نرالی نہیں کہ کفار کو اس پر تعجب ہو رہا ہے، بلکہ ایسے ہی مضامین کی وحی اللہ تعالیٰ آپ کی طرف اور آپ سے پہلے پیغمبروں کی طرف کرتا چلا آیا ہے۔ بعض وقتی احکام میں فرق ہو سکتا ہے، مگر اصل دعوت جس کے لیے آپ کو اور پہلے تمام پیغمبروں کو مبعوث کیا گیا ایک ہی ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» ‏‏‏‏ [الأنبیاء: ۲۵ ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔ “ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتّٰی وَ دِيْنُهُمْ وَاحِدٌ ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «‏‏‏‏واذکر في الکتاب مریم…» : ۳۴۴۳ ] ”انبیاء علاتی (مختلف ماؤں سے پیدا ہونے والے) بھائی ہیں، ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔“ اور {” كَذٰلِكَ “} (اسی طرح) سے مراد وحی کرنے کا طریقہ بھی ہے، یعنی جس طرح یہ سورت یا یہ کتاب آپ کی طرف وحی کی جا رہی ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح آپ سے پہلے پیغمبروں کی طرف بھی وحی کرتا چلا آیا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے، پھر اس کے ساتھ وحی کی ان صورتوں میں سے کسی صورت کے ساتھ کلام کرتا ہے جو اس نے اس سورت کے آخر میں کسی بھی بشر کے ساتھ کلام کرنے کی بیان فرمائی ہیں۔ (دیکھیے شوریٰ: ۵۱،۵۲) کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کیوں نازل نہیں کی، یا مجھ سے کلام کیوں نہیں فرمایا۔ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَحْيَانًا يَأْتِيْنِيْ مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيُفْصَمُ عَنِّيْ وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلاً فَيُكَلِّمُنِيْ فَأَعِيْ مَا يَقُوْلُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيْدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَ إِنَّ جَبِيْنَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا ] [ بخاري، بدء الوحي إلی الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ، باب: ۲ ] ”میرے پاس وحی کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح آتی ہے جو مجھ پر وحی کی سب سے زیادہ سخت صورت ہے، پھر وہ مجھ سے اس حال میں ختم ہوتی ہے کہ جو کچھ مجھے کہا ہے وہ میں یاد کر چکا ہوتا ہوں اور کبھی فرشتہ ایک آدمی کی شکل میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، تو جو کچھ وہ کہتا ہے میں یاد کر لیتا ہوں۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: ”میں نے آپ کو سخت سردی والے دن میں آپ پر وحی اترنے کی حالت میں دیکھا کہ وہ کیفیت آپ سے ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پسینے سے ٹپک رہی ہوتی تھی۔“ ➋ { وَ اِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیات (۱۶۳ تا ۱۶۵)۔ ➌ {اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} سورہ نساء کی آیات، جن کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے، ان میں پیغمبروں کی طرف وحی کا ذکر فرما کر بات کا خاتمہ اپنے ہمیشہ سے عزیز و حکیم ہونے کے ساتھ کیا، چنانچہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا» [ النساء: ۱۶۵ ] ”اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ قرآن مجید میں جہاں جہاں وحی نازل کرنے کا ذکر ہے اس کے بعد مقام کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کے بعض اسماء و صفات کا ذکر بھی ہے۔ کتاب اللہ نازل کرنے کے ساتھ عزیز و حکیم کے ذکر کی مناسبت کے لیے دیکھیے سورۂ زمر کی پہلی آیت کی تفسیر، ساتھ سورۂ مومن کی پہلی آیت کی تفسیر بھی ملاحظہ فرمائیں۔
← پچھلی آیت (2) پوری سورۃ اگلی آیت (4) →