کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے روبرو بات کرے اُس کی بات یا تو وحی (اشارے) کے طور پر ہوتی ہے، یا پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ) بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے، وحی کرتا ہے، وہ برتر اور حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ناممکن ہے کہ کسی بنده سے اللہ تعالیٰ کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وه اللہ کے حکم سے جو وه چاہے وحی کرے، بیشک وه برتر ہے حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا یوں کہ وہ بشر پر وہ عظمت کے ادھر ہو یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے بیشک وہ بلندی و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ سےیا پردہ کے پیچھے سےیا وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ) بھیجے اور اس کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے۔ بیشک وہ بزرگ و برتر (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کسی بشر کے لیے ممکن نہیںکہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے، یا یہ کہ وہ کوئی رسول بھیجے، پھر اپنے حکم کے ساتھ وحی کرے جو چاہے، بے شک وہ بے حد بلند، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم شفا ہے ٭٭
مقامات و مراتب و کیفیات وحی کا بیان ہو رہا ہے کہ کبھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں وحی ڈال دی جاتی ہے جس کے وحی اللہ ہونے میں آپکو کوئی شک نہیں رہتا جیسے صحیح ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونکی ہے کہ کوئی شخص بھی جب تک اپنی روزی اور اپنا وقت پورا نہ کر لے ہرگز نہیں مرتا پس اللہ سے ڈرو اور روزی کی طلب میں اچھائی اختیار کرو۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:2607،صحیح] یا پردے کی اوٹ سے جیسے موسیٰ سے کلام ہوا۔ کیونکہ انہوں نے کلام سن کر جمال دیکھنا چاہا لیکن وہ پردے میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی سے کلام نہیں کیا مگر پردے کے پیچھے سے لیکن تیرے باپ سے اپنے سامنے کلام کیا۔ [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ جنت احد میں کفار کے ہاتھوں شہید کئے گئے تھے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ کلام عالم برزخ کا ہے اور آیت میں جس کلام کا ذکر ہے اس سے مراد دنیا کا کلام ہے یا اپنے قاصد کو بھیج کر اپنی بات اس تک پہنچائے جیسے جبرائیل علیہ السلام وغیرہ فرشتے انبیاء علیہ السلام کے پاس آتے رہے وہ علو اور بلندی اور بزرگی والا ہے ساتھ ہی حکیم اور حکمت والا ہے۔
51۔ 1 اس آیت میں وحی الٰہی کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں پہلی یہ کہ دل میں کسی بات کا ڈال دینا یا خواب میں بتلا دینا اور یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ دوسری، پردے کے پیچھے سے کلام کرنا، جیسے حضرت موسیٰ ؑ سے کوہ طور پر کیا گیا، تیسری، فرشتے کے ذریعے اپنی وحی بھیجنا، جیسے جبرائیل ؑ اللہ کا پیغام لے کر آتے اور پیغمبروں کو سناتے رہے۔
(آیت 51) ➊ {وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ:} کفار کا کہنا تھا: «لَوْ لَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ» [ البقرۃ: ۱۱۸ ] ”اللہ ہم سے (خود) کلام کیوں نہیں کرتا؟“ بلکہ ان کی خواہش تھی کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتاب عطا ہوئی ہم میں سے ہر ایک کو اسی طرح کتاب ملے، جیسا کہ فرمایا: «بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً» [ المدثر: ۵۲ ] ”بلکہ ان میں سے ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دیے جائیں۔ “ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک سے کلام نہیں کرتا، بلکہ وہ اس کے لیے فرشتوں اور انسانوں میں سے انتخاب کرتا ہے، فرمایا: «اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ» [ الحج: ۷۵ ] ”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی۔“ اس نعمت سے بھی وہ جسے چاہتا ہے نوازتا ہے، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے یہ نعمت کیوں نہیں ملی۔ اس آیت میں فرمایا کہ وہ اپنے ان چنے ہوئے بندوں کے ساتھ بھی آمنے سامنے کلام نہیں کرتا اور نہ ہی یہ بات دنیا میں کسی بشر کے لیے ممکن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ حِجَابُهُ النُّوْرُ وَ فِيْ رِوَايَةِ أَبِيْ بَكْرٍ النَّارُ، لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهٰي إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ ] [ مسلم، الإیمان، باب في قولہ صلی اللہ علیہ وسلم ”إن اللّٰہ لا ینام“…: ۱۷۹ ] ”اللہ تعالیٰ کا حجاب ”نور“ ہے۔“ ابوبکر کی روایت میں ہے کہ ”نار“ ہے ”اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی شعائیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے اس کی مخلوق کو جلا دیں۔“ ہاں آخرت میں ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قیامہ (۲۲، ۲۳)۔ ➋ { اِلَّا وَحْيًا:} فرمایا اللہ تعالیٰ انسانوں سے ان تین طریقوں کے علاوہ کلام نہیں کرتا، ایک وحی کے ذریعے سے، یعنی یہ کہ وہ اپنے بندے کے دل میں کسی واسطے کے بغیر کوئی بات ڈال دے جس سے اسے یقین ہو جائے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، خواہ بیداری کی حالت میں ہو یا نیند میں، کیونکہ انبیاء کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ دیکھیے سورہ صافات (۱۰۲)۔ ➌ { اَوْ مِنْ وَّرَآء حِجَابٍ:} یا یہ کہ وہ پردے کے پیچھے سے کلام کرے، جیسے اس نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا، مگر جب انھوں نے دیکھنے کی درخواست کی تو وہ قبول نہیں ہوئی۔ ➍ { اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا:} یا اللہ تعالیٰ کوئی فرشتہ بھیج کر جو بات پہنچانا چاہے پہنچا دے، جیسے جبریل علیہ السلام یا دوسرے فرشتوں کے ذریعے سے آپ کے پاس وحی آتی تھی۔ ➎ { اِنَّهٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ:} یعنی وہ اس سے بہت بلند ہے کہ کسی بشر سے رُو در رُو کلام کرے، یا ہر ایک اس کے کلام کا شرف حاصل کر سکے اور وہ کمال حکمت والا ہے، جس کے تحت وہ ہر بشر سے کلام نہیں کرتا۔
اور اِسی طرح (اے محمدؐ) ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے، مگر اُس روح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے، آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں، بیشک آپ راه راست کی رہنمائی کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور یونہی ہم نے تمہیں وحی بھیجی ایک جان فزا چیز اپنے حکم سے، اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکام شرع کی تفصیل ہاں ہم نے اسے نور کیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں سے جسے چاہتے ہیں، اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی صورت میں اپنی ایک (خاص) روح بھیجی آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ جا نتے تھے کہ ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے ایک نور بنایا جس سے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں اور یقیناً آپ سیدھے راستہ کی طرف راہنمائی کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی، تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے اور لیکن ہم نے اسے ایک ایسی روشنی بنا دیا ہے جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھا تے ہیں اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کو بذریعہ وحی اتارا ٭٭
روح سے مراد قرآن ہے فرماتا ہے اس قرآن کو بذریعہ وحی کے ہم نے تیری طرف اتارا ہے کتاب اور ایمان کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہم نے اپنی کتاب میں ہے تو اس سے پہلے جانتا بھی نہ تھا، لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے ایماندار بندوں کو راہ راست دکھلائیں جیسے آیت میں ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ» [ 41- فصلت: 44 ] کہدے کہ یہ ایمان والوں کے واسطے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمانوں کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں پھر فرمایا کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم صریح اور مضبوط حق کی رہنمائی کر رہے ہو پھر صراط مستقیم کی تشریح کی اور فرمایا اسے شرع مقرر کرنے والا خود اللہ ہے جس کی شان یہ ہے کہ آسمانوں زمینوں کا مالک اور رب وہی ہے ان میں تصرف کرنے والا اور حکم چلانے والا بھی وہی ہے کوئی اس کے کسی حکم کو ٹال نہیں سکتا تمام امور اس کی طرف پھیرے جاتے ہیں وہی سب کاموں کے فیصلے کرتا ہے اور حکم کرتا ہے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جو اس کی نسبت ظالم اور منکرین کہتے ہیں وہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔
52۔ 1 روح سے مراد ْقرآن ہے۔ یعنی جس طرح آپ سے پہلے اور رسولوں پر ہم وحی کرتے رہے، اسطرح ہم نے آپ پر قرآن کی وحی کی ہے قرآن کو روح اس لئے تعبیر کیا ہے کہ قرآن سے دلوں کو زندگی حاصل ہوتی ہے جیسے روح میں انسانی زندگی کا راز مضمر ہے۔ 52۔ 2 کتاب سے مراد قرآن ہے، یعنی نبوت پہلے قرآن کا بھی کوئی علم آپ کو نہیں تھا اور اسی طرح ایمان کی ان تفصیلات سے بھی بیخبر تھے جو شریعت میں مطلوب ہیں۔
(آیت 52) ➊ {وَ كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا: ” رُوْحًا “} سے مراد وحی ہے، خواہ قرآن کی صورت میں ہو یا سنت کی صورت میں، کیونکہ وہ دونوں وحی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى (3) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى» [ النجم: 4،3 ] ”اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔“ اسے ”روح“ اس لیے کہا گیا ہے کہ حقیقی زندگی اسی کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے، دل کی زندگی بھی اور آخرت کی زندگی بھی، جیسے فرمایا: «يُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ» [ النحل: ۲ ] ”وہ فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔“ ➋ { مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِيْمَانُ:} اس فرمان میں ایک تو نعمت کی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ علم عطا فرمایا جو آپ پہلے نہیں جانتے تھے۔ دوسرا یہ آپ کے نبی برحق ہونے کی دلیل ہے کہ اُمی ہونے اور کتاب و ایمان کا علم نہ رکھنے کے باوجود آپ کا قرآن کریم جیسی عظیم کتاب لانا محض اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کی وحی ہی کے ذریعے سے ہو سکتا ہے۔ ➌ یہاں ایک سوال ہے کہ اس بات میں تو کوئی اشکال نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے کتاب کا علم نہ تھا، مگر یہ بات قابل غور ہے کہ آپ کو ایمان کا علم بھی نہیں تھا، کیونکہ انبیاء علیھم السلام کا نبوت ملنے سے پہلے کم از کم اللہ تعالیٰ اور اس کی وحدانیت پر ایمان تو ہوتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غارِ حرا میں جا کر عبادت کرنے کا ذکر موجود ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ آپ ہی نہیں سارے عرب اُمی ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے اور یہ بھی مانتے تھے کہ وہی زمین و آسمان کا خالق ہے اور پوری کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے، مگر وہ شرک کی بیماری میں مبتلا تھے۔ انبیاء کی فطرت نہایت سلیم ہوتی ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اللہ پر ایمان تھا۔ نبوت سے پہلے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک یا کبائر کا ارتکاب نہیں ہوا، مگر یہ ایمان اجمالی تھا۔ تفصیل کے ساتھ ایمان جو حدیث جبریل کے مطابق اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یومِ آخرت اور تقدیر پر ایمان کا نام ہے، اس کی تفصیلات آپ کو وحی کے بعد ہی معلوم ہوئیں۔ اس کے علاوہ جب لفظ ایمان اکیلا بولا جائے تو اس میں تصدیق، قول اور عمل تینوں چیزیں شامل ہوتی ہیں، جیسا کہ وفد عبد القیس کی مشہور حدیث میں ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۴۳): «وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ» میں نماز کو ایمان قرار دیا اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلإِْيْمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُوْنَ أَوْ بِضْعٌ وَ سِتُّوْنَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِيْقِ ] [ مسلم، الإیمان، باب بیان عدد شعب الإیمان…: ۳۵ ] ”ایمان کی ستر(۷۰) یا (فرمایا) ساٹھ (۶۰) سے زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنا ہے اور سب سے کم راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنا ہے۔“ ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز، زکوٰۃ، حج اور دوسری ایمانیات کی تفصیلات وحیٔ الٰہی سے پہلے نہیں جانتے تھے۔ ➍ یہاں جو فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو نہیں جانتے تھے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی اور کتاب اللہ کے ذریعے سے آپ کو ہدایت کا نور عظیم عطا فرمایا، یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر بیان فرمائی ہے، جیسے فرمایا: «وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ» [ النساء: ۱۱۳ ] ”اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور تجھے وہ کچھ سکھایا جو تو نہیں جانتا تھا۔ “ اور فرمایا: «وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ» [ یوسف: ۳ ] ”اور بے شک تو اس سے پہلے یقینا بے خبروں سے تھا۔“ اور فرمایا: «وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ» [ العنکبوت: ۴۸ ] ”اور تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، اس وقت باطل والے لوگ ضرور شک کرتے۔ “ اور فرمایا: «وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ يُّلْقٰۤى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ» [ القصص: ۸۶ ] ”اور تو امید نہ رکھتا تھا کہ تیری طرف کتاب نازل کی جائے گی مگرتیرے رب کی طرف سے رحمت کی وجہ سے (یہ نازل ہوئی)۔ “ اور فرمایا: «تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَاۤ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا» [ ھود: ۴۹ ] ”یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم۔“ ان آیات کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ ➎ {وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا:” نُوْرًا “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے اور {” جَعَلْنٰهُ “} میں {” هُ “} ضمیر وحیٔ الٰہی کی طرف جا رہی ہے، جس کا ذکر {” رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا “} میں ہے۔ یعنی ہم نے اس وحی کو جو قرآن اور سنت کی صورت میں ہے، عظیم نور بنا دیا۔ نور اس لیے فرمایا کہ اس کے ساتھ حق روشن ہوتا ہے اور جہالت، شک اور شرک کے اندھیرے دور ہوتے ہیں۔ ➏ { نَهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا:} یعنی ہم نے اس وحی کو ایسا نور بنایا جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو متعدد مقامات پر نورِ ہدایت قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۷۴)، اعراف (۱۵۷)، مائدہ (۱۵، ۱۶) اور سورۂ تغابن(۸)۔ ➐ { وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ:} ہدایت اور صراطِ مستقیم کی تفسیر کے لیے سورۂ فاتحہ کا مطالعہ فرمائیں۔
اُس خدا کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے خبردار رہو، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اس اللہ کی راه کی جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین کی ہر چیز ہے۔ آگاه رہو سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کی راہ کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، سنتے ہو سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اس اللہ کے راستہ کی طرف جس کا وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے خبردار! سب (تمام) معاملات کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس اللہ کے راستے کی طرف کہ جو کچھ آسمانوںمیں ہے اور جو کچھ زمین میںہے اسی کا ہے، سن لو !تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کو بذریعہ وحی اتارا ٭٭
روح سے مراد قرآن ہے فرماتا ہے اس قرآن کو بذریعہ وحی کے ہم نے تیری طرف اتارا ہے کتاب اور ایمان کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہم نے اپنی کتاب میں ہے تو اس سے پہلے جانتا بھی نہ تھا، لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے ایماندار بندوں کو راہ راست دکھلائیں جیسے آیت میں ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ» [ 41- فصلت: 44 ] کہدے کہ یہ ایمان والوں کے واسطے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمانوں کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں پھر فرمایا کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم صریح اور مضبوط حق کی رہنمائی کر رہے ہو پھر صراط مستقیم کی تشریح کی اور فرمایا اسے شرع مقرر کرنے والا خود اللہ ہے جس کی شان یہ ہے کہ آسمانوں زمینوں کا مالک اور رب وہی ہے ان میں تصرف کرنے والا اور حکم چلانے والا بھی وہی ہے کوئی اس کے کسی حکم کو ٹال نہیں سکتا تمام امور اس کی طرف پھیرے جاتے ہیں وہی سب کاموں کے فیصلے کرتا ہے اور حکم کرتا ہے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جو اس کی نسبت ظالم اور منکرین کہتے ہیں وہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔
53۔ 1 یہ صراط مستقیم، اسلام ہے۔ اس کی اضافت اللہ نے اپنی طرف فرمائی ہے جس سے اس راستے کی عظمت و شان واضح ہوتی ہے اور اس کے واحد راہ نجات ہونے کی طرف اشارہ بھی۔ 53۔ 2 یعنی قیامت والے دن تمام معاملات کا فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوگا، اس میں سخت وعید ہے۔
(آیت 53) ➊ {صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ:} یعنی سیدھا راستہ وہ ہے جس پر چل کر انسان زمین و آسمان کے مالک اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے اور وہ صرف وحیٔ الٰہی کے ذریعے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے سوا جتنے راستے ہیں سب شیطان کے راستے ہیں، جو اللہ تعالیٰ سے ہٹے ہوئے ہیں۔ دیکھیے سورۂ نحل (۹)۔ ➋ { اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ:} یعنی دنیا اور آخرت کے تمام امور کی تدبیر اللہ ہی کی طرف لوٹتی ہے، بظاہر کسی کام کی تدبیر کوئی کر رہا ہو، ظاہر میں لوگ اسے کسی کا کارنامہ سمجھیں، مگر حقیقت میں تمام امور کی تدبیر اللہ ہی کا کام ہے۔ دیکھیے سورہ یونس (۳، ۳۱)، رعد(۲) اور سجدہ (۵)۔ ”تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں“ میں یہ بھی شامل ہے کہ قیامت کے دن بندوں کے نیک و بد تمام کام اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے، وہی ان کا فیصلہ فرمائے گا اور نیکوں کو ثواب اور بدوں کو عذاب دے گا۔ [ اَللّٰھُمَّ احْشُرْنَا فِيْ زُمْرَۃِ الصَّالِحِیْنَ ]