بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الرحمٰن
سورۃ الرحمٰن — 78 آیات — صفحہ 2 از 2
قرآن کریم Surah 55
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55- الرحمن:46] ‏‏‏‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏‏‏‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏‏‏‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صحیح بخاری میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے }، [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔ تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ اور آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏‏‏‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔ یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا، عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏‏‏‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فِیۡہِمَا مِنۡ کُلِّ فَاکِہَۃٍ زَوۡجٰنِ ﴿ۚ۵۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان دونوں جنتوں میں ہر قسم کے میوؤں کی دو قسمیں ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
ان میں ہر میوہ دو دو قسم کا،
علامہ محمد حسین نجفی
ان دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قِسمیں ہوں گی۔
عبدالسلام بن محمد
ان دونوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55- الرحمن:46] ‏‏‏‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏‏‏‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏‏‏‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صحیح بخاری میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے }، [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔ تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ اور آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏‏‏‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔ یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا، عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏‏‏‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔
25۔ 1 یعنی ذائقے اور لذت کے اعتبار سے ہر پھل دو قسم کا ہوگا، مذید فضل خاص کی ایک صورت ہے، بعض نے کہا کہ ایک قسم خشک میوے اور دوسری تازہ میوے کی ہوگی۔
(آیت 52) {فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ:} ہر پھل کی دو قسموں سے مراد یا تو ایک وہ ہے جو دنیا میں تھی اور دوسری وہ جو نہ کسی نے سنی، نہ دیکھی اور نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ ایک ہی پھل میں متعدد ذائقے ہوں گے، جیسا کہ دنیا میں آم ہی کو لے لیجیے، ہر آم کا ذائقہ جدا ہے۔ دنیا کے پھلوں کی جنت کے پھلوں سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ {” زَوْجٰنِ “} تثنیہ کا لفظ جمع اور کثرت کے معنی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ کلامِ عرب میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ {”التحرير والتنوير“} میں اس کے کئی شواہد ذکر کیے گئے ہیں۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55- الرحمن:46] ‏‏‏‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏‏‏‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏‏‏‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صحیح بخاری میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے }، [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔ تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ اور آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏‏‏‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔ یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا، عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏‏‏‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
مُتَّکِـِٕیۡنَ عَلٰی فُرُشٍۭ بَطَآئِنُہَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ ؕ وَ جَنَا الۡجَنَّتَیۡنِ دَانٍ ﴿ۚ۵۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، اور باغوں کی ڈالیاں پھلوں سے جھکی پڑ رہی ہوں گی
مولانا محمد جوناگڑھی
جنتی ایسے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، اور ان دونوں جنتوں کے میوے بالکل قریب ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے جن کا اَستر قناویز کا اور دونوں کے میوے اتنے جھکے ہوئے کہ نیچے سے چن لو
علامہ محمد حسین نجفی
وہ ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ایسے بستروں پر تکیہ لگائے ہوئے ، جن کے استر موٹے ریشم کے ہیں اور دونوں باغوں کا پھل قریب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت یافتہ لوگ ٭٭

جنتی لوگ بےفکری سے تکئيے لگائے ہوئے ہوں گے، خواہ لیٹے ہوئے ہوں خواہ باآرام بیٹھے ہوئے تکیہ سے لگے ہوئے ہوں، ان کے بچھاؤنے بھی اتنے بڑھیا ہوں گے کہ ان کے اندر کا استر بھی دبیز اور خالص زرین ریشم کا ہو گا، پھر اوپر کا ابرا کچھ ایسا ہو گا، اسے تم خود سوچ لو۔ مالک بن دینار اور سفیان ثوری رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں استر کا یہ حال ہے اور ابرا تو محض نورانی ہو گا- جو سراسر اظہار رحمت و نور ہو گا۔ پھر اس پر بہترین گلکاریاں ہوں گی، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان جنتوں کے پھل جنتیوں سے بالکل قریب ہیں۔ جب چاہے جس حال میں چاہیں وہاں سے لے لیں، لیٹے ہوں تو بیٹھا ہونے کی اور بیٹھے ہوں تو کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں، خودبخود شاخیں جھوم جھوم کر جھکتی رہتی ہیں۔ جیسے فرمایا «‏‏‏‏قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ» [69- الحاقة:23] ‏‏‏‏ اور فرمایا «‏‏‏‏وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا» ‏‏‏‏ [76- الإنسان:14] ‏‏‏‏ الخ، یعنی بے حد قریب میوے ہیں لینے والے کو کوئی تکلیف یا تکلف کی ضرورت نہیں، خود شاخیں جھک جھک کر انہیں میوے دے رہی ہیں پس تم اپنے رب کی نعمتوں کے انکار سے باز رہو۔
54۔ 1 ابری یعنی اوپر کا کپڑا ہمیشہ استر سے بہتر اور خوبصورت ہوتا ہے، یہاں صرف استر کا بیان ہے، جس کا مطلب ہے کہ اوپر (ابری) کا کپڑا اس سے کہیں زیادہ عمدہ ہوگا۔ 54۔ 2 اتنے قریب ہونگے کہ بیٹھے بیٹھے بلکہ لیٹے لیٹے بھی توڑ سکیں گے۔
(آیت 54) ➊ { مُتَّكِـِٕيْنَ عَلٰى فُرُشٍ …: ” مُتَّكِـِٕيْنَ”وَكِئَ“} سے {”اِتَّكَأَ يَتَّكِئُ اِتِّكَاءً “} (افتعال) سے اسم فاعل {”مُتَّكِئٌ“} کی جمع ہے، پہلو پر کہنی کے سہارے لیٹے ہوئے یا ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے شخص کو کہتے ہیں۔{ ” فُرُشٍ“ ”فِرَاشٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”كِتَابٌ“} کی جمع {” كُتُبٌ“} ہے۔ {”بَطَائِنٌ“بِطَانَةٌ “} کی جمع ہے، گدے کے بیرونی حصے کو {” ظِهَارَةٌ “} اور اندرونی حصے کو {”بِطَانَةٌ “} کہتے ہیں۔ اردو میں {” بِطَانَةٌ “} کو استر اور {”ظِهَارَةٌ “} کو ابرا کہتے ہیں۔ {” اِسْتَبْرَقٍ “} موٹا ریشم جس میں سونے کی تاریں ہوں۔ یعنی اپنے رب سے ڈرنے والے یہ جنتی بے فکری کے ساتھ ایسے بستروں پر ٹیک لگا کر بیٹھے یا لیٹے ہوں گے جن کے استر موٹے ریشم کے ہوں گے۔ جب استر ایسے ہوں گے تو ابرے کس شان کے ہوں گے۔ ➋ { وَ جَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ:” جَنَا”جَنٰي يَجْنِيْ“} (ض) (پھل چننا) سے مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، پھل۔ {” دَانٍ”دَنَا يَدْنُوْ دُنُوًّا “} (ن) سے اسم فاعل ہے، قریب۔ یعنی دونوں باغوں کا پھل قریب ہو گا، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے جب چاہیں گے چن سکیں گے۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت یافتہ لوگ ٭٭

جنتی لوگ بےفکری سے تکئيے لگائے ہوئے ہوں گے، خواہ لیٹے ہوئے ہوں خواہ باآرام بیٹھے ہوئے تکیہ سے لگے ہوئے ہوں، ان کے بچھاؤنے بھی اتنے بڑھیا ہوں گے کہ ان کے اندر کا استر بھی دبیز اور خالص زرین ریشم کا ہو گا، پھر اوپر کا ابرا کچھ ایسا ہو گا، اسے تم خود سوچ لو۔ مالک بن دینار اور سفیان ثوری رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں استر کا یہ حال ہے اور ابرا تو محض نورانی ہو گا- جو سراسر اظہار رحمت و نور ہو گا۔ پھر اس پر بہترین گلکاریاں ہوں گی، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان جنتوں کے پھل جنتیوں سے بالکل قریب ہیں۔ جب چاہے جس حال میں چاہیں وہاں سے لے لیں، لیٹے ہوں تو بیٹھا ہونے کی اور بیٹھے ہوں تو کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں، خودبخود شاخیں جھوم جھوم کر جھکتی رہتی ہیں۔ جیسے فرمایا «‏‏‏‏قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ» [69- الحاقة:23] ‏‏‏‏ اور فرمایا «‏‏‏‏وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا» ‏‏‏‏ [76- الإنسان:14] ‏‏‏‏ الخ، یعنی بے حد قریب میوے ہیں لینے والے کو کوئی تکلیف یا تکلف کی ضرورت نہیں، خود شاخیں جھک جھک کر انہیں میوے دے رہی ہیں پس تم اپنے رب کی نعمتوں کے انکار سے باز رہو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فِیۡہِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ ۙ لَمۡ یَطۡمِثۡہُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَہُمۡ وَ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۵۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں اِن جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھوا نہ ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
وہاں (شرمیلی) نیچی نگاه والی حوریں ہیں جنہیں ان سے پہلے کسی جن وانس نے ہاتھ نہیں لگایا
احمد رضا خان بریلوی
ان بچھونوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں ان سے پہلے انہیں نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جِن نے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور دونوں باغوں کے تیار پھل (ان کے) بہت ہی نزدیک ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں، جنھیں ان سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ کسی جنّ نے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حوروں کے اوصاف ٭٭

چونکہ فروش کا بیان ہوا تھا تو ساتھ ہی فرمایا کہ ان فروش پر ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہوں گی، جو عفیفہ، پاکدامن، شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نظریں نہ ڈالیں گی اور ان کے خاوند بھی ان پر سو جان سے مائل ہوں گے۔ یہ بھی جنت کی کسی چیز کو اپنے ان مومن خاوندوں سے بہتر نہ پائیں گی۔ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ حوریں اپنے خاوندوں سے کہیں گی اللہ کی قسم ساری جنت میں میرے لیے تم سے بہتر کوئی چیز نہیں، اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں جنت کی کسی چیز کی خواہش و محبت اتنی نہیں جتنی آپ کی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو میرے حصے میں کر دیا اور مجھے آپ کی خدمت کا شرف بخشا۔ یہ حوریں کنواری اچھوتی نوجوان ہوں گی ان جنتیوں سے پہلے ان کے پاک جسم کو کسی انس و جن کا ہاتھ بھی نہ لگا۔ یہ آیت بھی مومن جنوں کے جنت میں جانے کی دلیل ہے۔ ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا مومن جن بھی جنت میں جائیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جنیہ عورتوں سے ان کے نکاح ہوں گے جیسے انسان کے انسان عورتوں سے۔ پھر یہی آیتیں تلاوت کیں پھر ان حوروں کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنی صفائی خوبی اور حسن میں ایسی ہو گی جیسے یاقوت و مرجان، یاقوت سے صفائی میں تشبیہ دی اور مرجان سے بیاض میں، پس مرجان سے مراد یہاں لؤلؤ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ ان کی پنڈلی کی سفیدی ستر ستر حلوں کے پہننے کے بعد بھی نظر آتی ہے یہاں تک کہ اندر کا گودا بھی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ» [55- الرحمن:58] ‏‏‏‏ پڑھی اور فرمایا: ”دیکھو یاقوت ایک پتھر ہے لیکن قدرت نے اس کی صفائی اور جوت ایسی رکھی ہے کہ اس کے بیچ میں دھاگہ پرو دو تو باہر سے نظر آتا ہے“ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ یہ روایت ترمذی میں بھی موقوفاً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام ترمذی اس کو زیادہ صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2533،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے پیغمبر مدنی احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر اہل جنت کی دو بیویاں اس صفت کی ہوں گی کہ ستر ستر حلے پہن لینے کے بعد بھی ان کی پنڈلیوں کی جھلک نمودار رہے گی بلکہ اندر کا گودا بھی بوجہ صفائی کے دکھائی دے گا۔ [مسند احمد:34/2] ‏‏‏‏

صحیح مسلم میں ہے کہ { یا تو فخر کے طور پر یا مذاکراہ کے طور پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جنت میں عورتیں زیادہ ہوں گی یا مرد؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا؟ کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چاند جیسی صورتوں والی ہو گی ان کے پیچھے جو جماعت ہو گی وہ آسمان کے بہترین چمکیلے تاروں جیسے چہروں والی ہو گی۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا اور جنت میں کوئی بغیر بیوی کے نہ ہو گا۔ } [صحیح مسلم:2834-14] ‏‏‏‏ اس حدیث کی اصل بخاری میں بھی ہے- مسند احمد میں ہے { نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی راہ کی صبح اور شام ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔ جنت میں جو جگہ ملے گی اس میں سے ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر کی جگہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے افضل ہے، اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا میں جھانک لے تو زمین و آسمان کو جگمگا دے اور خوشبو سے تمام عالم مہک اٹھے۔ ان کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے گراں ہے، } صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی ہے- [صحیح بخاری:2796] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ جس نے دنیا میں نیکی کی اس کا بدلہ آخرت میں سلوک و احسان کے سوا اور کچھ نہیں، جیسے ارشاد ہے «‏‏‏‏لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ» [10-یونس:26] ‏‏‏‏ نیکی کرنے والے کے لیے نیکی ہے اور زیادتی یعنی جنت اور دیدار باری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی علم ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس پر اپنی توحید کا انعام دنیا میں کروں اس کا بدلہ آخرت میں جنت ہے [بغوی فی التفسير:41/251،ضعيف] ‏‏‏‏ اور چونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو دراصل کسی عمل کے بدلے نہیں بلکہ صرف اسی کا احسان اور فضل و کرم ہے اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا اب تم میری کس کس نعمت سے لاپرواہی برتو گے؟ رب کے مقام سے ڈرنے والے کی بشارت کے متعلق ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی خیال میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ڈرے گا وہ رات کے وقت ہی کوچ کرے گا اور جو اندھیری رات میں چل پڑا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا خبردار ہو جاؤ اللہ کا سودا بہت گراں ہے یاد رکھو! وہ سودا جنت ہے،“ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو غریب بتاتے ہیں } [سنن ترمذي:2450،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے منبر پر وعظ بیان فرماتے ہوئے سنا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ پڑھی تو میں نے کہا اگرچہ زنا کیا ہو؟ اگرچہ چوری کی ہو؟ باقی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔
56۔ 1 جن کی نگاہیں اپنے خاوندوں کے علاوہ کسی پر نہیں پڑیں گی اور ان کے اپنے خاوند ہی سب سے زیادہ حسین اور اچھے معلوم ہونگے۔ 56۔ 2 یعنی باکرہ اور نئی نویلی ہوں گی۔ اس سے قبل وہ کسی کے نکاح میں نہیں رہی ہونگی۔ یہ آیت اور اس سے ماقبل کی بعض آیات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جو جن مومن ہونگے وہ بھی مومن انسانوں کی طرح جنت میں جائیں گے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ ہوگا جو دیگر اہل ایمان کے لیے ہوگا۔
(آیت 56) ➊ { فِيْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ:” فِيْهِنَّ “} کی ضمیر {” فُرُشٍ “} کی طرف جا رہی ہے۔ {” قٰصِرٰتُ”قَصَرَ يَقْصُرُ قَصْرًا“} (روکنا) سے اسم فاعل ہے، آنکھوں کو خاوندوں پر روک کر رکھنے والیاں۔ جنت کے محلوں، چشموں اور باغوں میں بچھے ہوئے بستروں میں جنتیوں کا دل لگانے والی عورتوں کے ظاہری و باطنی اوصاف اور ان کے کمال و جمال کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان کا معنوی حسن بیان فرمایا کہ ان کی آنکھیں خاوندوں کے سوا کسی اور کی طرف نہیں اٹھیں گے اور نہ ہی ان کی نگاہ میں ان کے خاوندوں سے بڑھ کر کوئی ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک وصف ہی ہزاروں اوصاف پر بھاری ہے، کوئی عورت کتنی ہی حسین و جمیل ہو، اس وصف سے عاری ہو تو مرد غیور کی نگاہ میں اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں رہتی۔ عرب کا ایک شاعر کہتا ہے: {وَ أَتْرُكُ حُبَّهَا مِنْ غَيْرِ بُغْضٍ وَ ذَاكَ لِكَثْرَةِ الشُّرَكَاءِ فِيْهِ إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ عَلٰي طَعَامٍ رَفَعْتُ يَدِيْ وَ نَفْسِيْ تَشْتَهِيْهِ وَ تَجْتَنِبُ الْأُسُوْدُ وُرُوْدَ مَاءٍ إِذَا كَانَ الْكِلَابُ وَلَغْنَ فِيْهِ} ”میں اس کی محبت کسی بغض کے بغیر ترک کر رہا ہوں، کیونکہ اس محبت میں اور بھی کئی شریک ہیں۔ جب مکھی کھانے پر آ گرے تو میں اپنا ہاتھ اٹھا لیتا ہوں، حالانکہ میرا دل اسے چاہ رہا ہوتا ہے۔ اور شیر پانی پر آنے سے اجتناب کرتے ہیں، جب کتوں نے اس میں منہ ڈال دیا ہو۔“ ➋ { لَمْ يَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّ: ”طَمَثَ يَطْمِثُ طَمْثًا“} (ض) چھونا۔ یعنی وہ عورتیں کنواری ہوں گی، اگر دنیا میں خاوندوں کے پاس رہی ہوں گی تب بھی جنت میں آ کر نئے سرے سے کنواری ہو جائیں گی اور جنت میں ملنے والے خاوندوں سے پہلے کسی نے انھیں چھوا تک نہ ہو گا۔ اصحاب الیمین کو ملنے والی عورتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءً (35) فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًا (36) عُرُبًا اَتْرَابًا (37) لِّاَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ» [ الواقعۃ: ۳۵ تا ۳۸ ] ”بلاشبہ ہم نے ان(بستروں والی عورتوں) کو پیدا کیا، نئے سرے سے پیدا کرنا۔ پس ہم نے انھیں کنواریاں بنا دیا۔جو خاوندوں کی محبوب، ان کی ہم عمر ہیں۔ دائیں ہاتھ والوں کے لیے۔ “ پھر مقربین کو ملنے والی بیویوں کامعاملہ تو ان سے کہیں بڑھ کر ہو گا۔ ➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسانوں کی طرح جن بھی جنت میں جائیں گے، وہاں انسانوں کو ان کی جنس سے بیویاں ملیں گی اور جنوں کو ان کی جنس سے، کیونکہ دوسری جنس سے نہ موافقت ہوتی ہے نہ انس،پھر{” اَتْرَابًا “} (مٹی میں کھیلنے والے ہم جولی) ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۵۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اپنے پالنے والے کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حوروں کے اوصاف ٭٭

چونکہ فروش کا بیان ہوا تھا تو ساتھ ہی فرمایا کہ ان فروش پر ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہوں گی، جو عفیفہ، پاکدامن، شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نظریں نہ ڈالیں گی اور ان کے خاوند بھی ان پر سو جان سے مائل ہوں گے۔ یہ بھی جنت کی کسی چیز کو اپنے ان مومن خاوندوں سے بہتر نہ پائیں گی۔ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ حوریں اپنے خاوندوں سے کہیں گی اللہ کی قسم ساری جنت میں میرے لیے تم سے بہتر کوئی چیز نہیں، اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں جنت کی کسی چیز کی خواہش و محبت اتنی نہیں جتنی آپ کی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو میرے حصے میں کر دیا اور مجھے آپ کی خدمت کا شرف بخشا۔ یہ حوریں کنواری اچھوتی نوجوان ہوں گی ان جنتیوں سے پہلے ان کے پاک جسم کو کسی انس و جن کا ہاتھ بھی نہ لگا۔ یہ آیت بھی مومن جنوں کے جنت میں جانے کی دلیل ہے۔ ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا مومن جن بھی جنت میں جائیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جنیہ عورتوں سے ان کے نکاح ہوں گے جیسے انسان کے انسان عورتوں سے۔ پھر یہی آیتیں تلاوت کیں پھر ان حوروں کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنی صفائی خوبی اور حسن میں ایسی ہو گی جیسے یاقوت و مرجان، یاقوت سے صفائی میں تشبیہ دی اور مرجان سے بیاض میں، پس مرجان سے مراد یہاں لؤلؤ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ ان کی پنڈلی کی سفیدی ستر ستر حلوں کے پہننے کے بعد بھی نظر آتی ہے یہاں تک کہ اندر کا گودا بھی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ» [55- الرحمن:58] ‏‏‏‏ پڑھی اور فرمایا: ”دیکھو یاقوت ایک پتھر ہے لیکن قدرت نے اس کی صفائی اور جوت ایسی رکھی ہے کہ اس کے بیچ میں دھاگہ پرو دو تو باہر سے نظر آتا ہے“ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ یہ روایت ترمذی میں بھی موقوفاً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام ترمذی اس کو زیادہ صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2533،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے پیغمبر مدنی احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر اہل جنت کی دو بیویاں اس صفت کی ہوں گی کہ ستر ستر حلے پہن لینے کے بعد بھی ان کی پنڈلیوں کی جھلک نمودار رہے گی بلکہ اندر کا گودا بھی بوجہ صفائی کے دکھائی دے گا۔ [مسند احمد:34/2] ‏‏‏‏

صحیح مسلم میں ہے کہ { یا تو فخر کے طور پر یا مذاکراہ کے طور پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جنت میں عورتیں زیادہ ہوں گی یا مرد؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا؟ کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چاند جیسی صورتوں والی ہو گی ان کے پیچھے جو جماعت ہو گی وہ آسمان کے بہترین چمکیلے تاروں جیسے چہروں والی ہو گی۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا اور جنت میں کوئی بغیر بیوی کے نہ ہو گا۔ } [صحیح مسلم:2834-14] ‏‏‏‏ اس حدیث کی اصل بخاری میں بھی ہے- مسند احمد میں ہے { نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی راہ کی صبح اور شام ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔ جنت میں جو جگہ ملے گی اس میں سے ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر کی جگہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے افضل ہے، اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا میں جھانک لے تو زمین و آسمان کو جگمگا دے اور خوشبو سے تمام عالم مہک اٹھے۔ ان کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے گراں ہے، } صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی ہے- [صحیح بخاری:2796] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ جس نے دنیا میں نیکی کی اس کا بدلہ آخرت میں سلوک و احسان کے سوا اور کچھ نہیں، جیسے ارشاد ہے «‏‏‏‏لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ» [10-یونس:26] ‏‏‏‏ نیکی کرنے والے کے لیے نیکی ہے اور زیادتی یعنی جنت اور دیدار باری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی علم ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس پر اپنی توحید کا انعام دنیا میں کروں اس کا بدلہ آخرت میں جنت ہے [بغوی فی التفسير:41/251،ضعيف] ‏‏‏‏ اور چونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو دراصل کسی عمل کے بدلے نہیں بلکہ صرف اسی کا احسان اور فضل و کرم ہے اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا اب تم میری کس کس نعمت سے لاپرواہی برتو گے؟ رب کے مقام سے ڈرنے والے کی بشارت کے متعلق ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی خیال میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ڈرے گا وہ رات کے وقت ہی کوچ کرے گا اور جو اندھیری رات میں چل پڑا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا خبردار ہو جاؤ اللہ کا سودا بہت گراں ہے یاد رکھو! وہ سودا جنت ہے،“ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو غریب بتاتے ہیں } [سنن ترمذي:2450،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے منبر پر وعظ بیان فرماتے ہوئے سنا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ پڑھی تو میں نے کہا اگرچہ زنا کیا ہو؟ اگرچہ چوری کی ہو؟ باقی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَاَنَّہُنَّ الۡیَاقُوۡتُ وَ الۡمَرۡجَانُ ﴿ۚ۵۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی
مولانا محمد جوناگڑھی
وه حوریں مثل یاقوت اور مونگے کے ہوں گی
احمد رضا خان بریلوی
گویا وہ لعل اور یاقوت اور مونگا ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ان جنتوں میں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہوں گی جن کو ان (جنتیوں) سے پہلے نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا اور نہ کسی جن نے۔
عبدالسلام بن محمد
گویا وہ(عورتیں) یاقوت اور مرجان ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حوروں کے اوصاف ٭٭

چونکہ فروش کا بیان ہوا تھا تو ساتھ ہی فرمایا کہ ان فروش پر ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہوں گی، جو عفیفہ، پاکدامن، شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نظریں نہ ڈالیں گی اور ان کے خاوند بھی ان پر سو جان سے مائل ہوں گے۔ یہ بھی جنت کی کسی چیز کو اپنے ان مومن خاوندوں سے بہتر نہ پائیں گی۔ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ حوریں اپنے خاوندوں سے کہیں گی اللہ کی قسم ساری جنت میں میرے لیے تم سے بہتر کوئی چیز نہیں، اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں جنت کی کسی چیز کی خواہش و محبت اتنی نہیں جتنی آپ کی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو میرے حصے میں کر دیا اور مجھے آپ کی خدمت کا شرف بخشا۔ یہ حوریں کنواری اچھوتی نوجوان ہوں گی ان جنتیوں سے پہلے ان کے پاک جسم کو کسی انس و جن کا ہاتھ بھی نہ لگا۔ یہ آیت بھی مومن جنوں کے جنت میں جانے کی دلیل ہے۔ ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا مومن جن بھی جنت میں جائیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جنیہ عورتوں سے ان کے نکاح ہوں گے جیسے انسان کے انسان عورتوں سے۔ پھر یہی آیتیں تلاوت کیں پھر ان حوروں کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنی صفائی خوبی اور حسن میں ایسی ہو گی جیسے یاقوت و مرجان، یاقوت سے صفائی میں تشبیہ دی اور مرجان سے بیاض میں، پس مرجان سے مراد یہاں لؤلؤ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ ان کی پنڈلی کی سفیدی ستر ستر حلوں کے پہننے کے بعد بھی نظر آتی ہے یہاں تک کہ اندر کا گودا بھی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ» [55- الرحمن:58] ‏‏‏‏ پڑھی اور فرمایا: ”دیکھو یاقوت ایک پتھر ہے لیکن قدرت نے اس کی صفائی اور جوت ایسی رکھی ہے کہ اس کے بیچ میں دھاگہ پرو دو تو باہر سے نظر آتا ہے“ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ یہ روایت ترمذی میں بھی موقوفاً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام ترمذی اس کو زیادہ صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2533،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے پیغمبر مدنی احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر اہل جنت کی دو بیویاں اس صفت کی ہوں گی کہ ستر ستر حلے پہن لینے کے بعد بھی ان کی پنڈلیوں کی جھلک نمودار رہے گی بلکہ اندر کا گودا بھی بوجہ صفائی کے دکھائی دے گا۔ [مسند احمد:34/2] ‏‏‏‏

صحیح مسلم میں ہے کہ { یا تو فخر کے طور پر یا مذاکراہ کے طور پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جنت میں عورتیں زیادہ ہوں گی یا مرد؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا؟ کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چاند جیسی صورتوں والی ہو گی ان کے پیچھے جو جماعت ہو گی وہ آسمان کے بہترین چمکیلے تاروں جیسے چہروں والی ہو گی۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا اور جنت میں کوئی بغیر بیوی کے نہ ہو گا۔ } [صحیح مسلم:2834-14] ‏‏‏‏ اس حدیث کی اصل بخاری میں بھی ہے- مسند احمد میں ہے { نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی راہ کی صبح اور شام ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔ جنت میں جو جگہ ملے گی اس میں سے ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر کی جگہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے افضل ہے، اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا میں جھانک لے تو زمین و آسمان کو جگمگا دے اور خوشبو سے تمام عالم مہک اٹھے۔ ان کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے گراں ہے، } صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی ہے- [صحیح بخاری:2796] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ جس نے دنیا میں نیکی کی اس کا بدلہ آخرت میں سلوک و احسان کے سوا اور کچھ نہیں، جیسے ارشاد ہے «‏‏‏‏لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ» [10-یونس:26] ‏‏‏‏ نیکی کرنے والے کے لیے نیکی ہے اور زیادتی یعنی جنت اور دیدار باری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی علم ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس پر اپنی توحید کا انعام دنیا میں کروں اس کا بدلہ آخرت میں جنت ہے [بغوی فی التفسير:41/251،ضعيف] ‏‏‏‏ اور چونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو دراصل کسی عمل کے بدلے نہیں بلکہ صرف اسی کا احسان اور فضل و کرم ہے اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا اب تم میری کس کس نعمت سے لاپرواہی برتو گے؟ رب کے مقام سے ڈرنے والے کی بشارت کے متعلق ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی خیال میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ڈرے گا وہ رات کے وقت ہی کوچ کرے گا اور جو اندھیری رات میں چل پڑا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا خبردار ہو جاؤ اللہ کا سودا بہت گراں ہے یاد رکھو! وہ سودا جنت ہے،“ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو غریب بتاتے ہیں } [سنن ترمذي:2450،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے منبر پر وعظ بیان فرماتے ہوئے سنا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ پڑھی تو میں نے کہا اگرچہ زنا کیا ہو؟ اگرچہ چوری کی ہو؟ باقی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔
58۔ 1 یعنی صفائی میں یاقوت اور سفیدی و سرخی میں موتی یا مونگے کی طرح ہونگی جس طرح صحیح حدیث میں بھی ان کے حسن و جمال کو ان الفاظ میں فرمایا گیا ہے ' ان کے حسن و جمال کی وجہ سے ان کی پنڈلی کا گودا، گوشت اور ہڈی کے باہر نظر آئے گا، ایک دوسری روایت میں فرمایا کہ جنتیوں کی بیویاں اتنی حسین و جمیل ہوں گی کہ اگر ان میں سے ایک عورت اہل ارض کی طرف جھانک لے تو آسمان و زمین کے درمیان کا سارا حصہ چمک اٹھے اور خوشبو سے بھر جائے۔ اور اس کے سر کا دوپٹہ اتنا قیمتی ہوگا کہ وہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الجہاد باب الحورالعین)
(آیت 58) {كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُ:الْيَاقُوْتُ “} سرخ رنگ کا پتھر جو اتنا صاف شفاف ہوتا ہے کہ اس کے درمیان سوراخ میں دھاگا ڈالا جائے تو باہر سے نظر آتا ہے۔ {” الْمَرْجَانُ “} مونگے (چھوٹے موتی) کو کہتے ہیں۔ جنتی عورتوں کی سرخ و سفید رنگت، دلکشی، صفائی اور شفافیت میں انھیں یاقوت اور مرجان سے تشبیہ دی ہے۔ محمد (ابن سیرین)کہتے ہیں: [ إِمَّا تَفَاخَرُوْا وَ إِمَّا تَذَاكَرُوا الرِّجَالُ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ أَمِ النِّسَاء؟ فَقَالَ أَبُوْ هُرَيْرَةَ أَوَ لَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلٰی صُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالَّتِيْ تَلِيْهَا عَلٰی أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاء ِ لِكُلِّ امْرِءٍ مِّنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ يُرٰی مُخُّ سُوْقِهِمَا مِنْ وَّرَاءِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ عَزَبٌ] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب أول زمرۃ تدخل الجنۃ: ۲۸۳۴ ] ”یا تو اس بات پر کہ لوگوں نے عورتوں اور مردوں کے مابین فخر کا ذکر کیا، یا ویسے ہی گفتگو ہوئی کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں؟ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی چودھویں کے چاند کی طرح ہو گی اور اس کے بعد والی جماعت آسمان کے سب سے زیادہ روشن چمکدار ستارے کی طرح ہو گی، ان میں سے ہر مرد کی دو بیویاں ہوں گی، جن کی پنڈلیوں کا مغز گوشت کے پار سے نظر آ رہا ہو گا اور جنت میں کوئی شخص بیوی کے بغیر نہیں ہو گا۔ “انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَرَوْحَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ أَوْ مَوْضِعُ قِيْدٍ يَعْنِيْ سَوْطَهُ خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِّنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلٰی أَهْلِ الْأَرْضِ لَأَضَاعَتْ مَا بَيْنَهُمَا وَلَمَلَأَتْهُ رِيْحًا، وَلَنَصِيْفُهَا عَلٰی رَأْسِهَا خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا ] [بخاري، الجھاد و السیر، باب حور العین وصفتہن: ۲۷۹۶ ] ”اللہ کے راستے میں ایک شام یا ایک صبح دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں تمھارے کسی ایک کی ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور اگر اہلِ جنت کی کوئی عورت زمین والوں کی طرف جھانک لے تو زمین و آسمان کے درمیان کا سارا حصہ روشن ہو جائے اور یہ سارا خلا خوشبو سے بھر جائے اور اس کے سر کا دوپٹا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔“
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حوروں کے اوصاف ٭٭

چونکہ فروش کا بیان ہوا تھا تو ساتھ ہی فرمایا کہ ان فروش پر ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہوں گی، جو عفیفہ، پاکدامن، شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نظریں نہ ڈالیں گی اور ان کے خاوند بھی ان پر سو جان سے مائل ہوں گے۔ یہ بھی جنت کی کسی چیز کو اپنے ان مومن خاوندوں سے بہتر نہ پائیں گی۔ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ حوریں اپنے خاوندوں سے کہیں گی اللہ کی قسم ساری جنت میں میرے لیے تم سے بہتر کوئی چیز نہیں، اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں جنت کی کسی چیز کی خواہش و محبت اتنی نہیں جتنی آپ کی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو میرے حصے میں کر دیا اور مجھے آپ کی خدمت کا شرف بخشا۔ یہ حوریں کنواری اچھوتی نوجوان ہوں گی ان جنتیوں سے پہلے ان کے پاک جسم کو کسی انس و جن کا ہاتھ بھی نہ لگا۔ یہ آیت بھی مومن جنوں کے جنت میں جانے کی دلیل ہے۔ ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا مومن جن بھی جنت میں جائیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جنیہ عورتوں سے ان کے نکاح ہوں گے جیسے انسان کے انسان عورتوں سے۔ پھر یہی آیتیں تلاوت کیں پھر ان حوروں کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنی صفائی خوبی اور حسن میں ایسی ہو گی جیسے یاقوت و مرجان، یاقوت سے صفائی میں تشبیہ دی اور مرجان سے بیاض میں، پس مرجان سے مراد یہاں لؤلؤ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ ان کی پنڈلی کی سفیدی ستر ستر حلوں کے پہننے کے بعد بھی نظر آتی ہے یہاں تک کہ اندر کا گودا بھی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ» [55- الرحمن:58] ‏‏‏‏ پڑھی اور فرمایا: ”دیکھو یاقوت ایک پتھر ہے لیکن قدرت نے اس کی صفائی اور جوت ایسی رکھی ہے کہ اس کے بیچ میں دھاگہ پرو دو تو باہر سے نظر آتا ہے“ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ یہ روایت ترمذی میں بھی موقوفاً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام ترمذی اس کو زیادہ صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2533،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے پیغمبر مدنی احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر اہل جنت کی دو بیویاں اس صفت کی ہوں گی کہ ستر ستر حلے پہن لینے کے بعد بھی ان کی پنڈلیوں کی جھلک نمودار رہے گی بلکہ اندر کا گودا بھی بوجہ صفائی کے دکھائی دے گا۔ [مسند احمد:34/2] ‏‏‏‏

صحیح مسلم میں ہے کہ { یا تو فخر کے طور پر یا مذاکراہ کے طور پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جنت میں عورتیں زیادہ ہوں گی یا مرد؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا؟ کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چاند جیسی صورتوں والی ہو گی ان کے پیچھے جو جماعت ہو گی وہ آسمان کے بہترین چمکیلے تاروں جیسے چہروں والی ہو گی۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا اور جنت میں کوئی بغیر بیوی کے نہ ہو گا۔ } [صحیح مسلم:2834-14] ‏‏‏‏ اس حدیث کی اصل بخاری میں بھی ہے- مسند احمد میں ہے { نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی راہ کی صبح اور شام ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔ جنت میں جو جگہ ملے گی اس میں سے ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر کی جگہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے افضل ہے، اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا میں جھانک لے تو زمین و آسمان کو جگمگا دے اور خوشبو سے تمام عالم مہک اٹھے۔ ان کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے گراں ہے، } صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی ہے- [صحیح بخاری:2796] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ جس نے دنیا میں نیکی کی اس کا بدلہ آخرت میں سلوک و احسان کے سوا اور کچھ نہیں، جیسے ارشاد ہے «‏‏‏‏لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ» [10-یونس:26] ‏‏‏‏ نیکی کرنے والے کے لیے نیکی ہے اور زیادتی یعنی جنت اور دیدار باری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی علم ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس پر اپنی توحید کا انعام دنیا میں کروں اس کا بدلہ آخرت میں جنت ہے [بغوی فی التفسير:41/251،ضعيف] ‏‏‏‏ اور چونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو دراصل کسی عمل کے بدلے نہیں بلکہ صرف اسی کا احسان اور فضل و کرم ہے اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا اب تم میری کس کس نعمت سے لاپرواہی برتو گے؟ رب کے مقام سے ڈرنے والے کی بشارت کے متعلق ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی خیال میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ڈرے گا وہ رات کے وقت ہی کوچ کرے گا اور جو اندھیری رات میں چل پڑا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا خبردار ہو جاؤ اللہ کا سودا بہت گراں ہے یاد رکھو! وہ سودا جنت ہے،“ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو غریب بتاتے ہیں } [سنن ترمذي:2450،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے منبر پر وعظ بیان فرماتے ہوئے سنا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ پڑھی تو میں نے کہا اگرچہ زنا کیا ہو؟ اگرچہ چوری کی ہو؟ باقی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ہَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ ﴿ۚ۶۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی
علامہ محمد حسین نجفی
وہ(حوریں) ایسی ہوں گی جیسے یاقوت اور مرجان۔
عبدالسلام بن محمد
نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حوروں کے اوصاف ٭٭

چونکہ فروش کا بیان ہوا تھا تو ساتھ ہی فرمایا کہ ان فروش پر ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہوں گی، جو عفیفہ، پاکدامن، شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نظریں نہ ڈالیں گی اور ان کے خاوند بھی ان پر سو جان سے مائل ہوں گے۔ یہ بھی جنت کی کسی چیز کو اپنے ان مومن خاوندوں سے بہتر نہ پائیں گی۔ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ حوریں اپنے خاوندوں سے کہیں گی اللہ کی قسم ساری جنت میں میرے لیے تم سے بہتر کوئی چیز نہیں، اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں جنت کی کسی چیز کی خواہش و محبت اتنی نہیں جتنی آپ کی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو میرے حصے میں کر دیا اور مجھے آپ کی خدمت کا شرف بخشا۔ یہ حوریں کنواری اچھوتی نوجوان ہوں گی ان جنتیوں سے پہلے ان کے پاک جسم کو کسی انس و جن کا ہاتھ بھی نہ لگا۔ یہ آیت بھی مومن جنوں کے جنت میں جانے کی دلیل ہے۔ ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا مومن جن بھی جنت میں جائیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جنیہ عورتوں سے ان کے نکاح ہوں گے جیسے انسان کے انسان عورتوں سے۔ پھر یہی آیتیں تلاوت کیں پھر ان حوروں کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنی صفائی خوبی اور حسن میں ایسی ہو گی جیسے یاقوت و مرجان، یاقوت سے صفائی میں تشبیہ دی اور مرجان سے بیاض میں، پس مرجان سے مراد یہاں لؤلؤ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ ان کی پنڈلی کی سفیدی ستر ستر حلوں کے پہننے کے بعد بھی نظر آتی ہے یہاں تک کہ اندر کا گودا بھی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ» [55- الرحمن:58] ‏‏‏‏ پڑھی اور فرمایا: ”دیکھو یاقوت ایک پتھر ہے لیکن قدرت نے اس کی صفائی اور جوت ایسی رکھی ہے کہ اس کے بیچ میں دھاگہ پرو دو تو باہر سے نظر آتا ہے“ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ یہ روایت ترمذی میں بھی موقوفاً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام ترمذی اس کو زیادہ صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2533،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے پیغمبر مدنی احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر اہل جنت کی دو بیویاں اس صفت کی ہوں گی کہ ستر ستر حلے پہن لینے کے بعد بھی ان کی پنڈلیوں کی جھلک نمودار رہے گی بلکہ اندر کا گودا بھی بوجہ صفائی کے دکھائی دے گا۔ [مسند احمد:34/2] ‏‏‏‏

صحیح مسلم میں ہے کہ { یا تو فخر کے طور پر یا مذاکراہ کے طور پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جنت میں عورتیں زیادہ ہوں گی یا مرد؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا؟ کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چاند جیسی صورتوں والی ہو گی ان کے پیچھے جو جماعت ہو گی وہ آسمان کے بہترین چمکیلے تاروں جیسے چہروں والی ہو گی۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا اور جنت میں کوئی بغیر بیوی کے نہ ہو گا۔ } [صحیح مسلم:2834-14] ‏‏‏‏ اس حدیث کی اصل بخاری میں بھی ہے- مسند احمد میں ہے { نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی راہ کی صبح اور شام ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔ جنت میں جو جگہ ملے گی اس میں سے ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر کی جگہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے افضل ہے، اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا میں جھانک لے تو زمین و آسمان کو جگمگا دے اور خوشبو سے تمام عالم مہک اٹھے۔ ان کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے گراں ہے، } صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی ہے- [صحیح بخاری:2796] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ جس نے دنیا میں نیکی کی اس کا بدلہ آخرت میں سلوک و احسان کے سوا اور کچھ نہیں، جیسے ارشاد ہے «‏‏‏‏لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ» [10-یونس:26] ‏‏‏‏ نیکی کرنے والے کے لیے نیکی ہے اور زیادتی یعنی جنت اور دیدار باری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی علم ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس پر اپنی توحید کا انعام دنیا میں کروں اس کا بدلہ آخرت میں جنت ہے [بغوی فی التفسير:41/251،ضعيف] ‏‏‏‏ اور چونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو دراصل کسی عمل کے بدلے نہیں بلکہ صرف اسی کا احسان اور فضل و کرم ہے اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا اب تم میری کس کس نعمت سے لاپرواہی برتو گے؟ رب کے مقام سے ڈرنے والے کی بشارت کے متعلق ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی خیال میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ڈرے گا وہ رات کے وقت ہی کوچ کرے گا اور جو اندھیری رات میں چل پڑا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا خبردار ہو جاؤ اللہ کا سودا بہت گراں ہے یاد رکھو! وہ سودا جنت ہے،“ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو غریب بتاتے ہیں } [سنن ترمذي:2450،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے منبر پر وعظ بیان فرماتے ہوئے سنا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ پڑھی تو میں نے کہا اگرچہ زنا کیا ہو؟ اگرچہ چوری کی ہو؟ باقی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔
60۔ 1 پہلے احسان سے مراد نیکی اور اطاعت الٰہی اور دوسرے احسان سے اس کا صلہ، یعنی جنت اور اس کی نعمتیں ہیں۔
(آیت 60){ هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ:} پہلے احسان کا معنی نیکی اور دوسرے احسان کا معنی اس نیکی کا نیک صلہ یعنی جنت ہے۔ حدیثِ جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کا مطلب یہ بیان فرمایا: [ أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ] [مسلم، الإیمان، باب الإیمان ما ھو؟ …: ۹ ] ”تو اللہ کی عبادت اس طرح کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، پھر اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ یقینا تجھے دیکھ رہا ہے۔“ ظاہر ہے جس شخص نے اپنی زندگی اپنے پروردگار کو ہر وقت اپنے اوپر نگران ہونے کے یقین اور احتیاط کے ساتھ گزاری اس کا بدلا بھی ایسا ہی اچھا اور خوبصورت ہونا چاہیے، جس کا بیان ان آیات میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں حصر کے ساتھ جو فرمایا کہ ”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے؟“ تو اس سے عدل و انصاف کے تقاضے کے مطابق بدلا مراد ہے، ورنہ مشرک اور ظالم تو نیکی کا بدلا برائی سے دیتے ہیں، گویا یہ ایک طرح ان پر طنز بھی ہے۔ کفار کے طرزِ عمل کی مثالوں کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت (66،65)، اعراف (۱۹۰) اور سورۂ واقعہ (۸۲)۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۶۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اے جن و انس، اپنے رب کے کن کن اوصاف حمیدہ کا تم انکار کرو گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حوروں کے اوصاف ٭٭

چونکہ فروش کا بیان ہوا تھا تو ساتھ ہی فرمایا کہ ان فروش پر ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہوں گی، جو عفیفہ، پاکدامن، شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نظریں نہ ڈالیں گی اور ان کے خاوند بھی ان پر سو جان سے مائل ہوں گے۔ یہ بھی جنت کی کسی چیز کو اپنے ان مومن خاوندوں سے بہتر نہ پائیں گی۔ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ حوریں اپنے خاوندوں سے کہیں گی اللہ کی قسم ساری جنت میں میرے لیے تم سے بہتر کوئی چیز نہیں، اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں جنت کی کسی چیز کی خواہش و محبت اتنی نہیں جتنی آپ کی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو میرے حصے میں کر دیا اور مجھے آپ کی خدمت کا شرف بخشا۔ یہ حوریں کنواری اچھوتی نوجوان ہوں گی ان جنتیوں سے پہلے ان کے پاک جسم کو کسی انس و جن کا ہاتھ بھی نہ لگا۔ یہ آیت بھی مومن جنوں کے جنت میں جانے کی دلیل ہے۔ ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا مومن جن بھی جنت میں جائیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جنیہ عورتوں سے ان کے نکاح ہوں گے جیسے انسان کے انسان عورتوں سے۔ پھر یہی آیتیں تلاوت کیں پھر ان حوروں کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنی صفائی خوبی اور حسن میں ایسی ہو گی جیسے یاقوت و مرجان، یاقوت سے صفائی میں تشبیہ دی اور مرجان سے بیاض میں، پس مرجان سے مراد یہاں لؤلؤ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ ان کی پنڈلی کی سفیدی ستر ستر حلوں کے پہننے کے بعد بھی نظر آتی ہے یہاں تک کہ اندر کا گودا بھی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ» [55- الرحمن:58] ‏‏‏‏ پڑھی اور فرمایا: ”دیکھو یاقوت ایک پتھر ہے لیکن قدرت نے اس کی صفائی اور جوت ایسی رکھی ہے کہ اس کے بیچ میں دھاگہ پرو دو تو باہر سے نظر آتا ہے“ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ یہ روایت ترمذی میں بھی موقوفاً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام ترمذی اس کو زیادہ صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2533،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے پیغمبر مدنی احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر اہل جنت کی دو بیویاں اس صفت کی ہوں گی کہ ستر ستر حلے پہن لینے کے بعد بھی ان کی پنڈلیوں کی جھلک نمودار رہے گی بلکہ اندر کا گودا بھی بوجہ صفائی کے دکھائی دے گا۔ [مسند احمد:34/2] ‏‏‏‏

صحیح مسلم میں ہے کہ { یا تو فخر کے طور پر یا مذاکراہ کے طور پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جنت میں عورتیں زیادہ ہوں گی یا مرد؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا؟ کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چاند جیسی صورتوں والی ہو گی ان کے پیچھے جو جماعت ہو گی وہ آسمان کے بہترین چمکیلے تاروں جیسے چہروں والی ہو گی۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا اور جنت میں کوئی بغیر بیوی کے نہ ہو گا۔ } [صحیح مسلم:2834-14] ‏‏‏‏ اس حدیث کی اصل بخاری میں بھی ہے- مسند احمد میں ہے { نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی راہ کی صبح اور شام ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔ جنت میں جو جگہ ملے گی اس میں سے ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر کی جگہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے افضل ہے، اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا میں جھانک لے تو زمین و آسمان کو جگمگا دے اور خوشبو سے تمام عالم مہک اٹھے۔ ان کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے گراں ہے، } صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی ہے- [صحیح بخاری:2796] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہے کہ جس نے دنیا میں نیکی کی اس کا بدلہ آخرت میں سلوک و احسان کے سوا اور کچھ نہیں، جیسے ارشاد ہے «‏‏‏‏لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ» [10-یونس:26] ‏‏‏‏ نیکی کرنے والے کے لیے نیکی ہے اور زیادتی یعنی جنت اور دیدار باری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی علم ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس پر اپنی توحید کا انعام دنیا میں کروں اس کا بدلہ آخرت میں جنت ہے [بغوی فی التفسير:41/251،ضعيف] ‏‏‏‏ اور چونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو دراصل کسی عمل کے بدلے نہیں بلکہ صرف اسی کا احسان اور فضل و کرم ہے اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا اب تم میری کس کس نعمت سے لاپرواہی برتو گے؟ رب کے مقام سے ڈرنے والے کی بشارت کے متعلق ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی خیال میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ڈرے گا وہ رات کے وقت ہی کوچ کرے گا اور جو اندھیری رات میں چل پڑا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا خبردار ہو جاؤ اللہ کا سودا بہت گراں ہے یاد رکھو! وہ سودا جنت ہے،“ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو غریب بتاتے ہیں } [سنن ترمذي:2450،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے منبر پر وعظ بیان فرماتے ہوئے سنا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ پڑھی تو میں نے کہا اگرچہ زنا کیا ہو؟ اگرچہ چوری کی ہو؟ باقی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ مِنۡ دُوۡنِہِمَا جَنَّتٰنِ ﴿ۚ۶۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اور ان دو (باغوں) کے علاوہ اور دوباغ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب یمین اور مقربین ٭٭

یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی- الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں، جس کی دلیلیں بہت سی ہیں- ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صفت ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی۔ پھر یہاں آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏‏‏‏ فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت «‏‏‏‏ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ» ‏‏‏‏ [55-الرحمن:48] ‏‏‏‏ کہا تھا یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخوں دار۔ یہاں فرمایا آیت «‏‏‏‏مُدْهَامَّتٰنِ» [55-الرحمن:64] ‏‏‏‏ یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ۔
62۔ 1 دُوْنِھِمَا سے یہ ثابت بھی کیا گیا ہے کہ یہ دو باغ شان اور فضیلت میں پچھلے دو باغوں سے، جن کا ذکر آیت 26 میں گزرا، کم تر ہونگے۔
(آیت 62) {وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ:} جیسا کہ {” وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ “} کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ پہلی دو جنتیں جن کا ذکر اوپر گزرا، اللہ سے ہمیشہ ڈرنے والے مقربین کے لیے ہیں اور یہاں سے عام اہلِ ایمان یعنی اصحاب الیمین کو ملنے والی جنتوں کا ذکر ہوتا ہے، جو کئی باتوں میں پہلی دونوں جنتوں کے ساتھ مشترک اور کئی باتوں میں ان سے کم تر ہیں۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۙ۶۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم اپنے پرورش کرنے والے کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب یمین اور مقربین ٭٭

یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی- الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں، جس کی دلیلیں بہت سی ہیں- ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صفت ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی۔ پھر یہاں آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏‏‏‏ فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت «‏‏‏‏ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ» ‏‏‏‏ [55-الرحمن:48] ‏‏‏‏ کہا تھا یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخوں دار۔ یہاں فرمایا آیت «‏‏‏‏مُدْهَامَّتٰنِ» [55-الرحمن:64] ‏‏‏‏ یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
مُدۡہَآ مَّتٰنِ ﴿ۚ۶۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
گھنے سرسبز و شاداب باغ
مولانا محمد جوناگڑھی
جو دونوں گہری سبز سیاہی مائل ہیں
احمد رضا خان بریلوی
نہایت سبزی سے سیاہی کی جھلک دے رہی ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ان دونوں باغوں کے علاوہ دو باغ اور بھی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
دونوں سیاہی مائل گہرے سبز ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب یمین اور مقربین ٭٭

یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی- الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں، جس کی دلیلیں بہت سی ہیں- ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صفت ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی۔ پھر یہاں آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏‏‏‏ فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت «‏‏‏‏ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ» ‏‏‏‏ [55-الرحمن:48] ‏‏‏‏ کہا تھا یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخوں دار۔ یہاں فرمایا آیت «‏‏‏‏مُدْهَامَّتٰنِ» [55-الرحمن:64] ‏‏‏‏ یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ۔
64۔ 1 کثر سیرابی اور سبزے کی فروانی کی وجہ سے وہ مائل بہ سیاہی ہوں گے
(آیت 64){ مُدْهَآمَّتٰنِ: ”اِدْهَمَّ يَدْهَمُّ اِدْهِمَامًا“} (افعلال) سیاہ ہونا اور {”اِدْهَامَّ يَدْهَامُّ اِدْهِيْمَامًا“} (افعیلال) بہت سیاہ ہونا۔ یعنی وہ دونوں باغ گہرے سبز ہوں گے جیسے بہت سیاہ ہوں۔ پہلے دو باغوں میں شاخوں اور پتوں کی کثرت کا ذکر ہے جن کے ضمن میں ان کا گہرا سبز ہونا خود بخود آ جاتا ہے اور یہاں صرف ان کے گہرے سبز رنگ کا ذکر ہے۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۶۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
بتاؤ اب اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب یمین اور مقربین ٭٭

یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی- الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں، جس کی دلیلیں بہت سی ہیں- ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صفت ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی۔ پھر یہاں آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏‏‏‏ فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت «‏‏‏‏ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ» ‏‏‏‏ [55-الرحمن:48] ‏‏‏‏ کہا تھا یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخوں دار۔ یہاں فرمایا آیت «‏‏‏‏مُدْهَامَّتٰنِ» [55-الرحمن:64] ‏‏‏‏ یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فِیۡہِمَا عَیۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ ﴿ۚ۶۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دونوں باغوں میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوئے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں دو (جوش سے) ابلنے والے چشمے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ان میں دو چشمے ہیں چھلکتے ہوئے،
علامہ محمد حسین نجفی
دونوں گہرے سبز سیاہی مائل۔
عبدالسلام بن محمد
ان دونوں میں جوش مارتے ہوئے دو چشمے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب یمین اور مقربین ٭٭

یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی- الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں، جس کی دلیلیں بہت سی ہیں- ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صفت ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی۔ پھر یہاں آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏‏‏‏ فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت «‏‏‏‏ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ» ‏‏‏‏ [55-الرحمن:48] ‏‏‏‏ کہا تھا یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخوں دار۔ یہاں فرمایا آیت «‏‏‏‏مُدْهَامَّتٰنِ» [55-الرحمن:64] ‏‏‏‏ یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ۔
66۔ 1 یہ صفت تَجْرِیَانِ سے ہلکی ہے اَلْجَرْیءِ اَقْوَیٰ مِنَ النَّفْخِ (ابن کثیر)
(آیت 66){ فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ:” نَضَخَ يَنْضَخُ نَضْخًا“} (ف) {”اَلْمَاءُ“} پانی کا جوش سے نکلنا۔ یعنی ان دونوں جنتوں میں دو جوش مارنے والے چشمے ہوں گے۔ {” عَيْنٰنِ تَجْرِيٰنِ “} اور {” عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ “} کے تقابل کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۵۰) کی تفسیر۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۶۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب یمین اور مقربین ٭٭

یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی- الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں، جس کی دلیلیں بہت سی ہیں- ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صفت ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی۔ پھر یہاں آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏‏‏‏ فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت «‏‏‏‏ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ» ‏‏‏‏ [55-الرحمن:48] ‏‏‏‏ کہا تھا یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخوں دار۔ یہاں فرمایا آیت «‏‏‏‏مُدْهَامَّتٰنِ» [55-الرحمن:64] ‏‏‏‏ یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فِیۡہِمَا فَاکِہَۃٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ ﴿ۚ۶۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور انار
مولانا محمد جوناگڑھی
ان دونوں میں میوے اور کھجور اور انار ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ان دو باغوں میں دو چشمے ہوں گے جوش مارتے ہوئے۔
عبدالسلام بن محمد
ان دونوں میں پھل اور کھجوروں کے درخت اور انار ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کے میوے ٭٭

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سر سبز معلوم ہو رہی ہے، الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے، ان کی نہروں کی بابت لفظ «تَجْرِيَانِ» ‏‏‏‏ ہے اور یہاں لفظ «نَضَّاخَتٰنِ» ہے یعنی ابلنے والی، اور یہ ظاہر ہے کہ «نضخ» سے «جری» یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں، پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لیے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضیلت رکھتے ہیں، کیونکہ یہاں لفظ «‏‏‏‏فَاكِهَة» گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لیے عام نہ ہو گا، اسی لیے بطور تفسیر کے بعد میں «‏‏‏‏نَخْلٌ وَرُمَّانٌ» کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے- امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے۔ کھجور اور انار کو «خاصۃ» اس لیے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہاں ہیں“، انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں گے پئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ“، انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہو جائے گا۔‏‏‏‏“ [ضعيف الترغيب:242/2،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے، اس کے تنے سبز زمردیں ہوں گے، اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے، گٹھلی بالکل نہ ہو گی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج [ضعيف] ‏‏‏‏- «خیرات» کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق- ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33172،ضعيف] ‏‏‏‏
68۔ 1 جب کہ پہلی دو جنتوں (باغوں) کی صفت میں بتلایا گیا ہے کہ ہر پھل دو قسم کا ہوگا۔ ظاہر ہے اس میں شرف و فضل کی جو زیادتی ہے، وہ دوسری بات میں نہیں ہے
(آیت 68){ فِيْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌ: ”فَاكِهَةٌ“} اسم جنس ہے، اس میں ہر پھل آ جاتا ہے۔ کھجور اور انار بھی {” فَاكِهَةٌ “} میں شامل ہیں، مگر عرب میں ان کی کثرت اور ان کے پسندیدہ پھل ہونے کی وجہ سے ان کا الگ ذکر فرمایا ہے۔ مقربین کے لیے {” مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ “} اور اصحاب الیمین کے لیے {” فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌ “} فرمایا۔ دونوں کا فرق واضح ہے۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۶۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا اب بھی رب کی کسی نعمت کی تکذیب تم کرو گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کے میوے ٭٭

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سر سبز معلوم ہو رہی ہے، الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے، ان کی نہروں کی بابت لفظ «تَجْرِيَانِ» ‏‏‏‏ ہے اور یہاں لفظ «نَضَّاخَتٰنِ» ہے یعنی ابلنے والی، اور یہ ظاہر ہے کہ «نضخ» سے «جری» یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں، پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لیے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضیلت رکھتے ہیں، کیونکہ یہاں لفظ «‏‏‏‏فَاكِهَة» گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لیے عام نہ ہو گا، اسی لیے بطور تفسیر کے بعد میں «‏‏‏‏نَخْلٌ وَرُمَّانٌ» کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے- امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے۔ کھجور اور انار کو «خاصۃ» اس لیے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہاں ہیں“، انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں گے پئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ“، انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہو جائے گا۔‏‏‏‏“ [ضعيف الترغيب:242/2،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے، اس کے تنے سبز زمردیں ہوں گے، اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے، گٹھلی بالکل نہ ہو گی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج [ضعيف] ‏‏‏‏- «خیرات» کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق- ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33172،ضعيف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فِیۡہِنَّ خَیۡرٰتٌ حِسَانٌ ﴿ۚ۷۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں نیک سیرت خوبصورت عورتیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ان میں عورتیں ہیں عادت کی نیک صورت کی اچھی
علامہ محمد حسین نجفی
ان میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ان میں کئی خوب سیرت، خوبصورت عورتیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭

ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔

ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ‏‏‏‏ ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] ‏‏‏‏ بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:3682] ‏‏‏‏ یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»

وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» ‏‏‏‏ کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن] ‏‏‏‏ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» ‏‏‏‏ یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ» «الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
70۔ 1 خَیْرَات سے مراد اخلاق و کردار کی خوبیاں ہیں اور حِسَانکا مطلب ہے حسن و جمال میں یکتا۔
(آیت 70) ➊ {فِيْهِنَّ خَيْرٰتٌ حِسَانٌ:خَيْرٰتٌ”خَيْرَةٌ“} کی جمع ہے جو اصل میں ”یاء“ کی تشدید کے ساتھ {”خَيِّرَةٌ“} ہے۔ مذکر اس کا {”خَيِّرٌ“} (بروزن{ فَيْعِلٌ}) ہے، جس میں ”یاء“ کو تخفیف کے لیے حذف کر دیا ہے، جیسے {”هَيِّنٌ، لَيِّنٌ “} اور{”مَيِّتٌ“} کو {”هَيْنٌ، لَيْنٌ“} اور {”مَيْتٌ“} کر دیتے ہیں۔ یہ تفضیل والا {”خَيْرٌ“} نہیں جو {”شَرٌّ“} کے مقابلے میں آتا ہے، کیونکہ اس کا اصل {” أَخْيَرُ “} ({ أَفْعَلُ}) ہے۔ {” حِسَانٌ”حَسْنَاءُ “} کی جمع ہے۔ {” خَيْرٰتٌ “} نیک، یعنی خوب سیرت اور {” حِسَانٌ “} خوبصورت عورتیں۔ ➋ یہاں یہ بات زیرِ نظر رہنا ضروری ہے کہ اس جگہ یہ نہیں فرمایا کہ «فِيْهِمَا خَيْرَاتٌ حِسَانٌ» (ان دونوں باغوں میں خوب سیرت و خوبصورت عورتیں ہیں) بلکہ فرمایا: «‏‏‏‏فِيْهِنَّ خَيْرٰتٌ حِسَانٌ» ‏‏‏‏ یعنی ان سب جنتوں میں جن کا ذکر گزرا ہے خوب سیرت اور خوبصورت عورتیں ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہاں جو اوصاف مذکور ہوئے ہیں وہ چاروں جنتوں میں سابقون اور اصحاب الیمین دونوں کو ملنے والی عورتوں میں مشترک ہیں۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۷۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭

ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔

ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ‏‏‏‏ ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] ‏‏‏‏ بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:3682] ‏‏‏‏ یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»

وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» ‏‏‏‏ کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن] ‏‏‏‏ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» ‏‏‏‏ یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ» «الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
حُوۡرٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِی الۡخِیَامِ ﴿ۚ۷۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
خیموں میں ٹھیرائی ہوئی حوریں
مولانا محمد جوناگڑھی
(گوری رنگت کی) حوریں جنتی خیموں میں رہنے والیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین
علامہ محمد حسین نجفی
ان میں اچھی سیرت و صورت والی (حوریں) ہوں گی۔
عبدالسلام بن محمد
سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتیں، جو خیموں میں روکی ہوئی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭

ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔

ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ‏‏‏‏ ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] ‏‏‏‏ بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:3682] ‏‏‏‏ یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»

وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» ‏‏‏‏ کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن] ‏‏‏‏ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» ‏‏‏‏ یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ» «الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
72۔ 1 حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' جنت میں موتیوں کے خیمے ہونگے، ان کا عرض ساٹھ میل ہوگا، اس کے ہر کونے میں جنتی کے اہل ہونگے، جس کو دوسرے کونے والے نہیں دیکھ سکیں گے۔ مومن اس میں گھومے گا ' (صحیح بخاری)۔
(آیت 72) ➊ {” حُوْرٌ”حَوْرَاء“} کی جمع ہے، مادہ اس کا {”حَوَرٌ“} ہے، ”گورے رنگ کی عورتیں“ جنھیں دیکھ کر آنکھ حیران رہ جائے اور جن کی آنکھ کی سفیدی بہت سفید اور سیاہی بہت سیاہ ہو۔ [ دیکھیے بخاري: الجھاد والسیر، باب الحور العین و صفتھن، قبل ح: ۲۱۷۵] ➋ {مَقْصُوْرٰتٌ فِي الْخِيَامِ:} لفظ {” حُوْرٌ “} میں ان کی صورت کا حسن بیان ہوا ہے اور {” مَقْصُوْرٰتٌ فِي الْخِيَامِ “} میں ان کی سیرت کا حسن بیان ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ عورت کی خوبی گھر رکے رہنے میں ہے۔ ان الفاظ میں ان عورتوں کے لیے ہر طرح کی خوش حالی اور نعمت میسر ہونے کا اشارہ بھی ہے، کیونکہ دنیا میں سردار عورتوں کو کسی کی نوکری یا خدمت یا کھیتوں وغیرہ میں کام کرنے کے لیے گھر سے باہر نہیں جانا پڑتا، حتیٰ کہ میل ملاقات کے لیے بھی دوسری عورتیں ہی ان کے پاس آتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ نہایت معزز اور مخدوم ہیں، جیسا کہ ابو قیس بن الاسلت نے کہا ہے: {وَيُكْرِمُهَا جَارَاتُهَا فَيَزُرْنَهَا وَ تَعْتَلُّ عَنْ إِتْيَانِهُنَّ فَتُعْذَرُ} ”اس کی پڑوسنیں اس کا اکرام کرتی ہیں، اس لیے اس سے ملنے کے لیے خود آتی ہیں اور یہ ان کے پاس آنے سے کوئی نہ کوئی بہانہ کر دیتی ہے تو اسے قبول کر لیا جاتا ہے۔“ [ التحریر و التنویر ] ➌ {فِي الْخِيَامِ:الْخِيَامِ”خَيْمَةٌ“} کی جمع ہے، جو عموماً پشم یا بالوں کے بنے ہوئے کپڑے سے بنایا جاتا ہے۔ پھر جتنے خوشحال لوگوں کا ہو اتنا ہی قیمتی، اونچا اور شاندار بنایا جاتا ہے۔ جنت کے خیموں کا وصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا، عبداللہ بن قیس (ابو موسیٰ اشعری) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ خَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ مُجَوَّفَةٍ عَرْضُهَا سِتُّوْنَ مِيْلاً فِيْ كُلِّ زَاوِيَةٍ مِّنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الْآخَرِيْنَ يَطُوْفُ عَلَيْهِمُ الْمُؤْمِنُوْنَ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «حور مقصورات في الخیام» ‏‏‏‏: ۴۸۷۹ ] ”جنت میں ایک خولدار موتی کا خیمہ ہے جس کا عرض ساٹھ میل ہے، اس کے ہر کونے میں ایک گھر والے ہیں جو دوسروں کو نہیں دیکھتے، مومن ان پر چکر لگائیں گے۔“
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۷۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭

ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔

ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ‏‏‏‏ ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] ‏‏‏‏ بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:3682] ‏‏‏‏ یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»

وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» ‏‏‏‏ کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن] ‏‏‏‏ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» ‏‏‏‏ یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ» «الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
لَمۡ یَطۡمِثۡہُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَہُمۡ وَ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۷۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن جنتیوں سے پہلے کبھی انسان یا جن نے اُن کو نہ چھوا ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کو ہاتھ نہیں لگایا کسی انسان یا جن نے اس سے قبل
احمد رضا خان بریلوی
ان سے پہلے انہیں ہاتھ نہ لگایا کسی آدمی اور نہ کسی جِن نے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان (جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جن نے انہیں چھوا بھی نہیں ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
ان سے پہلے نہ کسی انسان نے انھیں ہاتھ لگایا ہے اور نہ کسی جن نے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭

ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔

ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ‏‏‏‏ ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] ‏‏‏‏ بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:3682] ‏‏‏‏ یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»

وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» ‏‏‏‏ کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن] ‏‏‏‏ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» ‏‏‏‏ یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ» «الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۷۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کے ساتھ تم تکذیب کرتے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭

ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔

ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ‏‏‏‏ ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] ‏‏‏‏ بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:3682] ‏‏‏‏ یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»

وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» ‏‏‏‏ کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن] ‏‏‏‏ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» ‏‏‏‏ یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ» «الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
مُتَّکِـِٕیۡنَ عَلٰی رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّ عَبۡقَرِیٍّ حِسَانٍ ﴿ۚ۷۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس و نادر فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
سبز مسندوں اور عمده فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
تکیہ لگائے ہوئے سبز بچھونوں اور منقش خوبصورت چاندنیوں پر،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (جنتی لوگ) سبز رنگ کے بچھونوں اور خوبصورت گدوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ ایسے قالینوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہیں جو سبز ہیں اور نادر، نفیس ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭

ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔

ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ‏‏‏‏ ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] ‏‏‏‏ بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:3682] ‏‏‏‏ یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»

وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» ‏‏‏‏ کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن] ‏‏‏‏ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» ‏‏‏‏ یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ» «الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
76۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جنتی ایسے تختوں پر بیٹھے ہوں گے جس پر سبز رنگ کی مسندیں، غالیچے اور اعلٰی قسم کے خوب صورت منقش فرش بچھے ہوں گے۔
(آیت 76) {مُتَّكِـِٕيْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ:رَفْرَفٍ “} اسم جنس یا اسم جمع ہے، مفرد اس کا {”رَفْرَفَةٌ“} ہے، منقش قالین جو بستر پر بچھایا جائے۔ {” عَبْقَرِيٍّ “} کوئی بھی چیز جو اپنی جنس میں سب سے فائق اور نادر الوجود ہو۔ اس کی نسبت {”عَبْقَرٌ“} کی طرف ہے جو جاہلیت کے افسانوں میں جنوں کا شہر تھا، جسے اردو میں پرستان کہتے ہیں۔ عرب میں فوق العادت خوبصورت یا باکمال چیز کی نسبت اس کی طرف کر دیتے تھے، گویا یہ انسانوں کی سرزمین کی نہیں بلکہ جنوں اور پریوں کی سرزمین کی چیز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کنویں سے پانی کھینچنے والے خواب کے ذکر میں فرمایا: [ ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ، فَاسْتَحَالَتْ بِيَدِهِ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا فِي النَّاسِ يَفْرِيْ فَرِيَّهُ ] [ بخاري، المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام: ۳۶۳۴ ] ”پھر وہ ڈول عمر (رضی اللہ عنہ) نے پکڑا تو وہ ایک بڑے ڈول کی شکل میں بدل گیا۔ تو میں نے کوئی نادر قوت والا شخص نہیں دیکھا جو اس جیسی کاٹ کاٹتا ہو۔ “ اس لیے اس کا ترجمہ شاہ رفیع الدین رحمہ اللہ نے ”نادر“ کیا ہے اور {” حِسَانٍ “} کا ترجمہ ”نفیس“ کیا ہے۔ {” رَفْرَفٍ “} کا لفظ مفرد ہے، اس کے مطابق {” عَبْقَرِيٍّ “} صفت مفرد لائی گئی ہے اور اسم جنس یا اسم جمع ہونے کی وجہ سے اس میں جمع کا مفہوم پایا جاتا ہے، اس لیے اس کی صفات {” خُضْرٍ “} اور {” حِسَانٍ “} جمع لائی گئی ہیں۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۷۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس (اے جنو اور انسانو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭

ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔

ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ‏‏‏‏ ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] ‏‏‏‏ بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:3682] ‏‏‏‏ یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»

وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» ‏‏‏‏ کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن] ‏‏‏‏ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» ‏‏‏‏ یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ» «الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تَبٰرَکَ اسۡمُ رَبِّکَ ذِی الۡجَلٰلِ وَ الۡاِکۡرَامِ ﴿٪۷۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام
مولانا محمد جوناگڑھی
تیرے پروردگار کا نام بابرکت ہے جو عزت وجلال واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بڑی برکت والا ہے تمہارے رب کا نام جو عظمت اور بزرگی والا،
علامہ محمد حسین نجفی
بابرکت ہے تمہارے پروردگار کانام جو بڑی عظمت اور کرا مت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بہت برکت والا ہے تیرے رب کا نام جو بڑی شان اور عزت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭

ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ» یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔

ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ‏‏‏‏ ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] ‏‏‏‏ بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:3682] ‏‏‏‏ یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»

وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» ‏‏‏‏ کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن] ‏‏‏‏ جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» ‏‏‏‏ یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ» «الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
78۔ 1 تَبَارَکَ، برکت سے ہے جس کے معنی دوام و ثبات کے ہیں۔ مطلب یہ ہے اس کا نام ہمیشہ رہنے والا ہے، یا اس کے پاس ہمیشہ خیر کے خزانے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی بلندی اور علوشان کے کئے ہیں اور جب اس کا نام اتنا بابرکت یعنی خیر اور بلندی کا حامل ہے تو اس کی ذات کتنی برکت اور عظمت و رفعت والی ہوگی۔
(آیت 78) {تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ:” تَبٰرَكَ “} باب تفاعل ہے، جب اس میں تشارک مقصود نہ ہو تو مبالغہ مراد ہوتا ہے، یعنی بہت برکت والا ہے تیرے رب کا نام۔ پھر جب اس کا نام بہت برکت والا ہے تو اس کی ذات پاک کس قدر بابرکت ہو گی۔ ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے اور یوں کہتے: [ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِْكْرَامِ ] [ مسلم، المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ …:۵۹۱ ] ”اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تجھی سے سلامتی ہے اے جلال اور اکرام والے!“ اس دعا میں کئی لوگ ان الفاظ کا اضافہ کرتے ہیں: {” وَإِلَيْكَ يُرْجَعُ السَّلاَمُ حَيِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلاَمِ وَ أَدْخِلْنَا دَارَ السَّلاَمِ۔“} یہ الفاظ حدیث سے ثابت نہیں ہیں۔ {” ذِي الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ “} اللہ تعالیٰ کا ایسا بابرکت نام ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کثرت سے پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَلِظُّوْا بِيَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِْكْرَامِ ] [ ترمذي، الدعوات، باب: ۳۵۲۴، وقال الألباني صحیح ] {” يَا ذَا الْجَلَالِ وَ الإِْكْرَامِ “} سے چمٹ جاؤ، اسے لازم پکڑ لو۔“ {”أَلِظُّوْا“ ”أَلَظَّ يُلِظُّ إِلْظَاظًا“} سے ہے جس کا معنی ”چمٹ جانا“ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کو لازم پکڑنے کے حکم سے ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ کس قدر بابرکت نام ہے۔