بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الرحمٰن
سورۃ الرحمٰن — 78 آیات — صفحہ 1 از 2
قرآن کریم Surah 55
اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رحمٰن نے
مولانا محمد جوناگڑھی
رحمٰن نے
احمد رضا خان بریلوی
رحمٰن
علامہ محمد حسین نجفی
خدائے رحمٰن۔
عبدالسلام بن محمد
اس بے حد رحم والے نے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ رحمٰن ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں «بیان» سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے، خواہ حلق سے نکلتا ہو، خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ‏‏‏‏ سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں، نہ ان میں اختلاف ہو، نہ اضطراب، نہ یہ آگے بڑھے، نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے۔ اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] ‏‏‏‏ الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم» قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] ‏‏‏‏ الخ، ’ کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ‘۔
تفسیر احسن البیان

رحمٰن نے۔
اس سورت کی فضیلت میں ایک حدیث مشہور ہے: [ لِكُلِّ شَيْءٍ عَرُوْسٌ وَ عَرُوْسُ الْقُرْآنِ الرَّحْمٰنُ ] ”ہر چیز کا ایک دولہا ہوتا ہے اور قرآن کا دولہا سورۂ رحمن ہے۔“ (عروس کا معنی دولہا بھی ہے اور دلہن بھی) سیوطی نے اسے {” اَلْجَامِعُ الصَّغِيْرُ “} میں {” شُعَبُ الْإِيْمَانِ لِلْبَيْهَقِيْ “} کے حوالے سے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔علامہ البانی نے اسے ضعیف لکھا ہے۔ دیکھیے ضعیف الجامع (۴۷۲۹)۔ (آیت 2،1) ➊ {اَلرَّحْمٰنُ(1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ:} اس سورت کا آغاز اللہ کے مبارک نام {” اَلرَّحْمٰنُ “} کے ساتھ ہوا ہے اور پوری سورت اس کی بے حد و بے حساب رحمت کی تفصیل ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر ہر نعمت کا ذکر کر کے بار بار اپنا احسان یاد دلایا ہے۔ ان نعمتوں میں وہ نعمتیں بھی ہیں جو دنیا میں تمام لوگوں پر کی گئی ہیں اور وہ بھی جو صرف ایمان والوں پر ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی نعمت دین کا ذکر سب سے پہلے فرمایا ہے، کیونکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی اسی پر موقوف ہے اور دین کا مدار قرآن مجید پر ہے، اس لیے فرمایا: «اَلرَّحْمٰنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ» ‏‏‏‏ ”اس بے حد رحم والے نے۔ یہ قرآن سکھایا۔“ ➋ {” اَلرَّحْمٰنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “} میں نعمت کے بیان کے ساتھ کفار کے اس بہتان کا ردّ بھی ہے کہ «‏‏‏‏اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ» ‏‏‏‏ [ النحل: ۱۰۳ ] یعنی آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کوئی بشر ہی سکھاتا ہے۔ فرمایا، آپ کو سکھلانے والا کوئی بشر یا کوئی اور ہستی نہیں، بلکہ وہ رحمن ہی ہے جس نے آپ کو قرآن سکھایا۔ ابنِ عاشور نے اس کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ مسند کو فعل کی صورت میں مسند الیہ کے بعد تخصیص کا فائدہ دینے کے لیے لایا گیا ہے۔ کیونکہ کفار کا کہنا تھا کہ قرآن کسی اور نے آپ کو سکھایا ہے، گویا وہ یہ مان گئے کہ یہ آپ نے خود نہیں بنایا بلکہ کسی اور نے آپ کو سکھایا ہے، مگر وہ یہ نہیں مانتے تھے کہ آپ کو قرآن سکھانے والا اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے فرمایا: ”اس رحمان ہی نے (آپ کو) یہ قرآن سکھایا ہے۔“ {” عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “ ” اَلرَّحْمٰنُ “} مبتدا کی پہلی خبر ہے، اس کے بعد مسلسل تین خبریں ہیں جو حرفِ عطف کے بغیر لائی گئی ہیں۔ ان نعمتوں کے اس انداز میں ذکر کرنے سے جہاں ان نعمتوں کا اظہار ہو رہا ہے وہاں یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ یہ نعمتیں رحمان ہی نے عطا کی ہیں، انھیں عطا کرنے میں کسی اور کا نہ کوئی دخل ہے نہ کسی قسم کی شرکت ہے۔ مشرکین یہاں تک تو مانتے تھے، مگر اس سے لازم آنے والی بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ جب یہ سب نعمتیں رحمان ہی کی ہیں تو عبادت بھی اسی کی ہے۔ گویا نعمتوں کے شمار کرنے میں مشرکین کو ان کی غلطی پر تنبیہ اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ ➌ {” عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “} میں {” عَلَّمَ “} کا ایک مفعول {” الْقُرْاٰنَ “} ذکر فرمایا ہے کہ اس رحمن نے یہ قرآن سکھایا، دوسرا مفعول ذکر نہیں فرمایا کہ کسے سکھایا؟ یہ حذف فرما دیا ہے، تاکہ عام رہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا، اس محذوف سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں، مگر بہتر ہے کہ اسے عام رکھا جائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی تعلیم دی، مگر ظاہر ہے کہ آپ کے واسطے سے اور بعد میں قرآن کے معلّمین کے واسطے سے تمام لوگوں کو قرآن کی تعلیم دینے والی اصل ذات گرامی اللہ تعالیٰ کی ہے، وہ تعلیم نہ دے تو نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم دے سکتے ہیں، نہ صحابہ اور نہ ہی بعد کا کوئی معلم۔ اس لیے تعلیمِ قرآن کو خاص اللہ تعالیٰ کی نعمت کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ ➍ اکثر مفسرین نے چونکہ یہاں {” الْقُرْاٰنَ “} سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ قرآن کریم لیا ہے، اس لیے اوپر تفسیر اس کے مطابق کی گئی ہے۔ آیت کے الفاظ میں ایک اور تفسیر کی بھی گنجائش ہے، وہ یہ کہ {” الْقُرْاٰنَ “} کا لفظی معنی {”قِرَاءَةٌ“} (پڑھنا) ہے، جیسا کہ سورۂ قیامہ (۱۸) میں فرمایا: «‏‏‏‏فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ» ‏‏‏‏ ”تو جب ہم اسے پڑھیں تو تو اس کے پڑھنے کی پیروی کر۔“ اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ انسان کو پڑھنے کی تعلیم کی نعمت یاد دلا رہے ہیں، یعنی {” اَلرَّحْمٰنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “} کا معنی ہے:”اس رحمن ہی نے پڑھنا سکھایا۔“ یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی سب سے پہلی وحی میں لکھنے کی تعلیم کی نعمت کا ذکر خاص طور پر فرمایا تھا، فرمایا: «‏‏‏‏اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ (3) الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ» [ العلق:۳،۴] ”پڑھ اور تیرا رب ہی سب سے زیادہ کرم والا ہے۔ وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا۔“ تو سورۂ رحمن میں پڑھنے کی تعلیم کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ اس تفسیر کے مطابق یہ نعمت مزید عام ہو جاتی ہے، جس میں قرآن کا پڑھنا بھی شامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لکھنا، پڑھنا اور بیان تینوں انسان پر اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں میں سے ہیں جو اسے جانوروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ انھی کے ذریعے سے وہ دور و نزدیک دوسرے انسانوں سے رابطہ کرتا ہے، وحی الٰہی سے حاصل ہونے والے علوم کو اور انسانی عقل اور تجربے سے حاصل ہونے والے علوم و فنون کو سیکھتا سکھاتا ہے، لکھ کر محفوظ کرتا ہے اور آنے والی نسلوں کو پہنچاتا ہے۔
عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس قرآن کی تعلیم دی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
قرآن سکھایا
احمد رضا خان بریلوی
نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا
علامہ محمد حسین نجفی
نے قرآن کی تعلیم دی۔
عبدالسلام بن محمد
یہ قرآن سکھایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ رحمٰن ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں «بیان» سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے، خواہ حلق سے نکلتا ہو، خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ‏‏‏‏ سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں، نہ ان میں اختلاف ہو، نہ اضطراب، نہ یہ آگے بڑھے، نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے۔ اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] ‏‏‏‏ الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم» قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] ‏‏‏‏ الخ، ’ کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ‘۔
2۔ 1 کہتے ہیں کہ اہل مکہ کے جواب میں ہے جو کہتے رہتے یہ قرآن محمد کو کوئی انسان سکھاتا ہے بعض کہتے ہیں ان کے اس قول کے جواب میں ہے کہ رحمٰن کیا ہے؟ قرآن سکھانے کا مطلب ہے، اسے آسان کردیا، یا اللہ نے اپنے پیغمبر کو سکھایا اور پیغمبر نے امت کو سکھلایا۔ اس سورت میں اللہ نے اپنی بہت سی نعمتیں گنوائی ہیں۔ چونکہ تعلیم قرآن ان میں قدر ومنزلت اور اہمیت و افادیت کے لحاظ سے سب سے نمایاں ہے، اس لیے پہلے اسی نعمت کا ذکر فرمایا۔ (فتح القدیر)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُسی نے انسان کو پیدا کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی نے انسان کو پیدا کیا
احمد رضا خان بریلوی
انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا،
علامہ محمد حسین نجفی
اسی نے انسان کو پیدا کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے انسان کو پیدا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ رحمٰن ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں «بیان» سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے، خواہ حلق سے نکلتا ہو، خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ‏‏‏‏ سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں، نہ ان میں اختلاف ہو، نہ اضطراب، نہ یہ آگے بڑھے، نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے۔ اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] ‏‏‏‏ الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم» قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] ‏‏‏‏ الخ، ’ کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ‘۔
3۔ 2 یعنی یہ بندر وغیرہ جانوروں سے ترقی کرتے کرتے انسان نہیں بن گئے۔ جیسا کہ ڈارون کا فلسفہ ارتقا ہے۔ بلکہ انسان کو اسی شکل و صورت میں اللہ نے پیدا فرمایا ہے جو جانوروں سے الگ ایک مستقل مخلوق ہے۔ انسان کا لفظ بطور جنس کے ہے۔
(آیت 3) {خَلَقَ الْاِنْسَانَ:} یہ بھی لفظ {” اَلرَّحْمٰنُ “} کی خبر ہے اور اسے فعل کی صورت میں لانے سے تخصیص کا فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ چنانچہ اس آیت میں بھی دو باتیں بیان ہوئی ہیں، ایک یہ کہ رحمان ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے، سو عبادت بھی اس اکیلے کی ہے۔ دوسری انسان کو پیدا کرنے کی نعمت کا بیان ہے۔ زمین و آسمان میں موجود دوسری تمام نعمتوں کا ذکر اس کے بعد فرمایا ہے، کیونکہ وہ سب انسان کی پیدائش کے بعد ہیں، اگر وہ موجود ہی نہ ہو تو کسی نعمت کا اسے کیا فائدہ۔ البتہ تعلیم قرآن کی نعمت کا ذکر اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلانے کے لیے اس سے بھی پہلے فرما دیا۔ ”رحمن ہی نے انسان کو پیدا فرمایا“ یہ ایسی بات نہیں جسے مشرکین نہ مانتے ہوں، مگر اسے صریح لفظوں میں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین فی الحقیقت یہ بات نہیں مانتے، کیونکہ اگر مانتے ہوتے تو کسی غیر کی پرستش کیوں کرتے؟
عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اسے بولنا سکھایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسے بولنا سکھایا
احمد رضا خان بریلوی
ما کان وما یکون کا بیان انہیں سکھایا
علامہ محمد حسین نجفی
اسی نے اسے بولنا (مافی الضمیر بیان کرنا) سکھایا۔
عبدالسلام بن محمد
اسے بات کرنا سکھایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ رحمٰن ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں «بیان» سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے، خواہ حلق سے نکلتا ہو، خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ‏‏‏‏ سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں، نہ ان میں اختلاف ہو، نہ اضطراب، نہ یہ آگے بڑھے، نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے۔ اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] ‏‏‏‏ الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم» قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] ‏‏‏‏ الخ، ’ کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ‘۔
4۔ 3 اس بیان سے مراد ہر شخص کی اپنی مادری بولی ہے جو بغیر سیکھے از خود ہر شخص بول لیتا اور اس میں اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرلیتا ہے، حتیٰ کے وہ چھوٹا بچہ بھی بول لیتا ہے، جس کو کسی بات کا علم اور شعور نہیں ہوتا۔ یہ تعلیم الٰہی کا نتیجہ ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔
(آیت 4) {عَلَّمَهُ الْبَيَانَ:} سکھانے میں بہت سی چیزیں شامل ہیں، یعنی اس میں بیان کی صلاحیت رکھی، اسے اپنے مطلب کے اظہار کے لیے مختلف زبانوں کے الفاظ وضع کرنے اور ان کے استعمال کا سلیقہ بخشا، جس سے ہزاروں زبانیں وجود میں آئیں اور اسے قدرت دی کہ اپنا ما فی الضمیرنہایت وضاحت اور حسن و خوبی کے ساتھ ادا کر سکے اور دوسروں کی بات سمجھ سکے۔ اپنی اس صفت کی بدولت وہ خیر و شر، ہدایت و ضلالت، ایمان و کفر اور دنیا و آخرت کی باتیں سمجھتا اور سمجھاتا ہے اور اس کو کام میں لا کر فائدہ اٹھاتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۳۱): «‏‏‏‏وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا» اور سورۂ روم کی آیت (۲۲): «‏‏‏‏وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔ یہ جملہ بھی لفظ{ ” اَلرَّحْمٰنُ “} کی خبر ہے اور فعل کی صورت میں آنے سے اس میں بھی پچھلے جملوں کی طرح تخصیص پیدا ہو رہی ہے۔
اَلشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ ﴿۪۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آفتاب اور ماہتاب (مقرره) حساب سے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
سورج اور چاند حساب سے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
سورج اور چاند ایک (خاص) حساب کے پابند ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
سورج اور چاند ایک حساب سے (چل رہے) ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ رحمٰن ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں «بیان» سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے، خواہ حلق سے نکلتا ہو، خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ‏‏‏‏ سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں، نہ ان میں اختلاف ہو، نہ اضطراب، نہ یہ آگے بڑھے، نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے۔ اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] ‏‏‏‏ الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم» قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] ‏‏‏‏ الخ، ’ کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ‘۔
5۔ 1 یعنی اللہ کے ٹھہرائے ہوئے حساب سے اپنی اپنی منزلوں پر رواں دواں رہتے ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔
(آیت 5){ اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ: ”حُسْبَانٌ“ ”حَسِبَ يَحْسِبُ“} کا مصدر ہے، جس میں ”الف نون“ زیادہ کر دیا گیا ہے، جس سے معنی میں اضافہ ہو گیا ہے، جیسے {”طُغْيَانٌ“ ”رُجْحَانٌ“} اور {”كُفْرَانٌ“} وغیرہ میں ہے۔ یعنی سورج اور چاند نہایت محکم اور باریک حساب کے ساتھ چل رہے ہیں، آسمان کے نیچے ثوابت و سیار ستاروں کا کوئی شمار نہیں، جن میں سے بعض سورج اور چاند سے بھی ہزاروں گنا بڑے ہیں۔ ان کی پیدائش اور گردش میں اللہ تعالیٰ کی بے حساب حکمتوں کا بھی کچھ شمار نہیں، مگر خاص طور پر سورج اور چاند کا ذکر اس لیے فرمایا کہ نمایاں نظر آنے کی وجہ سے زمین کے رہنے والوں کے معاملات کا ان دونوں کے ساتھ زیادہ تعلق ہے۔ مفسر کیلانی لکھتے ہیں: ”سورج اور چاند کا ایک مقررہ رفتار کے مطابق چلنا، پھر اس میں ایک لحظہ کی بھی تاخیر نہ ہونا انسان کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ سورج سے دن رات ادل بدل کر آتے رہتے ہیں اور موسموں میں بتدریج تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ نمازوں کے اوقات کا تعلق بھی سورج سے ہے، فصلوں کے پکنے کا انحصار بھی سورج سے ہے۔ چاند سے ہمیں رات کو روشنی حاصل ہوتی ہے، ہم مہینوں اور سالوں کا حساب رکھ سکتے ہیں اور یہی حقیقی اور فطری تقویم (کیلنڈر) ہے۔ اسی لیے رمضان کے روزے، حج، عیدین اور دوسری قابلِ شمار مدتوں، مثلاً مدتِ حمل، مدتِ رضاعت و عدت وغیرہ کا تعلق چاند سے ہوتا ہے۔ پھر سورج اور زمین کے درمیان ایسا مناسب فاصلہ رکھا گیا ہے کہ اس میں کمی بیشی سے اس زمین پر انسان اور دوسرے سب جانداروں کی زندگی ہی ناممکن ہے اور سب فائدے اسی صورت میں حاصل ہو رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان عظیم الجثہ کروں کو ایسے طبعی قوانین میں جکڑ رکھا ہے جس سے وہ ادھر ادھر ہو ہی نہیں سکتے اور اپنے مقرر مداروں پر مقررہ رفتار سے ہمہ وقت محو گردش رہتے ہیں۔“(تیسیر القرآن) مزید دیکھیے سورۂ انعام (۹۶) اور سورۂ بنی اسرائیل (۱۲)۔
وَّ النَّجۡمُ وَ الشَّجَرُ یَسۡجُدٰنِ ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ستارے اور درخت دونوں سجده کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور سبزے اور پیڑ سجدہ کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور سبزیاں، بیلیں اور درخت (اسی کو) سجدہ کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے تنے کے پودے اور درخت سجدہ کر رہے ہیں ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ رحمٰن ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں «بیان» سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے، خواہ حلق سے نکلتا ہو، خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ‏‏‏‏ سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں، نہ ان میں اختلاف ہو، نہ اضطراب، نہ یہ آگے بڑھے، نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے۔ اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] ‏‏‏‏ الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم» قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] ‏‏‏‏ الخ، ’ کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ‘۔
6۔ 1 جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَاۗبُّ) 22۔ الحج:18)
(آیت 6){ وَ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ يَسْجُدٰنِ:” النَّجْمُ “} کا معنی ستارا بھی ہے اور وہ پودے بھی جو تنے کے بغیر ہوتے ہیں، جیسے گندم، جو، چنے، جڑی بوٹیاں، بیلیں، سبزیاں وغیرہ۔ یہاں دوسرا معنی زیادہ مناسبت رکھتا ہے، کیونکہ یہ {” الشَّجَرُ “} کے مقابلے میں آیا ہے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے یہی معنی نقل فرمایا اور اسے ترجیح دی ہے۔ ان کے سجدہ کرنے کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حج (۱۸)۔
وَ السَّمَآءَ رَفَعَہَا وَ وَضَعَ الۡمِیۡزَانَ ۙ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے ترازو رکھی
احمد رضا خان بریلوی
اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا اور ترازو رکھی
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے آسمان کو بلند کیا اور میزان (عدل) رکھ دی۔
عبدالسلام بن محمد
اور آسمان، اس نے اسے اونچا اٹھایا اور اس نے ترازو رکھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدلʻ جیسے اور آیت میں ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏‏‏‏ [57-الحديد:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏‏‏‏ترازو)‏‏‏‏‏‏‏‏ نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں ‘ یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں۔ پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ» ‏‏‏‏ [26-الشعراء:182] ‏‏‏‏ صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے کہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے۔ پھر زمین کی مخلوق کو دیکھو ان کی مختلف قسموں، مختلف شکلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں، مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے، پھیکے سلونے طرح طرح کی خوشبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے، پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے، پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے۔ اس کے جواب میں شاہ اسلام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام، آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم عليها السلام کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے عیسیٰ عليہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے پس اے بادشاہ! اللہ سے ڈر اور عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ نہ سمجھ اللہ ايک ہی ہے۔ عیسیٰ عليہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم عليہ السلام جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گئے، اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے، تجھے چاہیئے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے۔ [3-آل عمران:59-60] ‏‏‏‏ «اَکَمَامِ» کے معنی «لیف» کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا۔ «عَصف» کے معنی کھیتی کے وہ سبز پتے جو اوپر سے کاٹ دئیے گئے ہوں پھر سکھا لئے گئے ہوں۔ «رَ̛يحان» سے مراد پتے يا يہی ريحان جو اسی نام سے مشہور ہے یا کھیتی کے سبز پتے، مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو «عَصف» کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں «رَ̛يحان» کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے۔

پھر فرماتا ہے، اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں ميں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو، ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تا پا اس کی نعمتوں سے دبے ہوئے ہو، اسی لیے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا «اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد» ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے «لا فایھا یارب» ‏‏‏‏ یعنی اے رب! ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں رکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔
7۔ 1 یعنی زمین میں انصاف رکھا، جس کا اس نے لوگوں کو حکم دیا۔
(آیت 7) ➊ {وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا:} یہاں بھی {” رَفَعَ السَّمَاءَ“} کے بجائے {” وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا “} میں آسمان کو پہلے لا کر اس کی اہمیت کی طرف اور اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اسے بلند کرنا اس اکیلے کا کام ہے، کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں، پھر کسی اور کی پرستش کیوں ہو؟ آسمان کو اونچا اٹھانے میں اس کے پیدا کرنے کا ذکر خود بخود آ گیا۔ اونچا اٹھانے کا ذکر خاص طور پر اس لیے فرمایا کہ اتنے بڑے آسمان کو اس طرح ستونوں کے بغیر پیدا کرنا اور اسے اتنا بلند بنانا بے حد تعجب انگیز ہے کہ اس کے نیچے سورج، چاند اور ان سے ہزاروں گنا بڑے سیاروں پر مشتمل کہکشائیں محوِ گردش ہیں، نہ انھیں راستے میں کسی ستون کی رکاوٹ پیش آتی ہے، نہ ہزاروں نوری سالوں کے فاصلے سے ان کی روشنی زمین پر آنے کے درمیان کوئی چیز حائل ہوتی ہے۔ ➋ { وَ وَضَعَ الْمِيْزَانَ:الْمِيْزَانَ”وَزَنَ“} سے {”مِفْعَالٌ“} کے وزن پر ہے جو اصل میں {”مِوْزَانٌ“} ہے، وزن کا آلہ۔ ”وزن“ چیزوں کے ایک دوسرے کے مقابلے میں برابر یا کم و بیش ہونے کے اندازے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے انسان کو ہر چیز کی مقدار معلوم کرنے کے لیے میزان کا طریقہ سکھایا۔ اس میزان میں ہر قسم کے پیمانے آ جاتے ہیں، وزن، کیل، مساحت، حرارت، برودت، دباؤ، نمی، غرض ہزارہا قسم کے پیمانے بنانے کا سلیقہ عطا فرمایا، جن سے وہ اپنے معاملات درست اور بہتر سے بہتر طریقے کے ساتھ چلاتا ہے۔ اس کے بغیر کوئی کام بھی درست انجام نہیں پا سکتا، پھر انھی پیمانوں کے ساتھ وہ ایک دوسرے سے لین دین کرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتے تو دلی اطمینان کے ساتھ باہمی لین دین ممکن نہیں تھا۔
اَلَّا تَطۡغَوۡا فِی الۡمِیۡزَانِ ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ تم تولنے میں تجاوز نہ کرو
احمد رضا خان بریلوی
کہ ترازو میں بے اعتدالی نہ کرو
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ تم میزان (تولنے) میں زیادتی نہ کرو۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ تم ترازو میں زیادتی نہ کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدلʻ جیسے اور آیت میں ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏‏‏‏ [57-الحديد:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏‏‏‏ترازو)‏‏‏‏‏‏‏‏ نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں ‘ یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں۔ پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ» ‏‏‏‏ [26-الشعراء:182] ‏‏‏‏ صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے کہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے۔ پھر زمین کی مخلوق کو دیکھو ان کی مختلف قسموں، مختلف شکلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں، مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے، پھیکے سلونے طرح طرح کی خوشبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے، پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے، پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے۔ اس کے جواب میں شاہ اسلام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام، آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم عليها السلام کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے عیسیٰ عليہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے پس اے بادشاہ! اللہ سے ڈر اور عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ نہ سمجھ اللہ ايک ہی ہے۔ عیسیٰ عليہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم عليہ السلام جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گئے، اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے، تجھے چاہیئے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے۔ [3-آل عمران:59-60] ‏‏‏‏ «اَکَمَامِ» کے معنی «لیف» کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا۔ «عَصف» کے معنی کھیتی کے وہ سبز پتے جو اوپر سے کاٹ دئیے گئے ہوں پھر سکھا لئے گئے ہوں۔ «رَ̛يحان» سے مراد پتے يا يہی ريحان جو اسی نام سے مشہور ہے یا کھیتی کے سبز پتے، مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو «عَصف» کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں «رَ̛يحان» کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے۔

پھر فرماتا ہے، اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں ميں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو، ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تا پا اس کی نعمتوں سے دبے ہوئے ہو، اسی لیے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا «اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد» ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے «لا فایھا یارب» ‏‏‏‏ یعنی اے رب! ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں رکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔
8۔ 1 یعنی انصاف سے تجاوز نہ کرو۔
(آیت 8){ اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ:} اس سے پہلے ”لام“ جارہ محذوف ہے: {”أَيْ لِئَلَّا تَطْغَوْا“} یعنی اس نے میزان اس لیے بنایا ہے کہ تم ہر معاملے میں وزن کرتے ہوئے صحیح وزن کرو، کمی بیشی مت کرو، کیونکہ یہ حد سے تجاوز ہے۔
وَ اَقِیۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ وَ لَا تُخۡسِرُوا الۡمِیۡزَانَ ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو
مولانا محمد جوناگڑھی
انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول میں کم نہ دو
احمد رضا خان بریلوی
اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور انصاف کے ساتھ ٹھیک طریقہ پر تولو اور وزن (تولنے) میں کمی نہ کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور انصاف کے ساتھ تول سیدھا رکھو اور ترازو میں کمی مت کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدلʻ جیسے اور آیت میں ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏‏‏‏ [57-الحديد:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏‏‏‏ترازو)‏‏‏‏‏‏‏‏ نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں ‘ یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں۔ پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ» ‏‏‏‏ [26-الشعراء:182] ‏‏‏‏ صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے کہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے۔ پھر زمین کی مخلوق کو دیکھو ان کی مختلف قسموں، مختلف شکلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں، مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے، پھیکے سلونے طرح طرح کی خوشبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے، پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے، پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے۔ اس کے جواب میں شاہ اسلام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام، آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم عليها السلام کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے عیسیٰ عليہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے پس اے بادشاہ! اللہ سے ڈر اور عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ نہ سمجھ اللہ ايک ہی ہے۔ عیسیٰ عليہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم عليہ السلام جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گئے، اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے، تجھے چاہیئے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے۔ [3-آل عمران:59-60] ‏‏‏‏ «اَکَمَامِ» کے معنی «لیف» کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا۔ «عَصف» کے معنی کھیتی کے وہ سبز پتے جو اوپر سے کاٹ دئیے گئے ہوں پھر سکھا لئے گئے ہوں۔ «رَ̛يحان» سے مراد پتے يا يہی ريحان جو اسی نام سے مشہور ہے یا کھیتی کے سبز پتے، مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو «عَصف» کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں «رَ̛يحان» کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے۔

پھر فرماتا ہے، اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں ميں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو، ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تا پا اس کی نعمتوں سے دبے ہوئے ہو، اسی لیے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا «اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد» ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے «لا فایھا یارب» ‏‏‏‏ یعنی اے رب! ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں رکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9) ➊ {وَ اَقِيْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ …: ” اَلْقِسْطُ“} عدل، انصاف۔ ان آیات میں {” الْمِيْزَانَ “} کا لفظ تین دفعہ آیا ہے، پہلا آلہ (ترازو) کے معنی میں ہے، دوسرا مصدر (وزن) کے معنی میں اور تیسرا اسم مفعول ({مَوْزُوْنٌ}) کے معنی میں۔ (ابن عادل، اللباب) اس سے ماپ تول اور دوسرے پیمانوں میں انصاف کی تاکید مقصود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شعیب علیہ السلام کی قوم پر عذاب کا ایک بہت بڑا باعث ماپ تول میں کمی بیشی کو قرار دیا ہے اور قرآن مجید کی ایک سورت کا نام ”مطففين“ ہے جس میں کمی بیشی کرنے والوں کے لیے ”ویل“ کی وعید سنائی ہے۔ ➋ بہت سے مفسرین نے فرمایا کہ {” وَ وَضَعَ الْمِيْزَانَ “} میں {” وَ اَقِيْمُوا الْوَزْنَ “} سے مراد عدل ہے، جس کی ایک شاخ ماپ تول میں عدل ہے۔ اس لیے {” وَ وَضَعَ الْمِيْزَانَ “} میں عام عدل کا ذکر ہے اور ماپ تول کی اہمیت کے پیش نظر {” اَقِيْمُوا الْوَزْنَ “} (تول سیدھا رکھو) میں عدل کی صورتوں میں وزن کا خاص طور پر الگ ذکر فرمایا ہے۔
وَ الۡاَرۡضَ وَضَعَہَا لِلۡاَنَامِ ﴿ۙ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسی نے مخلوق کے لیے زمین بچھا دی
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین رکھی مخلوق کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس نے زمین کو تمام مخلوق کیلئے بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین، اس نے اسے مخلوق کے لیے بچھا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدلʻ جیسے اور آیت میں ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏‏‏‏ [57-الحديد:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏‏‏‏ترازو)‏‏‏‏‏‏‏‏ نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں ‘ یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں۔ پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ» ‏‏‏‏ [26-الشعراء:182] ‏‏‏‏ صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے کہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے۔ پھر زمین کی مخلوق کو دیکھو ان کی مختلف قسموں، مختلف شکلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں، مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے، پھیکے سلونے طرح طرح کی خوشبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے، پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے، پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے۔ اس کے جواب میں شاہ اسلام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام، آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم عليها السلام کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے عیسیٰ عليہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے پس اے بادشاہ! اللہ سے ڈر اور عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ نہ سمجھ اللہ ايک ہی ہے۔ عیسیٰ عليہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم عليہ السلام جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گئے، اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے، تجھے چاہیئے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے۔ [3-آل عمران:59-60] ‏‏‏‏ «اَکَمَامِ» کے معنی «لیف» کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا۔ «عَصف» کے معنی کھیتی کے وہ سبز پتے جو اوپر سے کاٹ دئیے گئے ہوں پھر سکھا لئے گئے ہوں۔ «رَ̛يحان» سے مراد پتے يا يہی ريحان جو اسی نام سے مشہور ہے یا کھیتی کے سبز پتے، مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو «عَصف» کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں «رَ̛يحان» کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے۔

پھر فرماتا ہے، اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں ميں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو، ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تا پا اس کی نعمتوں سے دبے ہوئے ہو، اسی لیے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا «اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد» ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے «لا فایھا یارب» ‏‏‏‏ یعنی اے رب! ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں رکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10){ وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِ:اَلْأَنَامُ“} کا معنی ہر جاندار مخلوق ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس طرح بنایا اور بچھایا ہے کہ مخلوق کی تمام ضروریات اس سے پوری ہوتی ہیں، ان کا پیدا ہونا، کھاناپینا، پہننا، رہنا سہنا، چلنا پھرنا، زندہ رہنا اور دفن ہونا غرض ہر ضرورت اور ہر سہولت اسی سے وابستہ ہے۔{” اَلْأَنَامُ“} کے لفظ میں اگرچہ تمام مخلوق شامل ہے، مگر یہاں اس سے مراد جن و انس ہیں، کیونکہ محاسبہ انھی دو کا ہونا ہے اور آگے انھی پر احسانات کا ذکر ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے زمین کی ہر چیز انسانوں کی خاطر بنائی ہے، فرمایا: «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا» ‏‏‏‏ [ البقرۃ:۲۹] ” وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمھارے لیے پیدا کیا۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا» ‏‏‏‏ [ الجاثیۃ: ۱۳ ] ” اور اس نے تمھاری خاطر ان تمام چیزوں کو مسخر کر دیا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں۔“ زمین کو انسان کے لیے بنانے اور بچھانے کے متعلق دیکھیے سورۂ رعد (۳)، نمل (۶۰، ۶۱)، یٰس (۳۳ تا ۳۵)، حم السجدہ (۹، ۱۰)، زخرف (۹، ۱۰)، جاثیہ (4،3)، ق (8،7)، ملک (۱۵)، مرسلات (26،25)، نبا (۶) اور سورۂ نازعات (۳۰ تا ۳۳)۔
فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ ۪ۙ وَّ النَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَکۡمَامِ ﴿ۖ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جس میں میوے ہیں اور خوشے والے کھجور کے درخت ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اس میں میوے اور غلاف والی کھجوریں
علامہ محمد حسین نجفی
اس میں (ہر طرح کے) میوے ہیں اور کھجور کے غلافوں والے درخت ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس میں پھل ہیں اور کھجور کے درخت جو (خوشوں پر) غلافوں والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدلʻ جیسے اور آیت میں ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏‏‏‏ [57-الحديد:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏‏‏‏ترازو)‏‏‏‏‏‏‏‏ نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں ‘ یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں۔ پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ» ‏‏‏‏ [26-الشعراء:182] ‏‏‏‏ صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے کہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے۔ پھر زمین کی مخلوق کو دیکھو ان کی مختلف قسموں، مختلف شکلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں، مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے، پھیکے سلونے طرح طرح کی خوشبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے، پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے، پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے۔ اس کے جواب میں شاہ اسلام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام، آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم عليها السلام کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے عیسیٰ عليہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے پس اے بادشاہ! اللہ سے ڈر اور عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ نہ سمجھ اللہ ايک ہی ہے۔ عیسیٰ عليہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم عليہ السلام جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گئے، اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے، تجھے چاہیئے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے۔ [3-آل عمران:59-60] ‏‏‏‏ «اَکَمَامِ» کے معنی «لیف» کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا۔ «عَصف» کے معنی کھیتی کے وہ سبز پتے جو اوپر سے کاٹ دئیے گئے ہوں پھر سکھا لئے گئے ہوں۔ «رَ̛يحان» سے مراد پتے يا يہی ريحان جو اسی نام سے مشہور ہے یا کھیتی کے سبز پتے، مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو «عَصف» کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں «رَ̛يحان» کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے۔

پھر فرماتا ہے، اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں ميں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو، ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تا پا اس کی نعمتوں سے دبے ہوئے ہو، اسی لیے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا «اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد» ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے «لا فایھا یارب» ‏‏‏‏ یعنی اے رب! ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں رکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 11){ فِيْهَا فَاكِهَةٌ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِ:فَاكِهَةٌ “} ان پھلوں اور چیزوں کا نام ہے جو بطورِ خوراک نہیں بلکہ لذت اور خوشی کے لیے کھائی جاتی ہیں۔ یہ {”فَكِهَ يَفْكَهُ“} ({فَرِحَ يَفْرَحُ}) سے مشتق ہے، جس کا معنی باتوں اور ہنسی وغیرہ کے ساتھ خوش وقت ہونا ہے۔ {” فَاكِهَةٌ “} پر تنوین تکثیر و تعظیم کے اظہار کے لیے ہے۔ {” النَّخْلُ “} کھجور کے درخت، یہ اسم جنس ہے، ایک درخت کہنا ہو تو {”نَخْلَةٌ“} کہتے ہیں۔ {” الْاَكْمَامِ”كِمٌّ“} (کاف پر کسرہ) کی جمع ہے، کھجور کے خوشے کے اوپر والا غلاف۔ یہ غلاف کھایا نہیں جاتا، اس لیے مراد خوشوں کے حسن کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے درختوں کے اوپر اور درختوں سے اترنے کے بعد بھی پھلوں کی جس طرح پیکنگ کی ہے ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ اللہ تعالیٰ کی عظیم صناعی کا نمونہ ہے۔
وَ الۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ وَ الرَّیۡحَانُ ﴿ۚ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بھس واﻻ اناج ہے۔ اور خوشبودار پھول ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بھُس کے ساتھ اناج اور خوشبو کے پھول،
علامہ محمد حسین نجفی
اور بھوسہ والا اناج بھی اور خوشبودار پھول بھی۔
عبدالسلام بن محمد
اور دانے جو بھُس والے ہیں اور خوشبودار پھول۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدلʻ جیسے اور آیت میں ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏‏‏‏ [57-الحديد:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏‏‏‏ترازو)‏‏‏‏‏‏‏‏ نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں ‘ یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں۔ پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ» ‏‏‏‏ [26-الشعراء:182] ‏‏‏‏ صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے کہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے۔ پھر زمین کی مخلوق کو دیکھو ان کی مختلف قسموں، مختلف شکلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں، مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے، پھیکے سلونے طرح طرح کی خوشبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے، پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے، پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے۔ اس کے جواب میں شاہ اسلام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام، آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم عليها السلام کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے عیسیٰ عليہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے پس اے بادشاہ! اللہ سے ڈر اور عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ نہ سمجھ اللہ ايک ہی ہے۔ عیسیٰ عليہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم عليہ السلام جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گئے، اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے، تجھے چاہیئے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے۔ [3-آل عمران:59-60] ‏‏‏‏ «اَکَمَامِ» کے معنی «لیف» کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا۔ «عَصف» کے معنی کھیتی کے وہ سبز پتے جو اوپر سے کاٹ دئیے گئے ہوں پھر سکھا لئے گئے ہوں۔ «رَ̛يحان» سے مراد پتے يا يہی ريحان جو اسی نام سے مشہور ہے یا کھیتی کے سبز پتے، مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو «عَصف» کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں «رَ̛يحان» کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے۔

پھر فرماتا ہے، اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں ميں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو، ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تا پا اس کی نعمتوں سے دبے ہوئے ہو، اسی لیے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا «اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد» ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے «لا فایھا یارب» ‏‏‏‏ یعنی اے رب! ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں رکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔
12۔ 1 حب سے مراد وہ خوراک ہے جو انسان اور جانور کھاتے ہیں۔ خشک ہو کر اس کا پودا بھی بھس بن جاتا ہے جو جانوروں کے کام آتا ہے۔
(آیت 12) {وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّيْحَانُ:الْحَبُّ “} دانے، جیسے گندم، چنے، چاول وغیرہ،یعنی غلّہ جو انسان کی خوراک بنتا ہے۔ {” الْعَصْفِ “} دانوں کے اوپر کا چھلکا، بھوسا، جو جانوروں کی خوراک بنتا ہے، سورۂ فیل میں ہے: «‏‏‏‏فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ» [ الفیل: ۵ ] ”کھائے ہوئے بھوسے کی طرح۔“ {” الرَّيْحَانُ “} خوشبودار پودے اور پھول جو آدمی کے دماغ کو معطر کرتے ہیں۔ {” فَاكِهَةٌ “} سے وہ پھل مراد ہیں جو صرف لذت کے لیے کھائے جاتے ہیں اور {” النَّخْلُ “} سے وہ پھل مراد ہیں جو لذت اور خوراک دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور {” الْحَبُّ “} سے مراد غلے وغیرہ ہیں جو خوراک کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور {” الرَّيْحَانُ “} سے مراد جو خوشبو کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اے جن و انس! تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے
علامہ محمد حسین نجفی
سو (اے جن و انس) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو (اے جن و انس! ) تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدلʻ جیسے اور آیت میں ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏‏‏‏ [57-الحديد:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏‏‏‏ترازو)‏‏‏‏‏‏‏‏ نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں ‘ یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں۔ پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ» ‏‏‏‏ [26-الشعراء:182] ‏‏‏‏ صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے کہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے۔ پھر زمین کی مخلوق کو دیکھو ان کی مختلف قسموں، مختلف شکلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں، مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے، پھیکے سلونے طرح طرح کی خوشبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے، پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے، پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے۔ اس کے جواب میں شاہ اسلام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام، آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم عليها السلام کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے عیسیٰ عليہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے پس اے بادشاہ! اللہ سے ڈر اور عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ نہ سمجھ اللہ ايک ہی ہے۔ عیسیٰ عليہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم عليہ السلام جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گئے، اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے، تجھے چاہیئے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے۔ [3-آل عمران:59-60] ‏‏‏‏ «اَکَمَامِ» کے معنی «لیف» کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا۔ «عَصف» کے معنی کھیتی کے وہ سبز پتے جو اوپر سے کاٹ دئیے گئے ہوں پھر سکھا لئے گئے ہوں۔ «رَ̛يحان» سے مراد پتے يا يہی ريحان جو اسی نام سے مشہور ہے یا کھیتی کے سبز پتے، مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو «عَصف» کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں «رَ̛يحان» کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے۔

پھر فرماتا ہے، اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں ميں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو، ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تا پا اس کی نعمتوں سے دبے ہوئے ہو، اسی لیے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا «اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد» ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے «لا فایھا یارب» ‏‏‏‏ یعنی اے رب! ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں رکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔
13۔ 1 یہ انسانوں اور جنوں دونوں سے خطاب ہے اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں گنوا کر ان سے پوچھ رہا ہے یہ تکرار اس شخص کی طرح ہے جو کسی پر مسلسل احسان کرے لیکن وہ اس کے احسان کا منکر ہو، جیسے کہے، میں نے تیرا فلاں کام کیا، کیا تو انکار کرتا ہے؟ فلاں چیز تجھے دی، کیا تجھے یاد نہیں؟ تجھ پر فلاں احسان کیا، کیا تجھے ہمارا ذرا خیال نہیں؟ (فتح القدیر)
(آیت 13) ➊ {فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ:” اٰلَآءِ”إِلًي“} کی جمع ہے جو اصل میں {”إِلَيٌ“} ہے، جیسے {”مِعًي“} (انتڑی) کی جمع {” أَمْعَاءٌ “} ہے۔ اس کا ایک معنی نعمت ہے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر نقل فرمائی ہے: {”فَبِأَيِّ نِعْمَةِ اللّٰهِ تُكَذِّبَانِ“} ”تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟“ اور ایک معنی قدرت ہے، چنانچہ طبری ہی نے ابنِ زید کی تفسیر نقل فرمائی ہے، انھوں نے فرمایا: {” اَلْآلَاءُ اَلْقُدْرَةُ، فَبِأَيِّ قُدْرَةِ اللّٰهِ تُكَذِّبَانِ“} یعنی ”تم دونوں اللہ کی کس کس قدرت کو جھٹلاؤ گے؟“ ➋ مفسر سلیمان الجمل نے فرمایا، نعمتوں کے بیان اور ان کی یاد دہانی کے لیے یہ آیت یہاں اکتیس (۳۱) مرتبہ دہرائی گئی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی آدمی نے کسی پر احسان کیے ہوں اور وہ ان احسانوں کو نہ مانتا ہو تو اسے کہتا ہے، کیا تو فقیر نہیں تھا؟ میں نے تجھے مال دیا، کیا تو اس کا انکار کرتا ہے؟ کیا تو ننگا نہیں تھا؟ میں نے تمھیں لباس پہنایا، کیا تو اس کا انکار کرتا ہے…؟ اللہ تعالیٰ نے آٹھ مرتبہ یہ آیت ان آیات کے بعد دہرائی جن میں اس کی مخلوق کے عجائب اور ان کی ابتدا و انتہا کا ذکر ہے، پھر جہنم کے دروازوں کی تعداد کے مطابق سات مرتبہ ان آیات کے بعد دہرائی ہے جن میں آگ اور اس کی ہولناکیوں کا بیان ہے۔ پھر جنت کے دروازوں کی تعداد کے مطابق آٹھ مرتبہ دو جنتوں کے وصف میں اسے دہرایا ہے۔ پھر ان دو جنتوں کے علاوہ دوسری دو جنتوں کے وصف میں آٹھ مرتبہ دہرایا ہے۔ تو جو شخص پہلی آٹھ چیزوں کا عقیدہ و یقین رکھے گا اور ان کے تقاضے پر عمل کرے گا وہ اللہ کی طرف سے ان آٹھ نعمتوں کا مستحق ہو گا اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے ساتھ اسے پہلی ساتوں سے محفوظ رکھیں گے۔ (ملخصاً) ➌ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سورت کی کئی آیات میں جہنم اور عذاب کا بھی ذکر ہے، تو ان کے بعد {” فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ “} کہنے میں کون سی نعمت یاد دلائی جا رہی ہے؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ {” اٰلَآءِ “} کا معنی قدرت بھی ہے، جیسا کہ اوپر گزرا۔ تو اللہ تعالیٰ کی صفات اور جہنم و عذاب کے بیان کے بعد کہا جا رہا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی قدرت کو جھٹلاؤ گے؟ اور ایک جواب یہ ہے کہ عذاب آنے سے پہلے اس کے متعلق خبردار کر دینا بہت بڑی نعمت ہے، کیونکہ اس سے بندہ اس سے بچنے کی جدوجہد کر سکتا ہے، اس لیے فرمایا کہ تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ﴿ۙ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انسان کو اُس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے ہوئے گارے سے بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نےانسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی
احمد رضا خان بریلوی
اس نے آدمی کو بنا یا بجتی مٹی سے جیسے ٹھیکری
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو ٹھیکری کی طرح تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏‏‏‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏‏‏‏ [25- الفرقان:53] ‏‏‏‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے- امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏‏‏‏ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں- بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏‏‏‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔
14۔ 1 صَلصَالٍ خشک مٹی جس میں آواز ہو۔ فَخَّار آگ میں پکی ہوئی مٹی، جسے ٹھیکری کہتے ہیں۔ انسان سے مراد حضرت آدم ؑ ہیں، جن کا پہلے مٹی کا پتلا بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ پھر حضرت آدم ؑ کی بائیں پسلی سے حوا کو پیدا فرمایا، اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی چلی۔
(آیت 14) {خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ: ”صَلْصَلَةٌ“} وہ آواز جو کسی چیز کو بجانے یا کھڑکانے سے پیدا ہوتی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث (۲) میں {”صَلْصَلَةُ الْجَرْسِ“} کا ذکر ہے۔ {” صَلْصَالٍ “} بجنے والی، کھنکھنانے والی (مٹی)۔ بعض کہتے ہیں یہ {” صِلُّ اللَّحْمِ“} سے مشتق ہے، جس کا معنی گوشت کا بدبودار ہونا ہے۔ مراد بدبودار مٹی ہے۔ آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۲۶)۔
وَ خَلَقَ الۡجَآنَّ مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ ﴿ۚ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور جن کو پیدا فرمایا آگ کے لُوکے (لپیٹ) سے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جنات کو پیدا کیا آگ کے شعلہ سے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جنّ کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏‏‏‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏‏‏‏ [25- الفرقان:53] ‏‏‏‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے- امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏‏‏‏ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں- بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏‏‏‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔
15۔ 1 اس سے مراد پہلا جن جو ابو الجن ہے، یا جن بطور جنس کے ہے جیسا کہ ترجمہ جنس کے اعتبار سے ہی کیا گیا مارِجٍ آگ کے بلند ہونے والے شعلے کو کہتے ہیں۔
(آیت 15) {وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ:} طبری نے فرمایا {” مَارِجٍ مِّنْ نَّارٍ “} ایک دوسرے سے ملی جلی سرخ، زرد اور سبز رنگ کی آگ۔ مراد آگ کا شعلہ اور اس کی نوک ہے۔ یہ {”مَرَجَ أَمْرُ الْقَوْمِ“} سے ہے، جس کا معنی ہے ”قوم کا معاملہ مل جل گیا۔“ اسی طرح یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما کو فرمایا: [ يَا عَبْدَ اللّٰهِ ابْنَ عَمْرٍو! كَيْفَ بِكَ إِذَا بَقِيْتَ فِيْ حُثَالَةٍ مِّنَ النَّاسِ وَ فِيْ أَبِيْ دَاوٗدَ: قَدْ مَرِجَتْ عُهُوْدُهُمْ وَ أَمَانَاتُهُمْ ] [ بخاري، الصلاۃ، باب تشبیک الأصابع…: ۴۸۰۔ أبو داوٗد: ۴۳۴۲ ] ” اے عبد اللہ بن عمرو! تمھارا کیا حال ہو گا جب تم چھان بورے جیسے لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے۔“ ابوداؤد میں ہے:” جن کے عہد اور امانتیں مل جل گئے ہوں گے۔“ اور طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ {” مَارِجٍ مِّنْ نَّارٍ “} کا معنی {”خَالِصُ النَّارِ“} نقل فرمایا ہے۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
سو (اے جن و انس) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏‏‏‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏‏‏‏ [25- الفرقان:53] ‏‏‏‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے- امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏‏‏‏ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں- بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏‏‏‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔
16۔ 1 یعنی تمہاری یہ پیدائش بھی اور پھر تم سے مذید نسلوں کی تخلیق و افزائش، یہ اللہ کی نعمتوں میں سے ہے۔ کیا تم اس نعمت کا انکار کرو گے۔
(آیت 16) {فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ:} جن و انس کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ کی قدرت بھی ہے اور ان دونوں پر نعمت بھی۔
رَبُّ الۡمَشۡرِقَیۡنِ وَ رَبُّ الۡمَغۡرِبَیۡنِ ﴿ۚ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دونوں مشرق اور دونوں مغرب، سب کا مالک و پروردگار وہی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه رب ہے دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا
احمد رضا خان بریلوی
دونوں پورب کا رب اور دونوں پچھم کا رب
علامہ محمد حسین نجفی
وہی دونوں مشرقوں کا پروردگار ہے اور وہی دونوں مغربوں کا مالک و پروردگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
(وہ) دونوں مشرقوں کا رب ہے اور دونوں مغربوں کا رب۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏‏‏‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏‏‏‏ [25- الفرقان:53] ‏‏‏‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے- امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏‏‏‏ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں- بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏‏‏‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔
17۔ 1 ایک گرمی کا مشرق اور ایک سردی کا مشرق اسی طرح مغرب ہے۔ اس لئے دونوں کو دوگنا ذکر کیا ہے، موسموں کے اعتبار سے مشرق و مغرب کا مختلف ہونا اس میں بھی انس و جن کی بہت سی مصلحتیں ہیں، اس لئے اسے بھی نعمت قرار دیا گیا ہے۔
(آیت 17) {رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ:} سورج ہمیشہ مشرقی سمت کے درمیان سے طلوع نہیں ہوتا، بلکہ گرمیوں میں اس کا مشرق شمال کی طرف سرکتا جاتا ہے اور سردیوں میں جنوب کی طرف اور ہر روز سورج کے طلوع ہونے کی جگہ الگ ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے سال بھر میں سورج کے ۳۶۵ مشرق ہوتے ہیں، یہی حال اس کے مغربوں کا ہے۔ اس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے سورۂ صافات (۵) میں اپنی صفت {” رَبُّ الْمَشَارِقِ “} اور سورۂ معارج (۴۰) میں {” بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ “} بیان فرمائی ہے۔ یہاں سردی اور گرمی کے آخری دو مقامات کے اعتبار سے {” رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ “} فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ صافات (۵)۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
تو (اے جنو اورانسانو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
سو (اے جن و انس) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏‏‏‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏‏‏‏ [25- الفرقان:53] ‏‏‏‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے- امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏‏‏‏ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں- بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏‏‏‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 18) {فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ:} سورج کے طلوع و غروب، اس کی گردش اور اس کے متعدد مطالع و مغارب میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار قدرتیں ہیں اور اس سے موسموں کے بدلنے، بارشیں برسنے، برف گرنے، بے شمار قسم کی فصلیں اُگنے اور انسان کی راحت و آرام کے بے حساب سامان مہیا کرنے کی بے شمار نعمتیں ہیں، جنھیں اللہ تعالیٰ یاد دلا رہے ہیں۔
مَرَجَ الۡبَحۡرَیۡنِ یَلۡتَقِیٰنِ ﴿ۙ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے دو دریا جاری کر دیے جو ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اس نے دو سمندر بہائے کہ دیکھنے میں معلوم ہوں ملے ہوئے
علامہ محمد حسین نجفی
اسی نے دو دریا جاری کئے جو آپس میں مل رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے دو سمندروں کو ملادیا ، جو اس حال میں مل رہے ہیں کہ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏‏‏‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏‏‏‏ [25- الفرقان:53] ‏‏‏‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے- امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏‏‏‏ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں- بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏‏‏‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 19تا21) {مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ فرقان (۵۳)کی تفسیر۔
بَیۡنَہُمَا بَرۡزَخٌ لَّا یَبۡغِیٰنِ ﴿ۚ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر بھی اُن کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان دونوں میں ایک آڑ ہے کہ اس سے بڑھ نہیں سکتے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہے ان میں روک کہ ایک دوسرے پر بڑھ نہیں سکتا
علامہ محمد حسین نجفی
ان دونوں کے درمیان ایک فاصلہ ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے (جس سے) وہ آگے نہیں بڑھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏‏‏‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏‏‏‏ [25- الفرقان:53] ‏‏‏‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے- امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏‏‏‏ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں- بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏‏‏‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔
20۔ 1 جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دو دریاؤں سے مراد بعض کے نزدیک ان کے الگ الگ وجود ہیں، جیسے میٹھے پانی کے دریا ہیں، جن سے کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں اور انسان ان کا پانی اپنی دیگر ضروریات میں بھی استعمال کرتا ہے۔ دوسری قسم سمندروں کا پانی جو کھارا ہے جس کے کچھ اور فوائد ہیں۔ یہ دونوں آپس میں نہیں ملتے۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ کھارے سمندروں میں ہی میٹھے پانی کی لہریں چلتی ہیں اور یہ دونوں لہریں آپس میں نہیں ملتیں، بلکہ ایک دوسرے سے جدا اور ممتاز ہی رہتی ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کھارے سمندروں میں ہی کئی مقامات پر میٹھے پانی کی لہریں بھی جاری کی ہوئی ہیں اور وہ کھارے پانی سے الگ ہی رہتی ہیں۔ دوسری صورت یہ بھی ہے کہ اوپر کھارا پانی ہو اور اس کی تہ میں نیچے چشمہ آب شیریں۔ جیسا کہ واقعتا بعض مقامات پر ایسا ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ جن مقامات پر میٹھے پانی کے دریا کا پانی سمندر میں جاکر گرتا ہے، وہاں کئی لوگوں کا مشاہدہ ہے کہ دونوں پانی میلوں دور تک اس طرح ساتھ ساتھ چلتے ہیں کہ ایک طرف میٹھا دریائی پانی اور دوسری طرف وسیع و عریض سمندر کا کھارا پانی، ان کے درمیان اگرچہ کوئی آڑ نہیں۔ لیکن یہ باہم نہیں ملتے۔ دونوں کے درمیان یہ وہ برزخ (آڑ) ہے جو اللہ نے رکھ دی ہے، دونوں اس سے تجاوز نہیں کرتے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
سو(اے جن و انس) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏‏‏‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏‏‏‏ [25- الفرقان:53] ‏‏‏‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے- امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏‏‏‏ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں- بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏‏‏‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یَخۡرُجُ مِنۡہُمَا اللُّؤۡلُؤُ وَ الۡمَرۡجَانُ ﴿ۚ۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان دونوں میں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ان میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ان دونوں سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏‏‏‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏‏‏‏ [25- الفرقان:53] ‏‏‏‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے- امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏‏‏‏ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں- بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏‏‏‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔
22۔ 1 مَرْجَان سے چھوٹے موتی یا پھر مونگے مراد ہیں کہتے ہیں آسمان سے بارش ہوتی ہے تو سیپیاں اپنے منہ کھول دیتی ہیں، جو قطرہ ان کے منہ کے اندر پڑجاتا ہے، وہ موتی بن جاتا ہے۔
(آیت 22) {يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُ:} مفسر کیلانی لکھتے ہیں: ”مرجان دراصل جمادات اور نباتات کے درمیان برزخی پیدائش ہے، جس طرح سب موتی پتھروں ہی کی قسم ہوتے ہیں، مرجان بھی پتھر ہی کی قسم ہے، لیکن یہ نباتات کی طرح بڑھتا ہے، جمادات کی طرح جامد نہیں۔ مرجان کا ایک چھوٹا سا پودا ہوتا ہے جس کی شاخیں بھی ہوتی ہیں۔ موتی اور مرجان عموماً کھاری پانی کی پیداوار ہیں، مگر اسی کھاری پانی کے نیچے اللہ کی قدرت سے میٹھے پانی کے چشمے بھی ابل رہے ہوتے ہیں، یا ساتھ ساتھ رواں دواں ہوتے ہیں، اس لیے {” مِنْهُمَا “} کا لفظ ارشاد فرمایا، یعنی یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے حیرت انگیز تخلیقی کارناموں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں جن سے انسان فائدہ اٹھا رہا ہے۔“ (تیسیر القرآن)مزید دیکھیے سورۂ نحل (۱۴)۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
سو (اے جن و انس) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏‏‏‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏‏‏‏ [25- الفرقان:53] ‏‏‏‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے- امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏‏‏‏ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں- بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏‏‏‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 23){ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ:} ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا بیان بھی ہے اور نعمتوں کا بھی۔
وَ لَہُ الۡجَوَارِ الۡمُنۡشَئٰتُ فِی الۡبَحۡرِ کَالۡاَعۡلَامِ ﴿ۚ۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یہ جہاز اُسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ ہی کی (ملکیت میں) ہیں وه جہاز جو سمندروں میں پہاڑ کی طرح بلند (چل پھر رہے) ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اسی کی ہیں وہ چلنے والیاں کہ دریا میں اٹھی ہوئی ہیں جیسے پہاڑ
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی کے لئے وہ (جہاز) ہیں جو سمندروں میں پہاڑوں کی طرح اٹھے ہوئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی کے ہیں بادبان اٹھائے ہوئے جہاز سمندر میں، جو پہاڑوں کی طرح ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏‏‏‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏‏‏‏ [25- الفرقان:53] ‏‏‏‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے- امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏‏‏‏ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں- بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏‏‏‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔
24۔ 1 یعنی بلندی ہوئیں، مراد بادبان ہیں، جو بادبانی کشتیوں میں جھنڈوں کی طرح اونچے اور بلند بنائے جاتے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی مصنوعات کے کئے ہیں، یعنی اللہ کی بنائی ہوئی جو سمندر میں چلتی ہیں۔
(آیت 25،24) {وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَـٰٔتُ فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ …: ” الْمُنْشَـٰٔتُ”أَنْشَأَ يُنْشِئُ“} (افعال) (بنانا) سے اسم مفعول ہے، پہاڑوں جیسے لمبے چوڑے اور کئی منزلہ اونچے بحری جہاز ”جو بنائے گئے ہیں۔“ اس میں بحری جہاز بنانے کا طریقہ سکھانے کی نعمت کی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سکھانے سے انسان چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جوڑتے ہوئے کتنا بڑا بحری جہاز بنا لیتا ہے۔ طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے {” الْمُنْشَـٰٔتُ “} کا ایک اور معنی بھی نقل فرمایا ہے: {”مَا رُفِعَ قِلَعُهٗ مِنَ السُّفُنِ فَهِيَ مُنْشَئَاتٌ وَ إِذَا لَمْ يُرْفَعْ قِلَعُهَا فَلَيْسَتْ بِمُنْشَئَاتٍ“} ”وہ جہاز جن کے بادبان اٹھائے ہوئے ہوں وہ {” مُنْشَئَاتٌ“} ہیں اور جب ان کے بادبان اٹھائے ہوئے نہ ہوں تو وہ {” مُنْشَئَاتٌ“} نہیں ہیں۔“ واضح رہے کہ انجن کی ایجاد سے پہلے بحری جہازوں کا سفر موافق ہواؤں کے ذریعے سے ہوتا تھا۔ چنانچہ اونچے اونچے ستونوں کے ساتھ کپڑے باندھ دیے جاتے، ہوا انھیں دھکیلتی ہوئی منزلِ مقصود پر پہنچا دیتی، انھیں بادبان کہا جاتا تھا۔ ”باد“ ہوا کو کہتے ہیں۔ اگر کہیں رکنا مقصود ہوتا تو وہ کپڑے اکٹھے کر دیے جاتے، اسے بادبان گرانا کہا جاتا تھا۔ اس معنی کے لحاظ سے بحری جہازوں پر اللہ تعالیٰ کی ایک اور نعمت کا ذکر ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ شوریٰ (۳۳) کی تفسیر۔ {” وَ لَهُ الْجَوَارِ “} میں {” لَهُ “} کو پہلے لانے سے تخصیص پیدا ہو گئی کہ یہ جہاز، ان کے بنانے کا طریقہ سکھانا، ہزاروں ٹن وزنی ہونے کے باوجود انھیں سمندر کے سینے پر قائم رکھنا اور ڈوبنے نہ دینا اور لوگوں کو اور ان کے سامان کو دور دراز ملکوں تک پہنچانا وغیرہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿٪۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
سو (اے جن و انس) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏‏‏‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏‏‏‏ [25- الفرقان:53] ‏‏‏‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے- امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏‏‏‏ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں- بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏‏‏‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کُلُّ مَنۡ عَلَیۡہَا فَانٍ ﴿ۚۖ۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جو بھی روئے زمین پر ہیں وہ سب فنا ہونے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ہر ایک جو اس( زمین)پر ہے، فنا ہونے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا ٭٭

فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہو گا، کل جاندار مخلوق کو موت آ جائے گی، اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے، مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گی، جو موت و فوت سے پاک ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاً تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے «یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک» ‏‏‏‏ یعنی اے ہمیشہ جینے اور ابدالآباد تک باقی اور تمام قائم رہنے والے اللہ! اے آسمان و زمین کے ابتداءً پیدا کرنے والے۔ اے رب جلال اور بزرگی والے پروردگار تیرے سوا کوئی معبود نہیں، ہم تیری رحمت ہی سے استغاثہ کرتے ہیں ہمارے تمام کام تو بنا دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تو ہماری طرف نہ سونپ اور نہ اپنی مخلوق میں سے کسی کی طرف۔

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تو آیت «کُلُّ مَنْ علَيْهَا فَانٍ» ‏‏‏‏ پڑھے تو ٹھہر نہیں اور ساتھ ہی آیت «‏‏‏‏وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوْ الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» [55- الرحمن:27] ‏‏‏‏ پڑھ لے۔ اس آیت کا مضمون دوسری آیت میں ان الفاظ سے ہے «كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28- القص:88] ‏‏‏‏ سوائے ذات باری کے ہر چیز ناپید ہونے والی ہے، پھر اپنے چہرے کی تعریف میں فرماتا ہے وہ ذوالجلال ہے یعنی اس قابل ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کا جاہ و جلال مانا جائے اور اس کے احکام کی پوری اطاعت کی جائے اور اس کے فرمان کی خلاف ورزی سے رکا جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18- الكهف:28] ‏‏‏‏، جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں اور اسی کی ذات کے مرید ہیں تو انہی کے ساتھ اپنے نفس کو وابستہ رکھ۔ اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ «إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ» [76-الانسان:9] ‏‏‏‏ نیک لوگ صدقہ دیتے وقت سمجھتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے پلاتے ہیں، وہ کبریائی بڑائی عظمت اور جلال والا ہے، پس اس بات کو بیان فرما کر کہ تمام اہل زمین فوت ہونے میں اور پھر اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش ہونے میں برابر ہیں، اور اس دن وہ بزرگی والا اللہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ حکم فرمائے گا۔ ساتھ ہی فرمایا: اب تم اے جن و انس رب کی کون سی نعمت کا انکار کرتے ہو؟ پھر فرماتا ہے کہ وہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور کل مخلوق اس کی یکسر محتاج ہے- سب کے سب سائل ہیں اور وہ غنی ہے، سب فقیر ہیں اور وہ سب کے سوال پورے کرنے والا ہے، ہر مخلوق اپنے حال و قال سے اپنی حاجتیں اس کی بارگاہ میں لے جاتی ہے اور ان کے پورا ہونے کا سوال کرتی ہے۔ وہ ہر دن نئی شان میں ہے، اس کی شان ہے کہ ہر پکارنے والے کو جواب دے۔ مانگنے والے کو عطا فرمائے، تنگ حالوں کو کشادگی دے، مصیبت و آفات والوں کو رہائی بخشے، بیماروں کو تندرستی عنایت فرمائے، غم و وہم دور کرے، بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو قبول فرما کر اسے قرار اور آرام عنایت فرمائے۔ گنہگاروں کے واویلا پر متوجہ ہو کر خطاؤں سے درگزر فرمائے، گناہوں کو بخشے، زندگی وہ دے، موت وہ دے، تمام زمین والے، کل آسمان والے اس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اور دامن پھیلائے ہوئے ہیں، چھوٹوں کو بڑا وہ کرتا ہے، قیدیوں کو رہائی وہ دیتا ہے، نیک لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے والا، ان کی پکار کا مدعا، ان کے شکوے شکایت کا مراجع وہی ہے، غلاموں کو آزاد کرنے کی رغبت وہی دلانے والا اور ان کو اپنی طرف سے عطیہ وہی عطا فرماتا ہے یہی اس کی شان ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! وہ شان کیا ہے؟ فرمایا: ”گناہوں کو بخشنا، دکھ کو دور کرنا، لوگوں کو ترقی اور تنزلی پر لانا۔‏‏‏‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11،ضعیف] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں اور ابن عساکر میں بھی اسی کے ہم معنی ایک حدیث ہے۔ صحیح بخاری میں یہ روایت معلقاً سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے [مسند ابویعلی:ضعیف،2268] ‏‏‏‏ بزار میں بھی کچھ کمی کے ساتھ مرفوعًا مروی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے دونوں تختے سرخ یاقوت کے ہیں- اس کا علم نوری ہے، اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے، ہر نگاہ پر کسی کو زندگی دیتا ہے اور مارتا اور کسی کو عزت و ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 26){ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ:” فَانٍ “”فَنِيَ يَفْنٰي فَنَاءً“} (س) سے اسم فاعل ہے۔ اس سے پہلے آیت (۱۰) میں زمین کا تذکرہ فرمایا ہے، اس کے بعد زمین پرموجود چیزوں کا ذکر فرمایا، جس میں جن و انس بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نعمت کے رنگا رنگ نمونے بھی۔ اس کے بعد بتایا کہ ان میں سے کسی کو بھی بقا و دوام حاصل نہیں، سب فنا ہونے والے ہیں۔ بقا و دوام صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے لیے ہے۔ (دیکھیے آلِ عمران: ۱۸۵۔ فرقان: ۵۸) آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۸۸) کی تفسیر۔
وَّ یَبۡقٰی وَجۡہُ رَبِّکَ ذُو الۡجَلٰلِ وَ الۡاِکۡرَامِ ﴿ۚ۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی ره جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ(ص) کے پروردگار کی ذات باقی رہے گی جو عظمت و اکرام والی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تیرے رب کا چہرہ باقی رہے گا، جو بڑی شان اور عزت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا ٭٭

فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہو گا، کل جاندار مخلوق کو موت آ جائے گی، اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے، مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گی، جو موت و فوت سے پاک ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاً تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے «یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک» ‏‏‏‏ یعنی اے ہمیشہ جینے اور ابدالآباد تک باقی اور تمام قائم رہنے والے اللہ! اے آسمان و زمین کے ابتداءً پیدا کرنے والے۔ اے رب جلال اور بزرگی والے پروردگار تیرے سوا کوئی معبود نہیں، ہم تیری رحمت ہی سے استغاثہ کرتے ہیں ہمارے تمام کام تو بنا دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تو ہماری طرف نہ سونپ اور نہ اپنی مخلوق میں سے کسی کی طرف۔

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تو آیت «کُلُّ مَنْ علَيْهَا فَانٍ» ‏‏‏‏ پڑھے تو ٹھہر نہیں اور ساتھ ہی آیت «‏‏‏‏وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوْ الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» [55- الرحمن:27] ‏‏‏‏ پڑھ لے۔ اس آیت کا مضمون دوسری آیت میں ان الفاظ سے ہے «كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28- القص:88] ‏‏‏‏ سوائے ذات باری کے ہر چیز ناپید ہونے والی ہے، پھر اپنے چہرے کی تعریف میں فرماتا ہے وہ ذوالجلال ہے یعنی اس قابل ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کا جاہ و جلال مانا جائے اور اس کے احکام کی پوری اطاعت کی جائے اور اس کے فرمان کی خلاف ورزی سے رکا جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18- الكهف:28] ‏‏‏‏، جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں اور اسی کی ذات کے مرید ہیں تو انہی کے ساتھ اپنے نفس کو وابستہ رکھ۔ اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ «إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ» [76-الانسان:9] ‏‏‏‏ نیک لوگ صدقہ دیتے وقت سمجھتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے پلاتے ہیں، وہ کبریائی بڑائی عظمت اور جلال والا ہے، پس اس بات کو بیان فرما کر کہ تمام اہل زمین فوت ہونے میں اور پھر اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش ہونے میں برابر ہیں، اور اس دن وہ بزرگی والا اللہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ حکم فرمائے گا۔ ساتھ ہی فرمایا: اب تم اے جن و انس رب کی کون سی نعمت کا انکار کرتے ہو؟ پھر فرماتا ہے کہ وہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور کل مخلوق اس کی یکسر محتاج ہے- سب کے سب سائل ہیں اور وہ غنی ہے، سب فقیر ہیں اور وہ سب کے سوال پورے کرنے والا ہے، ہر مخلوق اپنے حال و قال سے اپنی حاجتیں اس کی بارگاہ میں لے جاتی ہے اور ان کے پورا ہونے کا سوال کرتی ہے۔ وہ ہر دن نئی شان میں ہے، اس کی شان ہے کہ ہر پکارنے والے کو جواب دے۔ مانگنے والے کو عطا فرمائے، تنگ حالوں کو کشادگی دے، مصیبت و آفات والوں کو رہائی بخشے، بیماروں کو تندرستی عنایت فرمائے، غم و وہم دور کرے، بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو قبول فرما کر اسے قرار اور آرام عنایت فرمائے۔ گنہگاروں کے واویلا پر متوجہ ہو کر خطاؤں سے درگزر فرمائے، گناہوں کو بخشے، زندگی وہ دے، موت وہ دے، تمام زمین والے، کل آسمان والے اس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اور دامن پھیلائے ہوئے ہیں، چھوٹوں کو بڑا وہ کرتا ہے، قیدیوں کو رہائی وہ دیتا ہے، نیک لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے والا، ان کی پکار کا مدعا، ان کے شکوے شکایت کا مراجع وہی ہے، غلاموں کو آزاد کرنے کی رغبت وہی دلانے والا اور ان کو اپنی طرف سے عطیہ وہی عطا فرماتا ہے یہی اس کی شان ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! وہ شان کیا ہے؟ فرمایا: ”گناہوں کو بخشنا، دکھ کو دور کرنا، لوگوں کو ترقی اور تنزلی پر لانا۔‏‏‏‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11،ضعیف] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں اور ابن عساکر میں بھی اسی کے ہم معنی ایک حدیث ہے۔ صحیح بخاری میں یہ روایت معلقاً سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے [مسند ابویعلی:ضعیف،2268] ‏‏‏‏ بزار میں بھی کچھ کمی کے ساتھ مرفوعًا مروی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے دونوں تختے سرخ یاقوت کے ہیں- اس کا علم نوری ہے، اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے، ہر نگاہ پر کسی کو زندگی دیتا ہے اور مارتا اور کسی کو عزت و ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 27) {وَ يَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ:الْجَلٰلِ “} کا معنی عظمت و کبریائی ہے اور {” الْاِكْرَامِ”أَكْرَمَ يُكْرِمُ “} (افعال) کا مصدر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے {”ذُوالإِْكْرَامِ“} ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ عزت دینے والا وہی ہے، کوئی اور نہیں، جیسے فرمایا: «وَ مَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ» ‏‏‏‏ [ الحج: ۱۸ ] ”اور جسے اللہ ذلیل کر دے پھر اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔“ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس کا حق ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے، اس کے بندے اس کی توحید و تسبیح اور عبادت کے ساتھ اس کا اکرام کرتے ہیں۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پھرتم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا ٭٭

فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہو گا، کل جاندار مخلوق کو موت آ جائے گی، اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے، مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گی، جو موت و فوت سے پاک ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاً تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے «یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک» ‏‏‏‏ یعنی اے ہمیشہ جینے اور ابدالآباد تک باقی اور تمام قائم رہنے والے اللہ! اے آسمان و زمین کے ابتداءً پیدا کرنے والے۔ اے رب جلال اور بزرگی والے پروردگار تیرے سوا کوئی معبود نہیں، ہم تیری رحمت ہی سے استغاثہ کرتے ہیں ہمارے تمام کام تو بنا دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تو ہماری طرف نہ سونپ اور نہ اپنی مخلوق میں سے کسی کی طرف۔

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تو آیت «کُلُّ مَنْ علَيْهَا فَانٍ» ‏‏‏‏ پڑھے تو ٹھہر نہیں اور ساتھ ہی آیت «‏‏‏‏وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوْ الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» [55- الرحمن:27] ‏‏‏‏ پڑھ لے۔ اس آیت کا مضمون دوسری آیت میں ان الفاظ سے ہے «كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28- القص:88] ‏‏‏‏ سوائے ذات باری کے ہر چیز ناپید ہونے والی ہے، پھر اپنے چہرے کی تعریف میں فرماتا ہے وہ ذوالجلال ہے یعنی اس قابل ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کا جاہ و جلال مانا جائے اور اس کے احکام کی پوری اطاعت کی جائے اور اس کے فرمان کی خلاف ورزی سے رکا جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18- الكهف:28] ‏‏‏‏، جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں اور اسی کی ذات کے مرید ہیں تو انہی کے ساتھ اپنے نفس کو وابستہ رکھ۔ اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ «إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ» [76-الانسان:9] ‏‏‏‏ نیک لوگ صدقہ دیتے وقت سمجھتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے پلاتے ہیں، وہ کبریائی بڑائی عظمت اور جلال والا ہے، پس اس بات کو بیان فرما کر کہ تمام اہل زمین فوت ہونے میں اور پھر اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش ہونے میں برابر ہیں، اور اس دن وہ بزرگی والا اللہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ حکم فرمائے گا۔ ساتھ ہی فرمایا: اب تم اے جن و انس رب کی کون سی نعمت کا انکار کرتے ہو؟ پھر فرماتا ہے کہ وہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور کل مخلوق اس کی یکسر محتاج ہے- سب کے سب سائل ہیں اور وہ غنی ہے، سب فقیر ہیں اور وہ سب کے سوال پورے کرنے والا ہے، ہر مخلوق اپنے حال و قال سے اپنی حاجتیں اس کی بارگاہ میں لے جاتی ہے اور ان کے پورا ہونے کا سوال کرتی ہے۔ وہ ہر دن نئی شان میں ہے، اس کی شان ہے کہ ہر پکارنے والے کو جواب دے۔ مانگنے والے کو عطا فرمائے، تنگ حالوں کو کشادگی دے، مصیبت و آفات والوں کو رہائی بخشے، بیماروں کو تندرستی عنایت فرمائے، غم و وہم دور کرے، بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو قبول فرما کر اسے قرار اور آرام عنایت فرمائے۔ گنہگاروں کے واویلا پر متوجہ ہو کر خطاؤں سے درگزر فرمائے، گناہوں کو بخشے، زندگی وہ دے، موت وہ دے، تمام زمین والے، کل آسمان والے اس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اور دامن پھیلائے ہوئے ہیں، چھوٹوں کو بڑا وہ کرتا ہے، قیدیوں کو رہائی وہ دیتا ہے، نیک لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے والا، ان کی پکار کا مدعا، ان کے شکوے شکایت کا مراجع وہی ہے، غلاموں کو آزاد کرنے کی رغبت وہی دلانے والا اور ان کو اپنی طرف سے عطیہ وہی عطا فرماتا ہے یہی اس کی شان ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! وہ شان کیا ہے؟ فرمایا: ”گناہوں کو بخشنا، دکھ کو دور کرنا، لوگوں کو ترقی اور تنزلی پر لانا۔‏‏‏‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11،ضعیف] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں اور ابن عساکر میں بھی اسی کے ہم معنی ایک حدیث ہے۔ صحیح بخاری میں یہ روایت معلقاً سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے [مسند ابویعلی:ضعیف،2268] ‏‏‏‏ بزار میں بھی کچھ کمی کے ساتھ مرفوعًا مروی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے دونوں تختے سرخ یاقوت کے ہیں- اس کا علم نوری ہے، اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے، ہر نگاہ پر کسی کو زندگی دیتا ہے اور مارتا اور کسی کو عزت و ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 28) {فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ:} زمین پر موجود ہر شخص کے فنا میں اللہ تعالیٰ کی قدرت تو ظاہر ہی ہے، اس میں اس کی نعمت بھی ہے،کیونکہ مرنے کے بغیر کوئی شخص اس کی جنت کا وارث نہیں بن سکتااور نہ اس کا دیدار حاصل کر سکتا ہے۔ ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے: بے فنائے خود میسر نیست دیدار شما مے فروشد خویش را اوّل خریدار شما ”اپنے فنا کے بغیر تمھارا دیدار میسر نہیں ہوتا، تمھیں خریدنے والے کو پہلے اپنا آپ بیچنا پڑتا ہے۔“
یَسۡـَٔلُہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ ﴿ۚ۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں ہر آن وہ نئی شان میں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
سب آسمان وزمین والے اسی سے مانگتے ہیں۔ ہر روز وه ایک شان میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
اسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں اسے ہر دن ایک کام ہے
علامہ محمد حسین نجفی
آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اسی سے (اپنی حاجتیں) مانگتے ہیں وہ ہر روز (بلکہ ہر آن) ایک نئی شان میں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا ٭٭

فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہو گا، کل جاندار مخلوق کو موت آ جائے گی، اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے، مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گی، جو موت و فوت سے پاک ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاً تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے «یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک» ‏‏‏‏ یعنی اے ہمیشہ جینے اور ابدالآباد تک باقی اور تمام قائم رہنے والے اللہ! اے آسمان و زمین کے ابتداءً پیدا کرنے والے۔ اے رب جلال اور بزرگی والے پروردگار تیرے سوا کوئی معبود نہیں، ہم تیری رحمت ہی سے استغاثہ کرتے ہیں ہمارے تمام کام تو بنا دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تو ہماری طرف نہ سونپ اور نہ اپنی مخلوق میں سے کسی کی طرف۔

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تو آیت «کُلُّ مَنْ علَيْهَا فَانٍ» ‏‏‏‏ پڑھے تو ٹھہر نہیں اور ساتھ ہی آیت «‏‏‏‏وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوْ الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» [55- الرحمن:27] ‏‏‏‏ پڑھ لے۔ اس آیت کا مضمون دوسری آیت میں ان الفاظ سے ہے «كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28- القص:88] ‏‏‏‏ سوائے ذات باری کے ہر چیز ناپید ہونے والی ہے، پھر اپنے چہرے کی تعریف میں فرماتا ہے وہ ذوالجلال ہے یعنی اس قابل ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کا جاہ و جلال مانا جائے اور اس کے احکام کی پوری اطاعت کی جائے اور اس کے فرمان کی خلاف ورزی سے رکا جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18- الكهف:28] ‏‏‏‏، جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں اور اسی کی ذات کے مرید ہیں تو انہی کے ساتھ اپنے نفس کو وابستہ رکھ۔ اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ «إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ» [76-الانسان:9] ‏‏‏‏ نیک لوگ صدقہ دیتے وقت سمجھتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے پلاتے ہیں، وہ کبریائی بڑائی عظمت اور جلال والا ہے، پس اس بات کو بیان فرما کر کہ تمام اہل زمین فوت ہونے میں اور پھر اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش ہونے میں برابر ہیں، اور اس دن وہ بزرگی والا اللہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ حکم فرمائے گا۔ ساتھ ہی فرمایا: اب تم اے جن و انس رب کی کون سی نعمت کا انکار کرتے ہو؟ پھر فرماتا ہے کہ وہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور کل مخلوق اس کی یکسر محتاج ہے- سب کے سب سائل ہیں اور وہ غنی ہے، سب فقیر ہیں اور وہ سب کے سوال پورے کرنے والا ہے، ہر مخلوق اپنے حال و قال سے اپنی حاجتیں اس کی بارگاہ میں لے جاتی ہے اور ان کے پورا ہونے کا سوال کرتی ہے۔ وہ ہر دن نئی شان میں ہے، اس کی شان ہے کہ ہر پکارنے والے کو جواب دے۔ مانگنے والے کو عطا فرمائے، تنگ حالوں کو کشادگی دے، مصیبت و آفات والوں کو رہائی بخشے، بیماروں کو تندرستی عنایت فرمائے، غم و وہم دور کرے، بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو قبول فرما کر اسے قرار اور آرام عنایت فرمائے۔ گنہگاروں کے واویلا پر متوجہ ہو کر خطاؤں سے درگزر فرمائے، گناہوں کو بخشے، زندگی وہ دے، موت وہ دے، تمام زمین والے، کل آسمان والے اس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اور دامن پھیلائے ہوئے ہیں، چھوٹوں کو بڑا وہ کرتا ہے، قیدیوں کو رہائی وہ دیتا ہے، نیک لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے والا، ان کی پکار کا مدعا، ان کے شکوے شکایت کا مراجع وہی ہے، غلاموں کو آزاد کرنے کی رغبت وہی دلانے والا اور ان کو اپنی طرف سے عطیہ وہی عطا فرماتا ہے یہی اس کی شان ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! وہ شان کیا ہے؟ فرمایا: ”گناہوں کو بخشنا، دکھ کو دور کرنا، لوگوں کو ترقی اور تنزلی پر لانا۔‏‏‏‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11،ضعیف] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں اور ابن عساکر میں بھی اسی کے ہم معنی ایک حدیث ہے۔ صحیح بخاری میں یہ روایت معلقاً سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے [مسند ابویعلی:ضعیف،2268] ‏‏‏‏ بزار میں بھی کچھ کمی کے ساتھ مرفوعًا مروی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے دونوں تختے سرخ یاقوت کے ہیں- اس کا علم نوری ہے، اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے، ہر نگاہ پر کسی کو زندگی دیتا ہے اور مارتا اور کسی کو عزت و ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11] ‏‏‏‏
29۔ 1 یعنی سب اس کے محتاج اور اس کے در کے سوالی ہیں۔ 29۔ 2 ہر روز کا مطلب، ہر وقت۔ شان کے معنی امر یا معاملہ، یعنی ہر وقت وہ کسی نہ کسی کام میں مصروف ہے، کسی کو بیمار کر رہا ہے، کسی کو شفایاب، کسی کو تونگر کسی کو فقیر، کسی کو گدا سے شاہ اور شاہ سے گدا، کسی کو بلندیوں پر فائز کر رہا ہے، کسی کو پستی میں گرا رہا ہے کسی کو ہست سے نیست اور نیست کو ہست کر رہا ہے وغیرہ۔ الغرض کائنات میں یہ سارے تصرف اسی کے امرو مشیت سے ہو رہے ہیں اور شب و روز کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو اس کی کارگزاری سے خالی ہو۔
(آیت 29) ➊ {يَسْـَٔلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یہ ہر چیز کے فانی ہونے اور اللہ تعالیٰ کے باقی ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ باقی ہے، کیونکہ وہ غنی ہے، اپنے وجود یا بقا یا کسی بھی چیز میں کسی دوسرے کا محتاج نہیں، مگر اس کے سوا جو بھی ہے خواہ آسمان ہوں یا زمین یا جو ان دونوں میں ہے، سب اپنے وجود، اپنی بقا اور اپنی ہر ضرورت کے لیے ہر لمحے اس کے محتاج ہیں۔ اپنی ہر ضرورت اسی سے مانگ رہے ہیں، کوئی زبانِ قال سے مانگ رہا ہے، کوئی زبانِ حال سے اور کوئی دونوں سے۔ جس کی زندگی کا ہر لمحہ مانگنے پر موقوف ہے وہ کیا خاک باقی رہے گا۔ ➋ { كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ:كُلَّ يَوْمٍ “} سے مراد ہر وقت ہے۔ {” شَاْنٍ “} میں تنوین تنکیر کے لیے ہے، یعنی وہ ہر لمحے ایک نئی سے نئی شان میں ہے، کسی کو پیدا کر رہا ہے اور کسی کو مار رہا ہے، کسی کو اٹھا رہا ہے اور کسی کو گرا رہا ہے، کسی کو بیمار کر رہا ہے اور کسی کو شفا بخش رہا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَدُ اللّٰهِ مَلَاٰی لاَ تَغِيْضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَ قَالَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِيْ يَدِهِ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَی الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْمِيْزَانُ يَخْفِضُ وَ يَرْفَعُ ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ ہود، باب قولہ: «‏‏‏‏وکان عرشہ علی الماء» : ۴۶۸۴ ] ”اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، کسی قسم کا خرچ کرنا اس میں کمی نہیں لاتا، رات دن بے حساب برسنے والا ہے۔ تم نے دیکھا اس نے جب سے آسمان و زمین پیدا کیے، کیا کچھ خرچ کیا، تو اس (خرچ کرنے)نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں ترازو ہے۔ نیچے کرتا ہے اور اونچا کرتا ہے۔“ اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے {” كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ “} کی تفسیر کے بیان میں روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مِنْ شَأْنِهٖ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا وَ يُفَرِّجَ كَرْبًا وَ يَرْفَعَ قَوْمًا وَ يَخْفِضَ آخَرِيْنَ ] [ ابن ماجہ، المقدمۃ، باب فیما أنکرت الجھمیۃ: ۲۰۲، و قال الألباني حسن ] ”اس کی شان سے ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی گناہ بخش رہا ہے، کوئی نہ کوئی مصیبت دور کر رہا ہے اور کسی قوم کو اونچا کر رہا ہے اور کسی کو نیچا کر رہا ہے۔“ ➌ اس میں یہود کا بھی ردّ ہے جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں زمین و آسمان پیدا فرمائے اور ہفتہ کے دن آرام کیا۔ فرمایا وہ ہر دن ہی نئی شان میں ہے، اسے نہ تھکاوٹ ہوتی ہے نہ آرام کی ضرورت ہے۔ ➍ یونان کے فلسفی آسمانی ہدایت سے محروم تھے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کا وجود ماننے کے باوجود اپنے دیوتاؤں کی گنجائش نکالنے کے لیے ایک قاعدہ وضع کیا، جو یہ تھا کہ ”ہر محل حوادث حادث ہوتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ قدیم ہے، ہمیشہ سے ہے، اس لیے اس پر حوادث نہیں آ سکتے۔“ افسوس! بعض مسلمان متکلمین نے بھی ان کا یہ قاعدہ تسلیم کر لیا۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کر دیا۔ بعض نے تاویل کی اور ایسی تاویل کی جو درحقیقت بدترین تحریف ہے۔ مثلاً اللہ کی صفت کلام ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِيْمًا» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۶۴ ] ”اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔“ اور فرمایا: «وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۶ ] ”اور اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دے، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَااَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» [ یٰسٓ: ۸۲ ] ”اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہو جا“ تو وہ ہو جاتی ہے۔ “ یہ ساری کائنات اس کے کلمۂ کن سے وجود میں آئی ہے۔ ظاہر ہے کلام کا ہر لفظ حادث ہے، پہلے موجود نہیں ہوتا، پھر وجود میں آتا ہے، اس لیے متکلمین نے اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے، سنتا ہے، اترتا ہے، بلند ہوتا ہے، خوش ہوتا ہے، ناراض ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ صفات اور اس جیسی دوسری صفات اللہ تعالیٰ میں ہمیشہ سے ہیں، ان کی انواع قدیم ہیں مگر افراد حادث ہیں، ان کا اظہار مختلف اوقات میں ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ جب چاہے کلام کرتا ہے، نیچے اترتا ہے، بلند ہوتا ہے، پیدا کرتا ہے، مارتا ہے، ہر ایک کو ہر لمحے روزی بخشتا ہے، ہر لمحے ہر ایک کو دیکھتا ہے، اس کی سنتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، مگر یونانی فلسفیوں کی تقلید میں متکلمین نے اللہ تعالیٰ کو سننے، دیکھنے، بولنے، خوش ہونے، ناراض ہونے، غرض اس طرح کی تمام صفات سے عاری قرار دیا۔ اس مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ آسمان و زمین کی ہر چیز کے سوال کو سنتا ہے اور ہر لمحے نئی سے نئی شان میں ہے؟ اب ہم یونان کے کافر فلاسفر اور ان کے مقلد بعض متکلمین کی بات مانیں کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی نئی شان وارد نہیں ہو سکتی یا اللہ تعالیٰ کی بات پر ایمان رکھیں کہ وہ ہر لمحے ایک نئی سے نئی شان میں ہے؟ ظاہر ہے جس کے دل میں ایمان ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کی بات مانے گا، خواہ کوئی فلسفی اسے مانے یا نہ مانے۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن صفات حمیدہ کو جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا ٭٭

فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہو گا، کل جاندار مخلوق کو موت آ جائے گی، اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے، مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گی، جو موت و فوت سے پاک ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاً تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے «یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک» ‏‏‏‏ یعنی اے ہمیشہ جینے اور ابدالآباد تک باقی اور تمام قائم رہنے والے اللہ! اے آسمان و زمین کے ابتداءً پیدا کرنے والے۔ اے رب جلال اور بزرگی والے پروردگار تیرے سوا کوئی معبود نہیں، ہم تیری رحمت ہی سے استغاثہ کرتے ہیں ہمارے تمام کام تو بنا دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تو ہماری طرف نہ سونپ اور نہ اپنی مخلوق میں سے کسی کی طرف۔

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تو آیت «کُلُّ مَنْ علَيْهَا فَانٍ» ‏‏‏‏ پڑھے تو ٹھہر نہیں اور ساتھ ہی آیت «‏‏‏‏وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوْ الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» [55- الرحمن:27] ‏‏‏‏ پڑھ لے۔ اس آیت کا مضمون دوسری آیت میں ان الفاظ سے ہے «كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28- القص:88] ‏‏‏‏ سوائے ذات باری کے ہر چیز ناپید ہونے والی ہے، پھر اپنے چہرے کی تعریف میں فرماتا ہے وہ ذوالجلال ہے یعنی اس قابل ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کا جاہ و جلال مانا جائے اور اس کے احکام کی پوری اطاعت کی جائے اور اس کے فرمان کی خلاف ورزی سے رکا جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18- الكهف:28] ‏‏‏‏، جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں اور اسی کی ذات کے مرید ہیں تو انہی کے ساتھ اپنے نفس کو وابستہ رکھ۔ اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ «إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ» [76-الانسان:9] ‏‏‏‏ نیک لوگ صدقہ دیتے وقت سمجھتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے پلاتے ہیں، وہ کبریائی بڑائی عظمت اور جلال والا ہے، پس اس بات کو بیان فرما کر کہ تمام اہل زمین فوت ہونے میں اور پھر اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش ہونے میں برابر ہیں، اور اس دن وہ بزرگی والا اللہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ حکم فرمائے گا۔ ساتھ ہی فرمایا: اب تم اے جن و انس رب کی کون سی نعمت کا انکار کرتے ہو؟ پھر فرماتا ہے کہ وہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور کل مخلوق اس کی یکسر محتاج ہے- سب کے سب سائل ہیں اور وہ غنی ہے، سب فقیر ہیں اور وہ سب کے سوال پورے کرنے والا ہے، ہر مخلوق اپنے حال و قال سے اپنی حاجتیں اس کی بارگاہ میں لے جاتی ہے اور ان کے پورا ہونے کا سوال کرتی ہے۔ وہ ہر دن نئی شان میں ہے، اس کی شان ہے کہ ہر پکارنے والے کو جواب دے۔ مانگنے والے کو عطا فرمائے، تنگ حالوں کو کشادگی دے، مصیبت و آفات والوں کو رہائی بخشے، بیماروں کو تندرستی عنایت فرمائے، غم و وہم دور کرے، بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو قبول فرما کر اسے قرار اور آرام عنایت فرمائے۔ گنہگاروں کے واویلا پر متوجہ ہو کر خطاؤں سے درگزر فرمائے، گناہوں کو بخشے، زندگی وہ دے، موت وہ دے، تمام زمین والے، کل آسمان والے اس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اور دامن پھیلائے ہوئے ہیں، چھوٹوں کو بڑا وہ کرتا ہے، قیدیوں کو رہائی وہ دیتا ہے، نیک لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے والا، ان کی پکار کا مدعا، ان کے شکوے شکایت کا مراجع وہی ہے، غلاموں کو آزاد کرنے کی رغبت وہی دلانے والا اور ان کو اپنی طرف سے عطیہ وہی عطا فرماتا ہے یہی اس کی شان ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! وہ شان کیا ہے؟ فرمایا: ”گناہوں کو بخشنا، دکھ کو دور کرنا، لوگوں کو ترقی اور تنزلی پر لانا۔‏‏‏‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11،ضعیف] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں اور ابن عساکر میں بھی اسی کے ہم معنی ایک حدیث ہے۔ صحیح بخاری میں یہ روایت معلقاً سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے [مسند ابویعلی:ضعیف،2268] ‏‏‏‏ بزار میں بھی کچھ کمی کے ساتھ مرفوعًا مروی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے دونوں تختے سرخ یاقوت کے ہیں- اس کا علم نوری ہے، اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے، ہر نگاہ پر کسی کو زندگی دیتا ہے اور مارتا اور کسی کو عزت و ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
سَنَفۡرُغُ لَکُمۡ اَیُّہَ الثَّقَلٰنِ ﴿ۚ۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے زمین کے بوجھو، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لیے فارغ ہوئے جاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(جنوں اور انسانوں کے گروہو!) عنقریب ہم تمہاری طرف پوری طرح متوجہ ہو جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جلد سب کام نبٹا کر ہم تمہارے حساب کا قصد فرماتے ہیں اے دونوں بھاری گروہ
علامہ محمد حسین نجفی
اے جن وانس ہم عنقریب (تمہاری خبر لینے کیلئے) تمہاری طرف متوجہ ہو نے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ہم جلد ہی تمھارے لیے فارغ ہوں گے اے دو بھاری گروہو!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بطور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آ گیا ہے، اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے، اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا۔ محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے، جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نپٹنے کو نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ «الثَّقَلَان» سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے «‏‏‏‏ثقلین» کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے۔ [صحیح بخاری:1338] ‏‏‏‏ اور حدیث «صور» میں صاف ہے کہ «ثقلین» یعنی جن و انس، پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو؟ اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہٰ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الٰہی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ» * «كَلَّا لَا وَزَرَ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [75-القيامة:10-12] ‏‏‏‏ ’ انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [10-یونس:27] ‏‏‏‏ یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔ «شُوَاظٌ» کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کے اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے۔ «‏‏‏‏نُحَاسٌ» کہتے ہیں دھویں کو، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔ ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «شواظ» سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا۔ اور «‏‏‏‏نُحَاسٌ» کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:597/11] ‏‏‏‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «نُحَاسٌ» سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے، تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو، نہ انہیں دفع کر سکتے ہو، نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے؟۔
31۔ 1 اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کو فراغت نہیں ہے بلکہ یہ محاورۃً بولا گیا ہے جس کا مقصد وعید و تہید ہے (جن و انس کو) اسلئے کہا گیا کہ ان کو تکلیف شرعیہ کا پابند کیا گیا ہے، اس پابندی یا بوجھ سے دوسری مخلوق مستشنٰی ہے
(آیت 31) {سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَيُّهَ الثَّقَلٰنِ:الثَّقَلٰنِ “ ” ثَقَلٌ“} کی جمع ہے، بھاری اور وزنی چیز۔ مراد زمین پر آباد جاندار مخلوق میں سے دو بھاری اور کثیر التعداد جماعتیں جن و انس ہیں۔ مخلوقات میں سے شرعی احکام کی تکلیف ان دونوں ہی کو دی گئی ہے، اس لیے انھی کو مخاطب فرمایا۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ {” سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَيُّهَ الثَّقَلٰنِ “} کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر نقل کی ہے: {” وَعِيْدٌ مِّنَ اللّٰهِ لِلْعِبَادِ وَلَيْسَ بِاللّٰهِ شُغُلٌ وَ هُوَ فَارِغٌ“} یعنی ”یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے وعید ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ کو دوسرے کسی کام سے روکنے والی کوئی مشغولیت نہیں اور وہ فارغ ہے۔“ امام بخاری نے فرمایا: {”سَنَفْرُغُ لَكُمْ سَنُحَاسِبُكُمْ لاَ يَشْغَلُهُ شَيْءٌ عَنْ شَيْءٍ وَهُوَ مَعْرُوْفٌ فِيْ كَلاَمِ الْعَرَبِ يُقَالُ لَأَتَفَرَّغَنَّ لَكَ وَمَا بِهِ شُغْلٌ يَقُوْلُ لَآخُذَنَّكَ عَلٰي غِرَّتِكَ“} [ بخاري، التفسیر، سورۃ الرحمٰن، قبل الحدیث: ۴۸۷۸ ] یعنی {” سَنَفْرُغُ لَكُمْ “} (ہم جلد ہی تمھارے لیے فارغ ہوں گے) کا مطلب یہ ہے کہ ہم جلد ہی تمھارا حساب لیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز دوسری چیز سے رکاوٹ نہیں بنتی اور یہ کلامِ عرب میں معروف ہے۔ کہا جاتا ہے، میں تمھارے لیے فارغ ہوں گا، حالانکہ اسے کوئی مشغولیت نہیں ہوتی۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں تمھاری غفلت میں تمھیں پکڑوں گا۔ “ {” سَنَفْرُغُ لَكُمْ “} کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اے جنو اور انسانو! ہم نے تمھارے لیے ایک نظام الاوقات طے کر دیا ہے، دنیا میں تمھارے پاس عمل کی مہلت ہے، یہاں ہم ہر لمحے تمھاری ضرورتیں پوری کر رہے ہیں، جو مانگتے ہو دے رہے ہیں، بہت جلد ہم اس مرحلے سے فارغ ہوں گے، پھر قیامت قائم ہو گی اور تمھارے محاسبے کا مرحلہ شروع ہو جائے گا۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بطور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آ گیا ہے، اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے، اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا۔ محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے، جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نپٹنے کو نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ «الثَّقَلَان» سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے «‏‏‏‏ثقلین» کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے۔ [صحیح بخاری:1338] ‏‏‏‏ اور حدیث «صور» میں صاف ہے کہ «ثقلین» یعنی جن و انس، پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو؟ اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہٰ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الٰہی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ» * «كَلَّا لَا وَزَرَ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [75-القيامة:10-12] ‏‏‏‏ ’ انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [10-یونس:27] ‏‏‏‏ یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔ «شُوَاظٌ» کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کے اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے۔ «‏‏‏‏نُحَاسٌ» کہتے ہیں دھویں کو، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔ ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «شواظ» سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا۔ اور «‏‏‏‏نُحَاسٌ» کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:597/11] ‏‏‏‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «نُحَاسٌ» سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے، تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو، نہ انہیں دفع کر سکتے ہو، نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے؟۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 32) {فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ:} اس نظام عالم کو درہم برہم کر کے قیامت برپا کرنا، ان دونوں جماعتوں سے حساب لینا، پھر اس کے مطابق جزا و سزا دینا اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی عظیم قدرت کا اظہار بھی ہے اور اہلِ ایمان کے لیے بہت بڑی نعمت بھی، جس کے متعلق فرمایا: «فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ» ‏‏‏‏ ”کہ تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟“
یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ ﴿ۚ۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے گروہ جن و انس، گر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو نہیں بھاگ سکتے اِس کے لیے بڑا زور چاہیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے گروه جنات و انسان! اگر تم میں آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو نکل بھاگو! بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے
احمد رضا خان بریلوی
اے جن و انسان کے گروہ اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، جہاں نکل کر جاؤ گے اسی کی سلطنت ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اے گروہِ جن و انس! اگر تم سے ہو سکے تو تم آسمانوں اور زمین کی حدود سے باہر نکل جاؤ (لیکن) تم طاقت اور زور کے بغیر نہیں نکل سکتے۔
عبدالسلام بن محمد
اے جن و انس کی جماعت! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، کسی غلبے کے سوا نہیں نکلو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بطور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آ گیا ہے، اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے، اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا۔ محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے، جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نپٹنے کو نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ «الثَّقَلَان» سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے «‏‏‏‏ثقلین» کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے۔ [صحیح بخاری:1338] ‏‏‏‏ اور حدیث «صور» میں صاف ہے کہ «ثقلین» یعنی جن و انس، پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو؟ اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہٰ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الٰہی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ» * «كَلَّا لَا وَزَرَ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [75-القيامة:10-12] ‏‏‏‏ ’ انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [10-یونس:27] ‏‏‏‏ یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔ «شُوَاظٌ» کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کے اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے۔ «‏‏‏‏نُحَاسٌ» کہتے ہیں دھویں کو، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔ ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «شواظ» سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا۔ اور «‏‏‏‏نُحَاسٌ» کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:597/11] ‏‏‏‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «نُحَاسٌ» سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے، تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو، نہ انہیں دفع کر سکتے ہو، نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے؟۔
33۔ 1 یہ تہدید بھی نعمت ہے کہ اس سے بدکار، بدیوں کے ارتکاب سے باز آجائے اور محسن زیادہ نیکیاں کمائے۔ (2) یعنی اگر اللہ کی تقدیر اور قضا سے تم بھاگ کر کہیں جاسکتے ہو تو چلے جاؤ لیکن یہ طاقت کس میں ہے؟ اور بھاگ کر آخر کہاں جائے گا کون سی جگہ ایسی ہے، جو اللہ کے اختیار سے باہر ہو، بعض نے کہا کہ یہ میدان محشر میں کہا جائے گا، جبکہ فرشتے ہر طرف سے لوگوں کو گھیر رکھے ہونگے۔ دونوں ہی مفہوم اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔
(آیت 33){ يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ …:”مَعْشَرٌ“ ”عَشْرٌ“} سے {”مَفْعَلٌ“} کے وزن پر ہے، کثیر التعداد جماعت کو کہتے ہیں، کیونکہ اس میں بہت سے عشرات پائے جاتے ہیں، جن کا شمار یکے بعد دیگرے دہائیوں میں ہوتا ہے۔ {” اَقْطَارِ”قَطْرٌ“} کی جمع ہے، کنارا۔ {”سُلْطَانٌ“} قدرت اور غلبہ۔ یعنی اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! دنیا میں اگر تم موت سے بچنے کے لیے آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جاؤ، مگر تم اللہ تعالیٰ پر غالب آ کر ہی نکل سکو گے، جس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَيَّدَةٍ» ‏‏‏‏ [ النساء: ۷۸ ] ”تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمھیں پا لے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔“ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے محاسبے اور اس کی گرفت سے بچنے کے لیے اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جاؤ…۔ اس سے ملتا جلتا مفہوم اس آیت کا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ (7) وَ خَسَفَ الْقَمَرُ (8) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ (9) يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ (10) كَلَّا لَا وَزَرَ (11) اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِ الْمُسْتَقَرُّ» [ القیامۃ: ۷ تا ۱۲ ] ”پھر جب آنکھ پتھرا جائے گی۔ اور چاند گہنا جائے گا۔ اور سورج اور چاند اکٹھے کر دیے جائیں گے۔ انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ ہرگز نہیں، پناہ کی جگہ کوئی نہیں۔ اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔“ آج کل راکٹ یا خلائی گاڑی کے ذریعے سے چاند پر یا کسی اور کُرے پر جانے کے تجربات ہو رہے ہیں، بعض لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ {” لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ “} (تم غلبے کے بغیر نہیں نکل سکو گے) سے مراد یہ ہے کہ ان مشینوں کے ذریعے سے {” اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} سے نکلنا ممکن ہے، حالانکہ ان کوششوں کی آیت کے مفہوم کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں۔ یہ بے چارے تو زمین و آسمان کے درمیان خلا میں پھر رہے ہیں، آسمان و زمین کے کناروں تک رسائی تو بہت دور ہے۔ پھر وہ ذرۂ بے مقدار، جس کا ایک سانس بھی اس کے اپنے اختیار میں نہیں، وہ اپنی قوت کے ساتھ {” اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} سے نکلنے کی بات کرے تو یہی کہا جا سکتا ہے: بت کریں آرزو خدائی کی شان ہے تیری کبریائی کی
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بطور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آ گیا ہے، اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے، اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا۔ محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے، جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نپٹنے کو نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ «الثَّقَلَان» سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے «‏‏‏‏ثقلین» کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے۔ [صحیح بخاری:1338] ‏‏‏‏ اور حدیث «صور» میں صاف ہے کہ «ثقلین» یعنی جن و انس، پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو؟ اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہٰ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الٰہی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ» * «كَلَّا لَا وَزَرَ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [75-القيامة:10-12] ‏‏‏‏ ’ انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [10-یونس:27] ‏‏‏‏ یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔ «شُوَاظٌ» کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کے اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے۔ «‏‏‏‏نُحَاسٌ» کہتے ہیں دھویں کو، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔ ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «شواظ» سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا۔ اور «‏‏‏‏نُحَاسٌ» کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:597/11] ‏‏‏‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «نُحَاسٌ» سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے، تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو، نہ انہیں دفع کر سکتے ہو، نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے؟۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 34) {فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ:} یہاں{ ” اٰلَآءِ “} کا معنی ”قدرتیں“ واضح ہے اور وعید گناہوں سے باز آنے کا باعث ہونے کی وجہ سے عظیم نعمت بھی ہے۔
یُرۡسَلُ عَلَیۡکُمَا شُوَاظٌ مِّنۡ نَّارٍ ۬ۙ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنۡتَصِرٰنِ ﴿ۚ۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم مقابلہ نہ کر سکو گے
احمد رضا خان بریلوی
تم پر چھوڑی جائے گی بے دھویں کی آگ کی لپٹ اور بے لپٹ کا کالا دھواں تو پھر بدلا نہ لے سکو گے
علامہ محمد حسین نجفی
تم دونوں پر آگ کاشعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم اپنا بچاؤ نہ کر سکو گے۔
عبدالسلام بن محمد
تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا، پھر تم اپنے آپ کو بچا نہیں سکو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بطور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آ گیا ہے، اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے، اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا۔ محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے، جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نپٹنے کو نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ «الثَّقَلَان» سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے «‏‏‏‏ثقلین» کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے۔ [صحیح بخاری:1338] ‏‏‏‏ اور حدیث «صور» میں صاف ہے کہ «ثقلین» یعنی جن و انس، پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو؟ اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہٰ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الٰہی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ» * «كَلَّا لَا وَزَرَ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [75-القيامة:10-12] ‏‏‏‏ ’ انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [10-یونس:27] ‏‏‏‏ یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔ «شُوَاظٌ» کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کے اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے۔ «‏‏‏‏نُحَاسٌ» کہتے ہیں دھویں کو، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔ ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «شواظ» سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا۔ اور «‏‏‏‏نُحَاسٌ» کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:597/11] ‏‏‏‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «نُحَاسٌ» سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے، تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو، نہ انہیں دفع کر سکتے ہو، نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے؟۔
35۔ 1 مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت والے دن کہیں بھاگ کر گئے، تو فرشتے آگ کے شعلے اور دھواں تم پر چھوڑ کر یا پگھلا ہوا تانبہ تمہارے سروں پر ڈال کر تمہیں واپس لے آئیں گے۔ نحاس کے دوسرے معنی پگھلے ہوئے تانبے کے کئے گئے ہیں۔ 35۔ 2 یعنی اللہ کے عذاب کو ٹالنے کی تم قدرت نہیں رکھو گے۔
(آیت 35) {يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ …:” شُوَاظٌ “} آگ کا شعلہ جس میں دھواں نہ ہو اور {” نُحَاسٌ “} دھواں۔ {” نُحَاسٌ “} کا معنی تانبا بھی ہے، مراد پگھلا ہوا تانبا ہے۔ {” اِنْتَصَرَ يَنْتَصِرُ اِنْتِصَارًا “} اپنا بچاؤ کرنا، انتقام لینا۔ یعنی تم ہمارے قبضے سے کسی صورت بھی نکل کر بھاگ نہیں سکتے، اگر تم یہ ارادہ کرو گے تو تم پر خالص آگ کے شعلے برسائے جائیں گے، جو تمھیں جلا کر بھسم کر دیں گے اور دھواں جو تمھارے سانس تک بند کر دے گا، پھر نہ تم اپنا بچاؤ کر سکو گے اور نہ کسی طرح انتقام لے سکو گے۔ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تم پر آگ کے شعلوں کے ساتھ پگھلا ہوا تانبا پھینکا جائے گا، جو دونوں تمھیں جلا کر راکھ بنا دیں گے۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بطور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آ گیا ہے، اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے، اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا۔ محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے، جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نپٹنے کو نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ «الثَّقَلَان» سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے «‏‏‏‏ثقلین» کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے۔ [صحیح بخاری:1338] ‏‏‏‏ اور حدیث «صور» میں صاف ہے کہ «ثقلین» یعنی جن و انس، پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو؟ اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہٰ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الٰہی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ» * «كَلَّا لَا وَزَرَ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [75-القيامة:10-12] ‏‏‏‏ ’ انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [10-یونس:27] ‏‏‏‏ یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔ «شُوَاظٌ» کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کے اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے۔ «‏‏‏‏نُحَاسٌ» کہتے ہیں دھویں کو، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔ ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «شواظ» سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا۔ اور «‏‏‏‏نُحَاسٌ» کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:597/11] ‏‏‏‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «نُحَاسٌ» سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے، تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو، نہ انہیں دفع کر سکتے ہو، نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے؟۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ وَرۡدَۃً کَالدِّہَانِ ﴿ۚ۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر (کیا بنے گی اُس وقت) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جائے گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جب کہ آسمان پھٹ کر سرخ ہو جائے جیسے کہ سرخ چمڑه
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب آسمان پھٹ ائے گا تو گلاب کے پھول کا سا ہوجائے گا جیسے سرخ نری (بکرے کی رنگی ہوئی کھال)
علامہ محمد حسین نجفی
(اس وقت کیا حالت ہوگی) جب آسمان پھٹ جائے گا اور (رنگے ہوئے) سرخ چمڑے کی طرح لال ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب آسمان پھٹ جائے گا، تو وہ سرخ چمڑے کی طرح گلابی ہو جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے: «وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ» [69-الحاقة: 16] ایک اور جگہ ہے: «وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا» [25-الفرقان: 25] اور فرمان ہے: «إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ» [84-الانشقاق: 1] وغیرہ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہو جائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح برستا ہوگا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سرخ چمڑے کی طرح ہو جائے گا۔ ایک روایت میں گلابی رنگ گھوڑے کے رنگ جیسا آسمان کا رنگ ہو جائے گا۔ ابو صالح فرماتے ہیں: پہلے گلابی رنگ ہوگا پھر سرخ ہو جائے گا۔ گلابی رنگ گھوڑے کا رنگ موسم بہار میں تو زردی مائل نظر آتا ہے اور جاڑے میں بدل کر سرخ جچتا ہے جوں جوں سردی بڑھتی ہے اس کا رنگ متغیر ہوتا جاتا ہے۔ اسی طرح آسمان بھی رنگ پر رنگ بدلے گا پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔ جیسے روغن گلاب کا رنگ ہوتا ہے اس رنگ کا آسمان ہوجائے گا آج وہ سبز رنگ ہے لیکن اس دن اس کا رنگ سرخی لئے ہوئے ہوگا زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے گا۔ جہنم کی آگ تپش اسے پگھلا کر تیل جیسا کر دے گی۔ اس دن کسی مجرم سے اس کا جرم نہ پوچھا جائے گا، جیسے ایک اور آیت میں ہے: «هَٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ» ‎ [77-المرسلات: 35] یہ وہ دن ہے کہ بات نہ کریں گے نہ انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر معذرت کریں۔ ہاں اور آیات میں ان کا بولنا عذر کرنا ان سے حساب لیا جانا وغیرہ بھی بیان ہوا ہے، فرمان ہے: «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ» [15-الحجر: 92] تیرے رب کی قسم ہم سب سے سوال کریں گے اور ان کے تمام کاموں کی پرسش کریں گے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ایک موقعہ پر یہ ہے پرسش ہوئی حساب کتاب ہوا عذر معذرت ختم کر دی گئی اب منہ پر مہر لگ گئی ہاتھ پاؤں اور اعضاء جسم نے گواہی دی پھر پوچھ گچھ کی ضرورت نہ رہی عذر معذرت توڑ دی گئی۔ اور یہ تطبیق بھی ہے کہ کسی سے نہ پوچھا جائے گا کہ فلاں عمل کیا؟ یا نہیں کیا؟ کیونکہ اللہ کو جو خوب معلوم ہے اس سے جو سوال ہوگا وہ یہ کہ ایسا کیوں کیا؟ تیسرا قول یہ ہے کہ فرشتے پوچھیں گے نہیں وہ تو چہرہ دیکھتے ہی پہچان لیں گے اور جہنمی کو زنجیروں میں باندھ کر اوندھے گھسیٹ کر جہنم واصل کر دیں گے جیسے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ گنہگار اپنے چہروں اور اپنی خاص علامتوں سے پہچان لئے جائیں گے چہرے سیاہ ہوں گے آنکھیں کیری ہوں گی ٹھیک اسی طرح مومنوں کے چہرے بھی الگ ممتاز ہوں گے۔ ان کے اعضائے وضو چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ گنہگاروں کو پیشانیوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا جس طرح بڑی لکڑی کو دو طرف سے پکڑ کر تنور میں جھونک دیا جاتا ہے پیٹھ کی طرف زنجیر لا کر گردن اور پاؤں ایک کر کے باندھ دیے جائیں گے۔ کمر توڑ دی جائے گی اور قدم اور پیشانی ملا دیجائے گی اور جکڑ دیا جائے گا۔ مسند احمد میں ہے: قبیلہ بنو کندہ کا ایک شخص مائی عائشہ کے پاس گیا۔ پردے کے پیچھے بیٹھا اور ام المومنین سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے کہ کس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی شخص کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا؟ ام المومنین نے جواب دیا: ہاں! ایک مرتبہ ایک ہی کپڑے میں ہم دونوں تھے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جب کہ پل صراط رکھا جائے گا اس وقت مجھے کسی کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا یہاں تک کہ میں جان لوں کہ خود مجھے کہاں لے جاتے ہیں؟ اور جس وقت کہ چہرے سفید ہونے شروع ہوں گے یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ یا فرمایا: یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ مجھ پر کیا وحی بھیجی جاتی ہے؟ اور جب جہنم پر پل رکھا جائیگا اور اسے تیز اور گرم کیا جائے گا میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی تیزی اور گرمی کی کیا حد ہے؟ فرمایا: تلوار کی دھار جیسا تیز ہوگا اور آگ کے انگارے جیسا گرم ہو گا مومن تو بےضرر گذر جائے گا اور منافق لٹک جائے گا جب بیچ میں پہنچے گا اس کے قدم پھسل جائیں گے یہ اپنے ہاتھ اپنے پیروں کی طرف جھکائے گا جس طرح کوئی ننگے پاؤں چل رہا ہو اور اسے کانٹا لگ جائے اور اس زور کا لگے کہ گویا کہ اس نے اس کا پاؤں چھید دیا تو کس طرح بےصبری اور جلدی سے وہ سر اور ہاتھ جھکا کر اس کی طرف جھک پڑتا ہے اسی طرح یہ جھکے گا ادھر یہ جھکا ادھر داروغہ جہنم کی آگ میں گرا دے گا جس میں تقریباً پچاس پچاس سال تک وہ گہرا اترتا جائے گا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ جہنمی کس قدر بوجھل ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مثل دس گابھن اونٹنیوں کے وزن کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے بعض فقروں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں ایک شخص ہے جس کا نام بھی نیچے راوی نے نہیں لیا۔ اس جیسی دلیلیں صحت کے قابل نہیں ہوتیں۔ «والله اعلم» ان گنہگاروں سے کہا جائے گا کہ لو جس جہنم کا تم انکار کرتے تھے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو یہ انہیں بطور رسوا اور ذلیل کرنے شرمندہ اور نادم کرنے ان کی خفت بڑھانے کے لئے کہا جائے گا پھر ان کی یہ حالت ہوگی کہ کبھی آگ کا عذاب ہو رہا ہے کبھی پانی کا۔ کبھی جحیم میں جلائے جاتے ہیں اور کبھی حمیم پلائے جاتے ہیں۔ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح محض آگ ہے جو آنتوں کو کاٹ دیتی ہے اور جگہ ہے: «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ» [40-غافر: 71] جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی وہ حمیم سے جحیم میں گھسیٹے جائیں گے اور بار بار یہ جلائے جائیں گے۔ یہ گرم پانی حد درجہ کا گرم ہوگا بس یوں کہنا ٹھیک ہے کہ وہ بھی جہنم کی آگ ہی ہے جو پانی کی صورت میں ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش کے وقت سے آج تک وہ گرم کیا جا رہا ہے۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں: بدکار شخص کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے اس گرم پانی میں ایک غوطہ دیا جائے گا تمام گوشت گل جائے گا اور ہڈیوں کو چھوڑ دے گا۔ بس دو آنکھیں اور ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا، اسی کو فرمایا: «فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر: 72] ان کے معنی حاضر کے بھی کئے گئے ہیں اور آیت میں ہے: «تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ» [88-الغاشية: 5] سخت گرم موجود پانی کی نہر سے انہیں پانی پلایا جائے گا جو ہرگز نہ پی سکیں گے کیونکہ وہ بےانتہا گرم بلکہ مثل آگ کے ہے۔ قرآن کریم میں اور جگہ ہے: «غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ» [33-الأحزاب: 53] وہاں مراد تیاری اور پک جانا ہے۔ چونکہ بدکاروں کی سزا اور نیک کاروں کی جزا بھی اس کا فضل و رحمت اور عدل و لطف ہے اپنے ان عذابوں کا قبل از وقت بیان کر دینا تاکہ شرک و معاصی کے کرنے والے ہوشیار ہو جائیں یہ بھی اس کی نعمت ہے اس لئے فرمایا: پھر تم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے۔
37۔ 1 قیامت والے دن آسمان پھٹ پڑے گا، فرشتے زمین پر اتر آئیں گے، اس دن یہ نار جہنم کی شدت حرارت سے پگھل کر سرخ چمڑے کی طرح ہوجائے گا۔ دِھَان سرخ چمڑا۔
(آیت 37) {فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ …: ” وَرْدَةً “} گلاب کے پھول کی طرح گلابی۔{”اَلدِّهَانُ“} میں علماء کے دو قول ہیں، ایک سرخ چمڑا اور دوسرا ”تیل “جو ملا جاتا ہے۔ اس معنی میں بعض کہتے ہیں: {”اَلدِّهَانُ“ ”دُهْنٌ“} کی جمع ہے اور بعض کہتے ہیں مفرد ہے۔ تیل کو {” دُهْنٌ“} بھی کہتے ہیں اور {”دِهَانٌ“} بھی۔ {” فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حاقہ (۱۶)، فرقان (۲۵) اور سورۂ انشقاق(2،1)۔ اگر {”اَلدِّهَانُ“} کا معنی سرخ چمڑا کریں تو اس وقت آیت میں آسمان کے ایک وصف کا بیان ہے کہ آسمان جو آج نیلگوں ہے اس وقت سرخ چمڑے کی طرح لال گلابی ہو جائے گا اور اگر {”اَلدِّهَانُ“} کا معنی تیل کیا جائے تو آیت میں آسمان کے پھٹنے کے وقت اس کے دو وصفوں کا بیان ہو گا، ایک یہ کہ وہ حرارت کی شدت سے سرخ ہو گا اور دوسرا یہ کہ پگھل کر تیل کی طرح ہو جائے گا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِ» ‏‏‏‏ [ المعارج: ۸ ] ”جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے (یا تلچھٹ) کی طرح ہو جائے گا۔“ (شنقیطی)
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے جن و انس (اُس وقت) تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے: «وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ» [69-الحاقة: 16] ایک اور جگہ ہے: «وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا» [25-الفرقان: 25] اور فرمان ہے: «إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ» [84-الانشقاق: 1] وغیرہ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہو جائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح برستا ہوگا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سرخ چمڑے کی طرح ہو جائے گا۔ ایک روایت میں گلابی رنگ گھوڑے کے رنگ جیسا آسمان کا رنگ ہو جائے گا۔ ابو صالح فرماتے ہیں: پہلے گلابی رنگ ہوگا پھر سرخ ہو جائے گا۔ گلابی رنگ گھوڑے کا رنگ موسم بہار میں تو زردی مائل نظر آتا ہے اور جاڑے میں بدل کر سرخ جچتا ہے جوں جوں سردی بڑھتی ہے اس کا رنگ متغیر ہوتا جاتا ہے۔ اسی طرح آسمان بھی رنگ پر رنگ بدلے گا پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔ جیسے روغن گلاب کا رنگ ہوتا ہے اس رنگ کا آسمان ہوجائے گا آج وہ سبز رنگ ہے لیکن اس دن اس کا رنگ سرخی لئے ہوئے ہوگا زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے گا۔ جہنم کی آگ تپش اسے پگھلا کر تیل جیسا کر دے گی۔ اس دن کسی مجرم سے اس کا جرم نہ پوچھا جائے گا، جیسے ایک اور آیت میں ہے: «هَٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ» ‎ [77-المرسلات: 35] یہ وہ دن ہے کہ بات نہ کریں گے نہ انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر معذرت کریں۔ ہاں اور آیات میں ان کا بولنا عذر کرنا ان سے حساب لیا جانا وغیرہ بھی بیان ہوا ہے، فرمان ہے: «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ» [15-الحجر: 92] تیرے رب کی قسم ہم سب سے سوال کریں گے اور ان کے تمام کاموں کی پرسش کریں گے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ایک موقعہ پر یہ ہے پرسش ہوئی حساب کتاب ہوا عذر معذرت ختم کر دی گئی اب منہ پر مہر لگ گئی ہاتھ پاؤں اور اعضاء جسم نے گواہی دی پھر پوچھ گچھ کی ضرورت نہ رہی عذر معذرت توڑ دی گئی۔ اور یہ تطبیق بھی ہے کہ کسی سے نہ پوچھا جائے گا کہ فلاں عمل کیا؟ یا نہیں کیا؟ کیونکہ اللہ کو جو خوب معلوم ہے اس سے جو سوال ہوگا وہ یہ کہ ایسا کیوں کیا؟ تیسرا قول یہ ہے کہ فرشتے پوچھیں گے نہیں وہ تو چہرہ دیکھتے ہی پہچان لیں گے اور جہنمی کو زنجیروں میں باندھ کر اوندھے گھسیٹ کر جہنم واصل کر دیں گے جیسے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ گنہگار اپنے چہروں اور اپنی خاص علامتوں سے پہچان لئے جائیں گے چہرے سیاہ ہوں گے آنکھیں کیری ہوں گی ٹھیک اسی طرح مومنوں کے چہرے بھی الگ ممتاز ہوں گے۔ ان کے اعضائے وضو چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ گنہگاروں کو پیشانیوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا جس طرح بڑی لکڑی کو دو طرف سے پکڑ کر تنور میں جھونک دیا جاتا ہے پیٹھ کی طرف زنجیر لا کر گردن اور پاؤں ایک کر کے باندھ دیے جائیں گے۔ کمر توڑ دی جائے گی اور قدم اور پیشانی ملا دیجائے گی اور جکڑ دیا جائے گا۔ مسند احمد میں ہے: قبیلہ بنو کندہ کا ایک شخص مائی عائشہ کے پاس گیا۔ پردے کے پیچھے بیٹھا اور ام المومنین سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے کہ کس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی شخص کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا؟ ام المومنین نے جواب دیا: ہاں! ایک مرتبہ ایک ہی کپڑے میں ہم دونوں تھے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جب کہ پل صراط رکھا جائے گا اس وقت مجھے کسی کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا یہاں تک کہ میں جان لوں کہ خود مجھے کہاں لے جاتے ہیں؟ اور جس وقت کہ چہرے سفید ہونے شروع ہوں گے یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ یا فرمایا: یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ مجھ پر کیا وحی بھیجی جاتی ہے؟ اور جب جہنم پر پل رکھا جائیگا اور اسے تیز اور گرم کیا جائے گا میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی تیزی اور گرمی کی کیا حد ہے؟ فرمایا: تلوار کی دھار جیسا تیز ہوگا اور آگ کے انگارے جیسا گرم ہو گا مومن تو بےضرر گذر جائے گا اور منافق لٹک جائے گا جب بیچ میں پہنچے گا اس کے قدم پھسل جائیں گے یہ اپنے ہاتھ اپنے پیروں کی طرف جھکائے گا جس طرح کوئی ننگے پاؤں چل رہا ہو اور اسے کانٹا لگ جائے اور اس زور کا لگے کہ گویا کہ اس نے اس کا پاؤں چھید دیا تو کس طرح بےصبری اور جلدی سے وہ سر اور ہاتھ جھکا کر اس کی طرف جھک پڑتا ہے اسی طرح یہ جھکے گا ادھر یہ جھکا ادھر داروغہ جہنم کی آگ میں گرا دے گا جس میں تقریباً پچاس پچاس سال تک وہ گہرا اترتا جائے گا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ جہنمی کس قدر بوجھل ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مثل دس گابھن اونٹنیوں کے وزن کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے بعض فقروں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں ایک شخص ہے جس کا نام بھی نیچے راوی نے نہیں لیا۔ اس جیسی دلیلیں صحت کے قابل نہیں ہوتیں۔ «والله اعلم» ان گنہگاروں سے کہا جائے گا کہ لو جس جہنم کا تم انکار کرتے تھے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو یہ انہیں بطور رسوا اور ذلیل کرنے شرمندہ اور نادم کرنے ان کی خفت بڑھانے کے لئے کہا جائے گا پھر ان کی یہ حالت ہوگی کہ کبھی آگ کا عذاب ہو رہا ہے کبھی پانی کا۔ کبھی جحیم میں جلائے جاتے ہیں اور کبھی حمیم پلائے جاتے ہیں۔ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح محض آگ ہے جو آنتوں کو کاٹ دیتی ہے اور جگہ ہے: «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ» [40-غافر: 71] جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی وہ حمیم سے جحیم میں گھسیٹے جائیں گے اور بار بار یہ جلائے جائیں گے۔ یہ گرم پانی حد درجہ کا گرم ہوگا بس یوں کہنا ٹھیک ہے کہ وہ بھی جہنم کی آگ ہی ہے جو پانی کی صورت میں ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش کے وقت سے آج تک وہ گرم کیا جا رہا ہے۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں: بدکار شخص کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے اس گرم پانی میں ایک غوطہ دیا جائے گا تمام گوشت گل جائے گا اور ہڈیوں کو چھوڑ دے گا۔ بس دو آنکھیں اور ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا، اسی کو فرمایا: «فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر: 72] ان کے معنی حاضر کے بھی کئے گئے ہیں اور آیت میں ہے: «تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ» [88-الغاشية: 5] سخت گرم موجود پانی کی نہر سے انہیں پانی پلایا جائے گا جو ہرگز نہ پی سکیں گے کیونکہ وہ بےانتہا گرم بلکہ مثل آگ کے ہے۔ قرآن کریم میں اور جگہ ہے: «غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ» [33-الأحزاب: 53] وہاں مراد تیاری اور پک جانا ہے۔ چونکہ بدکاروں کی سزا اور نیک کاروں کی جزا بھی اس کا فضل و رحمت اور عدل و لطف ہے اپنے ان عذابوں کا قبل از وقت بیان کر دینا تاکہ شرک و معاصی کے کرنے والے ہوشیار ہو جائیں یہ بھی اس کی نعمت ہے اس لئے فرمایا: پھر تم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یُسۡـَٔلُ عَنۡ ذَنۡۢبِہٖۤ اِنۡسٌ وَّ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس روز کسی انسان اور کسی جن سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن کسی انسان اورکسی جن سے اس کے گناہوں کی پرسش نہ کی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
تو اس دن گنہگار کے گناہ کی پوچھ نہ ہوگی کسی آدمی اور جِن سے
علامہ محمد حسین نجفی
پس اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس دن نہ کسی انسان سے اس کے گناہ کے متعلق پوچھا جائے گا اور نہ کسی جنّ سے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے: «وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ» [69-الحاقة: 16] ایک اور جگہ ہے: «وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا» [25-الفرقان: 25] اور فرمان ہے: «إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ» [84-الانشقاق: 1] وغیرہ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہو جائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح برستا ہوگا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سرخ چمڑے کی طرح ہو جائے گا۔ ایک روایت میں گلابی رنگ گھوڑے کے رنگ جیسا آسمان کا رنگ ہو جائے گا۔ ابو صالح فرماتے ہیں: پہلے گلابی رنگ ہوگا پھر سرخ ہو جائے گا۔ گلابی رنگ گھوڑے کا رنگ موسم بہار میں تو زردی مائل نظر آتا ہے اور جاڑے میں بدل کر سرخ جچتا ہے جوں جوں سردی بڑھتی ہے اس کا رنگ متغیر ہوتا جاتا ہے۔ اسی طرح آسمان بھی رنگ پر رنگ بدلے گا پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔ جیسے روغن گلاب کا رنگ ہوتا ہے اس رنگ کا آسمان ہوجائے گا آج وہ سبز رنگ ہے لیکن اس دن اس کا رنگ سرخی لئے ہوئے ہوگا زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے گا۔ جہنم کی آگ تپش اسے پگھلا کر تیل جیسا کر دے گی۔ اس دن کسی مجرم سے اس کا جرم نہ پوچھا جائے گا، جیسے ایک اور آیت میں ہے: «هَٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ» ‎ [77-المرسلات: 35] یہ وہ دن ہے کہ بات نہ کریں گے نہ انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر معذرت کریں۔ ہاں اور آیات میں ان کا بولنا عذر کرنا ان سے حساب لیا جانا وغیرہ بھی بیان ہوا ہے، فرمان ہے: «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ» [15-الحجر: 92] تیرے رب کی قسم ہم سب سے سوال کریں گے اور ان کے تمام کاموں کی پرسش کریں گے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ایک موقعہ پر یہ ہے پرسش ہوئی حساب کتاب ہوا عذر معذرت ختم کر دی گئی اب منہ پر مہر لگ گئی ہاتھ پاؤں اور اعضاء جسم نے گواہی دی پھر پوچھ گچھ کی ضرورت نہ رہی عذر معذرت توڑ دی گئی۔ اور یہ تطبیق بھی ہے کہ کسی سے نہ پوچھا جائے گا کہ فلاں عمل کیا؟ یا نہیں کیا؟ کیونکہ اللہ کو جو خوب معلوم ہے اس سے جو سوال ہوگا وہ یہ کہ ایسا کیوں کیا؟ تیسرا قول یہ ہے کہ فرشتے پوچھیں گے نہیں وہ تو چہرہ دیکھتے ہی پہچان لیں گے اور جہنمی کو زنجیروں میں باندھ کر اوندھے گھسیٹ کر جہنم واصل کر دیں گے جیسے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ گنہگار اپنے چہروں اور اپنی خاص علامتوں سے پہچان لئے جائیں گے چہرے سیاہ ہوں گے آنکھیں کیری ہوں گی ٹھیک اسی طرح مومنوں کے چہرے بھی الگ ممتاز ہوں گے۔ ان کے اعضائے وضو چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ گنہگاروں کو پیشانیوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا جس طرح بڑی لکڑی کو دو طرف سے پکڑ کر تنور میں جھونک دیا جاتا ہے پیٹھ کی طرف زنجیر لا کر گردن اور پاؤں ایک کر کے باندھ دیے جائیں گے۔ کمر توڑ دی جائے گی اور قدم اور پیشانی ملا دیجائے گی اور جکڑ دیا جائے گا۔ مسند احمد میں ہے: قبیلہ بنو کندہ کا ایک شخص مائی عائشہ کے پاس گیا۔ پردے کے پیچھے بیٹھا اور ام المومنین سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے کہ کس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی شخص کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا؟ ام المومنین نے جواب دیا: ہاں! ایک مرتبہ ایک ہی کپڑے میں ہم دونوں تھے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جب کہ پل صراط رکھا جائے گا اس وقت مجھے کسی کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا یہاں تک کہ میں جان لوں کہ خود مجھے کہاں لے جاتے ہیں؟ اور جس وقت کہ چہرے سفید ہونے شروع ہوں گے یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ یا فرمایا: یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ مجھ پر کیا وحی بھیجی جاتی ہے؟ اور جب جہنم پر پل رکھا جائیگا اور اسے تیز اور گرم کیا جائے گا میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی تیزی اور گرمی کی کیا حد ہے؟ فرمایا: تلوار کی دھار جیسا تیز ہوگا اور آگ کے انگارے جیسا گرم ہو گا مومن تو بےضرر گذر جائے گا اور منافق لٹک جائے گا جب بیچ میں پہنچے گا اس کے قدم پھسل جائیں گے یہ اپنے ہاتھ اپنے پیروں کی طرف جھکائے گا جس طرح کوئی ننگے پاؤں چل رہا ہو اور اسے کانٹا لگ جائے اور اس زور کا لگے کہ گویا کہ اس نے اس کا پاؤں چھید دیا تو کس طرح بےصبری اور جلدی سے وہ سر اور ہاتھ جھکا کر اس کی طرف جھک پڑتا ہے اسی طرح یہ جھکے گا ادھر یہ جھکا ادھر داروغہ جہنم کی آگ میں گرا دے گا جس میں تقریباً پچاس پچاس سال تک وہ گہرا اترتا جائے گا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ جہنمی کس قدر بوجھل ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مثل دس گابھن اونٹنیوں کے وزن کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے بعض فقروں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں ایک شخص ہے جس کا نام بھی نیچے راوی نے نہیں لیا۔ اس جیسی دلیلیں صحت کے قابل نہیں ہوتیں۔ «والله اعلم» ان گنہگاروں سے کہا جائے گا کہ لو جس جہنم کا تم انکار کرتے تھے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو یہ انہیں بطور رسوا اور ذلیل کرنے شرمندہ اور نادم کرنے ان کی خفت بڑھانے کے لئے کہا جائے گا پھر ان کی یہ حالت ہوگی کہ کبھی آگ کا عذاب ہو رہا ہے کبھی پانی کا۔ کبھی جحیم میں جلائے جاتے ہیں اور کبھی حمیم پلائے جاتے ہیں۔ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح محض آگ ہے جو آنتوں کو کاٹ دیتی ہے اور جگہ ہے: «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ» [40-غافر: 71] جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی وہ حمیم سے جحیم میں گھسیٹے جائیں گے اور بار بار یہ جلائے جائیں گے۔ یہ گرم پانی حد درجہ کا گرم ہوگا بس یوں کہنا ٹھیک ہے کہ وہ بھی جہنم کی آگ ہی ہے جو پانی کی صورت میں ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش کے وقت سے آج تک وہ گرم کیا جا رہا ہے۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں: بدکار شخص کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے اس گرم پانی میں ایک غوطہ دیا جائے گا تمام گوشت گل جائے گا اور ہڈیوں کو چھوڑ دے گا۔ بس دو آنکھیں اور ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا، اسی کو فرمایا: «فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر: 72] ان کے معنی حاضر کے بھی کئے گئے ہیں اور آیت میں ہے: «تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ» [88-الغاشية: 5] سخت گرم موجود پانی کی نہر سے انہیں پانی پلایا جائے گا جو ہرگز نہ پی سکیں گے کیونکہ وہ بےانتہا گرم بلکہ مثل آگ کے ہے۔ قرآن کریم میں اور جگہ ہے: «غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ» [33-الأحزاب: 53] وہاں مراد تیاری اور پک جانا ہے۔ چونکہ بدکاروں کی سزا اور نیک کاروں کی جزا بھی اس کا فضل و رحمت اور عدل و لطف ہے اپنے ان عذابوں کا قبل از وقت بیان کر دینا تاکہ شرک و معاصی کے کرنے والے ہوشیار ہو جائیں یہ بھی اس کی نعمت ہے اس لئے فرمایا: پھر تم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے۔
39۔ 1 یعنی جس وقت وہ قبروں سے باہر نکلیں گے۔ ورنہ بعد میں موقف حساب میں ان سے باز پرس کی جائے گی، بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ گناہوں کی بابت نہیں پوچھا جائے گا، کیونکہ انکا تو پورا ریکارڈ فرشتوں کے پاس بھی ہوگا اور اللہ کے علم میں بھی۔ البتہ پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ کیوں کیے؟، یا یہ مطلب ہے، ان سے نہیں پوچھا جائے گا بلکہ انسانی اعضا خود بول کر بتلائیں گے۔
(آیت 39) {فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّ:} یعنی اس دن یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کون مجرم ہے اور اس نے کیا گناہ کیا ہے، کسی انسان یا جن سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں ہو گی، کیونکہ تمام مجرم اپنی علامت ہی سے پہچانے جائیں گے، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے: «‏‏‏‏يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰهُمْ» ‏‏‏‏ ”مجرم اپنی علامت سے پہچانے جائیں گے۔“ اور جیساکہ سورئہ قصص میں فرمایا: «وَ لَا يُسْـَٔلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ القصص:۷۸] ”اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔“ ہاں ڈانٹنے، ذلیل کرنے اور ملامت کرنے کے لیے ضرور پوچھا جائے گا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ (92) عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الحجر: ۹۲،۹۳ ] ”سو تیرے رب کی قسم ہے! یقینا ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے۔ اس کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْـُٔوْلُوْنَ» [ الصافات:۲۴ ] ”اور انھیں ٹھہراؤ، بے شک یہ سوال کیے جانے والے ہیں۔ “
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے: «وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ» [69-الحاقة: 16] ایک اور جگہ ہے: «وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا» [25-الفرقان: 25] اور فرمان ہے: «إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ» [84-الانشقاق: 1] وغیرہ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہو جائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح برستا ہوگا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سرخ چمڑے کی طرح ہو جائے گا۔ ایک روایت میں گلابی رنگ گھوڑے کے رنگ جیسا آسمان کا رنگ ہو جائے گا۔ ابو صالح فرماتے ہیں: پہلے گلابی رنگ ہوگا پھر سرخ ہو جائے گا۔ گلابی رنگ گھوڑے کا رنگ موسم بہار میں تو زردی مائل نظر آتا ہے اور جاڑے میں بدل کر سرخ جچتا ہے جوں جوں سردی بڑھتی ہے اس کا رنگ متغیر ہوتا جاتا ہے۔ اسی طرح آسمان بھی رنگ پر رنگ بدلے گا پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔ جیسے روغن گلاب کا رنگ ہوتا ہے اس رنگ کا آسمان ہوجائے گا آج وہ سبز رنگ ہے لیکن اس دن اس کا رنگ سرخی لئے ہوئے ہوگا زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے گا۔ جہنم کی آگ تپش اسے پگھلا کر تیل جیسا کر دے گی۔ اس دن کسی مجرم سے اس کا جرم نہ پوچھا جائے گا، جیسے ایک اور آیت میں ہے: «هَٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ» ‎ [77-المرسلات: 35] یہ وہ دن ہے کہ بات نہ کریں گے نہ انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر معذرت کریں۔ ہاں اور آیات میں ان کا بولنا عذر کرنا ان سے حساب لیا جانا وغیرہ بھی بیان ہوا ہے، فرمان ہے: «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ» [15-الحجر: 92] تیرے رب کی قسم ہم سب سے سوال کریں گے اور ان کے تمام کاموں کی پرسش کریں گے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ایک موقعہ پر یہ ہے پرسش ہوئی حساب کتاب ہوا عذر معذرت ختم کر دی گئی اب منہ پر مہر لگ گئی ہاتھ پاؤں اور اعضاء جسم نے گواہی دی پھر پوچھ گچھ کی ضرورت نہ رہی عذر معذرت توڑ دی گئی۔ اور یہ تطبیق بھی ہے کہ کسی سے نہ پوچھا جائے گا کہ فلاں عمل کیا؟ یا نہیں کیا؟ کیونکہ اللہ کو جو خوب معلوم ہے اس سے جو سوال ہوگا وہ یہ کہ ایسا کیوں کیا؟ تیسرا قول یہ ہے کہ فرشتے پوچھیں گے نہیں وہ تو چہرہ دیکھتے ہی پہچان لیں گے اور جہنمی کو زنجیروں میں باندھ کر اوندھے گھسیٹ کر جہنم واصل کر دیں گے جیسے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ گنہگار اپنے چہروں اور اپنی خاص علامتوں سے پہچان لئے جائیں گے چہرے سیاہ ہوں گے آنکھیں کیری ہوں گی ٹھیک اسی طرح مومنوں کے چہرے بھی الگ ممتاز ہوں گے۔ ان کے اعضائے وضو چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ گنہگاروں کو پیشانیوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا جس طرح بڑی لکڑی کو دو طرف سے پکڑ کر تنور میں جھونک دیا جاتا ہے پیٹھ کی طرف زنجیر لا کر گردن اور پاؤں ایک کر کے باندھ دیے جائیں گے۔ کمر توڑ دی جائے گی اور قدم اور پیشانی ملا دیجائے گی اور جکڑ دیا جائے گا۔ مسند احمد میں ہے: قبیلہ بنو کندہ کا ایک شخص مائی عائشہ کے پاس گیا۔ پردے کے پیچھے بیٹھا اور ام المومنین سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے کہ کس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی شخص کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا؟ ام المومنین نے جواب دیا: ہاں! ایک مرتبہ ایک ہی کپڑے میں ہم دونوں تھے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جب کہ پل صراط رکھا جائے گا اس وقت مجھے کسی کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا یہاں تک کہ میں جان لوں کہ خود مجھے کہاں لے جاتے ہیں؟ اور جس وقت کہ چہرے سفید ہونے شروع ہوں گے یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ یا فرمایا: یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ مجھ پر کیا وحی بھیجی جاتی ہے؟ اور جب جہنم پر پل رکھا جائیگا اور اسے تیز اور گرم کیا جائے گا میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی تیزی اور گرمی کی کیا حد ہے؟ فرمایا: تلوار کی دھار جیسا تیز ہوگا اور آگ کے انگارے جیسا گرم ہو گا مومن تو بےضرر گذر جائے گا اور منافق لٹک جائے گا جب بیچ میں پہنچے گا اس کے قدم پھسل جائیں گے یہ اپنے ہاتھ اپنے پیروں کی طرف جھکائے گا جس طرح کوئی ننگے پاؤں چل رہا ہو اور اسے کانٹا لگ جائے اور اس زور کا لگے کہ گویا کہ اس نے اس کا پاؤں چھید دیا تو کس طرح بےصبری اور جلدی سے وہ سر اور ہاتھ جھکا کر اس کی طرف جھک پڑتا ہے اسی طرح یہ جھکے گا ادھر یہ جھکا ادھر داروغہ جہنم کی آگ میں گرا دے گا جس میں تقریباً پچاس پچاس سال تک وہ گہرا اترتا جائے گا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ جہنمی کس قدر بوجھل ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مثل دس گابھن اونٹنیوں کے وزن کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے بعض فقروں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں ایک شخص ہے جس کا نام بھی نیچے راوی نے نہیں لیا۔ اس جیسی دلیلیں صحت کے قابل نہیں ہوتیں۔ «والله اعلم» ان گنہگاروں سے کہا جائے گا کہ لو جس جہنم کا تم انکار کرتے تھے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو یہ انہیں بطور رسوا اور ذلیل کرنے شرمندہ اور نادم کرنے ان کی خفت بڑھانے کے لئے کہا جائے گا پھر ان کی یہ حالت ہوگی کہ کبھی آگ کا عذاب ہو رہا ہے کبھی پانی کا۔ کبھی جحیم میں جلائے جاتے ہیں اور کبھی حمیم پلائے جاتے ہیں۔ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح محض آگ ہے جو آنتوں کو کاٹ دیتی ہے اور جگہ ہے: «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ» [40-غافر: 71] جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی وہ حمیم سے جحیم میں گھسیٹے جائیں گے اور بار بار یہ جلائے جائیں گے۔ یہ گرم پانی حد درجہ کا گرم ہوگا بس یوں کہنا ٹھیک ہے کہ وہ بھی جہنم کی آگ ہی ہے جو پانی کی صورت میں ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش کے وقت سے آج تک وہ گرم کیا جا رہا ہے۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں: بدکار شخص کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے اس گرم پانی میں ایک غوطہ دیا جائے گا تمام گوشت گل جائے گا اور ہڈیوں کو چھوڑ دے گا۔ بس دو آنکھیں اور ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا، اسی کو فرمایا: «فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر: 72] ان کے معنی حاضر کے بھی کئے گئے ہیں اور آیت میں ہے: «تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ» [88-الغاشية: 5] سخت گرم موجود پانی کی نہر سے انہیں پانی پلایا جائے گا جو ہرگز نہ پی سکیں گے کیونکہ وہ بےانتہا گرم بلکہ مثل آگ کے ہے۔ قرآن کریم میں اور جگہ ہے: «غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ» [33-الأحزاب: 53] وہاں مراد تیاری اور پک جانا ہے۔ چونکہ بدکاروں کی سزا اور نیک کاروں کی جزا بھی اس کا فضل و رحمت اور عدل و لطف ہے اپنے ان عذابوں کا قبل از وقت بیان کر دینا تاکہ شرک و معاصی کے کرنے والے ہوشیار ہو جائیں یہ بھی اس کی نعمت ہے اس لئے فرمایا: پھر تم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یُعۡرَفُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ بِسِیۡمٰہُمۡ فَیُؤۡخَذُ بِالنَّوَاصِیۡ وَ الۡاَقۡدَامِ ﴿ۚ۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
گناه گار صرف حلیہ ہی سے پہچان لیے جائیں گے اور ان کی پیشانیوں کے بال اور قدم پکڑ لیے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
مجرم اپنے چہرے سے پہچانے جائیں گے تو ماتھا اور پاؤں پکڑ کر جہنم میں ڈالے جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
مجرم اپنے چہروں (اپنی علامتوں) سے پہچان لئے جائیں گے اور پھر پیشانیوں اور پاؤں سے پکڑے جائیں گے (اور جہنم میں پھینک دئیے جائیں گے)۔
عبدالسلام بن محمد
مجرم اپنی علامت سے پہچانے جائیں گے، پھر پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے: «وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ» [69-الحاقة: 16] ایک اور جگہ ہے: «وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا» [25-الفرقان: 25] اور فرمان ہے: «إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ» [84-الانشقاق: 1] وغیرہ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہو جائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح برستا ہوگا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سرخ چمڑے کی طرح ہو جائے گا۔ ایک روایت میں گلابی رنگ گھوڑے کے رنگ جیسا آسمان کا رنگ ہو جائے گا۔ ابو صالح فرماتے ہیں: پہلے گلابی رنگ ہوگا پھر سرخ ہو جائے گا۔ گلابی رنگ گھوڑے کا رنگ موسم بہار میں تو زردی مائل نظر آتا ہے اور جاڑے میں بدل کر سرخ جچتا ہے جوں جوں سردی بڑھتی ہے اس کا رنگ متغیر ہوتا جاتا ہے۔ اسی طرح آسمان بھی رنگ پر رنگ بدلے گا پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔ جیسے روغن گلاب کا رنگ ہوتا ہے اس رنگ کا آسمان ہوجائے گا آج وہ سبز رنگ ہے لیکن اس دن اس کا رنگ سرخی لئے ہوئے ہوگا زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے گا۔ جہنم کی آگ تپش اسے پگھلا کر تیل جیسا کر دے گی۔ اس دن کسی مجرم سے اس کا جرم نہ پوچھا جائے گا، جیسے ایک اور آیت میں ہے: «هَٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ» ‎ [77-المرسلات: 35] یہ وہ دن ہے کہ بات نہ کریں گے نہ انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر معذرت کریں۔ ہاں اور آیات میں ان کا بولنا عذر کرنا ان سے حساب لیا جانا وغیرہ بھی بیان ہوا ہے، فرمان ہے: «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ» [15-الحجر: 92] تیرے رب کی قسم ہم سب سے سوال کریں گے اور ان کے تمام کاموں کی پرسش کریں گے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ایک موقعہ پر یہ ہے پرسش ہوئی حساب کتاب ہوا عذر معذرت ختم کر دی گئی اب منہ پر مہر لگ گئی ہاتھ پاؤں اور اعضاء جسم نے گواہی دی پھر پوچھ گچھ کی ضرورت نہ رہی عذر معذرت توڑ دی گئی۔ اور یہ تطبیق بھی ہے کہ کسی سے نہ پوچھا جائے گا کہ فلاں عمل کیا؟ یا نہیں کیا؟ کیونکہ اللہ کو جو خوب معلوم ہے اس سے جو سوال ہوگا وہ یہ کہ ایسا کیوں کیا؟ تیسرا قول یہ ہے کہ فرشتے پوچھیں گے نہیں وہ تو چہرہ دیکھتے ہی پہچان لیں گے اور جہنمی کو زنجیروں میں باندھ کر اوندھے گھسیٹ کر جہنم واصل کر دیں گے جیسے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ گنہگار اپنے چہروں اور اپنی خاص علامتوں سے پہچان لئے جائیں گے چہرے سیاہ ہوں گے آنکھیں کیری ہوں گی ٹھیک اسی طرح مومنوں کے چہرے بھی الگ ممتاز ہوں گے۔ ان کے اعضائے وضو چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ گنہگاروں کو پیشانیوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا جس طرح بڑی لکڑی کو دو طرف سے پکڑ کر تنور میں جھونک دیا جاتا ہے پیٹھ کی طرف زنجیر لا کر گردن اور پاؤں ایک کر کے باندھ دیے جائیں گے۔ کمر توڑ دی جائے گی اور قدم اور پیشانی ملا دیجائے گی اور جکڑ دیا جائے گا۔ مسند احمد میں ہے: قبیلہ بنو کندہ کا ایک شخص مائی عائشہ کے پاس گیا۔ پردے کے پیچھے بیٹھا اور ام المومنین سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے کہ کس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی شخص کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا؟ ام المومنین نے جواب دیا: ہاں! ایک مرتبہ ایک ہی کپڑے میں ہم دونوں تھے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جب کہ پل صراط رکھا جائے گا اس وقت مجھے کسی کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا یہاں تک کہ میں جان لوں کہ خود مجھے کہاں لے جاتے ہیں؟ اور جس وقت کہ چہرے سفید ہونے شروع ہوں گے یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ یا فرمایا: یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ مجھ پر کیا وحی بھیجی جاتی ہے؟ اور جب جہنم پر پل رکھا جائیگا اور اسے تیز اور گرم کیا جائے گا میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی تیزی اور گرمی کی کیا حد ہے؟ فرمایا: تلوار کی دھار جیسا تیز ہوگا اور آگ کے انگارے جیسا گرم ہو گا مومن تو بےضرر گذر جائے گا اور منافق لٹک جائے گا جب بیچ میں پہنچے گا اس کے قدم پھسل جائیں گے یہ اپنے ہاتھ اپنے پیروں کی طرف جھکائے گا جس طرح کوئی ننگے پاؤں چل رہا ہو اور اسے کانٹا لگ جائے اور اس زور کا لگے کہ گویا کہ اس نے اس کا پاؤں چھید دیا تو کس طرح بےصبری اور جلدی سے وہ سر اور ہاتھ جھکا کر اس کی طرف جھک پڑتا ہے اسی طرح یہ جھکے گا ادھر یہ جھکا ادھر داروغہ جہنم کی آگ میں گرا دے گا جس میں تقریباً پچاس پچاس سال تک وہ گہرا اترتا جائے گا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ جہنمی کس قدر بوجھل ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مثل دس گابھن اونٹنیوں کے وزن کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے بعض فقروں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں ایک شخص ہے جس کا نام بھی نیچے راوی نے نہیں لیا۔ اس جیسی دلیلیں صحت کے قابل نہیں ہوتیں۔ «والله اعلم» ان گنہگاروں سے کہا جائے گا کہ لو جس جہنم کا تم انکار کرتے تھے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو یہ انہیں بطور رسوا اور ذلیل کرنے شرمندہ اور نادم کرنے ان کی خفت بڑھانے کے لئے کہا جائے گا پھر ان کی یہ حالت ہوگی کہ کبھی آگ کا عذاب ہو رہا ہے کبھی پانی کا۔ کبھی جحیم میں جلائے جاتے ہیں اور کبھی حمیم پلائے جاتے ہیں۔ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح محض آگ ہے جو آنتوں کو کاٹ دیتی ہے اور جگہ ہے: «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ» [40-غافر: 71] جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی وہ حمیم سے جحیم میں گھسیٹے جائیں گے اور بار بار یہ جلائے جائیں گے۔ یہ گرم پانی حد درجہ کا گرم ہوگا بس یوں کہنا ٹھیک ہے کہ وہ بھی جہنم کی آگ ہی ہے جو پانی کی صورت میں ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش کے وقت سے آج تک وہ گرم کیا جا رہا ہے۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں: بدکار شخص کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے اس گرم پانی میں ایک غوطہ دیا جائے گا تمام گوشت گل جائے گا اور ہڈیوں کو چھوڑ دے گا۔ بس دو آنکھیں اور ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا، اسی کو فرمایا: «فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر: 72] ان کے معنی حاضر کے بھی کئے گئے ہیں اور آیت میں ہے: «تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ» [88-الغاشية: 5] سخت گرم موجود پانی کی نہر سے انہیں پانی پلایا جائے گا جو ہرگز نہ پی سکیں گے کیونکہ وہ بےانتہا گرم بلکہ مثل آگ کے ہے۔ قرآن کریم میں اور جگہ ہے: «غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ» [33-الأحزاب: 53] وہاں مراد تیاری اور پک جانا ہے۔ چونکہ بدکاروں کی سزا اور نیک کاروں کی جزا بھی اس کا فضل و رحمت اور عدل و لطف ہے اپنے ان عذابوں کا قبل از وقت بیان کر دینا تاکہ شرک و معاصی کے کرنے والے ہوشیار ہو جائیں یہ بھی اس کی نعمت ہے اس لئے فرمایا: پھر تم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے۔
41۔ 1 یعنی جس طرح اہل ایمان کی علامت ہوگی کہ ان کے اعضائے وضو چمکتے ہونگے، اسی طرح گنہگاروں کے چہرے سیاہ، آنکھیں نیلگوں اور وہ دہشت زدہ ہونگے۔ 41۔ 2 فرشتے ان کی پیشانیاں اور ان کے قدموں کے ساتھ ملا کر پکڑیں گے اور جہنم میں ڈال دیں گے، یا کبھی پیشانیوں سے اور کبھی قدموں سے انہیں پکڑیں گے۔
(آیت 41) ➊ {يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰهُمْ …:”اَلنَّوَاصِيْ“نَاصِيَةٌ “} کی جمع ہے، پیشانی کے بال۔ (دیکھیے ہود: ۵۶) یعنی ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۰۶ ] ”جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔“ آنکھیں نیلی ہوں گی، جیسا کہ فرمایا: «وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ زُرْقًا» [ طٰہٰ: ۱۰۲ ] ”اور ہم مجرموں کو اس دن اس حال میں اکٹھا کریں گے کہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے۔“ اور اعمال نامے پیٹھ کے پیچھے بائیں ہاتھ میں پکڑ رکھے ہوں گے۔ دیکھیے سورۂ انشقاق (۱۰) اور سورۂ حاقہ (۲۵)۔ ➋ { فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِيْ وَ الْاَقْدَامِ:} یعنی ہر مجرم کو پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
علامہ محمد حسین نجفی
سو تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے: «وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ» [69-الحاقة: 16] ایک اور جگہ ہے: «وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا» [25-الفرقان: 25] اور فرمان ہے: «إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ» [84-الانشقاق: 1] وغیرہ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہو جائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح برستا ہوگا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سرخ چمڑے کی طرح ہو جائے گا۔ ایک روایت میں گلابی رنگ گھوڑے کے رنگ جیسا آسمان کا رنگ ہو جائے گا۔ ابو صالح فرماتے ہیں: پہلے گلابی رنگ ہوگا پھر سرخ ہو جائے گا۔ گلابی رنگ گھوڑے کا رنگ موسم بہار میں تو زردی مائل نظر آتا ہے اور جاڑے میں بدل کر سرخ جچتا ہے جوں جوں سردی بڑھتی ہے اس کا رنگ متغیر ہوتا جاتا ہے۔ اسی طرح آسمان بھی رنگ پر رنگ بدلے گا پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔ جیسے روغن گلاب کا رنگ ہوتا ہے اس رنگ کا آسمان ہوجائے گا آج وہ سبز رنگ ہے لیکن اس دن اس کا رنگ سرخی لئے ہوئے ہوگا زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے گا۔ جہنم کی آگ تپش اسے پگھلا کر تیل جیسا کر دے گی۔ اس دن کسی مجرم سے اس کا جرم نہ پوچھا جائے گا، جیسے ایک اور آیت میں ہے: «هَٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ» ‎ [77-المرسلات: 35] یہ وہ دن ہے کہ بات نہ کریں گے نہ انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر معذرت کریں۔ ہاں اور آیات میں ان کا بولنا عذر کرنا ان سے حساب لیا جانا وغیرہ بھی بیان ہوا ہے، فرمان ہے: «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ» [15-الحجر: 92] تیرے رب کی قسم ہم سب سے سوال کریں گے اور ان کے تمام کاموں کی پرسش کریں گے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ایک موقعہ پر یہ ہے پرسش ہوئی حساب کتاب ہوا عذر معذرت ختم کر دی گئی اب منہ پر مہر لگ گئی ہاتھ پاؤں اور اعضاء جسم نے گواہی دی پھر پوچھ گچھ کی ضرورت نہ رہی عذر معذرت توڑ دی گئی۔ اور یہ تطبیق بھی ہے کہ کسی سے نہ پوچھا جائے گا کہ فلاں عمل کیا؟ یا نہیں کیا؟ کیونکہ اللہ کو جو خوب معلوم ہے اس سے جو سوال ہوگا وہ یہ کہ ایسا کیوں کیا؟ تیسرا قول یہ ہے کہ فرشتے پوچھیں گے نہیں وہ تو چہرہ دیکھتے ہی پہچان لیں گے اور جہنمی کو زنجیروں میں باندھ کر اوندھے گھسیٹ کر جہنم واصل کر دیں گے جیسے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ گنہگار اپنے چہروں اور اپنی خاص علامتوں سے پہچان لئے جائیں گے چہرے سیاہ ہوں گے آنکھیں کیری ہوں گی ٹھیک اسی طرح مومنوں کے چہرے بھی الگ ممتاز ہوں گے۔ ان کے اعضائے وضو چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ گنہگاروں کو پیشانیوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا جس طرح بڑی لکڑی کو دو طرف سے پکڑ کر تنور میں جھونک دیا جاتا ہے پیٹھ کی طرف زنجیر لا کر گردن اور پاؤں ایک کر کے باندھ دیے جائیں گے۔ کمر توڑ دی جائے گی اور قدم اور پیشانی ملا دیجائے گی اور جکڑ دیا جائے گا۔ مسند احمد میں ہے: قبیلہ بنو کندہ کا ایک شخص مائی عائشہ کے پاس گیا۔ پردے کے پیچھے بیٹھا اور ام المومنین سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے کہ کس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی شخص کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا؟ ام المومنین نے جواب دیا: ہاں! ایک مرتبہ ایک ہی کپڑے میں ہم دونوں تھے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جب کہ پل صراط رکھا جائے گا اس وقت مجھے کسی کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا یہاں تک کہ میں جان لوں کہ خود مجھے کہاں لے جاتے ہیں؟ اور جس وقت کہ چہرے سفید ہونے شروع ہوں گے یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ یا فرمایا: یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ مجھ پر کیا وحی بھیجی جاتی ہے؟ اور جب جہنم پر پل رکھا جائیگا اور اسے تیز اور گرم کیا جائے گا میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی تیزی اور گرمی کی کیا حد ہے؟ فرمایا: تلوار کی دھار جیسا تیز ہوگا اور آگ کے انگارے جیسا گرم ہو گا مومن تو بےضرر گذر جائے گا اور منافق لٹک جائے گا جب بیچ میں پہنچے گا اس کے قدم پھسل جائیں گے یہ اپنے ہاتھ اپنے پیروں کی طرف جھکائے گا جس طرح کوئی ننگے پاؤں چل رہا ہو اور اسے کانٹا لگ جائے اور اس زور کا لگے کہ گویا کہ اس نے اس کا پاؤں چھید دیا تو کس طرح بےصبری اور جلدی سے وہ سر اور ہاتھ جھکا کر اس کی طرف جھک پڑتا ہے اسی طرح یہ جھکے گا ادھر یہ جھکا ادھر داروغہ جہنم کی آگ میں گرا دے گا جس میں تقریباً پچاس پچاس سال تک وہ گہرا اترتا جائے گا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ جہنمی کس قدر بوجھل ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مثل دس گابھن اونٹنیوں کے وزن کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے بعض فقروں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں ایک شخص ہے جس کا نام بھی نیچے راوی نے نہیں لیا۔ اس جیسی دلیلیں صحت کے قابل نہیں ہوتیں۔ «والله اعلم» ان گنہگاروں سے کہا جائے گا کہ لو جس جہنم کا تم انکار کرتے تھے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو یہ انہیں بطور رسوا اور ذلیل کرنے شرمندہ اور نادم کرنے ان کی خفت بڑھانے کے لئے کہا جائے گا پھر ان کی یہ حالت ہوگی کہ کبھی آگ کا عذاب ہو رہا ہے کبھی پانی کا۔ کبھی جحیم میں جلائے جاتے ہیں اور کبھی حمیم پلائے جاتے ہیں۔ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح محض آگ ہے جو آنتوں کو کاٹ دیتی ہے اور جگہ ہے: «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ» [40-غافر: 71] جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی وہ حمیم سے جحیم میں گھسیٹے جائیں گے اور بار بار یہ جلائے جائیں گے۔ یہ گرم پانی حد درجہ کا گرم ہوگا بس یوں کہنا ٹھیک ہے کہ وہ بھی جہنم کی آگ ہی ہے جو پانی کی صورت میں ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش کے وقت سے آج تک وہ گرم کیا جا رہا ہے۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں: بدکار شخص کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے اس گرم پانی میں ایک غوطہ دیا جائے گا تمام گوشت گل جائے گا اور ہڈیوں کو چھوڑ دے گا۔ بس دو آنکھیں اور ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا، اسی کو فرمایا: «فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر: 72] ان کے معنی حاضر کے بھی کئے گئے ہیں اور آیت میں ہے: «تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ» [88-الغاشية: 5] سخت گرم موجود پانی کی نہر سے انہیں پانی پلایا جائے گا جو ہرگز نہ پی سکیں گے کیونکہ وہ بےانتہا گرم بلکہ مثل آگ کے ہے۔ قرآن کریم میں اور جگہ ہے: «غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ» [33-الأحزاب: 53] وہاں مراد تیاری اور پک جانا ہے۔ چونکہ بدکاروں کی سزا اور نیک کاروں کی جزا بھی اس کا فضل و رحمت اور عدل و لطف ہے اپنے ان عذابوں کا قبل از وقت بیان کر دینا تاکہ شرک و معاصی کے کرنے والے ہوشیار ہو جائیں یہ بھی اس کی نعمت ہے اس لئے فرمایا: پھر تم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیۡ یُکَذِّبُ بِہَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿ۘ۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اُس وقت کہا جائے گا) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ہے وه جہنم جسے مجرم جھوٹا جانتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھٹلاتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یہی وہ دوزخ ہے جسے مجرم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی ہے وہ جہنم جسے مجرم لوگ جھٹلاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے: «وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ» [69-الحاقة: 16] ایک اور جگہ ہے: «وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا» [25-الفرقان: 25] اور فرمان ہے: «إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ» [84-الانشقاق: 1] وغیرہ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہو جائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح برستا ہوگا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سرخ چمڑے کی طرح ہو جائے گا۔ ایک روایت میں گلابی رنگ گھوڑے کے رنگ جیسا آسمان کا رنگ ہو جائے گا۔ ابو صالح فرماتے ہیں: پہلے گلابی رنگ ہوگا پھر سرخ ہو جائے گا۔ گلابی رنگ گھوڑے کا رنگ موسم بہار میں تو زردی مائل نظر آتا ہے اور جاڑے میں بدل کر سرخ جچتا ہے جوں جوں سردی بڑھتی ہے اس کا رنگ متغیر ہوتا جاتا ہے۔ اسی طرح آسمان بھی رنگ پر رنگ بدلے گا پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔ جیسے روغن گلاب کا رنگ ہوتا ہے اس رنگ کا آسمان ہوجائے گا آج وہ سبز رنگ ہے لیکن اس دن اس کا رنگ سرخی لئے ہوئے ہوگا زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے گا۔ جہنم کی آگ تپش اسے پگھلا کر تیل جیسا کر دے گی۔ اس دن کسی مجرم سے اس کا جرم نہ پوچھا جائے گا، جیسے ایک اور آیت میں ہے: «هَٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ» ‎ [77-المرسلات: 35] یہ وہ دن ہے کہ بات نہ کریں گے نہ انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر معذرت کریں۔ ہاں اور آیات میں ان کا بولنا عذر کرنا ان سے حساب لیا جانا وغیرہ بھی بیان ہوا ہے، فرمان ہے: «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ» [15-الحجر: 92] تیرے رب کی قسم ہم سب سے سوال کریں گے اور ان کے تمام کاموں کی پرسش کریں گے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ایک موقعہ پر یہ ہے پرسش ہوئی حساب کتاب ہوا عذر معذرت ختم کر دی گئی اب منہ پر مہر لگ گئی ہاتھ پاؤں اور اعضاء جسم نے گواہی دی پھر پوچھ گچھ کی ضرورت نہ رہی عذر معذرت توڑ دی گئی۔ اور یہ تطبیق بھی ہے کہ کسی سے نہ پوچھا جائے گا کہ فلاں عمل کیا؟ یا نہیں کیا؟ کیونکہ اللہ کو جو خوب معلوم ہے اس سے جو سوال ہوگا وہ یہ کہ ایسا کیوں کیا؟ تیسرا قول یہ ہے کہ فرشتے پوچھیں گے نہیں وہ تو چہرہ دیکھتے ہی پہچان لیں گے اور جہنمی کو زنجیروں میں باندھ کر اوندھے گھسیٹ کر جہنم واصل کر دیں گے جیسے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ گنہگار اپنے چہروں اور اپنی خاص علامتوں سے پہچان لئے جائیں گے چہرے سیاہ ہوں گے آنکھیں کیری ہوں گی ٹھیک اسی طرح مومنوں کے چہرے بھی الگ ممتاز ہوں گے۔ ان کے اعضائے وضو چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ گنہگاروں کو پیشانیوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا جس طرح بڑی لکڑی کو دو طرف سے پکڑ کر تنور میں جھونک دیا جاتا ہے پیٹھ کی طرف زنجیر لا کر گردن اور پاؤں ایک کر کے باندھ دیے جائیں گے۔ کمر توڑ دی جائے گی اور قدم اور پیشانی ملا دیجائے گی اور جکڑ دیا جائے گا۔ مسند احمد میں ہے: قبیلہ بنو کندہ کا ایک شخص مائی عائشہ کے پاس گیا۔ پردے کے پیچھے بیٹھا اور ام المومنین سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے کہ کس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی شخص کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا؟ ام المومنین نے جواب دیا: ہاں! ایک مرتبہ ایک ہی کپڑے میں ہم دونوں تھے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جب کہ پل صراط رکھا جائے گا اس وقت مجھے کسی کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا یہاں تک کہ میں جان لوں کہ خود مجھے کہاں لے جاتے ہیں؟ اور جس وقت کہ چہرے سفید ہونے شروع ہوں گے یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ یا فرمایا: یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ مجھ پر کیا وحی بھیجی جاتی ہے؟ اور جب جہنم پر پل رکھا جائیگا اور اسے تیز اور گرم کیا جائے گا میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی تیزی اور گرمی کی کیا حد ہے؟ فرمایا: تلوار کی دھار جیسا تیز ہوگا اور آگ کے انگارے جیسا گرم ہو گا مومن تو بےضرر گذر جائے گا اور منافق لٹک جائے گا جب بیچ میں پہنچے گا اس کے قدم پھسل جائیں گے یہ اپنے ہاتھ اپنے پیروں کی طرف جھکائے گا جس طرح کوئی ننگے پاؤں چل رہا ہو اور اسے کانٹا لگ جائے اور اس زور کا لگے کہ گویا کہ اس نے اس کا پاؤں چھید دیا تو کس طرح بےصبری اور جلدی سے وہ سر اور ہاتھ جھکا کر اس کی طرف جھک پڑتا ہے اسی طرح یہ جھکے گا ادھر یہ جھکا ادھر داروغہ جہنم کی آگ میں گرا دے گا جس میں تقریباً پچاس پچاس سال تک وہ گہرا اترتا جائے گا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ جہنمی کس قدر بوجھل ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مثل دس گابھن اونٹنیوں کے وزن کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے بعض فقروں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں ایک شخص ہے جس کا نام بھی نیچے راوی نے نہیں لیا۔ اس جیسی دلیلیں صحت کے قابل نہیں ہوتیں۔ «والله اعلم» ان گنہگاروں سے کہا جائے گا کہ لو جس جہنم کا تم انکار کرتے تھے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو یہ انہیں بطور رسوا اور ذلیل کرنے شرمندہ اور نادم کرنے ان کی خفت بڑھانے کے لئے کہا جائے گا پھر ان کی یہ حالت ہوگی کہ کبھی آگ کا عذاب ہو رہا ہے کبھی پانی کا۔ کبھی جحیم میں جلائے جاتے ہیں اور کبھی حمیم پلائے جاتے ہیں۔ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح محض آگ ہے جو آنتوں کو کاٹ دیتی ہے اور جگہ ہے: «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ» [40-غافر: 71] جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی وہ حمیم سے جحیم میں گھسیٹے جائیں گے اور بار بار یہ جلائے جائیں گے۔ یہ گرم پانی حد درجہ کا گرم ہوگا بس یوں کہنا ٹھیک ہے کہ وہ بھی جہنم کی آگ ہی ہے جو پانی کی صورت میں ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش کے وقت سے آج تک وہ گرم کیا جا رہا ہے۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں: بدکار شخص کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے اس گرم پانی میں ایک غوطہ دیا جائے گا تمام گوشت گل جائے گا اور ہڈیوں کو چھوڑ دے گا۔ بس دو آنکھیں اور ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا، اسی کو فرمایا: «فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر: 72] ان کے معنی حاضر کے بھی کئے گئے ہیں اور آیت میں ہے: «تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ» [88-الغاشية: 5] سخت گرم موجود پانی کی نہر سے انہیں پانی پلایا جائے گا جو ہرگز نہ پی سکیں گے کیونکہ وہ بےانتہا گرم بلکہ مثل آگ کے ہے۔ قرآن کریم میں اور جگہ ہے: «غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ» [33-الأحزاب: 53] وہاں مراد تیاری اور پک جانا ہے۔ چونکہ بدکاروں کی سزا اور نیک کاروں کی جزا بھی اس کا فضل و رحمت اور عدل و لطف ہے اپنے ان عذابوں کا قبل از وقت بیان کر دینا تاکہ شرک و معاصی کے کرنے والے ہوشیار ہو جائیں یہ بھی اس کی نعمت ہے اس لئے فرمایا: پھر تم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 43){ هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ:} یہ بات مجرموں سے کہی جائے گی (دیکھیے طور: ۱۴) اور یہ بھی ہے کہ ہمیں سمجھانے کے لیے یہ بات بتائی جا رہی ہے۔
یَطُوۡفُوۡنَ بَیۡنَہَا وَ بَیۡنَ حَمِیۡمٍ اٰنٍ ﴿ۚ۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کے اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان چکر کھائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
پھیرے کریں گے اس میں اور انتہا کے جلتے کھولتے پانی میں
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (مجرم) اس (دوزخ) اور اس کے انتہائی کھولتے ہوئے پانی کے درمیان گردش کرتے رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس کے درمیان اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکر کاٹتے رہیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے: «وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ» [69-الحاقة: 16] ایک اور جگہ ہے: «وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا» [25-الفرقان: 25] اور فرمان ہے: «إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ» [84-الانشقاق: 1] وغیرہ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہو جائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح برستا ہوگا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سرخ چمڑے کی طرح ہو جائے گا۔ ایک روایت میں گلابی رنگ گھوڑے کے رنگ جیسا آسمان کا رنگ ہو جائے گا۔ ابو صالح فرماتے ہیں: پہلے گلابی رنگ ہوگا پھر سرخ ہو جائے گا۔ گلابی رنگ گھوڑے کا رنگ موسم بہار میں تو زردی مائل نظر آتا ہے اور جاڑے میں بدل کر سرخ جچتا ہے جوں جوں سردی بڑھتی ہے اس کا رنگ متغیر ہوتا جاتا ہے۔ اسی طرح آسمان بھی رنگ پر رنگ بدلے گا پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔ جیسے روغن گلاب کا رنگ ہوتا ہے اس رنگ کا آسمان ہوجائے گا آج وہ سبز رنگ ہے لیکن اس دن اس کا رنگ سرخی لئے ہوئے ہوگا زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے گا۔ جہنم کی آگ تپش اسے پگھلا کر تیل جیسا کر دے گی۔ اس دن کسی مجرم سے اس کا جرم نہ پوچھا جائے گا، جیسے ایک اور آیت میں ہے: «هَٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ» ‎ [77-المرسلات: 35] یہ وہ دن ہے کہ بات نہ کریں گے نہ انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر معذرت کریں۔ ہاں اور آیات میں ان کا بولنا عذر کرنا ان سے حساب لیا جانا وغیرہ بھی بیان ہوا ہے، فرمان ہے: «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ» [15-الحجر: 92] تیرے رب کی قسم ہم سب سے سوال کریں گے اور ان کے تمام کاموں کی پرسش کریں گے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ایک موقعہ پر یہ ہے پرسش ہوئی حساب کتاب ہوا عذر معذرت ختم کر دی گئی اب منہ پر مہر لگ گئی ہاتھ پاؤں اور اعضاء جسم نے گواہی دی پھر پوچھ گچھ کی ضرورت نہ رہی عذر معذرت توڑ دی گئی۔ اور یہ تطبیق بھی ہے کہ کسی سے نہ پوچھا جائے گا کہ فلاں عمل کیا؟ یا نہیں کیا؟ کیونکہ اللہ کو جو خوب معلوم ہے اس سے جو سوال ہوگا وہ یہ کہ ایسا کیوں کیا؟ تیسرا قول یہ ہے کہ فرشتے پوچھیں گے نہیں وہ تو چہرہ دیکھتے ہی پہچان لیں گے اور جہنمی کو زنجیروں میں باندھ کر اوندھے گھسیٹ کر جہنم واصل کر دیں گے جیسے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ گنہگار اپنے چہروں اور اپنی خاص علامتوں سے پہچان لئے جائیں گے چہرے سیاہ ہوں گے آنکھیں کیری ہوں گی ٹھیک اسی طرح مومنوں کے چہرے بھی الگ ممتاز ہوں گے۔ ان کے اعضائے وضو چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ گنہگاروں کو پیشانیوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا جس طرح بڑی لکڑی کو دو طرف سے پکڑ کر تنور میں جھونک دیا جاتا ہے پیٹھ کی طرف زنجیر لا کر گردن اور پاؤں ایک کر کے باندھ دیے جائیں گے۔ کمر توڑ دی جائے گی اور قدم اور پیشانی ملا دیجائے گی اور جکڑ دیا جائے گا۔ مسند احمد میں ہے: قبیلہ بنو کندہ کا ایک شخص مائی عائشہ کے پاس گیا۔ پردے کے پیچھے بیٹھا اور ام المومنین سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے کہ کس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی شخص کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا؟ ام المومنین نے جواب دیا: ہاں! ایک مرتبہ ایک ہی کپڑے میں ہم دونوں تھے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جب کہ پل صراط رکھا جائے گا اس وقت مجھے کسی کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا یہاں تک کہ میں جان لوں کہ خود مجھے کہاں لے جاتے ہیں؟ اور جس وقت کہ چہرے سفید ہونے شروع ہوں گے یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ یا فرمایا: یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ مجھ پر کیا وحی بھیجی جاتی ہے؟ اور جب جہنم پر پل رکھا جائیگا اور اسے تیز اور گرم کیا جائے گا میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی تیزی اور گرمی کی کیا حد ہے؟ فرمایا: تلوار کی دھار جیسا تیز ہوگا اور آگ کے انگارے جیسا گرم ہو گا مومن تو بےضرر گذر جائے گا اور منافق لٹک جائے گا جب بیچ میں پہنچے گا اس کے قدم پھسل جائیں گے یہ اپنے ہاتھ اپنے پیروں کی طرف جھکائے گا جس طرح کوئی ننگے پاؤں چل رہا ہو اور اسے کانٹا لگ جائے اور اس زور کا لگے کہ گویا کہ اس نے اس کا پاؤں چھید دیا تو کس طرح بےصبری اور جلدی سے وہ سر اور ہاتھ جھکا کر اس کی طرف جھک پڑتا ہے اسی طرح یہ جھکے گا ادھر یہ جھکا ادھر داروغہ جہنم کی آگ میں گرا دے گا جس میں تقریباً پچاس پچاس سال تک وہ گہرا اترتا جائے گا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ جہنمی کس قدر بوجھل ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مثل دس گابھن اونٹنیوں کے وزن کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے بعض فقروں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں ایک شخص ہے جس کا نام بھی نیچے راوی نے نہیں لیا۔ اس جیسی دلیلیں صحت کے قابل نہیں ہوتیں۔ «والله اعلم» ان گنہگاروں سے کہا جائے گا کہ لو جس جہنم کا تم انکار کرتے تھے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو یہ انہیں بطور رسوا اور ذلیل کرنے شرمندہ اور نادم کرنے ان کی خفت بڑھانے کے لئے کہا جائے گا پھر ان کی یہ حالت ہوگی کہ کبھی آگ کا عذاب ہو رہا ہے کبھی پانی کا۔ کبھی جحیم میں جلائے جاتے ہیں اور کبھی حمیم پلائے جاتے ہیں۔ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح محض آگ ہے جو آنتوں کو کاٹ دیتی ہے اور جگہ ہے: «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ» [40-غافر: 71] جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی وہ حمیم سے جحیم میں گھسیٹے جائیں گے اور بار بار یہ جلائے جائیں گے۔ یہ گرم پانی حد درجہ کا گرم ہوگا بس یوں کہنا ٹھیک ہے کہ وہ بھی جہنم کی آگ ہی ہے جو پانی کی صورت میں ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش کے وقت سے آج تک وہ گرم کیا جا رہا ہے۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں: بدکار شخص کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے اس گرم پانی میں ایک غوطہ دیا جائے گا تمام گوشت گل جائے گا اور ہڈیوں کو چھوڑ دے گا۔ بس دو آنکھیں اور ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا، اسی کو فرمایا: «فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر: 72] ان کے معنی حاضر کے بھی کئے گئے ہیں اور آیت میں ہے: «تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ» [88-الغاشية: 5] سخت گرم موجود پانی کی نہر سے انہیں پانی پلایا جائے گا جو ہرگز نہ پی سکیں گے کیونکہ وہ بےانتہا گرم بلکہ مثل آگ کے ہے۔ قرآن کریم میں اور جگہ ہے: «غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ» [33-الأحزاب: 53] وہاں مراد تیاری اور پک جانا ہے۔ چونکہ بدکاروں کی سزا اور نیک کاروں کی جزا بھی اس کا فضل و رحمت اور عدل و لطف ہے اپنے ان عذابوں کا قبل از وقت بیان کر دینا تاکہ شرک و معاصی کے کرنے والے ہوشیار ہو جائیں یہ بھی اس کی نعمت ہے اس لئے فرمایا: پھر تم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے۔
44۔ 1 یعنی کبھی انہیں دکھتی ہوئی آگ کا عذاب دیا جائے گا اور کبھی کھولتے ہوئے گرم پانی، جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ دے گا (ابن کثیر)
(آیت 44) {يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَ بَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ:اٰنٍ”أَنٰي يَأْنِيْ إِنًي“} (ض) سے اسم فاعل ہے، جیسا کہ {” قَاضٍ“} ہے، انتہائی گرم، کھولنے والا۔ سورۂ غاشیہ میں ہے: «تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍ» ‏‏‏‏ [الغاشیۃ:۵] ”وہ ایک کھولتے ہوئے چشمے سے پلائے جائیں گے۔“ {” إِنًي“} کھانے کا پک کر تیار ہونا، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ» [ الأحزاب: ۵۳ ] ”اس حال میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہوں۔“ {” يَطُوْفُوْنَ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۶۶ تا ۶۸)۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿٪۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس اے جن و انس! سو تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے: «وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ» [69-الحاقة: 16] ایک اور جگہ ہے: «وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا» [25-الفرقان: 25] اور فرمان ہے: «إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ» [84-الانشقاق: 1] وغیرہ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہو جائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح برستا ہوگا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سرخ چمڑے کی طرح ہو جائے گا۔ ایک روایت میں گلابی رنگ گھوڑے کے رنگ جیسا آسمان کا رنگ ہو جائے گا۔ ابو صالح فرماتے ہیں: پہلے گلابی رنگ ہوگا پھر سرخ ہو جائے گا۔ گلابی رنگ گھوڑے کا رنگ موسم بہار میں تو زردی مائل نظر آتا ہے اور جاڑے میں بدل کر سرخ جچتا ہے جوں جوں سردی بڑھتی ہے اس کا رنگ متغیر ہوتا جاتا ہے۔ اسی طرح آسمان بھی رنگ پر رنگ بدلے گا پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔ جیسے روغن گلاب کا رنگ ہوتا ہے اس رنگ کا آسمان ہوجائے گا آج وہ سبز رنگ ہے لیکن اس دن اس کا رنگ سرخی لئے ہوئے ہوگا زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے گا۔ جہنم کی آگ تپش اسے پگھلا کر تیل جیسا کر دے گی۔ اس دن کسی مجرم سے اس کا جرم نہ پوچھا جائے گا، جیسے ایک اور آیت میں ہے: «هَٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ» ‎ [77-المرسلات: 35] یہ وہ دن ہے کہ بات نہ کریں گے نہ انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر معذرت کریں۔ ہاں اور آیات میں ان کا بولنا عذر کرنا ان سے حساب لیا جانا وغیرہ بھی بیان ہوا ہے، فرمان ہے: «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ» [15-الحجر: 92] تیرے رب کی قسم ہم سب سے سوال کریں گے اور ان کے تمام کاموں کی پرسش کریں گے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ایک موقعہ پر یہ ہے پرسش ہوئی حساب کتاب ہوا عذر معذرت ختم کر دی گئی اب منہ پر مہر لگ گئی ہاتھ پاؤں اور اعضاء جسم نے گواہی دی پھر پوچھ گچھ کی ضرورت نہ رہی عذر معذرت توڑ دی گئی۔ اور یہ تطبیق بھی ہے کہ کسی سے نہ پوچھا جائے گا کہ فلاں عمل کیا؟ یا نہیں کیا؟ کیونکہ اللہ کو جو خوب معلوم ہے اس سے جو سوال ہوگا وہ یہ کہ ایسا کیوں کیا؟ تیسرا قول یہ ہے کہ فرشتے پوچھیں گے نہیں وہ تو چہرہ دیکھتے ہی پہچان لیں گے اور جہنمی کو زنجیروں میں باندھ کر اوندھے گھسیٹ کر جہنم واصل کر دیں گے جیسے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ گنہگار اپنے چہروں اور اپنی خاص علامتوں سے پہچان لئے جائیں گے چہرے سیاہ ہوں گے آنکھیں کیری ہوں گی ٹھیک اسی طرح مومنوں کے چہرے بھی الگ ممتاز ہوں گے۔ ان کے اعضائے وضو چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ گنہگاروں کو پیشانیوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا جس طرح بڑی لکڑی کو دو طرف سے پکڑ کر تنور میں جھونک دیا جاتا ہے پیٹھ کی طرف زنجیر لا کر گردن اور پاؤں ایک کر کے باندھ دیے جائیں گے۔ کمر توڑ دی جائے گی اور قدم اور پیشانی ملا دیجائے گی اور جکڑ دیا جائے گا۔ مسند احمد میں ہے: قبیلہ بنو کندہ کا ایک شخص مائی عائشہ کے پاس گیا۔ پردے کے پیچھے بیٹھا اور ام المومنین سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے کہ کس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی شخص کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا؟ ام المومنین نے جواب دیا: ہاں! ایک مرتبہ ایک ہی کپڑے میں ہم دونوں تھے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جب کہ پل صراط رکھا جائے گا اس وقت مجھے کسی کی شفاعت کا اختیار نہ ہوگا یہاں تک کہ میں جان لوں کہ خود مجھے کہاں لے جاتے ہیں؟ اور جس وقت کہ چہرے سفید ہونے شروع ہوں گے یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ یا فرمایا: یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ مجھ پر کیا وحی بھیجی جاتی ہے؟ اور جب جہنم پر پل رکھا جائیگا اور اسے تیز اور گرم کیا جائے گا میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی تیزی اور گرمی کی کیا حد ہے؟ فرمایا: تلوار کی دھار جیسا تیز ہوگا اور آگ کے انگارے جیسا گرم ہو گا مومن تو بےضرر گذر جائے گا اور منافق لٹک جائے گا جب بیچ میں پہنچے گا اس کے قدم پھسل جائیں گے یہ اپنے ہاتھ اپنے پیروں کی طرف جھکائے گا جس طرح کوئی ننگے پاؤں چل رہا ہو اور اسے کانٹا لگ جائے اور اس زور کا لگے کہ گویا کہ اس نے اس کا پاؤں چھید دیا تو کس طرح بےصبری اور جلدی سے وہ سر اور ہاتھ جھکا کر اس کی طرف جھک پڑتا ہے اسی طرح یہ جھکے گا ادھر یہ جھکا ادھر داروغہ جہنم کی آگ میں گرا دے گا جس میں تقریباً پچاس پچاس سال تک وہ گہرا اترتا جائے گا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ جہنمی کس قدر بوجھل ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مثل دس گابھن اونٹنیوں کے وزن کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے بعض فقروں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں ایک شخص ہے جس کا نام بھی نیچے راوی نے نہیں لیا۔ اس جیسی دلیلیں صحت کے قابل نہیں ہوتیں۔ «والله اعلم» ان گنہگاروں سے کہا جائے گا کہ لو جس جہنم کا تم انکار کرتے تھے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو یہ انہیں بطور رسوا اور ذلیل کرنے شرمندہ اور نادم کرنے ان کی خفت بڑھانے کے لئے کہا جائے گا پھر ان کی یہ حالت ہوگی کہ کبھی آگ کا عذاب ہو رہا ہے کبھی پانی کا۔ کبھی جحیم میں جلائے جاتے ہیں اور کبھی حمیم پلائے جاتے ہیں۔ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح محض آگ ہے جو آنتوں کو کاٹ دیتی ہے اور جگہ ہے: «إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ» [40-غافر: 71] جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی وہ حمیم سے جحیم میں گھسیٹے جائیں گے اور بار بار یہ جلائے جائیں گے۔ یہ گرم پانی حد درجہ کا گرم ہوگا بس یوں کہنا ٹھیک ہے کہ وہ بھی جہنم کی آگ ہی ہے جو پانی کی صورت میں ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش کے وقت سے آج تک وہ گرم کیا جا رہا ہے۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں: بدکار شخص کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے اس گرم پانی میں ایک غوطہ دیا جائے گا تمام گوشت گل جائے گا اور ہڈیوں کو چھوڑ دے گا۔ بس دو آنکھیں اور ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا، اسی کو فرمایا: «فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ» [40-غافر: 72] ان کے معنی حاضر کے بھی کئے گئے ہیں اور آیت میں ہے: «تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ» [88-الغاشية: 5] سخت گرم موجود پانی کی نہر سے انہیں پانی پلایا جائے گا جو ہرگز نہ پی سکیں گے کیونکہ وہ بےانتہا گرم بلکہ مثل آگ کے ہے۔ قرآن کریم میں اور جگہ ہے: «غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ» [33-الأحزاب: 53] وہاں مراد تیاری اور پک جانا ہے۔ چونکہ بدکاروں کی سزا اور نیک کاروں کی جزا بھی اس کا فضل و رحمت اور عدل و لطف ہے اپنے ان عذابوں کا قبل از وقت بیان کر دینا تاکہ شرک و معاصی کے کرنے والے ہوشیار ہو جائیں یہ بھی اس کی نعمت ہے اس لئے فرمایا: پھر تم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ہر اُس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، دو باغ ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری سے ڈرتا ہے اس کے لئے دو باغ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، دو باغ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55- الرحمن:46] ‏‏‏‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏‏‏‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏‏‏‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صحیح بخاری میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے }، [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔ تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ اور آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏‏‏‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔ یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا، عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏‏‏‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔
46۔ 1 جیسے حدیث میں آتا ہے ' دو باغ چاندی کے ہیں، جن میں برتن اور جو کچھ ان میں ہے، سب چاندی کے ہونگے۔ دو باغ سونے کے ہیں اور ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سونے کے ہی ہونگے ' (صحیح بخاری تفسیر رحمن) بعض آثار میں ہے کہ سونے کے باغ خواص مومنین مقربین اور چاندی کے باغ عام مومنین اصحاب الیمین کے لیے ہوں گے۔ (ابن کثیر)
(آیت 46) ➊ { وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ:مَقَامَ”قَامَ يَقُوْمُ قِيَامًا“} (ن) سے ظرف بھی ہو سکتا ہے ”کھڑا ہونے کی جگہ یا وقت“ اور مصدر میمی بھی ہو سکتا ہے ”کھڑا ہونا۔“ جہنم اور اہلِ جہنم کے تذکرے کے بعد اہلِ جنت کا ذکر فرمایا۔ {” مَقَامَ رَبِّهٖ “} کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں قرآن مجید کی آیات میں ملتے ہیں، ایک یہ کہ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو باغ ہیں۔ اس صورت میں {” مَقَامَ رَبِّهٖ “} سے مراد بندے کا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏يَوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [ المطففین: ۶ ] ”جس دن لوگ رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے۔“ دوسرا یہ کہ جو شخص اپنے رب کے (اپنے اوپر ہر وقت) قائم (نگران) ہونے سے ڈر گیا۔ اس معنی کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اَفَمَنْ هُوَ قَآىِٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ» ‏‏‏‏ [ الرعد: ۳۳ ] ”تو کیا وہ جو ہر جان پر اس کا نگران ہے جو اس نے کمایا(کوئی دوسرا اس کے برابر ہو سکتا ہے)؟“ آیت سے دونوں معنی بیک وقت مراد ہو سکتے ہیں اور یہ بھی قرآن مجید کا ایک کمال ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ متعدد معانی کا حامل ہے۔ یعنی جو شخص اس بات سے ڈر گیا کہ اس نے قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور اس بات سے بھی ڈرتا رہا کہ اس کا رب اس کی ہرچھوٹی بڑی حرکت کو دیکھ رہا ہے، تو اس کے لیے دو باغ ہیں۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ جنت کی وراثت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے، کیونکہ یہی وہ جوہر ہے جو انسان کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچاتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو موقع میسر ہونے پر انسان کو کوئی بھی چیز کسی بھی جرم کے ارتکاب سے نہیں روک سکتی اور جب یہ موجود ہو تو آدمی کے قدم مشکل سے مشکل مقام پر نہیں ڈگمگاتے۔ صحیح بخاری(۶۶۰) میں قیامت کے دن جن سات آدمیوں کو عرش کا سایہ ملنے کی بشارت دی گئی ہے ان سب کے اعمال میں اصل اللہ تعالیٰ کا ڈر ہی ہے اور اس کفن چور کی مغفرت کا باعث بھی اللہ کا ڈر تھا جس نے وصیت کی تھی کہ مجھے جلا کر میری کچھ راکھ کو ہوا میں اڑا دیا جائے اور کچھ کو پانی میں بہا دیا جائے۔(دیکھیے بخاری: ۳۴۵۲) {” مَقَامَ رَبِّهٖ “} کے لفظ میں خوف کے ساتھ محبت کا پہلو بھی نمایاں ہے کہ وہ کسی اجنبی یا ظالم سے نہیں ڈر رہا، بلکہ اپنے مالک سے ڈر رہا ہے جس نے اسے پیدا کیا، پھر ہر لمحے اس کی پرورش کر رہا ہے اور اس کی ہر ضرورت پوری کر رہا ہے۔ ➋ { جَنَّتٰنِ: ”جَنَّةٌ“} کا اصل معنی باغ ہے۔ قرآن مجید میں کہیں یہ لفظ مفرد آیا ہے اور تمام اہلِ ایمان کے ایک ہی جنت میں داخلے کا ذکر ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ» ‏‏‏‏ [ المؤمن: ۴۰ ] ”اور جس نے کوئی نیک عمل کیا، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اس میں بے حساب رزق دیے جائیں گے۔“ اور کہیں جمع آیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ بَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۲۵ ] ”اور ان لوگوں کو خوش خبری دے دے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے کہ ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے تلے نہریں بہتی ہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اس بڑے باغ میں بے شمار باغات ہیں، جن میں سے ہر مومن کو دو دو باغ عطا کیے جائیں گے، جن کا وہ مالک ہو گا (لام تملیک کے لیے ہے) اور جن میں وہ سب کچھ ہو گا جس کا آگے ذکر ہو رہا ہے۔ ➌ ان آیات میں ہر اس شخص کو دو دو باغ ملنے کا ذکر ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا۔ چند آیات کے بعد اور دو باغوں کا ذکر ہے، فرمایا: «وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ جس کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان دونوں کے علاوہ بھی دو باغ ہیں اور یہ بھی کہ ان دونوں سے کم درجے والے بھی دو باغ ہیں۔ دونوں آیات کو ملائیں تو مطلب یہ ہے کہ ان دونوں کے علاوہ دو اور باغ ہیں جو پہلے باغوں سے کم درجے کے ہیں۔ تحقیق یہی ہے کہ پہلے دو باغ اعلیٰ ہیں جو مقربین کے لیے ہیں اور دوسرے دو باغ ان سے کم درجے والے ہیں جو اصحاب الیمین کے لیے ہیں۔ سورۂ واقعہ میں بھی سابقین کو مقربین قرار دے کر انھیں ملنے والی نعمتوں کا پہلے الگ ذکر فرمایا ہے، اس کے بعد اصحاب الیمین کا ذکر کر کے انھیں ملنے والی نعمتوں کا الگ ذکر فرمایا، یہاں بھی ایسے ہی ہے، تقریباً ہر نعمت میں دونوں کا فرق نمایاں ہے، تفسیر میں اس فرق کی طرف اشارہ آ رہا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں یہ حدیث ذکر فرمائی ہے کہ عبداللہ بن قیس (ابو موسیٰ اشعری) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ، آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيْهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيْهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَ بَيْنَ أَنْ يَّنْظُرُوْا إِلٰی رَبِّهِمْ إِلاَّ رِدَاءَ الْكِبْرِ عَلٰی وَجْهِهِ فِيْ جَنَّةِ عَدْنٍ ] [ بخاری التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏ومن دونھما جنتان» ‏‏‏‏: ۴۸۷۸ ] ”دو باغ ایسے ہیں جن کے برتن اور جو کچھ ان دونوں میں ہے چاندی کا ہے اور دو باغ ایسے ہیں جن کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سونے کا ہے۔ اور جنت عدن میں جنتیوں کے درمیان اور ان کے اپنے رب کو دیکھنے کے درمیان کبریائی کی چادر کے سوا کوئی رکاوٹ نہیں جو اس کے چہرے پر ہے۔“ صحیح بخاری میں اس کی سند اس طرح ہے: {”حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيْزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُوْ عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ أَبِيْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ…۔“} فتح الباری (۸؍۶۲۴) میں ہے کہ اسی حدیث کو ابن مردویہ نے (عبد العزیز کے بجائے) {”حَمَّادٌ عَنْ أَبِيْ عِمْرَانَ“} بیان کیا ہے، اس میں یہ لفظ ہیں: [ مِنْ ذَهَبٍ لِلسَّابِقِيْنَ وَ مِنْ فِضَّةٍ لِلتَّابِعِيْنَ ] یعنی سابقین کے لیے سونے والے اور تابعین کے لیے چاندی والے باغ ہوں گے۔ اور ابوبکر سے ثابت کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: [ مِنْ ذَهَبٍ لِلْمُقَرَّبِيْنَ وَ مِنْ فِضَّةٍ لِأَصْحَابِ الْيَمِيْنِ ] یعنی سونے والے باغ مقربین کے لیے اور چاندی والے اصحاب الیمین کے لیے ہیں۔ اس حدیث کے طرق سے واضح ہے کہ پہلے دو باغ مقربین کے لیے ہیں اور دوسرے دو باغ اصحاب الیمین کے لیے ہیں۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۙ۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ۔
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55- الرحمن:46] ‏‏‏‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏‏‏‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏‏‏‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صحیح بخاری میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے }، [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔ تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ اور آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏‏‏‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔ یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا، عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏‏‏‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ ﴿ۚ۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور
مولانا محمد جوناگڑھی
(دونوں جنتیں) بہت سی ٹہنیوں اور شاخوں والی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بہت سی ڈالوں والیاں
علامہ محمد حسین نجفی
دونوں باغ بہت سی شاخوں والے۔
عبدالسلام بن محمد
دونوں بہت شاخوں والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55- الرحمن:46] ‏‏‏‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏‏‏‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏‏‏‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صحیح بخاری میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے }، [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔ تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ اور آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏‏‏‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔ یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا، عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏‏‏‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔
48۔ 1 یہ اشارہ ہے اس طرف کہ اس میں سایہ گنجان اور گہرا ہوگا، نیز پھلوں کی کثرت ہوگی، کیونکہ کہتے ہیں ہر شاخ ٹہنی پھلوں سے لدی ہوگی (ابن کثیر)
(آیت 48) {ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍ:اَفْنَانٍ”فَنَنٌ“} کی جمع ہے، سیدھی لمبی شاخ اور {” فَنٌّ “} کی جمع بھی ہے جس کا معنی نوع ہے۔ بہت شاخوں والے سے مراد شاخوں، پتوں اور پھلوں کی کثرت ہے، ورنہ باغوں کی ٹہنیاں تو ہوتی ہی ہیں اور اگر {” اَفْنَانٍ”فَنٌّ“} کی جمع ہو تو مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں باغ بہت سی قسموں کے پودوں اور درختوں والے ہیں۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں جھٹلاؤگے؟
عبدالسلام بن محمد
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55- الرحمن:46] ‏‏‏‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏‏‏‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏‏‏‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صحیح بخاری میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے }، [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔ تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ اور آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏‏‏‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔ یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا، عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏‏‏‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فِیۡہِمَا عَیۡنٰنِ تَجۡرِیٰنِ ﴿ۚ۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دونوں باغوں میں دو چشمے رواں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان دونوں (جنتوں) میں دو بہتے ہوئے چشمے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ان میں دو چشمے بہتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ان دونوں باغوں میں دو چشمے جاری ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ان دونوں میں دو چشمے ہیں، جو بہ رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏‏‏‏ [55- الرحمن:46] ‏‏‏‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏‏‏‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏‏‏‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صحیح بخاری میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے }، [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔ تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏‏‏‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ اور آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏‏‏‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏‏‏‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔ یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا، عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏‏‏‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏‏‏‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔
50۔ 1 ایک کا نام تَسْنِیْم اور دوسرے کا نام سَلْسَبِیْل ہے۔
(آیت 50){ فِيْهِمَا عَيْنٰنِ تَجْرِيٰنِ:} چشمے دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جن سے اتنا پانی نکلتا ہے جو آگے بہنے لگتا ہے اور ندی نالے کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور ایک وہ جن سے پانی نکلتا ہے مگر اتنا ہی جتنا ان میں سے نکالا جاتا ہے، جیسا کہ زمزم کا چشمہ پھوٹ کر نکلا اور ہاجرہ علیھا السلام نے اس کے گرد ریت وغیرہ کی منڈیر بنا دی تو وہ وہیں رک گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ امِ اسماعیل پر رحم فرمائے، اگر وہ اس کے گرد منڈیر نہ بناتی تو وہ ندی کی صورت میں جاری ہو جاتا۔“ (دیکھیے، بخاری: ۲۳۶۸) مطلب یہ ہے کہ ان دونوں چشموں کا پانی ایک جگہ ٹھہرا ہوا نہیں بلکہ بہ رہا ہے۔