بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الرحمٰن — Surah Rahman
آیت نمبر 29
کل آیات: 78
قرآن کریم الرحمٰن آیت 29
آیت نمبر: 29 — سورۃ الرحمٰن islamicurdubooks.com ↗
یَسۡـَٔلُہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ ﴿ۚ۲۹﴾
زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں ہر آن وہ نئی شان میں ہے
سب آسمان وزمین والے اسی سے مانگتے ہیں۔ ہر روز وه ایک شان میں ہے
اسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں اسے ہر دن ایک کام ہے
آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اسی سے (اپنی حاجتیں) مانگتے ہیں وہ ہر روز (بلکہ ہر آن) ایک نئی شان میں ہے۔
اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا ٭٭

فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہو گا، کل جاندار مخلوق کو موت آ جائے گی، اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے، مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گی، جو موت و فوت سے پاک ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاً تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے «یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک» ‏‏‏‏ یعنی اے ہمیشہ جینے اور ابدالآباد تک باقی اور تمام قائم رہنے والے اللہ! اے آسمان و زمین کے ابتداءً پیدا کرنے والے۔ اے رب جلال اور بزرگی والے پروردگار تیرے سوا کوئی معبود نہیں، ہم تیری رحمت ہی سے استغاثہ کرتے ہیں ہمارے تمام کام تو بنا دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تو ہماری طرف نہ سونپ اور نہ اپنی مخلوق میں سے کسی کی طرف۔

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تو آیت «کُلُّ مَنْ علَيْهَا فَانٍ» ‏‏‏‏ پڑھے تو ٹھہر نہیں اور ساتھ ہی آیت «‏‏‏‏وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوْ الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» [55- الرحمن:27] ‏‏‏‏ پڑھ لے۔ اس آیت کا مضمون دوسری آیت میں ان الفاظ سے ہے «كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28- القص:88] ‏‏‏‏ سوائے ذات باری کے ہر چیز ناپید ہونے والی ہے، پھر اپنے چہرے کی تعریف میں فرماتا ہے وہ ذوالجلال ہے یعنی اس قابل ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کا جاہ و جلال مانا جائے اور اس کے احکام کی پوری اطاعت کی جائے اور اس کے فرمان کی خلاف ورزی سے رکا جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18- الكهف:28] ‏‏‏‏، جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں اور اسی کی ذات کے مرید ہیں تو انہی کے ساتھ اپنے نفس کو وابستہ رکھ۔ اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ «إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ» [76-الانسان:9] ‏‏‏‏ نیک لوگ صدقہ دیتے وقت سمجھتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے پلاتے ہیں، وہ کبریائی بڑائی عظمت اور جلال والا ہے، پس اس بات کو بیان فرما کر کہ تمام اہل زمین فوت ہونے میں اور پھر اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش ہونے میں برابر ہیں، اور اس دن وہ بزرگی والا اللہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ حکم فرمائے گا۔ ساتھ ہی فرمایا: اب تم اے جن و انس رب کی کون سی نعمت کا انکار کرتے ہو؟ پھر فرماتا ہے کہ وہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور کل مخلوق اس کی یکسر محتاج ہے- سب کے سب سائل ہیں اور وہ غنی ہے، سب فقیر ہیں اور وہ سب کے سوال پورے کرنے والا ہے، ہر مخلوق اپنے حال و قال سے اپنی حاجتیں اس کی بارگاہ میں لے جاتی ہے اور ان کے پورا ہونے کا سوال کرتی ہے۔ وہ ہر دن نئی شان میں ہے، اس کی شان ہے کہ ہر پکارنے والے کو جواب دے۔ مانگنے والے کو عطا فرمائے، تنگ حالوں کو کشادگی دے، مصیبت و آفات والوں کو رہائی بخشے، بیماروں کو تندرستی عنایت فرمائے، غم و وہم دور کرے، بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو قبول فرما کر اسے قرار اور آرام عنایت فرمائے۔ گنہگاروں کے واویلا پر متوجہ ہو کر خطاؤں سے درگزر فرمائے، گناہوں کو بخشے، زندگی وہ دے، موت وہ دے، تمام زمین والے، کل آسمان والے اس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اور دامن پھیلائے ہوئے ہیں، چھوٹوں کو بڑا وہ کرتا ہے، قیدیوں کو رہائی وہ دیتا ہے، نیک لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے والا، ان کی پکار کا مدعا، ان کے شکوے شکایت کا مراجع وہی ہے، غلاموں کو آزاد کرنے کی رغبت وہی دلانے والا اور ان کو اپنی طرف سے عطیہ وہی عطا فرماتا ہے یہی اس کی شان ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! وہ شان کیا ہے؟ فرمایا: ”گناہوں کو بخشنا، دکھ کو دور کرنا، لوگوں کو ترقی اور تنزلی پر لانا۔‏‏‏‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11،ضعیف] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں اور ابن عساکر میں بھی اسی کے ہم معنی ایک حدیث ہے۔ صحیح بخاری میں یہ روایت معلقاً سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے [مسند ابویعلی:ضعیف،2268] ‏‏‏‏ بزار میں بھی کچھ کمی کے ساتھ مرفوعًا مروی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے دونوں تختے سرخ یاقوت کے ہیں- اس کا علم نوری ہے، اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے، ہر نگاہ پر کسی کو زندگی دیتا ہے اور مارتا اور کسی کو عزت و ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

29۔ 1 یعنی سب اس کے محتاج اور اس کے در کے سوالی ہیں۔ 29۔ 2 ہر روز کا مطلب، ہر وقت۔ شان کے معنی امر یا معاملہ، یعنی ہر وقت وہ کسی نہ کسی کام میں مصروف ہے، کسی کو بیمار کر رہا ہے، کسی کو شفایاب، کسی کو تونگر کسی کو فقیر، کسی کو گدا سے شاہ اور شاہ سے گدا، کسی کو بلندیوں پر فائز کر رہا ہے، کسی کو پستی میں گرا رہا ہے کسی کو ہست سے نیست اور نیست کو ہست کر رہا ہے وغیرہ۔ الغرض کائنات میں یہ سارے تصرف اسی کے امرو مشیت سے ہو رہے ہیں اور شب و روز کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو اس کی کارگزاری سے خالی ہو۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 29) ➊ {يَسْـَٔلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یہ ہر چیز کے فانی ہونے اور اللہ تعالیٰ کے باقی ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ باقی ہے، کیونکہ وہ غنی ہے، اپنے وجود یا بقا یا کسی بھی چیز میں کسی دوسرے کا محتاج نہیں، مگر اس کے سوا جو بھی ہے خواہ آسمان ہوں یا زمین یا جو ان دونوں میں ہے، سب اپنے وجود، اپنی بقا اور اپنی ہر ضرورت کے لیے ہر لمحے اس کے محتاج ہیں۔ اپنی ہر ضرورت اسی سے مانگ رہے ہیں، کوئی زبانِ قال سے مانگ رہا ہے، کوئی زبانِ حال سے اور کوئی دونوں سے۔ جس کی زندگی کا ہر لمحہ مانگنے پر موقوف ہے وہ کیا خاک باقی رہے گا۔ ➋ { كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ:كُلَّ يَوْمٍ “} سے مراد ہر وقت ہے۔ {” شَاْنٍ “} میں تنوین تنکیر کے لیے ہے، یعنی وہ ہر لمحے ایک نئی سے نئی شان میں ہے، کسی کو پیدا کر رہا ہے اور کسی کو مار رہا ہے، کسی کو اٹھا رہا ہے اور کسی کو گرا رہا ہے، کسی کو بیمار کر رہا ہے اور کسی کو شفا بخش رہا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَدُ اللّٰهِ مَلَاٰی لاَ تَغِيْضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَ قَالَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِيْ يَدِهِ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَی الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْمِيْزَانُ يَخْفِضُ وَ يَرْفَعُ ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ ہود، باب قولہ: «‏‏‏‏وکان عرشہ علی الماء» : ۴۶۸۴ ] ”اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، کسی قسم کا خرچ کرنا اس میں کمی نہیں لاتا، رات دن بے حساب برسنے والا ہے۔ تم نے دیکھا اس نے جب سے آسمان و زمین پیدا کیے، کیا کچھ خرچ کیا، تو اس (خرچ کرنے)نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں ترازو ہے۔ نیچے کرتا ہے اور اونچا کرتا ہے۔“ اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے {” كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ “} کی تفسیر کے بیان میں روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مِنْ شَأْنِهٖ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا وَ يُفَرِّجَ كَرْبًا وَ يَرْفَعَ قَوْمًا وَ يَخْفِضَ آخَرِيْنَ ] [ ابن ماجہ، المقدمۃ، باب فیما أنکرت الجھمیۃ: ۲۰۲، و قال الألباني حسن ] ”اس کی شان سے ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی گناہ بخش رہا ہے، کوئی نہ کوئی مصیبت دور کر رہا ہے اور کسی قوم کو اونچا کر رہا ہے اور کسی کو نیچا کر رہا ہے۔“ ➌ اس میں یہود کا بھی ردّ ہے جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں زمین و آسمان پیدا فرمائے اور ہفتہ کے دن آرام کیا۔ فرمایا وہ ہر دن ہی نئی شان میں ہے، اسے نہ تھکاوٹ ہوتی ہے نہ آرام کی ضرورت ہے۔ ➍ یونان کے فلسفی آسمانی ہدایت سے محروم تھے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کا وجود ماننے کے باوجود اپنے دیوتاؤں کی گنجائش نکالنے کے لیے ایک قاعدہ وضع کیا، جو یہ تھا کہ ”ہر محل حوادث حادث ہوتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ قدیم ہے، ہمیشہ سے ہے، اس لیے اس پر حوادث نہیں آ سکتے۔“ افسوس! بعض مسلمان متکلمین نے بھی ان کا یہ قاعدہ تسلیم کر لیا۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کر دیا۔ بعض نے تاویل کی اور ایسی تاویل کی جو درحقیقت بدترین تحریف ہے۔ مثلاً اللہ کی صفت کلام ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِيْمًا» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۶۴ ] ”اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔“ اور فرمایا: «وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۶ ] ”اور اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دے، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَااَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» [ یٰسٓ: ۸۲ ] ”اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہو جا“ تو وہ ہو جاتی ہے۔ “ یہ ساری کائنات اس کے کلمۂ کن سے وجود میں آئی ہے۔ ظاہر ہے کلام کا ہر لفظ حادث ہے، پہلے موجود نہیں ہوتا، پھر وجود میں آتا ہے، اس لیے متکلمین نے اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے، سنتا ہے، اترتا ہے، بلند ہوتا ہے، خوش ہوتا ہے، ناراض ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ صفات اور اس جیسی دوسری صفات اللہ تعالیٰ میں ہمیشہ سے ہیں، ان کی انواع قدیم ہیں مگر افراد حادث ہیں، ان کا اظہار مختلف اوقات میں ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ جب چاہے کلام کرتا ہے، نیچے اترتا ہے، بلند ہوتا ہے، پیدا کرتا ہے، مارتا ہے، ہر ایک کو ہر لمحے روزی بخشتا ہے، ہر لمحے ہر ایک کو دیکھتا ہے، اس کی سنتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، مگر یونانی فلسفیوں کی تقلید میں متکلمین نے اللہ تعالیٰ کو سننے، دیکھنے، بولنے، خوش ہونے، ناراض ہونے، غرض اس طرح کی تمام صفات سے عاری قرار دیا۔ اس مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ آسمان و زمین کی ہر چیز کے سوال کو سنتا ہے اور ہر لمحے نئی سے نئی شان میں ہے؟ اب ہم یونان کے کافر فلاسفر اور ان کے مقلد بعض متکلمین کی بات مانیں کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی نئی شان وارد نہیں ہو سکتی یا اللہ تعالیٰ کی بات پر ایمان رکھیں کہ وہ ہر لمحے ایک نئی سے نئی شان میں ہے؟ ظاہر ہے جس کے دل میں ایمان ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کی بات مانے گا، خواہ کوئی فلسفی اسے مانے یا نہ مانے۔
← پچھلی آیت (28) پوری سورۃ اگلی آیت (30) →