بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الرحمٰن — Surah Rahman
آیت نمبر 33
کل آیات: 78
قرآن کریم الرحمٰن آیت 33
آیت نمبر: 33 — سورۃ الرحمٰن islamicurdubooks.com ↗
یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ ﴿ۚ۳۳﴾
اے گروہ جن و انس، گر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو نہیں بھاگ سکتے اِس کے لیے بڑا زور چاہیے
اے گروه جنات و انسان! اگر تم میں آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو نکل بھاگو! بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے
اے جن و انسان کے گروہ اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، جہاں نکل کر جاؤ گے اسی کی سلطنت ہے
اے گروہِ جن و انس! اگر تم سے ہو سکے تو تم آسمانوں اور زمین کی حدود سے باہر نکل جاؤ (لیکن) تم طاقت اور زور کے بغیر نہیں نکل سکتے۔
اے جن و انس کی جماعت! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، کسی غلبے کے سوا نہیں نکلو گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بطور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آ گیا ہے، اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے، اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا۔ محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے، جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نپٹنے کو نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ «الثَّقَلَان» سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے «‏‏‏‏ثقلین» کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے۔ [صحیح بخاری:1338] ‏‏‏‏ اور حدیث «صور» میں صاف ہے کہ «ثقلین» یعنی جن و انس، پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو؟ اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہٰ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الٰہی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ» * «كَلَّا لَا وَزَرَ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [75-القيامة:10-12] ‏‏‏‏ ’ انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے‘۔ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [10-یونس:27] ‏‏‏‏ یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔ «شُوَاظٌ» کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کے اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے۔ «‏‏‏‏نُحَاسٌ» کہتے ہیں دھویں کو، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔ ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «شواظ» سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا۔ اور «‏‏‏‏نُحَاسٌ» کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:597/11] ‏‏‏‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «نُحَاسٌ» سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے، تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو، نہ انہیں دفع کر سکتے ہو، نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے؟۔

📖 احسن البیان

33۔ 1 یہ تہدید بھی نعمت ہے کہ اس سے بدکار، بدیوں کے ارتکاب سے باز آجائے اور محسن زیادہ نیکیاں کمائے۔ (2) یعنی اگر اللہ کی تقدیر اور قضا سے تم بھاگ کر کہیں جاسکتے ہو تو چلے جاؤ لیکن یہ طاقت کس میں ہے؟ اور بھاگ کر آخر کہاں جائے گا کون سی جگہ ایسی ہے، جو اللہ کے اختیار سے باہر ہو، بعض نے کہا کہ یہ میدان محشر میں کہا جائے گا، جبکہ فرشتے ہر طرف سے لوگوں کو گھیر رکھے ہونگے۔ دونوں ہی مفہوم اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 33){ يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ …:”مَعْشَرٌ“ ”عَشْرٌ“} سے {”مَفْعَلٌ“} کے وزن پر ہے، کثیر التعداد جماعت کو کہتے ہیں، کیونکہ اس میں بہت سے عشرات پائے جاتے ہیں، جن کا شمار یکے بعد دیگرے دہائیوں میں ہوتا ہے۔ {” اَقْطَارِ”قَطْرٌ“} کی جمع ہے، کنارا۔ {”سُلْطَانٌ“} قدرت اور غلبہ۔ یعنی اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! دنیا میں اگر تم موت سے بچنے کے لیے آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جاؤ، مگر تم اللہ تعالیٰ پر غالب آ کر ہی نکل سکو گے، جس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَيَّدَةٍ» ‏‏‏‏ [ النساء: ۷۸ ] ”تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمھیں پا لے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔“ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے محاسبے اور اس کی گرفت سے بچنے کے لیے اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جاؤ…۔ اس سے ملتا جلتا مفہوم اس آیت کا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ (7) وَ خَسَفَ الْقَمَرُ (8) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ (9) يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ (10) كَلَّا لَا وَزَرَ (11) اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِ الْمُسْتَقَرُّ» [ القیامۃ: ۷ تا ۱۲ ] ”پھر جب آنکھ پتھرا جائے گی۔ اور چاند گہنا جائے گا۔ اور سورج اور چاند اکٹھے کر دیے جائیں گے۔ انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ ہرگز نہیں، پناہ کی جگہ کوئی نہیں۔ اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔“ آج کل راکٹ یا خلائی گاڑی کے ذریعے سے چاند پر یا کسی اور کُرے پر جانے کے تجربات ہو رہے ہیں، بعض لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ {” لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ “} (تم غلبے کے بغیر نہیں نکل سکو گے) سے مراد یہ ہے کہ ان مشینوں کے ذریعے سے {” اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} سے نکلنا ممکن ہے، حالانکہ ان کوششوں کی آیت کے مفہوم کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں۔ یہ بے چارے تو زمین و آسمان کے درمیان خلا میں پھر رہے ہیں، آسمان و زمین کے کناروں تک رسائی تو بہت دور ہے۔ پھر وہ ذرۂ بے مقدار، جس کا ایک سانس بھی اس کے اپنے اختیار میں نہیں، وہ اپنی قوت کے ساتھ {” اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} سے نکلنے کی بات کرے تو یہی کہا جا سکتا ہے: بت کریں آرزو خدائی کی شان ہے تیری کبریائی کی
← پچھلی آیت (32) پوری سورۃ اگلی آیت (34) →