بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الرحمٰن — Surah Rahman
آیت نمبر 4
کل آیات: 78
قرآن کریم الرحمٰن آیت 4
آیت نمبر: 4 — سورۃ الرحمٰن islamicurdubooks.com ↗
عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ ﴿۴﴾
اور اسے بولنا سکھایا
اور اسے بولنا سکھایا
ما کان وما یکون کا بیان انہیں سکھایا
اسی نے اسے بولنا (مافی الضمیر بیان کرنا) سکھایا۔
اسے بات کرنا سکھایا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تفسیر سورۂ رحمٰن ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں «بیان» سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے، خواہ حلق سے نکلتا ہو، خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ‏‏‏‏ سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں، نہ ان میں اختلاف ہو، نہ اضطراب، نہ یہ آگے بڑھے، نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے۔ اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] ‏‏‏‏ الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏ اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم» قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] ‏‏‏‏ الخ، ’ کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ‘۔

📖 احسن البیان

4۔ 3 اس بیان سے مراد ہر شخص کی اپنی مادری بولی ہے جو بغیر سیکھے از خود ہر شخص بول لیتا اور اس میں اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرلیتا ہے، حتیٰ کے وہ چھوٹا بچہ بھی بول لیتا ہے، جس کو کسی بات کا علم اور شعور نہیں ہوتا۔ یہ تعلیم الٰہی کا نتیجہ ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 4) {عَلَّمَهُ الْبَيَانَ:} سکھانے میں بہت سی چیزیں شامل ہیں، یعنی اس میں بیان کی صلاحیت رکھی، اسے اپنے مطلب کے اظہار کے لیے مختلف زبانوں کے الفاظ وضع کرنے اور ان کے استعمال کا سلیقہ بخشا، جس سے ہزاروں زبانیں وجود میں آئیں اور اسے قدرت دی کہ اپنا ما فی الضمیرنہایت وضاحت اور حسن و خوبی کے ساتھ ادا کر سکے اور دوسروں کی بات سمجھ سکے۔ اپنی اس صفت کی بدولت وہ خیر و شر، ہدایت و ضلالت، ایمان و کفر اور دنیا و آخرت کی باتیں سمجھتا اور سمجھاتا ہے اور اس کو کام میں لا کر فائدہ اٹھاتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۳۱): «‏‏‏‏وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا» اور سورۂ روم کی آیت (۲۲): «‏‏‏‏وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔ یہ جملہ بھی لفظ{ ” اَلرَّحْمٰنُ “} کی خبر ہے اور فعل کی صورت میں آنے سے اس میں بھی پچھلے جملوں کی طرح تخصیص پیدا ہو رہی ہے۔
← پچھلی آیت (3) پوری سورۃ اگلی آیت (5) →