بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الرحمٰن — Surah Rahman
آیت نمبر 24
کل آیات: 78
قرآن کریم الرحمٰن آیت 24
آیت نمبر: 24 — سورۃ الرحمٰن islamicurdubooks.com ↗
وَ لَہُ الۡجَوَارِ الۡمُنۡشَئٰتُ فِی الۡبَحۡرِ کَالۡاَعۡلَامِ ﴿ۚ۲۴﴾
اور یہ جہاز اُسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں
اور اللہ ہی کی (ملکیت میں) ہیں وه جہاز جو سمندروں میں پہاڑ کی طرح بلند (چل پھر رہے) ہیں
اور اسی کی ہیں وہ چلنے والیاں کہ دریا میں اٹھی ہوئی ہیں جیسے پہاڑ
اور اسی کے لئے وہ (جہاز) ہیں جو سمندروں میں پہاڑوں کی طرح اٹھے ہوئے ہیں۔
اور اسی کے ہیں بادبان اٹھائے ہوئے جہاز سمندر میں، جو پہاڑوں کی طرح ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏‏‏‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

سورۃ الفرقان کی آیت «‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏‏‏‏ [25- الفرقان:53] ‏‏‏‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے- امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏‏‏‏ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں- بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏‏‏‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔

📖 احسن البیان

24۔ 1 یعنی بلندی ہوئیں، مراد بادبان ہیں، جو بادبانی کشتیوں میں جھنڈوں کی طرح اونچے اور بلند بنائے جاتے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی مصنوعات کے کئے ہیں، یعنی اللہ کی بنائی ہوئی جو سمندر میں چلتی ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 25،24) {وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَـٰٔتُ فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ …: ” الْمُنْشَـٰٔتُ”أَنْشَأَ يُنْشِئُ“} (افعال) (بنانا) سے اسم مفعول ہے، پہاڑوں جیسے لمبے چوڑے اور کئی منزلہ اونچے بحری جہاز ”جو بنائے گئے ہیں۔“ اس میں بحری جہاز بنانے کا طریقہ سکھانے کی نعمت کی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سکھانے سے انسان چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جوڑتے ہوئے کتنا بڑا بحری جہاز بنا لیتا ہے۔ طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے {” الْمُنْشَـٰٔتُ “} کا ایک اور معنی بھی نقل فرمایا ہے: {”مَا رُفِعَ قِلَعُهٗ مِنَ السُّفُنِ فَهِيَ مُنْشَئَاتٌ وَ إِذَا لَمْ يُرْفَعْ قِلَعُهَا فَلَيْسَتْ بِمُنْشَئَاتٍ“} ”وہ جہاز جن کے بادبان اٹھائے ہوئے ہوں وہ {” مُنْشَئَاتٌ“} ہیں اور جب ان کے بادبان اٹھائے ہوئے نہ ہوں تو وہ {” مُنْشَئَاتٌ“} نہیں ہیں۔“ واضح رہے کہ انجن کی ایجاد سے پہلے بحری جہازوں کا سفر موافق ہواؤں کے ذریعے سے ہوتا تھا۔ چنانچہ اونچے اونچے ستونوں کے ساتھ کپڑے باندھ دیے جاتے، ہوا انھیں دھکیلتی ہوئی منزلِ مقصود پر پہنچا دیتی، انھیں بادبان کہا جاتا تھا۔ ”باد“ ہوا کو کہتے ہیں۔ اگر کہیں رکنا مقصود ہوتا تو وہ کپڑے اکٹھے کر دیے جاتے، اسے بادبان گرانا کہا جاتا تھا۔ اس معنی کے لحاظ سے بحری جہازوں پر اللہ تعالیٰ کی ایک اور نعمت کا ذکر ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ شوریٰ (۳۳) کی تفسیر۔ {” وَ لَهُ الْجَوَارِ “} میں {” لَهُ “} کو پہلے لانے سے تخصیص پیدا ہو گئی کہ یہ جہاز، ان کے بنانے کا طریقہ سکھانا، ہزاروں ٹن وزنی ہونے کے باوجود انھیں سمندر کے سینے پر قائم رکھنا اور ڈوبنے نہ دینا اور لوگوں کو اور ان کے سامان کو دور دراز ملکوں تک پہنچانا وغیرہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔
← پچھلی آیت (23) پوری سورۃ اگلی آیت (25) →