بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الرحمٰن — Surah Rahman
آیت نمبر 54
کل آیات: 78
قرآن کریم الرحمٰن آیت 54
آیت نمبر: 54 — سورۃ الرحمٰن islamicurdubooks.com ↗
مُتَّکِـِٕیۡنَ عَلٰی فُرُشٍۭ بَطَآئِنُہَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ ؕ وَ جَنَا الۡجَنَّتَیۡنِ دَانٍ ﴿ۚ۵۴﴾
جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، اور باغوں کی ڈالیاں پھلوں سے جھکی پڑ رہی ہوں گی
جنتی ایسے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، اور ان دونوں جنتوں کے میوے بالکل قریب ہوں گے
اور ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے جن کا اَستر قناویز کا اور دونوں کے میوے اتنے جھکے ہوئے کہ نیچے سے چن لو
وہ ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے۔
ایسے بستروں پر تکیہ لگائے ہوئے ، جن کے استر موٹے ریشم کے ہیں اور دونوں باغوں کا پھل قریب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جنت یافتہ لوگ ٭٭

جنتی لوگ بےفکری سے تکئيے لگائے ہوئے ہوں گے، خواہ لیٹے ہوئے ہوں خواہ باآرام بیٹھے ہوئے تکیہ سے لگے ہوئے ہوں، ان کے بچھاؤنے بھی اتنے بڑھیا ہوں گے کہ ان کے اندر کا استر بھی دبیز اور خالص زرین ریشم کا ہو گا، پھر اوپر کا ابرا کچھ ایسا ہو گا، اسے تم خود سوچ لو۔ مالک بن دینار اور سفیان ثوری رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں استر کا یہ حال ہے اور ابرا تو محض نورانی ہو گا- جو سراسر اظہار رحمت و نور ہو گا۔ پھر اس پر بہترین گلکاریاں ہوں گی، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان جنتوں کے پھل جنتیوں سے بالکل قریب ہیں۔ جب چاہے جس حال میں چاہیں وہاں سے لے لیں، لیٹے ہوں تو بیٹھا ہونے کی اور بیٹھے ہوں تو کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں، خودبخود شاخیں جھوم جھوم کر جھکتی رہتی ہیں۔ جیسے فرمایا «‏‏‏‏قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ» [69- الحاقة:23] ‏‏‏‏ اور فرمایا «‏‏‏‏وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا» ‏‏‏‏ [76- الإنسان:14] ‏‏‏‏ الخ، یعنی بے حد قریب میوے ہیں لینے والے کو کوئی تکلیف یا تکلف کی ضرورت نہیں، خود شاخیں جھک جھک کر انہیں میوے دے رہی ہیں پس تم اپنے رب کی نعمتوں کے انکار سے باز رہو۔

📖 احسن البیان

54۔ 1 ابری یعنی اوپر کا کپڑا ہمیشہ استر سے بہتر اور خوبصورت ہوتا ہے، یہاں صرف استر کا بیان ہے، جس کا مطلب ہے کہ اوپر (ابری) کا کپڑا اس سے کہیں زیادہ عمدہ ہوگا۔ 54۔ 2 اتنے قریب ہونگے کہ بیٹھے بیٹھے بلکہ لیٹے لیٹے بھی توڑ سکیں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 54) ➊ { مُتَّكِـِٕيْنَ عَلٰى فُرُشٍ …: ” مُتَّكِـِٕيْنَ”وَكِئَ“} سے {”اِتَّكَأَ يَتَّكِئُ اِتِّكَاءً “} (افتعال) سے اسم فاعل {”مُتَّكِئٌ“} کی جمع ہے، پہلو پر کہنی کے سہارے لیٹے ہوئے یا ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے شخص کو کہتے ہیں۔{ ” فُرُشٍ“ ”فِرَاشٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”كِتَابٌ“} کی جمع {” كُتُبٌ“} ہے۔ {”بَطَائِنٌ“بِطَانَةٌ “} کی جمع ہے، گدے کے بیرونی حصے کو {” ظِهَارَةٌ “} اور اندرونی حصے کو {”بِطَانَةٌ “} کہتے ہیں۔ اردو میں {” بِطَانَةٌ “} کو استر اور {”ظِهَارَةٌ “} کو ابرا کہتے ہیں۔ {” اِسْتَبْرَقٍ “} موٹا ریشم جس میں سونے کی تاریں ہوں۔ یعنی اپنے رب سے ڈرنے والے یہ جنتی بے فکری کے ساتھ ایسے بستروں پر ٹیک لگا کر بیٹھے یا لیٹے ہوں گے جن کے استر موٹے ریشم کے ہوں گے۔ جب استر ایسے ہوں گے تو ابرے کس شان کے ہوں گے۔ ➋ { وَ جَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ:” جَنَا”جَنٰي يَجْنِيْ“} (ض) (پھل چننا) سے مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، پھل۔ {” دَانٍ”دَنَا يَدْنُوْ دُنُوًّا “} (ن) سے اسم فاعل ہے، قریب۔ یعنی دونوں باغوں کا پھل قریب ہو گا، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے جب چاہیں گے چن سکیں گے۔
← پچھلی آیت (53) پوری سورۃ اگلی آیت (55) →