لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے انسانو!) اپنے اس پروردگار سے ڈرو۔ جس نے تمہیں ایک متنفس سے پیدا کیا اور اس کا جوڑا بھی اسی سے (اس کی جنس سے) پیدا کیا اور پھر انہی دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔ اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو۔ اور رشتہ قرابت کے بارے میں بھی ڈرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تم پر حاضر و ناظر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی پیدا کی اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتوں سے بھی، بے شک اللہ ہمیشہ تم پر پورا نگہبان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محبت و مودت کا آفاقی اصول ٭٭
محبت و مودت کا آفاقی اصول اللہ تعالیٰ اپنے تقوے کا حکم دیتا ہے کہ جسم سے اسی ایک ہی کی عبادتیں کی جائیں اور دل میں صرف اسی کا خوف رکھا جائے، پھر اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے تم سب کو ایک ہی شخص یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے، ان کی بیوی یعنی حواء علیہما السلام کو بھی انہی سے پیدا کیا، آپ سوئے ہوئے تھے کہ بائیں طرف کی پسلی کی پچھلی طرف سے حواء کو پیدا کیا، آپ نے بیدار ہو کر انہیں دیکھا اور اپنی طبیعت کو ان کی طرف راغب پایا اور انہیں بھی ان سے انس پیدا ہوا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں عورت مرد سے پیدا کی گئی ہے اس لیے اس کی حاجت و شہوت مرد میں رکھی گئی ہے اور مرد زمین سے پیدا کئے گئے ہیں اس لیے ان کی حاجت زمین میں رکھی گئی ہے۔ پس تم اپنی عورتوں کو روکے رکھو، صحیح حدیث میں ہے عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور سب سے بلند پسلی سب سے زیادہ ٹیڑھی ہے پس اگر تو اسے بالکل سیدھی کرنے کو جائے گا تو توڑ دے گا اور اگر اس میں کچھ کجی باقی چھوڑتے ہوئے فائدہ اٹھانا چاہے گا تو بیشک فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3331]
پھر فرمایا ان دونوں سے یعنی آدم اور حواء سے بہت سے انسان مردو عورت چاروں طرف دنیا میں پھیلا دیئے جن کی قسمیں، صفتیں، رنگ روپ، بول چال میں بہت کچھ اختلاف ہے، جس طرح یہ سب پہلے اللہ تعالیٰ کے قبضے میں تھے اور پھر انہیں اس نے ادھر ادھر پھیلا دیا، ایک وقت ان سب کو سمیٹ کر پھر اپنے قبضے میں کر کے ایک میدان میں جمع کرے گا۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو اس کی اطاعت، عبادت بجا لاتے رہو، اسی اللہ کے واسطے سے اور اسی کے پاک نام پر تم آپس میں ایک دوسرے سے مانگتے ہو، مثلاً یہ کہنا کہ میں تجھے اللہ کو یاد دلا کر اور رشتے کو یاد دلا کر یوں کہتا ہوں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:519/7] اسی کے نام کی قسمیں کھاتے ہو اور عہد و پیمان مضبوط کرتے ہو، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:518/7] اللہ جل شانہ سے ڈر کر رشتوں ناتوں کی حفاظت کرو انہیں توڑو نہیں بلکہ جوڑو صلہ رحمی، نیکی اور سلوک آپس میں کرتے رہو ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:519/7-522]
«ارحام» بھی ایک قرأت میں ہے یعنی اللہ کے نام پر اور رشتے کے واسطے سے، اللہ تعالیٰ تمہارے تمام احوال اور اعمال سے واقف ہے خوب دیکھ بھال رہا ہے، جیسے اور جگہ ہے: «وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ» ۱؎ [85-البروج:9] یعنی ’ اللہ ہر چیز پر گواہ اور حاضر ہے ‘، صحیح حدیث میں ہے اللہ عزوجل کی ایسی عبادت کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ ہی رہا ہے، ۱؎ [صحیح بخاری:50] مطلب یہ ہے کہ اس کا لحاظ رکھو جو تمہارے ہر اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے پر نگراں ہے، یہاں فرمایا گیا کہ لوگو تم سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہو ایک دوسرے پر شفقت کیا کرو، کمزور اور ناتواں کا ساتھ دو اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب قبیلہ مضر کے چند لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چادریں لپیٹے ہوئے آئے کیونکہ ان کے جسم پر کپڑا تک نہ تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز ظہر کے بعد وعظ بیان فرمایا جس میں اس آیت کی تلاوت کی پھر آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [59-الحشر:18] کی تلاوت کی، پھر لوگوں کو خیرات کرنے کی ترغیب دی چنانچہ جس سے جو ہو سکا ان لوگوں کے لیے دیا درہم و دینار بھی اور کھجور و گیہوں بھی ۱؎ [صحیح مسلم:1017] یہ حدیث، مسند اور سنن میں خطبہ حاجات کے بیان میں ہے ۱؎ [سنن ابوداود:2118،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر تین آیتیں پڑھیں جن میں سے ایک آیت یہی «اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ» ہے۔
اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (1) اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو (2) بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔
سورۂ نساء مدنی ہے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ سورۂ بقرہ اور سورۂ نساء ایسے زمانے میں نازل ہوئیں جب میں (رخصتی کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آ چکی تھی۔ [ بخاری، فضائل القرآن، باب تألیف القرآن: ۴۹۹۳ ] اس سورت میں عورتوں سے متعلقہ مسائل کی وجہ سے اس کا نام سورۂ نساء ہے۔ (آیت 1) ➊ {خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ:} یعنی پوری نوع انسانی آدم علیہ السلام کی نسل سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) لوگ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے، اے آدم! آپ انسانوں کے باپ ہیں، آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «و لقد أرسلنا …» : ۳۳۴۰، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ایک جان سے پیدا کرنے سے یہ توجہ دلانا بھی مقصود ہے کہ تم تمام انسان ایک شخص کی اولاد ہو، کوئی اور رشتہ داری نہ ہو تو یہ رشتہ داری کیا کم ہے، اس کا خیال ہی رکھو اور اپنے کمزوروں کی مدد کرتے رہو۔ ➋ {وَ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور پسلی میں سب سے ٹیڑھا حصہ اوپر کا ہوتا ہے، سو اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ بیٹھو گے اور اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو اس طرح فائدہ اٹھا ؤ گے کہ اس میں برابر ٹیڑھا پن ہو گا۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم و ذریتہ: ۳۳۳۱، ۵۱۸۴، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] بعض روایات میں ہے: [وَ كَسْرُهَا طَلاَقُهَا ] ” اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔“ [ مسلم، الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء: 715/59 بعد ح: ۱۴۶۶۔ بخاری: ۵۱۸۴ ] قرآن کی آیت سے معلوم ہوا کہ حواء علیھا السلام آدم علیہ السلام سے پیدا ہوئیں۔ حدیث سے ثابت ہوا کہ پسلی سے پیدا ہوئیں، اس کی کیفیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان نہیں کی۔ بعض لوگ اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ عورت میں کچھ ٹیڑھا پن رہتا ہی ہے، اس لیے اسے پسلی سے تشبیہ دی گئی ہے، مگر قرآن کے صریح الفاظ کہ آدم سے اس کی بیوی کو پیدا کیا، ان کے ساتھ حدیث ملائیں تو اس کا پسلی سے پیدا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ہاں، اس کی کجی بھی اپنی جگہ درست ہے۔ ➌ {تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ:} یعنی جس اللہ کا نام لے کر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اس اللہ سے ڈرو۔ { ”وَ الْاَرْحَامَ“ } اس کا عطف لفظ {” اللّٰهَ “} پر ہے، یعنی {”وَاتَّقُوا الْأَرْحَامَ“} کہ قطع رحمی اور رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی سے بچو۔ { ”الْاَرْحَامَ“ } کو میم کے کسرہ سے پڑھنا غلط ہے اور قواعد نحویہ کی رو سے بھی ٹھیک نہیں، ہاں معنی کے اعتبار سے صحیح ہے، یعنی جس رشتہ داری کے نام پر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو۔ (قرطبی) شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تمام علمائے شریعت و لغت کا اتفاق ہے کہ {”الْاَرْحَامَ“} سے محرم اور غیر محرم تمام رشتے مراد ہیں۔ قرآن و حدیث میں قطع رحمی کی بہت مذمت آئی ہے۔ دیکھیے سورۂ محمد (۲۲،۲۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رشتے داری کو توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔“ [ بخاری، الأدب، باب إثم القاطع: ۵۹۸۴، عن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ] اور فرمایا: ”جو شخص چاہے کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کے نشانِ(قدم) دیر تک رکھے جائیں وہ اپنی رشتے داری کو ملائے۔“ [ بخاری، الأدب، باب فضل صلۃ الرحم…: ۵۹۸۳، عن أبی أیوب الأنصاری رضی اللہ عنہ ] ➍ {رَقِيْبًا:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، سو اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۵۰۔ مسلم: ۸، عن أبی ہریرۃ و عمر رضی اللہ عنہما ]
یتیموں کے مال اُن کو واپس دو، اچھے مال کو برے مال سے نہ بدل لو، اور اُن کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ، یہ بہت بڑا گناہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور پاک اور حلال چیز کے بدلے ناپاک اور حرام چیز نہ لو، اور اپنے مالوں کے ساتھ ان کے مال ملا کر کھا نہ جاؤ، بے شک یہ بہت بڑا گناه ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یتیموں کو ان کے مال دو اور ستھرے کے بدلے گندا نہ لو اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور یتیموں کے مال ان کے سپرد کرو۔ اور پاک مال کے بدلے ناپاک مال حاصل نہ کرو۔ اور ان کے مالوں کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ۔ بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور گندی چیز کو اچھی چیز کے عوض بدل کر نہ لو اور نہ ان کے اموال اپنے مالوں سے ملا کر کھائو، یقینا یہ ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یتیموں کی نگہداشت اور چار شادیوں کی اجازت ٭٭
اللہ تعالیٰ یتیموں کے والیوں کو حکم دیتا ہے کہ جب یتیم بلوغت اور سمجھداری کو پہنچ جائیں تو ان کے جو مال تمہارے پاس ہوں انہیں سونپ دو، پورے پورے بغیر کمی اور خیانت کے ان کے حوالے کرو، اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر گڈمڈ کر کے کھا جانے کی نیت نہ رکھو، حلال رزق جب اللہ رحیم تمہیں دے رہا ہے پھر حرام کی طرف کیوں منہ اٹھاؤ؟ تقدیر کی روزی مل کر ہی رہے گی اپنے حلال مال چھوڑ کر لوگوں کے مالوں کو جو تم پر حرام ہیں نہ لو، دبلا پتلا جانور دے کر موٹا تازہ نہ لو، بوٹی دے کر بکرے کی فکر نہ کرو، ردی دے کر اچھے کی اور کھوٹا دے کر کھرے کی نیت نہ رکھو، پہلے لوگ ایسا کر لیا کرتے تھے کہ یتیموں کی بکریوں کے ریوڑ میں سے عمدہ بکری لے لی اور اپنی دبلی پتلی بکری دے کر گنتی پوری کر دی، کھوٹا درہم اس کے مال میں ڈال کر کھرا نکال لیا اور پھر سمجھ لیا کہ ہم نے تو بکری کے بدلے بکری اور درہم کے بدلے درہم لیا ہے۔ ان کے مالوں میں اپنا مال خلط ملط کر کے پھر یہ حیلہ کر کے اب امتیاز کیا ہے؟ ان کے مال تلف نہ کرو، یہ بڑا گناہ ہے، ایک ضعیف حدیث میں بھی یہی معنی آخری جملے کے مروی ہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:525/7:ضعیف] ابوداؤد کی حدیث میں ایک دعا میں بھی «حوب» کا لفظ گناہ کے معنی میں آیا ہے ۱؎ [سنن ابوداود:3892،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے جب اپنی بیوی صاحبہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا تھا کہ اس طلاق میں گناہ ہے، ۱؎ [طبرانی کبیر:136/25:ضعیف] چنانچہ وہ اپنے ارادے سے باز رہے، ایک روایت میں یہ واقعہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا مروی ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:302/2:ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ تمہاری پرورش میں کوئی یتیم لڑکی ہو اور تم اس سے نکاح کرنا چاہتے ہو لیکن چونکہ اس کا کوئی اور نہیں اس لیے تم تو ایسا نہ کرو کہ مہر اور حقوق میں کمی کر کے اسے اپنے گھر ڈال لو اس سے باز رہو اور عورتیں بہت ہیں جس سے چاہو نکاح کر لو۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک یتیم لڑکی تھی جس کے پاس مال بھی تھا اور باغ بھی جس کی پرورش میں وہ تھی اس نے صرف اس مال کے لالچ میں بغیر اس کا پورا مہر وغیرہ مقرر کرنے کے اس سے نکاح کر لیا جس پر یہ آیت اتری میرا خیال ہے کہ اس باغ اور مال میں یہ لڑکی حصہ دار تھی ۱؎ [صحیح بخاری:4573] صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا: بھانجے، یہ ذکر اس یتیم لڑکی کا ہے جو اپنے ولی کے قبضہ میں ہے اس کے مال میں شریک ہے اور اسے اس کا مال و جمال اچھا لگتا ہے چاہتا ہے کہ اس سے نکاح کر لے لیکن جو مہر وغیرہ اور جگہ سے اسے ملتا ہے اتنا یہ نہیں دیتا تو اسے منع کیا جا رہا ہے کہ وہ اس اپنی نیت کو چھوڑ دے اور کسی دوسری عورت سے جس سے چاہے اپنا نکاح کر لے، پھر اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی بابت دریافت کیا اور آیت «وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ» ۱؎ [4-النساء:127] نازل ہوئی وہاں فرمایا گیا ہے کہ جب یتیم لڑکی کم مال والی اور کم جمال والی ہوتی ہے اس وقت تو اس کے والی اس سے بیرغبتی کرتے ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ مال و جمال پر مائل ہو کر اس کے پورے حقوق ادا نہ کر کے اس سے اپنا نکاح کر لیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4574]
ہاں عدل و انصاف سے پورا مہر وغیرہ مقرر کریں تو کوئی حرج نہیں، ورنہ پھر عورتوں کی کمی نہیں اور کسی سے جس سے چاہیں نکاح کر لیں اگر چاہیں دو دو عورتیں اپنے نکاح میں رکھیں اگر چاہیں تین تین رکھیں اگر چاہیں چار چار، جیسے اور جگہ یہ الفاظ ان ہی معنوں میں ہیں، فرماتا ہے: «الْحَمْدُ لِلَّـهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ» [35- فاطر:1] الخ یعنی ’ جن فرشتوں کو اللہ تعالیٰ اپنا قاصد بنا کر بھیجتا ہے ان میں سے بعض دو دو پروں والے ہیں بعض تین تین پروں والے بعض چار پروں والے فرشتوں میں اس سے زیادہ پر والے فرشتے بھی ہیں ‘ کیونکہ دلیل سے یہ ثابت شدہ ہے۔ لیکن مرد کو ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویوں کا جمع کرنا منع ہے جیسے کہ اس آیت میں موجود ہے اور جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جمہور کا قول ہے، یہاں اللہ تعالیٰ اپنے احسان اور انعام بیان فرما رہا ہے پس اگر چار سے زیادہ کی اجازت دینی منظور ہوتی تو ضرور فرما دیا جاتا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حدیث جو قرآن کی وضاحت کرنے والی ہے اس نے بتلا دیا ہے کہ سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کے لیے چار سے زیادہ بیویوں کا بیک وقت جمع کرنا جائز نہیں اسی پر علماء کرام کا اجماع ہے۔ البتہ بعض شیعہ کا قول ہے کہ نو تک جمع کرنی جائز ہیں، بلکہ بعض شیعہ نے تو کہا ہے کہ نو سے بھی زیادہ جمع کر لینے میں بھی کوئی حرج نہیں کوئی تعداد مقرر ہے ہی نہیں، ان کا استدلال ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں آ چکا ہے کہ آپ کی نو بیویاں تھیں ۱؎ [صحیح بخاری:5067] اور بخاری شریف کی معلق حدیث کے بعض راویوں نے گیارہ کہا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:267]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے پندرہ بیویوں سے عقد کیا تیرہ کی رخصتی ہوئی ایک وقت میں گیارہ بیویاں آپ کے پاس تھیں۔ انتقال کے وقت آپ کی نو بیویاں تھیں ۱؎ [بیہقی:289:مرسل] ہمارے علماء کرام رحمہ اللہ علیہم اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ آپ کی خصوصیت تھی امتی کو ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں پاس رکھنے کی اجازت نہیں، جیسے کہ یہ حدیثیں اس امر پر دلالت کرتی ہیں، سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوتے ہیں تو ان کے پاس ان کی دس بیویاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ان میں سے جنہیں چاہو چار رکھ لو باقی کو چھوڑ دو چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر سیدنا رضی اللہ عنہ عمر کی خلافت کے زمانے میں اپنی ان بیویوں کو بھی طلاق دے دی اور اپنے لڑکوں کو اپنا مال بانٹ دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا شاید تیرے شیطان نے بات اچک لی اور تیرے دل میں خیال جما دیا ہے کہ تو عنقریب مرنے والا ہے اس لیے اپنی بیویوں کو تو نے بھی الگ کر دیا کہ وہ تیرا مال نہ پائیں اور اپنا مال اپنی اولاد میں تقسیم کر دیا میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ اپنی بیویوں سے رجوع کر لے اور اپنی اولاد سے مال واپس لے لے اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے بعد تیری ان مطلقہ بیویوں کو بھی تیرا وارث بناؤں گا کیونکہ تو نے انہیں اسی ڈر سے طلاق دی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ تیری زندگی بھی اب ختم ہونے والی ہے اور اگر تو نے میری بات نہ مانی تو یاد رکھ میں حکم دوں گا کہ لوگ تیری قبر پر پتھر پھینکیں جیسے کہ ابو رغال کی قبر پر پتھر پھینکے جاتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:1128،قال الشيخ الألباني:صحیح] (مسند احمد شافعی ترمذی ابن ماجہ دارقطنی بیہقی وغیرہ)
مرفوع حدیث تک تو ان سب کتابوں میں ہے ہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والا واقعہ صرف مسند احمد میں ہی ہے لیکن یہ زیادتی حسن ہے، اگرچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے اور اس کی اسناد کا دوسرا طریقہ بتا کر اس طریقہ کو غیر محفوظ کہا ہے مگر اس تعلیل میں بھی اختلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور بزرگ محدثین نے بھی اس پر کلام کیا ہے لیکن مسند احمد والی حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور شرط شیخین پر ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ یہ دس عورتیں بھی اپنے خاوند کے ساتھ مسلمان ہوئی تھیں ملاحظہ ہو۔ ۱؎ [بیہقی:183/7:حسن] اس حدیث سے صاف ظاہر ہو گیا کہ اگر چار سے زیادہ کا ایک وقت میں نکاح میں رکھنا جائز ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے یہ نہ فرماتے کہ اپنی ان دس بیویوں میں سے چار کو جنہیں تم چاہو روک لو باقی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ سب بھی اسلام لا چکی تھیں، یہاں یہ بات بھی خیال میں رکھنی چاہیئے کہ ثقفی کے ہاں تو یہ دس عورتیں بھی موجود تھیں اس پر بھی آپ نے چھ علیحدہ کرا دیں پھر بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص نئے سرے سے چار سے زیادہ جمع کرے؟ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ با الصواب»
چار سے زائد نہیں، وہ بھی بشرط انصاف ورنہ ایک ہی بیوی! ٭٭
دوسری حدیث ابوداؤد ابن ماجہ وغیرہ میں ہے سیدنا عمیرہ اسدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جس وقت اسلام قبول کیا میرے نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے فرمایا: ”ان میں سے جن چار کو چاہو رکھ لو“ ۱؎ [سنن ابوداود:2241/2242،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کی سند حسن ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں راویوں کے ناموں کا ہیر پھیر وغیرہ ایسی روایات میں نقصان دہ نہیں ہوتا تیسری حدیث مسند شافعی میں ہے سیدنا نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب اسلام قبول کیا اس وقت میری پانچ بیویاں تھیں مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے پسند کر کے چار کو رکھ لو اور ایک کو الگ کر دو“ میں نے جو سب سے زیادہ عمر کی بڑھیا اور بے اولاد بیوی ساٹھ سال کی تھیں انہیں طلاق دے دی ۱؎ [مسند شافعی:16/2:] پس یہ حدیثیں سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ والی پہلی حدیث کی شواہد ہیں جیسے کہ امام بیہقی نے فرمایا۔ پھر فرماتا ہے ہاں اگر ایک سے زیادہ بیویوں میں عدل و انصاف نہ ہو سکنے کا خوف ہو تو صرف ایک ہی پر اکتفا کرو اور اپنی کنیزوں سے استمتاع کرو۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ» ۱؎ [4-النساء:129] یعنی ’ گو تم چاہو لیکن تم سے نہ ہو سکے گا کہ عورتوں کے درمیان پوری طرح عدل و انصاف کو قائم رکھ سکو پس بالکل ایک ہی طرف جھک کر دوسری کو مصیبت میں نہ ڈال دو ‘، ہاں یاد رہے کہ لونڈیوں میں باری وغیرہ کی تقسیم واجب نہیں البتہ مستحب ہے جو کرے اس نے اچھا کیا اور جو نہ کرے اس پر حرج نہیں۔
اس کے بعد کے جملے کے مطلب میں بعض نے تو کہا ہے کہ یہ قریب ہے ان معنی کے کہ تمہارے عیال یعنی فقیری زیادہ نہ ہو جیسے اور جگہ ہے آیت «وَإِنْ خِفْتُمْ» ۱؎» [9-التوبة:29] یعنی اگر تمہیں فقر کا ڈر ہو۔ عربی شاعر کہتا ہے: «فما یدری الفقیر متی غناہ ... وما یدری الغنی متی یعیل» یعنی ”فقیر نہیں جانتا کہ کب امیر ہو جائے گا ... اور امیر کو معلوم نہیں کہ کب فقیر بن جائے گا“ جب کوئی مسکین محتاج ہو جائے تو عرب کہتے ہیں «عال الرجل» یعنی ”یہ شخص فقیر ہو گیا“ غرض اس معنی میں یہ لفظ مستعمل تو ہے لیکن یہاں یہ تفسیر کچھ زیادہ اچھی نہیں معلوم ہوتی، کیونکہ اگر آزاد عورتوں کی کثرت فقیری کا باعث بن سکتی ہے تو لونڈیوں کی کثرت بھی فقیری کا سبب ہو سکتی ہے۔ پس صحیح قول جمہور کا ہے کہ مرادیہ ہے کہ یہ قریب ہے اس سے کہ تم ظلم سے بچ جاؤ، عرب میں کہا جاتا ہے «عال فی الحکم» جبکہ ظلم و جور کیا ہو، ابوطالب کے مشہور قصیدے میں ہے۔ «بمیزان قسط لا یخیس شعیرۃ» ... لہ شاہدمن نفسہ غیر عائل» بہترین ترازو ضمیر ہے یعنی ایسی ترازو سے تولتا ہے جو ایک جو برابر کی بھی کمی نہیں کرتا اس کے پاس اس کا گواہ خود اس کا نفس ہے جو ظالم نہیں ہے۔
ابن جریر میں ہے کہ جب کوفیوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر ایک میں خط کچھ الزام لکھ کر بھیجے تو ان کے جواب میں خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا کہ «إِني لسْتُ بميزانٍ لا أَعُول» میں ظلم کا ترازو نہیں ہوں صحیح ابن حبان وغیرہ میں ایک مرفوع حدیث اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس کا معنی ہے تم ظلم نہ کرو ۱؎ [صحیح ابنvحبان:134/6] ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا مرفوع ہونا تو خطا ہے ہاں یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے اسی طرح «لا تعولوا» کے یہی معنی ہیں یعنی تم ظلم نہ کرو۔ سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدہ عائشہ، رضی اللہ عنہما مجاہد، عکرمہ، حسن، ابو مالک، ابو زرین، نخعی، شعبی، ضحاک، عطاء خراسانی، قتادہ، سدی اور مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:549/7-515] وغیرہ سے بھی مروی ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ نے بھی ابوطالب کا وہی شعر پیش کیا ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے اور خود امام صاحب بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے اپنی بیویوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کر دیا کرو جو بھی مقرر ہوئے ہوں اور جن کو تم نے منظور کیا ہو، ہاں اگر عورت خود اپنا سارا یا تھوڑا بہت مہر اپنی خوشی سے مرد کو معاف کر دے تو اسے اختیار ہے اور اس صورت میں بیشک مرد کو اس کا اپنے استعمال میں لانا حلال، طیب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو جائز نہیں کہ بغیر مہر واجب کے نکاح کرے نہ یہ کہ جھوٹ موٹ مہر کا نام ہی نام ہو ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:553/7] ابن ابی حاتم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ تم میں سے جب کوئی بیمار پڑے تو اسے چاہیئے کہ اپنی بیوی سے اس کے مال کے تین درہم یا کم و بیش لے ان کا شہد خرید لے اور بارش کا آسمانی پانی اس میں ملالے تو تین تین بھلائیاں مل جائیں گی آیت «فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا» [4-النساء:4] تو مال عورت اور شفاء شہد اور مبارک بارش کا پانی۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی بیٹیوں کا مہر آپ لیتے تھے جس پر یہ آیت اتری اور انہیں اس سے روک دیا گیا (ابن ابی حاتم اور ابن جریر) اس حکم کو سن کر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان کا مہر کیا ہونا چاہیئے؟ آپ نے فرمایا جس چیز پر بھی ان کے ولی رضامند ہو جائیں ۱؎ [بیہقی:239/7:مرسل و ضعیف] (ابن ابی حاتم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں تین مرتبہ فرمایا کہ ”بیوہ عورتوں کا نکاح کر دیا کرو“، ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ! ایسی صورت میں ان کا مہر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”جس پر ان کے گھر والے راضی ہو جائیں“ ۱؎ [بیہقی:239/7:منقطع و ضعیف] اس کے ایک راوی ابن بیلمانی ضعیف ہیں، پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔
2۔ 1 یتیم جب بالغ اور باشعور ہوجائیں تو ان کا مال ان کے سپرد کردو، خبیث سے گھٹیا چیزیں اور طیب سے عمدہ چیزیں مراد ہیں یعنی ایسا نہ کرو کہ ان کے مال سے اچھی چیزیں لے لو اور محض گنتی پوری کرنے کے لئے گھٹیا چیزیں ان کے بدلے میں رکھ دو، بدلایا گیا مال جو اگرچہ اصل میں طیب (پاک اور حلال) ہے لیکن تمہاری اس بددیانتی نے اس میں خباثت داخل کردی اور وہ اب طیب نہیں رہا، بلکہ تمہارے حق میں وہ خبیث (ناپاک اور حرام) ہوگیا۔ اسی طرح بددیانتی سے ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھانا بھی ممنوع ہے ورنہ اگر مقصد خیر خواہی ہو تو ان کے مال کو اپنے مال میں ملانا جائز ہے۔
(آیت 2){وَ اٰتُوا الْيَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ …: } یعنی جب یتیم بالغ ہو جائیں تو ان کے اموال ان کے سپرد کر دو اور یہ نہ کرو کہ یتیم کے مال سے اچھی چیز (طیب) لے کر اس کی جگہ ردی چیز (خبیث) رکھ دو۔ طیب اور خبیث حلال اور حرام کے معنی میں بھی آتے ہیں، اس لیے بعض نے یہ معنی کیا ہے کہ اپنا حلال مال چھوڑ کر دوسرے کا مال مت کھاؤ جو تمھارے لیے حرام ہے۔ آیت میں { ”اِلٰى“ } بمعنی {”مَعَ“} ہے، یعنی ان کے اموال کو ناجائز طریقے سے کھانے کے لیے اپنے مالوں کے ساتھ مت ملا ؤ، ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ ہاں، اصلاح کی نیت سے ملانا جائز ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۲۰)۔
اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لاؤ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں، بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرین صواب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی یہ زیاده قریب ہے، کہ (ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
ا ور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم یتیموں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکوگے۔ تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو دو دو، تین تین، چار چار سے اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ (ان کے ساتھ) عدل نہ کر سکوگے تو پھر ایک ہی (بیوی) کرو۔ یا جو تمہاری ملکیت میں ہوں (ان پر اکتفا کرو) یہ زیادہ قریب ہے اس کے کہ بے انصافی نہ کرو۔ (ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ)۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تم ڈروکہ یتیموں کے حق میں انصاف نہیں کرو گے تو (اور) عورتوں میں سے جو تمھیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو، دو دو سے اور تین تین سے اور چار چار سے، پھر اگر تم ڈرو کہ عدل نہیں کرو گے تو ایک بیوی سے، یا جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوں (یعنی لونڈیاں)۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یتیموں کی نگہداشت اور چار شادیوں کی اجازت ٭٭
اللہ تعالیٰ یتیموں کے والیوں کو حکم دیتا ہے کہ جب یتیم بلوغت اور سمجھداری کو پہنچ جائیں تو ان کے جو مال تمہارے پاس ہوں انہیں سونپ دو، پورے پورے بغیر کمی اور خیانت کے ان کے حوالے کرو، اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر گڈمڈ کر کے کھا جانے کی نیت نہ رکھو، حلال رزق جب اللہ رحیم تمہیں دے رہا ہے پھر حرام کی طرف کیوں منہ اٹھاؤ؟ تقدیر کی روزی مل کر ہی رہے گی اپنے حلال مال چھوڑ کر لوگوں کے مالوں کو جو تم پر حرام ہیں نہ لو، دبلا پتلا جانور دے کر موٹا تازہ نہ لو، بوٹی دے کر بکرے کی فکر نہ کرو، ردی دے کر اچھے کی اور کھوٹا دے کر کھرے کی نیت نہ رکھو، پہلے لوگ ایسا کر لیا کرتے تھے کہ یتیموں کی بکریوں کے ریوڑ میں سے عمدہ بکری لے لی اور اپنی دبلی پتلی بکری دے کر گنتی پوری کر دی، کھوٹا درہم اس کے مال میں ڈال کر کھرا نکال لیا اور پھر سمجھ لیا کہ ہم نے تو بکری کے بدلے بکری اور درہم کے بدلے درہم لیا ہے۔ ان کے مالوں میں اپنا مال خلط ملط کر کے پھر یہ حیلہ کر کے اب امتیاز کیا ہے؟ ان کے مال تلف نہ کرو، یہ بڑا گناہ ہے، ایک ضعیف حدیث میں بھی یہی معنی آخری جملے کے مروی ہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:525/7:ضعیف] ابوداؤد کی حدیث میں ایک دعا میں بھی «حوب» کا لفظ گناہ کے معنی میں آیا ہے ۱؎ [سنن ابوداود:3892،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے جب اپنی بیوی صاحبہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا تھا کہ اس طلاق میں گناہ ہے، ۱؎ [طبرانی کبیر:136/25:ضعیف] چنانچہ وہ اپنے ارادے سے باز رہے، ایک روایت میں یہ واقعہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا مروی ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:302/2:ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ تمہاری پرورش میں کوئی یتیم لڑکی ہو اور تم اس سے نکاح کرنا چاہتے ہو لیکن چونکہ اس کا کوئی اور نہیں اس لیے تم تو ایسا نہ کرو کہ مہر اور حقوق میں کمی کر کے اسے اپنے گھر ڈال لو اس سے باز رہو اور عورتیں بہت ہیں جس سے چاہو نکاح کر لو۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک یتیم لڑکی تھی جس کے پاس مال بھی تھا اور باغ بھی جس کی پرورش میں وہ تھی اس نے صرف اس مال کے لالچ میں بغیر اس کا پورا مہر وغیرہ مقرر کرنے کے اس سے نکاح کر لیا جس پر یہ آیت اتری میرا خیال ہے کہ اس باغ اور مال میں یہ لڑکی حصہ دار تھی ۱؎ [صحیح بخاری:4573] صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا: بھانجے، یہ ذکر اس یتیم لڑکی کا ہے جو اپنے ولی کے قبضہ میں ہے اس کے مال میں شریک ہے اور اسے اس کا مال و جمال اچھا لگتا ہے چاہتا ہے کہ اس سے نکاح کر لے لیکن جو مہر وغیرہ اور جگہ سے اسے ملتا ہے اتنا یہ نہیں دیتا تو اسے منع کیا جا رہا ہے کہ وہ اس اپنی نیت کو چھوڑ دے اور کسی دوسری عورت سے جس سے چاہے اپنا نکاح کر لے، پھر اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی بابت دریافت کیا اور آیت «وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ» ۱؎ [4-النساء:127] نازل ہوئی وہاں فرمایا گیا ہے کہ جب یتیم لڑکی کم مال والی اور کم جمال والی ہوتی ہے اس وقت تو اس کے والی اس سے بیرغبتی کرتے ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ مال و جمال پر مائل ہو کر اس کے پورے حقوق ادا نہ کر کے اس سے اپنا نکاح کر لیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4574]
ہاں عدل و انصاف سے پورا مہر وغیرہ مقرر کریں تو کوئی حرج نہیں، ورنہ پھر عورتوں کی کمی نہیں اور کسی سے جس سے چاہیں نکاح کر لیں اگر چاہیں دو دو عورتیں اپنے نکاح میں رکھیں اگر چاہیں تین تین رکھیں اگر چاہیں چار چار، جیسے اور جگہ یہ الفاظ ان ہی معنوں میں ہیں، فرماتا ہے: «الْحَمْدُ لِلَّـهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ» [35- فاطر:1] الخ یعنی ’ جن فرشتوں کو اللہ تعالیٰ اپنا قاصد بنا کر بھیجتا ہے ان میں سے بعض دو دو پروں والے ہیں بعض تین تین پروں والے بعض چار پروں والے فرشتوں میں اس سے زیادہ پر والے فرشتے بھی ہیں ‘ کیونکہ دلیل سے یہ ثابت شدہ ہے۔ لیکن مرد کو ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویوں کا جمع کرنا منع ہے جیسے کہ اس آیت میں موجود ہے اور جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جمہور کا قول ہے، یہاں اللہ تعالیٰ اپنے احسان اور انعام بیان فرما رہا ہے پس اگر چار سے زیادہ کی اجازت دینی منظور ہوتی تو ضرور فرما دیا جاتا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حدیث جو قرآن کی وضاحت کرنے والی ہے اس نے بتلا دیا ہے کہ سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کے لیے چار سے زیادہ بیویوں کا بیک وقت جمع کرنا جائز نہیں اسی پر علماء کرام کا اجماع ہے۔ البتہ بعض شیعہ کا قول ہے کہ نو تک جمع کرنی جائز ہیں، بلکہ بعض شیعہ نے تو کہا ہے کہ نو سے بھی زیادہ جمع کر لینے میں بھی کوئی حرج نہیں کوئی تعداد مقرر ہے ہی نہیں، ان کا استدلال ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں آ چکا ہے کہ آپ کی نو بیویاں تھیں ۱؎ [صحیح بخاری:5067] اور بخاری شریف کی معلق حدیث کے بعض راویوں نے گیارہ کہا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:267]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے پندرہ بیویوں سے عقد کیا تیرہ کی رخصتی ہوئی ایک وقت میں گیارہ بیویاں آپ کے پاس تھیں۔ انتقال کے وقت آپ کی نو بیویاں تھیں ۱؎ [بیہقی:289:مرسل] ہمارے علماء کرام رحمہ اللہ علیہم اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ آپ کی خصوصیت تھی امتی کو ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں پاس رکھنے کی اجازت نہیں، جیسے کہ یہ حدیثیں اس امر پر دلالت کرتی ہیں، سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوتے ہیں تو ان کے پاس ان کی دس بیویاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ان میں سے جنہیں چاہو چار رکھ لو باقی کو چھوڑ دو چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر سیدنا رضی اللہ عنہ عمر کی خلافت کے زمانے میں اپنی ان بیویوں کو بھی طلاق دے دی اور اپنے لڑکوں کو اپنا مال بانٹ دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا شاید تیرے شیطان نے بات اچک لی اور تیرے دل میں خیال جما دیا ہے کہ تو عنقریب مرنے والا ہے اس لیے اپنی بیویوں کو تو نے بھی الگ کر دیا کہ وہ تیرا مال نہ پائیں اور اپنا مال اپنی اولاد میں تقسیم کر دیا میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ اپنی بیویوں سے رجوع کر لے اور اپنی اولاد سے مال واپس لے لے اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے بعد تیری ان مطلقہ بیویوں کو بھی تیرا وارث بناؤں گا کیونکہ تو نے انہیں اسی ڈر سے طلاق دی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ تیری زندگی بھی اب ختم ہونے والی ہے اور اگر تو نے میری بات نہ مانی تو یاد رکھ میں حکم دوں گا کہ لوگ تیری قبر پر پتھر پھینکیں جیسے کہ ابو رغال کی قبر پر پتھر پھینکے جاتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:1128،قال الشيخ الألباني:صحیح] (مسند احمد شافعی ترمذی ابن ماجہ دارقطنی بیہقی وغیرہ)
مرفوع حدیث تک تو ان سب کتابوں میں ہے ہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والا واقعہ صرف مسند احمد میں ہی ہے لیکن یہ زیادتی حسن ہے، اگرچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے اور اس کی اسناد کا دوسرا طریقہ بتا کر اس طریقہ کو غیر محفوظ کہا ہے مگر اس تعلیل میں بھی اختلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور بزرگ محدثین نے بھی اس پر کلام کیا ہے لیکن مسند احمد والی حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور شرط شیخین پر ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ یہ دس عورتیں بھی اپنے خاوند کے ساتھ مسلمان ہوئی تھیں ملاحظہ ہو۔ ۱؎ [بیہقی:183/7:حسن] اس حدیث سے صاف ظاہر ہو گیا کہ اگر چار سے زیادہ کا ایک وقت میں نکاح میں رکھنا جائز ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے یہ نہ فرماتے کہ اپنی ان دس بیویوں میں سے چار کو جنہیں تم چاہو روک لو باقی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ سب بھی اسلام لا چکی تھیں، یہاں یہ بات بھی خیال میں رکھنی چاہیئے کہ ثقفی کے ہاں تو یہ دس عورتیں بھی موجود تھیں اس پر بھی آپ نے چھ علیحدہ کرا دیں پھر بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص نئے سرے سے چار سے زیادہ جمع کرے؟ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ با الصواب»
چار سے زائد نہیں، وہ بھی بشرط انصاف ورنہ ایک ہی بیوی! ٭٭
دوسری حدیث ابوداؤد ابن ماجہ وغیرہ میں ہے سیدنا عمیرہ اسدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جس وقت اسلام قبول کیا میرے نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے فرمایا: ”ان میں سے جن چار کو چاہو رکھ لو“ ۱؎ [سنن ابوداود:2241/2242،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کی سند حسن ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں راویوں کے ناموں کا ہیر پھیر وغیرہ ایسی روایات میں نقصان دہ نہیں ہوتا تیسری حدیث مسند شافعی میں ہے سیدنا نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب اسلام قبول کیا اس وقت میری پانچ بیویاں تھیں مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے پسند کر کے چار کو رکھ لو اور ایک کو الگ کر دو“ میں نے جو سب سے زیادہ عمر کی بڑھیا اور بے اولاد بیوی ساٹھ سال کی تھیں انہیں طلاق دے دی ۱؎ [مسند شافعی:16/2:] پس یہ حدیثیں سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ والی پہلی حدیث کی شواہد ہیں جیسے کہ امام بیہقی نے فرمایا۔ پھر فرماتا ہے ہاں اگر ایک سے زیادہ بیویوں میں عدل و انصاف نہ ہو سکنے کا خوف ہو تو صرف ایک ہی پر اکتفا کرو اور اپنی کنیزوں سے استمتاع کرو۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ» ۱؎ [4-النساء:129] یعنی ’ گو تم چاہو لیکن تم سے نہ ہو سکے گا کہ عورتوں کے درمیان پوری طرح عدل و انصاف کو قائم رکھ سکو پس بالکل ایک ہی طرف جھک کر دوسری کو مصیبت میں نہ ڈال دو ‘، ہاں یاد رہے کہ لونڈیوں میں باری وغیرہ کی تقسیم واجب نہیں البتہ مستحب ہے جو کرے اس نے اچھا کیا اور جو نہ کرے اس پر حرج نہیں۔
اس کے بعد کے جملے کے مطلب میں بعض نے تو کہا ہے کہ یہ قریب ہے ان معنی کے کہ تمہارے عیال یعنی فقیری زیادہ نہ ہو جیسے اور جگہ ہے آیت «وَإِنْ خِفْتُمْ» ۱؎» [9-التوبة:29] یعنی اگر تمہیں فقر کا ڈر ہو۔ عربی شاعر کہتا ہے: «فما یدری الفقیر متی غناہ ... وما یدری الغنی متی یعیل» یعنی ”فقیر نہیں جانتا کہ کب امیر ہو جائے گا ... اور امیر کو معلوم نہیں کہ کب فقیر بن جائے گا“ جب کوئی مسکین محتاج ہو جائے تو عرب کہتے ہیں «عال الرجل» یعنی ”یہ شخص فقیر ہو گیا“ غرض اس معنی میں یہ لفظ مستعمل تو ہے لیکن یہاں یہ تفسیر کچھ زیادہ اچھی نہیں معلوم ہوتی، کیونکہ اگر آزاد عورتوں کی کثرت فقیری کا باعث بن سکتی ہے تو لونڈیوں کی کثرت بھی فقیری کا سبب ہو سکتی ہے۔ پس صحیح قول جمہور کا ہے کہ مرادیہ ہے کہ یہ قریب ہے اس سے کہ تم ظلم سے بچ جاؤ، عرب میں کہا جاتا ہے «عال فی الحکم» جبکہ ظلم و جور کیا ہو، ابوطالب کے مشہور قصیدے میں ہے۔ «بمیزان قسط لا یخیس شعیرۃ» ... لہ شاہدمن نفسہ غیر عائل» بہترین ترازو ضمیر ہے یعنی ایسی ترازو سے تولتا ہے جو ایک جو برابر کی بھی کمی نہیں کرتا اس کے پاس اس کا گواہ خود اس کا نفس ہے جو ظالم نہیں ہے۔
ابن جریر میں ہے کہ جب کوفیوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر ایک میں خط کچھ الزام لکھ کر بھیجے تو ان کے جواب میں خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا کہ «إِني لسْتُ بميزانٍ لا أَعُول» میں ظلم کا ترازو نہیں ہوں صحیح ابن حبان وغیرہ میں ایک مرفوع حدیث اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس کا معنی ہے تم ظلم نہ کرو ۱؎ [صحیح ابنvحبان:134/6] ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا مرفوع ہونا تو خطا ہے ہاں یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے اسی طرح «لا تعولوا» کے یہی معنی ہیں یعنی تم ظلم نہ کرو۔ سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدہ عائشہ، رضی اللہ عنہما مجاہد، عکرمہ، حسن، ابو مالک، ابو زرین، نخعی، شعبی، ضحاک، عطاء خراسانی، قتادہ، سدی اور مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:549/7-515] وغیرہ سے بھی مروی ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ نے بھی ابوطالب کا وہی شعر پیش کیا ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے اور خود امام صاحب بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے اپنی بیویوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کر دیا کرو جو بھی مقرر ہوئے ہوں اور جن کو تم نے منظور کیا ہو، ہاں اگر عورت خود اپنا سارا یا تھوڑا بہت مہر اپنی خوشی سے مرد کو معاف کر دے تو اسے اختیار ہے اور اس صورت میں بیشک مرد کو اس کا اپنے استعمال میں لانا حلال، طیب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو جائز نہیں کہ بغیر مہر واجب کے نکاح کرے نہ یہ کہ جھوٹ موٹ مہر کا نام ہی نام ہو ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:553/7] ابن ابی حاتم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ تم میں سے جب کوئی بیمار پڑے تو اسے چاہیئے کہ اپنی بیوی سے اس کے مال کے تین درہم یا کم و بیش لے ان کا شہد خرید لے اور بارش کا آسمانی پانی اس میں ملالے تو تین تین بھلائیاں مل جائیں گی آیت «فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا» [4-النساء:4] تو مال عورت اور شفاء شہد اور مبارک بارش کا پانی۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی بیٹیوں کا مہر آپ لیتے تھے جس پر یہ آیت اتری اور انہیں اس سے روک دیا گیا (ابن ابی حاتم اور ابن جریر) اس حکم کو سن کر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان کا مہر کیا ہونا چاہیئے؟ آپ نے فرمایا جس چیز پر بھی ان کے ولی رضامند ہو جائیں ۱؎ [بیہقی:239/7:مرسل و ضعیف] (ابن ابی حاتم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں تین مرتبہ فرمایا کہ ”بیوہ عورتوں کا نکاح کر دیا کرو“، ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ! ایسی صورت میں ان کا مہر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”جس پر ان کے گھر والے راضی ہو جائیں“ ۱؎ [بیہقی:239/7:منقطع و ضعیف] اس کے ایک راوی ابن بیلمانی ضعیف ہیں، پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔
3۔ 1 اس کی تفسیر حضرت عائشہ ؓ سے اس طرح مروی ہے کہ صاحب حیثیت اور صاحب جمال یتیم لڑکی کسی ولی کے زیر پرورش ہوتی تو اس کے مال اور حسن و جمال کی وجہ سے اس سے شادی تو کرلیتا لیکن اس کو دوسری عورتوں کی طرح پورا حق مہر نہ دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس ظلم سے روکا، کہ اگر تم گھر کی یتیم بچیوں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے تو ان سے نکاح ہی مت کرو، تمہارے لئے دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کا راستہ کھلا ہے (صحیح بخاری) ایک کی بجائے دو سے، تین سے حتیٰ کے چار عورتوں تک سے تم نکاح کرسکتے ہو بشرطیکہ ان کے درمیان انصاف کے تقاضے پورے کرسکو ورنہ ایک ہی نکاح کرو یا اس کے بجائے لونڈی پر گزارا کرو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمان مرد (اگر وہ ضرورت مند ہے) تو چار عورتیں بیک وقت اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے لیکن اس سے زیادہ نہیں جیسا کہ صحیح احادیث میں اس کی مذید صراحت اور تحدید کردی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چار سے زائد شادیاں کیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے ہے جس پر کسی امتی کے لیے عمل کرنا جائز نہیں۔ (ابن کثیر) 3۔ 2 یعنی ایک ہی عورت سے شادی کرنا کافی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی صورت میں انصاف کا اہتمام بہت مشکل ہے جس کی طرف قلبی میلان زیادہ ہوگا، ضروریات زندگی کی فراہمی میں زیادہ توجہ بھی اسی کی طرف ہوگی۔ یوں بیویوں کے درمیان وہ انصاف کرنے میں ناکام رہے گا اور اللہ کے ہاں مجرم قرار پائے گا۔ قرآن نے اس کی حقیقت کو دوسرے مقام پر نہایت اچھے انداز میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔ (تم ہرگز اس بات کی طاقت نہ رکھو گے) کہ بیویوں کے درمیان انصاف کرسکو، اگرچہ تم اس کا اہتمام کرو۔ (اس لئے اتنا کرو) کہ ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ کہ دوسری بیویوں کو بیچ ادھڑ میں لٹکا رکھو، اس سے معلوم ہوا کہ ایک سے زیادہ شادی کرنا اور بیویوں کے ساتھ انصاف نہ کرنا نامناسب اور نہایت خطرناک ہے۔
(آیت 3) ➊ {وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا …:} اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کے ایک سوال کے جواب میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”بعض یتیم لڑکیاں کچھ لوگوں کی پرورش میں ہوتیں، وہ ان لڑکیوں کے مال اور جمال کی وجہ سے ان سے نکاح کر لیتے، لیکن انھیں اپنے گھر کی لڑکیاں سمجھ کر پرائے گھر کی لڑکیوں جیسا نہ تو مہر دیتے اور نہ ان کے دوسرے حقوق ویسے ادا کرتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انھیں ایسا کرنے سے منع فرمایاکہ اگر تم یتیم لڑکیوں سے ان کے مہر اور نفقات میں انصاف نہیں کر سکتے تو ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے، جو تمھیں پسند ہوں، نکاح کر لو۔“ [ بخاری، التفسیر، باب: «و إن خفتم ألا تقسطوا فی الیتمٰی» : ۴۵۷۴ ] ➋ {مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ:} اس آیت سے دلیل لیتے ہوئے ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جمہور علماء نے لکھا ہے کہ ایک شخص کے لیے بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں اپنے حرم میں رکھنا جائز نہیں، یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سنت سے بصراحت یہ مسئلہ ثابت ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شافعی رحمہ اللہ نے جو فرمایا اس پر علماء کا اجماع ہے۔ غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے چار کا انتخاب کر لو۔“ [ أحمد: 14/2، ح: ۴۶۳۰۔ ابن ماجہ، النکاح، باب الرجل یسلم و عندہ …: ۱۹۵۳، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما و قال الألبانی صحیح ] مزید صحابہ کے واقعات ابن کثیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”رافضی (شیعہ) اور بعض دوسرے لوگ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ شادیاں چار سے زائد بھی جائز ہیں، مگر یہ لغت اور سنت سے جہالت کا نتیجہ ہے۔“ ➌ {فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا …:} اس سے بعض لوگوں نے ایک سے زیادہ شادیوں کے ناجائز ہونے پر استدلال کیا ہے کہ اگر تمھیں خوف ہو کہ عدل نہیں کرو گے تو ایک بیوی پر اکتفا کرو یا لونڈی پر۔ اس کے ساتھ وہ دوسری آیت بھی ملاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَنْ تَسْتَطِيْعُوْۤا۠ اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ» [ النساء: ۱۲۹ ] ”اور تم ہر گز نہ کر سکو گے کہ عورتوں کے درمیان برابری (عدل) کرو، خواہ تم حرص بھی کرو۔“ خلاصہ دونوں کا یہ نکالا کہ جب عدل ہو ہی نہیں سکتا تو مرد ایک سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ ان حضرات نے وہی کام کیا ہے جو «لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ» والے حضرات کرتے ہیں کہ آگے «وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى» [ النساء: ۴۳ ] پڑھتے ہی نہیں۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ کا پورا فرمان یوں ہے: ” اور تم ہرگز نہ کر سکو گے کہ عورتوں کے درمیان برابری کرو، خواہ تم حرص بھی کرو، پس مت جھک جا ؤ (ایک کی طرف) مکمل جھک جانا کہ اس (دوسری) کو لٹکائی ہوئی کی طرح چھوڑ دو، اور اگر تم اصلاح کرو اور ڈرتے رہو تو بے شک اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، بے حد مہربان ہے۔“ [ النساء: ۱۲۹ ] معلوم ہوا وہ عدل جو انسان کر ہی نہیں سکتا، یعنی دلی میلان، وہ واجب ہی نہیں۔ زیادہ بیویاں ہمارے نبی اور اصحاب کی سنت ہے۔ ➍ {ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْا:} یعنی اگر کسی کو خوف ہے کہ وہ اتنا عدل بھی نہیں کر سکتا جتنا واجب ہے کہ رات رہنے اور نان و نفقہ میں بھی برابری نہیں کر سکتا، کیونکہ دلی محبت اور میلان و صحبت میں تو برابری ممکن ہی نہیں، تو ایک بیوی رکھے یا لونڈیاں، یہ زیادہ قریب ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو۔ بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے: ”یہ زیادہ قریب ہے کہ تمھارے عیال زیادہ نہ ہو جائیں اور تم فقیر نہ ہو جاؤ “ اور پھر اس پر برتھ کنٹرول کی بنیاد رکھ دی ہے کہ بچے کم پیدا کرو۔ حالانکہ بچے تو لونڈیوں سے بھی پیدا ہوتے ہیں اور لونڈیوں کی تعداد بھی مقرر نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ بچے پیدا کرنے کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا: ”ان عورتوں سے نکاح کرو جو بہت بچے جننے والی اور بہت محبت کرنے والی ہوں، کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمھاری کثرت پر فخر کروں گا۔“ [ أبو داوٗد، النکاح، باب النھی عن تزویج من لم یلد من النساء: ۲۰۵۰، عن معقل بن یسار رضی اللہ عنہ، قال الألبانی حسن صحیح] پھر {”اَلَّا تَعُوْلُوْا“} کا معنی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”یہ زیادہ قریب ہے کہ تم ظلم نہ کرو، انصاف سے نہ ہٹو۔“ [ ابن حبان: ۴۰۲۹، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا، و صححہ الألبانی الصحیحۃ: ۳۲۲۲ ]
اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ (فرض جانتے ہوئے) ادا کرو، البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں معاف کر دیں تو اُسے تم مزے سے کھا سکتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور عوتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دے دو، ہاں اگر وه خود اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو اسے شوق سے خوش ہو کر کھا لو
احمد رضا خان بریلوی
اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا
علامہ محمد حسین نجفی
اور عورتوں کے حق مہر خوشدلی سے ادا کرو اور اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے تمہیں بخش دیں تو تم اسے شوق سے کھا سکتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دو، پھر اگر وہ اس میں سے کوئی چیز تمھارے لیے چھوڑنے پر دل سے خوش ہو جائیں تو اسے کھالو، اس حال میں کہ مزے دار، خوشگوار ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یتیموں کی نگہداشت اور چار شادیوں کی اجازت ٭٭
اللہ تعالیٰ یتیموں کے والیوں کو حکم دیتا ہے کہ جب یتیم بلوغت اور سمجھداری کو پہنچ جائیں تو ان کے جو مال تمہارے پاس ہوں انہیں سونپ دو، پورے پورے بغیر کمی اور خیانت کے ان کے حوالے کرو، اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر گڈمڈ کر کے کھا جانے کی نیت نہ رکھو، حلال رزق جب اللہ رحیم تمہیں دے رہا ہے پھر حرام کی طرف کیوں منہ اٹھاؤ؟ تقدیر کی روزی مل کر ہی رہے گی اپنے حلال مال چھوڑ کر لوگوں کے مالوں کو جو تم پر حرام ہیں نہ لو، دبلا پتلا جانور دے کر موٹا تازہ نہ لو، بوٹی دے کر بکرے کی فکر نہ کرو، ردی دے کر اچھے کی اور کھوٹا دے کر کھرے کی نیت نہ رکھو، پہلے لوگ ایسا کر لیا کرتے تھے کہ یتیموں کی بکریوں کے ریوڑ میں سے عمدہ بکری لے لی اور اپنی دبلی پتلی بکری دے کر گنتی پوری کر دی، کھوٹا درہم اس کے مال میں ڈال کر کھرا نکال لیا اور پھر سمجھ لیا کہ ہم نے تو بکری کے بدلے بکری اور درہم کے بدلے درہم لیا ہے۔ ان کے مالوں میں اپنا مال خلط ملط کر کے پھر یہ حیلہ کر کے اب امتیاز کیا ہے؟ ان کے مال تلف نہ کرو، یہ بڑا گناہ ہے، ایک ضعیف حدیث میں بھی یہی معنی آخری جملے کے مروی ہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:525/7:ضعیف] ابوداؤد کی حدیث میں ایک دعا میں بھی «حوب» کا لفظ گناہ کے معنی میں آیا ہے ۱؎ [سنن ابوداود:3892،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے جب اپنی بیوی صاحبہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا تھا کہ اس طلاق میں گناہ ہے، ۱؎ [طبرانی کبیر:136/25:ضعیف] چنانچہ وہ اپنے ارادے سے باز رہے، ایک روایت میں یہ واقعہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا مروی ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:302/2:ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ تمہاری پرورش میں کوئی یتیم لڑکی ہو اور تم اس سے نکاح کرنا چاہتے ہو لیکن چونکہ اس کا کوئی اور نہیں اس لیے تم تو ایسا نہ کرو کہ مہر اور حقوق میں کمی کر کے اسے اپنے گھر ڈال لو اس سے باز رہو اور عورتیں بہت ہیں جس سے چاہو نکاح کر لو۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک یتیم لڑکی تھی جس کے پاس مال بھی تھا اور باغ بھی جس کی پرورش میں وہ تھی اس نے صرف اس مال کے لالچ میں بغیر اس کا پورا مہر وغیرہ مقرر کرنے کے اس سے نکاح کر لیا جس پر یہ آیت اتری میرا خیال ہے کہ اس باغ اور مال میں یہ لڑکی حصہ دار تھی ۱؎ [صحیح بخاری:4573] صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا: بھانجے، یہ ذکر اس یتیم لڑکی کا ہے جو اپنے ولی کے قبضہ میں ہے اس کے مال میں شریک ہے اور اسے اس کا مال و جمال اچھا لگتا ہے چاہتا ہے کہ اس سے نکاح کر لے لیکن جو مہر وغیرہ اور جگہ سے اسے ملتا ہے اتنا یہ نہیں دیتا تو اسے منع کیا جا رہا ہے کہ وہ اس اپنی نیت کو چھوڑ دے اور کسی دوسری عورت سے جس سے چاہے اپنا نکاح کر لے، پھر اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی بابت دریافت کیا اور آیت «وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ» ۱؎ [4-النساء:127] نازل ہوئی وہاں فرمایا گیا ہے کہ جب یتیم لڑکی کم مال والی اور کم جمال والی ہوتی ہے اس وقت تو اس کے والی اس سے بیرغبتی کرتے ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ مال و جمال پر مائل ہو کر اس کے پورے حقوق ادا نہ کر کے اس سے اپنا نکاح کر لیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4574]
ہاں عدل و انصاف سے پورا مہر وغیرہ مقرر کریں تو کوئی حرج نہیں، ورنہ پھر عورتوں کی کمی نہیں اور کسی سے جس سے چاہیں نکاح کر لیں اگر چاہیں دو دو عورتیں اپنے نکاح میں رکھیں اگر چاہیں تین تین رکھیں اگر چاہیں چار چار، جیسے اور جگہ یہ الفاظ ان ہی معنوں میں ہیں، فرماتا ہے: «الْحَمْدُ لِلَّـهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ» [35- فاطر:1] الخ یعنی ’ جن فرشتوں کو اللہ تعالیٰ اپنا قاصد بنا کر بھیجتا ہے ان میں سے بعض دو دو پروں والے ہیں بعض تین تین پروں والے بعض چار پروں والے فرشتوں میں اس سے زیادہ پر والے فرشتے بھی ہیں ‘ کیونکہ دلیل سے یہ ثابت شدہ ہے۔ لیکن مرد کو ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویوں کا جمع کرنا منع ہے جیسے کہ اس آیت میں موجود ہے اور جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جمہور کا قول ہے، یہاں اللہ تعالیٰ اپنے احسان اور انعام بیان فرما رہا ہے پس اگر چار سے زیادہ کی اجازت دینی منظور ہوتی تو ضرور فرما دیا جاتا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حدیث جو قرآن کی وضاحت کرنے والی ہے اس نے بتلا دیا ہے کہ سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کے لیے چار سے زیادہ بیویوں کا بیک وقت جمع کرنا جائز نہیں اسی پر علماء کرام کا اجماع ہے۔ البتہ بعض شیعہ کا قول ہے کہ نو تک جمع کرنی جائز ہیں، بلکہ بعض شیعہ نے تو کہا ہے کہ نو سے بھی زیادہ جمع کر لینے میں بھی کوئی حرج نہیں کوئی تعداد مقرر ہے ہی نہیں، ان کا استدلال ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں آ چکا ہے کہ آپ کی نو بیویاں تھیں ۱؎ [صحیح بخاری:5067] اور بخاری شریف کی معلق حدیث کے بعض راویوں نے گیارہ کہا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:267]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے پندرہ بیویوں سے عقد کیا تیرہ کی رخصتی ہوئی ایک وقت میں گیارہ بیویاں آپ کے پاس تھیں۔ انتقال کے وقت آپ کی نو بیویاں تھیں ۱؎ [بیہقی:289:مرسل] ہمارے علماء کرام رحمہ اللہ علیہم اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ آپ کی خصوصیت تھی امتی کو ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں پاس رکھنے کی اجازت نہیں، جیسے کہ یہ حدیثیں اس امر پر دلالت کرتی ہیں، سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوتے ہیں تو ان کے پاس ان کی دس بیویاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ان میں سے جنہیں چاہو چار رکھ لو باقی کو چھوڑ دو چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر سیدنا رضی اللہ عنہ عمر کی خلافت کے زمانے میں اپنی ان بیویوں کو بھی طلاق دے دی اور اپنے لڑکوں کو اپنا مال بانٹ دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا شاید تیرے شیطان نے بات اچک لی اور تیرے دل میں خیال جما دیا ہے کہ تو عنقریب مرنے والا ہے اس لیے اپنی بیویوں کو تو نے بھی الگ کر دیا کہ وہ تیرا مال نہ پائیں اور اپنا مال اپنی اولاد میں تقسیم کر دیا میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ اپنی بیویوں سے رجوع کر لے اور اپنی اولاد سے مال واپس لے لے اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے بعد تیری ان مطلقہ بیویوں کو بھی تیرا وارث بناؤں گا کیونکہ تو نے انہیں اسی ڈر سے طلاق دی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ تیری زندگی بھی اب ختم ہونے والی ہے اور اگر تو نے میری بات نہ مانی تو یاد رکھ میں حکم دوں گا کہ لوگ تیری قبر پر پتھر پھینکیں جیسے کہ ابو رغال کی قبر پر پتھر پھینکے جاتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:1128،قال الشيخ الألباني:صحیح] (مسند احمد شافعی ترمذی ابن ماجہ دارقطنی بیہقی وغیرہ)
مرفوع حدیث تک تو ان سب کتابوں میں ہے ہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والا واقعہ صرف مسند احمد میں ہی ہے لیکن یہ زیادتی حسن ہے، اگرچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے اور اس کی اسناد کا دوسرا طریقہ بتا کر اس طریقہ کو غیر محفوظ کہا ہے مگر اس تعلیل میں بھی اختلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور بزرگ محدثین نے بھی اس پر کلام کیا ہے لیکن مسند احمد والی حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور شرط شیخین پر ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ یہ دس عورتیں بھی اپنے خاوند کے ساتھ مسلمان ہوئی تھیں ملاحظہ ہو۔ ۱؎ [بیہقی:183/7:حسن] اس حدیث سے صاف ظاہر ہو گیا کہ اگر چار سے زیادہ کا ایک وقت میں نکاح میں رکھنا جائز ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے یہ نہ فرماتے کہ اپنی ان دس بیویوں میں سے چار کو جنہیں تم چاہو روک لو باقی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ سب بھی اسلام لا چکی تھیں، یہاں یہ بات بھی خیال میں رکھنی چاہیئے کہ ثقفی کے ہاں تو یہ دس عورتیں بھی موجود تھیں اس پر بھی آپ نے چھ علیحدہ کرا دیں پھر بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص نئے سرے سے چار سے زیادہ جمع کرے؟ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ با الصواب»
چار سے زائد نہیں، وہ بھی بشرط انصاف ورنہ ایک ہی بیوی! ٭٭
دوسری حدیث ابوداؤد ابن ماجہ وغیرہ میں ہے سیدنا عمیرہ اسدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جس وقت اسلام قبول کیا میرے نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے فرمایا: ”ان میں سے جن چار کو چاہو رکھ لو“ ۱؎ [سنن ابوداود:2241/2242،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کی سند حسن ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں راویوں کے ناموں کا ہیر پھیر وغیرہ ایسی روایات میں نقصان دہ نہیں ہوتا تیسری حدیث مسند شافعی میں ہے سیدنا نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب اسلام قبول کیا اس وقت میری پانچ بیویاں تھیں مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے پسند کر کے چار کو رکھ لو اور ایک کو الگ کر دو“ میں نے جو سب سے زیادہ عمر کی بڑھیا اور بے اولاد بیوی ساٹھ سال کی تھیں انہیں طلاق دے دی ۱؎ [مسند شافعی:16/2:] پس یہ حدیثیں سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ والی پہلی حدیث کی شواہد ہیں جیسے کہ امام بیہقی نے فرمایا۔ پھر فرماتا ہے ہاں اگر ایک سے زیادہ بیویوں میں عدل و انصاف نہ ہو سکنے کا خوف ہو تو صرف ایک ہی پر اکتفا کرو اور اپنی کنیزوں سے استمتاع کرو۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ» ۱؎ [4-النساء:129] یعنی ’ گو تم چاہو لیکن تم سے نہ ہو سکے گا کہ عورتوں کے درمیان پوری طرح عدل و انصاف کو قائم رکھ سکو پس بالکل ایک ہی طرف جھک کر دوسری کو مصیبت میں نہ ڈال دو ‘، ہاں یاد رہے کہ لونڈیوں میں باری وغیرہ کی تقسیم واجب نہیں البتہ مستحب ہے جو کرے اس نے اچھا کیا اور جو نہ کرے اس پر حرج نہیں۔
اس کے بعد کے جملے کے مطلب میں بعض نے تو کہا ہے کہ یہ قریب ہے ان معنی کے کہ تمہارے عیال یعنی فقیری زیادہ نہ ہو جیسے اور جگہ ہے آیت «وَإِنْ خِفْتُمْ» ۱؎» [9-التوبة:29] یعنی اگر تمہیں فقر کا ڈر ہو۔ عربی شاعر کہتا ہے: «فما یدری الفقیر متی غناہ ... وما یدری الغنی متی یعیل» یعنی ”فقیر نہیں جانتا کہ کب امیر ہو جائے گا ... اور امیر کو معلوم نہیں کہ کب فقیر بن جائے گا“ جب کوئی مسکین محتاج ہو جائے تو عرب کہتے ہیں «عال الرجل» یعنی ”یہ شخص فقیر ہو گیا“ غرض اس معنی میں یہ لفظ مستعمل تو ہے لیکن یہاں یہ تفسیر کچھ زیادہ اچھی نہیں معلوم ہوتی، کیونکہ اگر آزاد عورتوں کی کثرت فقیری کا باعث بن سکتی ہے تو لونڈیوں کی کثرت بھی فقیری کا سبب ہو سکتی ہے۔ پس صحیح قول جمہور کا ہے کہ مرادیہ ہے کہ یہ قریب ہے اس سے کہ تم ظلم سے بچ جاؤ، عرب میں کہا جاتا ہے «عال فی الحکم» جبکہ ظلم و جور کیا ہو، ابوطالب کے مشہور قصیدے میں ہے۔ «بمیزان قسط لا یخیس شعیرۃ» ... لہ شاہدمن نفسہ غیر عائل» بہترین ترازو ضمیر ہے یعنی ایسی ترازو سے تولتا ہے جو ایک جو برابر کی بھی کمی نہیں کرتا اس کے پاس اس کا گواہ خود اس کا نفس ہے جو ظالم نہیں ہے۔
ابن جریر میں ہے کہ جب کوفیوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر ایک میں خط کچھ الزام لکھ کر بھیجے تو ان کے جواب میں خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا کہ «إِني لسْتُ بميزانٍ لا أَعُول» میں ظلم کا ترازو نہیں ہوں صحیح ابن حبان وغیرہ میں ایک مرفوع حدیث اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس کا معنی ہے تم ظلم نہ کرو ۱؎ [صحیح ابنvحبان:134/6] ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا مرفوع ہونا تو خطا ہے ہاں یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے اسی طرح «لا تعولوا» کے یہی معنی ہیں یعنی تم ظلم نہ کرو۔ سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدہ عائشہ، رضی اللہ عنہما مجاہد، عکرمہ، حسن، ابو مالک، ابو زرین، نخعی، شعبی، ضحاک، عطاء خراسانی، قتادہ، سدی اور مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:549/7-515] وغیرہ سے بھی مروی ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ نے بھی ابوطالب کا وہی شعر پیش کیا ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے اور خود امام صاحب بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے اپنی بیویوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کر دیا کرو جو بھی مقرر ہوئے ہوں اور جن کو تم نے منظور کیا ہو، ہاں اگر عورت خود اپنا سارا یا تھوڑا بہت مہر اپنی خوشی سے مرد کو معاف کر دے تو اسے اختیار ہے اور اس صورت میں بیشک مرد کو اس کا اپنے استعمال میں لانا حلال، طیب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو جائز نہیں کہ بغیر مہر واجب کے نکاح کرے نہ یہ کہ جھوٹ موٹ مہر کا نام ہی نام ہو ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:553/7] ابن ابی حاتم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ تم میں سے جب کوئی بیمار پڑے تو اسے چاہیئے کہ اپنی بیوی سے اس کے مال کے تین درہم یا کم و بیش لے ان کا شہد خرید لے اور بارش کا آسمانی پانی اس میں ملالے تو تین تین بھلائیاں مل جائیں گی آیت «فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا» [4-النساء:4] تو مال عورت اور شفاء شہد اور مبارک بارش کا پانی۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی بیٹیوں کا مہر آپ لیتے تھے جس پر یہ آیت اتری اور انہیں اس سے روک دیا گیا (ابن ابی حاتم اور ابن جریر) اس حکم کو سن کر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان کا مہر کیا ہونا چاہیئے؟ آپ نے فرمایا جس چیز پر بھی ان کے ولی رضامند ہو جائیں ۱؎ [بیہقی:239/7:مرسل و ضعیف] (ابن ابی حاتم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں تین مرتبہ فرمایا کہ ”بیوہ عورتوں کا نکاح کر دیا کرو“، ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ! ایسی صورت میں ان کا مہر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”جس پر ان کے گھر والے راضی ہو جائیں“ ۱؎ [بیہقی:239/7:منقطع و ضعیف] اس کے ایک راوی ابن بیلمانی ضعیف ہیں، پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 4) جاہلیت میں عورتوں کا مہر لوگ خود لے لیتے اور انھیں کچھ بھی نہیں دیتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی سے دو، پھر اگر کوئی عورت خوش دلی سے مہر کاکچھ حصہ یا سارا شوہر کو دے دے تو وہ خاوند کے لیے جائز ہے اور خوش دلی سے کھا سکتا ہے، لیکن اگر عورت شوہر کی بد اخلاقی یا برے برتا ؤ کی وجہ سے معاف کرے اور شوہر قبول کرے تو یہ اس آیت کے خلاف ہے۔ اسی طرح اگر دھوکا دے کر مہر معاف کروالے، پھر طلاق دے دے تو وہ بھی جائز نہیں ہو گا، بلکہ مہر دینا پڑے گا، کیونکہ وہ خوش دلی کے خلاف ہے۔
اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے لیے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے، نادان لوگوں کے حوالہ نہ کرو، البتہ انہیں کھانے اور پہننے کے لیے دو اور انہیں نیک ہدایت کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
بے عقل لوگوں کو اپنا مال نہ دے دو جس مال کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری گزران کے قائم رکھنے کا ذریعہ بنایا ہے، ہاں انہیں اس مال سے کھلاؤ پلاؤ، پہناؤ، اوڑھاؤ اور انہیں معقولیت سے نرم بات کہو
احمد رضا خان بریلوی
اور بے عقلوں کو ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہاری زندگی کا سامان اور اسے قائم رکھنے کا ذریعہ بنایا ہے ناسمجھ لوگوں کے حوالے نہ کرو۔ ہاں البتہ ان کو (کھانا و طعام) کھلاؤ اور (کپڑا) پہناؤ اور ان سے اچھی گفتگو کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے سمجھوں کو اپنے مال نہ دو، جو اللہ نے تمھارے قائم رہنے کا ذریعہ بنائے ہیں اور انھیں ان میں سے کھانے کے لیے دو اور انھیں پہننے کے لیے دو اور ان سے اچھی بات کہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کم عقل اور یتیموں کے بارہ میں احکامات ٭٭
اللہ سبحانہ و تعالیٰ لوگوں کو منع فرماتا ہے کہ کم عقل بیویوں کو مال کے تصرف سے روکیں، مال کو اللہ تعالیٰ نے تجارتوں وغیرہ میں لگا کر انسان کا ذریعہ معاش بنایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کم عقل لوگوں کو ان کے مال کے خرچ سے روک دینا چاہیئے، مثلاً نابالغ بچہ ہو یا مجنون و دیوانہ ہو یا کم عقل، بیوقوف ہو اور بےدین ہو، بری طرح اپنے مال کو لٹا رہا ہو، اسی طرح ایسا شخص جس پر قرض بہت چڑھ گیا ہو جسے وہ اپنے کل مال سے بھی ادا نہیں کر سکتا اگر قرض خواہ حاکم وقت سے درخواست کریں تو حاکم وہ سب مال اس کے قبضے سے لے لے گا اور اسے بےدخل کر دے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہاں «السُّفَهَاءَ» سے مراد تیری اولاد اور عورتیں ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:562/7] اسی طرح سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حکم بن عبینہ، حسن اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم سے بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عورتیں اور بچے ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:562/7] سعید بن جبیر فرماتے ہیں یتیم مراد ہیں، مجاہد عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے کہ عورتیں مراد ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک عورتیں بیوقوف ہیں مگر جو اپنے خاوند کی اطاعت گزار ہوں“ }، ۱؎ (ضعیف: اس کی سند میں عثمان بن ابی عاتکہ اور بن یزید دونوں راوی ضعیف ہیں) ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث مطول مروی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سرکش خادم ہیں۔
پھر فرماتا ہے انہیں کھلاؤ پہناؤ اور اچھی بات کہو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں یعنی تیرا مال جس پر تیری گزر بسر موقوف ہے اسے اپنی بیوی بچوں کو نہ دے ڈال کہ پھر ان کا ہاتھ تکتا پھرے بلکہ اپنا مال اپنے قبضے میں رکھ اس کی اصلاح کرتا رہ اور خود اپنے ہاتھ سے ان کے کھانے کپڑے کا بندوبست کر اور ان کے خرچ اٹھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریرالطبری:7/570] سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا، ایک وہ شخص جس کی بیوی بدخلق ہو اور پھر بھی وہ اسے طلاق نہ دے دوسرا وہ شخص جو اپنا مال بیوقوف کو دیدے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے بیوقوف کو اپنا مال نہ دو تیسرا وہ شخص جس کا قرض کسی پر ہو اور اس نے اس قرض پر کسی کو گواہ نہ کیا ہو۔ ان سے بھلی بات کہو یعنی ان سے نیکی اور صلہ رحمی کرو، اس آیت سے معلوم ہوا کہ محتاجوں سے سلوک کرنا چاہیئے اسے جسے بالفعل تصرف کا حق نہ ہو اس کے کھانے کپڑے کی خبرگیری کرنی چاہیئے اور اس کے ساتھ نرم زبانی اور خوش خلقی سے پیش آنا چاہیئے۔
پھر فرمایا یتیموں کی دیکھ بھال رکھو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائیں، یہاں نکاح سے مراد بلوغت ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریرالطبری:7/584] اور بلوغت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب اسے خاص قسم کے خواب آنے لگیں جن میں خاص پانی اچھل کر نکلتا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بخوبی یاد ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں اور نہ تمام دن رات چپ رہنا ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2873،قال الشيخ الألباني:صحیح] دوسری حدیث میں ہے تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، بچے سے جب تک بالغ نہ ہو، سوتے سے جب تک جاگ نہ جائے، مجنوں سے جب تک ہوش نہ آ جائے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4398،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ایک تو علامت بلوغ یہ ہے۔
دوسری علامت بلوغ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ پندرہ سال کی عمر ہو جائے اس کی دلیل بخاری مسلم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی حدیث ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ احد والی لڑائی میں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ اس لیے نہیں لیا تھا کہ اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی اور خندق کی لڑائی میں جب میں حاضر کیا گیا تو آپ نے قبول فرما لیا اس وقت میں پندرہ سال کا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2664] عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو جب یہ حدیث پہنچی تو آپ نے فرمایا: نابالغ بالغ کی حد یہی ہے، تیسری علامت بلوغت کی زیر ناف کے بالوں کا نکلنا ہے، اس میں علماء کے تین قول ہیں ایک یہ کہ علامت بلوغ ہے دوسرے یہ کہ نہیں تیسرے یہ کہ مسلمانوں میں نہیں اور ذمیوں میں ہے اس لیے کہ ممکن ہے کسی دوا سے یہ بال جلد نکل آتے ہوں اور ذمی پر جوان ہوتے ہی جزیہ لگ جاتا ہے تو وہ اسے کیوں استعمال کرنے لگا؟ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ سب کے حق میں یہ علامت بلوغت ہے کیونکہ اولاً تو جلی امر ہے علاج معالجہ کا احتمال بہت دور کا احتمال ہے ٹھیک یہی ہے کہ یہ بال اپنے وقت پر ہی نکلتے ہیں۔
دوسری دلیل مسند احمد کی حدیث ہے، جس میں سیدنا عطیہ قرضی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بنو قریظہ کی لڑائی کے بعد ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے تو آپ نے حکم دیا کہ ایک شخص دیکھے جس کے یہ بال نکل آئے ہوں اسے قتل کر دیا جائے اور نہ نکلے ہوں اسے چھوڑ دیا جائے چنانچہ یہ بال میرے بھی نہ نکلے تھے مجھے چھوڑ دیا گیا،۱؎ [سنن ابوداود:4404،قال الشيخ الألباني:صحیح] سنن اربعہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح فرماتے ہیں، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہو کر یہ قبیلہ لڑائی سے باز آیا تھا پھر سیدنا سعد رضی اللہ عن نے یہ فیصلہ کیا کہ ان میں سے لڑنے والے تو قتل کر دئیے جائیں اور بچے قیدی بنا لیے جائیں۔ غرائب ابی عبید میں ہے کہ ایک لڑکے نے ایک نوجوان لڑکی کی نسبت کہا کہ میں نے اس سے بدکاری کی ہے دراصل یہ تہمت تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے تہمت کی حد لگانی چاہی لیکن فرمایا دیکھ لو اگر اس کے زیر ناف کے بال اگ آئے ہوں تو اس پر حد جاری کرو ورنہ نہیں دیکھا تو آگے نہ تھے چنانچہ اس پر سے حد ہٹا دی۔
پھر فرماتا ہے جب تم دیکھو کہ یہ اپنے دین کی صلاحیت اور مال کی حفاظت کے لائق ہو گئے ہیں تو ان کے ولیوں کو چاہیئے کہ ان کے مال انہیں دے دیں۔ بغیر ضروری حاجت کے صرف اس ڈر سے کہ یہ بڑے ہوتے ہی اپنا مال ہم سے لے لیں گے تو ہم اس سے پہلے ہی ان کے مال کو ختم کر دیں ان کا مال نہ کھاؤ۔ جسے ضرورت نہ ہو خود امیر ہو کھاتا پیتا ہو تو اسے تو چاہیئے کہ ان کے مال میں سے کچھ بھی نہ لے، مردار اور بہے ہوئے خون کی طرح یہ مال ان پر حرام محض ہے، ہاں اگر والی مسکین محتاج ہو تو بیشک اسے جائز ہے کہ اپنی پرورش کے حق کے مطابق وقت کی حاجت اور دستور کے موجب اس مال میں سے کھا پی لے اپنی حاجت کو دیکھے اور اپنی محنت کو، اگر حاجت محنت سے کم ہو تو حاجت کے مطابق لے اور اگر محنت حاجت سے کم ہو تو محنت کا بدلہ لے لے، پھر ایسا ولی اگر مالدار بن جائے تو اسے اس کھائے ہوئے اور لیے ہوئے مال کو واپس کرنا پڑے گا یا نہیں؟ اس میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ واپس نہ دینا ہو گا اس لیے کہ اس نے اپنے کام کے بدلے لے لیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھیوں کے نزدیک یہی صحیح ہے، اس لیے کہ آیت نے بغیر بدل کے مباح قرار دیا ہے۔ اور مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس مال نہیں ایک یتیم میری پرورش میں ہے تو کیا میں اس کے کھانے سے کھا سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں اس یتیم کا مال اپنے کام میں لا سکتا بشرطیکہ حاجت سے زیادہ نہ اڑا، نہ جمع کر، نہ یہ ہو کہ اپنے مال کو تو بچا رکھے اور اس کے مال کو کھاتا چلا جائے۔“ ۱؎ [مسند احمد:186/2:جید اسناد] ابن ابی حاتم میں بھی ایسی ہی روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2872،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
ابن حبان وغیرہ میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں اپنے یتیم کو ادب سکھانے کے لیے ضرورتاً کس چیز سے ماروں؟ فرمایا:”جس سے تو اپنے بچے کو تنبیہہ کرتا ہے اپنا مال بچا کر اس کا مال خرچ نہ کر نہ اس کے مال سے دولت مند بننے کی کوشش کر“ }۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:4244] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا کہ میرے پاس بھی اونٹ ہیں اور میرے ہاں جو یتیم پل رہے ہیں ان کے بھی اونٹ ہیں میں اپنی اونٹنیاں دودھ پینے کے لیے فقیروں کو تحفہ دے دیتا ہوں تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ ان یتیموں کی اونٹنیوں کا دودھ پی لوں؟ آپ نے فرمایا اگر ان یتیموں کی گمشدہ اونٹنیوں کو تو ڈھونڈ لاتا ہے ان کے چارے پانی کی خبرگیری رکھتا ہے، ان کے حوض درست کرتا رہتا ہے اور ان کی نگہبانی کیا کرتا ہے تو بیشک دودھ سے نفع بھی اٹھا لیکن اس طرح کہ نہ ان کے بچوں کو نقصان پہنچے،نہ حاجت سے زیادہ لے، ۱؎ [موطا:33/2،934] عطاء بن رباح عکرمہ ابراہیم نخعی عطیہ عوفی حسن بصری رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ تنگ دستی کے دور ہو جانے کے بعد وہ مال یتیم کو واپس دینا پڑے گا اس لیے کہ اصل تو ممانعت ہے البتہ ایک وجہ سے جواز ہو گیا تھا جب وہ وجہ جاتی رہی تو اس کا بدل دینا پڑے گا جیسے کوئی بےبس اور مضطر ہو کر کسی غیر کا مال کھا لے لیکن حاجت کے نکل جانے کے بعد اگر اچھا وقت آیا تو اسے واپس دینا ہو گا، دوسری دلیل یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب تخت خلافت پر بیٹھے تو اعلان فرمایا تھا کہ میری حیثیت یہاں یتیم کے والی کی حیثیت ہے اگر مجھے ضرورت ہی نہ ہوئی تو میں بیت المال سے کچھ نہ لوں گا اور اگر محتاجی ہوئی تو بطور قرض لوں گا جب آسانی ہوئی پھر واپس کر دوں گا (ابن ابی الدنیا) یہ حدیث سعید بن منصور میں بھی ہے اور اس کی سند صحیح ہے، بیہقی میں بھی یہ حدیث ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت کے اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے کہ بطور قرض کھائے اور بھی مفسرین سے یہ مروی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں معروف سے کھانے کا مطلب یہ ہے کہ تین انگلیوں سے کھائے اور روایت میں آپ سے یہ مروی ہے کہ وہ اپنے ہی مال کو صرف اپنی ضرورت پوری ہو جانے کے لائق ہی خرچ کرے تاکہ اسے یتیم کے مال کی حاجت ہی نہ پڑے۔ عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر ایسی بےبسی ہو جس میں مردار کھانا جائز ہو جاتا ہے تو بیشک کھا لے لیکن پھر ادا کرنا ہو گا، یحییٰ بن سعید انصار اور ربیعہ رحمہ اللہ علیہم سے اس کی تفسیر یوں مروی ہے کہ اگر یتیم فقیر ہو تو اس کا ولی اس کی ضرورت کے موافق دے اور پھر اس ولی کو کچھ نہ ملے گا، لیکن عبارت میں یہ ٹھیک نہیں بیٹھتا اس لیے کہ اس سے پہلے یہ جملہ بھی ہے کہ جو غنی ہو وہ کچھ نہ لے، یعنی جو ولی غنی ہو تو یہاں بھی یہی مطلب ہو گا جو ولی فقیر ہو نہ یہ کہ جو یتیم فقیر ہو۔
دوسری آیت میں ہے: «وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ» [6-الأنعام:152] الخ یعنی ’ یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ ہاں بطور اصلاح کے پھر اگر تمہیں حاجت ہو تو حسب حاجت بطریق معروف اس میں سے کھاؤ پیو ‘۔ پھر اولیاء سے کہا جاتا ہے کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ جائیں اور تم دیکھ لو کہ ان میں تمیز آ چکی ہے تو گواہ رکھ کر ان کے مال ان کے سپرد کر دو، تاکہ انکار کرنے کا وقت ہی نہ آئے، یوں تو دراصل سچا شاہد اور پورا نگراں اور باریک حساب لینے والا اللہ ہی ہے وہ خوب جانتا ہے کہ ولی نے یتیم کے مال میں نیت کیسی رکھی؟ آیا خورد برد کیا تباہ و برباد کیا جھوٹ سچ حساب لکھا اور دیا یا صاف دل اور نیک نیتی سے نہایت چوکسی اور صفائی سے اس کے مال کا پورا پورا خیال رکھا اور حساب کتاب صاف رکھا، ان سب باتوں کا حقیقی علم تو اسی دانا و بینا نگران و نگہبان کو ہے۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابوذر! میں تمہیں ناتواں پاتا ہوں اور جو اپنے لیے چاہتا ہوں وہی تیرے لیے بھی پسند کرتا ہوں خبردار! ہرگز دو شخصوں کا بھی سردار اور امیر نہ بننا نہ کبھی کسی یتیم کا ولی بننا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:1826]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 5)یہاں بے سمجھوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو مال کے انتظام کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں۔ اس میں چھوٹے بچے اور ناتجربہ کار بیوی بھی آجاتی ہے اور نادان یتیم بھی، یعنی اگر یتیم ناتجربہ کار اور کم عقل ہوں تو وصی یا متولی کو چاہیے کہ یتیم کے مال سے اس کے کھانے پینے اور لباس کا انتظام کرتا رہے، مگر وہ مال اس کے سپرد نہ کرے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ تین آدمی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں مگر ان کی دعا قبول نہیں ہوتی، ایک وہ آدمی جس کی بیوی بدخلق تھی پھر اس نے اسے طلاق نہیں دی اور ایک وہ آدمی جس کا کسی شخص کے ذمے مال تھا مگر اس نے اس پر کوئی گواہ نہیں بنایا اور ایک وہ آدمی جس نے کسی سفیہ (بے وقوف) کو اپنا مال دے دیا جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تم بے وقوفوں کو اپنے مال مت دو۔“ [ صحیح الجامع: ۳۰۷۵ ] اس آیت سے علماء نے سفیہ (کم عقل) پر {”حجر“ } (پابندی) کا حکم اخذ کیا ہے کہ حاکم وقت اس کے لین دین پر پابندی لگا سکتا ہے۔ (قرطبی)
اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر تم اُن کے اندر اہلیت پاؤ تو اُن کے مال اُن کے حوالے کر دو ایسا کبھی نہ کرنا کہ حد انصاف سے تجاوز کر کے اِس خوف سے اُن کے مال جلدی جلدی کھا جاؤ کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے یتیم کا جو سرپرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے پھر جب اُن کے مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بنا لو، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یتیموں کو ان کے بالﻎ ہو جانے تک سدھارتے اور آزماتے رہو پھر اگر ان میں تم ہوشیاری اور حسن تدبیر پاؤ تو انہیں ان کے مال سونﭗ دو اور ان کے بڑے ہو جانے کے ڈر سے ان کے مالوں کو جلدی جلدی فضول خرچیوں میں تباه نہ کر دو، مال داروں کو چاہئے کہ (ان کے مال سے) بچتے رہیں، ہاں مسکین محتاج ہو تو دستور کے مطابق واجبی طور سے کھالے، پھر جب انہیں ان کے مال سونپو تو گواه بنا لو، دراصل حساب لینے واﻻ اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انہیں سپرد کردو اور انہیں نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے، پھر جب تم ان کے مال انہیں سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یتیموں کی جانچ پڑتال کرتے رہو۔ یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر تک پہنچ جائیں اور تم ان میں اہلیت و سمجھداری بھی پاؤ تو پھر ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔ اور فضول خرچی سے کام لے کر اور اس جلد بازی میں کہ وہ کہیں بڑے نہ ہو جائیں ان کا مال مت کھاؤ۔ اور جو سرپرست مالدار ہو تو اسے تو بہرحال ان کے مال سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔ اور جو نادار ہو اسے معروف (مناسب) طریقہ سے کھانا چاہیے۔ پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کرو۔ تو ان لوگوں کو گواہ بنا لو۔ اور یوں تو حساب کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یتیموں کو آزماتے رہو، یہاں تک کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ جائیں، پھر اگر تم ان سے کچھ سمجھ داری معلوم کرو تو ان کے مال ان کے سپرد کردو اور فضول خرچی کرتے ہوئے اور اس سے جلدی کرتے ہوئے انھیں مت کھائو کہ وہ بڑے ہو جائیں گے۔ اور جو غنی ہو تو وہ بہت بچے اور جو محتاج ہو تو وہ جانے پہچانے طریقے سے کھالے، پھر جب ان کے مال ان کے سپرد کرو تو ان پر گواہ بنا لو اور اللہ پورا حساب لینے والا کافی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کم عقل اور یتیموں کے بارہ میں احکامات ٭٭
اللہ سبحانہ و تعالیٰ لوگوں کو منع فرماتا ہے کہ کم عقل بیویوں کو مال کے تصرف سے روکیں، مال کو اللہ تعالیٰ نے تجارتوں وغیرہ میں لگا کر انسان کا ذریعہ معاش بنایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کم عقل لوگوں کو ان کے مال کے خرچ سے روک دینا چاہیئے، مثلاً نابالغ بچہ ہو یا مجنون و دیوانہ ہو یا کم عقل، بیوقوف ہو اور بےدین ہو، بری طرح اپنے مال کو لٹا رہا ہو، اسی طرح ایسا شخص جس پر قرض بہت چڑھ گیا ہو جسے وہ اپنے کل مال سے بھی ادا نہیں کر سکتا اگر قرض خواہ حاکم وقت سے درخواست کریں تو حاکم وہ سب مال اس کے قبضے سے لے لے گا اور اسے بےدخل کر دے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہاں «السُّفَهَاءَ» سے مراد تیری اولاد اور عورتیں ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:562/7] اسی طرح سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حکم بن عبینہ، حسن اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم سے بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عورتیں اور بچے ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:562/7] سعید بن جبیر فرماتے ہیں یتیم مراد ہیں، مجاہد عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے کہ عورتیں مراد ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک عورتیں بیوقوف ہیں مگر جو اپنے خاوند کی اطاعت گزار ہوں“ }، ۱؎ (ضعیف: اس کی سند میں عثمان بن ابی عاتکہ اور بن یزید دونوں راوی ضعیف ہیں) ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث مطول مروی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سرکش خادم ہیں۔
پھر فرماتا ہے انہیں کھلاؤ پہناؤ اور اچھی بات کہو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں یعنی تیرا مال جس پر تیری گزر بسر موقوف ہے اسے اپنی بیوی بچوں کو نہ دے ڈال کہ پھر ان کا ہاتھ تکتا پھرے بلکہ اپنا مال اپنے قبضے میں رکھ اس کی اصلاح کرتا رہ اور خود اپنے ہاتھ سے ان کے کھانے کپڑے کا بندوبست کر اور ان کے خرچ اٹھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریرالطبری:7/570] سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا، ایک وہ شخص جس کی بیوی بدخلق ہو اور پھر بھی وہ اسے طلاق نہ دے دوسرا وہ شخص جو اپنا مال بیوقوف کو دیدے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے بیوقوف کو اپنا مال نہ دو تیسرا وہ شخص جس کا قرض کسی پر ہو اور اس نے اس قرض پر کسی کو گواہ نہ کیا ہو۔ ان سے بھلی بات کہو یعنی ان سے نیکی اور صلہ رحمی کرو، اس آیت سے معلوم ہوا کہ محتاجوں سے سلوک کرنا چاہیئے اسے جسے بالفعل تصرف کا حق نہ ہو اس کے کھانے کپڑے کی خبرگیری کرنی چاہیئے اور اس کے ساتھ نرم زبانی اور خوش خلقی سے پیش آنا چاہیئے۔
پھر فرمایا یتیموں کی دیکھ بھال رکھو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائیں، یہاں نکاح سے مراد بلوغت ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریرالطبری:7/584] اور بلوغت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب اسے خاص قسم کے خواب آنے لگیں جن میں خاص پانی اچھل کر نکلتا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بخوبی یاد ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں اور نہ تمام دن رات چپ رہنا ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2873،قال الشيخ الألباني:صحیح] دوسری حدیث میں ہے تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، بچے سے جب تک بالغ نہ ہو، سوتے سے جب تک جاگ نہ جائے، مجنوں سے جب تک ہوش نہ آ جائے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4398،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ایک تو علامت بلوغ یہ ہے۔
دوسری علامت بلوغ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ پندرہ سال کی عمر ہو جائے اس کی دلیل بخاری مسلم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی حدیث ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ احد والی لڑائی میں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ اس لیے نہیں لیا تھا کہ اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی اور خندق کی لڑائی میں جب میں حاضر کیا گیا تو آپ نے قبول فرما لیا اس وقت میں پندرہ سال کا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2664] عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو جب یہ حدیث پہنچی تو آپ نے فرمایا: نابالغ بالغ کی حد یہی ہے، تیسری علامت بلوغت کی زیر ناف کے بالوں کا نکلنا ہے، اس میں علماء کے تین قول ہیں ایک یہ کہ علامت بلوغ ہے دوسرے یہ کہ نہیں تیسرے یہ کہ مسلمانوں میں نہیں اور ذمیوں میں ہے اس لیے کہ ممکن ہے کسی دوا سے یہ بال جلد نکل آتے ہوں اور ذمی پر جوان ہوتے ہی جزیہ لگ جاتا ہے تو وہ اسے کیوں استعمال کرنے لگا؟ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ سب کے حق میں یہ علامت بلوغت ہے کیونکہ اولاً تو جلی امر ہے علاج معالجہ کا احتمال بہت دور کا احتمال ہے ٹھیک یہی ہے کہ یہ بال اپنے وقت پر ہی نکلتے ہیں۔
دوسری دلیل مسند احمد کی حدیث ہے، جس میں سیدنا عطیہ قرضی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بنو قریظہ کی لڑائی کے بعد ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے تو آپ نے حکم دیا کہ ایک شخص دیکھے جس کے یہ بال نکل آئے ہوں اسے قتل کر دیا جائے اور نہ نکلے ہوں اسے چھوڑ دیا جائے چنانچہ یہ بال میرے بھی نہ نکلے تھے مجھے چھوڑ دیا گیا،۱؎ [سنن ابوداود:4404،قال الشيخ الألباني:صحیح] سنن اربعہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح فرماتے ہیں، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہو کر یہ قبیلہ لڑائی سے باز آیا تھا پھر سیدنا سعد رضی اللہ عن نے یہ فیصلہ کیا کہ ان میں سے لڑنے والے تو قتل کر دئیے جائیں اور بچے قیدی بنا لیے جائیں۔ غرائب ابی عبید میں ہے کہ ایک لڑکے نے ایک نوجوان لڑکی کی نسبت کہا کہ میں نے اس سے بدکاری کی ہے دراصل یہ تہمت تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے تہمت کی حد لگانی چاہی لیکن فرمایا دیکھ لو اگر اس کے زیر ناف کے بال اگ آئے ہوں تو اس پر حد جاری کرو ورنہ نہیں دیکھا تو آگے نہ تھے چنانچہ اس پر سے حد ہٹا دی۔
پھر فرماتا ہے جب تم دیکھو کہ یہ اپنے دین کی صلاحیت اور مال کی حفاظت کے لائق ہو گئے ہیں تو ان کے ولیوں کو چاہیئے کہ ان کے مال انہیں دے دیں۔ بغیر ضروری حاجت کے صرف اس ڈر سے کہ یہ بڑے ہوتے ہی اپنا مال ہم سے لے لیں گے تو ہم اس سے پہلے ہی ان کے مال کو ختم کر دیں ان کا مال نہ کھاؤ۔ جسے ضرورت نہ ہو خود امیر ہو کھاتا پیتا ہو تو اسے تو چاہیئے کہ ان کے مال میں سے کچھ بھی نہ لے، مردار اور بہے ہوئے خون کی طرح یہ مال ان پر حرام محض ہے، ہاں اگر والی مسکین محتاج ہو تو بیشک اسے جائز ہے کہ اپنی پرورش کے حق کے مطابق وقت کی حاجت اور دستور کے موجب اس مال میں سے کھا پی لے اپنی حاجت کو دیکھے اور اپنی محنت کو، اگر حاجت محنت سے کم ہو تو حاجت کے مطابق لے اور اگر محنت حاجت سے کم ہو تو محنت کا بدلہ لے لے، پھر ایسا ولی اگر مالدار بن جائے تو اسے اس کھائے ہوئے اور لیے ہوئے مال کو واپس کرنا پڑے گا یا نہیں؟ اس میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ واپس نہ دینا ہو گا اس لیے کہ اس نے اپنے کام کے بدلے لے لیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھیوں کے نزدیک یہی صحیح ہے، اس لیے کہ آیت نے بغیر بدل کے مباح قرار دیا ہے۔ اور مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس مال نہیں ایک یتیم میری پرورش میں ہے تو کیا میں اس کے کھانے سے کھا سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں اس یتیم کا مال اپنے کام میں لا سکتا بشرطیکہ حاجت سے زیادہ نہ اڑا، نہ جمع کر، نہ یہ ہو کہ اپنے مال کو تو بچا رکھے اور اس کے مال کو کھاتا چلا جائے۔“ ۱؎ [مسند احمد:186/2:جید اسناد] ابن ابی حاتم میں بھی ایسی ہی روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2872،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
ابن حبان وغیرہ میں ہے کہ { ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں اپنے یتیم کو ادب سکھانے کے لیے ضرورتاً کس چیز سے ماروں؟ فرمایا:”جس سے تو اپنے بچے کو تنبیہہ کرتا ہے اپنا مال بچا کر اس کا مال خرچ نہ کر نہ اس کے مال سے دولت مند بننے کی کوشش کر“ }۔ ۱؎ [صحیح ابن حبان:4244] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا کہ میرے پاس بھی اونٹ ہیں اور میرے ہاں جو یتیم پل رہے ہیں ان کے بھی اونٹ ہیں میں اپنی اونٹنیاں دودھ پینے کے لیے فقیروں کو تحفہ دے دیتا ہوں تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ ان یتیموں کی اونٹنیوں کا دودھ پی لوں؟ آپ نے فرمایا اگر ان یتیموں کی گمشدہ اونٹنیوں کو تو ڈھونڈ لاتا ہے ان کے چارے پانی کی خبرگیری رکھتا ہے، ان کے حوض درست کرتا رہتا ہے اور ان کی نگہبانی کیا کرتا ہے تو بیشک دودھ سے نفع بھی اٹھا لیکن اس طرح کہ نہ ان کے بچوں کو نقصان پہنچے،نہ حاجت سے زیادہ لے، ۱؎ [موطا:33/2،934] عطاء بن رباح عکرمہ ابراہیم نخعی عطیہ عوفی حسن بصری رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ تنگ دستی کے دور ہو جانے کے بعد وہ مال یتیم کو واپس دینا پڑے گا اس لیے کہ اصل تو ممانعت ہے البتہ ایک وجہ سے جواز ہو گیا تھا جب وہ وجہ جاتی رہی تو اس کا بدل دینا پڑے گا جیسے کوئی بےبس اور مضطر ہو کر کسی غیر کا مال کھا لے لیکن حاجت کے نکل جانے کے بعد اگر اچھا وقت آیا تو اسے واپس دینا ہو گا، دوسری دلیل یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب تخت خلافت پر بیٹھے تو اعلان فرمایا تھا کہ میری حیثیت یہاں یتیم کے والی کی حیثیت ہے اگر مجھے ضرورت ہی نہ ہوئی تو میں بیت المال سے کچھ نہ لوں گا اور اگر محتاجی ہوئی تو بطور قرض لوں گا جب آسانی ہوئی پھر واپس کر دوں گا (ابن ابی الدنیا) یہ حدیث سعید بن منصور میں بھی ہے اور اس کی سند صحیح ہے، بیہقی میں بھی یہ حدیث ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت کے اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے کہ بطور قرض کھائے اور بھی مفسرین سے یہ مروی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں معروف سے کھانے کا مطلب یہ ہے کہ تین انگلیوں سے کھائے اور روایت میں آپ سے یہ مروی ہے کہ وہ اپنے ہی مال کو صرف اپنی ضرورت پوری ہو جانے کے لائق ہی خرچ کرے تاکہ اسے یتیم کے مال کی حاجت ہی نہ پڑے۔ عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر ایسی بےبسی ہو جس میں مردار کھانا جائز ہو جاتا ہے تو بیشک کھا لے لیکن پھر ادا کرنا ہو گا، یحییٰ بن سعید انصار اور ربیعہ رحمہ اللہ علیہم سے اس کی تفسیر یوں مروی ہے کہ اگر یتیم فقیر ہو تو اس کا ولی اس کی ضرورت کے موافق دے اور پھر اس ولی کو کچھ نہ ملے گا، لیکن عبارت میں یہ ٹھیک نہیں بیٹھتا اس لیے کہ اس سے پہلے یہ جملہ بھی ہے کہ جو غنی ہو وہ کچھ نہ لے، یعنی جو ولی غنی ہو تو یہاں بھی یہی مطلب ہو گا جو ولی فقیر ہو نہ یہ کہ جو یتیم فقیر ہو۔
دوسری آیت میں ہے: «وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ» [6-الأنعام:152] الخ یعنی ’ یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ ہاں بطور اصلاح کے پھر اگر تمہیں حاجت ہو تو حسب حاجت بطریق معروف اس میں سے کھاؤ پیو ‘۔ پھر اولیاء سے کہا جاتا ہے کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ جائیں اور تم دیکھ لو کہ ان میں تمیز آ چکی ہے تو گواہ رکھ کر ان کے مال ان کے سپرد کر دو، تاکہ انکار کرنے کا وقت ہی نہ آئے، یوں تو دراصل سچا شاہد اور پورا نگراں اور باریک حساب لینے والا اللہ ہی ہے وہ خوب جانتا ہے کہ ولی نے یتیم کے مال میں نیت کیسی رکھی؟ آیا خورد برد کیا تباہ و برباد کیا جھوٹ سچ حساب لکھا اور دیا یا صاف دل اور نیک نیتی سے نہایت چوکسی اور صفائی سے اس کے مال کا پورا پورا خیال رکھا اور حساب کتاب صاف رکھا، ان سب باتوں کا حقیقی علم تو اسی دانا و بینا نگران و نگہبان کو ہے۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابوذر! میں تمہیں ناتواں پاتا ہوں اور جو اپنے لیے چاہتا ہوں وہی تیرے لیے بھی پسند کرتا ہوں خبردار! ہرگز دو شخصوں کا بھی سردار اور امیر نہ بننا نہ کبھی کسی یتیم کا ولی بننا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:1826]
6۔ 1 یتیموں کے مال کے بارے میں ضروری ہدایات دینے کے بعد یہ فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تمہارے پاس رہا، تم اس کی کس طرح حفاظت کی اور جب مال ان کے سپرد کیا تو اس میں کوئی کمی بیشی یا کسی قسم کی تبدیلی کی یا نہیں، عام لوگوں کو تو تمہاری امانت داری یا خیانت کا شاید پتہ نہ چلے۔ لیکن اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز چھپی نہیں۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے، کہ یہ بہت ذمہ داری کا کام ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر ؓ سے فرمایا " ابوذر! میں تمہیں ضعیف دیکھتا ہوں اور تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں، جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں، تم دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا، نہ کسی یتیم کے مال کا والی اور سرپرست " (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ)
(آیت 6) ➊ {وَ ابْتَلُوا الْيَتٰمٰى …:} بلوغت کے لیے مرد کی علامت احتلام اور عورت کی حیض ہے، علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے (بلوغت کے سلسلے میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یہ یاد رکھا ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں اور دن سے لے کر رات تک خاموشی نہیں۔“ [ أبو داوٗد، الوصایا، باب ما جاء متی ینقطع الیتم: ۲۸۷۳، و قال الألبانی صحیح ] عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”قریظہ کے دن ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو جس کے (زیر ناف) بال اگے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے بال نہیں اگے تھے اسے قتل نہیں کیا گیا، میں ان میں سے تھا جن کے بال ابھی نہیں اگے تھے، لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا۔“ [ أبو داوٗد، الحدود، باب فی الغلام یصیب الحد: ۴۴۰۴، و قال الألبانی صحیح ] جنگ میں شرکت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو چودہ سال کی عمر میں احد میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔ خندق میں جائزہ لیا گیا تو پندرہ سال کے تھے، آپ نے اجازت دے دی۔ نافع نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو یہ حدیث پہنچائی تو انھوں نے کہا: ”بچے اور بڑے کا یہی فرق ہے۔“ [ بخاری، الشہادات، باب بلوغ الصبیان…: ۲۶۶۴ ] مگر ظاہر ہے کہ یہ فرق بچے اور اس بڑے کا ہے جسے جنگ میں شرکت کی اجازت ہے۔ محض بلوغت کی علامت احتلام ہے، اگر اس کا علم نہ ہو سکے تو زیر ناف بال اگنا ہے۔ ➋ {فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا:} یعنی یتیموں کا امتحان اور ان کی تربیت کرتے رہو، جس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ پہلے تھوڑا سا مال دے کر ان کو کسی کام پر لگا کر دیکھو کہ آیا وہ مال کو بڑھاتے ہیں یا نہیں، پھر جب وہ بالغ ہو جائیں اور ان میں رشد ہو تو بلا توقف مال ان کے حوالے کر دو۔ {” رُشْدًا “ } سے مراد عقلی اور دینی صلاحیت ہے، پس بالغ ہونے کے علاوہ مال کی سپرد داری کے لیے رشد بھی شرط ہے، اگر کسی شخص میں رشد نہیں ہے تو خواہ وہ بوڑھا ہی کیوں نہ ہو جائے متولی یا وصی کو چاہیے کہ وہ مال اس کے حوالے نہ کرے۔ (قرطبی، ابن کثیر) ➌ { ”فَلْيَسْتَعْفِفْ“ ”عَفَّ يَعِفُّ (ض)“ } کا معنی بچنا ہے، { ”فَلْيَسْتَعْفِفْ“ } کا باب استفعال میں حروف کی زیادتی کی وجہ سے ترجمہ ”بہت بچے“ کیا گیا ہے۔ ➍ {وَ مَنْ كَانَ فَقِيْرًا …:} جانا پہچانا طریقہ یہی ہے کہ اس کے اموال کی نگرانی کی اجرت جو معروف ہے، لے لے۔ دوسرا یہ کہ زیادہ سے زیادہ اتنا لے لے جس سے اس کی ضرورت پوری ہو سکے۔ ➎ {فَاَشْهِدُوْا عَلَيْهِمْ:} یتیم کے متولی یا وصی کو حکم ہے کہ گواہوں کے رو برو مال واپس کرے، تاکہ کل کو اس پر کوئی الزام نہ آئے۔ {”وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيْبًا“} کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگوں کو تو مطمئن کر لو گے، مگر اصل حساب تو اللہ تعالیٰ نے لینا ہے، اس کا خاص خیال رکھو۔
مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت، اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ماں باپ اور خویش واقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی۔ (جو مال ماں باپ اور خویش واقارب چھوڑ مریں) خواه وه مال کم ہو یا زیاده (اس میں) حصہ مقرر کیا ہوا ہے
احمد رضا خان بریلوی
مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
مردوں کے لیے اس ترکہ سے حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ جائیں۔ اور عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے اس ترکہ سے جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ جائیں خواہ وہ (ترکہ) تھوڑا ہو یا زیادہ یہ حصہ (خدا کی طرف سے) لازمی مقرر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مردوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی اس میں سے ایک حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، اس میں سے جو اس (مال) سے تھوڑا ہو یا بہت، اس حال میں کہ مقرر کیا ہوا حصہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وراثت کے مسائل ٭٭
مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مر جاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کر دی کہ وارث تو سب ہوں گے خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد زوجیت کے ہو یا بوجہ نسبت آزادگی ہو حصہ سب کو ملے گا گو کم و بیش ہو۔ ”ام کجہ“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول! میرے دو لڑکے ہیں ان کے والد فوت ہو گئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے الفاظ سے میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب ان شاءاللہ آئے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مرنے والے کا ورثہ بٹنے لگے اور وہاں اس کا کوئی دور کا رشتہ دار بھی آ جائے جس کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور یتیم و مساکین آ جائیں تو انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دو۔ ابتداء اسلام میں تو یہ واجب تھا اور بعض کہتے ہیں مستحب تھا اور اب بھی یہ حکم باقی ہے یا نہیں؟ اس میں بھی دو قول ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اسے باقی بتاتے ہیں مجاہد، ابن مسعود، ابوموسیٰ، عبدالرحمٰن بن ابوبکر، ابوالعالیہ، شعبی، حسن، سعید بن جیر، ابن سیرین، عطاء بن ابو رباح، زہری، یحییٰ بن معمر رحمہ اللہ علیہم بھی باقی بتاتے ہیں، بلکہ یہ حضرات سوائے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے وجوب کے قائل ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/8] سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ ایک وصیت کے ولی تھے۔ انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور تینوں قسموں کے لوگوں کو کھلائی اور فرمایا اگر یہ آیت نہ ہوتی تو یہ بھی میرا مال تھا، عروہ رحمہ اللہ نے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کے مال کی تقسیم کے وقت بھی دیا، زہری رحمہ اللہ کا بھی قول ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں۔ ایک روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وصیت پر موقوف ہے۔ چنانچہ جب سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے باپ کا ورثہ تقسیم کیا اور یہ واقعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی کا ہے تو گھر میں جتنے مسکین اور قرابت دار تھے سب کو دیا اور اسی آیت کی تلاوت کی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا: اس نے ٹھیک نہیں کیا اس آیت سے تو مراد یہ ہے کہ جب مرنے والے نے اس کی وصیت کی ہو۔ (ابن ابی حاتم)
بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ آیت بالکل منسوخ ہی ہے مثلاً سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے۔ اور ناسخ آیت «يُوصِيكُمُ اللَّـهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ» الخ ۱؎ [4-النساء:11] ہے، حصے مقرر ہونے سے پہلے یہ حکم تھا پھر جب حصے مقرر ہو چکے اور ہر حقدار کو خود اللہ تعالیٰ نے حق پہنچا دیا تو اب صدقہ صرف وہی رہ گیا جو مرنے والا کہہ گیا ہو سعید بن مسیب رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ہاں اگر وصیت ان لوگوں کے لیے ہو تو اور بات ہے ورنہ یہ آیت منسوخ ہے، جمہور کا اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں ایک عجیب قول اختیار کیا ہے ان کی لمبی اور کئی بار کی تحریر کا ماحصل یہ ہے کہ مال وصیت کی تقسیم کے وقت جب میت کے رشتہ دار آ جائیں تو انہیں بھی دے دو اور یتیم مسکین جو آ گئے ہوں ان سے نرم کلامی اور اچھے جواب سے پیش آؤ، لیکن اس میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں تقسیم سے مراد یہاں ورثے کی تقسیم ہے، پس یہ قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کے خلاف ہے۔
ٹھیک مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب یہ غریب لوگ ترکے کی تقسیم کے وقت آ جائیں اور تم اپنا اپنا حصہ الگ الگ کر کے لے رہے ہو اور یہ بیچارے تک رہے ہوں تو انہیں بھی خالی ہاتھ نہ پھیرو ان کا وہاں سے مایوس اور خالی ہاتھ واپس جانا اللہ تعالیٰ رؤوف و رحیم کو اچھا نہیں لگتا بطور صدقہ کے راہ اللہ ان سے بھی کچھ اچھا سلوک کر دو تاکہ یہ خوش ہو کر جائیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے کہ «كُلُوا مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:141] ، کھیتی کے کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو، اور فاقہ زدہ اور مسکینوں سے چھپا کر اپنے باغ کا پھل لانے والوں کی اللہ تعالیٰ نے بڑی مذمت فرمائی ہے۔ جیسے کہ سورۃ نون میں ہے کہ «أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَارِمِينَ» * «فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ» * «أَنْ لَا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِسْكِينٌ» * «وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ» * «فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ» * «بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ» ۱؎ [68-القلم:-27-22] ’ وہ رات کے وقت چھپ کر پوشیدگی سے کھیت اور باغ کے دانے اور پھل لانے کے لیے چلتے ہیں وہاں اللہ کا عذاب ان سے پہلے پہنچ جاتا ہے اور سارے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کر دیتا ہے دوسروں کے حق برباد کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے ‘۔ حدیث شریف میں ہے جس مال میں صدقہ مل جائے یعنی جو شخص اپنے مال سے صدقہ نہ دے اس کا مال اس وجہ سے غارت ہو جاتا ہے۔ ۱؎ [بیہقی:159/4:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ڈریں وہ لوگ جو اگر اپنے پیچھے چھوڑ جائیں یعنی ایک شخص اپنی موت کے وقت وصیت کر رہا ہے اور اس میں اپنے وارثوں کو ضرر پہنچا رہا ہے تو اس وصیت کے سننے والے کو چاہیئے کہ اللہ کا خوف کرے اور اسے ٹھیک بات کی رہنمائی کرے اس کے وارثوں کے لیے ایسی بھلائی چاہے جیسے اپنے وارثوں کے ساتھ بھلائی کرانا چاہتا ہے جب کہ ان کی بربادی اور تباہی کا خوف ہو۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی بیماری کے زمانے میں ان کی عیادت کو گئے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس مال بہت ہے اور صرف میری ایک لڑکی ہی میرے پیچھے ہے تو اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے مال کی دو تہائیاں اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں، آپ نے فرمایا: ”نہیں“ انہوں نے کہا: پھر ایک تہائی کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا:”خیر لیکن ہے یہ بھی زیادہ تو اگر اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو توانگر چھوڑ کر جائے اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں فقیر چھوڑ کر جائے کہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“ ۱؎ [صحیح بخاری:56] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگ ایک تہائی سے بھی کم یعنی چوتھائی کی ہی وصیت کریں تو اچھا ہے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کو بھی زیادہ فرمایا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2743]
فقہاء فرماتے ہیں اگر میت کے وارث امیر ہوں تب تو خیر تہائی کی وصیت کرنا مستحب ہے اور اگر فقیر ہوں تو اس سے کم کی وصیت کرنا مستحب ہے، دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تم یتیموں کا اتنا ہی خیال رکھو جتنا تم چاہتے ہو کہ تمہاری چھوٹی اولاد کا تمہارے مرنے کے اور لوگ خیال رکھیں جس طرح تم نہیں چاہتے کہ ان کے مال دوسرے ظلم سے کھا جائیں اور وہ بالغ ہو کر فقیر رہ جائیں اسی طرح تم دوسروں کی اولادوں کے مال نہ کھا جاؤ، یہ مطلب بھی بہت عمدہ ہے اسی لیے اس کے بعد ہی یتیموں کا مال ناحق مار لینے والوں کی سزا بیان فرمائی، کہ یہ لوگ اپنے پیٹ میں انگارے بھرنے والے اور جہنم واصل ہونے والے ہیں۔
بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سات گناہوں سے بچو جو ہلاکت کا باعث ہیں“ پوچھا گیا، کیا کیا؟ فرمایا:”اللہ کے ساتھ شرک، جادو، بےوجہ قتل، سود خوری، یتیم کا مال کھا جانا، جہاد سے پیٹھ موڑنا، بھولی بھالی ناواقف عورتوں پر تہمت لگانا، ۱؎ [صحیح بخاری:2766] ابن ابی حاتم میں ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معراج کی رات کا واقعہ پوچھا جس میں آپ نے فرمایا کہ ”میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ نیچے لٹک رہے ہیں اور فرشتے انہیں گھسیٹ کر ان کا منہ خوب کھول دیتے ہیں پھر جہنم کے گرم پتھر ان میں ٹھونس دیتے ہیں جو ان کے پیٹ میں اتر کر پیچھے کے راستے سے نکل جاتے ہیں اور وہ بری طرح چیخ چلا رہے ہیں ہائے ہائے مچا رہے ہیں۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ کہا یہ یتیموں کا مال کھا جانے والے ہیں جو اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8725:ضعیف]
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یتیم کا مال کھا جانے والا قیامت کے روز اپنی قبر سے اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کے منہ، آنکھوں، نتھنوں اور روئیں روئیں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے ہر شخص دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ اس نے کسی یتیم کا مال ناحق کھا رکھا ہے۔ ابن مردویہ میں ایک مرفوع حدیث بھی اسی مضمون کے قریب قریب مروی ہے۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:7440:ضعیف] اور حدیث میں ہے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ان دونوں ضعیفوں کا مال پہنچا دو عورتوں کا اور یتیم کا، ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3678] ان کے مال سے بچو، سورۃ البقرہ میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو جن کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا اناج پانی بھی الگ کر دیا اب عموماً ایسا ہوتا کہ کھانے پینے کی ان کی کوئی چیز بچ رہتی تو یا تو دوسرے وقت اسی باسی چیز کو کھاتے یا سڑنے کے بعد پھینک دی جاتی گھر والوں میں سے کوئی اسے ہاتھ بھی نہ لگاتا تھا یہ بات دونوں طرف ناگوار گزری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی اس کا ذکر آیا ہے اس پر آیت «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَىٰ قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:220] اتری جس کا مطلب یہ ہے کہ جس کام میں یتیموں کی بہتری سمجھو کرو چنانچہ اس کے بعد پھر کھانا پانی ایک ساتھ ہوا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2871،قال الشيخ الألباني:صحیح]
7۔ 1 اسلام سے قبل ایک یہ ظلم بھی روا رکھا جاتا تھا کہ عورتوں اور چھوٹے بچوں کو وراثت سے حصہ نہیں دیا جاتا تھا اور صرف بڑے لڑکے جو لڑنے کے قابل ہوتے، سارے مال کے وارث قرار پاتے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مردوں کی طرح عورتوں اور بچے بچیاں اپنے والدین اوراقارب کے مال میں حصہ دار ہونگے انہیں محروم نہیں کیا جائے گا۔ تاہم یہ الگ بات ہے کہ لڑکی کا حصہ لڑکے کے حصے سے نصف ہے (جیسا کہ 3 آیات کے بعد مذکور ہے) یہ عورت پر ظلم نہیں ہے، نہ اس کا استخفاف ہے بلکہ اسلام کا یہ قانون میراث عدل وانصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ عورت کو اسلام نے معاش کی ذمہ داری سے فارغ رکھا ہے اور مرد کو اس کا کفیل بنایا ہے۔ علاوہ ازیں عورت کے پاس مہر کی صورت میں مال آتا ہے جو ایک مرد ہی اسے ادا کرتا ہے۔ اس لحاظ سے عورت کے مقابلے میں مرد پر کئی گنا زیادہ مالی ذمہ داریاں ہیں۔ اس لئے اگر عورت کا حصہ نصف کے بجائے مرد کے برابر ہوتا تو یہ مرد پر ظلم ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے کسی پر بھی ظلم نہیں کیا ہے کیونکہ وہ عادل بھی ہے اور حکیم بھی۔
(آیت 7) {لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ …:} اس آیت میں ایک اصولی حکم دیا ہے کہ ماں باپ اور رشتے داروں کی چھوڑی ہوئی جائداد میں، چاہے وہ کسی نوعیت کی ہو، جس طرح مردوں کا حق ہے اسی طرح عورتوں اور چھوٹے بچوں، حتیٰ کہ جنین کا بھی حق ہے۔ اس سے عرب کے جاہلی دستور کی تردید مقصود ہے۔ جس کے مطابق عورتوں اور بچوں کو میت کے متروکہ مال اور جائداد سے محروم کر دیا جاتا اور صرف بالغ لڑکے ہی جائدادپر قبضہ کر لیتے تھے۔ اس آیت کی شان نزول اور مردوں اور عورتوں کے حصوں کی تعیین بعد کی آیات میں آرہی ہے۔ (ابن کثیر)
اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور اُن کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب تقسیم کے وقت قرابت دار اور یتیم اور مسکین آجائیں تو تم اس میں سے تھوڑا بہت انہیں بھی دے دو اور ان سے نرمی سے بولو
احمد رضا خان بریلوی
پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو اور ان سے اچھی بات کہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب تقسیم کے موقع پر رشتہ دار، یتیم اور مسکین موجود ہوں تو انہیں بھی اس (مال) میں سے کچھ دے دو اور ان سے درست اور مناسب طریقہ سے بات کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب تقسیم کے وقت قرابت والے اور یتیم اور مسکین حاضر ہوں تو انھیں اس میں سے کچھ دو اور ان سے اچھی بات کہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وراثت کے مسائل ٭٭
مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مر جاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کر دی کہ وارث تو سب ہوں گے خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد زوجیت کے ہو یا بوجہ نسبت آزادگی ہو حصہ سب کو ملے گا گو کم و بیش ہو۔ ”ام کجہ“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول! میرے دو لڑکے ہیں ان کے والد فوت ہو گئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے الفاظ سے میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب ان شاءاللہ آئے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مرنے والے کا ورثہ بٹنے لگے اور وہاں اس کا کوئی دور کا رشتہ دار بھی آ جائے جس کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور یتیم و مساکین آ جائیں تو انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دو۔ ابتداء اسلام میں تو یہ واجب تھا اور بعض کہتے ہیں مستحب تھا اور اب بھی یہ حکم باقی ہے یا نہیں؟ اس میں بھی دو قول ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اسے باقی بتاتے ہیں مجاہد، ابن مسعود، ابوموسیٰ، عبدالرحمٰن بن ابوبکر، ابوالعالیہ، شعبی، حسن، سعید بن جیر، ابن سیرین، عطاء بن ابو رباح، زہری، یحییٰ بن معمر رحمہ اللہ علیہم بھی باقی بتاتے ہیں، بلکہ یہ حضرات سوائے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے وجوب کے قائل ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/8] سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ ایک وصیت کے ولی تھے۔ انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور تینوں قسموں کے لوگوں کو کھلائی اور فرمایا اگر یہ آیت نہ ہوتی تو یہ بھی میرا مال تھا، عروہ رحمہ اللہ نے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کے مال کی تقسیم کے وقت بھی دیا، زہری رحمہ اللہ کا بھی قول ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں۔ ایک روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وصیت پر موقوف ہے۔ چنانچہ جب سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے باپ کا ورثہ تقسیم کیا اور یہ واقعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی کا ہے تو گھر میں جتنے مسکین اور قرابت دار تھے سب کو دیا اور اسی آیت کی تلاوت کی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا: اس نے ٹھیک نہیں کیا اس آیت سے تو مراد یہ ہے کہ جب مرنے والے نے اس کی وصیت کی ہو۔ (ابن ابی حاتم)
بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ آیت بالکل منسوخ ہی ہے مثلاً سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے۔ اور ناسخ آیت «يُوصِيكُمُ اللَّـهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ» الخ ۱؎ [4-النساء:11] ہے، حصے مقرر ہونے سے پہلے یہ حکم تھا پھر جب حصے مقرر ہو چکے اور ہر حقدار کو خود اللہ تعالیٰ نے حق پہنچا دیا تو اب صدقہ صرف وہی رہ گیا جو مرنے والا کہہ گیا ہو سعید بن مسیب رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ہاں اگر وصیت ان لوگوں کے لیے ہو تو اور بات ہے ورنہ یہ آیت منسوخ ہے، جمہور کا اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں ایک عجیب قول اختیار کیا ہے ان کی لمبی اور کئی بار کی تحریر کا ماحصل یہ ہے کہ مال وصیت کی تقسیم کے وقت جب میت کے رشتہ دار آ جائیں تو انہیں بھی دے دو اور یتیم مسکین جو آ گئے ہوں ان سے نرم کلامی اور اچھے جواب سے پیش آؤ، لیکن اس میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں تقسیم سے مراد یہاں ورثے کی تقسیم ہے، پس یہ قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کے خلاف ہے۔
ٹھیک مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب یہ غریب لوگ ترکے کی تقسیم کے وقت آ جائیں اور تم اپنا اپنا حصہ الگ الگ کر کے لے رہے ہو اور یہ بیچارے تک رہے ہوں تو انہیں بھی خالی ہاتھ نہ پھیرو ان کا وہاں سے مایوس اور خالی ہاتھ واپس جانا اللہ تعالیٰ رؤوف و رحیم کو اچھا نہیں لگتا بطور صدقہ کے راہ اللہ ان سے بھی کچھ اچھا سلوک کر دو تاکہ یہ خوش ہو کر جائیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے کہ «كُلُوا مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:141] ، کھیتی کے کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو، اور فاقہ زدہ اور مسکینوں سے چھپا کر اپنے باغ کا پھل لانے والوں کی اللہ تعالیٰ نے بڑی مذمت فرمائی ہے۔ جیسے کہ سورۃ نون میں ہے کہ «أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَارِمِينَ» * «فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ» * «أَنْ لَا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِسْكِينٌ» * «وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ» * «فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ» * «بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ» ۱؎ [68-القلم:-27-22] ’ وہ رات کے وقت چھپ کر پوشیدگی سے کھیت اور باغ کے دانے اور پھل لانے کے لیے چلتے ہیں وہاں اللہ کا عذاب ان سے پہلے پہنچ جاتا ہے اور سارے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کر دیتا ہے دوسروں کے حق برباد کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے ‘۔ حدیث شریف میں ہے جس مال میں صدقہ مل جائے یعنی جو شخص اپنے مال سے صدقہ نہ دے اس کا مال اس وجہ سے غارت ہو جاتا ہے۔ ۱؎ [بیہقی:159/4:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ڈریں وہ لوگ جو اگر اپنے پیچھے چھوڑ جائیں یعنی ایک شخص اپنی موت کے وقت وصیت کر رہا ہے اور اس میں اپنے وارثوں کو ضرر پہنچا رہا ہے تو اس وصیت کے سننے والے کو چاہیئے کہ اللہ کا خوف کرے اور اسے ٹھیک بات کی رہنمائی کرے اس کے وارثوں کے لیے ایسی بھلائی چاہے جیسے اپنے وارثوں کے ساتھ بھلائی کرانا چاہتا ہے جب کہ ان کی بربادی اور تباہی کا خوف ہو۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی بیماری کے زمانے میں ان کی عیادت کو گئے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس مال بہت ہے اور صرف میری ایک لڑکی ہی میرے پیچھے ہے تو اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے مال کی دو تہائیاں اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں، آپ نے فرمایا: ”نہیں“ انہوں نے کہا: پھر ایک تہائی کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا:”خیر لیکن ہے یہ بھی زیادہ تو اگر اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو توانگر چھوڑ کر جائے اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں فقیر چھوڑ کر جائے کہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“ ۱؎ [صحیح بخاری:56] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگ ایک تہائی سے بھی کم یعنی چوتھائی کی ہی وصیت کریں تو اچھا ہے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کو بھی زیادہ فرمایا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2743]
فقہاء فرماتے ہیں اگر میت کے وارث امیر ہوں تب تو خیر تہائی کی وصیت کرنا مستحب ہے اور اگر فقیر ہوں تو اس سے کم کی وصیت کرنا مستحب ہے، دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تم یتیموں کا اتنا ہی خیال رکھو جتنا تم چاہتے ہو کہ تمہاری چھوٹی اولاد کا تمہارے مرنے کے اور لوگ خیال رکھیں جس طرح تم نہیں چاہتے کہ ان کے مال دوسرے ظلم سے کھا جائیں اور وہ بالغ ہو کر فقیر رہ جائیں اسی طرح تم دوسروں کی اولادوں کے مال نہ کھا جاؤ، یہ مطلب بھی بہت عمدہ ہے اسی لیے اس کے بعد ہی یتیموں کا مال ناحق مار لینے والوں کی سزا بیان فرمائی، کہ یہ لوگ اپنے پیٹ میں انگارے بھرنے والے اور جہنم واصل ہونے والے ہیں۔
بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سات گناہوں سے بچو جو ہلاکت کا باعث ہیں“ پوچھا گیا، کیا کیا؟ فرمایا:”اللہ کے ساتھ شرک، جادو، بےوجہ قتل، سود خوری، یتیم کا مال کھا جانا، جہاد سے پیٹھ موڑنا، بھولی بھالی ناواقف عورتوں پر تہمت لگانا، ۱؎ [صحیح بخاری:2766] ابن ابی حاتم میں ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معراج کی رات کا واقعہ پوچھا جس میں آپ نے فرمایا کہ ”میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ نیچے لٹک رہے ہیں اور فرشتے انہیں گھسیٹ کر ان کا منہ خوب کھول دیتے ہیں پھر جہنم کے گرم پتھر ان میں ٹھونس دیتے ہیں جو ان کے پیٹ میں اتر کر پیچھے کے راستے سے نکل جاتے ہیں اور وہ بری طرح چیخ چلا رہے ہیں ہائے ہائے مچا رہے ہیں۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ کہا یہ یتیموں کا مال کھا جانے والے ہیں جو اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8725:ضعیف]
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یتیم کا مال کھا جانے والا قیامت کے روز اپنی قبر سے اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کے منہ، آنکھوں، نتھنوں اور روئیں روئیں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے ہر شخص دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ اس نے کسی یتیم کا مال ناحق کھا رکھا ہے۔ ابن مردویہ میں ایک مرفوع حدیث بھی اسی مضمون کے قریب قریب مروی ہے۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:7440:ضعیف] اور حدیث میں ہے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ان دونوں ضعیفوں کا مال پہنچا دو عورتوں کا اور یتیم کا، ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3678] ان کے مال سے بچو، سورۃ البقرہ میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو جن کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا اناج پانی بھی الگ کر دیا اب عموماً ایسا ہوتا کہ کھانے پینے کی ان کی کوئی چیز بچ رہتی تو یا تو دوسرے وقت اسی باسی چیز کو کھاتے یا سڑنے کے بعد پھینک دی جاتی گھر والوں میں سے کوئی اسے ہاتھ بھی نہ لگاتا تھا یہ بات دونوں طرف ناگوار گزری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی اس کا ذکر آیا ہے اس پر آیت «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَىٰ قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:220] اتری جس کا مطلب یہ ہے کہ جس کام میں یتیموں کی بہتری سمجھو کرو چنانچہ اس کے بعد پھر کھانا پانی ایک ساتھ ہوا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2871،قال الشيخ الألباني:صحیح]
8۔ 1 اسے بعض علماء نے آیت میراث سے منسوخ قرار دیا ہے لیکن صیح تر بات یہ ہے یہ منسوخ نہیں، بلکہ ایک بہت ہی اہم اخلاقی ہدایت ہے۔ کہ امداد کے مستحق رشتے داروں میں سے جو لوگ وراثت میں حصے دار نہ ہوں، انہیں بھی تقسیم کے وقت کچھ دے دو۔ نیز ان سے بات بھی پیار اور محبت سے کرو۔ دولت کو آتے ہوئے دیکھ کر قارون اور فرعون نہ بنو۔
(آیت 8)یعنی وارثوں کو چاہیے کہ متروکہ مال میں سے کچھ حصہ بطور صدقہ و خیرات ان رشتے داروں، یتیموں اور مسکینوں کو بھی دیں جو خاندان میں موجود ہوں اور تقسیم کے وقت موقع پر پہنچ جائیں اور اگر وہ لوگ زیادہ حرص کریں تو ”ان سے اچھی بات کہو“ یعنی معذرت کرو کہ یہ وارثوں کا مال ہے، تمھارا حق نہیں ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ یہ حکم ” فرائض“ یعنی وارثوں کے حصے مقرر ہونے سے پہلے تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لیے اب یہ بخشش نہیں ہے، اب صدقہ و خیرات میت کی وصیت ہی سے ہو سکتا ہے، لیکن بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت محکم ہے، منسوخ نہیں اور وارثوں کو حکم ہے کہ تقسیم ترکہ کے وقت ان رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں۔ جن کا میراث میں حصہ نہیں جب وہ تقسیم کے وقت آ جائیں۔ [ بخاری، التفسیر، باب قول اللہ عزو جل: «و إذا حضر القسمۃ …» : ۲۷۵۹ ]
لوگوں کو اس بات کا خیال کر کے ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس اولاد چھوڑتے تو مرتے وقت انہیں اپنے بچوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے پس چاہیے کہ وہ خدا کا خوف کریں اور راستی کی بات کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور چاہئے کہ وه اس بات سے ڈریں کہ اگر وه خود اپنے پیچھے (ننھے ننھے) ناتواں بچے چھوڑ جاتے جن کے ضائع ہو جانے کا اندیشہ رہتا ہے، (تو ان کی چاہت کیا ہوتی) پس اللہ تعالیٰ سے ڈر کر جچی تلی بات کہا کریں
احمد رضا خان بریلوی
اور ڈریں وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات کریں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ترکہ تقسیم کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس و کمزور بچے چھوڑ جاتے۔ تو انہیں ان کی کس قدر فکر ہوتی۔ لہٰذا وہ دوسروں کے یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈریں اور بالکل درست اور سیدھی بات کریں
عبدالسلام بن محمد
اور لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اپنے پیچھے اگر کمزور اولاد چھوڑتے تو ان کے متعلق ڈرتے، پس لازم ہے کہ وہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات کہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وراثت کے مسائل ٭٭
مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مر جاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کر دی کہ وارث تو سب ہوں گے خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد زوجیت کے ہو یا بوجہ نسبت آزادگی ہو حصہ سب کو ملے گا گو کم و بیش ہو۔ ”ام کجہ“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول! میرے دو لڑکے ہیں ان کے والد فوت ہو گئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے الفاظ سے میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب ان شاءاللہ آئے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مرنے والے کا ورثہ بٹنے لگے اور وہاں اس کا کوئی دور کا رشتہ دار بھی آ جائے جس کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور یتیم و مساکین آ جائیں تو انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دو۔ ابتداء اسلام میں تو یہ واجب تھا اور بعض کہتے ہیں مستحب تھا اور اب بھی یہ حکم باقی ہے یا نہیں؟ اس میں بھی دو قول ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اسے باقی بتاتے ہیں مجاہد، ابن مسعود، ابوموسیٰ، عبدالرحمٰن بن ابوبکر، ابوالعالیہ، شعبی، حسن، سعید بن جیر، ابن سیرین، عطاء بن ابو رباح، زہری، یحییٰ بن معمر رحمہ اللہ علیہم بھی باقی بتاتے ہیں، بلکہ یہ حضرات سوائے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے وجوب کے قائل ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/8] سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ ایک وصیت کے ولی تھے۔ انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور تینوں قسموں کے لوگوں کو کھلائی اور فرمایا اگر یہ آیت نہ ہوتی تو یہ بھی میرا مال تھا، عروہ رحمہ اللہ نے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کے مال کی تقسیم کے وقت بھی دیا، زہری رحمہ اللہ کا بھی قول ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں۔ ایک روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وصیت پر موقوف ہے۔ چنانچہ جب سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے باپ کا ورثہ تقسیم کیا اور یہ واقعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی کا ہے تو گھر میں جتنے مسکین اور قرابت دار تھے سب کو دیا اور اسی آیت کی تلاوت کی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا: اس نے ٹھیک نہیں کیا اس آیت سے تو مراد یہ ہے کہ جب مرنے والے نے اس کی وصیت کی ہو۔ (ابن ابی حاتم)
بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ آیت بالکل منسوخ ہی ہے مثلاً سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے۔ اور ناسخ آیت «يُوصِيكُمُ اللَّـهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ» الخ ۱؎ [4-النساء:11] ہے، حصے مقرر ہونے سے پہلے یہ حکم تھا پھر جب حصے مقرر ہو چکے اور ہر حقدار کو خود اللہ تعالیٰ نے حق پہنچا دیا تو اب صدقہ صرف وہی رہ گیا جو مرنے والا کہہ گیا ہو سعید بن مسیب رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ہاں اگر وصیت ان لوگوں کے لیے ہو تو اور بات ہے ورنہ یہ آیت منسوخ ہے، جمہور کا اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں ایک عجیب قول اختیار کیا ہے ان کی لمبی اور کئی بار کی تحریر کا ماحصل یہ ہے کہ مال وصیت کی تقسیم کے وقت جب میت کے رشتہ دار آ جائیں تو انہیں بھی دے دو اور یتیم مسکین جو آ گئے ہوں ان سے نرم کلامی اور اچھے جواب سے پیش آؤ، لیکن اس میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں تقسیم سے مراد یہاں ورثے کی تقسیم ہے، پس یہ قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کے خلاف ہے۔
ٹھیک مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب یہ غریب لوگ ترکے کی تقسیم کے وقت آ جائیں اور تم اپنا اپنا حصہ الگ الگ کر کے لے رہے ہو اور یہ بیچارے تک رہے ہوں تو انہیں بھی خالی ہاتھ نہ پھیرو ان کا وہاں سے مایوس اور خالی ہاتھ واپس جانا اللہ تعالیٰ رؤوف و رحیم کو اچھا نہیں لگتا بطور صدقہ کے راہ اللہ ان سے بھی کچھ اچھا سلوک کر دو تاکہ یہ خوش ہو کر جائیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے کہ «كُلُوا مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:141] ، کھیتی کے کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو، اور فاقہ زدہ اور مسکینوں سے چھپا کر اپنے باغ کا پھل لانے والوں کی اللہ تعالیٰ نے بڑی مذمت فرمائی ہے۔ جیسے کہ سورۃ نون میں ہے کہ «أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَارِمِينَ» * «فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ» * «أَنْ لَا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِسْكِينٌ» * «وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ» * «فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ» * «بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ» ۱؎ [68-القلم:-27-22] ’ وہ رات کے وقت چھپ کر پوشیدگی سے کھیت اور باغ کے دانے اور پھل لانے کے لیے چلتے ہیں وہاں اللہ کا عذاب ان سے پہلے پہنچ جاتا ہے اور سارے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کر دیتا ہے دوسروں کے حق برباد کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے ‘۔ حدیث شریف میں ہے جس مال میں صدقہ مل جائے یعنی جو شخص اپنے مال سے صدقہ نہ دے اس کا مال اس وجہ سے غارت ہو جاتا ہے۔ ۱؎ [بیہقی:159/4:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ڈریں وہ لوگ جو اگر اپنے پیچھے چھوڑ جائیں یعنی ایک شخص اپنی موت کے وقت وصیت کر رہا ہے اور اس میں اپنے وارثوں کو ضرر پہنچا رہا ہے تو اس وصیت کے سننے والے کو چاہیئے کہ اللہ کا خوف کرے اور اسے ٹھیک بات کی رہنمائی کرے اس کے وارثوں کے لیے ایسی بھلائی چاہے جیسے اپنے وارثوں کے ساتھ بھلائی کرانا چاہتا ہے جب کہ ان کی بربادی اور تباہی کا خوف ہو۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی بیماری کے زمانے میں ان کی عیادت کو گئے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس مال بہت ہے اور صرف میری ایک لڑکی ہی میرے پیچھے ہے تو اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے مال کی دو تہائیاں اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں، آپ نے فرمایا: ”نہیں“ انہوں نے کہا: پھر ایک تہائی کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا:”خیر لیکن ہے یہ بھی زیادہ تو اگر اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو توانگر چھوڑ کر جائے اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں فقیر چھوڑ کر جائے کہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“ ۱؎ [صحیح بخاری:56] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگ ایک تہائی سے بھی کم یعنی چوتھائی کی ہی وصیت کریں تو اچھا ہے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کو بھی زیادہ فرمایا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2743]
فقہاء فرماتے ہیں اگر میت کے وارث امیر ہوں تب تو خیر تہائی کی وصیت کرنا مستحب ہے اور اگر فقیر ہوں تو اس سے کم کی وصیت کرنا مستحب ہے، دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تم یتیموں کا اتنا ہی خیال رکھو جتنا تم چاہتے ہو کہ تمہاری چھوٹی اولاد کا تمہارے مرنے کے اور لوگ خیال رکھیں جس طرح تم نہیں چاہتے کہ ان کے مال دوسرے ظلم سے کھا جائیں اور وہ بالغ ہو کر فقیر رہ جائیں اسی طرح تم دوسروں کی اولادوں کے مال نہ کھا جاؤ، یہ مطلب بھی بہت عمدہ ہے اسی لیے اس کے بعد ہی یتیموں کا مال ناحق مار لینے والوں کی سزا بیان فرمائی، کہ یہ لوگ اپنے پیٹ میں انگارے بھرنے والے اور جہنم واصل ہونے والے ہیں۔
بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سات گناہوں سے بچو جو ہلاکت کا باعث ہیں“ پوچھا گیا، کیا کیا؟ فرمایا:”اللہ کے ساتھ شرک، جادو، بےوجہ قتل، سود خوری، یتیم کا مال کھا جانا، جہاد سے پیٹھ موڑنا، بھولی بھالی ناواقف عورتوں پر تہمت لگانا، ۱؎ [صحیح بخاری:2766] ابن ابی حاتم میں ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معراج کی رات کا واقعہ پوچھا جس میں آپ نے فرمایا کہ ”میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ نیچے لٹک رہے ہیں اور فرشتے انہیں گھسیٹ کر ان کا منہ خوب کھول دیتے ہیں پھر جہنم کے گرم پتھر ان میں ٹھونس دیتے ہیں جو ان کے پیٹ میں اتر کر پیچھے کے راستے سے نکل جاتے ہیں اور وہ بری طرح چیخ چلا رہے ہیں ہائے ہائے مچا رہے ہیں۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ کہا یہ یتیموں کا مال کھا جانے والے ہیں جو اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8725:ضعیف]
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یتیم کا مال کھا جانے والا قیامت کے روز اپنی قبر سے اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کے منہ، آنکھوں، نتھنوں اور روئیں روئیں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے ہر شخص دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ اس نے کسی یتیم کا مال ناحق کھا رکھا ہے۔ ابن مردویہ میں ایک مرفوع حدیث بھی اسی مضمون کے قریب قریب مروی ہے۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:7440:ضعیف] اور حدیث میں ہے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ان دونوں ضعیفوں کا مال پہنچا دو عورتوں کا اور یتیم کا، ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3678] ان کے مال سے بچو، سورۃ البقرہ میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو جن کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا اناج پانی بھی الگ کر دیا اب عموماً ایسا ہوتا کہ کھانے پینے کی ان کی کوئی چیز بچ رہتی تو یا تو دوسرے وقت اسی باسی چیز کو کھاتے یا سڑنے کے بعد پھینک دی جاتی گھر والوں میں سے کوئی اسے ہاتھ بھی نہ لگاتا تھا یہ بات دونوں طرف ناگوار گزری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی اس کا ذکر آیا ہے اس پر آیت «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَىٰ قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:220] اتری جس کا مطلب یہ ہے کہ جس کام میں یتیموں کی بہتری سمجھو کرو چنانچہ اس کے بعد پھر کھانا پانی ایک ساتھ ہوا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2871،قال الشيخ الألباني:صحیح]
9۔ 1 بعض کے نزدیک اس کے مخطب اوصیاء ہیں (جن کو وصیت کی جاتی ہے) ان کو نصیحت کی جا رہی ہے کہ ان کے زیر کفالت جو یتیم ہیں انکے ساتھ وہ ایسا سلوک کریں جو اپنے بچوں کے ساتھ اپنے مرنے کے بعد کیا جانا پسند کرتے ہیں۔ بعض کے نزدیک اس کے مخاطب عام لوگ ہیں کہ وہ یتیموں اور دیگر چھوٹے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرنے والے کو اچھی باتیں سمجھائیں تاکہ وہ نہ حقوق اللہ میں کوتاہی کرسکے نہ حقوق بنی آدم میں، اور وصیت میں وہ ان دونوں باتوں کو ملحوظ رکھے۔ اگر وہ خوب صاحب حیثیت ہے تو ایک تہائی مال کی وصیت ایسے لوگوں کے حق میں ضرور کرے جو اس کے قریبی رشتہ داروں میں غریب اور مستحق امداد ہیں یا پھر کسی دینی مقصد اور ادارے پر خرچ کرنے کی وصیت کرے تاکہ یہ مال اس کے لیے زاد آخرت بن جائے اور اگر وہ صاحب حیثیت نہیں ہے تو اسے تہائی مال میں وصیت کرنے سے روکا جائے تاکہ اس کے اہل خانہ بعد میں مفلسی اور احتیاج سے دو چار نہ ہوں۔ اسی طرح کوئی اپنے ورثا کو محروم کرنا چاہے تو اس سے اس کو منع کیا جائے اور یہ خیال کیا جائے کہ اگر ان کے بچے فقر و فاقہ سے دو چار ہوجائیں تو اس کے تصور سے ان پر کیا گزرے گی۔ اس تفصیل سے مذکورہ سارے ہی مخاطبین اس کا مصداق ہیں۔ (تفسیر قرطبی وفتح القدیر)
(آيت 9) {وَ لْيَخْشَ الَّذِيْنَ لَوْ تَرَكُوْا …:} یہ حکم میت کی وصیت سن کر نافذ کرنے والوں کو ہے اور ان لوگوں کو بھی جو یتیموں کے سر پرست اور وصی مقرر ہوں۔ ان سب کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے میت کی اولاد اور یتیموں کے مفاد کا اسی طرح خیال رکھیں جس طرح وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی چھوٹی اور بے بس اولاد کے مفاد کا خیال رکھا جائے، لہٰذا انھیں یتیموں سے بہتر سلوک کرنا چاہیے اور ان کی عمدہ سے عمدہ تعلیم و تربیت کرنی چاہیے۔ یتیموں کے اولیاء سے اس آیت کا تعلق زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، کیونکہ بعد میں یتامیٰ کی حق تلفی کرنے والوں کے متعلق جو وعید آ رہی ہے اولیاء کی اس کے ساتھ زیادہ مناسبت پائی جاتی ہے۔ ویسے عام مسلمانوں کو بھی یتیموں کے ساتھ خاص احسان اور سلوک کرنے کا حکم ہے۔
جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں در حقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ ناحق ﻇلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وه اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وه دوزخ میں جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آ گ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے (واصل جہنم ہوں گے۔)
عبدالسلام بن محمد
بے شک جو لوگ یتیموں کے اموال ظلم سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں کھاتے اور وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وراثت کے مسائل ٭٭
مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مر جاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کر دی کہ وارث تو سب ہوں گے خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد زوجیت کے ہو یا بوجہ نسبت آزادگی ہو حصہ سب کو ملے گا گو کم و بیش ہو۔ ”ام کجہ“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول! میرے دو لڑکے ہیں ان کے والد فوت ہو گئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے الفاظ سے میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب ان شاءاللہ آئے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مرنے والے کا ورثہ بٹنے لگے اور وہاں اس کا کوئی دور کا رشتہ دار بھی آ جائے جس کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور یتیم و مساکین آ جائیں تو انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دو۔ ابتداء اسلام میں تو یہ واجب تھا اور بعض کہتے ہیں مستحب تھا اور اب بھی یہ حکم باقی ہے یا نہیں؟ اس میں بھی دو قول ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اسے باقی بتاتے ہیں مجاہد، ابن مسعود، ابوموسیٰ، عبدالرحمٰن بن ابوبکر، ابوالعالیہ، شعبی، حسن، سعید بن جیر، ابن سیرین، عطاء بن ابو رباح، زہری، یحییٰ بن معمر رحمہ اللہ علیہم بھی باقی بتاتے ہیں، بلکہ یہ حضرات سوائے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے وجوب کے قائل ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/8] سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ ایک وصیت کے ولی تھے۔ انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور تینوں قسموں کے لوگوں کو کھلائی اور فرمایا اگر یہ آیت نہ ہوتی تو یہ بھی میرا مال تھا، عروہ رحمہ اللہ نے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کے مال کی تقسیم کے وقت بھی دیا، زہری رحمہ اللہ کا بھی قول ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں۔ ایک روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وصیت پر موقوف ہے۔ چنانچہ جب سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے باپ کا ورثہ تقسیم کیا اور یہ واقعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی کا ہے تو گھر میں جتنے مسکین اور قرابت دار تھے سب کو دیا اور اسی آیت کی تلاوت کی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا: اس نے ٹھیک نہیں کیا اس آیت سے تو مراد یہ ہے کہ جب مرنے والے نے اس کی وصیت کی ہو۔ (ابن ابی حاتم)
بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ آیت بالکل منسوخ ہی ہے مثلاً سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے۔ اور ناسخ آیت «يُوصِيكُمُ اللَّـهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ» الخ ۱؎ [4-النساء:11] ہے، حصے مقرر ہونے سے پہلے یہ حکم تھا پھر جب حصے مقرر ہو چکے اور ہر حقدار کو خود اللہ تعالیٰ نے حق پہنچا دیا تو اب صدقہ صرف وہی رہ گیا جو مرنے والا کہہ گیا ہو سعید بن مسیب رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ہاں اگر وصیت ان لوگوں کے لیے ہو تو اور بات ہے ورنہ یہ آیت منسوخ ہے، جمہور کا اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں ایک عجیب قول اختیار کیا ہے ان کی لمبی اور کئی بار کی تحریر کا ماحصل یہ ہے کہ مال وصیت کی تقسیم کے وقت جب میت کے رشتہ دار آ جائیں تو انہیں بھی دے دو اور یتیم مسکین جو آ گئے ہوں ان سے نرم کلامی اور اچھے جواب سے پیش آؤ، لیکن اس میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں تقسیم سے مراد یہاں ورثے کی تقسیم ہے، پس یہ قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کے خلاف ہے۔
ٹھیک مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب یہ غریب لوگ ترکے کی تقسیم کے وقت آ جائیں اور تم اپنا اپنا حصہ الگ الگ کر کے لے رہے ہو اور یہ بیچارے تک رہے ہوں تو انہیں بھی خالی ہاتھ نہ پھیرو ان کا وہاں سے مایوس اور خالی ہاتھ واپس جانا اللہ تعالیٰ رؤوف و رحیم کو اچھا نہیں لگتا بطور صدقہ کے راہ اللہ ان سے بھی کچھ اچھا سلوک کر دو تاکہ یہ خوش ہو کر جائیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے کہ «كُلُوا مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:141] ، کھیتی کے کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو، اور فاقہ زدہ اور مسکینوں سے چھپا کر اپنے باغ کا پھل لانے والوں کی اللہ تعالیٰ نے بڑی مذمت فرمائی ہے۔ جیسے کہ سورۃ نون میں ہے کہ «أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَارِمِينَ» * «فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ» * «أَنْ لَا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِسْكِينٌ» * «وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ» * «فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ» * «بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ» ۱؎ [68-القلم:-27-22] ’ وہ رات کے وقت چھپ کر پوشیدگی سے کھیت اور باغ کے دانے اور پھل لانے کے لیے چلتے ہیں وہاں اللہ کا عذاب ان سے پہلے پہنچ جاتا ہے اور سارے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کر دیتا ہے دوسروں کے حق برباد کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے ‘۔ حدیث شریف میں ہے جس مال میں صدقہ مل جائے یعنی جو شخص اپنے مال سے صدقہ نہ دے اس کا مال اس وجہ سے غارت ہو جاتا ہے۔ ۱؎ [بیہقی:159/4:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ڈریں وہ لوگ جو اگر اپنے پیچھے چھوڑ جائیں یعنی ایک شخص اپنی موت کے وقت وصیت کر رہا ہے اور اس میں اپنے وارثوں کو ضرر پہنچا رہا ہے تو اس وصیت کے سننے والے کو چاہیئے کہ اللہ کا خوف کرے اور اسے ٹھیک بات کی رہنمائی کرے اس کے وارثوں کے لیے ایسی بھلائی چاہے جیسے اپنے وارثوں کے ساتھ بھلائی کرانا چاہتا ہے جب کہ ان کی بربادی اور تباہی کا خوف ہو۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی بیماری کے زمانے میں ان کی عیادت کو گئے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس مال بہت ہے اور صرف میری ایک لڑکی ہی میرے پیچھے ہے تو اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے مال کی دو تہائیاں اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں، آپ نے فرمایا: ”نہیں“ انہوں نے کہا: پھر ایک تہائی کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا:”خیر لیکن ہے یہ بھی زیادہ تو اگر اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو توانگر چھوڑ کر جائے اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں فقیر چھوڑ کر جائے کہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“ ۱؎ [صحیح بخاری:56] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگ ایک تہائی سے بھی کم یعنی چوتھائی کی ہی وصیت کریں تو اچھا ہے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کو بھی زیادہ فرمایا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2743]
فقہاء فرماتے ہیں اگر میت کے وارث امیر ہوں تب تو خیر تہائی کی وصیت کرنا مستحب ہے اور اگر فقیر ہوں تو اس سے کم کی وصیت کرنا مستحب ہے، دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تم یتیموں کا اتنا ہی خیال رکھو جتنا تم چاہتے ہو کہ تمہاری چھوٹی اولاد کا تمہارے مرنے کے اور لوگ خیال رکھیں جس طرح تم نہیں چاہتے کہ ان کے مال دوسرے ظلم سے کھا جائیں اور وہ بالغ ہو کر فقیر رہ جائیں اسی طرح تم دوسروں کی اولادوں کے مال نہ کھا جاؤ، یہ مطلب بھی بہت عمدہ ہے اسی لیے اس کے بعد ہی یتیموں کا مال ناحق مار لینے والوں کی سزا بیان فرمائی، کہ یہ لوگ اپنے پیٹ میں انگارے بھرنے والے اور جہنم واصل ہونے والے ہیں۔
بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سات گناہوں سے بچو جو ہلاکت کا باعث ہیں“ پوچھا گیا، کیا کیا؟ فرمایا:”اللہ کے ساتھ شرک، جادو، بےوجہ قتل، سود خوری، یتیم کا مال کھا جانا، جہاد سے پیٹھ موڑنا، بھولی بھالی ناواقف عورتوں پر تہمت لگانا، ۱؎ [صحیح بخاری:2766] ابن ابی حاتم میں ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معراج کی رات کا واقعہ پوچھا جس میں آپ نے فرمایا کہ ”میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ نیچے لٹک رہے ہیں اور فرشتے انہیں گھسیٹ کر ان کا منہ خوب کھول دیتے ہیں پھر جہنم کے گرم پتھر ان میں ٹھونس دیتے ہیں جو ان کے پیٹ میں اتر کر پیچھے کے راستے سے نکل جاتے ہیں اور وہ بری طرح چیخ چلا رہے ہیں ہائے ہائے مچا رہے ہیں۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ کہا یہ یتیموں کا مال کھا جانے والے ہیں جو اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8725:ضعیف]
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یتیم کا مال کھا جانے والا قیامت کے روز اپنی قبر سے اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کے منہ، آنکھوں، نتھنوں اور روئیں روئیں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے ہر شخص دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ اس نے کسی یتیم کا مال ناحق کھا رکھا ہے۔ ابن مردویہ میں ایک مرفوع حدیث بھی اسی مضمون کے قریب قریب مروی ہے۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:7440:ضعیف] اور حدیث میں ہے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ان دونوں ضعیفوں کا مال پہنچا دو عورتوں کا اور یتیم کا، ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3678] ان کے مال سے بچو، سورۃ البقرہ میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو جن کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا اناج پانی بھی الگ کر دیا اب عموماً ایسا ہوتا کہ کھانے پینے کی ان کی کوئی چیز بچ رہتی تو یا تو دوسرے وقت اسی باسی چیز کو کھاتے یا سڑنے کے بعد پھینک دی جاتی گھر والوں میں سے کوئی اسے ہاتھ بھی نہ لگاتا تھا یہ بات دونوں طرف ناگوار گزری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی اس کا ذکر آیا ہے اس پر آیت «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَىٰ قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:220] اتری جس کا مطلب یہ ہے کہ جس کام میں یتیموں کی بہتری سمجھو کرو چنانچہ اس کے بعد پھر کھانا پانی ایک ساتھ ہوا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2871،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10)اس آیت میں یتیموں کے مال کی حفاظت اور اس سے اجتناب کی مزید تاکید کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سات تباہ کن چیزوں سے اجتناب کرو۔“ صحابہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟“ فرمایا: ” اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، اس جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن، بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگانا۔“ [ بخاری، الحدود، باب رمی المحصنات: ۶۸۵۷، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ]
تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے، اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے اگر میت صاحب اولاد ہو تواس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہو ں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی (یہ سب حصے اُس وقت نکالے جائیں) جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کر دی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کر دیا جائے تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں، اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اوﻻد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیاده ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے، اگر اس (میت) کی اوﻻد ہو، اور اگر اوﻻد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے، ہاں اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو پھر اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت (کی تکمیل) کے بعد ہیں جو مرنے واﻻ کر گیا ہو یا ادائے قرض کے بعد، تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کون تمہیں نفع پہچانے میں زیاده قریب ہے، یہ حصے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کرده ہیں بے شک اللہ تعالیٰ پورے علم اور کامل حکمتوں واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہا ئی پھر اگر اس کے کئی بہن بھا ئی ہو ں تو ماں کا چھٹا بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کے تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ لڑکے کا حصہ برابر ہے دو لڑکیوں کے اب اگر لڑکیاں ہی وارث ہوں اور ہوں بھی دو سے اوپر تو ان کو دو تہائی ترکہ دیا جائے گا اور ایک لڑکی (وارث) ہو تو اسے آدھا ترکہ دیا جائے گا۔ اور اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کے لئے ترکہ کا چھٹا حصہ ہوگا (اور باقی اولاد کا) اور اگر بے اولاد ہو۔ اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کو تیسرا حصہ ملے گا (باقی ۳/۲ باپ کو ملے گا) اور اگر اس (مرنے والے) کے بھائی (بہن) ہوں تو پھر اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا (باقی ۶/۵ بہن بھائیوں کو ملے گا) مگر یہ تقسیم اس وقت ہوگی، جب میت کی وصیت پوری کر دی جائے۔ جو وہ کر گیا ہو اور اس کا قرضہ ادا کر دیا جائے گا جو اس پر ہو۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ یا تمہاری اولاد میں سے نفع رسانی کے لحاظ سے کون تمہارے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے اللہ کی طرف سے مقرر ہیں، یقینا اللہ بڑا جاننے والا اور بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے، مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر حصہ ہے، پھر اگر وہ دو سے زیادہ عورتیں (ہی) ہوں، تو ان کے لیے اس کا دوتہائی ہے جو اس نے چھوڑا اور اگر ایک عورت ہو تو اس کے لیے نصف ہے۔ اور اس کے ماں باپ کے لیے، ان میں سے ہر ایک کے لیے اس کا چھٹا حصہ ہے، جو اس نے چھوڑا، اگر اس کی کوئی اولاد ہو۔ پھر اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے، پھر اگر اس کے (ایک سے زیادہ) بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے، اس وصیت کے بعد جو وہ کر جائے، یا قرض (کے بعد)۔ تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے تم نہیں جانتے ان میں سے کون فائدہ پہنچانے میں تم سے زیادہ قریب ہے، یہ اللہ کی طرف سے مقرر شدہ حصے ہیں،بے شک اللہ ہمیشہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مزید مسائل میراث جن کا ہر مسلمان کو جاننا فرض ہے ٭٭
یہ آیت کریمہ اور اس کے بعد کی آیت اور اس سورت کے خاتمہ کی آیت علم فرائض کی آیتیں ہیں، یہ پورا علم ان آیتوں اور میراث کی احادیث سے استنباط کیا گیا ہے، جو حدیثیں ان آیتوں کی گویا تفسیر اور توضیح ہیں، یہاں ہم اس آیت کی تفسیر لکھتے ہیں باقی جو میراث کے مسائل کی پوری تقریر ہے اور اس میں جن دلائل کی سمجھ میں جو کچھ اختلاف ہوا ہے اس کے بیان کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتابیں ہیں نہ کہ تفسیر، اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے، علم فرائض سیکھنے کی رغبت میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں، ان آیتوں میں جن فرائض کا بیان ہے یہ سب سے زیادہ اہم ہیں، ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ہے علم دراصل تین ہیں اور اس کے ماسوا فضول بھرتی ہے۔ آیات قرآنیہ جو مضبوط ہیں اور جن کے احکام باقی ہیں، سنت قائمہ یعنی جو احادیث ثابت شدہ ہیں اور فریضہ عادلہ یعنی مسائل میراث جو ان دو سے ثابت ہیں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2885،قال الشيخ الألباني::ضعیف] ابن ماجہ کی دوسری ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ فرائض سیکھو اور دوسروں کو سکھاؤ۔ یہ نصف علم ہے اور یہ بھول جاتے ہیں اور یہی پہلی وہ چیز ہے جو میری امت سے چھن جائے گی ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2719،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے آدھا علم اس لیے کہا گیا ہے کہ تمام لوگوں کو عموماً یہ پیش آتے ہیں۔
صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بیمار تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میری بیمار پرسی کے لیے بنو سلمہ کے محلے میں پیادہ پا تشریف لائے میں اس وقت بیہوش تھا آپ نے پانی منگوا کر وضو کیا پھر وضو کے پانی کا چھینٹا مجھے دیا جس سے مجھے ہوش آیا، تو میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے مال کی تقسیم کس طرح کروں؟ اس پر آیت شریفہ نازل ہوئی، صحیح مسلم، نسائی شریف وغیرہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے ۱؎ [صحیح بخاری:4577] ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں مروی ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ دونوں سعد کی لڑکیاں ہیں، ان کے والد آپ کے ساتھ جنگ احد میں شریک تھے اور وہیں شہید ہوئے ان کے چچا نے ان کا کل مال لے لیا ہے ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا اور یہ ظاہر ہے کہ ان کے نکاح بغیر مال کے نہیں ہو سکتے، آپ نے فرمایا: ”اس کا فیصلہ خود اللہ کرے گا“ چنانچہ آیت میراث نازل ہوئی۔ آپ نے ان کے چچا کے پاس آدمی بھیج کر حکم بھیجا کہ دو تہائیاں تو ان دونوں لڑکیوں کو دو اور آٹھواں حصہ ان کی ماں کو دو اور باقی مال تمہارا ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2891،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے سوال پر اس سورت کی آخری آیت اتری ہو گی جیسے عنقریب آ رہا ہے ان شاءاللہ تعالیٰ اس لیے کہ ان کی وارث صرف ان کی بہنیں ہی تھیں لڑکیاں تھیں ہی نہیں وہ تو کلالہ تھے اور یہ آیت اسی بارے میں یعنی سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے ورثے کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس کے راوی بھی خود سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہیں , ہاں امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اسی آیت کی تفسیر میں وارد کیا ہے اس لیے ہم نے بھی ان کی تابعداری کی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں عدل سکھاتا ہے، اہل جاہلیت تمام مال لڑکوں کو دیتے تھے اور لڑکیاں خالی ہاتھ رہ جاتی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کا حصہ بھی مقرر کر دیا ہاں دونوں کے حصوں میں فرق رکھا، اس لیے کہ مردوں کے ذمہ جو ضروریات ہیں وہ عورتوں کے ذمہ نہیں مثلاً اپنے متعلقین کے کھانے پینے اور خرچ اخراجات کی کفالت، تجارت اور کسب اور اسی طرح کی اور مشقتیں تو انہیں ان کی حاجت کے مطابق عورتوں سے دوگنا دلوایا، بعض دانا بزرگوں نے یہاں ایک نہایت باریک نکتہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہ نسبت ماں باپ کے بھی زیادہ مہربان ہے، ماں باپ کو ان کی اولادوں کے بارے میں وصیت کر رہا ہے، پس معلوم ہوا کہ ماں باپ اپنی اولاد پر اتنے مہربان نہیں جتنا مہربان ہمارا خالق اپنی مخلوق پر ہے۔ چنانچہ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ قیدیوں میں سے ایک عورت کا بچہ اس سے چھوٹ گیا وہ پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈتی پھرتی تھی اور جیسے ہی ملا اپنے سینے سے لگا کر اسے دودھ پلانے لگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر اپنے اصحاب سے فرمایا: ”بھلا بتاؤ تو کیا یہ عورت باوجود اپنے اختیار کے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہرگز نہیں، آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:5999]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلے حصہ دار مال کا صرف لڑکا تھا، ماں باپ کو بطور وصیت کے کچھ مل جاتا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کیا اور لڑکے کو لڑکی سے دوگنا دلوایا اور ماں باپ کو چھٹا چھٹا حصہ دلوایا اور تیسرا حصہ بھی اور بیوی کو آٹھواں حصہ اور چوتھا حصہ اور خاوند کو آدھا اور پاؤ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4578] فرماتے ہیں میراث کے احکام اترنے پر بعض لوگوں نے کہا یہ اچھی بات ہے کہ عورت کو چوتھا اور آٹھواں حصہ دلوایا جا رہا ہے اور لڑکی کو آدھوں آدھ دلوایا جا رہا ہے اور ننھے ننھے بچوں کا حصہ مقرر کیا جا رہا ہے حالانکہ ان میں سے کوئی بھی نہ لڑائی میں نکل سکتا ہے، نہ مال غنیمت لا سکتا ہے اچھا تم اس حدیث سے خاموشی برتو شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھول جائے ہمارے کہنے کی وجہ سے آپ ان احکام کو بدل دیں، پھر انہوں نے آپ سے کہا کہ آپ لڑکی کو اس کے باپ کا آدھا مال دلوا رہے ہیں حالانکہ نہ وہ گھوڑے پر بیٹھنے کے لائق، نہ دشمن سے لڑنے کے قابل، آپ بچے کو ورثہ دلا رہے ہیں بھلا وہ کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے؟ یہ لوگ جاہلیت کے زمانہ میں ایسا ہی کرتے تھے کہ میراث صرف اسے دیتے تھے جو لڑنے مرنے کے قابل ہو سب سے بڑے لڑکے کو وارث قرار دیتے تھے (اگر مرنے والے کے لڑکے لڑکیاں دونوں ہو تو فرما دیا کہ لڑکی کو جتنا آئے اس سے دوگنا لڑکے کو دیا جائے یعنی ایک لڑکی ایک لڑکا ہے تو کل مال کے تین حصے کر کے دو حصے لڑکے کو اور ایک حصہ لڑکی کو دے دیا جائے اب بیان فرماتا ہے کہ اگر صرف لڑکیاں ہوں تو انہیں کیا ملے گا؟ مترجم)
لفظ «فَوْقَ» کو بعض لوگ زائد بتاتے ہیں جیسے «فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ» ۱؎ [8-الأنفال:12] آیت میں لفظ «فَوْقَ» زائد ہے لیکن ہم یہ نہیں مانتے، نہ اس آیت میں،نہ اس آیت میں، کیونکہ قرآن میں کوئی ایسی زائد چیز نہیں ہے جو محض بیفائدہ ہو اللہ کے کلام میں ایسا ہونا محال ہے، پھر یہ بھی خیال فرمائیے کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو اس کے بعد «فَلَهُنَّ» نہ آتا بلکہ «فَلَهُمَا» آتا۔ ہاں اسے ہم جانتے ہیں کہ اگر لڑکیاں دو سے زیادہ نہ ہوں یعنی صرف دو ہوں تو بھی یہی حکم ہے یعنی انہیں بھی دو ثلث ملے گا کیونکہ دوسری آیت میں دو بہنوں کو دو ثلث دلوایا گیا ہے اور جبکہ دو بہنیں دو ثلث پاتی ہیں تو دو لڑکیوں کو دو ثلث کیوں نہ ملے گا؟ ان کے لیے تو دو تہائی بطور اولیٰ ہونا چاہیئے، اور حدیث میں آ چکا ہے دو لڑکیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تہائی مال ترکہ کا دلوایا جیسا کہ اس آیت کی شان نزول کے بیان میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی لڑکیوں کے ذکر میں اس سے پہلے بیان ہو چکا ہے پس کتاب و سنت سے یہ ثابت ہو گیا اسی طرح اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ ایک لڑکی اگر ہو یعنی لڑکا نہ ہونے کی صورت میں تو اسے آدھوں آدھ دلوایا گیا ہے پس اگر دو کو بھی آدھا ہی دینے کا حکم کرنا مقصود ہوتا تو یہیں بیان ہو جاتا جب ایک کو الگ کر دیا تو معلوم ہوا کہ دو کا حکم وہی ہے جو دو سے زائد کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر ماں باپ کا حصہ بیان ہو رہا ہے ان کے ورثے کی مختلف صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ مرنے والے کی اولاد ایک لڑکی سے زیادہ ہو اور ماں باپ بھی ہوں تو انہیں چھٹا چھٹا حصہ ملے گا یعنی چھٹا حصہ ماں کو اور چھٹا حصہ باپ کو، اگر مرنے والے کی صرف ایک لڑکی ہی ہے تو آدھا مال تو وہ لڑکی لے لے گی اور چھٹا حصہ ماں لے لے گی چھٹا حصہ باپ کو ملے گا اور چھٹا حصہ جو باقی رہا وہ بھی بطور عطیہ باپ کو مل جائے گا پس اس حالت میں باپ فرض اور تعصیب دونوں کو جمع کر لے گا یعنی مقررہ چھٹا حصہ اور بطور عصبہ بچت کا مال۔ دوسری صورت یہ ہے کہ صرف ماں باپ ہی وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ مل جائے گا اور باقی کا کل باپ کو بطور عصبہ کے مل جائے گا تو گویا دو ثلث مال اس کے ہاتھ لگے گا یعنی بہ نسبت مال کے دگنا باپ کو مل جائے گا۔
اب اگر مرنے والی عورت کا خاوند بھی ہے مرنے والے مرد کی بیوی ہے یعنی اولاد نہیں صرف ماں باپ ہیں اور خاوند ہے یا بیوی تو اس پر تو اتفاق ہے کہ خاوند کو آدھا اور بیوی کو پاؤ ملے گا، پھر علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ ماں کو اس صورت میں اس کے بعد کیا ملے گا؟ تین قول ہیں ایک تو یہ کہ جو مال باقی رہا اس میں سے تیسرا حصہ ملے گا دونوں صورتوں میں یعنی خواہ عورت خاوند چھوڑ کر مری ہو خواہ مرد عورت چھوڑ کر مرا ہو اس لیے کہ باقی کا مال ان کی نسبت سے گویا کل مال ہے اور ماں کا حصہ باپ سے آدھا ہے تو اس باقی کے مال سے تیسرا حصہ یہ لے لے اور دو تیسرے حصے جو باقی رہے وہ باپ لے لے گا سیدنا عمر و عثمان رضی اللہ عنہما اور بہ اعتبار زیادہ صحیح روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہی فیصلہ ہے، سیدنا ابن مسعود اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کا یہی قول ہے، ساتوں فقہاء اور چاروں اماموں اور جمہور علماء کا بھی فتویٰ ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں بھی ماں کو کل مال کا ثلث مل جائے گا، اس لیے کہ آیت عام ہے خاوند بیوی کے ساتھ ہو تو اور نہ ہو تو عام طور پر میت کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں ماں کو ثلث دلوایا گیا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہی قول ہے، سیدنا علی اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ شریح اور داؤد ظاہری رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں، ابو الحسین بن لبان بصری بھی اپنی کتاب ایجاز میں جو علم فرائض کے بارے میں ہے اسی قول کو پسند کرتے ہیں، لیکن اس قول میں نظر ہے بلکہ یہ قول ضعیف ہے کیونکہ آیت نے اس کا یہ حصہ اس وقت مقرر فرمایا ہے جبکہ کل مال کی وراثت صرف ماں باپ کو ہی پہنچتی ہو، اور جبکہ زوج یا زوجہ ہے اور وہ اپنے مقررہ حصے کے مستحق ہیں تو پھر جو باقی رہ جائے گا بیشک وہ ان دونوں ہی کا حصہ ہے تو اس میں ثلث ملے گا۔
تیسرا قول یہ ہے کہ اگر میت مرد ہے اور اس کی بیوی موجود ہے تو فقط اس صورت میں اسے کل مال کا تہائی ملے گا کیونکہ اس عورت کو کل مال کی چوتھائی ملے گی اگر کل مال کے بارہ حصے کئے جائیں تو تین حصے تو یہ لے گی اور چار حصے ماں کو ملیں گے باقی بچے پانچ حصے وہ باپ لے لے گا لیکن اگر عورت مری ہے اور اس کا خاوند موجود ہے تو ماں کو باقی مال کا تیسرا حصہ ملے گا اگر کل مال کا تیسرا حصہ اس صورت میں بھی ماں کو دلوایا جائے تو اسے باپ سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے مثلاً میت کے مال کے چھ حصے کئے تین تو خاوند لے گیا دو ماں لے گئی تو باپ کے پلے ایک ہی پڑے گا جو ماں سے بھی تھوڑا ہے، اس لیے اس صورت میں چھ میں سے تین تو خاوند کو دئے جائیں گے ایک ماں کو اور دو باپ کو، امام ابن سیرین رحمہ اللہ کا یہی قول ہے، یوں سمجھنا چاہیئے کہ یہ قول دو قولوں سے مرکب ہے، ضعیف یہ بھی ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ماں باپ کے احوال میں سے تیسرا حال یہ ہے کہ وہ بھائیوں کے ساتھ ہوں خواہ وہ سگے بھائی ہوں یا صرف باپ کی طرف سے یا صرف ماں کی طرف سے تو وہ باپ کے ہوتے ہوئے اپنے بھائی کے ورثے میں کچھ پائیں گے نہیں لیکن ہاں ماں کو تہائی سے ہٹا کر چھٹا حصہ دلوائیں گے اور اگر کوئی اور وارث ہی نہ ہو اور صرف ماں کے ساتھ باپ ہی ہو تو باقی مال کل کا کل باپ لے لے گا اور بھائی بھی شریعت میں بہت سے بھائیوں کے مترادف ہیں جمہور کا یہی قول ہے، ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ دو بھائی ماں کو «ثلث» سے ہٹا کر «سدس» تک نہیں لے جاتے قرآن میں «اخوۃ» جمع کا لفظ ہے دو بھائی اگر مراد ہوتے «اخوان» کہا جاتا خلیفہ ثالث رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ پہلے ہی سے یہ چلا آتا ہے اور چاروں طرف یہ مسئلہ اسی طرح پہنچا ہوا ہے تمام لوگ اس کے عامل ہیں میں اسے نہیں بدل سکتا، اولاً تو یہ اثر ثابت ہی نہیں اس کے راوی شعبہ رحمہ اللہ کے بارے میں امام مالک رحمہ اللہ کی جرح موجود ہے۔
پھر یہ قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نہ ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ خود سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے خاص اصحاب اور اعلی شاگرد بھی اس کے خلاف ہیں سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دو کو بھی «اخوۃ» کہا جاتا ہے، «الْحَمْدُ لِلَّـه» میں نے اس مسئلہ کو پوری طرح ایک علیحدہ رسالے میں لکھا ہے سعید بن قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
ہاں میت کا اگر ایک ہی بھائی ہو تو ماں کو تیسرے حصے سے ہٹا نہیں سکتا، علماء کرام رحمہ اللہ علیہم کا فرمان ہے کہ اس میں حکمت یہ ہے کہ میت کے بھائیوں کی شادیوں کا اور کھانے پینے وغیرہ کا کل خرچ باپ کے ذمہ ہے نہ کہ ماں کے ذمے اس لیے مقتضائے حکمت یہی تھا کہ باپ کو زیادہ دیا جائے، یہ توجیہ بہت ہی عمدہ ہے۔ لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بہ سند صحیح مروی ہے کہ یہ چھٹا حصہ جو ماں کا کم ہو گیا انہیں دیدیا جائے گا یہ قول شاذ ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول تمام امت کے خلاف ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ «کلالہ» اسے کہتے ہیں جس کا بیٹا اور باپ نہ ہو۔
پھر فرمایا وصیت اور قرض کے بعد تقسیم میراث ہو گی، تمام سلف خلف کا اجماع ہے کہ قرض وصیت پر مقدم ہے اور فحوائے آیت کو بھی اگر بغور دیکھا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے۔
ترمذی وغیرہ میں ہے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم قرآن میں وصیت کا حکم پہلے پڑھتے ہو اور قرض کا بعد میں لیکن یاد رکھنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض پہلے ادا کرایا ہے، پھر وصیت جاری کی ہے، ایک ماں زاد بھائی آپس میں وارث ہوں گے بغیر علاتی بھائیوں کے، آدمی اپنے سگے بھائی کا وارث ہو گا نہ اس کا جس کی ماں دوسری ہو، یہ حدیث صرف سیدنا حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور ان پر بعض محدثین نے جرح کی ہے، لیکن یہ حافظ فرائض تھے اس علم میں آپ کو خاص دلچسپی اور دسترس تھی اور حساب کے بڑے ماہر تھے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2094،قال الشيخ الألباني::حسن] «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرمایا کہ ہم نے باپ بیٹوں کو اصل میراث میں اپنا اپنا مقررہ حصہ لینے والا بنایا اور جاہلیت کی رسم ہٹا دی بلکہ اسلام میں بھی پہلے بھی ایسا ہی حکم تھا کہ مال اولاد کو مل جاتا ماں باپ کو صرف بطور وصیت کے ملتا تھا جیسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پہلے بیان ہو چکا یہ منسوخ کر کے اب یہ حکم ہوا تمہیں یہ نہیں معلوم کہ تمہیں باپ سے زیادہ نفع پہنچے گا یا اولاد نفع دے گی امید دونوں سے نفع کی ہے یقین کسی پر بھی ایک سے زیادہ نہیں، ممکن ہے باپ سے زیادہ بیٹا کام آئے اور نفع پہنچائے اور ممکن ہے بیٹے سے زیادہ باپ سے نفع پہنچے اور وہ کام آئے۔
پھر فرماتا ہے یہ مقررہ حصے اور میراث کے یہ احکام اللہ کی طرف سے فرض ہیں اس میں کسی کمی پیشی کی کسی امید یا کسی خوف سے گنجائش نہیں نہ کسی کو محروم کر دینا لائق ہے نہ کسی کو زیادہ دلوا دینا۔ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے جو جس کا مستحق ہے اسے اتنا دلواتا ہے ہر چیز کی جگہ کو وہ بخوبی جانتا ہے تمہارے نفع نقصان کا اسے پورا علم ہے اس کا کوئی کام اور کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں تمہیں چاہیئے کہ اس کے احکام، اس کے فرمان مانتے چلے جاؤ۔
11۔ 1 ورثا میں لڑکی اور لڑکے دونوں ہوں تو پھر اس اصول کے مطابق تقسیم ہوگی۔ لڑکے چھوٹے ہوں یا بڑے اسی طرح لڑکیاں چھوٹی ہوں یا بڑی سب وارث ہونگی۔ حتٰی کہ (ماں کے پیٹ میں زیر پرورش بچہ) بھی وارث ہوگا۔ البتہ کافر کی اولاد وارث نہ ہوگی۔ 11۔ 2 یعنی بیٹا کوئی نہ ہو تو مال کا دو تہائی دو سے زائد لڑکیوں کو دیئے جائیں گے اور اگر صرف دو ہی لڑکیاں ہوں، تب بھی انہیں دو تہائی حصہ ہی دیا جائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔ کہ سعد بن ربیع ؓ احد میں شہید ہوگئے اور ان کی 2 لڑکیاں تھیں۔ مگر سعد کے سارے مال پر ان کے بھائی نے قبضہ کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں لڑکیوں کو ان کے چچا سے دو تہائی مال دلوایا (ترمذی، ابو داؤد ابن ماجہ، کتاب الفرائض) علاوہ ازیں سورة نساء کے آخر میں بتلایا گیا ہے کہ اگر کسی مرنے والے کی وارث صرف دو بہنیں ہوں تو ان کے لیے بھی دو تہائی حصہ ہے لہذا جب دو بہنیں دو تہائی مال کی وارث ہوں گی تو دو بیٹیاں بطریق اولیٰ دو تہائی مال کی وارث ہوں گی جس طرح دو بہنوں سے زیادہ ہونے کی صورت میں انہیں دو سے زیادہ بیٹیوں کے حکم میں رکھا گیا ہے (فتح القدیر) خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ دویا دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو دونوں صورتوں میں مال متروکہ سے دو تہائی لڑکیوں کا حصہ ہوگا۔ باقی مال عصبہ میں تقسیم ہوگا۔ 11۔ 3 ماں باپ کے حصے کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی صورت کہ مرنے والے کی اولاد بھی ہو تو مرنے والے کے ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اور باقی دو تہائی مال اولاد پر تقسیم ہوجائے گا مرنے والے کی اگر صرف ایک بیٹی ہو تو نصف مال (یعنی چھ حصوں میں سے تین حصے بیٹی کے ہونگے اور ایک چھٹا حصہ ماں کو اور ایک چھٹا حصہ باپ کو دینے کے بعد مذید ایک چھٹا حصہ باقی بچ جائے گا اس لئے بچنے والا یہ چھٹا حصہ بطور سربراہ باپ کے حصہ میں جائے گا۔ یعنی اس صورت میں باپ کو دو چھٹے حصے ملیں گے۔ ایک باپ کی حیثیت سے اور دوسرے، سربراہ ہونے کی حیثیت سے۔ 11۔ 4 یہ دوسری صورت ہے کہ مرنے والے کی اولاد نہیں ہے (یاد رہے کہ پوتا پوتی بھی اولاد میں شامل ہیں) اس صورت میں ماں کے لئے تیسرا حصہ اور باقی دو حصے (جو ماں کے حصے میں دو گنا ہیں) باپ کو بطور عصبہ ملیں گے اور اگر ماں باپ کے ساتھ مرنے والے مرد کی بیوی یا مرنے والی عورت کا شوہر بھی زندہ ہے تو راجح قول کے مطابق بیوی یا شوہر کا حصہ (جس کی تفصیل آرہی ہے) نکال کر باقی ماندہ مال میں سے ماں کے لئے تیسرا حصہ اور باقی باپ کے لئے ہوگا۔ 11۔ 5 تیسری صورت یہ ہے کہ ماں باپ کے ساتھ مرنے والے کے بھائی بہن زندہ ہیں۔ وہ بھائی چاہے سگے یعنی ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہوں اور اگر اولاد بیٹا یا بیٹی اگر الگ باپ سے ہوں تو وراثت کے حقدار نہیں ہونگے۔ لیکن ماں کے لئے حجب (نقصان کا سبب) بن جائیں گے یعنی جب ایک سے زیادہ ہونگے تو مال کے (تیسرے حصے) کو چھ حصوں میں تبدیل کردیں گے۔ باقی سارا مال (5/6) باپ کے حصے میں چلا جائے گا بشرطیکہ کوئی اور وارث نہ ہو۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک دو بھائیوں کا بھی وہی حکم ہے جو دو سے زیادہ بھائیوں کا مذکور ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ایک بھائی یا بہن ہو تو اس صورت میں مال میں ماں کا حصہ ثلث برقرار رہے گا وہ سدس میں تبدہل نہیں ہوگا۔ (تفسی ابن کثیر) 11۔ 6 اس لئے تم اپنی سمجھ کے مطابق وراثت تقسیم مت کرو، بلکہ اللہ کے حکم کے مظابق جس کا جتنا حصہ مقرر کردیا گیا ہے، وہ ان کو دے دو۔
(آیت 11) ➊ {يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْۤ اَوْلَادِكُمْ:} اب یہاں سے وارثوں کے تفصیلی حصوں کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ دونوں آیات اور اس سورت کی آخری آیت علم وراثت میں اصول کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وراثت کے تفصیلی حصے ان تین آیات سے مستنبط ہیں اور وراثت کے حصوں سے متعلقہ احادیث بھی ان آیات ہی کی تفسیر ہیں۔ (ابن کثیر) ایک حدیث میں ہے کہ جب جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے مال کے بارے میں دریافت کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْۤ اَوْلَادِكُمْ» [ بخاری، التفسیر، باب: «یوصیکم اللہ فی أولادکم» : ۴۵۷۷ ] ایک حدیث میں ہے کہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ وفات پا گئے اور ان کی بیٹیوں کے چچا نے سارا ورثہ سنبھال لیا۔ سعد رضی اللہ عنہ کی دو لڑکیاں تھیں۔ ان کی بیوی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ورثے کا سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کے چچا کو پیغام بھیجا کہ سعد کی دو بیٹیوں کو دو تہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو اور جو بچ جائے وہ تمھارے لیے ہے۔ [ أبو داوٗد، الفرائض، باب ما جاء فی میراث الصلب: ۲۸۹۱۔ عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما۔ ترمذی: ۲۰۹۲۔ أحمد: 352/3، ح: ۱۴۸۱۰، و قال الألبانی حسن ] ➋ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ:} مطلب یہ ہے کہ جب اولاد میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں موجود ہوں تو لڑکے کو لڑکی سے دگنا ملے گا۔ اسے دو حصے دینے کی وجہ یہ ہے کہ مرد پر عورت کی نسبت معاشی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ (مہر ہی کو لے لیجیے کہ مرد دیتا ہے، عورت لیتی ہے، اسی طرح عورت کا نان و نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہوتا ہے) اس بنا پر مرد کے لیے عورت سے دگنا حصہ دینا عین قرین انصاف ہے۔ (قرطبی، ابن کثیر) ➌ {فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ …:} دو سے زیادہ ہی کا نہیں دو عورتوں کا بھی یہی حکم ہے، جیسا کہ اس آیت کے پہلے فائدے میں سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی دو بیٹیوں کو دو تہائی دینے کا ذکر ہوا ہے، پھر اس سورت کی آخری آیت میں جب دو بہنوں کو دو تہائی حصہ دیا گیا ہے تو دو بیٹیوں کو بدرجۂ اولیٰ دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ بیٹی بہن کے مقابلہ میں آدمی کے زیادہ قریب ہے، لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ دو لڑکیوں کا دو تہائی حصہ قرآن و حدیث دونوں سے ثابت ہے۔ (ابن کثیر) ➍ اس حکم سے چند صورتیں مستثنیٰ ہیں:(1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا نُوْرَثَ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ] [ بخاری، فرض الخمس، باب فرض الخمس: ۳۰۹۳ ] ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔“ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم نہیں ہوئی۔ دیکھیے سورۂ مریم آیت (۶) کی تفسیر۔ (2) جان بوجھ کر قتل کرنے والا اپنے مقتول کا وارث نہیں ہو گا۔ یہ حکم سنت سے ثابت ہے اور اس پر اجماع ہے۔ [ ابن ماجہ، الفرائض، باب میراث القاتل: ۲۷۳۵، و قال الألبانی صحیح ] (3) اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا اور نہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے۔“ [بخاری، الفرائض، باب لا یرث المسلم الکافر…: ۶۷۶۴] لہٰذا کافر مسلمان کی وراثت سے محروم ہو گا بیٹا ہو یا بیٹی، باپ ہو یا ماں، بھائی ہو یا بہن، خاوند ہو یا بیوی، یا کوئی اور رشتہ دار، اسی طرح مسلمان کافر کی وراثت سے محروم ہو گا، اسی طرح وہ وارث جو غلام لونڈی ہو وہ آزاد کا وارث نہیں ہو گا اور آزاد غلام کا وارث نہیں ہو گا۔(4) اسی طرح وہ وارث جو غلام لونڈی ہو وہ آزاد کا وارث نہیں ہو گا اور آزاد غلام کا وارث نہیں ہو گا۔ ➎ {وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ:} اس سے بھی معلوم ہوا کہ جب ایک بیٹی کا نصف ہے تو دو یا دو سے زیادہ بیٹیوں کا دو تہائی ہونا چاہیے۔ ➏ {وَ لِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ …:} یعنی میت کی اولاد ہونے کی صورت میں ماں باپ دونوں میں سے ہر ایک کو کل ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا، مثلا میت کی ایک بیٹی اور ماں باپ ہیں تو ترکہ کے چھ مساوی حصے کر لیے جائیں۔ بیٹی کو تین حصے (نصف) ماں کو ایک حصہ (سدس) باپ کو ایک حصہ (سدس) مقررشدہ اور ایک حصہ (سدس) عصبہ ہونے کی وجہ سے ملے گا اور اگر میت کی دو یا زیادہ بیٹیاں ہیں تو ترکہ کے چھ حصوں میں سے چار حصے (دو ثلث) بیٹیوں کے اور ایک ایک حصہ (سدس) ماں باپ کا ہو گا اور اگر ماں باپ کے ساتھ لڑکے لڑکیاں دونوں ہیں تو ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ دینے کے بعد جو باقی بچے اس میں سے لڑکے کے دو حصے اور لڑکی کا ایک حصہ ہو گا۔ ➐ {فَاِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ …:} یہ ماں باپ کی دوسری حالت ہے، یعنی اگر میت کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ زندہ ہوں تو ماں کو ایک تہائی ملے گا اور بقیہ دو تہائی حصہ باپ کو مل جائے گا اور اگر ماں باپ کے ساتھ میت کے مرد ہونے کی صورت میں بیوی اور عورت ہونے کی صورت میں اس کا شوہر بھی زندہ ہو تو شوہر یا بیوی کا حصہ، جس کا ذکر آگے آ رہا ہے، پہلے نکالنے کے بعد باقی ماندہ سے ماں کو ایک تہائی اور باپ کو دو تہائی ملے گا۔ والدین کی مذکورہ دونوں صورتیں قرآن مجید ہی سے واضح ہو رہی ہیں، کیونکہ پہلی صورت میں ساتھ یہ ہے {”وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ“} یعنی اس کے وارث صرف ماں باپ ہوں، بیوی یا خاوند موجود ہونے کی صورت دوسری ہے۔ اس میں والدہ کو باقی کا ثلث اس لیے دیا جائے گا کہ عورت (ماں) کا حصہ، مرد (باپ) کے نصف سے زیادہ نہ ہو جائے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہی قول فقہائے سبعہ، ائمہ اربعہ اور جمہور اہل علم کا ہے۔ ➑ {فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ …:} یہ ماں باپ کی تیسری حالت کا بیان ہے، یعنی اگر میت کی کوئی اولاد نہ ہو، ماں باپ کے علاوہ بھائی بھی ہوں (خواہ ماں باپ دونوں سے یا صرف ماں سے یا صرف باپ سے) تو باپ کی موجودگی میں انھیں حصہ تو نہیں ملے گا، البتہ وہ ماں کا حصہ تہائی سے چھٹا کر دیں گے اور اگر ماں کے ساتھ سوائے باپ کے کوئی دوسرا وارث نہ ہو تو بقیہ سارا ۶؍۵ حصہ باپ کو مل جائے گا۔ یاد رہے کہ {” اِخْوَةٌ “} کا لفظ جمع ہے اور یہ جمہور علماء کے نزدیک دو کو بھی شامل ہے، لہٰذا اگر صرف ایک بھائی ہو تو وہ ماں کا تہائی سے چھٹا حصہ نہیں کر سکتا۔(ابن کثیر) ➒ {مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ …:} میت کے مال میں سے اول کفن دفن پر صرف کیا جائے، پھر باقی ماندہ سے حسب مراتب قرض ادا کیا جائے، سب سے زیادہ ادا کیے جانے کا حق دار اللہ تعالیٰ کا قرض ہے، مثلاً اگر زکاۃ یا حج اس کے ذمے ہے تو وہ ادا کیا جائے، پھر دوسرے قرض اد اکیے جائیں، پھر مال کے تہائی حصے سے وصیت پوری کی جائے، اس کے بعد وارثوں کے درمیان باقی ترکے کے حصے کیے جائیں۔ (قرطبی) قرآن میں گو قرض کا ذکر وصیت کے بعد ہے، مگر سلف و خلف کا اس پر اجماع ہے کہ ادائے قرض وصیت پر مقدم ہے، لہٰذا پہلے قرض ادا کیا جائے، پھر وصیت کا نفاذ ہونا چاہیے۔ غور سے دیکھیں تو آیت کے معنی و مفہوم سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ آیت میں وصیت کو قرض سے پہلے ذکر کرنے کی اہل علم نے کئی حکمتیں بیان فرمائی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ عام طور پر وصیت پر عمل میں کوتاہی کی جاتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تاکید کے لیے اسے پہلے ذکر فرمایا۔ ➓ {اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا:} یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے علیم و حکیم ہے، اس نے خود میراث کا یہ قانون اس لیے مقرر فرمایا کہ تم اپنے نفع و نقصان کو نہیں سمجھتے، اگر تم اپنے اجتہاد سے ورثہ تقسیم کرتے توحصوں کا ضبط میں لانا مشکل تھا۔ (قرطبی، ابن کثیر) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” یعنی ان حصوں میں عقل کا دخل نہیں، اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں، وہ سب سے دانا ہے۔“ (موضح)
اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو اس کا آدھا حصہ تمہیں ملے گا اگر وہ بے اولاد ہوں، ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ترکہ کا ایک چوتھائی حصہ تمہارا ہے جبکہ وصیت جو انہوں ں نے کی ہو پوری کر دی جائے، اور قرض جو اُنہوں نے چھوڑا ہو ادا کر دیا جائے اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حق دار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو، ورنہ صاحب اولاد ہونے کی صورت میں اُن کا حصہ آٹھواں ہوگا، بعد اس کے کہ جو وصیت تم نے کی ہو وہ پوری کر دی جائے اور جو قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کر دیا جائے اور اگر وہ مرد یا عورت (جس کی میراث تقسیم طلب ہے) بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں، مگر اس کا ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے، جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کر دی جائے، اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کر دیا جائے، بشر طیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خو ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ مریں اور ان کی اوﻻد نہ ہو تو آدھوں آدھ تمہارا ہے اور اگر ان کی اوﻻد ہو تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہے۔ اس وصیت کی ادائیگی کے بعد جو وه کر گئی ہوں یا قرض کے بعد۔ اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اس میں ان کے لئے چوتھائی ہے، اگر تمہاری اوﻻد نہ ہو اور اگر تمہاری اوﻻد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا، اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔ اور جن کی میراث لی جاتی ہے وه مرد یا عورت کلالہ ہو یعنی اس کا باپ بیٹا نہ ہو۔ اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اس سے زیاده ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیں، اس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو یہ مقرر کیا ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو ترکہ تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں اس میں سے آدھا تمہارے لئے ہوگا اگر ان کی اولاد نہ ہو اور اگر ان کے اولاد ہو تو پھر تمہیں ان کے ترکہ کا چوتھا حصہ ملے گا۔ یہ تقسیم اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہوگی، جو انہوں نے کی ہو اور اس قرضہ کی ادائیگی کے بعد جو ان کے ذمہ ہو۔ اور وہ (بیویاں) تمہارے ترکہ میں سے چوتھے حصہ کی حقدار ہوں گی۔ اگر تمہاری اولاد نہ ہو۔ اور اگر تمہارے اولاد ہو تو پھر ان کا آٹھواں حصہ ہوگا اور (یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہوگی جو تم نے کی ہو اور اس قرض کو ادا کرنے کے بعد جو تم نے چھوڑا ہو۔ اور اگر میت (جس کی وراثت تقسیم کی جانے والی ہے) کلالہ ہو یعنی مرد ہو یا عورت بے اولاد ہو اور اس کے ماں باپ نہ ہوں۔ مگر بھائی بہن ہوں تو اگر اس کا صرف ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی یا بہن کو چھٹا حصہ ملے گا۔ اور اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو پھر وہ کل ترکہ کی ایک تہائی میں برابر کے شریک ہوں گے۔ مگر (یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے اور قرضہ کے ادا کرنے کے بعد ہوگی جو کی گئی (جبکہ وصیت کرنے والا وارثوں کو) ضرر پہنچانے کے درپے نہ ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے لازمی ہدایت ہے، اور اللہ بڑے علم و حلم والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تمھارے لیے اس کا نصف ہے جو تمھاری بیویاں چھوڑ جائیں، اگر ان کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمھارے لیے اس میں سے چوتھا حصہ ہے، جو انھوں نے چھوڑا، اس وصیت کے بعد جو وہ کر جائیں، یا قرض (کے بعد)۔ اور ان کے لیے اس میں سے چوتھا حصہ ہے جو تم چھوڑ جائو، اگر تمھاری کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر تمھاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لیے اس میں سے آٹھواں حصہ ہے جو تم نے چھوڑا، اس وصیت کے بعد جو تم کر جائو، یا قرض (کے بعد)۔ اور اگر کوئی مرد، جس کا ورثہ لیا جا رہا ہے، ایسا ہے جس کا نہ باپ ہو نہ اولاد، یا ایسی عورت ہے اور اس کا ایک بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے، پھر اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں حصے دار ہیں، اس وصیت کے بعد جو کی جائے، یا قرض (کے بعد)، اس طرح کہ کسی کا نقصان نہ کیا گیا ہو۔ اللہ کی طرف سے تاکیدی حکم ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، نہایت بردبار ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وراثت کی مزید تفصیلات ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مرد و تمہاری عورتیں جو چھوڑ کر مریں اگر ان کی اولاد نہ ہو تو اس میں سے آدھوں آدھ حصہ تمہارا ہے اور اگر ان کے بال بچے ہوں تو تمہیں چوتھائی ملے گا، وصیت اور قرض کے بعد۔ ترتیب اس طرح ہے پہلے قرض ادا کیا جائے پھر وصیت پوری کی جائے پھر ورثہ تقسیم ہو، یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر تمام علماء امت کا اجماع ہے، پوتے بھی اس مسئلہ میں حکم میں بیٹوں کی ہی طرح ہیں بلکہ ان کی اولاد در اولاد کا بھی یہی حکم ہے کہ ان کی موجودگی میں خاوند کو چوتھائی ملے گا۔ پھر عورتوں کا حصہ بتایا کہ انہیں یا چوتھائی ملے گا یا آٹھواں حصہ چوتھائی تو اس حالت میں کہ مرنے والے خاوند کی اولاد نہ ہو، اور آٹھواں حصہ اس حالت میں کہ اولاد ہو، اس چوتھائی یا آٹھویں حصے میں مرنے والے کی سب بیویاں شامل ہیں چار ہوں تو ان میں یہ حصہ برابر برابر تقسیم ہو جائے گا تین یا دو ہوں تب بھی اور اگر ایک ہو تو اسی کا یہ حصہ ہے
آیت «مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ» کی تفسیر اس سے پہلی آیت میں گزر چکی ہے۔ «كَلَالَةً» مشتق ہے «اکلیل» سے، «اکلیل» کہتے ہیں اس تاج وغیرہ کو جو سر کو ہر طرف سے گھیر لے، یہاں مراد ہے کہ اس کے وارث اردگرد حاشیہ کے لوگ ہیں اصل اور فرع یعنی جڑیا شاخ نہیں، صرف سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے «كَلَالَةً» کا معنی پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں میں اپنی رائے سے جواب دیتا ہوں اگر ٹھیک ہو تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری الذمہ ہیں، «كَلَالَةً» وہ ہے جس کا نہ لڑکا ہو نہ باپ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو آپ نے بھی اس سے موافقت کی اور فرمایا مجھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے سے خلاف کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:53/8] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے آخری زمانہ پانے والا میں ہوں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے بات وہی ہے جو میں نے کہی ٹھیک اور درست یہی ہے کہ «كَلَالَةً» اسے کہتے ہیں جس کا نہ ولد ہو والد۔
سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابن عباس، سیدنا زید بن ثابت رضوان اللہ علیہم اجمعین، شعبی، نخعی، حسن، قتادہ، جابر بن زید، حکم رحمتہ اللہ علیہم اجمعین بھی یہی فرماتے ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:55/8] اہل مدینہ، اہل کوفہ، اہل بصرہ کا بھی یہی قول ہے۔ ساتوں فقہاء چاروں امام اور جمہور سلف و خلف بلکہ تمام یہی فرماتے ہیں، بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی آیا ہے، ۱؎ [مستدرک حاکم:336/4:ضعیف] ابن لباب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ «کلالہ» وہ ہے جس کی اولاد نہ ہو لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور ممکن ہے کہ راوی نے مراد سمجھی ہی نہ ہو۔
پھر فرمایا کہ اس کا بھائی یا بہن ہو یعنی ماں زاد، جیسے کہ سعد بن وقاص وغیرہ بعض سلف کی قرأت ہے، سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ وغیرہ سے بھی یہی تفسیر مروی ہے تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے اگر زیادہ ہوں تو ایک ثلث میں سب شریک ہیں، ماں زاد بھائی باقی وارثوں سے کئی وجہ سے مختلف ہیں، ایک تو یہ کہ یہ باوجود اپنے ورثے کے دلانے والے کے بھی وارث ہوتے ہیں مثلاً ماں، دوسرے یہ کہ ان کے مرد و عورت یعنی بہن بھائی میراث میں برابر ہیں تیسرے یہ کہ یہ اسی وقت وارث ہوتے ہیں جبکہ میت کلالہ ہو پس باپ دادا کی یعنی پوتے کی موجودگی میں یہ وارث نہیں ہوتے، چوتھے یہ کہ انہیں ثلث سے زیادہ نہیں ملتا تو گویہ کتنے ہی ہوں مرد ہوں یا عورت، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے کہ ماں زاد بہن بھائی کا ورثہ آپس میں اس طرح بٹے گا کہ مرد کے لیے دوہرا اور عورت کے لیے اکہرا، زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسا فیصلہ نہیں کر سکتے تاوقت یہ کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہو، آیت میں اتنا تو صاف ہے کہ اگر اس سے زیادہ ہوں تو ثلث میں شریک ہیں، اس صورت میں علماء کا اختلاف ہے کہ اگر میت کے وارثوں میں خاوند ہو اور ماں ہو یا دادی ہو اور دو ماں زاد بھائی ہوں اور ایک یا ایک سے زیادہ باپ کی طرف سے بھائی ہوں تو جمہور تو کہتے ہیں کہ اس صورت میں خاوند کو آدھا ملے گا اور ماں یا دادی کو چھٹا حصہ ملے گا اور ماں زاد بھائی کو تہائی ملے گا اور اسی میں سگے بھائی بھی شامل ہوں گے قدر مشترک کے طور پر جو ماں زاد بھائی ہے۔
امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک ایسی ہی صورت پیش آئی تھی تو آپ نے خاوند کو آدھا دلوایا اور ثلث ماں زاد بھائیوں کو دلوایا تو سگے بھائیوں نے بھی اپنے تئیں پیش کیا آپ نے فرمایا:تم ان کے ساتھ شریک ہو، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح شریک کر دینا مروی ہے، اور دو روایتوں میں سے ایک روایت ایسی ہے سیدنا ابن مسعود اور سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے، سعید بن مسیب، قاضی شریح، مسروق، طاؤس، محمد بن سیرین، ابراہیم نخعی، عمر بن عبدالعزیز، ثوری اور شریک رحمہ اللہ علیہم کا قول بھی یہی ہے، امام مالک اور امام شافعی اور امام اسحٰق بن راھویہ رحمہ اللہ علیہم بھی اسی طرف گئے ہیں، ہاں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اس میں شرکت کے قائل نہ تھے بلکہ آپ اولاد «ام» کو اس حالت میں ثلث دلواتے تھے اور ایک ماں باپ کی اولاد کو کچھ نہیں دلاتے تھے اس لیے کہ یہ عصبہ ہیں اور عصبہ اس وقت پاتے ہیں جب ذوی الفرض سے بچ جائے، بلکہ وکیع بن جراح رحمہ اللہ کہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف مروی ہی نہیں، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کا قول بھی یہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مشہور یہی ہے، شعبی، ابن ابی لیلیٰ، ابوحنیفہ، ابو یوسف، محمد بن حسن، حسن بن زیادہ، زفر بن ہذیل، امام احمد، یحییٰ بن آدم، نعیم بن حماد، ابوثور، داؤد ظاہری رحمہ اللہ علیہم بھی اسی طرف گئے ہیں ابوالحسن بن لبان فرضی رحمہ اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، ملاحظہ ہو ان کی کتاب الایجاز۔
پھر فرمایا یہ وصیت کے جاری کرنے کے بعد ہے، وصیت ایسی ہو جس میں خلاف عدل نہ ہو کسی کو ضرر اور نقصان نہ پہنچایا گیا ہو، نہ کسی پر جبر و ظلم کیا گیا ہو، کسی وارث کا نہ ورثہ مارا گیا ہو، نہ کم و بیش کیا گیا ہو، اس کے خلاف وصیت کرنے والا اور ایسی خلاف شرع وصیت میں کوشش کرنے والا، اللہ کے حکم اور اس کی شریعت میں اس کے خلاف کرنے والا اور اس سے لڑنے والا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وصیت میں کسی کو ضرر و نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8789:موقوف صحیح] (ابن ابی حاتم) نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول بھی اسی طرح مروی ہے بعض روایتوں میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس فرمان کے بعد آیت کے اس ٹکڑے کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی مطابق ٹھیک بات یہی ہے کہ یہ مرفوع حدیث نہیں موقوف قول ہے۔
ائمہ کرام کا اس میں اختلاف ہے کہ وارث کے لیے جو اقرار میت کر جائے آیا وہ صحیح ہے یا نہیں؟ بعض کہتے ہیں صحیح نہیں ہے اس لیے کہ اس میں تہمت لگنے کی گنجائش ہے، حدیث شریف میں بہ سند صحیح آ چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق پہنچا دیا ہے اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ۱؎ [سنن ابوداود:2870،قال الشيخ الألباني::صحیح] مالک، احمد بن حنبل، ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہم کا قول یہی ہے، شافعی رحمہ اللہ کا بھی پہلا قول یہی تھا لیکن آخری قول یہ ہے کہ اقرار کرنا صحیح مانا جائے گا طاؤس، حسن، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کا قول بھی یہی ہے، امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور اپنی کتاب صحیح بخاری شریف میں اسی کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی دلیل ایک یہ روایت بھی ہے کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ فزاریہ نے جس چیز پر اپنے دروازے بند کر رکھے ہیں وہ نہ کھولے جائیں، امام بخاری رحمہ اللہ نے پھر فرمایا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں بہ سبب وارثوں کے ساتھ بدگمانی کے اس کا یہ اقرار جائز نہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے ”بدگمانی سے بچو بدگمانی تو سب سے زیادہ جھوٹ ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:6064]
قرآن کریم میں اللہ کا فرمان موجود ہے کہ «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا» ۱؎ [4-النساء:58] ’ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جس کی جو امانت ہو وہ پہنچا دو ‘، اس میں وارث اور غیر وارث کی کوئی تخصیص نہیں، یہ یاد رہے کہ یہ اختلاف اس وقت ہے جب اقرار فی الواقع صحیح ہو اور نفس الامر کے مطابق ہو اور اگر صرف حیلہ سازی ہو اور بعض وارثوں کو زیادہ دینے اور بعض کو کم پہنچانے کے لیے ایک بہانہ بنا لیا ہو تو بالاجماع اسے پورا کرنا حرام ہے اور اس آیت کے صاف الفاظ بھی اس کی حرمت کا فتویٰ دیتے ہیں (اقرار فی الواقع صحیح ہونے کی صورت میں اس کا پورا کرنا ضروری ہے جیسا کہ دوسری جماعت کا قول ہے اور جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ مترجم) پھر فرمایا یہ اللہ عزوجل کے احکام ہیں جو اللہ عظیم و اعلیٰ علم و حلم والا ہے۔
12۔ 1 اولاد کی عدم موجودگی میں بیٹے کی اولاد یعنی پوتے بھی اولاد کے حکم میں ہیں، اس پر امت کے علماء کا اجماع ہے (فتح القدیر، ابن کثیر) اس طرح مرنے والے شوہر کی اولاد خواہ اس کی وارث ہونے والی موجودہ بیوی سے ہو یا کسی اور بیوی سے۔ اسی طرح مرنے والی عورت کی اولاد اس کے وارث ہونے والے موجودہ خاوند سے یا پہلے کسی خاوند سے۔ 12۔ 2 بیوی اگر ایک ہوگی تب بھی اسے چوتھا یا آٹھواں حصہ ملے گا اگر زیادہ ہونگی تب بھی یہی حصہ ان کے درمیان تقسیم ہوگا، ایک ایک کو چوتھائی یا آٹھواں حصہ نہیں ملے گا یہ بھی ایک اجماعی مسئلہ ہے (فتح القدیر) 12۔ 3 کلالہ سے مراد وہ میت ہے، جس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا۔ یہ اکلیل سے مشتق ہے اکلیل ایسی چیز کو کہتے ہی جو کہ سر کو اس کے اطراف و جوانب سے وارث قرار پایا جائے (فتح القدیر و ابن کثیر) اور کہا جاتا ہے کہ کلالہ کلل سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں تھک جانا۔ گویا اس شخص تک پہنچتے پہنچتے سلسلہ نسل ونسب تھک گیا اور آگے نہ چل سکا۔ 12۔ 4 اس سے مراد اخیافی بہن بھائی ہیں جن کی ماں ایک اور باپ الگ الگ کیونکہ عینی بھائی بہن یا علاتی بہن بھائی کا حصہ میراث میں اس طرح نہیں ہے اور اس کا بیان اس سورت کے آخر میں آرہا ہے یہ مسئلہ بھی اجماعی ہے (فتح القدیر) اور دراصل نسل کے لئے مرد و زن (ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ) 4:11 کا قانون چلتا ہے یہی وجہ ہے کہ بیٹے بیٹیوں کے لئے اس جگہ اور بہن بھائیوں کے لئے آخری آیت نساء میں ہر دو جگہ یہی قانون ہے البتہ صرف ماں کی اولاد میں چونکہ نسل کا حصہ نہیں ہوتا اس لئے وہاں ہر ایک کو برابر کا حصہ دیا جاتا ہے بہرحال ایک بھائی یا ایک بہن کی صورت میں ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ 12۔ 5 ایک سے زیادہ ہونے کی صورت میں یہ سب ایک تہائی حصے میں شریک ہونگے، نیز ان میں مذکر اور مؤنث کے اعتبار سے بھی فرق نہیں کیا جائے گا۔ بلا تفریق سب کو مساوی حصہ ملے گا، مراد مرد ہو یا عورت۔ 12۔ 6 میراث کے احکام بیان کرنے کے ساتھ تیسری مرتبہ کہا جا رہا ہے کہ ورثے کی تقسیم، وصیت پر عمل کرنے اور قرض کی ادائیگی کے بعد کی جائے جس سے معلوم ہوتا ہے ان دونوں باتوں پر عمل کرنا کتنا ضروری ہے۔ پھر اس پر بھی اتفاق ہے کہ سب سے پہلے قرضوں کی ادائیگی کی جائے گا اور وصیت پر عمل اس کے بعد کیا جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے تینوں جگہ وصیت کا ذکر دین (قرض) سے پہلے کیا حالانکہ ترتیب کے اعتبار سے دین کا ذکر پہلے ہونا چاہیے تھا۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ قرض کی ادائیگی کو تو لوگ اہمت نہیں دیتے ہیں نہ بھی دیں تو لینے والے زبردستی بھی وصول کرلیتے ہیں لیکن وصیت پر عمل کرنے کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے اور اکثر لوگ اس معاملے میں تساہل یا تغافل سے کام لیتے ہیں اس لئے وصیت کا پہلے ذکر فرما کر اس کی اہمیت واضح کردی گئی (روح المعانی) 12۔ 7 بایں طور پر وصیت کے ذریعے سے کسی وارث کو محروم کردیا جائے یا کسی کا حصہ گھٹا دیا جائے یا کسی کا حصہ بڑھا دیا جائے یا یوں ہی وارثوں کو نقصان پہنچانے کے لئے کہہ دے کہ فلاں شخص سے میں نے اتنا قرض لیا ہے درآں حالیکہ کچھ بھی نہیں لیا ہو، گویا اقرار کا تعلق وصیت اور دین دونوں سے ہے اور دونوں کے ذریعے سے نقصان پہنچانا ممنوع اور کبیرہ گناہ ہے۔ نیز ایسی وصیت بھی باطل ہے۔
(آیت 12) ➊ {وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ …:} اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو خطاب کر کے فرمایا کہ اگر تمھاری بیویاں مال چھوڑ کر مریں اور ان کی کوئی اولاد نہ ہو تو تمھیں آدھا مال ملے گا اور اگر ان کی اولاد ہے، ایک یا زائد بیٹے بیٹیاں یا پوتے یا پڑپوتے، خواہ تم سے یا کسی اور خاوند سے تو تمھیں چوتھا حصہ ملے گا اور اگر تمھاری اولاد نہ ہو تو تمھاری بیویوں کو چوتھا حصہ ملے گا اور تمھارے فوت ہونے کی صورت میں اگر تمھاری وارث بننے والی اولاد یا اولا کی فرع ہے، پھر وہ خواہ ان بیویوں سے ہے یا کسی اور سے، بہرحال بیویوں کو آٹھواں حصہ ملے گا، قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعد، پھر بیوی ایک ہو یا زیادہ سب چوتھائی یا آٹھویں حصے میں شریک ہوں گی، اس پر اجماع ہے۔ ➋ {يُوْرَثُ كَلٰلَةً:} اگر کوئی مرد یا عورت مر جائے، اس کا نہ والد ہو اور نہ وارث بننے والی اولاد ہو تو اسے ”کلالہ“ کہتے ہیں۔ بعض ایسی میت کے وارثوں کو ”کلالہ“ کہتے ہیں۔ بہرحال دونوں پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ ➌ {وَ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ:} بھائی بہن تین طرح کے ہوتے ہیں: (1) عینی یعنی جن کے ماں باپ ایک ہوں۔ (2) علاتی، یعنی جن کا باپ ایک ہو، مائیں مختلف ہوں۔ (3) اخیافی، جن کی ماں ایک ہو اور باپ مختلف ہوں۔ یہاں بالاتفاق اخیافی بھائی بہن مراد ہیں، جیسا کہ ایک قراء ت میں بھی ہے۔ ➍ اخیافی بھائی چار احکام میں دوسرے وارثوں سے مختلف ہیں: (1) یہ صرف ماں کی جہت سے ورثہ لیتے ہیں۔ (2) ان میں سے مرد اور عورت کو مساوی حصہ دیا جاتا ہے۔ (3) ان کو صرف میت کے کلالہ ہونے کی صورت میں حصہ ملتا ہے۔ (4) خواہ کتنے ہی ہوں ان کا حصہ ثلث سے زیادہ نہیں ہوتا، مثلاً ایک میت کا شوہر، ماں، دو اخیافی اور دو عینی بھائی موجود ہوں تو جمہور اہل علم کے نزدیک شوہر کو نصف (۲؍۱) ملے گا، ماں کو سدس(۶؍۱) ملے گا اور بقیہ تہائی حصے میں اخیافی بھائیوں کے ساتھ عینی بھائی بھی شریک ہوں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مقدمہ میں یہی فیصلہ صادر فرمایا تھا۔ صحابہ میں سے عثمان، ابن مسعود، ابن عباس اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور ائمہ میں سے امام مالک اور امام شافعی رحمھما اللہ کا یہی مسلک ہے، البتہ علی رضی اللہ عنہ اخیافی بھائیوں کے اصحاب الفروض ہونے کی وجہ سے دوسرے سگے بھائیوں کو عصبہ ہونے کی وجہ سے محروم قرار دیتے ہیں۔ امام شوکانی رحمہ اللہ نے اس دوسرے مسلک کو ترجیح دی ہے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر) ➎ {فَهُمْ شُرَكَآءُ فِي الثُّلُثِ:} اخیافی بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو مرد ہو یا عورتیں، یا مرد اور عورتیں ملے ہوئے ہوں، سب میں تیسرا حصہ برابر تقسیم کر دیا جائے گا، یعنی یہاں مرد کو عورت پر فضیلت نہیں ہو گی، جیسا کہ آیت میں «شُرَكَآءُ فِي الثُّلُثِ» سے معلوم ہوتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا اور ظاہر ہے کہ ایسا فیصلہ محض اجتہاد سے نہیں کیا جا سکتا۔ (ابن کثیر) ➏ {غَيْرَ مُضَآرٍّ:} یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور اس کا تعلق وصیت اور قرض دونوں سے ہے۔ وصیت میں نقصان پہنچانا ایک تو یہ ہے کہ تہائی مال سے زیادہ وصیت کرے، اس صورت میں تہائی سے زائد وصیت کا نفاذ نہیں ہوگا۔ مگر یہ کہ ورثاء اجازت دے دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی وارث کو مزید رعایت سے زائد مال دلوایا جائے، اس کا بھی اعتبار نہیں ہو گا، الا یہ کہ تمام وارث برضا و رغبت اسے قبول کر لیں۔ قرض میں نقصان پہنچانا یہ ہے کہ محض وارثوں کا حق تلف کرنے کے لیے مرنے والا اپنے ذمے کسی ایسے قرض کا اقرار کرے جو حقیقت میں اس کے ذمے نہ ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”وصیت میں نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔“ [ السنن الکبرٰی للنسائی: 60/10، ح: ۱۱۰۲۶، و سندہ صحیح ]
یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرے گا اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے، اور یہی ہے بڑی کامیابی،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جو خدا اور رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے ان بہشتوں میں داخل کرے گا۔ جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے وہ اسے جنتوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمانوں کا حشر ٭٭
اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے آگے نکل جائے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں ہمیشہ رہے گا ایسوں کے لیے اہانت کرنے والا عذاب ہے، یعنی یہ فرائض اور یہ مقدار جسے اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اور میت کے وارثوں کو ان کی قرابت کی نزدیکی اور ان کی حاجت کے مطابق جتنا جسے دلوایا ہے یہ سب اللہ ذوالکرم کی حدود ہیں تم ان حدوں کو نہ توڑو نہ اس سے آگے بڑھو۔ جو شخص اللہ عزوجل کے ان احکام کو مان لے، کوئی حیلہ حوالہ کر کے کسی وارث کو کم بیش دلوانے کی کوشش نہ کرے حکم الہٰ اور فریضہ الہٰ جوں کا توں بجا لائے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اسے ہمیشہ چلنے والی نہروں کی جنت میں داخل کرے گا، یہ کامیاب نصیب ور اور مقصد کو پہنچنے والا اور مراد کو پانے والا ہو گا، اور جو اللہ کے کسی حکم کو بدل دے کسی وارث کے ورثے کو کم و بیش کر دے رضائے الٰہی کو پیش نظر نہ رکھے بلکہ اس کے حکم کو رد کر دے اور اس کے خلاف عمل کرے وہ اللہ کی تقسیم کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا اور اس کے حکم کو عدل نہیں سمجھتا تو ایسا شخص ہمیشہ رہنے والی رسوائی اور اہانت والے درد ناک اور ہیبت ناک عذابوں میں مبتلا رہے گا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک شخص ستر سال تک نیکی کے عمل کرتا رہتا ہے پھر وصیت کے وقت ظلم و ستم کرتا ہے اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ایک شخص برائی کا عمل ستر سال تک کرتا رہتا ہے پھر اپنی وصیت میں عدل کرتا ہے اور خاتمہ اس کا بہتر ہو جاتا ہے تو جنت میں داخل جاتا ہے، پھر اس حدیث کے راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کو پڑھو «تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ وَمَنْ يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ» * «وَمَنْ يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ» ۱؎ [4-النساء:13-14] [مسند احمد:2/278:ضعیف] ۔ سنن ابی داؤد کے باب «الاضرار فی الوصیتہ» میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک مرد یا عورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ساٹھ سال تک لگے رہتے ہیں پھر موت کے وقت وصیت میں کوئی کمی بیشی کر جاتے ہیں تو ان کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے «مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ» ۱؎ [4-النساء:12] سے آخر آیت تک پڑھی، ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے، ۱؎ [سنن ابوداود:2867،قال الشيخ الألباني:ضیعف] امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں، مسند احمد میں یہ حدیث تمام و کمال کے ساتھ موجود ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14،13) {تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ …:} اللہ تعالیٰ نے وراثت کو حدود اللہ قرار دیا اور اس حکم کی اطاعت پر جنت اور فوز عظیم کا وعدہ فرمایا ہے اور نافرمانی اور حدود اللہ کی پامالی کی صورت میں ہمیشہ کی آگ اور عذاب مہین کی سزا سنائی ہے۔ افسوس کہ بڑے بڑے بظاہر متقی لوگ بھی بہنوں کو ان کا حصہ نہیں دیتے، اکثر لوگ کوشش کرتے ہیں کہ جائداد بیٹوں کو دے دیں اور بیٹیوں کو محروم کر دیں۔ اسی طرح اگر کوئی وارث کمزور ہو تو اسے بھی وراثت سے حصہ نہیں دیتے، ان سب کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے اور اس کے رسوا کن عذاب اور ہمیشہ کی آگ سے ڈرنا چاہیے۔
اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کر جائے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن سزا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرره حدوں سے آگے نکلے اسے وه جہنم میں ڈال دے گا جس میں وه ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لئے رسوا کن عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز کرے گا۔ تو اللہ اسے آتش دوزخ میں داخل کرے گا۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدوں سے تجاوز کرے وہ اسے آگ میں داخل کرے گا، ہمیشہ اس میں رہنے والا ہے اور اس کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمانوں کا حشر ٭٭
اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے آگے نکل جائے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں ہمیشہ رہے گا ایسوں کے لیے اہانت کرنے والا عذاب ہے، یعنی یہ فرائض اور یہ مقدار جسے اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اور میت کے وارثوں کو ان کی قرابت کی نزدیکی اور ان کی حاجت کے مطابق جتنا جسے دلوایا ہے یہ سب اللہ ذوالکرم کی حدود ہیں تم ان حدوں کو نہ توڑو نہ اس سے آگے بڑھو۔ جو شخص اللہ عزوجل کے ان احکام کو مان لے، کوئی حیلہ حوالہ کر کے کسی وارث کو کم بیش دلوانے کی کوشش نہ کرے حکم الہٰ اور فریضہ الہٰ جوں کا توں بجا لائے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اسے ہمیشہ چلنے والی نہروں کی جنت میں داخل کرے گا، یہ کامیاب نصیب ور اور مقصد کو پہنچنے والا اور مراد کو پانے والا ہو گا، اور جو اللہ کے کسی حکم کو بدل دے کسی وارث کے ورثے کو کم و بیش کر دے رضائے الٰہی کو پیش نظر نہ رکھے بلکہ اس کے حکم کو رد کر دے اور اس کے خلاف عمل کرے وہ اللہ کی تقسیم کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا اور اس کے حکم کو عدل نہیں سمجھتا تو ایسا شخص ہمیشہ رہنے والی رسوائی اور اہانت والے درد ناک اور ہیبت ناک عذابوں میں مبتلا رہے گا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک شخص ستر سال تک نیکی کے عمل کرتا رہتا ہے پھر وصیت کے وقت ظلم و ستم کرتا ہے اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ایک شخص برائی کا عمل ستر سال تک کرتا رہتا ہے پھر اپنی وصیت میں عدل کرتا ہے اور خاتمہ اس کا بہتر ہو جاتا ہے تو جنت میں داخل جاتا ہے، پھر اس حدیث کے راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کو پڑھو «تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ وَمَنْ يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ» * «وَمَنْ يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ» ۱؎ [4-النساء:13-14] [مسند احمد:2/278:ضعیف] ۔ سنن ابی داؤد کے باب «الاضرار فی الوصیتہ» میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک مرد یا عورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ساٹھ سال تک لگے رہتے ہیں پھر موت کے وقت وصیت میں کوئی کمی بیشی کر جاتے ہیں تو ان کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے «مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ» ۱؎ [4-النساء:12] سے آخر آیت تک پڑھی، ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے، ۱؎ [سنن ابوداود:2867،قال الشيخ الألباني:ضیعف] امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں، مسند احمد میں یہ حدیث تمام و کمال کے ساتھ موجود ہے۔
تمہاری عورتوں میں سے جو بد کاری کی مرتکب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو، اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا اللہ اُن کے لیے کوئی راستہ نکال دے
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہاری عورتوں میں سے جو بے حیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواه طلب کرو، اگر وه گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو، یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کردے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اور راستہ نکالے
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو تمہاری عورتوں میں سے بدکاری کریں تو ان کی بدکاری پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو۔ اور اگر وہ گواہی دے دیں تو انہیں گھروں میں بند کر دو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ مقرر کرے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تمھاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار مرد گواہ طلب کرو، پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو انھیں گھروں میں بند رکھو، یہاں تک کہ انھیں موت اٹھا لے جائے، یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ بنا دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ کار عورت اور اس کی سزا ٭٭
ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھا کہ جب عادل گواہوں کی سچی گواہی سے کسی عورت کی سیاہ کاری ثابت ہو جائے تو اسے گھر سے باہر نہ نکلنے دیا جائے گھر میں ہی قید کر دیا جائے اور جنم قید یعنی موت سے پہلے اسے چھوڑا نہ جائے، اس فیصلہ کے بعد یہ اور بات ہے کہ اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ پیدا کر دے، پھر جب دوسری صورت کی سزا تجویز ہوئی تو وہ منسوخ ہو گئی اور یہ حکم بھی منسوخ ہوا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب تک سورۃ النور کی آیت نہیں اتری تھی زنا کار عورت کے لیے یہی حکم رہا پھر اس آیت میں شادی شدہ کو رجم کرنے یعنی پتھر مار مار کر مار ڈالنے اور بیشادی شدہ کو کوڑے مارنے کا حکم اترا، عکرمہ، سعید بن جبیر، حسن، عطاء خرسانی ٫ ابوصالح، قتادہ، زید بن اسلم اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی اترتی تو آپ پر اس کا بڑا اثر ہوتا اور تکلیف محسوس ہوتی اور چہرے کا رنگ بدل جاتا پس اللہ تعالیٰ نے ایک دن اپنے نبی پر وحی نازل فرمائی کیفیت وحی سے نکلے تو آپ نے فرمایا:”مجھ سے حکم الٰہی لو اللہ تعالیٰ نے سیاہ کار عورتوں کے لیے راستہ نکال دیا ہے اگر شادی شدہ عورت یا شادی شدہ مرد سے اس جرم کا ارتکاب ہو تو ایک سو کوڑے اور پتھروں سے مار ڈالنا اور غیر شادی شدہ ہوں تو ایک سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:1690] ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث الفاظ کچھ تبدیلی کے ساتھ سے مروی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں، ۱؎ [سنن ترمذي:1434،قال الشيخ الألباني:صحیح] اسی طرح ابوداؤد میں بھی۔
ابن مردویہ کی غریب حدیث میں کنوارے اور بیاہے ہوئے کے حکم کے ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ دونوں اگر بوڑھے ہوں تو انہیں رجم کر دیا جائے۔ ۱؎ [بیہقی:8/223:ضعیف] لیکن یہ حدیث غریب ہے، طبرانی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سورۃ نساء کے اترنے کے بعد اب روک رکھنے کا یعنی عورتوں کو گھروں میں قید رکھنے کا حکم نہیں رہا۔ ۱؎ [بیہقی:6/162:ضعیف] امام احمد رحمہ اللہ کا مذہب اس حدیث کے مطابق یہی ہے کہ زانی شادی شدہ کو کوڑے بھی لگائے جائیں گے اور رجم بھی کیا جائے گا اور جمہور کہتے ہیں کوڑے نہیں لگیں گے صرف رجم کیا جائے گا اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز رضی اللہ عنہ کو اور غامدیہ عورت کو رجم کیا لیکن کوڑے نہیں مارے، اسی طرح دو یہودیوں کو بھی آپ نے رجم کا حکم دیا اور رجم سے پہلے بھی انہیں کوڑے نہیں لگوائے، پھر جمہور کے اس قول کے مطابق معلوم ہوا کہ انہیں کوڑے لگانے کا حکم منسوخ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا اس بےحیائی کے کام کو دو مرد اگر آپس میں کریں انہیں ایذاء پہنچاؤ یعنی برا بھلا کہہ کر شرم و غیرہ دلا کر جوتیاں لگا کر، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/85] یہ حکم بھی اسی طرح پر رہا یہاں تک کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ نے کوڑے اور رجم سے منسوخ فرمایا۔ عکرمہ، عطاء، حسن، عبداللہ بن کثیر رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس سے مراد بھی مرد و عورت ہیں، سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد وہ نوجوان مرد ہیں جو شادی شدہ نہ ہوں مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں لواطت کے بارے میں یہ آیت ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:82/8]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے تم لوطی فعل کرتے دیکھو تو فاعل مفعول دونوں کو قتل کر ڈالو، ہاں اگر یہ دونوں باز آ جائیں اپنی بدکاری سے توبہ کر لیں اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں اور ٹھیک ٹھاک ہو جائیں تو اب ان کے ساتھ درشت کلامی اور سختی سے پیش نہ آؤ، اس لیے کہ گناہ سے توبہ کر لینے والا مثل گناہ نہ کرنے والے کے ہے۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے، بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کسی کی لونڈی بدکاری کرے تو اس کا مالک اسے حد لگا دے اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے ۱؎، [صحیح بخاری:6839] یعنی حد لگ جانے کے بعد پھر اسے عار نہ دلایا کرے کیونکہ حد کفارہ ہے۔
15۔ 1 یہ بدکار عورتوں کی بدکاری کی سزا ہے جو ابتدائے اسلام میں، جب کہ زنا کی سزا متعین نہیں ہوئی تھی، عارضی طور پر مقرر کی گئی تھی ہاں یہ بھی یاد رہے کہ عربی زبان میں ایک سے دس تک کی گنتی میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ عدد مذکر ہوگا تو معدود مؤنث اور عدد مؤنث ہوگا تو معدود مذکر۔ یہاں اربعہ (یعنی چار عدد) مؤنث ہے، اس لئے معدود جو یہاں ذکر نہیں کیا گیا اور محذوف ہے یقینا مذکر آئے گا اور وہ ہے رجال یعنی اربعۃ رجال جس سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ اثبات زنا کے لئے چار مرد گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔ گویا جس طرح زنا کی سزا سخت مقرر کی گئی ہے اسکے اثبات کے لئے گواہوں کی کڑی شرط عائد کردی گئی ہے یعنی چار مسلمان مرد عینی گواہ، اس کے بغیر شرعی سزا کا اثبات ممکن نہیں ہوگا۔ 15۔ 2 اس راست سے مراد زنا کی وہ سزا ہے جو بعد میں مقرر کی گئی یعنی شادی شدہ زناکار مرد و عورت کے لئے رجم اور غیر شادی شدہ بدکار مرد عورت کے لئے سو سو کوڑے کی سزا (جس کی تفصیل سورة نور اور احادیث صحیحہ میں موجود ہے۔
(آیت 16،15) ➊ { وَ الّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ …:} اوپر کی آیات میں عورتوں کے ساتھ احسان اور ان کے مہر ادا کرنے اور مردوں کے ساتھ ان کو وراثت میں شریک قرار دے کر ان کے حقوق کی حفاظت کا بیان تھا، اب یہاں سے عورتوں کی تادیب اور ان پر سختی کا بیان ہے، تاکہ عورت اپنے آپ کو بالکل ہی آزاد نہ سمجھے۔ (قرطبی) پہلی آیت میں زنا کار عورتوں کی سزا بیان کی کہ زنا شہادت سے ثابت ہو جائے تو انھیں تاعمر گھر میں محبوس رکھا جائے، یہاں تک کہ وہ مرجائیں، یا اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں کوئی دوسری سزا نازل فرما دے۔ اسلام میں زنا کار عورتوں کے لیے یہ پہلی سزا ہے جو بعد میں حد زنا نازل ہونے سے منسوخ ہو گئی۔ سورۂ نور میں جو سو کوڑوں کی سزا نازل ہوئی ہے، یہاں {”سَبِيْلًا“} سے اسی طرف اشارہ ہے۔ دوسری آیت میں زانی مرد اورزنا کار عورت کے متعلق یہ حکم دیا گیا کہ ان کو اذیت دی جائے اور ذلیل کیا جائے، حتیٰ کہ تائب ہو جائیں، یہ سزا پہلی سزا کے ساتھ ہی ہے، بعد میں یہ دونوں سزائیں منسوخ ہو گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے (احکام دین) لو، اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے سبیل پیدا فرما دی ہے کہ کنوارا کنواری کے ساتھ (زنا کرے) تو اس کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ (زنا کرے) تو ان کے لیے سو کوڑے اور سنگسار ہے۔“ [ مسلم، الحدود، باب حد الزنی: ۱۶۹۰، عن عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ ] مزید دیکھیے سورۂ نور (۲)۔ (ابن کثیر، قرطبی) ➋ {اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ:} چونکہ زنا کی سزا نہایت سخت ہے، اس لیے اس پر گواہی بھی زیادہ مضبوط رکھی۔ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جو چیز شمار کی جا رہی ہے، وہ مذکر ہو تو عدد مؤنث ہوتا ہے، اس لیے { ”اَرْبَعَةً“ } کی وجہ سے ترجمہ ”چار مرد“ کیا ہے۔ ➌ {وَ الَّذٰنِ يَاْتِيٰنِهَا …:} بعض علماء نے اس سے مراد قوم لوط کا عمل کرنے والے دو مرد لیے ہیں، اگرچہ { ”وَ الَّذٰنِ“ } کے لفظ میں، جو تثنیہ مذکر کے لیے آتا ہے، اس کی گنجائش ہے، مگر یہ مطلب نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، نہ کسی صحابی سے، بلکہ طبری اور ابن ابی حاتم نے اپنی حسن سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کیا ہے کہ عورت جب زنا کرتی تو گھر میں بیٹھی رہتی یہاں تک کہ فوت ہو جاتی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «وَ الَّذٰنِ يَاْتِيٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا» کے متعلق فرمایا کہ مرد جب زنا کرتا تو اسے تعزیر اور جوتے مارنے کے ساتھ ایذا دی جاتی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد یہ آیات نازل فرمائیں: «اَلزَّانِيَةُ وَ الزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ» [ النور: ۲ ] یعنی زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد کو سو سو کوڑے مارو۔ پھر اگر وہ شادی شدہ ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق انھیں رجم کر دیا جائے گا۔ یہ ہے وہ ”سبیل“ جو اللہ نے فرمایا: «اَوْ يَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيْلًا» (یہاں تک کہ انھیں موت اٹھا لے جائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ بنا دے) اسی طرح طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے نقل کیا ہے کہ «وَ الَّذٰنِ يَاْتِيٰنِهَا مِنْكُمْ» سے مراد زنا کرنے والے مرد و عورت ہیں۔ علاوہ ازیں {”يَاْتِيٰنِهَا“} میں {”ها“} کی ضمیر پچھلی آیت میں مذکور {” الْفَاحِشَةَ “} کی طرف جا رہی ہے جس سے اس مقام پر مراد زنا ہے۔ اس فاحشہ سے مراد قوم لوط کا عمل ہو ہی نہیں سکتا۔ رہا { ”الَّذٰنِ“ } تثنیہ مذکر کا لفظ تو دو افراد اگر مذکر و مؤنث ہوں تو ان کے لیے تثنیہ مذکر کی ضمیر عام استعمال ہوتی ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں۔
اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں اُن دونوں کو تکلیف دو، پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم میں سے جو دو افراد ایسا کام کر لیں انہیں ایذا دو اگر وه توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منھ پھیر لو، بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم میں سے جو دو شخص (مرد و عورت) بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کو اذیت پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کرلیں۔ تو انہیں چھوڑ دو بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ دونوں جو تم میں سے اس کا ارتکاب کریں سو ان دونوں کو ایذا دو، پھر اگروہ دونوں توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں تو ان سے خیال ہٹا لو، بے شک اللہ ہمیشہ سے بے حد توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ کار عورت اور اس کی سزا ٭٭
ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھا کہ جب عادل گواہوں کی سچی گواہی سے کسی عورت کی سیاہ کاری ثابت ہو جائے تو اسے گھر سے باہر نہ نکلنے دیا جائے گھر میں ہی قید کر دیا جائے اور جنم قید یعنی موت سے پہلے اسے چھوڑا نہ جائے، اس فیصلہ کے بعد یہ اور بات ہے کہ اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ پیدا کر دے، پھر جب دوسری صورت کی سزا تجویز ہوئی تو وہ منسوخ ہو گئی اور یہ حکم بھی منسوخ ہوا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب تک سورۃ النور کی آیت نہیں اتری تھی زنا کار عورت کے لیے یہی حکم رہا پھر اس آیت میں شادی شدہ کو رجم کرنے یعنی پتھر مار مار کر مار ڈالنے اور بیشادی شدہ کو کوڑے مارنے کا حکم اترا، عکرمہ، سعید بن جبیر، حسن، عطاء خرسانی ٫ ابوصالح، قتادہ، زید بن اسلم اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی اترتی تو آپ پر اس کا بڑا اثر ہوتا اور تکلیف محسوس ہوتی اور چہرے کا رنگ بدل جاتا پس اللہ تعالیٰ نے ایک دن اپنے نبی پر وحی نازل فرمائی کیفیت وحی سے نکلے تو آپ نے فرمایا:”مجھ سے حکم الٰہی لو اللہ تعالیٰ نے سیاہ کار عورتوں کے لیے راستہ نکال دیا ہے اگر شادی شدہ عورت یا شادی شدہ مرد سے اس جرم کا ارتکاب ہو تو ایک سو کوڑے اور پتھروں سے مار ڈالنا اور غیر شادی شدہ ہوں تو ایک سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:1690] ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث الفاظ کچھ تبدیلی کے ساتھ سے مروی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں، ۱؎ [سنن ترمذي:1434،قال الشيخ الألباني:صحیح] اسی طرح ابوداؤد میں بھی۔
ابن مردویہ کی غریب حدیث میں کنوارے اور بیاہے ہوئے کے حکم کے ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ دونوں اگر بوڑھے ہوں تو انہیں رجم کر دیا جائے۔ ۱؎ [بیہقی:8/223:ضعیف] لیکن یہ حدیث غریب ہے، طبرانی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سورۃ نساء کے اترنے کے بعد اب روک رکھنے کا یعنی عورتوں کو گھروں میں قید رکھنے کا حکم نہیں رہا۔ ۱؎ [بیہقی:6/162:ضعیف] امام احمد رحمہ اللہ کا مذہب اس حدیث کے مطابق یہی ہے کہ زانی شادی شدہ کو کوڑے بھی لگائے جائیں گے اور رجم بھی کیا جائے گا اور جمہور کہتے ہیں کوڑے نہیں لگیں گے صرف رجم کیا جائے گا اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز رضی اللہ عنہ کو اور غامدیہ عورت کو رجم کیا لیکن کوڑے نہیں مارے، اسی طرح دو یہودیوں کو بھی آپ نے رجم کا حکم دیا اور رجم سے پہلے بھی انہیں کوڑے نہیں لگوائے، پھر جمہور کے اس قول کے مطابق معلوم ہوا کہ انہیں کوڑے لگانے کا حکم منسوخ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا اس بےحیائی کے کام کو دو مرد اگر آپس میں کریں انہیں ایذاء پہنچاؤ یعنی برا بھلا کہہ کر شرم و غیرہ دلا کر جوتیاں لگا کر، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/85] یہ حکم بھی اسی طرح پر رہا یہاں تک کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ نے کوڑے اور رجم سے منسوخ فرمایا۔ عکرمہ، عطاء، حسن، عبداللہ بن کثیر رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس سے مراد بھی مرد و عورت ہیں، سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد وہ نوجوان مرد ہیں جو شادی شدہ نہ ہوں مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں لواطت کے بارے میں یہ آیت ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:82/8]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے تم لوطی فعل کرتے دیکھو تو فاعل مفعول دونوں کو قتل کر ڈالو، ہاں اگر یہ دونوں باز آ جائیں اپنی بدکاری سے توبہ کر لیں اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں اور ٹھیک ٹھاک ہو جائیں تو اب ان کے ساتھ درشت کلامی اور سختی سے پیش نہ آؤ، اس لیے کہ گناہ سے توبہ کر لینے والا مثل گناہ نہ کرنے والے کے ہے۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے، بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کسی کی لونڈی بدکاری کرے تو اس کا مالک اسے حد لگا دے اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے ۱؎، [صحیح بخاری:6839] یعنی حد لگ جانے کے بعد پھر اسے عار نہ دلایا کرے کیونکہ حد کفارہ ہے۔
16۔ 1 بعض نے اس میں اغلام بازی مراد لی ہے یعنی عمل لواطت۔ دو مردوں کا ہی آپس میں بدفعلی کرنا اور بعض نے اسے باکرہ مرد و عورت مراد لیئے ہیں اور اس سے قبل کی آیت کو انہوں نے محصنات یعنی شادی کے ساتھ کیا ہے اور بعض نے اس تثنیہ کے صیغے سے مراد لیا ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ باکرہ ہوں یا شادی شدہ (ابن جریر طبری) نے دوسرے مفہوم یعنی باکرہ (مرد و عورت) کو ترجیح دی ہے اور پہلی آیت میں بیان کردہ سزا کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتلائی ہوئی سزا سزائے رجم سے اور اس آیت میں بیان کردہ سزا کو سورة نور میں بیان کردہ سو کوڑے کی سزا سے منسوخ قرار دی ہے۔ (تفسیر طبری) 16۔ 2 یعنی زبان سے زجر و توبیخ اور ملامت یا ہاتھ سے کچھ زدوکوب کرلینا۔ اب یہ منسوخ ہے، جیسا کہ گزرا۔
ہاں یہ جان لو کہ اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق اُنہی لوگوں کے لیے ہے جو نادانی کی وجہ سے کوئی برا فعل کر گزرتے ہیں اور اس کے بعد جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظر عنایت سے پھر متوجہ ہو جاتا ہے اور اللہ ساری باتوں کی خبر رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ صرف انہی لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو بوجہ نادانی کوئی برائی کر گزریں پھر جلد اس سے باز آ جائیں اور توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی توبہ قبول کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بڑے علم واﻻ حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
توبہ قبول کرنے کا حق اللہ کے ذمہ صرف انہی لوگوں کا ہے جو جہالت (نادانی) کی وجہ سے کوئی برائی کرتے ہیں پھر جلدی توبہ کر لیتے ہیں یہ ہیں وہ لوگ جن کی توبہ خدا قبول کرتا ہے۔ اور اللہ بڑا جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
توبہ (جس کا قبول کرنا) اللہ کے ذمے (ہے) صرف ان لوگوں کی ہے جو جہالت سے برائی کرتے ہیں، پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں، تو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ پھر مہربان ہو جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عالم نزع سے پہلے توبہ؟ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے ان بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو ناواقفیت کی وجہ سے کوئی برا کام کر بیٹھیں پھر توبہ کر لیں گو یہ توبہ فرشتہ موت کو دیکھ لینے کے بعد عالم نزع سے پہلے ہو، مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں جو بھی قصداً یا غلطی سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے وہ جاہل ہے جب تک کہ اس سے باز نہ آ جائے۔ ۱؎ ؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:89/8]
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرمایا کرتے تھے کہ بندہ جو گناہ کرے وہ جہالت ہے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:89/8] قتادہ رحمہ اللہ بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع سے اس طرح کی روایت کرتے ہیں عطاء رحمہ اللہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ توبہ جلدی کر لینے کی تفسیر میں منقول ہے کہ ملک الموت کو دیکھ لینے سے پہلے، عالم سکرات کے قریب مراد ہے، اپنی صحت میں توبہ کر لینی چاہیئے، غر غرے کے وقت سے پہلے کی توبہ قبول ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ساری دنیا قریب ہی ہے، اس کے متعلق حدیثیں سنئیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک سانسوں کا ٹوٹنا شروع نہ ہو“، ۱؎ [سنن ترمذي:3537،قال الشيخ الألباني:حسن] جو بھی مومن بندہ اپنی موت سے مہینہ بھر پہلے توبہ کر لے اس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے یہاں تک کہ اس کے بعد بھی بلکہ موت سے ایک دن پہلے تک بھی بلکہ ایک سانس پہلے بھی جو بھی اخلاص اور سچائی کے ساتھ اپنے رب کی طرف جھکے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جو مہینہ بھر پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے اور جو ہفتہ بھر پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے اور جو ایک دن پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے، یہ سن کر ایوب رحمہ اللہ نے یہ آیت پڑھی تو آپ نے فرمایا: وہی کہتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ ۱؎ [طیالسی:2284:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ چار صحابی رضی اللہ عنہم جمع ہوئے ان میں سے ایک نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص اپنی موت سے ایک دن پہلے بھی توبہ کر لے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، دوسرے نے پوچھا کیا سچ مچ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سنا ہے؟ اس نے کہا ہاں تو دوسرے نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اگر آدھا دن پہلے بھی توبہ کرلے تو بھی اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے، تیسرے نے کہا تم نے یہ سنا ہے؟ کہا ہاں میں نے خود سنا ہے، کہا میں نے سنا ہے کہ اگر ایک پہر پہلے توبہ نصیب ہو جائے تو وہ بھی قبول ہوتی ہے، چوتھے نے کہا تم نے یہ سنا ہے؟ اس نے کہا ہاں، اس نے کہا میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہاں تک سنا ہے کہ جب تک اس کے نرخرے میں روح نہ آ جائے توبہ کے دروازے اس کے لیے بھی کھلے رہتے ہیں، ۱؎ [مسند احمد:3/:425:ضعیف] ابن مردویہ میں مروی ہے کہ جب تک جان نکلتے ہوئے گلے سے نکلنے والی آواز شروع نہ ہو تب تک توبہ قبول ہے ۱؎، [مسند بزار:3243:ضعیف] کئی ایک مرسل احادیث میں بھی یہ مضمون ہے، ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب ابلیس پر لعنت نازل فرمائی تو اس نے مہلت طلب کی اور کہا تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم کہ ابن آدم کے جسم میں جب تک روح رہے گی میں اس کے دل سے نہ نکلوں گا، اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم کہ میں بھی جب تک اس میں روح رہے گی اس کی توبہ قبول کروں گا، ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:8858] ایک مرفوع حدیث میں بھی اس کے قریب قریب مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:3/29:حسن]
پس ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک بندہ زندہ ہے اور اسے اپنی حیات کی امید ہے تب تک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے، توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اس پر رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے، ہاں جب زندگی سے مایوس ہو جائے فرشتوں کو دیکھ لے اور روح بدن سے نکل کر حلق تک پہنچ جائے سینے میں گھٹن لگے حلق میں اٹکے سانسوں سے غرغرہ شروع ہو تو اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اسی لیے اس کے بعد فرمایا کہ مرتے دم تک جو گناہوں پر اڑا رہے اور موت دیکھ کر کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں تو ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی، جیسے اور جگہ ہے آیت «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ» * «فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] مطلب یہ ہے کہ ہمارے عذابوں کا معائنہ کر لینے کے بعد ایمان کا اقرار کرنا کوئی نفع نہیں دیتا اور جگہ ہے «يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا» ۱؎ [6-الأنعام:158] الخ مطلب یہ ہے کہ جب مخلوق سورج کو مغرب کی طرف سے چڑھتے ہوئے دیکھ لے گی اس وقت جو ایمان لائے یا نیک عمل کرے اسے نہ اس کا عمل نفع دے گا، نہ اس کا ایمان۔ پھر فرماتا ہے کہ کفر و شرک پر مرنے والے کو بھی ندامت و توبہ کوئی فائدہ نہ دے گی نہ ہی اس فدیہ اور بدلہ قبول کیا جائے گا چاہے زمین بھر کر سونا دینا چاہیئے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یہ آیت اہل شرک کے بارے میں نازل ہوئی ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندیکی توبہ قبول کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے جب تک پردہ نہ پڑ جائے پوچھا گیا پردہ پڑنے سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا شرک کی حالت میں جان نکل جانا۔ ۱؎ [مسند احمد:5/174:ضعیف] ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے سخت درد ناک المناک ہمیشہ رہنے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 17) ➊ {اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ:} یہاں { ”عَلَى اللّٰهِ“ } کے معنی یہ ہیں کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے ذمے لے لیا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں ہے۔ (قرطبی) ➋ { ”بِجَهَالَةٍ“ } یعنی اگر کبھی نادانی اور جذبات سے مغلوب ہو کر گناہ کر بھی لیتے ہیں تو { ”مِنْ قَرِيْبٍ“ } یعنی جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو جہالت سے گناہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی جہالت سے گناہ نہ کرے بلکہ دیدہ و دانستہ علم رکھتے ہوئے گناہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہی نہیں۔ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں { ”بِجَهَالَةٍ“ } کی قید احتراز کے لیے نہیں ہے، بلکہ بیان واقعہ کے لیے ہے، یہاں جہالت سے مراد بے خبری اور نا واقفیت نہیں بلکہ بے وقوفی اور سفاہت ہے، کیونکہ ہر گناہ ہوتا ہی جہالت اور بے وقوفی کی وجہ سے ہے۔ گناہ کرنے والا اس کے انجام سے بے پروا ہو کر ہی گناہ کی جرأت کرتا ہے، اگر وہ اس کا انجام پوری طرح اپنی آنکھوں کے سامنے رکھے تو وہ کبھی گناہ کا ارتکاب نہ کر سکے۔ {”مِنْ قَرِيْبٍ“} کا مفہوم یہ ہے کہ موت کے آثار مشاہدہ کرنے سے پہلے پہلے تائب ہو جاتے ہیں۔ ان دو شرطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ (قرطبی، ابن کثیر)
مگر توبہ اُن لوگوں کے لیے نہیں ہے جو برے کام کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت وقت آ جاتا ہے اُس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی، اور اسی طرح توبہ اُن کے لیے بھی نہیں ہے جو مرتے دم تک کافر رہیں ا یسے لوگوں کے لیے تو ہم نے درد ناک سزا تیار کر رکھی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی، اور ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں، یہی لوگ ہیں جن کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب م یں نے توبہ کی اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار رکھا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں کی توبہ (قبول) نہیں ہے۔ جو (زندگی بھر) برائیاں کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے، تو وہ کہتا ہے، اس وقت میں توبہ کرتا ہوں۔ اور نہ ہی ان کے لیے توبہ ہے۔ جو کفر کی حالت میں مرتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور توبہ ان لوگوں کی نہیں جو برے کام کیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجاتی ہے تو وہ کہتا ہے بے شک میں نے اب توبہ کر لی اور نہ ان کی ہے جو اس حال میں مرتے ہیں کہ وہ کافر ہوتے ہیں، یہ لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عالم نزع سے پہلے توبہ؟ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے ان بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو ناواقفیت کی وجہ سے کوئی برا کام کر بیٹھیں پھر توبہ کر لیں گو یہ توبہ فرشتہ موت کو دیکھ لینے کے بعد عالم نزع سے پہلے ہو، مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں جو بھی قصداً یا غلطی سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے وہ جاہل ہے جب تک کہ اس سے باز نہ آ جائے۔ ۱؎ ؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:89/8]
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرمایا کرتے تھے کہ بندہ جو گناہ کرے وہ جہالت ہے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:89/8] قتادہ رحمہ اللہ بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع سے اس طرح کی روایت کرتے ہیں عطاء رحمہ اللہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ توبہ جلدی کر لینے کی تفسیر میں منقول ہے کہ ملک الموت کو دیکھ لینے سے پہلے، عالم سکرات کے قریب مراد ہے، اپنی صحت میں توبہ کر لینی چاہیئے، غر غرے کے وقت سے پہلے کی توبہ قبول ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ساری دنیا قریب ہی ہے، اس کے متعلق حدیثیں سنئیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک سانسوں کا ٹوٹنا شروع نہ ہو“، ۱؎ [سنن ترمذي:3537،قال الشيخ الألباني:حسن] جو بھی مومن بندہ اپنی موت سے مہینہ بھر پہلے توبہ کر لے اس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے یہاں تک کہ اس کے بعد بھی بلکہ موت سے ایک دن پہلے تک بھی بلکہ ایک سانس پہلے بھی جو بھی اخلاص اور سچائی کے ساتھ اپنے رب کی طرف جھکے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جو مہینہ بھر پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے اور جو ہفتہ بھر پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے اور جو ایک دن پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے، یہ سن کر ایوب رحمہ اللہ نے یہ آیت پڑھی تو آپ نے فرمایا: وہی کہتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ ۱؎ [طیالسی:2284:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ چار صحابی رضی اللہ عنہم جمع ہوئے ان میں سے ایک نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص اپنی موت سے ایک دن پہلے بھی توبہ کر لے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، دوسرے نے پوچھا کیا سچ مچ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سنا ہے؟ اس نے کہا ہاں تو دوسرے نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اگر آدھا دن پہلے بھی توبہ کرلے تو بھی اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے، تیسرے نے کہا تم نے یہ سنا ہے؟ کہا ہاں میں نے خود سنا ہے، کہا میں نے سنا ہے کہ اگر ایک پہر پہلے توبہ نصیب ہو جائے تو وہ بھی قبول ہوتی ہے، چوتھے نے کہا تم نے یہ سنا ہے؟ اس نے کہا ہاں، اس نے کہا میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہاں تک سنا ہے کہ جب تک اس کے نرخرے میں روح نہ آ جائے توبہ کے دروازے اس کے لیے بھی کھلے رہتے ہیں، ۱؎ [مسند احمد:3/:425:ضعیف] ابن مردویہ میں مروی ہے کہ جب تک جان نکلتے ہوئے گلے سے نکلنے والی آواز شروع نہ ہو تب تک توبہ قبول ہے ۱؎، [مسند بزار:3243:ضعیف] کئی ایک مرسل احادیث میں بھی یہ مضمون ہے، ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب ابلیس پر لعنت نازل فرمائی تو اس نے مہلت طلب کی اور کہا تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم کہ ابن آدم کے جسم میں جب تک روح رہے گی میں اس کے دل سے نہ نکلوں گا، اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم کہ میں بھی جب تک اس میں روح رہے گی اس کی توبہ قبول کروں گا، ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:8858] ایک مرفوع حدیث میں بھی اس کے قریب قریب مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:3/29:حسن]
پس ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک بندہ زندہ ہے اور اسے اپنی حیات کی امید ہے تب تک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے، توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اس پر رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے، ہاں جب زندگی سے مایوس ہو جائے فرشتوں کو دیکھ لے اور روح بدن سے نکل کر حلق تک پہنچ جائے سینے میں گھٹن لگے حلق میں اٹکے سانسوں سے غرغرہ شروع ہو تو اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اسی لیے اس کے بعد فرمایا کہ مرتے دم تک جو گناہوں پر اڑا رہے اور موت دیکھ کر کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں تو ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی، جیسے اور جگہ ہے آیت «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ» * «فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] مطلب یہ ہے کہ ہمارے عذابوں کا معائنہ کر لینے کے بعد ایمان کا اقرار کرنا کوئی نفع نہیں دیتا اور جگہ ہے «يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا» ۱؎ [6-الأنعام:158] الخ مطلب یہ ہے کہ جب مخلوق سورج کو مغرب کی طرف سے چڑھتے ہوئے دیکھ لے گی اس وقت جو ایمان لائے یا نیک عمل کرے اسے نہ اس کا عمل نفع دے گا، نہ اس کا ایمان۔ پھر فرماتا ہے کہ کفر و شرک پر مرنے والے کو بھی ندامت و توبہ کوئی فائدہ نہ دے گی نہ ہی اس فدیہ اور بدلہ قبول کیا جائے گا چاہے زمین بھر کر سونا دینا چاہیئے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یہ آیت اہل شرک کے بارے میں نازل ہوئی ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندیکی توبہ قبول کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے جب تک پردہ نہ پڑ جائے پوچھا گیا پردہ پڑنے سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا شرک کی حالت میں جان نکل جانا۔ ۱؎ [مسند احمد:5/174:ضعیف] ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے سخت درد ناک المناک ہمیشہ رہنے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔
18۔ 1 اس سے واضح ہے کہ موت کے وقت کی گئی توبہ غیر مقبول ہے، جس طرح کہ حدیث میں بھی آتا ہے اس کی ضروری تفصیل آل عمران کی 90 آیت میں گزر چکی ہے۔
(آیت 18) ➊ {وَ لَيْسَتِ التَّوْبَةُ …:} یعنی ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ کو اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ موت کے وقت اس کی روح حلق تک نہ پہنچ جائے۔“ [ ترمذی، الدعوات، باب إن اللہ یقبل…: ۳۵۳۷، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما وقال الألبانی حسن ] آخری وقت میں تو فرعون نے بھی توبہ کر لی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «آٰلْـٰٔنَ وَ قَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْن» [ یونس: ۹۱ ] ”کیا اب؟ حالانکہ بے شک تو نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں سے تھا۔“ ➋ {وَ لَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ:} یعنی جو لوگ مرتے دم تک کفر و شرک میں مبتلا رہتے ہیں اور موت کے آثار دیکھ کر توبہ کرنا چاہتے ہیں، ان کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ(84) فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِهٖ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ» [ المؤمن: ۸۴، ۸۵ ] ”پھر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو انھوں نے کہا ہم اس اکیلے اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے ان کا انکار کیا جنھیں ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے تھے۔ پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا، جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ یہ اللہ کا طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور اس موقع پر کافر خسارے میں رہے۔“ نیز دیکھیے سورۂ انعام (۱۵۸)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے اُس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو ہاں اگر وہ کسی صریح بد چلنی کی مرتکب ہو ں (تو ضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے) ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اُسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو ورﺛے میں لے بیٹھو انہیں اس لئے روک نہ رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے، اس میں سے کچھ لے لو ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کوئی کھلی برائی اور بے حیائی کریں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیا ئی کا کام کریں اور ان سے اچھا برتاؤ کرو پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! تمہارے لئے حلال نہیں ہے۔ کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور نہ یہ جائز ہے۔ کہ ان پر سختی کرو اور روکے رکھو تاکہ جو کچھ تم نے (جہیز وغیرہ) انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ حصہ لے اڑو مگر یہ کہ وہ صریح بدکاری کا ارتکاب کریں (کہ اس صورت میں سختی جائز ہے) اور عورتوں کے ساتھ عمدہ طریقہ سے زندگی گزارو۔ اور اگر تم انہیں ناپسند کرتے ہو تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو۔ مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمھارے لیے حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جائو اور نہ انھیں اس لیے روک رکھو کہ تم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو، مگر اس صورت میں کہ وہ کھلم کھلا بے حیائی کا ارتکاب کریں اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو، پھر اگر تم انھیں نا پسند کرو تو ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عورت پر ظلم کا خاتمہ ٭٭
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے جاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی ۱؎، [صحیح بخاری:2079] دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہو جائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، ۱؎ [سنن ابوداود:2090،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا، تو ایک روایت میں ہے کہ یہ کپڑا ڈالنے والا اسے حسین پاتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر یہ بدصورت ہوتی تو اسے یونہی روکے رکھتا یہاں تک کہ مر جائے پھر اس کے مال کا وارث بنتا۔ یہ بھی مروی ہے کہ مرنے والے کا کوئی گہرا دوست کپڑا ڈال دیتا۔
پھر اگر وہ عورت کچھ فدیہ اور بدلہ دے تو وہ اسے نکاح کرنے کی اجازت دیتا ورنہ یونہی مر جاتی سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل مدینہ کا یہ دستور تھا کہ وارث اس عورت کے بھی وارث بن جاتے غرض یہ لوگ عورتوں کے ساتھ بڑی بری طرح پیش آتے تھے یہاں تک کہ طلاق دیتے وقت بھی شرط کر لیتے تھے کہ جہاں میں چاہوں تیرا نکاح ہو گا اس طرح کی قید و بند سے رہائی پانے کی پھر یہ صورت ہوتی کہ وہ عورت کچھ دے کر جان چھڑاتی، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس سے منع فرما دیا، ابن مردویہ میں ہے کہ جب ابو قیس بن اسلت کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے نے ان کی بیوی سے نکاح کرنا چاہا جیسے کہ جاہلیت میں یہ دستور تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی بچے کی سنبھال پر اسے لگا دیتے تھے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کوئی مر جاتا تو اس کا لڑکا اس کی بیوی کا زیادہ حقدار سمجھا جاتا اگر چاہتا خود اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کر لیتا اور اگر چاہتا دوسرے کے نکاح میں دے دیتا مثلاً بھائی کے بھتیجے کے یا جس کو چاہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ابو قیس کی جس بیوی کا نام کبیشہ بنت معن رضی اللہ عنہا تھا اس نے اس صورت کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی کہ یہ لوگ نہ مجھے وارثوں میں شمار کر کے میرے خاوند کا ورثہ دیتے ہیں نہ مجھے چھوڑتے ہیں کہ میں اور کہیں اپنا نکاح کر لوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ایک روایت میں ہے کہ کپڑا ڈالنے کی رسم سے پہلے ہی اگر کوئی عورت بھاگ کھڑی ہو اور اپنے میکے آ جائے تو وہ چھوٹ جاتی تھی، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو یتیم بچی ان کی ولایت میں ہوتی اسے یہ روکے رکھتے تھے اس امید پر کہ جب ہماری بیوی مر جائے گی ہم اس سے نکاح کر لیں گے، ان سب اقوال سے معلوم ہوا کہ ان تمام صورتوں کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ممانعت کر دی اور عورتوں کی جان اس مصیبت سے چھڑا دی واللہ اعلم۔ ارشاد ہے عورتوں کی بود و باش میں انہیں تنگ کر کے تکلیف دیدے کر مجبور نہ کرو کہ وہ اپنا سارا مہر چھوڑ دیں یا اس میں سے کچھ چھوڑ دیں یا اپنے کسی اور واجبی حق وغیرہ سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہو جائیں کیونکہ انہیں ستایا اور مجبور کیا جا رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورت ناپسند ہے دل نہیں ملا چھوڑ دینا چاہتا ہے تو اس صورت میں حق مہر کے علاوہ بھی تمام حقوق دینے پڑیں گے اس صورت حال سے بچنے کے لیے اسے ستانا یا طرح طرح سے تنگ کرنا تاکہ وہ خود اپنے حقوق چھوڑ کر چلے جانے پر آمادہ ہو جائے ایسا رویہ اختیار کرنے سے قرآن پاک نے مسلمانوں کو روک دیا۔
ابن سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان دونوں آیتوں میں سے پہلی آیت امر جاہلیت کو ختم کرنے اور دوسری امراسلام کی اصلاح کے لیے نازل ہوئی، ابن مبارک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ مگر اس صورت میں کہ ان سے کھلی بےحیائی کا کام صادر ہو جائے، اس سے مراد بقول اکثر مفسرین صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہ اللہ علیہم وغیرہ زناکاری ہے، یعنی اس صورت میں جائز ہے کہ اس سے مہر لوٹا لینا چاہیئے اور اسے تنگ کرے تاکہ خلع پر رضامند ہو، جیسے سورۃ البقرہ کی آیت میں ہے «وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ» ۱؎ [2-البقرة:229] یعنی تمہیں حلال نہیں کہ تم انہیں دیئے ہوئے میں سے کچھ بھی لے لو مگر اس حالت میں کہ دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو۔ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے «فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» ۱؎ [4-النساء:19] سے مراد خاوند کے خلاف کام کرنا، اس کی نافرمانی کرنا، بدزبانی کج خلقی کرنا، حقوق زوجیت اچھی طرح ادا نہ کرنا وغیرہ ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:117/8] امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت کے الفاظ عام ہیں زنا کو اور تمام مذکورہ عوامل بھی شامل ہیں یعنی ان تمام صورتوں میں خاوند کو مباح ہے کہ اسے تنگ کرے تاکہ وہ اپنا کل حق یا تھوڑا حق چھوڑ دے اور پھر یہ اسے الگ کر دے امام صاحب کا یہ فرمان بہت ہی مناسب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ روایت بھی پہلے گزر چکی ہے کہ یہاں اس آیت کے اترنے کا سبب وہی جاہلیت کی رسم ہے جس سے اللہ نے منع فرما دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا بیان جاہلیت کی رسم کو اسلام میں سے خارج کرنے کے لیے ہوا ہے۔
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مکہ کے قریش میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص نے کسی شریف عورت سے نکاح کیا موافقت نہ ہوئی تو اسے طلاق دے دی لیکن یہ شرط کر لیتا تھا کہ بغیر اس کی اجازت کے یہ دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی اس بات پر گواہ مقرر ہو جاتے اور اقرار نامہ لکھ لیا جاتا اب اگر کہیں سے پیغام آئے اور وہ عورت راضی ہو تو یہ کہتا مجھے اتنی رقم دے تو میں تجھے نکاح کی اجازت دوں گا اگر وہ ادا کر دیتی تو خیر ورنہ یوں نہ اسے قید رکھتا اور دوسرا نکاح نہ کرنے دیتا اس کی ممانعت اس آیت میں نازل ہوئی، بقول مجاہد رحمہ اللہ یہ حکم اور سورۃ البقرہ کی آیت کا حکم دونوں ایک ہی ہیں۔ پھر فرمایا عورتوں کے ساتھ خوش سلوکی کا رویہ رکھو، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ برتو، نرم بات کہو نیک سلوک کرو اپنی حالت بھی اپنی طاقت کے مطابق اچھی رکھو، جیسے تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے لیے بنی سنوری ہوئی اچھی حالت میں رہے تم خود اپنی حالت بھی اچھی رکھو جیسے اور جگہ فرمایا آیت «وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ» ۱؎ [2-البقرة:228] یعنی جیسے تمہارے حقوق ان پر ہیں ان کے حقوق بھی تم پر ہیں۔
بہترین زوج محترم ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرنے والا ہو میں اپنی بیویوں سے بہت اچھا رویہ رکھتا ہوں، ۱؎ [سنن ترمذي:3895،قال الشيخ الألباني:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ بہت لطف و خوشی بہت نرم اخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، انہیں خوش رکھتے تھے ان سے ہنسی دل لگی کی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل اپنی مٹھی میں رکھتے تھے، انہیں اچھی طرح کھانے پینے کو دیتے تھے کشادہ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرتے تھے ایسی خوش طبعی کی باتیں بیان فرماتے جن سے وہ ہنس دیتیں، ایسا بھی ہوا ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ نے دوڑ لگائی اس دوڑ میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے نکل گئیں کچھ مدت بعد پھر دوڑ لگی اب کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پیچھے رہ گئیں تو آپ نے فرمایا ”معاملہ برابر ہو گیا“، ۱؎ [سنن ابوداود:2578،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس سے بھی آپ کا مطلب یہ تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خوش رہیں ان کا دل بہلے جس بیوی صاحبہ کے ہاں آپ کو رات گزارنی ہوتی وہیں آپ کی کل بیویاں جمع ہو جاتیں دو گھڑی بیٹھتیں بات چیت ہوتی۔
کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ان سب کے ساتھ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کا کھانا تناول فرماتے پھر سب اپنے اپنے گھر چلی جاتیں اور آپ وہیں آرام فرماتے جس کی باری ہوتی، اپنی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایک ہی چادر میں سوتے، کرتا نکال ڈالتے صرف تہبند بندھا ہوا ہوتا عشاء کی نماز کے بعد گھر جا کر دو گھڑی ادھر ادھر کی کچھ باتیں کرتے جس سے گھر والیوں کا جی خوش ہوتا الغرض نہایت ہی محبت پیار کے ساتھ اپنی بیویوں کو آپ رکھتے تھے۔ پس مسلمانوں کو بھی چاہیئے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھی طرح راضی خوشی، محبت پیار سے رہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فرماں برداری کا دوسرا نام اچھائی ہے۔ اس کے تفصیلی احکام کی جگہ تفسیر نہیں بلکہ اسی مضمون کی کتابیں ہیں والحمدللہ پھر فرماتا ہے کہ باوجود جی نہ چاہنے کے بھی عورتوں سے اچھی بود و باش رکھنے میں بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بھلائی عطا فرمائے، ممکن ہے نیک اولاد ہو جائے اور اس سے اللہ تعالیٰ بہت سی بھلائیاں نصیب کرے، صحیح حدیث میں ہے مومن مرد مومنہ عورت کو الگ نہ کرے اگر اس کی ایک آدھ بات سے ناراض ہو گا تو ایک آدھ خصلت اچھی بھی ہو گی۔۱؎ [صحیح مسلم:1467]
پھر فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے اس کی جگہ دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہے تو اسے دئے ہوئے مہر میں سے کچھ بھی واپس نہ لے چاہے خزانہ کا خزانہ دیا ہوا ہو۔
حق مہر کے مسائل ٭٭
سورۃ آل عمران کی تفسیر میں «قنطار» کا پورا بیان گزر چکا ہے اس لیے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہر میں بہت سارا مال دینا بھی جائز ہے۔ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پہلے بہت لمبے چوڑے مہر سے منع فرما دیا تھا پھر اپنے قول سے رجوع کیا، جیسے کہ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا: عورتوں کے مہر باندھنے میں زیادتی نہ کرو اگر یہ دنیوی طور پر کوئی بھی چیز ہوتی یا اللہ کے نزدیک یہ تقویٰ کی چیز ہوتی تو تم سب سے پہلے اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عمل کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں کیا (تقریباً سوا سو روپیہ) انسان زیادہ مہر باندھ کر پھر مصیبت میں پڑ جاتا ہے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کی بیوی اسے بوجھ معلوم ہونے لگتی ہے، اور اس کے دل میں اس کی دشمنی بیٹھ جاتی ہے اور کہنے لگتا ہے کہ تو نے تو میرے کندھے پر مشک لٹکا دی، یہ حدیث بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے۔
ایک میں ہے کہ آپ نے منبرنبوی پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”لوگو! تم نے کیوں لمبے چوڑے مہر باندھنے شروع کر دئیے ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے زمانہ کے آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے تو چار سو درہم [ تقریباً سو روپیہ ] مہر باندھا ہے اگر یہ تقویٰ اور کرامت کے زاد ہونے کا سبب ہوتا تو تم زیادہ حق مہر ادا کرنے میں بھی ان پر سبقت نہیں لے سکتے تھے۔ خبردار! آج سے میں نہ سنوں کہ کسی نے چار سو درہم سے زیادہ کا مہر مقرر کیا یہ فرما کر آپ نیچے اتر آئے تو ایک قریشی خاتون سامنے آئیں اور کہنے لگیں امیر المؤمنین کیا آپ نے چار سو درہم سے زیادہ کے حق مہر سے لوگوں کو منع فرما دیا ہے؟ آپ نے فرمایا:ہاں کہا کیا آپ نے اللہ کا کلام جو اس نے نازل فرمایا ہے نہیں سنا؟ کہا وہ کیا؟ کہا سنئیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے «وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا» ۱؎ [4-النساء:20] الخ یعنی تم نے انہیں خزانہ دیا ہو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ مجھے معاف فرما! عمر سے تو ہر شخص زیادہ سمجھدار ہے“، پھر واپس اسی وقت منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے فرمایا: لوگو! میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ کے مہر سے روک دیا تھا لیکن اب کہتا ہوں جو شخص اپنے مال میں سے مہر میں جتنا چاہے دے اپنی خوشی سے جتنا مہر مقرر کرنا چاہے کرے میں نہیں روکتا۔ ۱؎ [ضعیف: اس کی سند میں مجالد بن سعید راوی ضعیف ہے] اور ایک روایت میں اس عورت کا آیت کو اس طرح پڑھنا مروی ہے «وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا مِن ذھب» سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں بھی اسی طرح ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا بھی مروی ہے کہ ایک عورت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر غالب آ گئی۔ ۱؎ [عبدالرزاق:10420:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا گو «ذی القصہ» یعنی یزیدین حصین حارثی کی بیٹی ہو پھر بھی مہر اس کا زیادہ مقرر نہ کرو اور اگر تم نے ایسا کیا تو وہ زائد رقم میں بیت المال کے لیے لے لوں گا اس پر ایک دراز قد چوڑی ناک والی عورت نے کہا سیدنا آپ یہ حکم نہیں دے سکتے۔ ۱؎ (ضعیف: اس میں مصعب بن ثابت راوی ضعیف ہے)۔
پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم اپنی بیوی کو دیا ہوا حق مہر واپس کیسے لے سکتے ہو؟ جبکہ تم نے اس سے فائدہ اٹھایا یا ضرورت پوری کی وہ تم سے اور تم اس سے مل گئی یعنی میاں بیوی کے تعلقات بھی قائم ہو گئے، بخاری و مسلم کی اس حدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔ بیوی نے بھی اپنے بےگناہ ہونے کی، شوہر نے اپنے سچا ہونے کی قسم کھائی پھر ان دونوں کا قسمیں کھانا اور اس کے بعد آپ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ تم دونوں میں سے کون جھوٹا ہے؟ کیا تم میں سے کوئی اب بھی توبہ کرتا ہے؟ تین دفعہ فرمایا تو اس مرد نے کہا میں نے جو مال اس کے مہر میں دیا ہے اس کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اسی کے بدلے تو یہ تیرے لیے حلال ہوئی تھیں اب اگر تو نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو پھر اور ناممکن بات ہو گی ۱؎ [صحیح بخاری:5311] اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا بصرہ بن اکثم رضی اللہ عنہ نے ایک کنواری لڑکی سے نکاح کیا جب اس سے ملے تو دیکھا کہ اسے زنا کا حمل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے اسے الگ کرا دیا اور مہر دلوا دیا اور عورت کو کوڑے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا جو بچہ ہو گا وہ تیرا غلام ہو گا اور مہر تو اس کی حلت کا سبب تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2131،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
غرض آیت کا مطلب بھی یہی ہے کہ عورت اس کے بیٹے پر حرام ہو جاتی ہے اس پر اجماع ہے، سیدنا ابو قیس رضی اللہ عنہ جو بڑے بزرگ اور نیک انصاری صحابی تھے ان کے انتقال کے بعد ان کے لڑکے قیس نے ان کی بیوی سے نکاح کی خواہش کی جو ان کی سوتیلی ماں تھیں اس پر اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بیشک تو اپنی قوم میں نیک ہے لیکن میں تو تجھے اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں خیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتی ہوں جو وہ حکم فرمائیں وہ حاضر ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری کیفیت بیان کی آپ نے فرمایا اپنے گھر لوٹ جاؤ پھر یہ آیت اتری کہ ‘جس سے باپ نے نکاح کیا اس سے بیٹے کا نکاح حرام ہے،۱؎ [بیہقی:7/161:ضعیف] ایسے واقعات اور بھی اس وقت موجود تھے جنہیں اس ارادے سے باز رکھا گیا ایک تو یہی ابو قیس والا واقعہ ان بیوی صاحبہ کا نام سیدہ ام عبیداللہ ضمرہ رضی اللہ عنہا تھا۔
دوسرا واقعہ خلف کا تھا ان کے گھر میں ابوطلحہ کی صاحبزادی تھیں اس کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے صفوان نے اسے اپنے نکاح میں لانا چاہا تھا سہیلی میں لکھا ہے جاہلیت میں اس نکاح کا معمول تھا جسے باقاعدہ نکاح سمجھا جاتا تھا اور بالکل حلال گنا جاتا تھا اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ جو پہلے گزر چکا سو گزر چکا، جیسے دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کو بیان فرما کر بھی یہی کیا گیا کنانہ بن خزیمہ نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا نضر اسی کے بطن سے پیدا ہوا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میری اوپر کی نسل بھی باقاعدہ نکاح سے ہی ہے نہ کہ زنا سے تو معلوم ہوا کہ یہ رسم ان میں برابر جاری تھی اور جائز تھی اور اسے نکاح شمار کرتے تھے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جاہلیت والے بھی جن جن رشتوں کو اللہ نے حرام کیا ہے، سوتیلی ماں اور دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کے سوا سب کو حرام ہی جانتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ان دونوں رشتوں کو بھی حرام ٹھہرایا عطاء اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ یاد رہے کہ سہیلی نے کنانہ کا جو واقعہ نقل کیا ہے وہ غور طلب ہے بالکل صحیح نہیں، واللہ اعلم۔ بہر صورت یہ رشتہ امت مسلمہ پر حرام ہے اور نہایت قبیح امر ہے۔ یہاں تک کہ فرمایا یہ نہایت فحش برا کام بغض کا ہے۔
پھر فرمایا کہ عقد نکاح جو مضبوط عہد و پیمان ہے اس میں تم جکڑے جا چکے ہو، اللہ کا یہ فرمان تم سن چکے ہو کہ بساؤ تو اچھی طرح اور الگ کرو تو عمدہ طریقہ سے چنانچہ حدیث میں بھی ہے کہ تم ان عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیتے ہو اور ان کو اپنے لیے اللہ تعالیٰ کا کلمہ پڑھ کر یعنی نکاح کے خطبہ تشہد سے حلال کرتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج والی رات جب بہترین انعامات عطا ہوئے، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ آپ سے فرمایا گیا تیری امت کا کوئی خطبہ جائز نہیں جب تک وہ اس امر کی گواہی نہ دیں کہ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے [ ابن ابی حاتم ]
نکاح کے احکامات ٭٭
صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا تم نے عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے کلمہ سے اپنے لیے حلال کیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سوتیلی ماؤں کی حرمت بیان فرماتا ہے اور ان کی تعظیم اور توقیر ظاہر کرتا ہے یہاں تک کہ باپ نے کسی عورت سے صرف نکاح کیا ابھی وہ رخصت ہو کر بھی نہیں آئی مگر طلاق ہو گئی یا باپ مر گیا وغیرہ تو بھی وہ سبب اور برا راستہ ہے۔ اور جگہ فرمایا ہے «وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ» ۱؎ [6-الأنعام:151] یعنی ’ کسی برائی بےحیائی اور فحش کام کے قریب بھی نہ جاؤ یا وہ بالکل ظاہر ہو خواہ پوشیدہ ہو ‘۔ اور فرمان ہے «وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَآءَ سَبِيلاً» ۱؎ [17-الإسراء:32] یعنی ’ زنا کے قریب نہ جاؤ یقیناً وہ فحش کام اور بری راہ ہے ‘۔ یہاں مزید فرمایا کہ یہ کام بڑے بغض کا بھی ہے یعنی فی نفسہ بھی بڑا برا امر ہے اس سے باپ بیٹے میں عداوت پڑ جاتی ہے اور دشمنی قائم ہو جاتی ہے، یہی مشاہدہ میں آیا ہے اور عموماً یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جو شخص کسی عورت سے دوسرا نکاح کرتا ہے وہ اس کے پہلے خاوند سے بغض ہی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن قرار دے گئیں اور امت پر مثل ماں کے حرام کی گئیں کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں اور آپ مثل باپ کے ہیں، بلکہ اجماعاً ثابت ہے کہ آپ کے حق باپ دادا کے حقوق سے بھی بہت زیادہ اور بہت بڑے ہیں بلکہ آپ کی محبت خود اپنی جانوں کی محبت پر بھی مقدم ہے صلوات اللہ وسلامہ علیہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کام اللہ کے بغض کا موجب ہے اور برا راستہ ہے اب جو ایسا کام کرے وہ دین سے مرتد ہے اسے قتل کر دیا جائے اور اس کا مال بیت المال میں بطور فئی کے داخل کر لیا جائے، سنن اور مسند احمد میں مروی ہے کہ ایک صحابی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے باپ کے بعد نکاح کیا تھا کہ اسے قتل کر ڈالو اور اس کے مال پر قبضہ کر لو۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1362،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے چچا سیدنا حارث بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا جھنڈا لے کر میرے پاس سے گزرے میں نے پوچھا کہ چچا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کہاں بھیجا ہے؟ فرمایا:اس شخص کی طرف جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے مجھے حکم ہے کہ میں اس کی گردن ماروں۔ ۱؎ [مسند احمد:4/292]
سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے ٭٭
اس پر تو علماء کا اجماع ہے کہ جس عورت سے باپ نے مباشرت کر لی خواہ نکاح کر کے، خواہ ملکیت میں لا کر، خواہ شبہ سے وہ عورت بیٹے پر حرام ہے، ہاں اگر جماع نہ ہوا ہو تو صرف مباشرت ہوئی ہو یا وہ اعضاء دیکھے ہوں جن کا دیکھنا اجنبی ہونے کی صورت میں حلال نہ تھا تو اس میں اختلاف ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ تو اس صورت میں بھی اس عورت کو لڑکے پر حرام بتاتے ہیں، حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ کے اس واقعہ سے بھی اس روایت کی تصدیق ہوتی ہے کہ خدیج حمصی رحمہ اللہ نے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے ایک لونڈی خریدی جو گورے رنگ کی اور خوبصورت تھی اسے برہنہ ان کے پاس بھیج دیا ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس سے اشارہ کر کے کہنے لگے اچھا نفع تھا اگر یہ ملبوس ہوتی پھر کہنے لگے اسے سیدنا یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ پھر کہا نہیں نہیں ٹھہرو ربیعہ بن عمرو جرشی رحمہ اللہ کو میرے پاس بلا لاؤ یہ بڑے فقیہ تھے جب آئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ میں نے اس عورت کے یہ اعضاء مخصوص دیکھے ہیں، یہ برہنہ تھی۔ اب میں اسے اپنے لڑکے یزید کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں تو کیا اس کے لیے یہ حلال ہے؟ ربیعہ نے فرمایا امیر المؤمنین ایسا نہ کیجئے یہ اس کے قابل نہیں رہی فرمایا تم ٹھیک کہتے ہو اچھا جاؤ سیدنا عبداللہ بن مسعدہ فزاری رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ وہ آئے وہ تو گندم گوں رنگ کے تھے اس سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس لونڈی کو میں تمہیں دیتا ہوں تاکہ تمہاری اولاد سفید رنگ پیدا ہو یہ سیدنا عبداللہ بن مسعدہ رضی اللہ عنہ وہ ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیا تھا آپ نے انہیں پالا پرورش کیا پھر اللہ تعالیٰ کے نام سے آزاد کر دیا پھر یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے آئے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:142/8]
19۔ 1 اسلام سے قبل عورت پر ایک ظلم بھی ہوتا تھا کہ شوہر کے مرجانے کے بعد اس کے گھر کے لوگ اس کے مال کی طرح اس کی عورت کے بھی زبردستی وارث بن بیٹھتے تھے اور خود اپنی مرضی سے، اس کی رضامندی کے بغیر اس سے نکاح کرلیتے یا اپنے بھائی بھتیجے سے اس کا نکاح کردیتے، حتی کہ سوتیلا بیٹا تک بھی مرنے والے باپ کی عورت سے نکاح کرلیتا اور اگر چاہتے تو کسی اور جگہ نکاح نہ کرنے دیتے تھے۔ اور ساری عمر یونہی رہنے پر مجبور ہوتی اسلام نے ظلم کے ان تمام طریقوں سے منع فرمایا۔ 19۔ 2 ایک ظلم یہ بھی کیا جاتا تھا کہ اگر خاوند کو پسند نہ ہوتی اور وہ اس سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتا تو از خود اس کو طلاق نہ دیتا بلکہ اسے خوب تنگ کرتا تاکہ وہ مجبور ہو کر حق مہر جو خاوند نے اسے دیا ہوتا، از خود واپس کر کے اس سے خلاصی پانے کو ترجیح دیتی، اسلام نے اس حرکت کو بھی ظلم قرار دیا۔ 19۔ 3 کھلی برائی سے مراد بدکاری یا بدزبانی اور نافرمانی ہے ان دونوں صورتوں میں اجازت دی گئی ہے کہ خاوند اس کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرے کہ وہ اس کا دیا ہوا حق مہر واپس کرکے خلع کرانے پر مجبور ہوجائے، جیسا کہ خلع کی صورت میں حق مہر واپس لینے کا حق دیا گیا ہے (ملاحظہ ہو سورة بقرہ آیت نمبر 229) 19۔ 4 یہ بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کا وہ حکم ہے، جس کی قرآن نے بڑی تاکید کی ہے اور احادیث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی وضاحت کی ہے کہ مومن مرد (شوہر (مومنہ عورت (بیوی) سے بغض نہ رکھے۔ اگر اس کی ایک عادت اسے پسند ہے تو اسکی دوسری عادت بھی پسندیدہ ہوگی، عورتوں پر ظلم کرنے اور بچوں کی زندگیاں خراب کرنے کے لئے۔ علاوہ ازیں اس طرح یہ اسلام کی بدنامی کا بھی باعث بنتے ہیں کہ اسلام نے مرد کو طلاق کا حق دے کر عورت پر ظلم کرنے کا اختیار اسے دے دیا۔ یوں یہ اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی کو خرابی اور ظلم باور کرایا جاتا ہے۔
(آیت 19) ➊ {لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا:} زنا وغیرہ کے سلسلہ میں ضمناً توبہ کے احکام بیان فرمانے کے بعد اب یہاں سے پھر عورتوں کے حقوق کا بیان ہو رہا ہے اور اس سے مقصد عورتوں کو اس ظلم وزیادتی سے نجات دلانا ہے جو جاہلیت میں ان پر روا رکھی جاتی تھی۔ اس کے مخاطب یا تو شوہر کے اولیاء ہیں، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ اور دوسرے محدثین نے اس آیت کی شان نزول میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں میت کے اولیاء دوسری چیزوں کی طرح اس کی بیوی کے بھی مالک ہوتے تھے، ان میں سے اگر کوئی چاہتا تو خود اس سے شادی کر لیتا، یا کسی دوسرے سے شادی کر دیتے(اور مہر خود لے لیتے) اور اگر چاہتے تو عورت کو کلیتاً شادی ہی سے روک دیتے(حتیٰ کہ وہ مر جاتی اور اس کے مال کے وارث خود بن جاتے) عورت کے اولیاء کو اس سلسلہ میں کوئی اختیار نہ ہوتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور عورت پر ان کے تسلط کو ختم کر دیا۔ [ بخاری، التفسیر، باب: «لا یحل لکم …» : ۴۵۷۹ ] اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے مخاطب شوہر ہوں، چنانچہ بعض علماء نے اس کی شان نزول میں لکھا ہے کہ وہ عورتوں کو طلاق نہ دیتے بلکہ تنگ کرتے رہتے، تاکہ اگر مر جائیں تو ان کے وارث بن جائیں اور اگر طلاق لینا چاہیں تو جو کچھ انھیں دیا ہے اس میں سے کچھ واپس کریں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پہلی صورت میں اس کا حاصل یہ ہے کہ خاوند کے مرنے کے بعد اسے نکاح سے روکنا جائز نہیں، بلکہ وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے اور خاوند کے اولیاء اس طرح زبردستی اس کے وارث نہیں بن سکتے۔ دوسری صورت میں، یعنی جب شوہر مخاطب ہوں، تو خلاصہ یہ ہو گا کہ شوہر کے لیے جائز نہیں کہ عورت سے مہر واپس لینے کی غرض سے اسے تنگ کرتا رہے اور طلاق نہ دے، حتیٰ کہ وہ خلع پر مجبور ہو جائے۔ یہ دوسری صورت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اور ابن عطیہ وغیرہ نے اسی کو پسند کیا ہے، اس لیے کہ آیت کے بقیہ حصے کا تعلق بلا شک و شبہ شوہروں ہی کے ساتھ ہے، کیونکہ واضح بے حیائی کے ارتکاب کی صورت میں خاوند ہی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اسے روک رکھے، تاکہ اسے مہر وغیرہ، جو کچھ دیا ہے، واپس لے کر طلاق دے، شوہر کے اولیاء کو یہ اختیار نہیں ہے۔ (فتح القدیر، قرطبی) اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خطاب عام مسلمانوں سے ہو، جس میں شوہر، میت کے اولیاء اور دوسرے مسلمان سبھی آ جاتے ہوں۔ (فتح القدیر) ➋ {اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ:} ابن کثیر رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما، عکرمہ اور ضحاک رحمھما اللہ نے {”بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ“} سے مراد سرکشی اور نافرمانی لی ہے، مگر ابن جریر رحمہ اللہ نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اسے عام رکھا جائے اور یہ فحش کلامی، بد خلقی، ایذا رسانی، زنا اور اس قسم کے جملہ رذائل کو شامل ہو اور مطلب یہ ہو گا کہ اگر زیادتی عورت کی طرف سے ہو تو تم اسے خلع لینے پر مجبور کر سکتے ہو، تاکہ وہ لیا ہوا مال واپس کر دے۔ ➌ {وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ:} یہ عورتوں سے متعلق تیسرا حکم ہے کہ ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِيْ ] [ ابن ماجہ، النکاح، باب حسن معاشرۃ النساء: ۱۹۷۷، عن ابن عباس رضی اللہ عنہما۔ ترمذی: ۳۸۹۵۔ الصحیحۃ: ۲۸۵ ] ”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترہے اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔“ ➍ {فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى …:} یہ بھی ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنے کی بات کی تکمیل ہے، یعنی اگر کسی اخلاقی کمزوری یا بد صورت ہونے کی وجہ سے تمھیں ان سے نفرت ہو جائے اور ان کو طلاق دینا چاہو تو بھی فوراً طلاق نہ دو، بلکہ بہتر طریقے سے انھیں اپنے پاس رکھو، ہو سکتا ہے کہ ان کی صحبت سے خیر کثیر، یعنی صالح اولاد حاصل ہو جائے یا مال میں برکت ہو جائے اور تمھاری نفرت محبت میں تبدیل ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مومن اپنی مومنہ بیوی سے بغض نہ رکھے، اگر اسے اس کی کوئی ایک عادت ناپسند ہو گی تو دوسری پسند بھی ہو گی۔“ [ مسلم، الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء: ۱۴۶۷، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر نفرت کے سبب تم ان سے علیحدگی اختیار کرنا چاہو تو ہو سکتا ہے کہ اس علیحدگی میں ان کے لیے خیر کثیر مضمر ہو، مثلاً ان کو بہتر خاوند مل جائے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۳۰)۔
اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کر لو تو خواہ تم نے اُسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا کیا تم اُسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لو گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا ہی چاہو اور ان میں سے کسی کو تم نے خزانہ کا خزانہ دے رکھا ہو، تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناه ہوتے ہوئے بھی لے لو گے، تم اسے کیسے لے لو گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو کیا اسے واپس لو گے جھوٹ باندھ کر اور کھلے گناہ سے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تم ایک بیوی کو بدل کر اس کی جگہ دوسری لانا چاہو اور تم ان میں سے ایک کو (جسے فارغ کرنا چاہتے ہو) بہت سا مال دے چکے ہو۔ تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو کیا تم جھوٹا الزام لگا کر اور صریح گناہ کرکے (واپس) لینا چاہتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تم کسی بیوی کی جگہ اور بیوی بدل کر لانے کا ارادہ کرو اور تم ان میں سے کسی کو ایک خزانہ دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو، کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح گناہ کر کے لو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عورت پر ظلم کا خاتمہ ٭٭
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے جاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی ۱؎، [صحیح بخاری:2079] دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہو جائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، ۱؎ [سنن ابوداود:2090،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا، تو ایک روایت میں ہے کہ یہ کپڑا ڈالنے والا اسے حسین پاتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر یہ بدصورت ہوتی تو اسے یونہی روکے رکھتا یہاں تک کہ مر جائے پھر اس کے مال کا وارث بنتا۔ یہ بھی مروی ہے کہ مرنے والے کا کوئی گہرا دوست کپڑا ڈال دیتا۔
پھر اگر وہ عورت کچھ فدیہ اور بدلہ دے تو وہ اسے نکاح کرنے کی اجازت دیتا ورنہ یونہی مر جاتی سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل مدینہ کا یہ دستور تھا کہ وارث اس عورت کے بھی وارث بن جاتے غرض یہ لوگ عورتوں کے ساتھ بڑی بری طرح پیش آتے تھے یہاں تک کہ طلاق دیتے وقت بھی شرط کر لیتے تھے کہ جہاں میں چاہوں تیرا نکاح ہو گا اس طرح کی قید و بند سے رہائی پانے کی پھر یہ صورت ہوتی کہ وہ عورت کچھ دے کر جان چھڑاتی، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس سے منع فرما دیا، ابن مردویہ میں ہے کہ جب ابو قیس بن اسلت کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے نے ان کی بیوی سے نکاح کرنا چاہا جیسے کہ جاہلیت میں یہ دستور تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی بچے کی سنبھال پر اسے لگا دیتے تھے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کوئی مر جاتا تو اس کا لڑکا اس کی بیوی کا زیادہ حقدار سمجھا جاتا اگر چاہتا خود اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کر لیتا اور اگر چاہتا دوسرے کے نکاح میں دے دیتا مثلاً بھائی کے بھتیجے کے یا جس کو چاہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ابو قیس کی جس بیوی کا نام کبیشہ بنت معن رضی اللہ عنہا تھا اس نے اس صورت کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی کہ یہ لوگ نہ مجھے وارثوں میں شمار کر کے میرے خاوند کا ورثہ دیتے ہیں نہ مجھے چھوڑتے ہیں کہ میں اور کہیں اپنا نکاح کر لوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ایک روایت میں ہے کہ کپڑا ڈالنے کی رسم سے پہلے ہی اگر کوئی عورت بھاگ کھڑی ہو اور اپنے میکے آ جائے تو وہ چھوٹ جاتی تھی، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو یتیم بچی ان کی ولایت میں ہوتی اسے یہ روکے رکھتے تھے اس امید پر کہ جب ہماری بیوی مر جائے گی ہم اس سے نکاح کر لیں گے، ان سب اقوال سے معلوم ہوا کہ ان تمام صورتوں کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ممانعت کر دی اور عورتوں کی جان اس مصیبت سے چھڑا دی واللہ اعلم۔ ارشاد ہے عورتوں کی بود و باش میں انہیں تنگ کر کے تکلیف دیدے کر مجبور نہ کرو کہ وہ اپنا سارا مہر چھوڑ دیں یا اس میں سے کچھ چھوڑ دیں یا اپنے کسی اور واجبی حق وغیرہ سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہو جائیں کیونکہ انہیں ستایا اور مجبور کیا جا رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورت ناپسند ہے دل نہیں ملا چھوڑ دینا چاہتا ہے تو اس صورت میں حق مہر کے علاوہ بھی تمام حقوق دینے پڑیں گے اس صورت حال سے بچنے کے لیے اسے ستانا یا طرح طرح سے تنگ کرنا تاکہ وہ خود اپنے حقوق چھوڑ کر چلے جانے پر آمادہ ہو جائے ایسا رویہ اختیار کرنے سے قرآن پاک نے مسلمانوں کو روک دیا۔
ابن سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان دونوں آیتوں میں سے پہلی آیت امر جاہلیت کو ختم کرنے اور دوسری امراسلام کی اصلاح کے لیے نازل ہوئی، ابن مبارک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ مگر اس صورت میں کہ ان سے کھلی بےحیائی کا کام صادر ہو جائے، اس سے مراد بقول اکثر مفسرین صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہ اللہ علیہم وغیرہ زناکاری ہے، یعنی اس صورت میں جائز ہے کہ اس سے مہر لوٹا لینا چاہیئے اور اسے تنگ کرے تاکہ خلع پر رضامند ہو، جیسے سورۃ البقرہ کی آیت میں ہے «وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ» ۱؎ [2-البقرة:229] یعنی تمہیں حلال نہیں کہ تم انہیں دیئے ہوئے میں سے کچھ بھی لے لو مگر اس حالت میں کہ دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو۔ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے «فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» ۱؎ [4-النساء:19] سے مراد خاوند کے خلاف کام کرنا، اس کی نافرمانی کرنا، بدزبانی کج خلقی کرنا، حقوق زوجیت اچھی طرح ادا نہ کرنا وغیرہ ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:117/8] امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت کے الفاظ عام ہیں زنا کو اور تمام مذکورہ عوامل بھی شامل ہیں یعنی ان تمام صورتوں میں خاوند کو مباح ہے کہ اسے تنگ کرے تاکہ وہ اپنا کل حق یا تھوڑا حق چھوڑ دے اور پھر یہ اسے الگ کر دے امام صاحب کا یہ فرمان بہت ہی مناسب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ روایت بھی پہلے گزر چکی ہے کہ یہاں اس آیت کے اترنے کا سبب وہی جاہلیت کی رسم ہے جس سے اللہ نے منع فرما دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا بیان جاہلیت کی رسم کو اسلام میں سے خارج کرنے کے لیے ہوا ہے۔
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مکہ کے قریش میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص نے کسی شریف عورت سے نکاح کیا موافقت نہ ہوئی تو اسے طلاق دے دی لیکن یہ شرط کر لیتا تھا کہ بغیر اس کی اجازت کے یہ دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی اس بات پر گواہ مقرر ہو جاتے اور اقرار نامہ لکھ لیا جاتا اب اگر کہیں سے پیغام آئے اور وہ عورت راضی ہو تو یہ کہتا مجھے اتنی رقم دے تو میں تجھے نکاح کی اجازت دوں گا اگر وہ ادا کر دیتی تو خیر ورنہ یوں نہ اسے قید رکھتا اور دوسرا نکاح نہ کرنے دیتا اس کی ممانعت اس آیت میں نازل ہوئی، بقول مجاہد رحمہ اللہ یہ حکم اور سورۃ البقرہ کی آیت کا حکم دونوں ایک ہی ہیں۔ پھر فرمایا عورتوں کے ساتھ خوش سلوکی کا رویہ رکھو، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ برتو، نرم بات کہو نیک سلوک کرو اپنی حالت بھی اپنی طاقت کے مطابق اچھی رکھو، جیسے تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے لیے بنی سنوری ہوئی اچھی حالت میں رہے تم خود اپنی حالت بھی اچھی رکھو جیسے اور جگہ فرمایا آیت «وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ» ۱؎ [2-البقرة:228] یعنی جیسے تمہارے حقوق ان پر ہیں ان کے حقوق بھی تم پر ہیں۔
بہترین زوج محترم ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرنے والا ہو میں اپنی بیویوں سے بہت اچھا رویہ رکھتا ہوں، ۱؎ [سنن ترمذي:3895،قال الشيخ الألباني:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ بہت لطف و خوشی بہت نرم اخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، انہیں خوش رکھتے تھے ان سے ہنسی دل لگی کی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل اپنی مٹھی میں رکھتے تھے، انہیں اچھی طرح کھانے پینے کو دیتے تھے کشادہ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرتے تھے ایسی خوش طبعی کی باتیں بیان فرماتے جن سے وہ ہنس دیتیں، ایسا بھی ہوا ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ نے دوڑ لگائی اس دوڑ میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے نکل گئیں کچھ مدت بعد پھر دوڑ لگی اب کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پیچھے رہ گئیں تو آپ نے فرمایا ”معاملہ برابر ہو گیا“، ۱؎ [سنن ابوداود:2578،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس سے بھی آپ کا مطلب یہ تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خوش رہیں ان کا دل بہلے جس بیوی صاحبہ کے ہاں آپ کو رات گزارنی ہوتی وہیں آپ کی کل بیویاں جمع ہو جاتیں دو گھڑی بیٹھتیں بات چیت ہوتی۔
کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ان سب کے ساتھ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کا کھانا تناول فرماتے پھر سب اپنے اپنے گھر چلی جاتیں اور آپ وہیں آرام فرماتے جس کی باری ہوتی، اپنی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایک ہی چادر میں سوتے، کرتا نکال ڈالتے صرف تہبند بندھا ہوا ہوتا عشاء کی نماز کے بعد گھر جا کر دو گھڑی ادھر ادھر کی کچھ باتیں کرتے جس سے گھر والیوں کا جی خوش ہوتا الغرض نہایت ہی محبت پیار کے ساتھ اپنی بیویوں کو آپ رکھتے تھے۔ پس مسلمانوں کو بھی چاہیئے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھی طرح راضی خوشی، محبت پیار سے رہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فرماں برداری کا دوسرا نام اچھائی ہے۔ اس کے تفصیلی احکام کی جگہ تفسیر نہیں بلکہ اسی مضمون کی کتابیں ہیں والحمدللہ پھر فرماتا ہے کہ باوجود جی نہ چاہنے کے بھی عورتوں سے اچھی بود و باش رکھنے میں بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بھلائی عطا فرمائے، ممکن ہے نیک اولاد ہو جائے اور اس سے اللہ تعالیٰ بہت سی بھلائیاں نصیب کرے، صحیح حدیث میں ہے مومن مرد مومنہ عورت کو الگ نہ کرے اگر اس کی ایک آدھ بات سے ناراض ہو گا تو ایک آدھ خصلت اچھی بھی ہو گی۔۱؎ [صحیح مسلم:1467]
پھر فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے اس کی جگہ دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہے تو اسے دئے ہوئے مہر میں سے کچھ بھی واپس نہ لے چاہے خزانہ کا خزانہ دیا ہوا ہو۔
حق مہر کے مسائل ٭٭
سورۃ آل عمران کی تفسیر میں «قنطار» کا پورا بیان گزر چکا ہے اس لیے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہر میں بہت سارا مال دینا بھی جائز ہے۔ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پہلے بہت لمبے چوڑے مہر سے منع فرما دیا تھا پھر اپنے قول سے رجوع کیا، جیسے کہ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا: عورتوں کے مہر باندھنے میں زیادتی نہ کرو اگر یہ دنیوی طور پر کوئی بھی چیز ہوتی یا اللہ کے نزدیک یہ تقویٰ کی چیز ہوتی تو تم سب سے پہلے اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عمل کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں کیا (تقریباً سوا سو روپیہ) انسان زیادہ مہر باندھ کر پھر مصیبت میں پڑ جاتا ہے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کی بیوی اسے بوجھ معلوم ہونے لگتی ہے، اور اس کے دل میں اس کی دشمنی بیٹھ جاتی ہے اور کہنے لگتا ہے کہ تو نے تو میرے کندھے پر مشک لٹکا دی، یہ حدیث بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے۔
ایک میں ہے کہ آپ نے منبرنبوی پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”لوگو! تم نے کیوں لمبے چوڑے مہر باندھنے شروع کر دئیے ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے زمانہ کے آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے تو چار سو درہم [ تقریباً سو روپیہ ] مہر باندھا ہے اگر یہ تقویٰ اور کرامت کے زاد ہونے کا سبب ہوتا تو تم زیادہ حق مہر ادا کرنے میں بھی ان پر سبقت نہیں لے سکتے تھے۔ خبردار! آج سے میں نہ سنوں کہ کسی نے چار سو درہم سے زیادہ کا مہر مقرر کیا یہ فرما کر آپ نیچے اتر آئے تو ایک قریشی خاتون سامنے آئیں اور کہنے لگیں امیر المؤمنین کیا آپ نے چار سو درہم سے زیادہ کے حق مہر سے لوگوں کو منع فرما دیا ہے؟ آپ نے فرمایا:ہاں کہا کیا آپ نے اللہ کا کلام جو اس نے نازل فرمایا ہے نہیں سنا؟ کہا وہ کیا؟ کہا سنئیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے «وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا» ۱؎ [4-النساء:20] الخ یعنی تم نے انہیں خزانہ دیا ہو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ مجھے معاف فرما! عمر سے تو ہر شخص زیادہ سمجھدار ہے“، پھر واپس اسی وقت منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے فرمایا: لوگو! میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ کے مہر سے روک دیا تھا لیکن اب کہتا ہوں جو شخص اپنے مال میں سے مہر میں جتنا چاہے دے اپنی خوشی سے جتنا مہر مقرر کرنا چاہے کرے میں نہیں روکتا۔ ۱؎ [ضعیف: اس کی سند میں مجالد بن سعید راوی ضعیف ہے] اور ایک روایت میں اس عورت کا آیت کو اس طرح پڑھنا مروی ہے «وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا مِن ذھب» سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں بھی اسی طرح ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا بھی مروی ہے کہ ایک عورت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر غالب آ گئی۔ ۱؎ [عبدالرزاق:10420:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا گو «ذی القصہ» یعنی یزیدین حصین حارثی کی بیٹی ہو پھر بھی مہر اس کا زیادہ مقرر نہ کرو اور اگر تم نے ایسا کیا تو وہ زائد رقم میں بیت المال کے لیے لے لوں گا اس پر ایک دراز قد چوڑی ناک والی عورت نے کہا سیدنا آپ یہ حکم نہیں دے سکتے۔ ۱؎ (ضعیف: اس میں مصعب بن ثابت راوی ضعیف ہے)۔
پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم اپنی بیوی کو دیا ہوا حق مہر واپس کیسے لے سکتے ہو؟ جبکہ تم نے اس سے فائدہ اٹھایا یا ضرورت پوری کی وہ تم سے اور تم اس سے مل گئی یعنی میاں بیوی کے تعلقات بھی قائم ہو گئے، بخاری و مسلم کی اس حدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔ بیوی نے بھی اپنے بےگناہ ہونے کی، شوہر نے اپنے سچا ہونے کی قسم کھائی پھر ان دونوں کا قسمیں کھانا اور اس کے بعد آپ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ تم دونوں میں سے کون جھوٹا ہے؟ کیا تم میں سے کوئی اب بھی توبہ کرتا ہے؟ تین دفعہ فرمایا تو اس مرد نے کہا میں نے جو مال اس کے مہر میں دیا ہے اس کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اسی کے بدلے تو یہ تیرے لیے حلال ہوئی تھیں اب اگر تو نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو پھر اور ناممکن بات ہو گی ۱؎ [صحیح بخاری:5311] اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا بصرہ بن اکثم رضی اللہ عنہ نے ایک کنواری لڑکی سے نکاح کیا جب اس سے ملے تو دیکھا کہ اسے زنا کا حمل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے اسے الگ کرا دیا اور مہر دلوا دیا اور عورت کو کوڑے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا جو بچہ ہو گا وہ تیرا غلام ہو گا اور مہر تو اس کی حلت کا سبب تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2131،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
غرض آیت کا مطلب بھی یہی ہے کہ عورت اس کے بیٹے پر حرام ہو جاتی ہے اس پر اجماع ہے، سیدنا ابو قیس رضی اللہ عنہ جو بڑے بزرگ اور نیک انصاری صحابی تھے ان کے انتقال کے بعد ان کے لڑکے قیس نے ان کی بیوی سے نکاح کی خواہش کی جو ان کی سوتیلی ماں تھیں اس پر اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بیشک تو اپنی قوم میں نیک ہے لیکن میں تو تجھے اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں خیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتی ہوں جو وہ حکم فرمائیں وہ حاضر ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری کیفیت بیان کی آپ نے فرمایا اپنے گھر لوٹ جاؤ پھر یہ آیت اتری کہ ‘جس سے باپ نے نکاح کیا اس سے بیٹے کا نکاح حرام ہے،۱؎ [بیہقی:7/161:ضعیف] ایسے واقعات اور بھی اس وقت موجود تھے جنہیں اس ارادے سے باز رکھا گیا ایک تو یہی ابو قیس والا واقعہ ان بیوی صاحبہ کا نام سیدہ ام عبیداللہ ضمرہ رضی اللہ عنہا تھا۔
دوسرا واقعہ خلف کا تھا ان کے گھر میں ابوطلحہ کی صاحبزادی تھیں اس کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے صفوان نے اسے اپنے نکاح میں لانا چاہا تھا سہیلی میں لکھا ہے جاہلیت میں اس نکاح کا معمول تھا جسے باقاعدہ نکاح سمجھا جاتا تھا اور بالکل حلال گنا جاتا تھا اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ جو پہلے گزر چکا سو گزر چکا، جیسے دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کو بیان فرما کر بھی یہی کیا گیا کنانہ بن خزیمہ نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا نضر اسی کے بطن سے پیدا ہوا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میری اوپر کی نسل بھی باقاعدہ نکاح سے ہی ہے نہ کہ زنا سے تو معلوم ہوا کہ یہ رسم ان میں برابر جاری تھی اور جائز تھی اور اسے نکاح شمار کرتے تھے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جاہلیت والے بھی جن جن رشتوں کو اللہ نے حرام کیا ہے، سوتیلی ماں اور دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کے سوا سب کو حرام ہی جانتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ان دونوں رشتوں کو بھی حرام ٹھہرایا عطاء اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ یاد رہے کہ سہیلی نے کنانہ کا جو واقعہ نقل کیا ہے وہ غور طلب ہے بالکل صحیح نہیں، واللہ اعلم۔ بہر صورت یہ رشتہ امت مسلمہ پر حرام ہے اور نہایت قبیح امر ہے۔ یہاں تک کہ فرمایا یہ نہایت فحش برا کام بغض کا ہے۔
پھر فرمایا کہ عقد نکاح جو مضبوط عہد و پیمان ہے اس میں تم جکڑے جا چکے ہو، اللہ کا یہ فرمان تم سن چکے ہو کہ بساؤ تو اچھی طرح اور الگ کرو تو عمدہ طریقہ سے چنانچہ حدیث میں بھی ہے کہ تم ان عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیتے ہو اور ان کو اپنے لیے اللہ تعالیٰ کا کلمہ پڑھ کر یعنی نکاح کے خطبہ تشہد سے حلال کرتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج والی رات جب بہترین انعامات عطا ہوئے، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ آپ سے فرمایا گیا تیری امت کا کوئی خطبہ جائز نہیں جب تک وہ اس امر کی گواہی نہ دیں کہ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے [ ابن ابی حاتم ]
نکاح کے احکامات ٭٭
صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا تم نے عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے کلمہ سے اپنے لیے حلال کیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سوتیلی ماؤں کی حرمت بیان فرماتا ہے اور ان کی تعظیم اور توقیر ظاہر کرتا ہے یہاں تک کہ باپ نے کسی عورت سے صرف نکاح کیا ابھی وہ رخصت ہو کر بھی نہیں آئی مگر طلاق ہو گئی یا باپ مر گیا وغیرہ تو بھی وہ سبب اور برا راستہ ہے۔ اور جگہ فرمایا ہے «وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ» ۱؎ [6-الأنعام:151] یعنی ’ کسی برائی بےحیائی اور فحش کام کے قریب بھی نہ جاؤ یا وہ بالکل ظاہر ہو خواہ پوشیدہ ہو ‘۔ اور فرمان ہے «وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَآءَ سَبِيلاً» ۱؎ [17-الإسراء:32] یعنی ’ زنا کے قریب نہ جاؤ یقیناً وہ فحش کام اور بری راہ ہے ‘۔ یہاں مزید فرمایا کہ یہ کام بڑے بغض کا بھی ہے یعنی فی نفسہ بھی بڑا برا امر ہے اس سے باپ بیٹے میں عداوت پڑ جاتی ہے اور دشمنی قائم ہو جاتی ہے، یہی مشاہدہ میں آیا ہے اور عموماً یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جو شخص کسی عورت سے دوسرا نکاح کرتا ہے وہ اس کے پہلے خاوند سے بغض ہی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن قرار دے گئیں اور امت پر مثل ماں کے حرام کی گئیں کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں اور آپ مثل باپ کے ہیں، بلکہ اجماعاً ثابت ہے کہ آپ کے حق باپ دادا کے حقوق سے بھی بہت زیادہ اور بہت بڑے ہیں بلکہ آپ کی محبت خود اپنی جانوں کی محبت پر بھی مقدم ہے صلوات اللہ وسلامہ علیہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کام اللہ کے بغض کا موجب ہے اور برا راستہ ہے اب جو ایسا کام کرے وہ دین سے مرتد ہے اسے قتل کر دیا جائے اور اس کا مال بیت المال میں بطور فئی کے داخل کر لیا جائے، سنن اور مسند احمد میں مروی ہے کہ ایک صحابی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے باپ کے بعد نکاح کیا تھا کہ اسے قتل کر ڈالو اور اس کے مال پر قبضہ کر لو۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1362،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے چچا سیدنا حارث بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا جھنڈا لے کر میرے پاس سے گزرے میں نے پوچھا کہ چچا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کہاں بھیجا ہے؟ فرمایا:اس شخص کی طرف جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے مجھے حکم ہے کہ میں اس کی گردن ماروں۔ ۱؎ [مسند احمد:4/292]
سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے ٭٭
اس پر تو علماء کا اجماع ہے کہ جس عورت سے باپ نے مباشرت کر لی خواہ نکاح کر کے، خواہ ملکیت میں لا کر، خواہ شبہ سے وہ عورت بیٹے پر حرام ہے، ہاں اگر جماع نہ ہوا ہو تو صرف مباشرت ہوئی ہو یا وہ اعضاء دیکھے ہوں جن کا دیکھنا اجنبی ہونے کی صورت میں حلال نہ تھا تو اس میں اختلاف ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ تو اس صورت میں بھی اس عورت کو لڑکے پر حرام بتاتے ہیں، حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ کے اس واقعہ سے بھی اس روایت کی تصدیق ہوتی ہے کہ خدیج حمصی رحمہ اللہ نے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے ایک لونڈی خریدی جو گورے رنگ کی اور خوبصورت تھی اسے برہنہ ان کے پاس بھیج دیا ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس سے اشارہ کر کے کہنے لگے اچھا نفع تھا اگر یہ ملبوس ہوتی پھر کہنے لگے اسے سیدنا یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ پھر کہا نہیں نہیں ٹھہرو ربیعہ بن عمرو جرشی رحمہ اللہ کو میرے پاس بلا لاؤ یہ بڑے فقیہ تھے جب آئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ میں نے اس عورت کے یہ اعضاء مخصوص دیکھے ہیں، یہ برہنہ تھی۔ اب میں اسے اپنے لڑکے یزید کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں تو کیا اس کے لیے یہ حلال ہے؟ ربیعہ نے فرمایا امیر المؤمنین ایسا نہ کیجئے یہ اس کے قابل نہیں رہی فرمایا تم ٹھیک کہتے ہو اچھا جاؤ سیدنا عبداللہ بن مسعدہ فزاری رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ وہ آئے وہ تو گندم گوں رنگ کے تھے اس سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس لونڈی کو میں تمہیں دیتا ہوں تاکہ تمہاری اولاد سفید رنگ پیدا ہو یہ سیدنا عبداللہ بن مسعدہ رضی اللہ عنہ وہ ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیا تھا آپ نے انہیں پالا پرورش کیا پھر اللہ تعالیٰ کے نام سے آزاد کر دیا پھر یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے آئے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:142/8]
20۔ 1 خود طلاق دینے کی صورت میں حق مہر واپس لینے سے نہایت سختی سے روک دیا گیا ہے، یعنی کتنا بھی حق مہر دیا ہو واپس نہیں لے سکتے۔ اگر ایسا کرو گے تو یہ ظلم (بہتان) اور کھلا گناہ ہے۔
(آیت 21،20) ➊ {وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ …:} یہ عورتوں سے متعلق چوتھا حکم ہے۔ جب پہلی آیات میں بیان فرمایا کہ اگر صحیح طریقے سے ساتھ نہ رہنے کی وجہ عورت کی جانب سے ہو تو مہر واپس لینے کے لیے اسے تنگ کرنا جائز ہے، یہاں بتایا کہ جب زیادتی شوہر کی جانب سے ہو تو پھر عورت سے فدیۂ طلاق لینا ممنوع اور حرام ہے۔ یعنی بلاوجہ تنگ کر کے ان سے مہر واپس لو گے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی بہتان باندھ کر مہر واپس لے رہا ہے اور اس صورت میں تم ان پر دوہرا ظلم کرو گے، ایک بلاوجہ تنگ کرنا اور دوسرا مہر واپس لینا، اس لیے اسے {”اِثْمًا مُّبِيْنًا“} فرمایا۔ ➋ {وَ اٰتَيْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ مہر کی کوئی حد معین نہیں ہے، خاوند اپنی حیثیت کے مطابق جتنا مہر دینا چاہے دے سکتا ہے۔ اس مقام پر امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مہر زیادہ رکھنے سے منع کرنے پر ایک عورت کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے جس نے زیادہ مہر کے جواز کے لیے یہ آیت پڑھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عمر سے ہر شخص زیادہ سمجھ دار ہے اور اس سے کئی دشمنان صحابہ عمر رضی اللہ عنہ پر طعن کرتے ہیں۔ عورت کا واقعہ کسی صحیح سند سے ثابت نہیں، تفصیل کے لیے دیکھیں ارواء الغلیل (۱۹۲۷)۔ ➌ {وَ كَيْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى …:} اس سے معلوم ہوا کہ جماع کے بعد دیا ہوا مہر واپس نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ آپ نے لعان کرنے والے مرد کے مہر واپس لینے کے مطالبے پر فرمایا تھا: ”اگر تم نے اپنی بیوی پر زنا کی بات سچ کہی ہے تو مہر اس کے عوض ہے جو تم نے اس کی شرم گاہ اپنے لیے حلال کی اور اگر اس پر جھوٹ کہا ہے تو پھر تو (مہر کی واپسی) زیادہ ہی بعید ہے۔“ [ بخاری، الطلاق، باب قول الإمام للمتلاعنین… ۵۳۱۲۔ مسلم: ۵؍۱۴۹۳، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما ] ➍ {وَ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا:} ” پختہ عہد“ سے مراد عقد نکاح ہے، یعنی تمھارا یہ کہنا کہ میں نے فلاں عورت سے نکاح قبول کیا۔ اب طلاق کی صورت میں دو ہی راستے ہیں: «فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ» [ البقرۃ: ۲۲۹ ] اور ظاہر ہے کہ طلاق دے کر مہر نہ دینا ان دونوں میں سے ایک بھی نہیں۔
اور آخر تم اُسے کس طرح لے لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے لطف اندو ز ہو چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
حاﻻنکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور ان عورتوں نے تم سے مضبوط عہد وپیمان لے رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور بھلا تم وہ (مال) کیسے واپس لے سکتے ہو۔ جبکہ تم (مقاربت کرکے) ایک دوسرے سے لطف اندوز ہو چکے ہو؟ اور وہ تم سے پختہ عہد و پیمان لی چکی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور تم اسے کیسے لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے صحبت کر چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عورت پر ظلم کا خاتمہ ٭٭
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے جاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی ۱؎، [صحیح بخاری:2079] دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہو جائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، ۱؎ [سنن ابوداود:2090،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا، تو ایک روایت میں ہے کہ یہ کپڑا ڈالنے والا اسے حسین پاتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر یہ بدصورت ہوتی تو اسے یونہی روکے رکھتا یہاں تک کہ مر جائے پھر اس کے مال کا وارث بنتا۔ یہ بھی مروی ہے کہ مرنے والے کا کوئی گہرا دوست کپڑا ڈال دیتا۔
پھر اگر وہ عورت کچھ فدیہ اور بدلہ دے تو وہ اسے نکاح کرنے کی اجازت دیتا ورنہ یونہی مر جاتی سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل مدینہ کا یہ دستور تھا کہ وارث اس عورت کے بھی وارث بن جاتے غرض یہ لوگ عورتوں کے ساتھ بڑی بری طرح پیش آتے تھے یہاں تک کہ طلاق دیتے وقت بھی شرط کر لیتے تھے کہ جہاں میں چاہوں تیرا نکاح ہو گا اس طرح کی قید و بند سے رہائی پانے کی پھر یہ صورت ہوتی کہ وہ عورت کچھ دے کر جان چھڑاتی، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس سے منع فرما دیا، ابن مردویہ میں ہے کہ جب ابو قیس بن اسلت کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے نے ان کی بیوی سے نکاح کرنا چاہا جیسے کہ جاہلیت میں یہ دستور تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی بچے کی سنبھال پر اسے لگا دیتے تھے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کوئی مر جاتا تو اس کا لڑکا اس کی بیوی کا زیادہ حقدار سمجھا جاتا اگر چاہتا خود اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کر لیتا اور اگر چاہتا دوسرے کے نکاح میں دے دیتا مثلاً بھائی کے بھتیجے کے یا جس کو چاہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ابو قیس کی جس بیوی کا نام کبیشہ بنت معن رضی اللہ عنہا تھا اس نے اس صورت کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی کہ یہ لوگ نہ مجھے وارثوں میں شمار کر کے میرے خاوند کا ورثہ دیتے ہیں نہ مجھے چھوڑتے ہیں کہ میں اور کہیں اپنا نکاح کر لوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ایک روایت میں ہے کہ کپڑا ڈالنے کی رسم سے پہلے ہی اگر کوئی عورت بھاگ کھڑی ہو اور اپنے میکے آ جائے تو وہ چھوٹ جاتی تھی، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو یتیم بچی ان کی ولایت میں ہوتی اسے یہ روکے رکھتے تھے اس امید پر کہ جب ہماری بیوی مر جائے گی ہم اس سے نکاح کر لیں گے، ان سب اقوال سے معلوم ہوا کہ ان تمام صورتوں کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ممانعت کر دی اور عورتوں کی جان اس مصیبت سے چھڑا دی واللہ اعلم۔ ارشاد ہے عورتوں کی بود و باش میں انہیں تنگ کر کے تکلیف دیدے کر مجبور نہ کرو کہ وہ اپنا سارا مہر چھوڑ دیں یا اس میں سے کچھ چھوڑ دیں یا اپنے کسی اور واجبی حق وغیرہ سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہو جائیں کیونکہ انہیں ستایا اور مجبور کیا جا رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورت ناپسند ہے دل نہیں ملا چھوڑ دینا چاہتا ہے تو اس صورت میں حق مہر کے علاوہ بھی تمام حقوق دینے پڑیں گے اس صورت حال سے بچنے کے لیے اسے ستانا یا طرح طرح سے تنگ کرنا تاکہ وہ خود اپنے حقوق چھوڑ کر چلے جانے پر آمادہ ہو جائے ایسا رویہ اختیار کرنے سے قرآن پاک نے مسلمانوں کو روک دیا۔
ابن سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان دونوں آیتوں میں سے پہلی آیت امر جاہلیت کو ختم کرنے اور دوسری امراسلام کی اصلاح کے لیے نازل ہوئی، ابن مبارک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ مگر اس صورت میں کہ ان سے کھلی بےحیائی کا کام صادر ہو جائے، اس سے مراد بقول اکثر مفسرین صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہ اللہ علیہم وغیرہ زناکاری ہے، یعنی اس صورت میں جائز ہے کہ اس سے مہر لوٹا لینا چاہیئے اور اسے تنگ کرے تاکہ خلع پر رضامند ہو، جیسے سورۃ البقرہ کی آیت میں ہے «وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ» ۱؎ [2-البقرة:229] یعنی تمہیں حلال نہیں کہ تم انہیں دیئے ہوئے میں سے کچھ بھی لے لو مگر اس حالت میں کہ دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو۔ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے «فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» ۱؎ [4-النساء:19] سے مراد خاوند کے خلاف کام کرنا، اس کی نافرمانی کرنا، بدزبانی کج خلقی کرنا، حقوق زوجیت اچھی طرح ادا نہ کرنا وغیرہ ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:117/8] امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت کے الفاظ عام ہیں زنا کو اور تمام مذکورہ عوامل بھی شامل ہیں یعنی ان تمام صورتوں میں خاوند کو مباح ہے کہ اسے تنگ کرے تاکہ وہ اپنا کل حق یا تھوڑا حق چھوڑ دے اور پھر یہ اسے الگ کر دے امام صاحب کا یہ فرمان بہت ہی مناسب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ روایت بھی پہلے گزر چکی ہے کہ یہاں اس آیت کے اترنے کا سبب وہی جاہلیت کی رسم ہے جس سے اللہ نے منع فرما دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا بیان جاہلیت کی رسم کو اسلام میں سے خارج کرنے کے لیے ہوا ہے۔
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مکہ کے قریش میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص نے کسی شریف عورت سے نکاح کیا موافقت نہ ہوئی تو اسے طلاق دے دی لیکن یہ شرط کر لیتا تھا کہ بغیر اس کی اجازت کے یہ دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی اس بات پر گواہ مقرر ہو جاتے اور اقرار نامہ لکھ لیا جاتا اب اگر کہیں سے پیغام آئے اور وہ عورت راضی ہو تو یہ کہتا مجھے اتنی رقم دے تو میں تجھے نکاح کی اجازت دوں گا اگر وہ ادا کر دیتی تو خیر ورنہ یوں نہ اسے قید رکھتا اور دوسرا نکاح نہ کرنے دیتا اس کی ممانعت اس آیت میں نازل ہوئی، بقول مجاہد رحمہ اللہ یہ حکم اور سورۃ البقرہ کی آیت کا حکم دونوں ایک ہی ہیں۔ پھر فرمایا عورتوں کے ساتھ خوش سلوکی کا رویہ رکھو، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ برتو، نرم بات کہو نیک سلوک کرو اپنی حالت بھی اپنی طاقت کے مطابق اچھی رکھو، جیسے تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے لیے بنی سنوری ہوئی اچھی حالت میں رہے تم خود اپنی حالت بھی اچھی رکھو جیسے اور جگہ فرمایا آیت «وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ» ۱؎ [2-البقرة:228] یعنی جیسے تمہارے حقوق ان پر ہیں ان کے حقوق بھی تم پر ہیں۔
بہترین زوج محترم ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرنے والا ہو میں اپنی بیویوں سے بہت اچھا رویہ رکھتا ہوں، ۱؎ [سنن ترمذي:3895،قال الشيخ الألباني:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ بہت لطف و خوشی بہت نرم اخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، انہیں خوش رکھتے تھے ان سے ہنسی دل لگی کی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل اپنی مٹھی میں رکھتے تھے، انہیں اچھی طرح کھانے پینے کو دیتے تھے کشادہ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرتے تھے ایسی خوش طبعی کی باتیں بیان فرماتے جن سے وہ ہنس دیتیں، ایسا بھی ہوا ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ نے دوڑ لگائی اس دوڑ میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے نکل گئیں کچھ مدت بعد پھر دوڑ لگی اب کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پیچھے رہ گئیں تو آپ نے فرمایا ”معاملہ برابر ہو گیا“، ۱؎ [سنن ابوداود:2578،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس سے بھی آپ کا مطلب یہ تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خوش رہیں ان کا دل بہلے جس بیوی صاحبہ کے ہاں آپ کو رات گزارنی ہوتی وہیں آپ کی کل بیویاں جمع ہو جاتیں دو گھڑی بیٹھتیں بات چیت ہوتی۔
کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ان سب کے ساتھ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کا کھانا تناول فرماتے پھر سب اپنے اپنے گھر چلی جاتیں اور آپ وہیں آرام فرماتے جس کی باری ہوتی، اپنی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایک ہی چادر میں سوتے، کرتا نکال ڈالتے صرف تہبند بندھا ہوا ہوتا عشاء کی نماز کے بعد گھر جا کر دو گھڑی ادھر ادھر کی کچھ باتیں کرتے جس سے گھر والیوں کا جی خوش ہوتا الغرض نہایت ہی محبت پیار کے ساتھ اپنی بیویوں کو آپ رکھتے تھے۔ پس مسلمانوں کو بھی چاہیئے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھی طرح راضی خوشی، محبت پیار سے رہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فرماں برداری کا دوسرا نام اچھائی ہے۔ اس کے تفصیلی احکام کی جگہ تفسیر نہیں بلکہ اسی مضمون کی کتابیں ہیں والحمدللہ پھر فرماتا ہے کہ باوجود جی نہ چاہنے کے بھی عورتوں سے اچھی بود و باش رکھنے میں بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بھلائی عطا فرمائے، ممکن ہے نیک اولاد ہو جائے اور اس سے اللہ تعالیٰ بہت سی بھلائیاں نصیب کرے، صحیح حدیث میں ہے مومن مرد مومنہ عورت کو الگ نہ کرے اگر اس کی ایک آدھ بات سے ناراض ہو گا تو ایک آدھ خصلت اچھی بھی ہو گی۔۱؎ [صحیح مسلم:1467]
پھر فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے اس کی جگہ دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہے تو اسے دئے ہوئے مہر میں سے کچھ بھی واپس نہ لے چاہے خزانہ کا خزانہ دیا ہوا ہو۔
حق مہر کے مسائل ٭٭
سورۃ آل عمران کی تفسیر میں «قنطار» کا پورا بیان گزر چکا ہے اس لیے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہر میں بہت سارا مال دینا بھی جائز ہے۔ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پہلے بہت لمبے چوڑے مہر سے منع فرما دیا تھا پھر اپنے قول سے رجوع کیا، جیسے کہ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا: عورتوں کے مہر باندھنے میں زیادتی نہ کرو اگر یہ دنیوی طور پر کوئی بھی چیز ہوتی یا اللہ کے نزدیک یہ تقویٰ کی چیز ہوتی تو تم سب سے پہلے اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عمل کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں کیا (تقریباً سوا سو روپیہ) انسان زیادہ مہر باندھ کر پھر مصیبت میں پڑ جاتا ہے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کی بیوی اسے بوجھ معلوم ہونے لگتی ہے، اور اس کے دل میں اس کی دشمنی بیٹھ جاتی ہے اور کہنے لگتا ہے کہ تو نے تو میرے کندھے پر مشک لٹکا دی، یہ حدیث بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے۔
ایک میں ہے کہ آپ نے منبرنبوی پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”لوگو! تم نے کیوں لمبے چوڑے مہر باندھنے شروع کر دئیے ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے زمانہ کے آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے تو چار سو درہم [ تقریباً سو روپیہ ] مہر باندھا ہے اگر یہ تقویٰ اور کرامت کے زاد ہونے کا سبب ہوتا تو تم زیادہ حق مہر ادا کرنے میں بھی ان پر سبقت نہیں لے سکتے تھے۔ خبردار! آج سے میں نہ سنوں کہ کسی نے چار سو درہم سے زیادہ کا مہر مقرر کیا یہ فرما کر آپ نیچے اتر آئے تو ایک قریشی خاتون سامنے آئیں اور کہنے لگیں امیر المؤمنین کیا آپ نے چار سو درہم سے زیادہ کے حق مہر سے لوگوں کو منع فرما دیا ہے؟ آپ نے فرمایا:ہاں کہا کیا آپ نے اللہ کا کلام جو اس نے نازل فرمایا ہے نہیں سنا؟ کہا وہ کیا؟ کہا سنئیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے «وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا» ۱؎ [4-النساء:20] الخ یعنی تم نے انہیں خزانہ دیا ہو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ مجھے معاف فرما! عمر سے تو ہر شخص زیادہ سمجھدار ہے“، پھر واپس اسی وقت منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے فرمایا: لوگو! میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ کے مہر سے روک دیا تھا لیکن اب کہتا ہوں جو شخص اپنے مال میں سے مہر میں جتنا چاہے دے اپنی خوشی سے جتنا مہر مقرر کرنا چاہے کرے میں نہیں روکتا۔ ۱؎ [ضعیف: اس کی سند میں مجالد بن سعید راوی ضعیف ہے] اور ایک روایت میں اس عورت کا آیت کو اس طرح پڑھنا مروی ہے «وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا مِن ذھب» سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں بھی اسی طرح ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا بھی مروی ہے کہ ایک عورت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر غالب آ گئی۔ ۱؎ [عبدالرزاق:10420:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا گو «ذی القصہ» یعنی یزیدین حصین حارثی کی بیٹی ہو پھر بھی مہر اس کا زیادہ مقرر نہ کرو اور اگر تم نے ایسا کیا تو وہ زائد رقم میں بیت المال کے لیے لے لوں گا اس پر ایک دراز قد چوڑی ناک والی عورت نے کہا سیدنا آپ یہ حکم نہیں دے سکتے۔ ۱؎ (ضعیف: اس میں مصعب بن ثابت راوی ضعیف ہے)۔
پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم اپنی بیوی کو دیا ہوا حق مہر واپس کیسے لے سکتے ہو؟ جبکہ تم نے اس سے فائدہ اٹھایا یا ضرورت پوری کی وہ تم سے اور تم اس سے مل گئی یعنی میاں بیوی کے تعلقات بھی قائم ہو گئے، بخاری و مسلم کی اس حدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔ بیوی نے بھی اپنے بےگناہ ہونے کی، شوہر نے اپنے سچا ہونے کی قسم کھائی پھر ان دونوں کا قسمیں کھانا اور اس کے بعد آپ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ تم دونوں میں سے کون جھوٹا ہے؟ کیا تم میں سے کوئی اب بھی توبہ کرتا ہے؟ تین دفعہ فرمایا تو اس مرد نے کہا میں نے جو مال اس کے مہر میں دیا ہے اس کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اسی کے بدلے تو یہ تیرے لیے حلال ہوئی تھیں اب اگر تو نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو پھر اور ناممکن بات ہو گی ۱؎ [صحیح بخاری:5311] اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا بصرہ بن اکثم رضی اللہ عنہ نے ایک کنواری لڑکی سے نکاح کیا جب اس سے ملے تو دیکھا کہ اسے زنا کا حمل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے اسے الگ کرا دیا اور مہر دلوا دیا اور عورت کو کوڑے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا جو بچہ ہو گا وہ تیرا غلام ہو گا اور مہر تو اس کی حلت کا سبب تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2131،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
غرض آیت کا مطلب بھی یہی ہے کہ عورت اس کے بیٹے پر حرام ہو جاتی ہے اس پر اجماع ہے، سیدنا ابو قیس رضی اللہ عنہ جو بڑے بزرگ اور نیک انصاری صحابی تھے ان کے انتقال کے بعد ان کے لڑکے قیس نے ان کی بیوی سے نکاح کی خواہش کی جو ان کی سوتیلی ماں تھیں اس پر اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بیشک تو اپنی قوم میں نیک ہے لیکن میں تو تجھے اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں خیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتی ہوں جو وہ حکم فرمائیں وہ حاضر ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری کیفیت بیان کی آپ نے فرمایا اپنے گھر لوٹ جاؤ پھر یہ آیت اتری کہ ‘جس سے باپ نے نکاح کیا اس سے بیٹے کا نکاح حرام ہے،۱؎ [بیہقی:7/161:ضعیف] ایسے واقعات اور بھی اس وقت موجود تھے جنہیں اس ارادے سے باز رکھا گیا ایک تو یہی ابو قیس والا واقعہ ان بیوی صاحبہ کا نام سیدہ ام عبیداللہ ضمرہ رضی اللہ عنہا تھا۔
دوسرا واقعہ خلف کا تھا ان کے گھر میں ابوطلحہ کی صاحبزادی تھیں اس کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے صفوان نے اسے اپنے نکاح میں لانا چاہا تھا سہیلی میں لکھا ہے جاہلیت میں اس نکاح کا معمول تھا جسے باقاعدہ نکاح سمجھا جاتا تھا اور بالکل حلال گنا جاتا تھا اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ جو پہلے گزر چکا سو گزر چکا، جیسے دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کو بیان فرما کر بھی یہی کیا گیا کنانہ بن خزیمہ نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا نضر اسی کے بطن سے پیدا ہوا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میری اوپر کی نسل بھی باقاعدہ نکاح سے ہی ہے نہ کہ زنا سے تو معلوم ہوا کہ یہ رسم ان میں برابر جاری تھی اور جائز تھی اور اسے نکاح شمار کرتے تھے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جاہلیت والے بھی جن جن رشتوں کو اللہ نے حرام کیا ہے، سوتیلی ماں اور دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کے سوا سب کو حرام ہی جانتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ان دونوں رشتوں کو بھی حرام ٹھہرایا عطاء اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ یاد رہے کہ سہیلی نے کنانہ کا جو واقعہ نقل کیا ہے وہ غور طلب ہے بالکل صحیح نہیں، واللہ اعلم۔ بہر صورت یہ رشتہ امت مسلمہ پر حرام ہے اور نہایت قبیح امر ہے۔ یہاں تک کہ فرمایا یہ نہایت فحش برا کام بغض کا ہے۔
پھر فرمایا کہ عقد نکاح جو مضبوط عہد و پیمان ہے اس میں تم جکڑے جا چکے ہو، اللہ کا یہ فرمان تم سن چکے ہو کہ بساؤ تو اچھی طرح اور الگ کرو تو عمدہ طریقہ سے چنانچہ حدیث میں بھی ہے کہ تم ان عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیتے ہو اور ان کو اپنے لیے اللہ تعالیٰ کا کلمہ پڑھ کر یعنی نکاح کے خطبہ تشہد سے حلال کرتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج والی رات جب بہترین انعامات عطا ہوئے، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ آپ سے فرمایا گیا تیری امت کا کوئی خطبہ جائز نہیں جب تک وہ اس امر کی گواہی نہ دیں کہ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے [ ابن ابی حاتم ]
نکاح کے احکامات ٭٭
صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا تم نے عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے کلمہ سے اپنے لیے حلال کیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سوتیلی ماؤں کی حرمت بیان فرماتا ہے اور ان کی تعظیم اور توقیر ظاہر کرتا ہے یہاں تک کہ باپ نے کسی عورت سے صرف نکاح کیا ابھی وہ رخصت ہو کر بھی نہیں آئی مگر طلاق ہو گئی یا باپ مر گیا وغیرہ تو بھی وہ سبب اور برا راستہ ہے۔ اور جگہ فرمایا ہے «وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ» ۱؎ [6-الأنعام:151] یعنی ’ کسی برائی بےحیائی اور فحش کام کے قریب بھی نہ جاؤ یا وہ بالکل ظاہر ہو خواہ پوشیدہ ہو ‘۔ اور فرمان ہے «وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَآءَ سَبِيلاً» ۱؎ [17-الإسراء:32] یعنی ’ زنا کے قریب نہ جاؤ یقیناً وہ فحش کام اور بری راہ ہے ‘۔ یہاں مزید فرمایا کہ یہ کام بڑے بغض کا بھی ہے یعنی فی نفسہ بھی بڑا برا امر ہے اس سے باپ بیٹے میں عداوت پڑ جاتی ہے اور دشمنی قائم ہو جاتی ہے، یہی مشاہدہ میں آیا ہے اور عموماً یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جو شخص کسی عورت سے دوسرا نکاح کرتا ہے وہ اس کے پہلے خاوند سے بغض ہی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن قرار دے گئیں اور امت پر مثل ماں کے حرام کی گئیں کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں اور آپ مثل باپ کے ہیں، بلکہ اجماعاً ثابت ہے کہ آپ کے حق باپ دادا کے حقوق سے بھی بہت زیادہ اور بہت بڑے ہیں بلکہ آپ کی محبت خود اپنی جانوں کی محبت پر بھی مقدم ہے صلوات اللہ وسلامہ علیہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کام اللہ کے بغض کا موجب ہے اور برا راستہ ہے اب جو ایسا کام کرے وہ دین سے مرتد ہے اسے قتل کر دیا جائے اور اس کا مال بیت المال میں بطور فئی کے داخل کر لیا جائے، سنن اور مسند احمد میں مروی ہے کہ ایک صحابی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے باپ کے بعد نکاح کیا تھا کہ اسے قتل کر ڈالو اور اس کے مال پر قبضہ کر لو۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1362،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے چچا سیدنا حارث بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا جھنڈا لے کر میرے پاس سے گزرے میں نے پوچھا کہ چچا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کہاں بھیجا ہے؟ فرمایا:اس شخص کی طرف جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے مجھے حکم ہے کہ میں اس کی گردن ماروں۔ ۱؎ [مسند احمد:4/292]
سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے ٭٭
اس پر تو علماء کا اجماع ہے کہ جس عورت سے باپ نے مباشرت کر لی خواہ نکاح کر کے، خواہ ملکیت میں لا کر، خواہ شبہ سے وہ عورت بیٹے پر حرام ہے، ہاں اگر جماع نہ ہوا ہو تو صرف مباشرت ہوئی ہو یا وہ اعضاء دیکھے ہوں جن کا دیکھنا اجنبی ہونے کی صورت میں حلال نہ تھا تو اس میں اختلاف ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ تو اس صورت میں بھی اس عورت کو لڑکے پر حرام بتاتے ہیں، حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ کے اس واقعہ سے بھی اس روایت کی تصدیق ہوتی ہے کہ خدیج حمصی رحمہ اللہ نے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے ایک لونڈی خریدی جو گورے رنگ کی اور خوبصورت تھی اسے برہنہ ان کے پاس بھیج دیا ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس سے اشارہ کر کے کہنے لگے اچھا نفع تھا اگر یہ ملبوس ہوتی پھر کہنے لگے اسے سیدنا یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ پھر کہا نہیں نہیں ٹھہرو ربیعہ بن عمرو جرشی رحمہ اللہ کو میرے پاس بلا لاؤ یہ بڑے فقیہ تھے جب آئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ میں نے اس عورت کے یہ اعضاء مخصوص دیکھے ہیں، یہ برہنہ تھی۔ اب میں اسے اپنے لڑکے یزید کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں تو کیا اس کے لیے یہ حلال ہے؟ ربیعہ نے فرمایا امیر المؤمنین ایسا نہ کیجئے یہ اس کے قابل نہیں رہی فرمایا تم ٹھیک کہتے ہو اچھا جاؤ سیدنا عبداللہ بن مسعدہ فزاری رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ وہ آئے وہ تو گندم گوں رنگ کے تھے اس سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس لونڈی کو میں تمہیں دیتا ہوں تاکہ تمہاری اولاد سفید رنگ پیدا ہو یہ سیدنا عبداللہ بن مسعدہ رضی اللہ عنہ وہ ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیا تھا آپ نے انہیں پالا پرورش کیا پھر اللہ تعالیٰ کے نام سے آزاد کر دیا پھر یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے آئے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:142/8]
21۔ 1 ' ایک دوسرے سے مل چکے ہو ' کا مطلب ہم بستری ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے کنایۃً بیان فرمایا ہے 21۔ 2 مضبوط عہد پیماں سے مراد وہ عہد مراد ہے جو نکاح کے وقت مرد سے لیا جاتا ہے کہ تم اسے اچھے طریقے سے آباد کرنا یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا۔
اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہو چکا سو ہو چکا در حقیقت یہ ایک بے حیائی کا فعل ہے، ناپسندیدہ ہے اور برا چلن ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے مگر جو گزر چکا ہے، یہ بے حیائی کا کام اور بغض کا سبب ہے اور بڑی بری راه ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے حیائی اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ
علامہ محمد حسین نجفی
جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نکاح کر چکے ہوں۔ ان سے شادی (نکاح) نہ کرو۔ سوا اس کے جو پہلے ہو چکا۔ بے شک یہ کھلی بے حیائی اور (خدا کی) ناراضی کی بات ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمھارے باپ نکاح کر چکے ہوں، مگر جو پہلے گزر چکا، بے شک یہ ہمیشہ سے بڑی بے حیائی اور سخت غصے کی بات ہے اور برا راستہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عورت پر ظلم کا خاتمہ ٭٭
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے جاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی ۱؎، [صحیح بخاری:2079] دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہو جائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، ۱؎ [سنن ابوداود:2090،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا، تو ایک روایت میں ہے کہ یہ کپڑا ڈالنے والا اسے حسین پاتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر یہ بدصورت ہوتی تو اسے یونہی روکے رکھتا یہاں تک کہ مر جائے پھر اس کے مال کا وارث بنتا۔ یہ بھی مروی ہے کہ مرنے والے کا کوئی گہرا دوست کپڑا ڈال دیتا۔
پھر اگر وہ عورت کچھ فدیہ اور بدلہ دے تو وہ اسے نکاح کرنے کی اجازت دیتا ورنہ یونہی مر جاتی سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل مدینہ کا یہ دستور تھا کہ وارث اس عورت کے بھی وارث بن جاتے غرض یہ لوگ عورتوں کے ساتھ بڑی بری طرح پیش آتے تھے یہاں تک کہ طلاق دیتے وقت بھی شرط کر لیتے تھے کہ جہاں میں چاہوں تیرا نکاح ہو گا اس طرح کی قید و بند سے رہائی پانے کی پھر یہ صورت ہوتی کہ وہ عورت کچھ دے کر جان چھڑاتی، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس سے منع فرما دیا، ابن مردویہ میں ہے کہ جب ابو قیس بن اسلت کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے نے ان کی بیوی سے نکاح کرنا چاہا جیسے کہ جاہلیت میں یہ دستور تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی بچے کی سنبھال پر اسے لگا دیتے تھے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کوئی مر جاتا تو اس کا لڑکا اس کی بیوی کا زیادہ حقدار سمجھا جاتا اگر چاہتا خود اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کر لیتا اور اگر چاہتا دوسرے کے نکاح میں دے دیتا مثلاً بھائی کے بھتیجے کے یا جس کو چاہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ابو قیس کی جس بیوی کا نام کبیشہ بنت معن رضی اللہ عنہا تھا اس نے اس صورت کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی کہ یہ لوگ نہ مجھے وارثوں میں شمار کر کے میرے خاوند کا ورثہ دیتے ہیں نہ مجھے چھوڑتے ہیں کہ میں اور کہیں اپنا نکاح کر لوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ایک روایت میں ہے کہ کپڑا ڈالنے کی رسم سے پہلے ہی اگر کوئی عورت بھاگ کھڑی ہو اور اپنے میکے آ جائے تو وہ چھوٹ جاتی تھی، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو یتیم بچی ان کی ولایت میں ہوتی اسے یہ روکے رکھتے تھے اس امید پر کہ جب ہماری بیوی مر جائے گی ہم اس سے نکاح کر لیں گے، ان سب اقوال سے معلوم ہوا کہ ان تمام صورتوں کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ممانعت کر دی اور عورتوں کی جان اس مصیبت سے چھڑا دی واللہ اعلم۔ ارشاد ہے عورتوں کی بود و باش میں انہیں تنگ کر کے تکلیف دیدے کر مجبور نہ کرو کہ وہ اپنا سارا مہر چھوڑ دیں یا اس میں سے کچھ چھوڑ دیں یا اپنے کسی اور واجبی حق وغیرہ سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہو جائیں کیونکہ انہیں ستایا اور مجبور کیا جا رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورت ناپسند ہے دل نہیں ملا چھوڑ دینا چاہتا ہے تو اس صورت میں حق مہر کے علاوہ بھی تمام حقوق دینے پڑیں گے اس صورت حال سے بچنے کے لیے اسے ستانا یا طرح طرح سے تنگ کرنا تاکہ وہ خود اپنے حقوق چھوڑ کر چلے جانے پر آمادہ ہو جائے ایسا رویہ اختیار کرنے سے قرآن پاک نے مسلمانوں کو روک دیا۔
ابن سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان دونوں آیتوں میں سے پہلی آیت امر جاہلیت کو ختم کرنے اور دوسری امراسلام کی اصلاح کے لیے نازل ہوئی، ابن مبارک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ مگر اس صورت میں کہ ان سے کھلی بےحیائی کا کام صادر ہو جائے، اس سے مراد بقول اکثر مفسرین صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہ اللہ علیہم وغیرہ زناکاری ہے، یعنی اس صورت میں جائز ہے کہ اس سے مہر لوٹا لینا چاہیئے اور اسے تنگ کرے تاکہ خلع پر رضامند ہو، جیسے سورۃ البقرہ کی آیت میں ہے «وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ» ۱؎ [2-البقرة:229] یعنی تمہیں حلال نہیں کہ تم انہیں دیئے ہوئے میں سے کچھ بھی لے لو مگر اس حالت میں کہ دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو۔ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے «فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» ۱؎ [4-النساء:19] سے مراد خاوند کے خلاف کام کرنا، اس کی نافرمانی کرنا، بدزبانی کج خلقی کرنا، حقوق زوجیت اچھی طرح ادا نہ کرنا وغیرہ ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:117/8] امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت کے الفاظ عام ہیں زنا کو اور تمام مذکورہ عوامل بھی شامل ہیں یعنی ان تمام صورتوں میں خاوند کو مباح ہے کہ اسے تنگ کرے تاکہ وہ اپنا کل حق یا تھوڑا حق چھوڑ دے اور پھر یہ اسے الگ کر دے امام صاحب کا یہ فرمان بہت ہی مناسب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ روایت بھی پہلے گزر چکی ہے کہ یہاں اس آیت کے اترنے کا سبب وہی جاہلیت کی رسم ہے جس سے اللہ نے منع فرما دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا بیان جاہلیت کی رسم کو اسلام میں سے خارج کرنے کے لیے ہوا ہے۔
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مکہ کے قریش میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص نے کسی شریف عورت سے نکاح کیا موافقت نہ ہوئی تو اسے طلاق دے دی لیکن یہ شرط کر لیتا تھا کہ بغیر اس کی اجازت کے یہ دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی اس بات پر گواہ مقرر ہو جاتے اور اقرار نامہ لکھ لیا جاتا اب اگر کہیں سے پیغام آئے اور وہ عورت راضی ہو تو یہ کہتا مجھے اتنی رقم دے تو میں تجھے نکاح کی اجازت دوں گا اگر وہ ادا کر دیتی تو خیر ورنہ یوں نہ اسے قید رکھتا اور دوسرا نکاح نہ کرنے دیتا اس کی ممانعت اس آیت میں نازل ہوئی، بقول مجاہد رحمہ اللہ یہ حکم اور سورۃ البقرہ کی آیت کا حکم دونوں ایک ہی ہیں۔ پھر فرمایا عورتوں کے ساتھ خوش سلوکی کا رویہ رکھو، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ برتو، نرم بات کہو نیک سلوک کرو اپنی حالت بھی اپنی طاقت کے مطابق اچھی رکھو، جیسے تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے لیے بنی سنوری ہوئی اچھی حالت میں رہے تم خود اپنی حالت بھی اچھی رکھو جیسے اور جگہ فرمایا آیت «وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ» ۱؎ [2-البقرة:228] یعنی جیسے تمہارے حقوق ان پر ہیں ان کے حقوق بھی تم پر ہیں۔
بہترین زوج محترم ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرنے والا ہو میں اپنی بیویوں سے بہت اچھا رویہ رکھتا ہوں، ۱؎ [سنن ترمذي:3895،قال الشيخ الألباني:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ بہت لطف و خوشی بہت نرم اخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، انہیں خوش رکھتے تھے ان سے ہنسی دل لگی کی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل اپنی مٹھی میں رکھتے تھے، انہیں اچھی طرح کھانے پینے کو دیتے تھے کشادہ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرتے تھے ایسی خوش طبعی کی باتیں بیان فرماتے جن سے وہ ہنس دیتیں، ایسا بھی ہوا ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ نے دوڑ لگائی اس دوڑ میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے نکل گئیں کچھ مدت بعد پھر دوڑ لگی اب کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پیچھے رہ گئیں تو آپ نے فرمایا ”معاملہ برابر ہو گیا“، ۱؎ [سنن ابوداود:2578،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس سے بھی آپ کا مطلب یہ تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خوش رہیں ان کا دل بہلے جس بیوی صاحبہ کے ہاں آپ کو رات گزارنی ہوتی وہیں آپ کی کل بیویاں جمع ہو جاتیں دو گھڑی بیٹھتیں بات چیت ہوتی۔
کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ان سب کے ساتھ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کا کھانا تناول فرماتے پھر سب اپنے اپنے گھر چلی جاتیں اور آپ وہیں آرام فرماتے جس کی باری ہوتی، اپنی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایک ہی چادر میں سوتے، کرتا نکال ڈالتے صرف تہبند بندھا ہوا ہوتا عشاء کی نماز کے بعد گھر جا کر دو گھڑی ادھر ادھر کی کچھ باتیں کرتے جس سے گھر والیوں کا جی خوش ہوتا الغرض نہایت ہی محبت پیار کے ساتھ اپنی بیویوں کو آپ رکھتے تھے۔ پس مسلمانوں کو بھی چاہیئے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھی طرح راضی خوشی، محبت پیار سے رہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فرماں برداری کا دوسرا نام اچھائی ہے۔ اس کے تفصیلی احکام کی جگہ تفسیر نہیں بلکہ اسی مضمون کی کتابیں ہیں والحمدللہ پھر فرماتا ہے کہ باوجود جی نہ چاہنے کے بھی عورتوں سے اچھی بود و باش رکھنے میں بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بھلائی عطا فرمائے، ممکن ہے نیک اولاد ہو جائے اور اس سے اللہ تعالیٰ بہت سی بھلائیاں نصیب کرے، صحیح حدیث میں ہے مومن مرد مومنہ عورت کو الگ نہ کرے اگر اس کی ایک آدھ بات سے ناراض ہو گا تو ایک آدھ خصلت اچھی بھی ہو گی۔۱؎ [صحیح مسلم:1467]
پھر فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے اس کی جگہ دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہے تو اسے دئے ہوئے مہر میں سے کچھ بھی واپس نہ لے چاہے خزانہ کا خزانہ دیا ہوا ہو۔
حق مہر کے مسائل ٭٭
سورۃ آل عمران کی تفسیر میں «قنطار» کا پورا بیان گزر چکا ہے اس لیے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہر میں بہت سارا مال دینا بھی جائز ہے۔ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پہلے بہت لمبے چوڑے مہر سے منع فرما دیا تھا پھر اپنے قول سے رجوع کیا، جیسے کہ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا: عورتوں کے مہر باندھنے میں زیادتی نہ کرو اگر یہ دنیوی طور پر کوئی بھی چیز ہوتی یا اللہ کے نزدیک یہ تقویٰ کی چیز ہوتی تو تم سب سے پہلے اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عمل کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں کیا (تقریباً سوا سو روپیہ) انسان زیادہ مہر باندھ کر پھر مصیبت میں پڑ جاتا ہے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کی بیوی اسے بوجھ معلوم ہونے لگتی ہے، اور اس کے دل میں اس کی دشمنی بیٹھ جاتی ہے اور کہنے لگتا ہے کہ تو نے تو میرے کندھے پر مشک لٹکا دی، یہ حدیث بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے۔
ایک میں ہے کہ آپ نے منبرنبوی پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”لوگو! تم نے کیوں لمبے چوڑے مہر باندھنے شروع کر دئیے ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے زمانہ کے آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے تو چار سو درہم [ تقریباً سو روپیہ ] مہر باندھا ہے اگر یہ تقویٰ اور کرامت کے زاد ہونے کا سبب ہوتا تو تم زیادہ حق مہر ادا کرنے میں بھی ان پر سبقت نہیں لے سکتے تھے۔ خبردار! آج سے میں نہ سنوں کہ کسی نے چار سو درہم سے زیادہ کا مہر مقرر کیا یہ فرما کر آپ نیچے اتر آئے تو ایک قریشی خاتون سامنے آئیں اور کہنے لگیں امیر المؤمنین کیا آپ نے چار سو درہم سے زیادہ کے حق مہر سے لوگوں کو منع فرما دیا ہے؟ آپ نے فرمایا:ہاں کہا کیا آپ نے اللہ کا کلام جو اس نے نازل فرمایا ہے نہیں سنا؟ کہا وہ کیا؟ کہا سنئیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے «وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا» ۱؎ [4-النساء:20] الخ یعنی تم نے انہیں خزانہ دیا ہو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ مجھے معاف فرما! عمر سے تو ہر شخص زیادہ سمجھدار ہے“، پھر واپس اسی وقت منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے فرمایا: لوگو! میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ کے مہر سے روک دیا تھا لیکن اب کہتا ہوں جو شخص اپنے مال میں سے مہر میں جتنا چاہے دے اپنی خوشی سے جتنا مہر مقرر کرنا چاہے کرے میں نہیں روکتا۔ ۱؎ [ضعیف: اس کی سند میں مجالد بن سعید راوی ضعیف ہے] اور ایک روایت میں اس عورت کا آیت کو اس طرح پڑھنا مروی ہے «وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا مِن ذھب» سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں بھی اسی طرح ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا بھی مروی ہے کہ ایک عورت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر غالب آ گئی۔ ۱؎ [عبدالرزاق:10420:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا گو «ذی القصہ» یعنی یزیدین حصین حارثی کی بیٹی ہو پھر بھی مہر اس کا زیادہ مقرر نہ کرو اور اگر تم نے ایسا کیا تو وہ زائد رقم میں بیت المال کے لیے لے لوں گا اس پر ایک دراز قد چوڑی ناک والی عورت نے کہا سیدنا آپ یہ حکم نہیں دے سکتے۔ ۱؎ (ضعیف: اس میں مصعب بن ثابت راوی ضعیف ہے)۔
پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم اپنی بیوی کو دیا ہوا حق مہر واپس کیسے لے سکتے ہو؟ جبکہ تم نے اس سے فائدہ اٹھایا یا ضرورت پوری کی وہ تم سے اور تم اس سے مل گئی یعنی میاں بیوی کے تعلقات بھی قائم ہو گئے، بخاری و مسلم کی اس حدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔ بیوی نے بھی اپنے بےگناہ ہونے کی، شوہر نے اپنے سچا ہونے کی قسم کھائی پھر ان دونوں کا قسمیں کھانا اور اس کے بعد آپ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ تم دونوں میں سے کون جھوٹا ہے؟ کیا تم میں سے کوئی اب بھی توبہ کرتا ہے؟ تین دفعہ فرمایا تو اس مرد نے کہا میں نے جو مال اس کے مہر میں دیا ہے اس کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اسی کے بدلے تو یہ تیرے لیے حلال ہوئی تھیں اب اگر تو نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو پھر اور ناممکن بات ہو گی ۱؎ [صحیح بخاری:5311] اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا بصرہ بن اکثم رضی اللہ عنہ نے ایک کنواری لڑکی سے نکاح کیا جب اس سے ملے تو دیکھا کہ اسے زنا کا حمل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے اسے الگ کرا دیا اور مہر دلوا دیا اور عورت کو کوڑے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا جو بچہ ہو گا وہ تیرا غلام ہو گا اور مہر تو اس کی حلت کا سبب تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2131،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
غرض آیت کا مطلب بھی یہی ہے کہ عورت اس کے بیٹے پر حرام ہو جاتی ہے اس پر اجماع ہے، سیدنا ابو قیس رضی اللہ عنہ جو بڑے بزرگ اور نیک انصاری صحابی تھے ان کے انتقال کے بعد ان کے لڑکے قیس نے ان کی بیوی سے نکاح کی خواہش کی جو ان کی سوتیلی ماں تھیں اس پر اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بیشک تو اپنی قوم میں نیک ہے لیکن میں تو تجھے اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں خیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتی ہوں جو وہ حکم فرمائیں وہ حاضر ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری کیفیت بیان کی آپ نے فرمایا اپنے گھر لوٹ جاؤ پھر یہ آیت اتری کہ ‘جس سے باپ نے نکاح کیا اس سے بیٹے کا نکاح حرام ہے،۱؎ [بیہقی:7/161:ضعیف] ایسے واقعات اور بھی اس وقت موجود تھے جنہیں اس ارادے سے باز رکھا گیا ایک تو یہی ابو قیس والا واقعہ ان بیوی صاحبہ کا نام سیدہ ام عبیداللہ ضمرہ رضی اللہ عنہا تھا۔
دوسرا واقعہ خلف کا تھا ان کے گھر میں ابوطلحہ کی صاحبزادی تھیں اس کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے صفوان نے اسے اپنے نکاح میں لانا چاہا تھا سہیلی میں لکھا ہے جاہلیت میں اس نکاح کا معمول تھا جسے باقاعدہ نکاح سمجھا جاتا تھا اور بالکل حلال گنا جاتا تھا اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ جو پہلے گزر چکا سو گزر چکا، جیسے دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کو بیان فرما کر بھی یہی کیا گیا کنانہ بن خزیمہ نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا نضر اسی کے بطن سے پیدا ہوا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میری اوپر کی نسل بھی باقاعدہ نکاح سے ہی ہے نہ کہ زنا سے تو معلوم ہوا کہ یہ رسم ان میں برابر جاری تھی اور جائز تھی اور اسے نکاح شمار کرتے تھے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جاہلیت والے بھی جن جن رشتوں کو اللہ نے حرام کیا ہے، سوتیلی ماں اور دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کے سوا سب کو حرام ہی جانتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ان دونوں رشتوں کو بھی حرام ٹھہرایا عطاء اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ یاد رہے کہ سہیلی نے کنانہ کا جو واقعہ نقل کیا ہے وہ غور طلب ہے بالکل صحیح نہیں، واللہ اعلم۔ بہر صورت یہ رشتہ امت مسلمہ پر حرام ہے اور نہایت قبیح امر ہے۔ یہاں تک کہ فرمایا یہ نہایت فحش برا کام بغض کا ہے۔
پھر فرمایا کہ عقد نکاح جو مضبوط عہد و پیمان ہے اس میں تم جکڑے جا چکے ہو، اللہ کا یہ فرمان تم سن چکے ہو کہ بساؤ تو اچھی طرح اور الگ کرو تو عمدہ طریقہ سے چنانچہ حدیث میں بھی ہے کہ تم ان عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیتے ہو اور ان کو اپنے لیے اللہ تعالیٰ کا کلمہ پڑھ کر یعنی نکاح کے خطبہ تشہد سے حلال کرتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج والی رات جب بہترین انعامات عطا ہوئے، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ آپ سے فرمایا گیا تیری امت کا کوئی خطبہ جائز نہیں جب تک وہ اس امر کی گواہی نہ دیں کہ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے [ ابن ابی حاتم ]
نکاح کے احکامات ٭٭
صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا تم نے عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے کلمہ سے اپنے لیے حلال کیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سوتیلی ماؤں کی حرمت بیان فرماتا ہے اور ان کی تعظیم اور توقیر ظاہر کرتا ہے یہاں تک کہ باپ نے کسی عورت سے صرف نکاح کیا ابھی وہ رخصت ہو کر بھی نہیں آئی مگر طلاق ہو گئی یا باپ مر گیا وغیرہ تو بھی وہ سبب اور برا راستہ ہے۔ اور جگہ فرمایا ہے «وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ» ۱؎ [6-الأنعام:151] یعنی ’ کسی برائی بےحیائی اور فحش کام کے قریب بھی نہ جاؤ یا وہ بالکل ظاہر ہو خواہ پوشیدہ ہو ‘۔ اور فرمان ہے «وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَآءَ سَبِيلاً» ۱؎ [17-الإسراء:32] یعنی ’ زنا کے قریب نہ جاؤ یقیناً وہ فحش کام اور بری راہ ہے ‘۔ یہاں مزید فرمایا کہ یہ کام بڑے بغض کا بھی ہے یعنی فی نفسہ بھی بڑا برا امر ہے اس سے باپ بیٹے میں عداوت پڑ جاتی ہے اور دشمنی قائم ہو جاتی ہے، یہی مشاہدہ میں آیا ہے اور عموماً یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جو شخص کسی عورت سے دوسرا نکاح کرتا ہے وہ اس کے پہلے خاوند سے بغض ہی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن قرار دے گئیں اور امت پر مثل ماں کے حرام کی گئیں کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں اور آپ مثل باپ کے ہیں، بلکہ اجماعاً ثابت ہے کہ آپ کے حق باپ دادا کے حقوق سے بھی بہت زیادہ اور بہت بڑے ہیں بلکہ آپ کی محبت خود اپنی جانوں کی محبت پر بھی مقدم ہے صلوات اللہ وسلامہ علیہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کام اللہ کے بغض کا موجب ہے اور برا راستہ ہے اب جو ایسا کام کرے وہ دین سے مرتد ہے اسے قتل کر دیا جائے اور اس کا مال بیت المال میں بطور فئی کے داخل کر لیا جائے، سنن اور مسند احمد میں مروی ہے کہ ایک صحابی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے باپ کے بعد نکاح کیا تھا کہ اسے قتل کر ڈالو اور اس کے مال پر قبضہ کر لو۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1362،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے چچا سیدنا حارث بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا جھنڈا لے کر میرے پاس سے گزرے میں نے پوچھا کہ چچا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کہاں بھیجا ہے؟ فرمایا:اس شخص کی طرف جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے مجھے حکم ہے کہ میں اس کی گردن ماروں۔ ۱؎ [مسند احمد:4/292]
سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے ٭٭
اس پر تو علماء کا اجماع ہے کہ جس عورت سے باپ نے مباشرت کر لی خواہ نکاح کر کے، خواہ ملکیت میں لا کر، خواہ شبہ سے وہ عورت بیٹے پر حرام ہے، ہاں اگر جماع نہ ہوا ہو تو صرف مباشرت ہوئی ہو یا وہ اعضاء دیکھے ہوں جن کا دیکھنا اجنبی ہونے کی صورت میں حلال نہ تھا تو اس میں اختلاف ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ تو اس صورت میں بھی اس عورت کو لڑکے پر حرام بتاتے ہیں، حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ کے اس واقعہ سے بھی اس روایت کی تصدیق ہوتی ہے کہ خدیج حمصی رحمہ اللہ نے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے ایک لونڈی خریدی جو گورے رنگ کی اور خوبصورت تھی اسے برہنہ ان کے پاس بھیج دیا ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس سے اشارہ کر کے کہنے لگے اچھا نفع تھا اگر یہ ملبوس ہوتی پھر کہنے لگے اسے سیدنا یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ پھر کہا نہیں نہیں ٹھہرو ربیعہ بن عمرو جرشی رحمہ اللہ کو میرے پاس بلا لاؤ یہ بڑے فقیہ تھے جب آئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ میں نے اس عورت کے یہ اعضاء مخصوص دیکھے ہیں، یہ برہنہ تھی۔ اب میں اسے اپنے لڑکے یزید کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں تو کیا اس کے لیے یہ حلال ہے؟ ربیعہ نے فرمایا امیر المؤمنین ایسا نہ کیجئے یہ اس کے قابل نہیں رہی فرمایا تم ٹھیک کہتے ہو اچھا جاؤ سیدنا عبداللہ بن مسعدہ فزاری رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ وہ آئے وہ تو گندم گوں رنگ کے تھے اس سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس لونڈی کو میں تمہیں دیتا ہوں تاکہ تمہاری اولاد سفید رنگ پیدا ہو یہ سیدنا عبداللہ بن مسعدہ رضی اللہ عنہ وہ ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیا تھا آپ نے انہیں پالا پرورش کیا پھر اللہ تعالیٰ کے نام سے آزاد کر دیا پھر یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے آئے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:142/8]
22۔ 1 زمانہ جاہلیت میں سوتیلے بیٹے اپنے باپ کی بیوی سے (یعنی سوتیلی ماں سے) نکاح کرلیتے تھے، اس سے روکا جا رہا ہے، کہ یہ بہت بےحیائی کا کام ہے اسلام ایسی عورت سے نکاح کو ممنوع قرار دیتا ہے جس سے اس کے باپ نے نکاح کیا لیکن دخول سے قبل ہی طلاق دے دی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ بات مروی ہے اور علماء اسی کے قائل ہیں (تفسیر طبری)
(آیت 22) {وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ …:} جاہلیت کے دستور میں بیٹے کے لیے اپنے باپ کی منکوحہ (سوتیلی ماں) سے شادی کر لینا جائز تھا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اہل جاہلیت ان رشتوں کو حرام سمجھتے تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے حرام کیا، سوائے باپ کی بیوی اور دو بہنوں کو جمع کرنے کے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: «وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ» [النساء: ۲۲ ] اور «وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ» [ النساء: ۲۳ ] [ ابن جریر: 369/4 صحیح ] اللہ تعالیٰ نے اسے سخت حرام قرار دیا، حتیٰ کہ اگر باپ نے صرف عقد ہی کیا ہو تو بھی بیٹے کا اس سے نکاح حرام ہے۔ یہ سخت بے حیائی اور اللہ کی سخت ناراضگی کا باعث اور برا راستہ ہے کہ آج تم نے اپنے باپ کی منکوحہ سے نکاح کیا ہے، کل تمھاری منکوحہ سے تمھارا بیٹا نکاح کرے گا، اللہ تعالیٰ نے یہ راستہ ہی بند کر دیا۔ براء بن عازب رضی اللہ عنھما سے روایت ہے، وہ اپنے ماموں ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کر لیا تھا کہ اسے قتل کر دیں اور اس کا مال لے لیں۔ [ أبو داوٗد، الحدود، باب فی الرجل یزنی بحریمہ: ۴۴۵۷۔ ترمذی: ۱۳۶۲۔ نسائی: ۳۳۳۴۔ ابن ماجہ: ۲۶۰۷ و قال الألبانی صحیح ] معلوم ہوا ایسا شخص واجب القتل ہے۔
تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو، اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن و شو ہو چکا ہو ورنہ اگر (صرف نکاح ہوا ہو اور) تعلق زن و شو نہ ہوا ہو تو (ا نہیں چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کر لینے میں) تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے اور تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب سے ہوں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو، مگر جو پہلے ہو گیا سو ہو گیا، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری لڑکیاں اور تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خاﻻئیں اور بھائی کی لڑکیاں اور بہن کی لڑکیاں اور تمہاری وه مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری ساس اور تمہاری وه پرورش کرده لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں، تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول کر چکے ہو، ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناه نہیں اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں اور تمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا ہاں جو گزر چکا سو گزر چکا، یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں اور دو بہنیں اکٹھی کرنا مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم پر حرام کر دی گئی ہیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے۔ اور تمہاری رضاعی (دودھ شریک) بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں (خوشدامنیں) اور تمہاری ان بیویوں کی جن سے تم نے مباشرت کی ہے وہ لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں پرورش پا رہی ہیں اور اگر صرف نکاح ہوا ہے مگر مباشرت نہیں ہوئی ہے۔ تو پھر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں (بہوؤیں) اور یہ بھی حرام قرار دیا گیا کہ دو بہنوں کو ایک نکاح میں اکھٹا کرو۔ مگر جو پہلے ہو چکا ہے۔ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
حرام کی گئیں تم پر تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور تمھاری بہنیں اور تمھاری پھوپھیاں اور تمھاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہو اور تمھاری دودھ شریک بہنیں اور تمھاری بیویوں کی مائیں اور تمھاری پالی ہوئی لڑکیاں، جو تمھاری گود میں تمھاری ان عورتوں سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو، پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اور تمھارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمھاری پشتوں سے ہیں اور یہ کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو، مگر جو گزر چکا۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کون سی عورتیں مردوں پر حرام ہیں؟ ٭٭
نسبی، رضاعی اور سسرالی رشتے سے جو عورتیں مرد پر حرام ہیں ان کا بیان آیت کریمہ میں ہو رہا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سات عورتیں بوجہ نسب حرام ہیں اور سات بوجہ سسرال کے پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی جس میں بہن کی لڑکیوں تک نسبی رشتوں کا ذکر ہے ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:142/8] جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ زنا سے جو لڑکی پیدا ہوئی وہ بھی اس زانی پر حرام ہے کیونکہ یہ بھی بیٹی ہے اور بیٹیاں حرام ہیں، یہی مذہب ابوحنیفہ، مالک اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہم کا ہے، امام شافعی رحمہ اللہ سے کچھ اس کی اباحت میں بھی بحث کی گئی ہے اس لیے کہ شرعاً یہ بیٹی نہیں پس جیسے کہ ورثے کے حوالے سے یہ بیٹی کے حکم سے خارج ہے اور ورثہ نہیں پاتی اسی طرح اس آیت حرمت میں بھی وہ داخل نہیں ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (صحیح مذہب وہی ہے جس پر جمہور ہیں۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ جس طرح تم پر تمہاری سگی ماں حرام ہے اسی طرح رضاعی ماں بھی حرام ہے بخاری و مسلم میں ہے کہ رضاعت بھی اسے حرام کرتی ہے جسے ولادت حرام کرتی ہے ۱؎۔ [صحیح بخاری:2646] صحیح مسلم میں ہے رضاعت سے بھی وہ حرام ہے جو نسب سے ہے، بعض فقہاء نے اس میں سے چار صورتیں بعض نے چھ صورتیں مخصوص کی ہیں جو احکام کی فروع کی کتابوں میں مذکور ہیں لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس میں سے کچھ بھی مخصوص نہیں اس لیے کہ اسی کے مانند بعض صورتیں نسبت میں بھی پائی جاتی ہیں اور ان صورتوں میں سے بعض صرف سسرالی رشتہ کی وجہ سے حرام ہیں لہٰذا حدیث پر اعتراض خارج از بحث ہے والحمدللہ۔ آئمہ کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ کتنی مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثبات ہوتی ہے، بعض تو کہتے ہیں کہ تعداد معین نہیں دودھ پیتے ہی حرمت ثابت ہو گئی امام مالک رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر اور زہری رحمہ اللہ علیہم کا قول بھی یہی ہے، دلیل یہ ہے کہ رضاعت یہاں عام ہے بعض کہتے ہیں تین مرتبہ جب پئے تو حرمت ثابت ہو گئی، جیسے کہ صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ کا چوسنا یا دو مرتبہ کا پی لینا حرام نہیں کرتا یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے، ۱؎ [صحیح مسلم:1450] امام احمد، اسحاق بن راہویہ، ابوعبیدہ، ابوثور رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا علی، سیدہ عائشہ، سیدہ ام الفضل، سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہم، سلیمان بن یسار، سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔
بعض کہتے ہیں پانچ مرتبہ کے دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے اس سے کم نہیں، اس کی دلیل صحیح مسلم کی یہ روایت ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے قرآن میں دس مرتبہ کی دودھ پلائی پر حرمت کا حکم اترا تھا پھر وہ منسوخ ہو کر پانچ رہ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہونے تک وہ قرآن میں پڑھا جاتا رہا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1452] دوسری دلیل سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سالم کو جو ابوحذیفہ کے مولی تھے پانچ مرتبہ دودھ پلا دیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اسی حدیث کے مطابق جس عورت کے گھر کسی کا آنا جانا دیکھتیں اسے یہی حکم دیتیں، امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا فرمان بھی یہی ہے کہ پانچ مرتبہ دودھ پینا معتبر ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1453] (مترجم کی تحقیق میں بھی راجح قول یہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ) یہ بھی یاد رہے کہ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ یہ رضاعت دودھ چھٹنے سے پہلے یعنی دو سال کے اندر اندر کی عمر میں ہو، اس کا مفصل بیان «وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ» ۱؎ [2-البقرة:233] کی تفسیر میں سورۃ البقرہ میں گزر چکا ہے، پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ اس رضاعت کا اثر رضاعی ماں کے خاوند تک بھی پہنچے گا یا نہیں؟ تو جمہور کا اور آئمہ اربعہ کا فرمان تو یہ ہے کہ پہنچے گا اور بعض سلف کا قول ہے کہ صرف دودھ پلانے والی تک ہی رہے گا اور رضاعی باپ تک نہیں پہنچے گا اس کی تفصیل کی جگہ احکام کی بڑے بڑی کتابیں ہیں نہ کہ تفسیر (صحیح قول جمہور کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)
پھر فرماتا ہے ساس حرام ہے جس لڑکی سے نکاح ہوا بوجہ نکاح ہونے کے اس کی ماں اس پر حرام ہو گئی خواہ صحبت کرے یا نہ کرے، ہاں جس عورت کے ساتھ نکاح کرتا ہے اور اس کی لڑکی اس کے اگلے خاوند سے اس کے ساتھ ہے تو اگر اس سے صحبت کی تو وہ لڑکی حرام ہو گی اگر مجامعت سے پہلے ہی اس عورت کو طلاق دے دی تو وہ لڑکی اس پر حرام نہیں، اسی لیے اس آیت میں یہ قید لگائی بعض لوگوں نے ضمیر کو ساس اور اس کی پرورش کی ہوئی لڑکیوں دونوں کی طرف لوٹایا ہے وہ کہتے ہیں کہ ساس بھی اس وقت حرام ہوتی ہے جب اس کی لڑکی سے اس کے داماد نے خلوت کی ورنہ نہیں، صرف عقد سے نہ تو عورت کی ماں حرام ہوتی ہے نہ عورت کی بیٹی۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے کسی لڑکی سے نکاح کیا پھر دخول سے پہلے ہی طلاق دے دی تو وہ اس کی ماں سے نکاح کر سکتا ہے جیسے کہ ربیبہ لڑکی سے اس کی ماں کو اسی طرح کی طلاق دینے کے بعد نکاح کر سکتا ہے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے۔ ایک اور روایت میں بھی آپ سے مروی ہے آپ فرماتے تھے جب وہ عورت غیر مدخولہ مر جائے اور یہ خاوند اس کی میراث لے لے تو پھر اس کی ماں کو لانا مکروہ ہے ہاں اگر دخول سے پہلے طلاق دے دی ہے تو اگر چاہے نکاح کر سکتا ہے سیدنا ابوبکر بن کنانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا نکاح میرے باپ نے طائف کی ایک عورت سے کرایا ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ اس کا باپ میرا چچا فوت ہو گیا اس کی بیوی یعنی میری ساس بیوہ ہو گئی وہ بہت مالدار تھیں میرے باپ نے مجھے مشورہ دیا کہ اس لڑکی کو چھوڑ دوں اور اس کی ماں سے نکاح کر لوں میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا:تمہارے لیے یہ جائز ہے پھر میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ جائز نہیں میں نے اپنے والد سے ذکر کیا انہوں نے تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہی سوال کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا کہ میں نہ تو حرام کو حلال کروں نہ حلال کر حرام تم جانو اور تمہارا کام تم حالت دیکھ رہے ہو معاملہ کے تمام پہلو تمہاری نگاہوں کے سامنے ہیں۔ عورتیں اس کے علاوہ بھی بہت ہیں۔ غرض نہ اجازت دی نہ انکار کیا چنانچہ میرے باپ نے اپنا خیال اس کی ماں کی طرف سے ہٹا لیا۔
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت کی لڑکی اور عورت کی ماں کا حکم ایک ہی ہے اگر عورت سے دخول نہ کیا ہو تو یہ دونوں حلال ہیں، لیکن اس کی اسناد میں مبہم راوی ہے، مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے، ابن جبیر رحمہ اللہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی اسی طرف گئے ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس میں توقف فرمایا ہے۔ شافعیوں میں سے ابوالحسن احمد بن محمد بن صابونی رحمہ اللہ سے بھی بقول رافعی یہی مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے مثل مروی ہے لیکن پھر آپ نے اپنے اس قول سے رجوع کر لیا ہے طبرانی میں ہے کہ قبیلہ فزارہ کی شاخ قبیلہ بنو کمخ کے ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر اس کی بیوہ ماں کے حسن پر فریفتہ ہوا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا کہ کیا مجھے اس کی ماں سے نکاح کرنا جائز ہے آپ نے فرمایا ہاں چنانچہ اس نے اس لڑکی کو طلاق دے کر اس کی ماں سے نکاح کر لیا اس سے اولاد بھی ہوئی پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور اس مسئلہ کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ حلال نہیں چنانچہ آپ واپس کوفے گئے اور اس سے کہا کہ اس عورت کو الگ کر دے یہ تجھ پر حرام ہے اس نے اس فرمان کی تعمیل کی اور اسے الگ کر دیا جمہور علماء اس طرف ہیں لڑکی تو صرف عقد نکاح سے حرام نہیں ہوتی تاوقتیکہ اس کی ماں سے مباشرت نہ کی ہو ہاں ماں صرف لڑکی کے عقد نکاح ہوتے ہی حرام ہو جاتی ہے گو مباشرت نہ ہوئی ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو دخول سے پہلے طلاق دیدے یا وہ عورت مر جائے تو اس کی ماں اس پر حلال نہیں چونکہ مبہم ہے اس لیے اسے ناپسند فرمایا، سیدنا ابن مسعود، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہم، مسروق، طاؤس، عکرمہ، عطا، حسن، مکحول، ابن سیرین، قتادہ اور زہری رحمہ اللہ علیہم سے بھی اسی طرح مروی ہے، چاروں اماموں ساتوں فقہاء اور جمہور علماء سلف و خلف کا یہی مذہب ہے والحمدللہ امام ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک قول انہی حضرات کا ہے جو ساس کو دونوں صورتوں میں حرام بتلاتے ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حرمت کے ساتھ دخول کی شرط نہیں لگائی جیسے کہ لڑکی کی ماں کے لیے یہ شرط لگائی ہے پھر اس پر اجماع ہے جو ایسی دلیل ہے کہ اس کا خلاف کرنا اس وقت جائز ہی نہیں جب کہ اس پر اتفاق ہو اور ایک غریب حدیث میں بھی یہ مروی ہے گو اس کی سند میں کلام ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ کوئی مرد کسی عورت سے نکاح کرے اگر اس نے اس کی ماں سے نکاح کیا ہے پھر ملنے سے پہلے ہی اسے طلاق دے دی ہے تو اگر چاہے اس کی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے، گو اس حدیث کی سند کمزور ہے لیکن اس مسئلہ پر اجماع ہو چکا ہے جو اس کی صحت پر ایسا گواہ ہے جس کے بعد دوسری گواہی کی ضرورت نہیں۔ (ٹھیک مسئلہ یہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم) [تفسیر ابن جریر الطبری:8957:ضعیف]
پھر فرماتا ہے تمہاری پرورش کی ہوئی وہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہوں وہ بھی تم پر حرام ہیں بشرطیکہ تم نے ان سوتیلی لڑکیوں کی ماں سے صحبت کی ہو جمہور کا فرمان ہے کہ خواہ گود میں پلی ہوں یا نہ پلیں ہوں حرام ہیں چونکہ عموماً ایسی لڑکیاں اپنی ماں کے ساتھ ہی ہوتی ہیں اور اپنے سوتیلے باپوں کے ہاں ہی پرورش پاتی ہیں اس لیے یہ کہہ دیا گیا ہے یہ کوئی قید نہیں جیسے اس آیت «وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا» ۱؎ [24-النور:33] یعنی تمہاری لونڈیاں اگر پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تو تم انہیں بدکاری پر بیبس نہ کرو، یہاں بھی یہ قید کہ اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں صرف بااعتبار واقعہ کے غلبہ کے ہے یہ نہیں کہ اگر وہ خود ایسی نہ ہوں تو انہیں بدکاری پر آمادہ کرو، اسی طرح اس آیت میں ہے کہ گود میں چاہے نہ ہوں پھر بھی حرام ہی ہیں۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ! آپ میری بہن ابوسفیان کی لڑکی عزہ سے نکاح کر لیجئے۔ آپ نے فرمایا کیا تم یہ چاہتی ہو؟ ام المؤمنین نے کہا ہاں میں آپ کو خالی تو رکھ نہیں سکتی پھر میں اس بھلائی میں اپنی بہن کو ہی کیوں نہ شامل کروں؟ آپ نے فرمایا ‘ سنو مجھ پر وہ حلال نہیں، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا میں نے سنا ہے کہ آپ سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہما کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں آپ نے فرمایا ان کی وہ بیٹی جو ام سلمہ سے ہے؟ کہا ہاں۔ فرمایا اولاً تو وہ مجھ پر اس وجہ سے حرام ہے کہ وہ میری «ربیبہ» ہے جو میرے ہاں پرورش پا رہی ہے دوسری یہ کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو بھی وہ مجھ پر حرام تھیں اس لیے کہ وہ میرے دودھ شریک بھائی کی بیٹی میری بھتیجی ہیں۔ مجھے اور اس کے باپ ابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے۔ خبردار! اپنی بیٹیاں اور اپنی بہنیں مجھ پر پیش نہ کرو، ۱؎ [صحیح بخاری:5101-5106] بخاری کی روایت ہے یہ الفاظ ہیں کہ اگر میرا نکاح ام سلمہ جسے نہ ہوا ہوتا تو بھی وہ مجھ پر حلال نہ تھیں، ۱؎ [صحیح بخاری:5123] یعنی صرف نکاح کو آپ نے حرمت کا اصل قرار دیا، یہی مذہب چاروں اماموں ساتوں فقیہوں اور جمہور سلف و خلف کا ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر وہ اس کے ہاں پرورش پاتی ہو تو بھی حرام ہے ورنہ نہیں۔
مالک بن اوس بن حدثان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میری بیوی اولاد چھوڑ کر مر گئیں مجھے ان سے بہت محبت تھی اس وجہ سے ان کی موت کا مجھے بڑا صدمہ ہوا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے میری اتفاقیہ ملاقات ہوئی تو آپ نے مجھے مغموم پا کر دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ میں نے واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا تجھ سے پہلے خاوند سے بھی اس کی کوئی اولاد ہے؟ میں نے کہا ہاں ایک لڑکی ہے اور وہ طائف میں رہتی ہے فرمایا پھر اس سے نکاح کر لو میں نے قرآن کریم کی آیت پڑھی کہ پھر اس کا کیا مطلب ہو گا؟ آپ نے فرمایا یہ تو اس وقت ہے جبکہ اس نے تیرے ہاں پرورش پائی ہو اور وہ بقول تمہارے طائف میں رہتی ہے تیرے پاس ہے ہی نہیں گو اس کی اسناد صحیح ہے لیکن یہ قول بالکل غریب ہے، امام مالک رحمہ اللہ کا بھی یہی قول بتایا ہے، ابن حزم رحمہ اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، ہمارے شیخ حافظ ابوعبداللہ ذہبی رحمہ اللہ نے ہم سے کہا کہ میں نے یہ بات شیخ امام تقی الدین ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے سامنے پیش کی تو آپ نے اسے بہت مشکل محسوس کیا اور توقف فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «حجور» سے مراد گھر ہے جیسے کہ ابوعبیدہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جو کنیز ملکیت میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی لڑکی ہو اس کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ ایک کے بعد دوسری جائز ہو گی یا نہیں؟ تو آپ نے فرمایا:اسے پسند نہیں کرتا، اس کی سند منقطع ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسے ہی سوال کے جواب میں فرمایا ہے ایک آیت سے یہ حلال معلوم ہوتی ہے دوسری آیت سے حرام اس لیے میں تو ایسا ہرگز نہ کروں، شیخ ابوعمر بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علماء میں اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کہ کسی کو حلال نہیں کہ کسی عورت سے پھر اس کی لڑکی سے بھی اسی ملکیت کی بنا پر وطی کرے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے نکاح میں بھی حرام قرار دے دیا ہے یہ آیت ملاحظہ ہو اور علماء کے نزدیک ملکیت احکام نکاح کے تابع ہے مگر جو روایت سیدنا عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے کی جاتی ہے لیکن آئمہ فتاویٰ اور ان کے تابعین میں سے کوئی بھی اس پر متفق نہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ربیبہ کی لڑکی اور اس لڑکی کی لڑکی اس طرح جس قدر نیچے یہ رشتہ چلا جائے سب حرام ہیں، ابو العالیہ رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح روایت قتادہ مروی ہے۔ آیت «دَخَلْتُمْ بِهِنَّ» سے مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو فرماتے ہیں ان سے نکاح کرنا ہے۔ عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ رخصت کر دی جائیں، کپڑا ہٹا دیا جائے، چھیڑ ہو جائے اور ارادے سے مرد بیٹھ جائے۔ ابن جریج رحمہ اللہ نے سوال کیا کہ اگر یہ کام عورت ہی کے گھر میں ہوا ہو فرمایا: وہاں یہاں دونوں کا حکم ایک ہی ہے ایسا اگر ہو گیا تو اس کی لڑکی اس پر حرام ہو گئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:148/8]
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف خلوت اور تنہائی ہو جانے سے اس کی لڑکی کی حرمت ثابت نہیں ہوتی اگر مباشرت کرنے اور ہاتھ لگانے سے اور شہوت سے اس کے عضو کی طرف دیکھنے سے پہلے ہی طلاق دے دی ہے تو تمام کے اجماع سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ لڑکی اس پر حرام نہ ہو گی تاوقتیکہ جماع نہ ہوا ہو۔ پھر فرمایا تمہاری بہوئیں بھی تم پر حرام ہیں جو تمہاری اولاد کی بیویاں ہوں یعنی لے پالک لڑکوں کی بیویاں حرام نہیں، ہاں سگے لڑکے کی بیوی یعنی بہو اپنے سسر پر حرام ہے جیسے اور جگہ ہے «فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَراً زَوَّجْنَـكَهَا لِكَىْ لاَ يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِى أَزْوَاجِ أَدْعِيَآئِهِمْ» ۱؎ [33-الأحزاب:37] یعنی ’ جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا تاکہ مومنوں پر ان کے لے پالک لڑکوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے ‘۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سنا کرتے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کی بیوی سے نکاح کر لیا تو مکہ کے مشرکوں نے کائیں کائیں شروع کر دی اس پر یہ آیت اور آیت «وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ» ۱؎ [33-الأحزاب:4] اور آیت «مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَـٰكِنْ رَسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:40] نازل ہوئیں یعنی ’ بیشک صلبی لڑکے کی بیوی حرام ہے۔ تمہارے لے پالک لڑکے شرعاً تمہاری اولاد کے حکم میں نہیں، تمہارے مردوں میں سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کسی مرد کے باپ نہیں۔ ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:8/149] حسن بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیتیں مبہم ہیں جیسے تمہارے لڑکوں کی بیویاں تمہاری ساسیں، طاؤس ابراہیم زہری اور مکحول رحمہ اللہ علیہم سے بھی اسی طرح مروی ہے میرے خیال میں مبہم سے مراد عام ہیں۔ یعنی مدخول بہا اور غیر مدخول دونوں ہی شامل ہیں اور صرف نکاح کرتے ہی حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ خواہ صحبت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔
اس مسئلہ پر اتفاق ہے اگر کوئی شخص سوال کرے کہ رضاعی بیٹے کی حرمت کیسے ثابت ہو گی کیونکہ آیت میں تو صلبی بیٹے کا ذکر ہے تو جواب یہ ہے کہ وہ حرمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:”رضاعت سے وہ حرام ہے جو نسبت سے حرام ہے۔“ جمہور کا مذہب یہی ہے کہ رضاعی بیٹے کی بیوی بھی حرام ہے بعض لوگوں نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے دو بہنوں کا نکاح میں جمع کرنا بھی تم پر حرام ہے اسی طرح ملکیت کی لونڈیوں کا حکم ہے کہ دو بہنوں سے ایک ہی وقت وطی حرام ہے مگر جاہلیت کے زمانہ میں جو ہو چکا اس سے ہم درگزر کرتے ہیں پس معلوم ہوا کہ اب یہ کام آئندہ کسی وقت جائز نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت «لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى» ۱؎ [44-الدخان:56] یعنی ’ وہاں موت نہیں آئے گی ‘ ہاں پہلی موت جو آنی تھی سو آ چکی تو معلوم ہوا کہ اب آئندہ کبھی موت نہیں آئے گی۔ صحابہ، تابعین، ائمہ اور سلف و خلف کے علماء کرام کا اجماع ہے کہ دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا حرام ہے اور جو شخص مسلمان ہو اور اس کے نکاح میں دو بہنیں ہوں تو اسے اختیار دیا جائے گا کہ ایک کو رکھ لے اور دوسری کو طلاق دیدے اور یہ اسے کرنا ہی پڑے گا فیروز رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں جب مسلمان ہوا تو میرے نکاح میں دو عورتیں تھیں جو آپس میں بہنیں تھیں پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ { ان میں سے ایک کو طلاق دے دو }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1129،قال الشيخ الألباني:حسن] (مسند احمد) ابن ماجہ ابوداؤد اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے۔
ترمذی میں بھی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے جسے چاہو ایک کو رکھ لو اور ایک کو طلاق دے دو“، امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں، ابن ماجہ میں ابوخراش کا ایسا واقعہ بھی مذکور ہے، ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1950،قال الشيخ الألباني: حسن] ممکن ہے کہ سیدنا ضحاک بن فیروز رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوخراش ہو اور یہ واقعہ ایک ہی ہو اور اس کے خلاف بھی ممکن ہے۔
سیدنا دیلمی رضی اللہ عنہ نے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں آپ نے فرمایا: ”ان سے جسے چاہو ایک کو طلاق دے دو“، [ ابن مردویہ ] پس دیلمی سے مراد ضحاک بن فیروز ہیں (رضی اللہ عنہ)، یہ یمن کے ان سرداروں میں سے تھے جنہوں نے اسود عنسی متنبی ملعون کو قتل کیا چنانچہ دو لونڈیوں کو جو آپس میں سگی بہنیں ہوں ایک ساتھ جمع کرنا ان سے وطی کرنا بھی حرام ہے، اس کی دلیل اس آیت کا عموم ہے جو بیویوں اور اور لونڈیوں پر مشتمل ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کا سوال ہوا تو آپ نے مکروہ بتایا سائل نے کہا قرآن میں جو ہے «اِلَّا مَامَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ» [4-النساء:24] یعنی ’ وہ جو جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں ‘،اس پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرا اونٹ بھی تو تیرے داہنے ہاتھ کی ملکیت میں ہے۔ جمہور کا قول بھی یہی مشہور ہے اور آئمہ اربعہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں گو بعض سلف نے اس مسئلہ میں توقف فرمایا ہے۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ایک آیت اسے حلال کرتی ہے دوسری حرام میں تو اس سے منع کرتا سائل وہاں سے نکلا تو راستے میں ایک صحابی سے ملاقات ہوئی اس نے ان سے بھی یہی سوال کیا انہوں نے فرمایا اگر مجھے کچھ اختیار ہوتا تو میں ایسا کرنے والے کو عبرت ناک سزا دیتا، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ یہ فرمانے والے غالباً سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کی مثل مروی ہے۔
استذکار ابن عبد البر میں ہے کہ اس واقعہ کے راوی سیدنا قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام اس لیے نہیں لیا کہ وہ عبدالملک بن مروان کا مصاحب تھا اور ان لوگوں پر آپ کا نام بھاری پڑتا تھا سیدنا الیاس بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ میری ملکیت میں دو لونڈیاں ہیں، دونوں آپس میں سگی بہنیں ہیں ایک سے میں نے تعلقات قائم کر رکھے ہیں اور میرے ہاں اس سے اولاد بھی ہوئی ہے اب میرا جی چاہتا ہے کہ اس کی بہن سے جو میری لونڈی ہے اپنے تعلقات قائم کروں تو فرمائیے شریعت کا اس میں کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: پہلی لونڈی کو آزاد کر کے پھر اس کی بہن سے یہ تعلقات قائم کر سکتے ہو، اس نے کہا اور لوگ تو کہتے ہیں کہ میں اس کا نکاح کرا دوں پھر اس کی بہن سے مل سکتا ہوں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو اس صورت میں بھی خرابی ہے وہ یہ کہ اگر اس کا خاوند اسے طلاق دیدے یا انتقال کر جائے تو وہ پھر لوٹ کر تمہاری طرف آ جائے گی، اسے تو آزاد کر دینے میں ہی سلامتی ہے، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: سنو! آزاد عورتوں اور لونڈیوں کے احکام حلت و حرمت کے لحاظ سے یکساں ہیں ہاں البتہ تعداد میں فرق ہے یعنی آزاد عورتیں چار سے زیادہ جمع نہیں کر سکتے اور لونڈیوں میں کوئی تعداد کی قید نہیں اور دودھ پلائی کے رشتہ سے بھی اس رشتہ کی وہ تمام عورتیں حرام ہو جاتی ہیں جو نسل اور نسب کی وجہ سے حرام ہیں۔ [اس کے بعد تفسیر ابن کثیر کے اصل عربی نسخے میں کچھ عبارت چھوٹی ہوئی ہے بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ عبارت یوں ہو گی کہ یہ روایت ایسی ہے کہ اگر کوئی شخص مشرق سے یا مغرب سے صرف اس روایت کو سننے کے لیے سفر کر کے آئے اور سن کے جائے تو بھی اس کا سفر اس کے لیے سود مند رہے گا اور اس نے گویا بہت سستے داموں بیش بہا چیز حاصل کی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم]
یہ یاد رہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہی جس طرح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے چنانچہ ابن مردویہ میں ہے کہ آپ نے فرمایا: دو لونڈیوں کو جو آپس میں بہنیں ہوں ایک ہی وقت جمع کر کے ان سے مباشرت کرنا ایک آیت سے حرام ہوتا ہے اور دوسری سے حلال۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لونڈیاں مجھ پر میری قرابت کی وجہ سے جو ان سے ہے بعض اور لونڈیوں کو حرام کر دیتی ہیں لیکن انہیں خود آپس میں جو قرابت ہو اس سے مجھ پر حرام نہیں ہوتیں، جاہلیت والے بھی ان عورتوں کو حرام سمجھتے تھے جنہیں تم حرام سمجھتے ہو مگر اپنے باپ کی بیوی کو جو ان کی سگی ماں نہ ہو اور دو بہنوں کو ایک ساتھ ایک وقت میں نکاح میں جمع کرنا وہ حرام نہیں سمجھتے تھے لیکن اسلام نے آ کر ان دونوں کو بھی حرام قرار دیا اس وجہ سے ان دونوں کی حرمت کے بیان کے ساتھ ہی فرما دیا کہ جو نکاح ہو چکے وہ ہو چکے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو آزاد عورتیں حرام ہیں وہی لونڈیاں بھی حرام ہیں ہاں تعداد میں حکم ایک نہیں یعنی آزاد عورتیں چار سے زیادہ جمع نہیں کر سکتے لونڈیوں کے لیے یہ حد نہیں، شعبی رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ سیدنا ابوعمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں جو فرمایا ہے وہی سلف کی ایک جماعت بھی کہتی ہے جن میں سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی ہیں لیکن اولاً تو اس کی نقل میں خود انہی حضرات سے بہت کچھ اختلاف ہوا ہے دوسرے یہ کہ اس قول کی طرف سمجھدار پختہ کار علماء کرام نے مطلقاً توجہ نہیں فرمائی اور نہ اسے قبول کیا حجاز، عراق، شام بلکہ مشرق و مغرب کے تمام فقہاء اس کے مخالف ہیں سوائے ان چند کے جنہوں نے الفاظ کو د
23۔ 1 جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے ان کی تفصیل بیان کی جارہی ہے۔ ان میں سات محرمات نسبی، اور سات رضاعی اور چار سسرالی بھی ہیں۔ ان کے علاوہ حدیث رسول سے ثابت ہے کہ بھتیجی اور پھوپھی اور بھانجی اور خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ سات نسبی محرمات میں مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں بھتیجی اور بھانجی ہیں اور سات رضاعی محرمات میں رضاعی مائیں، رضاعی بیٹیاں، رضاعی بہنیں، رضاعی پھوپھیاں، رضاعی خالائیں رضاعی بھتیجیاں اور رضاعی بھانجیاں اور سسرالی محرمات میں ساس، (مدخولہ بیوی کے پہلے خاوند کی لڑکیاں)، بہو اور دو سگی بہنوں کا جمع کرنا ہے ان کے علاوہ باب کی منکوحہ (جس کا ذکر اس سے پہلی آیات میں ہے) اور حدیث کے مطابق بیوی جب تک عقد نکاح میں ہے اس کی پھوپھی اور اس کی خالہ اور اس کی بھتیجی اور اس کی بھانجی سے بھی نکاح حرام ہے محرمات نسبی کی تفصیل امھات (مائیں) میں ماؤں کی مائیں (نانیاں) ان کی دادیاں اور باپ کی مائیں (دادیاں، پردادیاں اور ان سے آگے تک) شامل ہیں بنات (بیٹیاں) میں پوتیاں نواسیاں اور پوتیوں، نواسیوں کی بیٹیاں (نیچے تک) شامل ہیں زنا سے پیدا ہونے والی لڑکی بیٹی میں شامل ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے ائمہ ثلاثہ اسے بیٹی میں شامل کرتے ہیں اور اس سے نکاح کو حرام سمجھتے ہیں البتہ امام شافعی کہتے ہیں کہ وہ بنت شرعی نہیں ہے پس جس طرح (يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ) 4:11 (اللہ تعالیٰ تمہیں اولاد میں مال متروکہ تقسیم کرنے کا حکم دیتا ہے) میں داخل نہیں اور بالاجماع وہ وارث نہیں اسی طرح وہ اس آیت میں بھی داخل نہیں۔ واللہ اعلم (ابن کثیر) اخوات (بہنیں) عینی ہوں یا اخیافی و علاتی، عمات (پھوپھیاں) اس میں باپ کی سب مذکر اصول یعنی نانا، دادا کی تینوں قسموں کی بہنیں شامل ہیں۔ خالات (خلائیں) اس میں ماں کی سب مؤنث اصول (یعنی نانی دادی) کی تینوں قسموں کی بہنیں شامل ہیں۔ بھتیجیاں، اس میں تینوں قسم کے بھائیوں کی اولاد بواسطہ اور بلاواسطہ (یا صلبی و فرعی) شامل ہیں۔ بھانجیاں اس میں تینوں قسم کی بہنوں کی اولاد بواسطہ و بلاواسطہ یا صلبی و فرعی) شامل ہیں۔ قسم دوم، محرمات رضاعیہ: رضاعی ماں، جس کا دودھ تم نے مدت رضاعت (یعنی ڈھائی سال) کے اندر پیا ہو۔ رضاعی بہن، وہ عورت جسے تمہاری حقیقی یا رضاعی ماں نے دودھ پلایا، تمہارے ساتھ پلایا یا تم سے پہلے یا بعد میں تمہارے اور بہن بھائیوں کے ساتھ پلایا۔ یا جس عورت کی حقیقی ماں نے تمہیں دودھ پلایا، چاہے مختلف اوقات میں پلایا ہو۔ رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہوجائیں گے جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رضاعی ماں بننے والی عورت کی نسبی و رضاعی اولاد دودھ پینے والے بچے کی بہن بھائی، اس عورت کا شوہر اس کا باپ اور اس مرد کی بہنیں اس کی پھوپھیاں اس عورت کی بہنیں خالائیں اور اس عورت کے جیٹھ، دیور اس کے رضاعی چچا، تایا بن جائیں گے اور اس دودھ پینے والے بچے کی نسبی بہن بھائی وغیرہ اس گھرانہ پر رضاعت کی بنا پر حرام نہ ہونگے۔ قسم سوم سسرالی محرمات: بیوی کی ماں یعنی ساس (اس میں بیوی کی نانی دادی بھی داخل ہے)، اگر کسی عورت سے نکاح کر کے بغیر ہم بستری کے ہی طلاق دے دی ہو تب بھی اس کی ماں (ساس) سے نکاح حرام ہوگا۔ التبہ کسی عورت سے نکاح کر کے اسے بغیر مباشرت کے طلاق دے دی ہو تو اس کی لڑکی سے اس کا نکاح جائز ہوگا۔ (فتح القدیر) ربیبۃ: بیوی کے پہلے خاوند سے لڑکی۔ اسکی حرمت مشروط ہے۔ یعنی اس کی ماں سے اگر مباشرت کرلی گئی ہوگی تو ربیبہ سے نکاح حرام بصورت دیگر حلال ہوگا۔ فی حجورکم (وہ ربیبہ جو تمہاری گود میں پرورش پائیں) یہ قید غالب احوال کے اعتبار سے ہے بطور شرط کے نہیں ہے اگر یہ لڑکی کسی اور جگہ بھی زیر پرورش یا مقیم ہوگی۔ تب بھی اس سے نکاح حرام ہوگا۔ حلائل یہ حلیلۃ کی جمع ہے یہ حل یحل (اترنا) ہے فعیلۃ کے وزن پر بمعنی فاعلۃ ہے۔ بیوی کو حلیلہ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کا محل (جائے قیام) خاوند کے ساتھ ہی ہوتا ہے یعنی جہاں خاوند اترتا یا قیام کرتا ہے یہ بھی وہیں اترتی یا قیام کرتی ہے، بیٹوں میں پوتے نواسے بھی داخل ہیں یعنی انکی بیویوں سے بھی نکاح حرام ہوگا، اسی طرح رضاعی اولاد کے جوڑے بھی حرام ہوں گے، من اصلابکم (تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویوں) کی قید سے یہ واضح ہوگیا کہ لے پالک بیٹوں کی بیویوں سے نکاح حرام نہیں ہے، دو بہنیں (رضاعی ہوں یا نسبی) ان سے بیک وقت نکاح حرام ہے البتہ ایک کی وفات کے بعد یا طلاق کی صورت میں عدت گزرنے کے بعد دوسری بہن سے نکاح جائز ہے۔ اسی طرح چار بیویوں میں سے ایک کو طلاق دینے سے پانچویں نکاح کی اجازت نہیں جب تک طلاق یافتہ عورت عدت سے فارغ نہ ہوجائے۔ ملحوظہ: زنا سے حرمت ثابت ہوگی یا نہیں؟ اس میں اہل علم کا ختلاف ہے اکثر اہل علم کا قول ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی عورت سے بدکاری کی تو اس بدکاری کی وجہ سے وہ عورت اس پر حرام نہیں ہوگی اسی طرح اگر اپنی بیوی کی ماں (ساس) سے یا اسکی بیٹی سے (جو دوسرے خاوند سے ہو) زنا کرلے گا تو اسکی بیوی اس پر حرام نہیں ہوگی (دلائل کے لئے دیکھئے، فتح القدیر) احناف اور دیگر بعض علماء کی رائے میں زنا کاری سے بھی حرمت ثابت ہوجائے گی۔
(آیت 23) ➊ {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ …:} جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے ان کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے، ایک تو پچھلی آیت میں بیان ہوا کہ باپ کی منکوحہ سے نکاح کرنا حرام ہے، اب یہاں نسب کے سات حرام رشتوں کا ذکر ہے: (1) ماں: اس کے حکم میں نانی اور دادی اوپر تک، مثلاً، پڑدادی، پڑنانی شامل ہیں۔ (2) بیٹی: اس کے حکم میں پوتی اور نواسی نیچے تک آ جاتی ہیں۔ (3) بہن: سگی ہو یا علاتی یا اخیافی، بہرحال حرام ہے۔ (4) پھوپھی: اس میں دادا کی بہن اور نانا کی بہن بھی داخل ہے۔ (5) خالہ: یہ لفظ ماں، نانی اور دادی سب کی بہنوں کو شامل ہے۔ (7،6) بھتیجی اور بھانجی کے حکم میں ان کی بیٹیاں نیچے تک آ جاتی ہیں۔ (قرطبی) ➋ {وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِيْۤ اَرْضَعْنَكُمْ …:} یعنی نسبی ماں اور بہن کی طرح دودھ کی ماں اور بہن بھی حرام ہیں۔ یہاں دو رشتوں کا ذکر ہے، مگر حدیث کی رو سے وہ ساتوں رشتے جو نسب سے حرام ہیں، دودھ سے بھی حرام ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہیں۔“ [ بخاری، النکاح، باب: «و أمہاتکم التی أرضعنکم» : ۵۰۹۹، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا ] قرآن مجید نے دودھ پینے کو حرمت کا سبب قرار دیا ہے، یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ کم از کم کتنی دفعہ دودھ پیا ہو، مگر مسلم میں ام الفضل اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک یا دو دفعہ دودھ پینا حرمت کا باعث نہیں ہوتا۔“ [ مسلم، الرضاع، باب فی المصۃ والمصتان: ۱۴۵۰، ۱۴۵۱ ] عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ قرآن میں اترنے والے حکم میں تھا کہ دس دفعہ دودھ پینا جو معلوم ہو، حرام کرتا ہے، پھر وہ پانچ کے ساتھ منسوخ ہو گیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور وہ قرآن میں پڑھے جاتے تھے۔ [ مسلم، الرضاع، باب التحریم بخمس رضعات: ۱۴۵۲ ] یاد رہے کہ یہ دودھ پلانا اسی وقت معتبر ہو گا، جب دودھ پلانے کی مدت، یعنی دو سال کے اندر ہو۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۳۳)۔ ➌ {وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىِٕكُمْ:} اس میں بیویوں کی نانیاں اور دادیاں بھی اوپر تک شامل ہیں۔ بیوی کی ماں(ساس) حرام ہے، خواہ بیوی کو جماع سے پہلے طلاق دے دی ہو، یا اس کا انتقال ہو گیا ہو۔ ➍ {وَ رَبَآىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ: ”رَبَائِبُ“ } یہ{” رَبِيْبَةٌ “ } کی جمع ہے، یعنی بیوی کی دوسرے خاوند سے جو لڑکی ہو وہ بھی حرام ہے، بشرطیکہ اپنی بیوی (اس لڑکی کی ماں) سے جماع کر لیا ہو، اگر قبل از جماع طلاق دے دی تو عورت کی لڑکی سے نکاح جائز ہے، اس پر علماء کا اتفاق ہے۔ (قرطبی، ابن کثیر) { ”فِيْ حُجُوْرِكُمْ“ } (تمھاری گود میں) کی قید شرط کے طور پر نہیں، بلکہ اتفاقی ہے یعنی عام حالات میں ایسا ہوتا ہے، ورنہ اگر اس کی پرورش کسی اور جگہ ہوئی ہو تو بھی وہ حرام ہے۔ ➎ {وَحَلَاۤئِلُ أَبْنَاۤئِكُمْ: ”حَلَاۤئِلُ“ } یہ ”{حَلِيْلَةٌ“ } کی جمع ہے، یعنی صلبی بیٹوں کی بیویاں نہ کہ منہ بولے بیٹوں کی بیویاں۔ دیکھیے سورۂ احزاب (37)۔ ➏ {وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ.....:} یہ محل رفع میں ہے، یعنی { ”حُرِّمَ عَلَیْکُمُ الْجَمْعُ بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ“ } کہ دو بہنوں کو، صلبی ہوں یا رضاعی، ایک وقت میں نکاح میں جمع رکھنا حرام ہے۔ قرآن مجید میں صرف دو بہنوں کو جمع کرنا منع ہے، مگر حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو ایک نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔“ [بخاری، النکاح، باب: لا تنکح المرأۃ علی عمتھا: 5109، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے علاوہ سنت بھی شریعت کا مستقل مأخذ ہے، قرآن میں صرف دو بہنوں کو جمع کرنا منع آیا ہے اور حدیث میں پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو جمع کرنا بھی منع آیا ہے، یہ بھی ماننا پڑے گا۔ ➐{ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ:} یعنی پہلے جو رشتے ایسے ہو چکے ان کا کچھ گناہ نہیں، اس کے یہ معنی نہیں کہ ان کو برقرار رکھا جائے گا۔
اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں (محصنات) البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں جو (جنگ میں) تمہارے ہاتھ آئیں یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کر دی گئی ہے اِن کے ماسوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعہ سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے، بشر طیکہ حصار نکاح میں اُن کو محفوظ کرو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھاؤ اس کے بدلے اُن کے مہر بطور فرض ادا کرو، البتہ مہر کی قرارداد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اللہ علیم اور دانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وه جو تمہاری ملکیت میں آجائیں، اللہ تعالیٰ نے یہ احکام تم پر فرض کر دیئے ہیں، اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لئے حلال کی گئیں کہ اپنے مال کے مہر سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو برے کام سے بچنے کے لئے نہ کہ شہوت رانی کرنے کے لئے، اس لئے جن سے تم فائده اٹھاؤ انہیں ان کا مقرر کیا ہوا مہر دے دو، اور مہر مقرر ہو جانے کے بعد تم آپس کی رضامندی سے جو طے کرلو اس میں تم پر کوئی گناه نہیں، بے شک اللہ تعالیٰ علم واﻻ حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے نہ پانی گراتے تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو، اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجاوے تو اس میں گناہ نہیں بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں، جو شوہردار ہوں۔ مگر وہ ایسی عورتیں جو (شرعی جہاد میں) تمہاری ملکیت میں آئیں۔ یہ آئین ہے، اللہ کا جو تم پر لازم ہے۔ اور ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لئے حلال ہیں کہ اپنے مال (حق مہر) کے عوض ان سے شادی کرلو۔ بدکاری سے بچنے اور پاکدامنی کو قائم رکھنے کے لیے اور ان عورتوں میں سے جن سے تم متعہ کرو۔ تو ان کی مقررہ اجرتیں ادا کر دو۔ اور اگر زرِ مہر مقرر کرنے کے بعد تم آپس میں (کم و بیش پر) راضی ہو جاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بے شک اللہ بہت جاننے والا اور بڑی رحمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور خاوند والی عورتیں (بھی حرام کی گئی ہیں) مگر وہ (لونڈیاں) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوں، یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا ہے اور تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں جو ان کے سوا ہیں کہ اپنے مالوں کے بدلے طلب کرو، اس حال میں کہ نکاح میں لانے والے ہو، نہ کہ بدکاری کرنے والے۔ پھر وہ جن سے تم ان عورتوں میں سے فائدہ اٹھائو پس انھیں ان کے مہر دو، جو مقرر شدہ ہوں اور تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم مقرر کر لینے کے بعد آپس میں راضی ہو جائو، بے شک اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا،کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میدان جنگ سے قبضہ میں آنے والی عورتیں اور ... متعہ ٭٭
یعنی خاوندوں والی عورتیں بھی حرام ہیں، ہاں کفار عورتیں جو میدان جنگ میں قید ہو کر تمہارے قبضے میں آئیں تو ایک حیض گزارنے کے بعد وہ تم پر حلال ہیں، مسند احمد میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ اوطاس میں قید ہو کر ایسی عورتیں آئیں جو خاوندوں والیاں تھیں تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بابت سوال کیا تب یہ آیت اتری ہم پر ان سے ملنا حلال کیا گیا۔ ۱؎ [مسند احمد:72/3،11708:صحیح] ترمذی، ابن ماجہ اور صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1456]
طبرانی کی روایت میں ہے کہ یہ واقعہ جنگ خیبر کا ہے، سلف کی ایک جماعت اس آیت کے عموم سے استدلال کرکے فرماتی ہے کہ لونڈی کو بیچ ڈالنا ہی اس کے خاوند کی طرف سے اسے طلاق کامل کے مترادف ہے، ابراہیم رحمہ اللہ سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہی فتویٰ بیان کیا اور اس آیت کی تلاوت فرمائی اور سند سے مروی ہے کہ سیدنا بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب کوئی خاوند والی لونڈی بیچی جائے تو اس کے جسم کا زیادہ حقدار اس کا مالک ہے، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا جابر بن عبداللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کا بھی یہی فتویٰ ہے کہ اس کا بکنا ہی اس کی طلاق ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ لونڈی کی طلاقیں چھ ہیں، بیچنا بھی طلاق ہے آزاد کرنا بھی ہبہ کرنا بھی برات کرنا بھی اور اس کے خاوند کا طلاق دینا بھی (یہ پانچ صورتیں تو بیان ہوئیں چھٹی صورت نہ تفسیر ابن کثیر میں ہے نہ ابن جریر میں۔ مترجم)۔
ابن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاوند والی عورتوں سے نکاح حرام ہے لیکن لونڈیاں کہ ان کی طلاق ان کا بک جانا ہے، معمر اور حسن رحمہ اللہ علیہما بھی یہی فرماتے ہیں ان بزرگوں کا تو یہ قول ہے لیکن جمہور ان کے مخالف ہیں وہ فرماتے ہیں کہ بیچنا طلاق نہیں اس لیے کہ خریدار بیچنے والے کا نائب ہے اور بیچنے والا اس نفع کو اپنی ملکیت سے نکال کر بیچ رہا ہے، ان کی دلیل سیدنا بریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے جو بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جب انہیں خرید کر آزاد کر دیا تو ان کا نکاح مغیث سے فسخ نہیں ہوا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فسخ کرنے اور باقی رکھنے کا اختیار دیا اور سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے فسخ کرنے کو پسند کیا ۱؎ [صحیح بخاری:2563] یہ واقعہ مشہور ہے۔ پس اگر بک جانا ہی طلاق ہوتا جیسے ان بزرگوں کا قول ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو ان کے بک جانے کے بعد اپنے نکاح کے باقی رکھنے نہ رکھنے کا اختیار نہ دیتے، اختیار دینا نکاح کے باقی رہنے کی دلیل ہے، تو آیت میں مراد صرف وہ عورتیں ہیں جو جہاد میں قبضہ میں آئیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «الْمُحْصَنَاتُ» سے مراد پاک دامن عورتیں ہیں یعنی عفیفہ عورتیں جو تم پر حرام ہیں جب تک کہ تم نکاح اور گواہ اور مہر اور ولی سے ان کی عصمت کے مالک نہ بن جاؤ خواہ ایک ہو خواہ دو خواہ تین خواہ چار ابوالعالیہ اور طاؤس رحمہ اللہ علیہما یہی مطلب بیان فرماتے ہیں۔ عمر اور عبید رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ چار سے زائد عورتیں تم پر حرام ہیں ہاں کنیزوں میں یہ گنتی نہیں۔ پھر فرمایا کہ حکم اللہ تعالیٰ نے تم پر لکھ دیا ہے یعنی چار کا پس تم اس کی کتاب کو لازم پکڑو اور اس کی حد سے آگے نہ بڑھو، اس کی شریعت اور اس کے فرائض کے پابند رہو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ حرام عورتیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ظاہر کر دیں۔
پھر فرماتا ہے کہ جن عورتوں کا حرام ہونا بیان کر دیا گیا ان کے علاوہ اور سب حلال ہیں، ایک مطلب یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان چار سے کم تم پر حلال ہیں، لیکن یہ قول دور کا قول ہے اور صحیح مطلب پہلا ہی ہے اور یہی عطا رحمہ اللہ کا قول ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد لونڈیاں ہیں، یہی آیت ان لوگوں کی دلیل ہے جو دو بہنوں کے جمع کرنے کی حلت کے قائل ہیں اور ان کی بھی جو کہتے ہیں کہ ایک آیت اسے حلال کرتی ہے اور دوسری حرام۔ پھر فرمایا تم ان حلال عورتوں کو اپنے مال سے حاصل کرو چار تک تو آزاد عورتیں اور لونڈیاں بغیر تعین کے لیکن ہو بطریق شرع۔ اسی لیے فرمایا زناکاری سے بچنے کے لیے اور صرف شہوت رانی مقصود نہیں ہونا چاہیئے۔ پھر فرمایا کہ جن عورتوں سے تم فائدہ اٹھاؤ ان کے اس فائدہ کے مقابلہ میں مہر دے دیا کرو، جیسے اور آیت میں ہے «وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ» ۱؎ [4-النساء:21] یعنی ’ تم مہر کو عورتوں سے کیسے لو گے حالانکہ ایک دوسرے سے مل چکے ہو ‘۔ اور فرمایا «وَآتُواْ النَّسَاء صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً» ۱؎ [4-النساء:4] یعنی ’ عورتوں کے مہر بخوشی دے دیا کرو ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَلاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا» ۱؎ [2-البقرة:229] یعنی ’ تم نے جو کچھ عورتوں کو دے دیا ہو اس میں سے واپس لینا تم پر حرام ہے ‘۔
اس آیت سے نکاح متعہ پر استدلال کیا ہے بیشک متعہ ابتداء اسلام میں مشروع تھا لیکن پھر منسوخ ہو گیا، امام شافعی رحمہ اللہ اور علمائے کرام کی ایک جماعت نے فرمایا ہے کہ دو مرتبہ متعہ مباح ہوا پھر منسوخ ہوا۔ بعض کہتے ہیں اس سے بھی زیادہ بار مباح اور منسوخ ہوا، اور بعض کا قول ہے کہ صرف ایک بار مباح ہوا پھر منسوخ ہو گیا پھر مباح نہیں ہوا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور چند دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے ضرورت کے وقت اس کی اباحت مروی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت ایسی ہی مروی ہے سیدنا ابن عباس، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا سعید بن جیبر اور سدی رضی اللہ عنہم سے «مِنْهُنَّ» کے بعد «الیٰ أَجَلٌ مُّسَمًّى» کی قرأت مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:176/8] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت نکاح متعہ کی بابت نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور اس کے برخلاف ہیں اور اس کا بہترین فیصلہ بخاری و مسلم کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ والی روایت کر دیتی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والے دن نکاح متعہ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4216] اس حدیث کے الفاظ کتب احکام میں مقرر ہیں۔
صحیح مسلم میں سیدنا سیرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے غزوہ میں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی رخصت دی تھی، یاد رکھو! بیشک اب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے قیامت تک کے لیے حرام کر دیا ہے جس کے پاس اس قسم کی کوئی عورت ہو تو اسے چاہیئے کہ اسے چھوڑ دے اور تم نے جو کچھ انہیں دے رکھا ہو اس میں سے ان سے کچھ نہ لو۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:1406]
صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے حجتہ الوداع میں یہ فرمایا تھا، یہ حدیث کئی الفاظ سے مروی ہے، جن کی تفصیل کی جگہ احکام کی کتابیں ہیں، پھر فرمایا کہ تقرر کے بعد بھی اگر تم بہ رضا مندی کچھ طے کر لو تو کوئی حرج نہیں، اگلے جملے کو متعہ پر محمول کرنے والے تو اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ جب مدت مقررہ گزر جائے پھر مدت کو بڑھا لینے اور جو دیا ہو اس کے علاوہ اور کچھ دینے میں کوئی گناہ نہیں۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں اگر چاہے تو پہلے کے مقرر مہر کے بعد جو دے چکا ہے وقت کے ختم ہونے سے پیشتر پھر کہدے کہ میں اتنی مدت کے لیے پھر متعہ کرتا ہوں پس اگر اس نے رحم کی پاکیزگی سے پہلے دن بڑھا لیے تو جب مدت پوری ہو جائے تو پھر اس کا کوئی دباؤ نہیں وہ عورت الگ ہو جائے گی اور حیض تک ٹھہر کر اپنے رحم کی صفائی کر لے گی ان دونوں میں میراث نہیں نہ یہ عورت اس مرد کی وارث نہ یہ مرد اس عورت کا، اور جن حضرات نے اس جملہ کو نکاح مسنون کی بابت کہا ہے ان کے نزدیک تو مطلب صاف ہے کہ اس مہر کی ادائیگی تاکیداً بیان ہو رہی ہے جیسے فرمایا مہر بہ آسانی اور بہ خوشی دے دیا کرو، اگر مہر کے مقرر ہو جانے کے بعد عورت اپنے پورے حق کو یا تھوڑے سے حق کو چھوڑ دے، معاف کر دے اس سے دست بردار ہو جائے تو میاں بیوی میں سے کسی پر کوئی گناہ نہیں۔ حضرمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ مہر مقرر کر دیتے ہیں پھر ممکن ہے کہ تنگی ہو جائے تو اگر عورت اپنا حق چھوڑ دے تو جائز ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی قول کو پسند کرتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/180] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ مہر کی رقم پوری پوری اس کے حوالے کر دے پھر اسے بسنے اور الگ ہونے کا پورا پورا اختیار دے، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ علیم و حکیم ہے ان کا احکام میں جو حلت و حرمت کے متعلق ہیں جو رحمتیں ہیں اور جو مصلحتیں ہیں انہیں وہی بخوبی جانتا ہے۔
24۔ 1 قرآن کریم میں احصان چار معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔ 1۔ شادی ' 2۔ آزادی ' 3۔ پاکدامنی۔ 4۔ اسلام ' اس اعتبار سے محصنات کے چار مطلب ہیں 1۔ شادی شدہ عورتیں 2۔ پاکدامن عورتیں 3۔ آزاد عورتیں اور 4۔ مسلمان عورتیں۔ یہاں پہلا معنی مراد ہے اس کے شان نزول میں آتا ہے جب بعض جنگوں میں کافروں کی عورتیں بھی مسلمانوں کی قید میں آگئیں تو مسلمانوں نے ان سے ہم بستری کرنے میں کراہت محسوس کی کیونکہ وہ شادی شدہ تھیں صحابہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جس میں یہ آیت نازل ہوئی (ابن کثیر) جس سے یہ معلوم ہوا کہ جنگ میں حاصل ہونے والی کافر عورتیں جب مسلمانوں کی لونڈیاں بن جائیں شادی شدہ ہونے کے باوجود ان سے مباشرت کرنا جائز ہے البتہ استبرائے رحم ضروری ہے۔ یعنی ایک حیض آنے کے بعد یا حاملہ ہیں تو وضع حمل کے بعد ان سے جنسی تعلق قائم کیا جائے۔ لونڈی کا مسئلہ: نزول قرآن کریم کے وقت غلام اور لونڈیاں کا سلسلہ عام تھا جسے قرآن نے بند نہیں کیا البتہ ان کے بارے میں ایسی حکمت عملی اختیار کی گئی کہ جس سے غلاموں اور لونڈیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں حاصل ہوں تاکہ غلامی کی حوصلہ شکنی ہو اس کے دو ذریعے تھے ایک تو بعض خاندان صدیوں سے ایسے چلے آرہے تھے کہ ان کے مرد اور عورت فروخت کردییے جاتے تھے یہی خریدے ہوئے مرد اور عورت غلام اور لونڈی کہلاتے تھے مالک کو ان سے ہر طرح کے استمتاع (فائدہ اٹھانے) کا حق حاصل ہوتا تھا دوسرا ذریعہ جنگ میں قیدیوں والا تھا کہ کافروں کے قیدی عورتوں کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا جاتا تھا اور وہ ان کی لونڈیاں بن کر ان کے پاس رہتی تھیں قیدیوں کے لیے یہ بہترین حل تھا کیونکہ اگر انہیں معاشرے میں یونہی آزاد چھوڑ دیا جاتا تو معاشرے میں ان کے ذریعے سے فساد پیدا ہوتا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتاب الرق فی الاسلام، اسلام میں غلامی کی حقیقت از مولانا سعید احمد اکبر آبادی) بہرحال مسلمان شادی شدہ عورتیں تو ویسے ہی حرام ہیں تاہم کافر عورتیں بھی حرام ہی ہیں الا یہ کہ وہ مسلمانوں کی ملکیت میں آجائیں اس صورت میں استبراء رحم کے بعد وہ ان کے لیے حلال ہیں۔ 24۔ 2 یعنی مذکورہ محرکات قرآنی اور حدیثی کے علاوہ دیگر عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے بشرطیکہ چار چیزیں اس میں ہوں اول یہ کہ طلب کرو یعنی دونوں طرف سے ایجاب و قبول ہو دوسری یہ مہر ادا کرنا قبول کرو۔ تیسری ان کی شادی کی قید (دایمی قبضے) میں لانا مقصود ہو صرف شہوت رانی غرض نہ ہو (جیسے زنا میں یا اس متعہ میں ہوتا ہے جو شیعہ میں رائج ہے یعنی جنسی خواہش کی تسکیں کے لئے چند روز یا چند گھنٹوں کا نکاح چوتھی یہ کہ چھپی یاری نہ ہو بلکہ گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہو یہ چاروں شرطیں اس آیت سے مستفاد ہیں اس سے جہاں شیعوں کے متعہ کا بطلان ہوتا ہے وہیں مروجہ حلالہ کا بھی ناجائز ہونا ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا مقصد بھی عورت کو نکاح کر کے دائمی قید میں لانا نہیں ہوتا، بلکہ عرفایہ صرف ایک رات کے لئے مقرر اور معمود ذہنی ہے۔ 24۔ 3 یہ اس امر کی تاکید ہے کہ جن عورتوں سے تم نکاح شرعی احکام کے ذریعے سے کرو تو انہیں ان کا مقرر کردہ مہر ضرور ادا کرو۔ 24۔ 4 اس میں آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرنے کا اختیار ہے۔ ملحوظہ: " استمتاع " کے لفظ سے شیعہ حضرات نکاح متعہ کا اثبات کرتے ہیں حالانکہ اس سے مراد نکاح کے بعد صحبت و مباشرت کا استمتاع ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔ البتہ متعہ ابتدائے اسلام میں جائز رہا ہے اور اس کا جواز اس آیت کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ اس رواج کی بنیاد پر تھا جو اسلام سے قبل چلا آرہا تھا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت واضح الفاظ میں اسے قیامت تک حرام کردیا۔
(آیت 24) ➊ {وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ …:} اوپر کی آیت میں حرام رشتوں کا ذکر تھا، وہ تو بہر صورت حرام ہیں، خواہ ان میں سے کوئی عورت کسی کی لونڈی بن کر آ جائے۔ اس بنا پر علماء نے لکھا ہے کہ دو بہنوں کو جمع کرنا صرف نکاح ہی میں نہیں بلکہ ایک مالک کی لونڈیاں ہوں تب بھی اسے دونوں سے صحبت حرام ہے۔(ابن کثیر) اب یہاں فرمایا کہ جن عورتوں کے شوہر موجود ہوں ان سے نکاح بھی حرام ہے، ہاں جنگ کی صورت میں دارالحرب سے جو عورتیں قیدی بن کر آئیں تو اموال غنیمت کی تقسیم کے بعد جن کے حصہ میں آئیں گی ان کے لیے ”استبراء“ کے بعد ان سے صحبت جائز ہے، خواہ پیچھے ان کے خاوند موجود ہی کیوں نہ ہوں۔ {”استبراء“} یہ ہے کہ وہ عورت ایک حیض سے پاک ہو جائے، یا اگر حاملہ ہے تو وضع حمل ہو جائے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (۸ھ میں) حنین کے دن اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا، ان کا مقابلہ دشمن سے ہوا تو انھوں نے مقابلہ کیا اور فتح پائی، بہت سے قیدی ان کے ہاتھ آئے، (تقسیم کے بعد جو لونڈیاں حصے میں آئیں) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے ان قیدی عورتوں سے صحبت کو گناہ سمجھا، اس لیے کہ ان کے مشرک شوہر موجود تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «{ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ }» یعنی عدت کے بعد وہ تمھارے لیے حلال کر دی گئی ہیں۔ [ مسلم، الرضاع، باب جواز وطیٔ المسبیۃ…: ۱۴۵۶ ] ➋ احصان کا لفظی معنی محفوظ کرنا ہے، قرآن مجید میں یہ لفظ چند معانی میں آیا ہے: (1) شادی شدہ عورتوں کے معنی میں، جیسے اس آیت کے شروع میں {”الْمُحْصَنٰتُ“} (صاد کے فتحہ کے ساتھ) اسم مفعول کا صیغہ ہے۔ (2) آزاد عورتوں کے معنی میں، جیسے اگلی آیت میں ہے۔ (3) پاک دامن عورتوں کے معنی میں، جیسے اس سے اگلی آیت میں اور سورۂ مائدہ(۵) میں ہے۔ ➌ { كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ:} یعنی جن حرام رشتوں کا اوپر ذکر ہوا ہے، ان سے نکاح نہ کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کا ماننا تم پر لازم ہے۔ (ابن کثیر) ➍ {وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ:} اور ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں، بشرطیکہ حدیث میں ان کی حرمت نہ آئی ہو، مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کے ساتھ اس کی خالہ یا پھوپھی کو بیک وقت نکاح میں رکھنے سے منع فرمایا۔ ایسی ہی چند اور صورتیں بھی ہیں، مثلاً چار سے زیادہ عورتیں بیک وقت نکاح میں رکھنا، یا نکاح متعہ کرنا یا حلالہ کرنا، یا بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور بنت عدو اللہ (ابوجہل) کو ایک نکاح میں جمع کرنا یا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا، یا نکاح شغار یعنی وٹہ سٹہ کا نکاح جس میں یہ شرط ہو کہ اگر تم رشتہ دو گے تو میں رشتہ دوں گا، اس شرط کے بعد مہر مقرر ہو تب بھی نکاح حرام ہے۔ جیسا کہ ابوداوٗد میں ہے کہ عباس بن عبد اللہ بن عباس نے عبد الرحمان بن حکم سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا اور عبد الرحمان بن حکم نے اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کر دیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کی طرف خط لکھا اور اسے حکم دیا کہ ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دیں اور دونوں نے مہر بھی مقرر کیا تھا۔ [ أبوداوٗد، النکاح، باب فی الشغار: ۲۰۷۵۔ و صححہ الألبانی ] ➎ { اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ …:} موضح میں ہے کہ ان مذکورہ محارم کے سوا سب حلال ہیں، مگر چار شرطوں کے ساتھ، اول یہ کہ طلب کرو، یعنی دونوں طرف سے زبانی ایجاب و قبول ہو، دوسرے یہ کہ مال یعنی مہر دینا قبول کرو، تیسرے یہ کہ ان عورتوں کو قید (دائمی قبضہ) میں لانا غرض ہو، (صرف) مستی نکالنے کی غرض نہ ہو (جیسے زنا میں ہوتا ہے) یعنی وہ عورت اس مرد کی بندی ہو جائے، چھوڑے بغیر نہ چھوٹے، یعنی کسی مہینے یا برس (مدت) کا ذکر نہ آئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ متعہ حرام ہے(اور حلالہ بھی، کیونکہ اس میں بھی جماع کے بعد طلاق کی نیت ہوتی ہے۔) چوتھی یہ کہ چھپی یاری نہ ہو، مراد لوگ نکاح کے شاہد ہوں، کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں، یہی چار شرطیں اس آیت سے سمجھ میں آ رہی ہیں۔ اس چوتھی شرط میں یہ بھی شامل ہے کہ نکاح ولی کرکے دے، کیونکہ ولی کے بغیر نکاح چھپی یاری میں داخل ہے۔ اسلام نے ولی کے بغیر نکاح کو باطل قرار دیا قرآن و حدیث کے دلائل کے لیے دیکھیے صحیح بخاری میں {”کتاب النكاح، باب من قال لا نكاح إلا بولي: ۵۱۲۷“} ➏ {فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ:} یعنی نکاح کے بعد جن عورتوں سے فائدہ اٹھاؤ، یعنی صحبت کرو ان کے پورے مہر ان کے حوالے کرو۔ اکثر پہلے اور پچھلے مفسرین نے یہی معنی کیے ہیں کہ استمتاع سے مراد نکاح شرعی (جس کی چار شرطوں کا اوپر ذکر آیا ہے) کے بعد صحبت ہے۔ رافضیوں نے اس سے متعہ کا جواز ثابت کیا ہے، مگر علمائے اہل سنت بالاجماع اس کی حرمت کے قائل ہیں۔ ہجرت کے ابتدائی برسوں میں بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس آیت کی رو سے نہیں بلکہ) اس رواج کی بنیاد پر جو اسلام سے پہلے چلا آ رہا تھا (جسے استصحابِ حال کہتے ہیں) بعض مواقع پر حسب ضرورت متعہ کی اجازت دی، مگر بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت واضح الفاظ میں اسے قیامت تک کے لیے حرام کر دیا۔ سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! میں نے تمھیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تھی مگر اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے حرام قرار دے دیا ہے، سو اب جن کے پاس متعہ والی عورتیں ہیں وہ انھیں چھوڑ دیں اور جو مال تم نے انھیں دیا ہے وہ ان سے واپس نہ لو۔“ [ مسلم، النکاح، باب نکاح المتعۃ…: 1406/21 ] نیز متعہ والی عورتیں نہ لونڈیاں ہیں نہ بیویاں تو ان سے متعہ کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۵ تا ۷)۔ ➐ {وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ …:} یعنی اگر خاوند اور بیوی باہمی رضا مندی سے طے شدہ مہر میں کمی بیشی کر لیں تو کچھ حرج نہیں ہے۔
اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (محصنات) سے نکاح کر سکے اسے چاہیے کہ تمہاری اُن لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کر لے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو، لہٰذا اُن کے سرپرستوں کی اجازت سے اُن کے ساتھ نکاح کر لو اور معروف طریقہ سے اُن کے مہر ادا کر دو، تاکہ وہ حصار نکاح میں محفوظ (محصنات) ہو کر رہیں، آزاد شہوت رانی کرتی پھریں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کریں پھر جب وہ حصار نکاح میں محفوظ ہو جائیں اور اس کے بعد کسی بد چلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اُس سز ا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو خاندانی عورتوں (محصنات) کے لیے مقرر ہے یہ سہولت تم میں سے اُن لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بند تقویٰ کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم میں سے جس کسی کو آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی پوری وسعت وطاقت نہ ہو تو وه مسلمان لونڈیوں سے جن کے تم مالک ہو (اپنا نکاح کر لے) اللہ تمہارے اعمال کو بخوبی جاننے واﻻ ہے، تم سب آپس میں ایک ہی تو ہو، اس لئے ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لو، اور قاعده کے مطالق ان کے مہر ان کو دو، وه پاک دامن ہوں نہ کہ علانیہ بدکاری کرنے والیاں، نہ خفیہ آشنائی کرنے والیاں، پس جب یہ لونڈیاں نکاح میں آجائیں پھر اگر وه بے حیائی کا کام کریں تو انہیں آدھی سزا ہے اس سزا سے جو آزاد عورتوں کی ہے۔ کنیزوں سے نکاح کا یہ حکم تم میں سے ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں گناه اور تکلیف کا اندیشہ ہو اور تمہارا ضبط کرنا بہت بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ اور بڑی رحمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے، تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے اور حسب دستور ان کے مہر انہیں دو قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی جب وہ قید میں آجائیں پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے یہ اس کے لئے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے، اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم میں سے جو شخص مالی حیثیت سے اس کی قدرت نہ رکھتا ہو کہ وہ (خاندانی) مسلمان آزاد عورتوں سے نکاح کر سکے۔ تو وہ ان مسلمان لونڈیوں سے (نکاح کرلے) جو تمہاری ملکیت میں ہوں اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے تم (اسلام کی حیثیت سے) سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس ان (لونڈیوں) کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو۔ اور بھلائی کے ساتھ ان کے حق مہر ادا کرو۔ تاکہ وہ (قید نکاح میں آکر) پاکدامن رہیں۔ اور شہوت رانی نہ کرتی پھریں۔ اور نہ ہی چوری چھپے آشنا بناتی پھریں۔ سو جب وہ قید نکاح میں محفوظ ہو جائیں تو اگر اب بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کے لئے آزاد عورتوں کی نصف سزا ہوگی۔ یہ رعایت (کہ خاندانی مسلمان آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو تو کنیز سے نکاح کرنے کا جواز) اس شخص کے لئے ہے جسے (نکاح نہ کرنے سے) بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اور اگر ضبط سے کام لو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تم میں سے جو مالی لحاظ سے طاقت نہ رکھے کہ آزاد مومن عورتوں سے نکاح کرے تو ان میں سے جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوں، تمھاری مومن لونڈیوں سے (نکاح کرلے) اور اللہ تمھارے ایمان کو زیادہ جاننے والا ہے، تمھارا بعض بعض سے ہے۔ تو ان سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کر لو اور انھیں ان کے مہر اچھے طریقے سے دو، جب کہ وہ نکاح میں لائی گئی ہوں، بدکاری کرنے والی نہ ہوں اور نہ چھپے یار بنانے والی، پھر جب وہ نکاح میں لائی جاچکیں تو اگر کسی بے حیائی کا ارتکاب کریں تو ان پر اس سزا کا نصف ہے جو آزاد عورتوں پر ہے۔ یہ اس کے لیے ہے جو تم میں سے گناہ میں پڑنے سے ڈرے اور یہ کہ تم صبر کرو تمھارے لیے بہتر ہے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آزاد عورتوں سے نکاح اور کنیزوں سے متعلق ہدایات ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ جسے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی وسعت قدرت نہ ہو، ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «طول» سے مراد قصد و خواہش یعنی لونڈی سے نکاح کی خواہش، ابن جریر رحمہ اللہ نے اس قول کو وارد کر کے پھر اسے خود ہی توڑ دیا ہے، مطلب یہ کہ ایسے حالات میں مسلمانوں کی ملکیت میں جو مسلمان لونڈیاں ہیں ان سے وہ نکاح کر لیں، تمام کاموں کی حقیقت اللہ تعالیٰ پر واضح ہے، تم حقائق کو صرف سطحی نگاہ سے دیکھتے ہو، تم سب آزاد اور غلام ایمانی رشتے میں ایک ہو، لونڈی کا ولی اس کا سردار ہے اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح منعقد نہیں ہو سکتا، اسی طرح غلام بھی اپنے سردار کی رضا مندی حاصل کئے بغیر اپنا نکاح نہیں کر سکتا۔ حدیث میں ہے جو غلام بغیر اپنے آقا کی اجازت کے اپنا نکاح کر لے وہ زانی ہے، ۱؎ [سنن ترمذي:1111،قال الشيخ الألباني:صحیح] ہاں اگر کسی لونڈی کی مالکہ کوئی عورت ہو تو اس کی اجازت سے اس لونڈی کا نکاح وہ کرائے جو عورت کا نکاح کراسکتا ہے۔ کیونکہ حدیث میں ہے عورت عورت کا نکاح نہ کرائے نہ عورت اپنا نکاح کرائے، وہ عورتیں زنا کار ہیں جو اپنا نکاح آپ کرتی ہیں۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1882:صحیح]
پھر فرمایا عورتوں کے مہر خوش دلی سے دے دیا کرو، گھٹا کر کم کر کے تکلیف پہنچا کر لونڈی سمجھ کر کمی کر کے نہ دو۔ پھر فرماتا ہے کہ دیکھ لیا کرو یہ عورتیں بدکاری کی طرف از خود مائل نہ ہوں، نہ ایسی ہوں اگر کوئی ان کی طرف مائل ہو تو یہ جھک جائیں، یعنی نہ تو اعلانیہ زنا کار ہوں نہ خفیہ بدکردار ہوں کہ ادھر ادھر آشنائیاں کرتی پھریں اور چپ چاپ دوست آشنا بناتی پھریں، جو ایسی بد اطوار ہوں ان سے نکاح کرنے کو اللہ تعالیٰ منع فرما رہا ہے «احصن» کی دوسری قرأت «احصن» بھی ہے، کہا گیا ہے کہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے، یہاں احصان سے مراد اسلام ہے یا نکاح والی ہو جانا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:3/923:ضعیف] ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان کا احصان اسلام اور عفت ہے لیکن یہ حدیث منکر ہے اس میں ضعف بھی ہے اور ایک راوی کا نام نہیں، ایسی حدیث حجت کے لائق نہیں ہوتی۔ دوسرا قول یعنی احصان سے مراد نکاح ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:8/202] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد، عکرمہ، طاؤس، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے، امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی ابوعلی طبری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ایضاح میں یہی نقل کیا ہے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں لونڈی کا محصن ہونا یہ ہے کہ وہ کسی آزاد کے نکاح میں چلی جائے، اسی طرح غلام کا احصان یہ ہے کہ وہ کسی آزاد مسلمہ سے نکاح کر لے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ منقول ہے، شعبی اور نخعی رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں قرآتوں کے اعتبار سے معنی بھی بدل جاتے ہیں، «احصن» سے مراد تو نکاح ہے اور «احصن» سے مراد اسلام ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن بظاہر مراد یہاں نکاح کرنا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اسی لیے کہ سیاق آیات کی دلالت اسی پر ہے، ایمان کا ذکر تو لفظوں میں موجود ہے بہر دو صورت جمہور کے مذہب کے مطابق آیت کے معنی میں ابھی بھی اشکال باقی ہے اس لیے کہ جمہور کا قول ہے کہ لونڈی کو زنا کی وجہ سے پچاس کوڑے لگائے جائیں گے خواہ وہ مسلمہ ہو یا کافرہ ہو شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو باوجود یہ کہ آیت کے مفہوم کا تقاضا یہ ہے کہ غیر محصنہ لونڈی پر حد ہی نہ ہو، پس اس کے مختلف جوابات دیئے گئے ہیں۔
جمہور کا قول ہے کہ بیشک ”جو بولا گیا“ مفہوم پر مقدم ہے اس لیے ہم نے ان عام احادیث کو جن میں لونڈیوں کو حد مارنے کا بیان ہے اس آیت کے مفہوم پر مقدم کیا۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو! اپنی لونڈیوں پر حدیں قائم رکھو خواہ وہ محصنہ ہوں یا نہ ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی لونڈی کے زنا پر حد مارنے کو فرمایا، چونکہ وہ نفاس میں تھی اس لیے مجھے ڈر لگا کہ کہیں حد کے کوڑے لگنے سے یہ مر نہ جائے چنانچہ میں نے اس وقت اسے حد نہ لگائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا تم نے اچھا کیا جب تک وہ ٹھیک ٹھاک نہ ہو جائے حد نہ مارنا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1705]
ممسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا جب یہ نفاس سے فارغ ہو تو اسے پچاس کوڑے لگانا۔ ۱؎ [عبد اللہ بن احمد فی زوائد المسند:1/136،1146] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور زنا ظاہر ہو جائے تو اسے وہ حد مارے اور برا بھلا نہ کہے پھر اگر دوبارہ زنا کرے تو بھی حد لگائے اور ڈانٹ جھڑک نہ کرے، پھر اگر تیسری مرتبہ زنا کرے اور ظاہر ہو تو اسے بیچ ڈالے اگرچہ بالوں کی رسی کے ٹکڑے کے بدلے ہی ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6839] اور صحیح مسلم میں ہے کہ جب تین بار یہ فعل اس سے سرزد ہو تو چوتھی دفعہ فروخت کر ڈالے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1703] عبداللہ بن عیاش بن ابو ربیعہ مخزومی فرماتے ہیں کہ ہم چند قریشی نوجوانوں کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے امارت کی لونڈیوں سے کئی ایک پر حد جاری کرنے کو فرمایا ہم نے انہیں زنا کی حد میں پچاس پچاس کوڑے لگائے۔ ۱؎ [بیہقی:242/8:موقوف صحیح] دوسرا جواب ان کا ہے جو اس بات کی طرف گئے ہیں کہ لونڈی پر احصان بغیر حد نہیں وہ فرماتے ہیں کہ یہ مارنا صرف بطور ادب سکھانے اور باز رکھنے کے ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسی طرف گئے ہیں طاؤس، سعید، ابو عبید، داؤد ظاہری رحمہ اللہ علیہم کا مذہب بھی یہی ہے ان کی بڑی دلیل مفہوم آیت ہے اور یہ شرط کے مفہوموں میں سے ہے اور اکثر کے نزدیک یہ محض حجت ہے اس لیے ان کے نزدیک ایک عموم پر مقدم ہو سکتا ہے۔ اور سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہما کی حدیث جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ جب لونڈی زنا کرے اور وہ محصنہ نہ ہو یعنی اس کا نکاح نہ ہوا ہو تو کیا کیا جائے؟ آپ نے فرمایا: ”اگر وہ زنا کرے تو اسے حد لگاؤ، پھر زنا کرے تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر بیچ ڈالو اگر ایک بالوں کی رسی کے عوض ہی کیوں نہ بیچنا پڑے“، راوی حدیث ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں جانتا کہ تیسری مرتبہ کے بعد یہ فرمایا یا چوتھی مرتبہ کے بعد۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2153]
پس اس حدیث کے مطابق وہ جواب دیتے ہیں کہ دیکھو یہاں کی حد کی مقدار اور کوڑوں کی تعداد بیان نہیں فرمائی جیسے کہ محصنہ کے بارے میں صاف فرما دیا ہے اور جیسے کہ قرآن میں مقرر طور پر فرمایا گیا کہ محصنات کی نسبت نصف حد ان پر ہے، پس آیت و حدیث میں اس طرح تطبیق دینا واجب ہو گئی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس سے بھی زیادہ صراحت والی وہ روایت ہے جو سعید بن منصور نے بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی لونڈی پر حد نہیں جب تک کہ وہ «احصان» والی نہ ہو جائے یعنی جب تک نکاح والی نہ ہو جائے پس جب خاوند والی بن جائے تو اس پر آدھی حد ہے بہ نسبت اس حد کے جو آزاد نکاح والیوں پر ہے۔“ [بیہقی:364/6] یہ حدیث ابن خزیمہ میں بھی ہے لیکن وہ فرماتے ہیں اسے مرفوع کہنا خطا ہے یہ موقوف ہے یعنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے، بیہقی میں بھی یہ روایت ہے اور آپ کا بھی یہی فیصلہ ہے اور کہتے ہیں کہ سیدنا علی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما والی حدیثیں ایک واقعہ کا فیصلہ ہیں، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث دوسرے واقعہ کا فیصلہ ہیں۔ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کے بھی کئی جوابات ہیں ایک تو یہ کہ یہ محمول ہے اس لونڈی پر جو شادی شدہ ہو اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق اور جمع ہو جاتی ہے دوسرے یہ کہ اس حدیث میں لفظ حد کسی راوی کا داخل کیا ہوا ہے اور اس کی دلیل جواب کا فقرہ ہے۔
تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث دو صحابیوں کی ہے اور وہ حدیث صرف ایک صحابی کی ہے اور ایک والی پر دو والی مقدم ہے، اور اسی طرح یہ حدیث نسائی میں بھی مروی ہے اور مسلم کی شرط پر اس کی سند ہے کہ عباد بن تمیم رحمہ اللہ اپنے چچا سے جو بدری صحابی تھے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر جب زنا کرے تو کوڑے مارو، پھر جب زنا کرے تو کوڑے لگاؤ، پھر جب زنا کرے تو بیچ دو بالوں کی ایک رسی کے بدلے ہی بیچنا پڑے۔۔“ چوتھا جواب یہ ہے کہ یہ بھی بعید نہیں کہ کسی راوی نے جلد کو حد خیال کر لیا ہو یا لفظ حد کا اطلاق کر دیا ہو اور اس نے جلد کو حد خیال کر لیا ہو یا لفظ حد کا اطلاق تادیب کے طور پر سزا دینے پر کر دیا ہو جیسے کہ لفظ حد کا اطلاق اس سزا پر بھی کیا گیا ہے جو بیمار زانی کو کھجور کا ایک خوشہ مارا گیا تھا جس میں ایک سو چھوٹی چھوٹی شاخیں تھیں، اور جیسے کہ لفظ حد کا اطلاق اس شخص پر بھی کیا گیا ہے جس نے اپنی بیوی کی اس لونڈی کے ساتھ زنا کیا جسے بیوی نے اس کے لیے حلال کر دیا تھا حالانکہ اسے سو کوڑوں کا لگنا تعزیر کے طور پر صرف ایک سزا ہے جیسے کہ امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ سلف کا خیال ہے۔ حد حقیقی صرف یہ ہے کہ کنوارے کو سو کوڑے اور بیاہے ہوئے کو یا لوطی کو رجم۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن ماجہ وغیرہ میں سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ لونڈی نے جب تک نکاح نہیں کیا اسے زنا پر مارا نہ جائے، اس کی اسناد تو صحیح ہے لیکن معنی دو ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ بالکل مارا ہی نہ جائے نہ حد نہ اور نہ کچھ تو یہ قول بالکل غریب ہے، ممکن ہے آیت کے الفاظ پر نظر کرکے یہ فتویٰ دے دیا ہو اور حدیث نہ پہنچی ہو، دوسرے معنی یہ ہیں کہ حد کے طور پر نہ مارا جائے اگر یہ معنی مراد لیے جائیں تو اس کے خلاف نہیں کہ اور کوئی سزا کی جائے، پس یہ قیاس سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا وغیرہ کے فتوے کے مطابق ہو جائے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» تیسرا جواب یہ ہے کہ آیت میں دلالت ہے کہ محصنہ لونڈی پر بہ نسبت آزاد عورت کے آدھی حد ہے، لیکن محصنہ ہونے سے پہلے کتاب و سنت کے عموم میں یہ بھی شامل ہے کہ اسے بھی سو کوڑے مارے جائیں جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے «اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُـمَا مِائَـةَ جَلْدَ» ۱؎ [24-النور:2] یعنی ’ زنا کار عورت زنا کار مرد کو ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو ‘۔ جیسے حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میری بات لے لو، میری بات سمجھ لو، اللہ نے ان کے لیے راستہ نکال لیا، اگر دونوں جانب غیر شادی شدہ ہیں تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور اگر دونوں طرف شادی شدہ ہیں تو سو کوڑے اور پتھروں سے رجم کر دینا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:1690] یہ حدیث صحیح مسلم کی ہے اور اسی طرح کی اور حدیثیں بھی ہیں۔
داؤد بن علی ظاہری رحمہ اللہ کا یہی قول ہے لیکن یہ سخت ضعیف ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے محصنہ لونڈیوں کو بہ نسبت آزاد کے آدھے کوڑے مارنے کا عذاب بیان فرمایا یعنی پچاس کوڑے تو پھر جب تک وہ محصنہ نہ ہوں اس سے بھی زیادہ سزا کی سزاوار وہ کیسے ہو سکتی ہیں؟ حالانکہ قاعدہ شریعت یہ ہے کہ «احصان» سے پہلے کم سزا ہے اور «احصان» کے بعد زیادہ سزا ہے پھر اس کے برعکس کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ دیکھئیے شارع علیہ السلام سے آپ کے صحابہ غیر شادی شدہ لونڈی کے زنا کی سزا پوچھتے ہیں اور آپ انہیں جواب دیتے ہیں کہ اسے کوڑے مارو لیکن یہ نہیں فرماتے کہ ایک سو کوڑے لگاؤ پس اگر اس کا حکم وہی ہوتا جو داؤد رحمہ اللہ سمجھتے ہیں تو اسے بیان کر دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھا اس لیے کہ ان کا یہ سوال تو صرف اسی وجہ سے تھا کہ لونڈی کے شادی شدہ ہو جانے کے بعد اسے کوڑے مارنے کا بیان نہیں ورنہ اس قید کے لگانے کی کیا ضرورت تھی کہ سوال میں کہتے وہ غیر شادی شدہ ہے کیونکہ پھر تو شادی شدہ اور غیر شادی شدہ میں کوئی فرق ہی نہ رہا اگر یہ آیت اتری ہوئی نہ ہوتی لیکن چونکہ ان دونوں صورتوں میں سے ایک کا علم تو انہیں ہو چکا تھا اس لیے دوسری کی بابت سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دے کر معلوم کرا دیا جیسے بخاری و مسلم میں ہے کہ جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ پر درود پڑھنے کی نسبت پوچھا تو آپ نے اسے بیان فرمایا اور فرمایا: ”سلام تو اسی طرح ہے جس طرح تم خود جانتے ہو۔“
اور ایک روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا فرمان «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:56] نازل ہوا اور صلوۃ و سلام آپ پر بھیجنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ سلام کا طریقہ اور اس کے الفاظ تو ہمیں معلوم ہیں صلوۃ کی کیفیت بیان فرمائے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4798] پس ٹھیک اسی طرح یہ سوال ہے۔ مفہوم آیت کا چوتھا جواب ابوثور کا ہے جو داؤد رحمہ اللہ کے جواب سے زیادہ بودا ہے، وہ فرماتے ہیں جب لونڈیاں شادی شدہ ہو جائیں تو ان کی زناکاری کی حد ان پر آدھی ہے اس حد کی جو شادی شدہ آزاد عورتوں کی زناکاری کی حد ہے تو ظاہر ہے کہ آزاد عورتوں کی حد اس صورت میں رجم ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ رجم آدھا نہیں ہو سکتا تو لونڈی کو اس صورت میں رجم کرنا پڑے گا اور شادی سے پہلے اسے پچاس کوڑے لگیں گے، کیونکہ اس حالت میں آزاد عورت پر سو کوڑے ہیں۔
پس دراصل آیت کا مطلب سمجھنے میں اس سے خطا ہوئی اور اس میں جمہور کا بھی خلاف ہے بلکہ امام شافعی رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں کسی مسلمان کا اس میں اختلاف ہی نہیں کہ مملوک پر زنا کی سزا میں رجم ہے ہی نہیں، اس لیے کہ آیت کی دلالت کرنی ہے کہ ان پر «محصنات» کا نصف عذاب ہے اور «محصنات» کے لفظ میں جو «الف لام» ہے وہ عہد کا ہے یعنی وہ «محصنات» جن کا بیان آیت کے شروع میں ہے «وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ» [4-النساء:25] میں گزر چکا ہے اور مراد صرف آزاد عورتیں ہیں۔ اس وقت یہاں آزاد عورتوں کا نکاح کے مسئلہ کی بحث نہیں بحث یہ ہے کہ پھر آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زناکاری کی جو سزا تھی اس سے آدھی سزا ان لونڈیوں پر ہے تو معلوم ہوا کہ یہ اس سزا کا ذکر ہے جو آدھی ہو سکتی ہو اور وہ کوڑے ہیں کہ سو سے آدھے پچاس رہ جائیں گے رجم یعنی سنگسار کرنا ایسی سزا ہے جس کے حصے نہیں ہو سکتے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مسند احمد میں ایک واقعہ ہے جو ابثور کے مذہب پوری تردید کرتا ہے اس میں ہے کہ صفیہ لونڈی نے ایک غلام سے زناکاری کی اور اسی زنا سے بچہ ہوا جس کا دعویٰ زانی نے کیا مقدمہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کا تصفیہ سونپا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے بچہ تو اس کا سمجھا جائے گا جس کی یہ لونڈی ہے اور زانی کو پتھر مارے جائیں گے پھر ان دونوں کو پچاس پچاس کوڑے لگائے گئے۔ ۱؎ [مسند احمد:1/104:ضعیف ولہ شواھد] یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد مفہوم سے تنبیہہ ہے اعلیٰ کے ساتھ ادنیٰ پر یعنی جب کہ وہ شادی شدہ ہوں تو ان پر بہ نسبت آزاد عورتوں کے آدھی حد ہے پس ان پر رجم تو سرے سے کسی صورت میں ہے ہی نہیں نہ قبل از نکاح نہ بعد نکاح، دونوں حالتوں میں صرف کوڑے ہیں جس کی دلیل حدیث ہے، صاحب الایضاح یہی فرماتے ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی اسکو ذکر کرتے ہیں، امام بیہقی اپنی کتاب سنن و آثار میں بھی اسے لائے ہیں لیکن یہ قول لفظ آیت سے بہت دور ہے اس طرح کی آدھی حد کی دلیل صرف آیت ہے اس کے سوا کچھ نہیں پس اس کے علاوہ میں آدھا ہونا کس طرح سمجھا جائے گا؟
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ شادی شدہ ہونے کی حالت میں صرف امام ہی حد قائم کر سکتا ہے اس لونڈی کا مالک اس حال میں اس پر حد جاری نہیں کر سکتا امام احمد رحمہ اللہ کے مذہب میں ایک قول یہی ہے ہاں شادی سے پہلے اس کے مالک کو حد جاری کرنے کا اختیار ہے بلکہ حکم ہے لیکن دونوں صورتوں میں حد آدھی ہی آدھی رہے گی اور یہ بھی دور کی بات ہے اس لیے کہ آیت میں اس کی دلالت بھی نہیں، اگر اگر یہ آیت نہ ہوتی تو ہم نہیں جان سکتے تھے کہ لونڈیوں کے بارے میں آدھی حد ہے اور اس صورت میں انہیں بھی عموم میں داخل کر کے پوری حد یعنی سو کوڑے اور رجم ان پر بھی جاری کرنا واجب ہو جاتا جیسے کہ عام روایتوں سے ثابت ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگو اپنے ماتحتوں پر حدیں جاری کرو شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ اور وہ عام حدیثیں جو پہلے گزر چکی ہیں جن میں خاوندوں والی اور بغیر خاوندوں والیوں کی کوئی تفصیل نہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت والی حدیث جس سے جمہور نے دلیل پکڑی ہے یہ ہے کہ جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور پھر اس کا زنا ظاہر ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ اس پر حد جاری کرے اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے (ملخص) الغرض لونڈی کی زناکاری کی حد میں کئی قول ہیں ایک تو یہ کہ جب تک اس کا نکاح نہیں ہوا اسے پچاس کوڑے مارے جائیں گے اور نکاح ہو جانے کے بعد بھی یہی حد رہے گی اور اسے جلا وطن بھی کیا جائے گا یا نہیں؟ اس میں تین قول ہیں ایک یہ کہ جلا وطنی ہو گی دوسرے یہ کہ نہ ہو گی تیسرے یہ کہ جلا وطنی میں آدھے سال کو ملحوظ رکھا جائے گا یعنی چھ مہینے کا دیس نکالا دیا جائے گا پورے سال کا نہیں، پورا سال آزاد عورتوں کے لیے ہے۔
یہ تینوں قول امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب میں ہیں، لیکن امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جلا وطنی تعزیر کے طور پر ہے وہ حد میں سے نہیں امام کی رائے پر موقوف ہے اگر چاہے جلا وطنی دے یا نہ دے مرد و عورت سب اسی حکم میں داخل ہیں ہاں امام مالک رحمہ اللہ کے مذہب میں ہے کہ جلا وطنی صرف مردوں کے لیے ہے عورتوں پر نہیں اس لیے کہ جلا وطنی صرف اس کی حفاظت کے لیے ہے اور اگر عورت کو جلا وطن کیا گیا تو حفاظت میں سے نکل جائے گی اور مردوں یا عورتوں کے بارے میں دیس نکالے کی حدیث صرف سیدنا عبادہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زانی کے بارے میں جس کی شادی نہیں ہوئی تھی حد مارنے اور ایک سال دیس نکالا دینے کا حکم فرمایا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6833] اس سے معنی مراد یہی ہے کہ اس کی حفاظت رہے اور عورت کو وطن سے نکالے جانے میں یہ حفاظت بالکل ہی نہیں ہو سکتی۔ «واللہ اعلم»
دوسرا قول یہ ہے کہ لونڈی کو اس کی زناکاری پر شادی کے بعد پچاس کوڑے مارے جائیں گے اور ادب سکھانے کے طور پر اسے کچھ مار پیٹ کی جائے گی لیکن اس کی کوئی مقرر گنتی نہیں پہلے گزر چکا ہے کہ شادی سے پہلے اسے مارا نہ جائے گا جیسے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا قول ہے لیکن اگر اس سے یہ مراد لی جائے کہ سرے سے کچھ مارنا ہی نہ چاہیئے تو یہ محض تاویل ہی ہو گی ورنہ قول ثانی میں اسے داخل کیا جا سکتا ہے جو یہ ہے کہ شادی سے پہلے سو کوڑے اور شادی کے بعد پچاس جیسے کے داؤد رحمہ اللہ کا قول ہے اور یہ تمام اقوال سے بودا قول ہے اور قول یہ کہ شادی سے پہلے پچاس کوڑے اور شادی کے بعد رجم جیسے کہ ابوثور رحمہ اللہ کا قول ہے لیکن یہ قول بھی بودا ہے۔ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ» پھر فرمان ہے کہ لونڈیوں سے نکاح کرنا ان شرائط کی موجودگی میں جو بیان ہوئیں ان کے لیے جنہیں زنا میں واقع ہونے کا خطرہ ہو اور تجرد اس پر بہت شاق گزر رہا ہو اور اس کی وجہ سے سخت تکلیف میں ہو تو بےشک اسے انہیں پاکدامن لونڈیوں سے نکاح کر لینا جائز ہے گو اس حالت میں بھی اپنے نفس کو روکے رکھنا اور ان سے نکاح نہ کرنا بہت بہتر ہے اس لیے کہ اس سے جو اولاد ہوگی وہ اس کے مالک کی لونڈی غلام ہوگی ہاں اگر خاوند غریب ہو تو اس کی یہ اولاد اس کے آقا کی ملکیت امام شافعی رحمہ اللہ کے قول قدیم کے مطابق نہ ہو گی۔
پھر فرمایا اگر تم صبر کرو تو تمہارے لیے افضل ہے اور اللہ غفور و رحیم ہے، جمہور علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ لونڈی سے نکاح جائز ہے لیکن یہ اس وقت جب آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو اور نہ ہی رکے رہنے کی طاقت ہو، بلکہ زنا واقع ہو جانے کا خوف ہو۔ کیونکہ اس میں ایک خرابی تو یہ ہے کہ اولاد غلامی میں جاتی ہے دوسرے ایک طرح کی سبکی ہے کہ آزاد عورت کو چھوڑ کر لونڈیوں کی طرف متوجہ ہونا۔
ہاں جمہور کے مخالف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں یہ دونوں باتیں شرط نہیں بلکہ جس کے نکاح میں کوئی آزاد عورت نہ ہو اسے لونڈی سے نکاح جائز ہے وہ لونڈی خواہ مومنہ ہو خواہ اہل کتاب میں سے ہو۔ چاہے اسے آزاد عورت سے نکاح کرنے کی طاقت بھی ہو اور اسے بدکاری کا خوف بھی نہ ہو، اس کی بڑی دلیل یہ آیت «وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ» ۱؎ [5-المائدة:5] یعنی ’ آزاد عورتیں ان میں سے جو تم سے پہلے کتاب اللہ دئے گئے ‘۔ پس وہ کہتے ہیں یہ آیت عام ہے جس میں آزاد اور غیر آزاد سب ہی شامل ہیں اور محصنات سے مراد پاکدامن باعصمت عورتیں ہیں لیکن اس کی ظاہری دلالت بھی اسی مسئلہ پر ہے جو جمہور کا مذہب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
25۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ لونڈیوں کا مالک ہی لونڈیوں کا ولی ہے لونڈی کا کسی جگہ نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح غلام بھی اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی جگہ نکاح نہیں کرسکتا۔ 25۔ 2 یعنی لونڈیوں کو (10) کے بجائے نصف یعنی (50) کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔ گویا ان کے لئے سزائے رجم نہیں ہے، کیونکہ وہ نصف نہیں ہوسکتی اور غیرشادی شدہ کو تعزیری سزا ہوگی۔ 25۔ 3 یعنی لونڈیوں سے شادی کی اجازت ایسے لوگوں کے لئے ہے جو جوانی کے جذبات پر کنٹرول ' رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں اور بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اگر ایسا اندیشہ نہ ہو تو اس وقت تک صبر کرنا بہتر ہے جب تک کسی آزاد خاندانی عورت سے شادی کے قابل نہ ہوجائے
(آیت 25) ➊ { وَ مَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ …:} یعنی اگر کسی شخص کی مالی حالت اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرے تو کسی دوسرے مسلمان کی لونڈی سے نکاح کر لے، بشرطیکہ وہ لونڈی مسلمان ہو۔ یہاں کسی شخص کو اپنی لونڈی سے نکاح کرنے کی اجازت کا بیان نہیں، کیونکہ اس کا لونڈی ہونا ہی مالک کے لیے اس سے صحبت کے جواز کا باعث ہے، اس کے علاوہ کوئی اور اس سے صحبت نہیں کر سکتا اور اس کی اولاد جائز اولاد سمجھی جائے گی، ہاں اگر نکاح ہی کرنا چاہتا ہے تو پھر اسے آزاد کر دے اور آزاد کر کے نکاح کر لے۔ (فتح القدیر) ➋ { بَعْضُكُمْ مِّنْ بَعْضٍ:} یعنی تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو اور تمھاری ملت بھی ایک ہے، پھر محض لونڈی ہونے کی وجہ سے اس سے نکاح میں تردد نہ کرو۔ (شوکانی) ➌ { فَانْكِحُوْهُنَّ۠ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ:} یعنی جیسے آزاد مسلمان عورت سے نکاح کے لیے ولی (سرپرست) کی اجازت ضروری ہے، اسی طرح لونڈی سے نکاح کے لیے بھی اس کے مالک کی اجازت ضروری ہے۔ اسی طرح غلام بھی اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتا۔ ➍ { وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ:} ان الفاظ سے بعض نے سمجھا ہے کہ مہر لونڈی کا حق ہے، لیکن اکثر علمائے سلف کے نزدیک یہ مہر لونڈی کے مالک کا ہو گا، لونڈی کی طرف مہر کی اضافت مجازی ہے۔ (فتح القدیر) ➎ { وَ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ: ”اَخْدَانٍ“ ”خِدْنٌ “} کی جمع ہے ”خفیہ آشنا۔“ چھپی یاری سے منع فرمایا تو نکاح میں گواہ لازم ہوئے۔ ➏ { نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ: ”الْمُحْصَنٰتُ“ }میں الف لام عہدکا ہے، اس سے مخصوص محصنات یعنی کنواری آزاد عورتیں مراد ہیں، کیونکہ ان کی سزا سو کوڑے ہے جس کا نصف ہو سکتا ہے، شادی شدہ آزاد عورتوں کی سزا رجم ہے، اس کا نہ نصف ہو سکتا ہے نہ یہاں {”الْمُحْصَنٰتُ“} سے وہ مراد ہیں یعنی لونڈیاں اگر شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کریں تو انھیں کنواری آزاد عورتوں کی سزا سے نصف سزا دی جائے گی جو پچاس کوڑے ہے۔ جن لوگوں نے اس آیت کو رجم کے انکار کی دلیل بنایا ہے کہ چونکہ رجم کا نصف ہو نہیں سکتا ہے، اس لیے رجم شریعت میں ہے ہی نہیں، انھوں نے اپنی کم علمی سے الف لام کا مفہوم سمجھا ہی نہیں، نہ {” الْمُحْصَنٰتُ “} کی صحیح مراد سمجھی ہے۔ عبد اللہ بن عیاش مخزومی فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اور قریش کے چند نوجوانوں کو حکم دیا تو ہم نے حکومتی لونڈیوں میں سے کچھ لونڈیوں کو زنا کرنے کی وجہ سے پچاس پچاس کوڑے لگائے۔ [ الموطأ، الحدود، باب ما جاء فی حد الزنا: ۱۶ ] ➐ { ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ:} یعنی مذکورہ شرطوں کے ساتھ لونڈی سے نکاح صرف اسی صورت میں جائز ہے جب بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔ (قرطبی) ➑ { وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ:} اس سے اکثر علمائے سلف نے استدلال کیا ہے کہ لونڈی سے نکاح نہ کرنا ہی بہتر ہے، کیونکہ ایسی منکوحہ لونڈی کی اولاد بھی اس کے مالک کی غلام ہوتی ہے۔ (ابن کثیر)
اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اُن طریقوں کو واضح کرے اور اُنہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحا٫ کرتے تھے وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے خوب کھول کر بیان کرے اور تمہیں تم سے پہلے کے (نیک) لوگوں کی راه پر چلائے اور تمہاری توبہ قبول کرے، اور اللہ تعالیٰ جاننے واﻻ حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لئے بیان کردے اور تمہیں اگلوں کی روشیں بتادے اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ چاہتا ہے کہ (تم سے اپنے احکام) کھول کر بیان کر دے اور تمہیں ان لوگوں کے طریقوں پر چلائے جو تم سے پہلے گزرے ہیں اور تمہاری توبہ قبول کرے اللہ بڑا جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے لیے کھول کر بیان کرے اور تمھیں ان لوگوں کے طریقوں پر چلائے جو تم سے پہلے تھے اور تم پر مہربانی فرمائے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پچاس سے پانچ نمازوں تک ٭٭
فرمان ہوتا ہے کہ اے مومنو! اللہ تعالیٰ ارادہ کر چکا ہے کہ حلال و حرام تم پر کھول کھول کر بیان فرما دے جیسے کہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں اس نے بیان فرمایا وہ چاہتا ہے کہ سابقہ لوگوں کی قابل تعریف راہیں تمہیں سمجھا دے تاکہ تم بھی اس کی اس شریعت پر عمل کرنے لگ جاؤ جو اس کی محبوب اور اس کی پسندیدہ ہیں وہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرما لے جس گناہ سے جس حرام کاری سے تم توبہ کرو وہ فوراً قبول فرما لیتا ہے۔
وہ علم و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اپنی اندازے اپنے کام اور اپنے فرمان میں وہ صحیح علم اور کامل حکمت رکھتا ہے، خواہش نفسانی کے پیروکار یعنی شیطانوں کے غلام یہود و نصاریٰ اور بدکاری لوگ تمہیں حق سے ہٹانا اور باطل کی طرف جھکانا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے حکم احکام میں یعنی روکنے اور ہٹانے میں، شریعت اور اندازہ مقرر کرنے میں تمہارے لیے آسانیاں چاہتا ہے اور اسی بنا پر چند شرائط کے ساتھ اس نے لونڈیوں سے نکاح کر لینا تم پر حلال کر دیا۔ انسان چونکہ پیدائشی کمزور ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام میں کوئی سختی نہیں رکھی۔ یہ فی نفسہ بھی کمزور اس کے ارادے اور حوصلے بھی کمزور یہ عورتوں کے بارے میں بھی کمزور، یہاں آ کر بالکل بیوقوف بن جانے والا۔
چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میں سدرۃ المنتہیٰ سے لوٹے اور موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو آپ نے دریافت کیا کہ آپ پر کیا فرض کیا گیا؟ فرمایا ہر دن رات میں پچاس نمازیں تو کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا: واپس جائیے اور اللہ کریم سے تخفیف طلب کیجئے آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں میں اس سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں وہ اس سے بہت کم میں گھبرا گئے تھے اور آپ کی امت تو کانوں آنکھوں اور دل کی کمزوری میں ان سے بھی بڑھی ہوئی ہے چنانچہ آپ واپس گئے دس معاف کرا لائے پھر بھی یہی باتیں ہوئیں پھر گئے دس ہوئیں یہاں تک کہ آخری مرتبہ پانچ رہ گئیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:349]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 26) { يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ …:} یعنی اللہ تعالیٰ اپنے احکام اس لیے بیان فرما رہا ہے کہ تم کو حلال و حرام کا پتا چل جائے اور پہلے لوگوں کے عمدہ طریق کی ہدایت ہو جائے، پہلے لوگوں سے مراد انبیاء اور ان کی امتوں کے نیک لوگ ہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی)
ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے اور جو لوگ خواہشات کے پیرو ہیں وه چاہتے ہیں کہ تم اس سے بہت دور ہٹ جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے، اور جو اپنے مزوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت الگ ہوجاؤ
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے مگر وہ لوگ جو خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم (راہ راست سے بھٹک کر) بہت دور نکل جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی فرمائے اور جو لوگ خواہشات کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم (سیدھے راستے سے) ہٹ جاؤ، بہت بڑا ہٹ جانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پچاس سے پانچ نمازوں تک ٭٭
فرمان ہوتا ہے کہ اے مومنو! اللہ تعالیٰ ارادہ کر چکا ہے کہ حلال و حرام تم پر کھول کھول کر بیان فرما دے جیسے کہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں اس نے بیان فرمایا وہ چاہتا ہے کہ سابقہ لوگوں کی قابل تعریف راہیں تمہیں سمجھا دے تاکہ تم بھی اس کی اس شریعت پر عمل کرنے لگ جاؤ جو اس کی محبوب اور اس کی پسندیدہ ہیں وہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرما لے جس گناہ سے جس حرام کاری سے تم توبہ کرو وہ فوراً قبول فرما لیتا ہے۔
وہ علم و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اپنی اندازے اپنے کام اور اپنے فرمان میں وہ صحیح علم اور کامل حکمت رکھتا ہے، خواہش نفسانی کے پیروکار یعنی شیطانوں کے غلام یہود و نصاریٰ اور بدکاری لوگ تمہیں حق سے ہٹانا اور باطل کی طرف جھکانا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے حکم احکام میں یعنی روکنے اور ہٹانے میں، شریعت اور اندازہ مقرر کرنے میں تمہارے لیے آسانیاں چاہتا ہے اور اسی بنا پر چند شرائط کے ساتھ اس نے لونڈیوں سے نکاح کر لینا تم پر حلال کر دیا۔ انسان چونکہ پیدائشی کمزور ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام میں کوئی سختی نہیں رکھی۔ یہ فی نفسہ بھی کمزور اس کے ارادے اور حوصلے بھی کمزور یہ عورتوں کے بارے میں بھی کمزور، یہاں آ کر بالکل بیوقوف بن جانے والا۔
چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میں سدرۃ المنتہیٰ سے لوٹے اور موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو آپ نے دریافت کیا کہ آپ پر کیا فرض کیا گیا؟ فرمایا ہر دن رات میں پچاس نمازیں تو کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا: واپس جائیے اور اللہ کریم سے تخفیف طلب کیجئے آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں میں اس سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں وہ اس سے بہت کم میں گھبرا گئے تھے اور آپ کی امت تو کانوں آنکھوں اور دل کی کمزوری میں ان سے بھی بڑھی ہوئی ہے چنانچہ آپ واپس گئے دس معاف کرا لائے پھر بھی یہی باتیں ہوئیں پھر گئے دس ہوئیں یہاں تک کہ آخری مرتبہ پانچ رہ گئیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:349]
27۔ 1 اَنْ تمیلوا یعنی حق سے باطل کی طرف جھک جاؤ۔
(آیت 27) {وَ اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْكُمْ …: } یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم فسق و فجور کے بجائے پاکیزگی اپناؤ، مگر خواہشات کا اتباع کرنے والے بدکار چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی ان کی طرح ہر حد سے آزاد ہو کر حق سے بہت دور ہٹ جائیں، لہٰذا تم شہوت پرستوں کے کہنے میں نہ آؤ۔ مراد یہود و نصاریٰ، مجوسی اور کمیونسٹ ہیں، جو حرام رشتوں سے بھی نکاح جائز سمجھتے ہیں، بلکہ بعض تو نکاح کا طریقہ ہی ختم کر کے جانور بن چکے ہیں، حتیٰ کہ قوم لوط کے عمل کو قانوناً جائز کر چکے ہیں۔
اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ چاہتا ہے کہ تم سے تخفیف کر دے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے اور آدمی کمزور بنایا گیا
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ چاہتا ہے کہ تمہارا بوجھ ہلکا کرے (کیونکہ) انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ چاہتا ہے کہ تم سے (بوجھ) ہلکا کرے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پچاس سے پانچ نمازوں تک ٭٭
فرمان ہوتا ہے کہ اے مومنو! اللہ تعالیٰ ارادہ کر چکا ہے کہ حلال و حرام تم پر کھول کھول کر بیان فرما دے جیسے کہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں اس نے بیان فرمایا وہ چاہتا ہے کہ سابقہ لوگوں کی قابل تعریف راہیں تمہیں سمجھا دے تاکہ تم بھی اس کی اس شریعت پر عمل کرنے لگ جاؤ جو اس کی محبوب اور اس کی پسندیدہ ہیں وہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرما لے جس گناہ سے جس حرام کاری سے تم توبہ کرو وہ فوراً قبول فرما لیتا ہے۔
وہ علم و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اپنی اندازے اپنے کام اور اپنے فرمان میں وہ صحیح علم اور کامل حکمت رکھتا ہے، خواہش نفسانی کے پیروکار یعنی شیطانوں کے غلام یہود و نصاریٰ اور بدکاری لوگ تمہیں حق سے ہٹانا اور باطل کی طرف جھکانا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے حکم احکام میں یعنی روکنے اور ہٹانے میں، شریعت اور اندازہ مقرر کرنے میں تمہارے لیے آسانیاں چاہتا ہے اور اسی بنا پر چند شرائط کے ساتھ اس نے لونڈیوں سے نکاح کر لینا تم پر حلال کر دیا۔ انسان چونکہ پیدائشی کمزور ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام میں کوئی سختی نہیں رکھی۔ یہ فی نفسہ بھی کمزور اس کے ارادے اور حوصلے بھی کمزور یہ عورتوں کے بارے میں بھی کمزور، یہاں آ کر بالکل بیوقوف بن جانے والا۔
چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میں سدرۃ المنتہیٰ سے لوٹے اور موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو آپ نے دریافت کیا کہ آپ پر کیا فرض کیا گیا؟ فرمایا ہر دن رات میں پچاس نمازیں تو کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا: واپس جائیے اور اللہ کریم سے تخفیف طلب کیجئے آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں میں اس سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں وہ اس سے بہت کم میں گھبرا گئے تھے اور آپ کی امت تو کانوں آنکھوں اور دل کی کمزوری میں ان سے بھی بڑھی ہوئی ہے چنانچہ آپ واپس گئے دس معاف کرا لائے پھر بھی یہی باتیں ہوئیں پھر گئے دس ہوئیں یہاں تک کہ آخری مرتبہ پانچ رہ گئیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:349]
28۔ 1 اس کمزوری کی وجہ سے اس کے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ممکن آسانیاں اسے لئے فراہم کی ہیں انہیں میں سے لونڈیوں سے شادی کی اجازت ہے بعض نے اس ضعف کا تعلق عورتوں سے بتلایا ہے یعنی عورت کے بارے میں کمزور ہے اسی لئے عورتیں بھی باوجود نقصان عقل کے اس کو آسانی سے اپنے دام میں پھنسا لیتی ہیں۔
(آیت 28) {يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّخَفِّفَ عَنْكُمْ …:} یعنی اللہ تعالیٰ کو انسان کی کمزوری کا خوب علم ہے کہ عورتوں کے معاملے میں یہ کس قدر کمزور ہے، اس لیے احکام شریعت میں اس کی سہولت کا خیال رکھا گیا ہے اور دین میں سختی نہیں برتی گئی، فرمایا: { «وَ مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ }» [ الحج: ۷۸ ] ”اور اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک دین آسان ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر: ۳۹، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمھارے پاس نہایت آسان حنیفی شریعت لے کر آیا ہوں۔ “ [ مسند أحمد، 266/5، ح: ۲۲۳۵۴۔ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر، قبل ح: ۳۹ ] شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” دین اسلام میں کوئی تنگی نہیں کہ کوئی حلال کو چھوڑے اور حرام کو دوڑے۔“ (موضح)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضامندی سے اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ، مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے ہو خرید وفروخت، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو اور اپنی جانیں قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر مہربان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ۔ مگر یہ کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارتی معاملہ ہو۔ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ بے شک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے نہ کھائو، مگر یہ کہ تمھاری آپس کی رضا مندی سے تجارت کی کوئی صورت ہو اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر ہمیشہ سے بے حد مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خرید و فروخت اور اسلامی قواعد و ضوابط ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو ایک دوسرے کے مال باطل کے ساتھ کھانے کی ممانعت فرما رہا ہے خواہ اس کمائی کی ذریعہ سے ہو جو شرعاً حرام ہے جیسے سود خوری، قمار بازی اور ایسے ہی ہر طرح کی حیلہ سازی چاہے اسے جواز کی شرعی صورت دے دی ہو اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص کپڑا خریدتا ہے اور کہتا ہے اگر مجھے پسند آیا تو تو رکھ لوں گا ورنہ کپڑا اور ایک درہم واپس کر دوں گا آپ نے اس آیت کی تلاوت کر دی یعنی اسے باطل مال میں شامل کیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:217/8] سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ آیت محکم ہے یعنی منسوخ نہیں نہ قیامت تک منسوخ ہو سکتی ہے، آپ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ہاں کھانا چھوڑ دیا جس پر یہ آیت «لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ» الخ [24النور:61] اتری۔ «تِجَارَةً» کو «تِجَارَةٌ» بھی پڑھا گیا ہے۔ یہ استثنا منقطع ہے گویا یوں فرمایا جا رہا ہے کہ حرمت والے اسباب سے مال نہ لو ہاں شرعی طریق پر تجارت سے نفع اٹھانا جائز ہے جو خریدار اور بیچنے والے کی باہم رضا مندی سے ہو۔ جیسے دوسری جگہ ہے «وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ» ۱؎ [6-الأنعام:151] یعنی ’ کسی بےگناہ جان کو نہ مارو ہاں حق کے ساتھ ہو تو جائز ہے ‘۔ اور جیسے دوسری آیت میں ہے «لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَىٰ» [44-الدخان:56] وہاں موت نہ چکھیں گے مگر پہلی بار کی موت۔
امام شافعی رحمہ اللہ اس آیت سے استدلال کر کے فرماتے ہیں خرید و فروخت بغیر قبولیت کے صحیح نہیں ہوتی اس لیے کہ رضا مندی کی پوری سند یہی ہے گو صرف لین دین کر لینا کبھی کبھی رضا مندی پر پوری دلیل نہیں بن سکتا اور جمہور اس کے برخلاف ہیں، تینوں اور اماموں کا قول ہے کہ جس طرح زبانی بات چیت رضا مندی کی دلیل ہے اسی طرح لین دین بھی رضا مندی کی دلیل ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کم قیمت کی معمولی چیزوں میں تو صرف دینا لینا ہی کافی ہے اور اسی طرح بیوپار کا جو طریقہ بھی ہو لیکن صحیح مذہب میں احتیاطی نظر سے تو بات چیت میں قبولیت کا ہونا اور بات ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں خرید و فروخت ہو یا بخشش ہو سب کے لیے حکم شامل ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کی مرفوع حدیث میں ہے تجارت ایک دوسرے کی رضا مندی ہے اور بیوپار کے بحد اختیار ہے، گویا کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ دوسرے مسلمان کو تجارت کے نام سے دھوکہ دے، یہ حدیث مرسل ہے پوری رضا مندی میں مجلس کے خاتمہ تک کا اختیار بھی ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دونوں بائع مشتری جب تک جدا نہ ہوں بااختیار ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2108] صحیح بخاری میں ہے جب دو شخص خرید و فروخت کریں تو ہر ایک کو اختیار ہے جب تک الگ الگ نہ ہوں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2109،2111] اسی حدیث کے مطابق امام احمد، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم اور ان کے سب ساتھیوں کا فتویٰ ہے جمہور سلف و خلف رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی فتویٰ ہے اور اس پوری رضا مندی میں شامل ہے خرید و فروخت کے تین دن بعد تک اختیار دینا رضا مندی میں شامل ہے بلکہ یہ مدت گاؤں کی رسم کے مطابق سال بھر کی بھی ہو سکتی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کا مشہور مذہب یہی ہے گو ان کے نزدیک صرف لین دین سے ہی بیع صحیح ہو جاتی ہے۔ شافعی مذہب میں بھی ایک قول یہ ہے اور ان میں سے بعض فرماتے ہیں کہ معمولی کم قیمت چیزوں میں جنہیں لوگ بیوپار کے لیے رکھتے ہوں صرف لین دین ہی کافی ہے۔ بعض اصحاب کا اختیار سے مراد یہی ہے جیسے کہ متفق علیہ ہے۔
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ حرام کاموں کا ارتکاب کر کے اور اس کی نافرمانیاں کر کے اور ایک دوسرے کا بیجا طور پہ مال کھا کر اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو اللہ تم پر رحیم ہے ہر حکم اور ہر ممانعت رحمت والی ہے۔
29۔ 1 بالْبَاطِلِ میں دھوکا، فریب، جعل سازی، ملاوٹ کے علاوہ تمام کاروبار بھی شامل ہیں جن سے شریعت نے منع کیا ہے اسی طرح ممنوع اور حرام چیزوں کا کاروبار کرنا بھی باطل میں شامل ہے مثلاً بلا ضرورت فوٹو گرافی، ریڈیو، ٹیوی، وی سی آر، ویڈیو، فلموں کا بنانا اور بیچنا وغیرہ مرمت کرنا سب ناجائز ہے۔ 29۔ 2 اس کے لئے بھی شرط ہے کہ یہ لین دین حلال اشیاء کا ہو حرام اشیاء کا کاروبار باہمی رضامندی کے باوجود ناجائز ہی رہے گا۔ علاوہ ازیں رضامندی میں خیار مجلس کا مسئلہ بھی آجاتا ہے کہ جب تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں سودا فسخ کرنے کا اختیار رہے گا۔ 29۔ 3 اس سے مراد خود کشی بھی ہوسکتی ہے جو کبیرہ گناہ ہے اور ارتکاب معصیت بھی جو ہلاکت کا باعث ہے اور کسی مسلمان کو قتل کرنا بھی کیونکہ مسلمان جسد واحد کی طرح ہے۔ اس لئے اس کا قتل بھی ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو قتل کیا۔
(آیت 29) ➊ { لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ: } کمائی کے جتنے بھی ناجائز طریقے ہیں سب کے سب {” بِالْبَاطِلِ “} میں آجاتے ہیں، حتیٰ کہ حیلہ سازی کے ساتھ کسی کا مال کھانا بھی حرام ہے اور اپنے مال کو غلط طریقے سے اڑانا بھی اسی میں داخل ہے۔ (رازی، ابن کثیر) ➋ {اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ:} یعنی وہ تجارت اور لین دین (صنعت و حرفت وغیرہ) جس میں حقیقی باہمی رضا مندی ہو، اس کے ذریعے سے کماؤ اور کھاؤ۔ آپس کی رضا مندی میں یہ بھی ضروری ہے کہ وہ شرع کے خلاف نہ ہو، کیونکہ وہ حقیقی رضا مندی ہوتی ہی نہیں، مجبوری کی رضا مندی ہوتی ہے، مثلاً رشوت اور سود میں بظاہر رضا مندی ہے مگر حقیقی نہیں، کیونکہ ایک فریق دوسرے کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اسی طرح جوئے اور لاٹری وغیرہ کا معاملہ ہے کہ یہ دونوں فریق نفع کی موہوم امید کے فریب میں آکر یہ کام کر رہے ہیں، اس فریب کو حقیقی رضا مندی نہیں کہا جا سکتا۔ پورے طور پر باہمی رضا مندی میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ جب تک بیچنے والا اور خریدنے والا مجلس بیع سے الگ نہ ہوں اس وقت تک دونوں کو ایک دوسرے کی بیع رد کرنے کا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والوں میں سے ہر ایک کو (بیع فسخ کرنے کا) اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ آپس میں ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، سوائے اس تجارت کے جس میں یہ اختیار باقی رکھا جائے۔“ [ بخاری، البیوع، باب البیعان بالخیار ما لم یتفرقا: ۲۱۱۱، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما ] ➌ { وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ:} اس کے تین معانی ہو سکتے ہیں اور تینوں مراد ہیں، پہلا یہ کہ شریعت کی مخالفت کرتے ہوئے حقیقی باہمی رضا مندی کے بغیر اگر لین دین کرو گے تو اس کا نتیجہ آپس میں قتل و غارت ہو گا، جیسا کہ جوئے کے نتیجے میں ہارنے والے کے ہاتھوں کئی جیتنے والے قتل ہو جاتے ہیں، لہٰذا یہ کام مت کرو۔ دوسرا یہ کہ ایک دوسرے کو قتل مت کرو، کیونکہ یہ اپنے آپ ہی کو قتل کرنا ہے اور تیسرا یہ کہ خود کشی مت کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے چھری کے ساتھ اپنے آپ کو قتل کیا تو جہنم میں چھری اس کے ہاتھ میں ہو گی اور وہ اس کے ساتھ اپنے پیٹ کو پھاڑے گا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی میں رہے گا اور جس نے اپنے آپ کو زہر سے قتل کیا تو جہنم میں اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا، جسے وہ گھونٹ گھونٹ کر کے پیے گا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی میں رہے گا اور جس نے پہاڑ سے گرا کر اپنے آپ کو قتل کیا تو وہ جہنم کی آگ میں گرتا رہے گا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں رہے گا۔ “ [ مسلم، الإیمان، باب بیان غلظ تحریم…: ۱۰۹۔ بخاری: ۵۷۷۸، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ]
جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اُس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو شخص یہ (نافرمانیاں) سرکشی اور ﻇلم سے کرے گا تو عنقریب ہم اس کو آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ پرآسان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو شخص ظلم و تعدی سے ایسا کرے گا۔ تو ہم عنقریب اسے آتش (دوزخ) میں ڈالیں گے۔ اور یہ بات اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو زیادتی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے سخت ہولناک آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ پر ہمیشہ سے بہت آسان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احترام زندگی ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ذات السلاسل والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا آپ فرماتے ہیں مجھے ایک رات احتلام ہو گیا سردی بہت سخت تھی یہاں تک کہ مجھے نہانے میں اپنی جان جانے کا خطرہ ہو گیا تو میں نے تیمم کر کے اپنی جماعت کو صبح کی نماز پڑھا دی جب وہاں سے ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس حاضر ہوئے تو میں نے یہ واقعہ کہہ سنایا آپ نے فرمایا کیا تو نے اپنے ساتھیوں کو جنبی ہونے کی حالت میں نماز پڑھا دی؟ میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جاڑا سخت تھا اور مجھے اپنی جان جانے کا اندیشہ تھا تو مجھے یاد پڑا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اپنے تئیں ہلاکت نہ کر ڈالو اللہ رحیم ہے پس میں نے تیمم کر کے نماز صبح پڑھا دی تو آپ ہنس دئیے اور مجھے کچھ نہ فرمایا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:334،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں ہے کہ اور لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا تب آپ کے دریافت کرنے پر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے عذر پیش کیا۔ ۱؎ (ضعیف جداً: اس کی سند میں یوسف بن خالد راوی سخت ضعیف ہے۔)
بخاری و مسلم میں ہے جو شخص کسی لوہے سے خودکشی کرے گا وہ قیامت تک جہنم کی آگ میں لوہے سے خودکشی کرتا رہے گا، اور جو جان بوجھ کر مر جانے کی نیت سے زہر کھا لے گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5778] وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں زہر کھاتا رہے گا اور روایت میں ہے کہ جو شخص اپنے تئیں جس چیز سے قتل کرے گا وہ قیامت والے دن اسی چیز سے عذاب کیا جائے گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1363] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم سے پہلے کے لوگوں میں سے ایک شخص کو زخم لگے اس نے چھری سے اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا تمام خون بہ گیا اور وہ اسی میں مر گیا تو اللہ عزوجل نے فرمایا: میرے بندے نے اپنے تئیں فنا کرنے میں جلدی کی اسی وجہ سے میں نے اس پر جنت کو حرام کیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1364] اسی لیے اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے جو شخص بھی ظلم و زیادتی کے ساتھ حرام جانتے ہوئے اس کا ارتکاب کرے دلیرانہ طور سے حرام پر کار بند رہے وہ جہنمی ہے، پس ہر عقلمند کو اس سخت تنبیہہ سے ڈرنا چاہیئے دل کے کان کھول کر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو سن کر حرام کاریوں سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
پھر فرماتا ہے کہ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے تو ہم تمہارے چھوٹے چھوٹے گناہ معاف فرما دیں گے اور تمہیں جنتی بنادیں گے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اس طرح کی کوئی سخت وعید نہیں ملی جس کی تعمیل میں تمہیں اپنے اہل و مال سے الگ ہو جانا چاہیئے پھر ہم اس کے لیے اپنے اہل و مال سے جدا نہ ہو جائیں کہ وہ ہمارے کبیرہ گناہوں کو ہمارے چھوٹے موٹے گناہوں سے معاف فرماتا ہے پھر اس آیت کی تلاوت کی۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں بھی ہیں تھوڑی بہت ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔ مسند احمد میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے؟“ میں نے جواب دیا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے باپ کو پیدا کیا آپ نے فرمایا: ”مگر اب جو میں جانتا ہوں وہ بھی سن لو جو شخص اس دن اچھی طرح غسل کر کے نماز جمعہ کے لیے مسجد میں آئے اور نماز ختم ہونے تک خاموش رہے تو اس کا یہ عمل اگلے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے جب تک کہ وہ قتل سے بچا۔“ ۱؎ [مسند احمد:5/439،قال الشيخ الألباني:حسن] ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سناتے ہوئے فرمایا: ”اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے تین مرتبہ یہی فرمایا پھر سر نیچا کر لیا ہم نے بھی سر نیچا کر لیا اور ہم سب رونے لگے ہمارے دل کانپنے لگے کہ اللہ جانے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کے لیے قسم کھائی ہے اور پھر کیوں خاموشی اختیار کی ہے؟ تھوڑی دیر کے بعد آپ نے سر اٹھایا اور آپ کا چہرہ بشاش تھا جس سے ہم اس قدر خوش ہوئے کہ اگر ہمیں سرخ رنگ کے اونٹ ملتے تو اس قدر خوش نہ ہوتے، اب آپ فرمانے لگے جو بندہ پانچوں نمازیں پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور سات کبیرہ گناہوں سے بچا رہے اس کے لیے جنت کے سب دروازے کھل جائیں گے اور اسے کہا جائے گا کہ سلامتی کے ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ۔ ۱؎ [سنن نسائی:2440،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سات کبیرہ گناہ ٭٭
جن سات گناہوں کا اس میں ذکر ہے ان کی تفصیل بخاری مسلم میں اس طرح ہے گناہوں سے بچو جو ہلاک کرنے والے ہیں پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون سے گناہ ہیں؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جس کا قتل حرام ہو اسے قتل کرنا ہاں کسی شرعی وجہ سے اس کا خون حلال ہو گیا ہو تو اور بات ہے۔ جادو کرنا، سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور میدان جنگ سے کفار کے مقابلے میں پیٹھ دکھانا اور بھولی بھالی پاک دامن مسلمان عورتوں کو تہمت لگانا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2766] ایک روایت میں جادو کے بدلے ہجرت کر کے پھر واپس اپنے دیس میں قیام کر لینا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5202/3] یہ یاد رہے کہ ان سات گناہوں کو کبیرہ کہنے سے یہ مطلب نہیں کہ کبیرہ گناہ صرف یہی ہیں جیسے کہ بعض اور لوگوں کا خیال ہے جن کے نزدیک مفہوم مخالف معتبر ہے۔ دراصل یہ بہت انتہائی بےمعنی قول اور غلط اصول ہے بالخصوص اس وقت جبکہ اس کے خلاف دلائل موجود ہوں اور یہاں تو صاف لفظوں میں اور کبیرہ گناہوں کا بھی ذکر موجود ہے۔ مندرجہ ذیل حدیثیں ملاحظہ ہوں۔ مستدرک حاکم میں ہے کہ حجتہ الوداع میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو سن لو اللہ تعالیٰ کے ولی صرف نمازی ہی ہیں جو پانچوں وقت کی فرض نمازوں کو باقاعدہ بجا لاتے ہیں جو رمضان شریف کے روزے رکھتے ہیں، فرض جان کر اور ثواب حاصل کرنے کی نیت رکھ کر ہنسی خوشی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ان تمام کبیرہ گناہوں سے دور رہتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے۔ ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ کبیرہ گناہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: شرک، قتل، میدان جنگ سے بھاگنا، مال یتیم کھانا، سود خوری، پاکدامنوں پر تہمت لگانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، بیت اللہ الحرام کی حرمت کو توڑنا جو زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے سنو جو شخص مرتے دم تک ان بڑے گناہوں سے اجتناب کرتا رہے اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرتا رہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں سونے کے محلوں میں ہو گا۔ ۱؎ [سنن نسائی:4017،قال الشيخ الألباني:حسن]
طیسلہ بن میامن فرماتے ہیں مجھ سے ایک گناہ ہو گیا جو میرے نزدیک کبیرہ تھا، میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: وہ کبیرہ گناہ نہیں کبیرہ گناہ نو ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، میدان جنگ میں دشمنان دین کو پیٹھ دکھانا، پاکدامن عورتوں کو تہمت لگانا، سود کھانا، یتیم کا مال ظلم سے کھا جانا، مسجد الحرام میں الحاد پھیلانا اور ماں باپ کو نافرمانی کے سبب رلانا، طیسلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بیان کے بعد بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے محسوس کیا کہ خوف کم نہیں ہوا تو فرمایا کیا تمہارے دل میں جہنم کی آگ میں داخل ہونے کا ڈر اور جنت میں جانے کی چاہت ہے؟ میں نے کہا بہت زیادہ فرمایا کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ میں نے کہا صرف والدہ حیات ہیں، فرمایا: بس تم ان سے نرم کلامی سے بولا کرو اور انہیں کھانا کھلاتے رہا کرو اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتے رہا کرو تو تم یقیناً جنت میں جاؤ گے اور روایت میں ہے کہ طیسلہ بن علی نہدی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے میدان عرفات میں عرفہ کے دن پیلو کے درخت تلے ملے تھے اس وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما اپنے سر اور چہرے پر پانی بہا رہے تھے اس میں یہ بھی ہے کہ جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہمت لگانے کا ذکر کیا تو میں نے پوچھا کیا یہ بھی مثل قتل کے بہت بڑا گناہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں اور ان گناہوں کے ذکر میں جادو کا ذکر بھی ہے۔ ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:9189:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ میری ان کی ملاقات شام کے وقت ہوئی تھی اور میں نے ان سے کبائر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ کبائر سات ہیں میں نے پوچھا کیا کیا؟ تو فرمایا: شرک اور تہمت لگانا میں نے کہا کیا یہ بھی مثل خون ناحق کے ہے؟ فرمایا: ہاں ہاں اور کسی مومن کو بےسبب مار ڈالنا، لڑائی سے بھاگنا، جادو اور سود خوری، مال یتیم کھانا، والدین کی نافرمانی اور بیت اللہ میں الحاد پھیلانا جو زندگی میں اور موت میں تمہارا قبلہ ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9189:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کا بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے نماز قائم رکھے زکوٰۃ ادا کرے رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں سے بچے وہ جنتی ہے“، ایک شخص نے پوچھا کبائر کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا مسلمان کو قتل کرنا لڑائی والے دن بھاگ کھڑا ہونا۔“ ۱؎ [مسند احمد:5/413:حسن بالشواھد] ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو ایک کتاب لکھوا کر بھجوائی جس میں فرائض اور سنن کی تفصیلات تھیں دیت یعنی جرمانوں کے احکام تھے اور یہ کتاب سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ اہل یمن کو بھجوائی گئی تھی اس کتاب میں یہ بھی تھا کہ قیامت کے دن تمام کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے اور ایماندار شخص کا قتل بغیر حق کے کرنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کے میدان میں جا کر لڑتے ہوئے نامردی سے جان بچانے کی خاطر بھاگ کھڑا ہونا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور ناکردہ گناہ عورتوں پر الزام لگانا اور جادو سیکھنا اور سود کھانا اور مال یتیم برباد کرنا۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:395/1، حسن بالشواھد] ایک اور روایت میں کبیرہ گناہوں کے بیان میں جھوٹی بات یا جھوٹی شہادت بھی ہے ۱؎ [صحیح بخاری:5977] اور حدیث میں ہے کہ کبیرہ گناہوں کے بیان کے وقت آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے لیکن جب یہ بیان فرمایا کہ جھوٹی گواہی اور جھوٹی بات اس وقت آپ تکیے سے ہٹ گئے اور بڑے زور سے اس بات کو بیان فرمایا اور باربار اسی کو دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے دل میں سوچا کاش اب آپ نہ دہرائیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2654] بخاری مسلم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ”تو اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک کرے یہ جانتے ہوئے کہ تجھے صرف اسی نے پیدا کیا ہے؟“ میں نے پوچھا اس کے بعد؟ فرمایا: ”یہ کہ تو اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کر دے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا“، میں نے پوچھا پھر کون سا گناہ بڑا ہے؟ فرمایا: ”یہ کہ تو اپنی پڑوسن سے بدکاری کرے“، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا» * «يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا» * «إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَـٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّـهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَحِيمًا» ۱؎ [25-الفرقان:68 تا 70] تک پڑھی۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن رضی اللہ عنہ مسجد الحرام میں حطیم کے اندر بیٹھے ہوئے تھے جو ایک شخص نے شراب کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: مجھ جیسا بوڑھا بڑی عمر کا آدمی اس جگہ بیٹھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بول سکتا شراب کا پینا تمام گناہوں سے بڑا گناہ ہے؟ یہ کام تمام خباثتوں کی ماں ہے شرابی تارک نماز ہوتا ہے وہ اپنی ماں اور خالہ اور پھوپھی سے بھی بدکاری کرنے سے نہیں چوکتا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5197/3،حسن] یہ حدیث غریب ہے۔ ابن مردویہ میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما اور دوسرے بہت سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک مرتبہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے وہاں کبیرہ گناہوں کا ذکر نکلا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ تو کسی کے پاس مصدقہ جواب نہ تھا اس لیے انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بھیجا کہ تم جا کر سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے دریافت کر آؤ میں گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ سب سے بڑا گناہ شراب پینا ہے میں نے واپس آ کر اس مجلس میں یہ جواب سنا دیا اس پر اہل مجلس کو تسکین نہ ہوئی اور سب حضرات اٹھ کر سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کے گھر چلے اور خود ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک واقعہ بیان کیا کہ بنی اسرائیل کے بادشاہوں میں سے ایک نے ایک شخص کو گرفتار کیا پھر اس سے کہا کہ یا تو تو اپنی جان سے ہاتھ دھو ڈال یا ان کاموں میں سے کسی ایک کو کر یعنی یا تو شراب پی یا خون ناحق کر یا زنا کر یا سور کا گوشت کھا اس غور و تفکر کے بعد اس نے جان جانے کے ڈر سے شراب کو ہلکی چیز سمجھ کر پینا منظور کر لیا جب شراب پی لی تو پھر نشہ میں وہ ان تمام کاموں کو کر گزرا جن سے وہ پہلے رکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ گوش گزار فرما کر ہم سے فرمایا جو شخص شراب پیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی نمازیں چالیس رات تک قبول نہیں فرماتا اور جو شراب پینے کی عادت میں ہی مر جائے اور اس کے مثانہ میں تھوڑی سی شراب ہو اس پر اللہ جنت کو حرام کر دیتا ہے۔ اگر شراب پینے کے بعد چالیس راتوں کے اندر اندر مرے تو اس کی موت جاہلیت کی موتی ہوتی ہے۔ ۱؎ [:مستدرک حاکم:147/4،حسن] یہ حدیث غریب ہے، ایک اور حدیث میں جھوٹی قسم کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6675] ابن ابی حاتم میں جھوٹی قسم کے بیان کے بعد یہ فرمان بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہے اور اس نے مچھر کے پر برابر زیادتی کی اس کے دل میں ایک سیاہ داغ ہو جاتا ہے جو قیامت تک باقی رہتا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3020،قال الشيخ الألباني:حسن]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ انسان کا اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہ ہے لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ماں باپ کو کیسے گالی دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”اس طرح کہ اس نے دوسرے کے باپ کو گالی دی اس نے اس کے باپ کو اس نے اس کی ماں کو برا کہا اس نے اس کی ماں کو۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:5973] صحیح بخاری میں ہے سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ پر لعنت کرے لوگوں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے فرمایا: ”دوسرے کے ماں باپ کو کہہ کر اپنے ماں باپ کو کہلوانا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:5973] صحیح حدیث میں ہے مسلمان کو گالی دینا فاسق بنا دیتا ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:48] ابن ابی حاتم میں ہے کہ اکبر الکبائر یعنی تمام کبیرہ گناہوں میں بڑا گناہ کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے اور ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دینا ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4877،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ترمذی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دو نمازوں کو عذر کے بغیر جمع کیا وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں گھسا۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:4877،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی کتاب جو ہمارے سامنے پڑھی گئی اس میں یہ بھی تھا کہ دو نمازوں کو بغیر شرعی عذر کے جمع کرنا کبیرہ گناہ ہے، اور لڑائی کے میدان سے بھاگ کھڑا ہونا اور لوٹ کھسوٹ کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے، الغرض ظہر عصر یا مغرب عشاء پہلے وقت یا پچھلے وقت بغیر کسی شرعی رخصت کے جمع کر کے پڑھنا کبیرہ گناہ ہے۔ پھر جو شخص کہ بالکل ہی نہ پڑھے اس کے گناہ کا تو کیا ٹھکانہ ہے؟ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ بندے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑ دینا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:82] سنن کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم میں اور کافر میں فرق کرنے والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے، جس نے اسے چھوڑا اس نے کفر کیا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2621،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں آپ کا یہ فرمان بھی منقول ہے کہ جس نے عصر کی نماز ترک کر دی اس کے اعمال غارت ہوئے ۱؎ [صحیح بخاری:553] اور حدیث میں ہے جس سے عصر کی نماز فوت ہوئی گویا اس کا مال اس کا اہل و عیال بھی ہلاک ہو گئے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:552]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کبیرہ گناہ کیا کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ کی نعمت اور اس کی رحمت سے ناامید ہونا اور اس کی خفیہ تدبیروں سے بےخوف ہو جانا اور یہ سب سے بڑا گناہ ہے ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5201/3،حسن] اسی کے مثل ایک روایت اور بھی بزار میں مروی ہے لیکن زیادہ ٹھیک یہ ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ ابن مردویہ میں ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سب سے کبیرہ گناہ اللہ عزوجل کے ساتھ بدگمانی کرنا ہے۔ ۱؎ [فتح الباری:411/10،ضعیف] یہ روایت بہت ہی غریب ہے، پہلے وہ حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں ہجرت کے بعد کفرستان میں آ کر بسنے کو بھی کبیرہ گناہ فرمایا ہے، یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے، سات کبیرہ گناہوں میں اسے بھی گنا گیا ہے۔ ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:9180،ضعیف] لیکن اس کی اسناد میں اختلاف ہے اور اسے مرفوع کہنا بالکل غلط ہے ٹھیک بات وہی ہے جو تفسیر ابن جریر میں مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفے کی مسجد میں ایک مرتبہ منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ سنا رہے تھے جس میں فرمایا: لوگو کبیرہ گناہ سات ہیں اسے سن کر لوگ چیخ اٹھے آپ نے اسی کو پھر دوہرایا پھر دوہرایا پھر فرمایا: تم مجھ سے ان کی تفصیل کیوں نہیں پوچھتے؟ لوگوں نے کہا: امیر المؤمنین فرمائیے وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا جس جان کو مار ڈالنا اللہ نے حرام کیا ہے اسے مار ڈالنا پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا یتیم کا مال کھانا سود خوری کرنا لڑائی کے دن پیٹھ دکھانا اور ہجرت کے بعد پھر دارالکفر میں آ بسنا۔ راوی حدیث محمد بن سہل رحمہ اللہ نے اپنے والد سہل بن خیثمہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ اسے کبیرہ گناہوں میں کیسے داخل کیا تو جواب ملا کہ پیارے بچے اس سے بڑھ کر ستم کیا ہو گا؟ کہ ایک شخص ہجرت کر کے مسلمانوں میں ملے مال غنیمت میں اس کا حصہ مقرر ہو جائے مجاہدین میں اس کا نام درج کر دیا جائے پھر وہ ان تمام چیزوں کو چھوڑ کر اعرابی بن جائے اور دارالکفر میں چلا جائے اور جیسا تھا ویسا ہی ہو جائے۔
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا خبردارہو جاو وہ چار ہیں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو خون ناحق سے بچو (ہاں شرعی اجازت اور چیز ہے) زناکاری نہ کرو چوری نہ کرو۔ ۱؎ [مسند احمد:339/4،حسن] وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ وصیت کرنے میں کسی کو نقصان پہنچانا بھی کبیرہ گناہ ہے-۱؎ [دارقطنی:151/4،ضعیف] ابن جریر میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ کبیرہ گناہوں کو دہرایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا یتیم کا مال کھانا لڑائی سے بھاگ کھڑا ہونا، پاکدامن بےگناہ عورتوں پر تہمت لگانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، خیانت کرنا، جادو کرنا، سود کھانا یہ سب کبیرہ گناہ ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور اس گناہ کو کیا کہو گے؟ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے پھرتے ہیں“ آخر آیت تک آپ نے تلاوت کی۔ اس کی اسناد میں ضعف ہے۔ ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:9227،ضعیف] اور یہ حدیث حسن ہے، پس ان تمام احادیث میں کبیرہ گناہوں کا ذکر موجود ہے۔
اب اس بارے میں سلف صالحین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے جو اقوال ہیں وہ ملاحظہ ہوں، ابن جریر میں منقول ہے چند لوگوں نے مصر میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ بہت سی باتیں کتاب اللہ میں ہم ایسی پاتے ہیں کہ جن پر ہمارا عمل نہیں اس لیے ہم امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ انہیں لے کر مدینہ آئے اپنے والد سے ملے آپ نے پوچھا کب آئے ہو؟ جواب دیا کہ چند دن ہوئے۔ پوچھا اجازت سے آئے ہو؟ اس کا بھی جواب دیا پھر اپنے ساتھ آنے والے لوگوں کا ذکر اور مقصد بیان کیا۔ آپ نے فرمایا انہیں جمع کرو سبھی کو ان کے پاس لائے اور ان میں سے ہر ایک کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تجھے اللہ اور اسلام حق کی قسم بتاؤ تم نے پورا قرآن کریم پڑھا ہے؟ اس نے کہا ہاں فرمایا کیا تو نے اسے اپنے دل میں محفوظ کر لیا ہے اس نے کہا نہیں اور اگر ہاں کہتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے کماحقہ دلائل سے عاجز کر دیتے پھر فرمایا کیا تم سب نے قرآن حکیم کے مفہوم کو نگاہوں میں زبان میں اور اعمال میں ڈھال لیا ہے پھر ایک ایک سے یہی سوال کیا پھر فرمایا تم عمر کو اس مشقت میں ڈالنا چاہتے ہو کہ لوگوں کو بالکل کتاب اللہ کے مطابق ہی ٹھیک ٹھاک کر دے، ہمارے رب کو پہلے سے ہی ہماری خطاؤں کا علم تھا۔
پھر آپ نے آیت «إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا» [4-النساء:31] کی تلاوت کی۔ پھر فرمایا کیا اہل مدینہ کو تمہارے آنے کا مقصد معلوم ہے؟ انہوں نے کہا نہیں فرمایا اگر انہیں بھی اس کا علم ہوتا تو مجھے اس بارے میں انہیں بھی وعظ کرنا پڑتا۔ اس کی اسناد حسن ہے اور متن بھی حسن ہے گو یہ روایت حسن رحمہ اللہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہے جس میں انقطاع ہے لیکن اتنے سے نقصان کو اس کی پوری شہرت کافی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ شریک کرنا، کسی کو مار ڈالنا، یتیم کا مال کھانا، پاکدامن عورتوں کو تہمت لگانا، لڑائی سے بھاگ جانا، ہجرت کے بعد دارالکفر میں قیام کر لینا، جادو کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، سود کھانا، جماعت سے جدا ہونا، خرید و فروخت کا عہد توڑ دینا۔ پہلے گزر چکا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بڑے سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کشادگی سے مایوس ہونا اور اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا ہے اور اللہ عزوجل کی پوشیدہ تدبیروں سے بیخوف ہونا ہے۔
ابن جریر میں آپ ہی سے روایت ہے کہ سورۃ نساء کی شروع آیت سے لے کر تیس آیتوں تک کبیرہ گناہ کا بیان ہے پھر آپ نے «إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا» [4-النساء:31] کی تلاوت کی۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کو ناخوش کرنا، آسودگی کے بعد کے بچے ہوئے پانی کو حاجت مندوں سے روک رکھنا، اپنے پاس کے نر جانور کو کسی کی مادہ کے لیے بغیر کچھ لیے نہ دینا۔ بخاری و مسلم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے بچا ہوا پانی نہ روکا جائے اور نہ بچی ہوئی گھاس روکی جائے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2353] اور روایت میں ہے تین قسم کے گنہگاروں کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہیں ایک وہ شخص جو جنگل میں بچے ہوئے پانی پر قبضہ کر کے مسافروں کو اس سے روکے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2358] مسند احمد میں ہے جو شخص زائد پانی کو اور زائد گھاس کو روک رکھے اللہ قیامت کے دن اس پر اپنا فضل نہیں کرے گا۔ ۱؎ [مسند احمد:221/2،قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کبیرہ گناہ وہ ہیں جو عورتوں سے بیعت لینے کے ذکر میں بیان ہوئے ہیں یعنی «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّـهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِي
30۔ 1 یعنی منہیات کا ارتکاب، جانتے بوجھتے، ظلم وتعدی سے کرے گا۔
(آیت 30) ➊ {وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ …: ”ذٰلِكَ“} کا اشارہ قتل نفس کی طرف بھی ہو سکتا ہے، دوسروں کا مال باطل طریقے سے کھانے کی طرف بھی اور سورت کی ابتدا سے یہاں تک جتنی چیزیں منع کی گئی ہیں ان سب کی طرف بھی۔ ➋ { وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرًا:} یہ انداز بیان ڈانٹنے میں مبالغے پر دلالت کر رہا ہے۔ (رازی) موضح میں ہے: ” یعنی مغرور نہ ہوں کہ ہم مسلمان دوزخ میں کیوں کر جائیں گے؟ اللہ تعالیٰ پر یہ آسان ہے۔“
اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جا رہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے اور عزت وبزرگی کی جگہ داخل کریں گے
احمد رضا خان بریلوی
اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے تو تمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اگر تم ان بڑے (گناہوں) سے بچتے رہو، جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے۔ تو ہم تمہاری (چھوٹی) برائیاں دور کر دیں گے (معاف کر دیں گے) اور تمہیں ایک معزز (جنت) میں داخل کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمھیں منع کیاجاتا ہے تو ہم تم سے تمھاری چھوٹی برائیاں دور کر دیں گے اور تمھیں با عزت داخلے کی جگہ میں داخل کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سات کبیرہ گناہ ٭٭
جن سات گناہوں کا اس میں ذکر ہے ان کی تفصیل بخاری مسلم میں اس طرح ہے گناہوں سے بچو جو ہلاک کرنے والے ہیں پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون سے گناہ ہیں؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جس کا قتل حرام ہو اسے قتل کرنا ہاں کسی شرعی وجہ سے اس کا خون حلال ہو گیا ہو تو اور بات ہے۔ جادو کرنا، سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور میدان جنگ سے کفار کے مقابلے میں پیٹھ دکھانا اور بھولی بھالی پاک دامن مسلمان عورتوں کو تہمت لگانا۔ ایک روایت میں جادو کے بدلے ہجرت کر کے پھر واپس اپنے دیس میں قیام کر لینا ہے۔ یہ یاد رہے کہ ان سات گناہوں کو کبیرہ کہنے سے یہ مطلب نہیں کہ کبیرہ گناہ صرف یہی ہیں جیسے کہ بعض اور لوگوں کا خیال ہے جن کے نزدیک مفہوم مخالف معتبر ہے۔ دراصل یہ بہت انتہائی بیمعنی قول اور غلط اصول ہے بالخصوص اس وقت جبکہ اس کے خلاف دلائل موجود ہوں اور یہاں تو صاف لفظوں میں اور کبیرہ گناہوں کا بھی ذکر موجود ہے۔ مندرجہ ذیل حدیثیں ملاحظہ ہوں۔ مستدرک حاکم میں ہے کہ حجتہ الوداع میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو سن لو اللہ تعالیٰ کے ولی صرف نمازی ہی ہیں جو پانچوں وقت کی فرض نمازوں کو باقاعدہ بجا لاتے ہیں جو رمضان شریف کے روزے رکھتے ہیں ثواب حاصل کرنے کی نیت رکھے اور فرض جان کر ہنسی خوشی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ان تمام کبیرہ گناہوں سے دور رہتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے۔ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کبیرہ گناہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا شرک، قتل، میدان جنگ سے بھاگنا، مال یتیم کھانا، سود خوری، پاکدامنوں پر تہمت لگانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، بیت اللہ الحرام کی حرمت کو توڑنا جو زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے سنو جو شخص مرتے دم تک ان بڑے گناہوں سے اجتناب کرتا رہے اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرتا رہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں سونے کے محلوں میں ہو گا۔
حضرت طیسلہ بن میامن فرماتے ہیں مجھ سے ایک گناہ ہو گیا جو میرے نزدیک کبیرہ تھا، میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا وہ کبیرہ گناہ نہیں کبیرہ گناہ نو ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، میدان جنگ میں دشمنان دین کو پیٹھ دکھانا، پاکدامن عورتوں کو تہمت لگانا، سود کھانا، یتیم کا مال ظلم سے کھا جانا، مسجد الحرام میں الحاد پھیلانا اور ماں باپ کو نافرمانی کے سبب رلانا، طیسلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بیان کے بعد بھی ابن عمر رضی اللہ عنہا نے محسوس کیا کہ خوف کم نہیں ہوا تو فرمایا کیا تمہارے دل میں جہنم کی آگ میں داخل ہونے کا ڈر اور جنت میں جانے کی چاہت ہے؟ میں نے کہا بہت زیادہ فرمایا کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ میں نے کہا صرف والدہ حیات ہیں، فرمایا بس تم ان سے نرم کلامی سے بولا کرو اور انہیں کھانا کھلاتے رہا کرو اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتے رہا کرو تو تم یقیناً جنت میں جاؤ گے۔ اور روایت میں ہے کہ طیسلہ بن علی نہدی ابن عمر رضی اللہ عنہا سے میدان عرفات میں عرفہ کے دن پیلو کے درخت تلے ملے تھے اس وقت عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے سر اور چہرے پر پانی بہا رہے تھے اس میں یہ بھی ہے کہ جب عبداللہ رضی اللہ عنہا نے تہمت لگانے کا ذکر کیا تو میں نے پوچھا کیا یہ بھی مثل قتل کے بہت بڑا گناہ ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اور ان گناہوں کے ذکر میں جادو کا ذکر بھی ہے اور روایت میں ہے کہ میری ان کی ملاقات شام کے وقت ہوئی تھی اور میں نے ان سے کبائر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ کبائر سات ہیں میں نے پوچھا کیا کیا؟ تو فرمایا شرک اور تہمت لگانا میں نے کہا کیا یہ بھی مثل خون ناحق کے ہے؟ فرمایا ہاں ہاں اور کسی مومن کو بےسبب مار ڈالنا، لڑائی سے بھاگنا، جادو اور سود خواری، مال یتیم کھانا، والدین کی نافرمانی اور بیت اللہ میں الحاد پھیلانا جو زندگی میں اور موت میں تمہارا قبلہ ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ کا بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے نماز قائم رکھے زکوٰۃ ادا کرے رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں سے بچے وہ جنتی ہے، ایک شخص نے پوچھا کبائر کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا مسلمان کو قتل کرنا لڑائی والے دن بھاگ کھڑا ہونا۔ ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو ایک کتاب لکھوا کر بھجوائی جس میں فرائض اور سنن کی تفصیلات تھیں دیت یعنی جرمانوں کے احکام تھے اور یہ کتاب عمرو بن حزم رضی اللہ عنہا کے ہاتھ اہل یمن کو بھجوائی گئی تھی اس کتاب میں یہ بھی تھا کہ قیامت کے دن تمام کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے اور ایماندار شخص کا قتل بغیر حق کے اور اللہ کی راہ میں جہاد کے میدان میں جا کر لڑتے ہوئے نامردی سے جان بچانے کی خاطر بھاگ کھڑا ہونا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور ناکردہ گناہ عورتوں پر الزام لگانا اور جادو سیکھنا اور سود کھانا اور مال یتیم برباد کرنا۔ ایک اور روایت میں کبیرہ گناہوں کے بیان میں جھوٹی بات یا جھوٹی شہادت بھی ہے اور حدیث میں ہے کہ کبیرہ گناہوں کے بیان کے وقت آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے لیکن جب یہ بیان فرمایا کہ جھوٹی گواہی اور جھوٹی بات اس وقت آپ تکیے سے ہٹ گئے اور بڑے زور سے اس بات کو بیان فرمایا اور باربار اسی کو دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے دل میں سوچا کاش اب آپ نہ دہرائیں۔ بخاری مسلم میں ہے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک کرے یہ جانتے ہوئے کہ تجھے صرف اسی نے پیدا کیا ہے؟ میں نے پوچھا اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تو اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کر دے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا، میں نے پوچھا پھر کون سا گناہ بڑا ہے؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی پڑوسن سے بدکاری کرے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ» [ 25-الفرقان: 68-70 ] تک پڑھی۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن رضی اللہ عنہا مسجد الحرام میں حطیم کے اندر بیٹھے ہوئے تھے جو ایک شخص نے شراب کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا مجھ جیسا بوڑھا بڑی عمر کا آدمی اس جگہ بیٹھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بول سکتا شراب کا پینا تمام گناہوں سے بڑا گناہ ہے؟ یہ کام تمام خباثتوں کی ماں ہے شرابی تارک نماز ہوتا ہے وہ اپنی ماں اور خالہ اور پھوپھی سے بھی بدکاری کرنے سے نہیں چوکتا یہ حدیث غریب ہے۔ ابن مردویہ میں ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا عمر فاروق رضی اللہ عنہا اور دوسرے بہت سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک مرتبہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے وہاں کبیرہ گناہوں کا ذکر نکلا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ تو کسی کے پاس مصدقہ جواب نہ تھا اس لیے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ کو بھیجا کہ تم جا کر عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا سے دریافت کر آؤ میں گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ سب سے بڑا گناہ شراب پینا ہے میں نے واپس آ کر اس مجلس میں یہ جواب سنا دیا اس پر اہل مجلس کو تسکین نہ ہوئی اور سب حضرات اٹھ کر عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا کے گھر چلے اور خود ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک واقعہ بیان کیا کہ بنی اسرائیل کے بادشاہوں میں سے ایک نے ایک شخص کو گرفتار کیا پھر اس سے کہا کہ یا تو تو اپنی جان سے ہاتھ دھو ڈال یا ان کاموں میں سے کسی ایک کو کر یعنی یا تو شراب پی یا خون ناحق کر یا زنا کر یا سور کا گوشت کھا اس غور و تفکر کے بعد اس نے جان جانے کے ڈر سے شراب کو ہلکی چیز سمجھ کر پینا منظور کر لیا جب شراب پی لی تو پھر نشہ میں وہ ان تمام کاموں کو کر گزرا جن سے وہ پہلے رکا تھا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ گوش گزار فرما کر ہم سے فرمایا جو شخص شراب پیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی نمازیں چالیس رات تک قبول نہیں فرماتا اور جو شراب پینے کی عادت میں ہی مر جائے اور اس کے مثانہ میں تھوڑی سی شراب ہو اس پر اللہ جنت کو حرام کر دیتا ہے۔ اگر شراب پینے کے بعد چالیس راتوں کے اندر اندر مرے تو اس کی موت جاہلیت کی موتی ہوتی ہے، یہ حدیث غریب ہے، ایک اور حدیث میں جھوٹی قسم کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے [ بخاری وغیرہ ] ابن ابی حاتم میں جھوٹی قسم کے بیان کے بعد یہ فرمان بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہے اور اس نے مچھر کے پر برابر زیادتی کی اس کے دل میں ایک سیاہ داغ ہو جاتا ہے جو قیامت تک باقی رہتا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ انسان کا اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہ ہے لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ماں باپ کو کیسے گالی دے گا؟ آپ نے فرمایا اس طرح کہ اس نے دوسرے کے باپ کو گالی دی اس نے اس کے باپ کو اس نے اس کی ماں کو برا کہا اس نے اس کی ماں کو۔ بخاری شریف میں ہے سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ پر لعنت کرے لوگوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے فرمایا دوسرے کے ماں باپ کو کہہ کر اپنے ماں باپ کو کہلوانا۔ صحیح حدیث میں ہے مسلمان کو گالی دینا فاسق بنا دیتا ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ اکبر الکبائر یعنی تمام کبیرہ گناہوں میں بڑا گناہ کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے اور ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دینا ہے۔
ترمذی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے دو نمازوں کو عذر کے بغیر جمع کیا وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں گھسا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا کی کتاب جو ہمارے سامنے پڑھی گئی اس میں یہ بھی تھا کہ دو نمازوں کو بغیر شرعی عذر کے جمع کرنا کبیرہ گناہ ہے، اور لڑائی کے میدان سے بھاگ کھڑا ہونا اور لوٹ کھسوٹ کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے، الغرض ظہر عصر یا مغرب عشاء پہلے وقت یا پچھلے وقت بغیر کسی شرعی رخصت کے جمع کر کے پڑھنا کبیرہ گناہ ہے۔ پھر جو شخص کہ بالکل ہی نہ پڑھے اس کے گناہ کا تو کیا ٹھکانہ ہے؟ چنانچہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ بندے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑ دینا ہے، سنن کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم میں اور کافر میں فرق کرنے والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے، جس نے اسے چھوڑا اس نے کفر کیا اور روایت میں آپ کا یہ فرمان بھی منقول ہے کہ جس نے عصر کی نماز ترک کر دی اس کے اعمال غارت ہوئے اور حدیث میں ہے جس سے عصر کی نماز فوت ہوئی گویا اس کا مال اس کا اہل و عیال بھی ہلاک ہو گئے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کبیرہ گناہ کیا کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ کی نعمت اور اس کی رحمت سے ناامید ہونا اور اس خفیہ تدبیروں سے بیخوف ہو جانا اور یہ سب سے بڑا گناہ ہے اسی کے مثل ایک روایت اور بھی بزار میں مروی ہے لیکن زیادہ ٹھیک یہ ہے کہ وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا پر موقوف ہے، ابن مردویہ میں ہے ابن عمر رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں سب سے کبیرہ گناہ اللہ عزوجل کے ساتھ بدگمانی کرنا ہے، یہ روایت بہت ہی غریب ہے، پہلے وہ حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں ہجرت کے بعد کفرستان میں آ کر بسنے کو بھی کبیرہ گناہ فرمایا ہے، یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے، سات کبیرہ گناہوں میں اسے بھی گنا گیا ہے لیکن اس کی اسناد میں اختلاف ہے اور اسے مرفوع کہنا بالکل غلط ہے ٹھیک بات وہی ہے جو تفسیر ابن جریر میں مروی ہے کہ علی رضی اللہ عنہا کوفے کی مسجد میں ایک مرتبہ منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ سنا رہے تھے جس میں فرمایا لوگو کبیرہ گناہ سات ہیں اسے سن کر لوگ چیخ اٹھے آپ نے اسی کو پھر دوہرایا پھر دوہرایا پھر فرمایا تم مجھ سے ان کی تفصیل کیوں نہیں پوچھتے؟ لوگوں نے کہا امیر المؤمنین فرمائیے وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا جس جان کو مار ڈالنا اللہ نے حرام کیا ہے اسے مار ڈالنا پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا یتیم کا مال کھانا سود خوری کرنا لڑائی کے دن پیٹھ دکھانا اور ہجرت کے بعد پھر دارالکفر میں آبسنا۔
راوی حدیث محمد بن سہل رحمہ اللہ نے اپنے والد سہل بن خیثمہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ اسے کبیرہ گناہوں میں کیسے داخل کیا تو جواب ملا کہ پیارے بچے اس سے بڑھ کر ستم کیا ہو گا؟ کہ ایک شخص ہجرت کر کے مسلمانوں میں ملے مال غنیمت میں اس کا حصہ مقرر ہو جائے مجاہدین میں اس کا نام درج کر دیا جائے پھر وہ ان تمام چیزوں کو چھوڑ کر اعرابی بن جائے اور دارالکفر میں چلا جائے اور جیسا تھا ویسا ہی ہو جائے۔
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا خبردار خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو خون ناحق سے بچو [ ہاں شرعی اجازت اور چیز ہے ] زناکاری نہ کرو چوری نہ کرو۔ وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ وصیت کرنے میں کسی کو نقصان پہنچانا بھی کبیرہ گناہ ہے ابن جریر میں ہے کہ صحابہ نے ایک مرتبہ کبیرہ گناہوں کو دہرایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا یتیم کا مال کھانا لڑائی سے بھاگ کھڑا ہونا، پاکدامن بےگناہ عورتوں پر تہمت لگانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، خیانت کرنا، جادو کرنا، سود کھانا یہ سب کبیرہ گناہ ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس گناہ کو کیا کہو گے؟ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے پھرتے ہیں آخر آیت تک آپ نے تلاوت کی۔ اس کی اسناد میں ضعف ہے اور یہ حدیث حسن ہے، پس ان تمام احادیث میں کبیرہ گناہوں کا ذکر موجود ہے۔
اب اس بارے میں سلف صالحین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے جو اقوال ہیں وہ ملاحظہ ہوں، ابن جریر میں منقول ہے چند لوگوں نے مصر میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ بہت سی باتیں کتاب اللہ میں ہم ایسی پاتے ہیں کہ جن پر ہمارا عمل نہیں اس لیے ہم امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہا انہیں لے کر مدینہ آئے اپنے والد سے ملے آپ نے پوچھا کب آئے ہو؟ جواب دیا کہ چند دن ہوئے۔ پوچھا اجازت سے آئے ہو؟ اس کا بھی جواب دیا پھر اپنے ساتھ آنے والے لوگوں کا ذکر اور مقصد بیان کیا آپ نے فرمایا انہیں جمع کرو سبھی کو ان کے پاس لائے اور ان میں سے ہر ایک کو عمر رضی اللہ عنہا نے پوچھا تجھے اللہ اور اسلام حق کی قسم بتاؤ تم نے پورا قرآن کریم پڑھا ہے؟ اس نے کہا ہاں فرمایا کیا تو نے اسے اپنے دل میں محفوظ کر لیا ہے اس نے کہا نہیں اور اگر ہاں کہتا تو عمر رضی اللہ عنہا اسے کماحقہ دلائل سے عاجز کر دیتے پھر فرمایا کیا تم سب نے قرآن حکیم کے مفہوم کو نگاہوں میں زبان میں اور اعمال میں ڈھال لیا ہے پھر ایک ایک سے یہی سوال کیا پھر فرمایا تم عمر کو اس مشقت میں ڈالنا چاہتے ہو کہ لوگوں کو بالکل کتاب اللہ کے مطابق ہی ٹھیک ٹھاک کر دے، ہمارے رب کو پہلے سے ہی ہماری خطاؤں کا علم تھا۔
پھر آپ نے آیت «إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا» [ 4۔ النسآء: 31 ] کی تلاوت کی۔ پھر فرمایا کیا اہل مدینہ کو تمہارے آنے کا مقصد معلوم ہے؟ انہوں نے کہا نہیں فرمایا اگر انہیں بھی اس کا علم ہوتا تو مجھے اس بارے میں انہیں بھی وعظ کرنا پڑتا۔ اس کی اسناد حسن ہے اور متن بھی گو یہ روایت حسن کی عمر رضی اللہ عنہا سے ہے جس میں انقطاع ہے لیکن پھر بھی اتنے سے نقصان پر اس کی پوری شہرت بھاری ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہی علی رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ شریک کرنا، کسی کو مار ڈالنا، یتیم کا مال کھانا، پاکدامن عورتوں کو تہمت لگانا، لڑائی سے بھاگ جانا، ہجرت کے بعد دارالکفر میں قیام کر لینا، جادو کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، سود کھانا، جماعت سے جدا ہونا، خرید و فروخت کا عہد توڑ دینا، پہلے گزر چکا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں بڑے سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت سے مایوس ہونا اور اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا ہے اور اللہ عزوجل کی پوشیدہ تدبیروں سے بیخوف ہونا ہے۔ ابن جریر میں آپ ہی سے روایت ہے کہ سورۃ نساء کی شروع آیت سے لے کر تیس آیتوں تک کبیرہ گناہ کا بیان ہے پھر آپ نے آیت «إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا» [ 4۔ النسآء: 31 ] کی تلاوت کی۔
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا ماں باپ کو ناخوش کرنا آسودگی کے بعد کے بچے ہوئے پانی کو حاجت مندوں سے روک رکھنا اپنے پاس کے نر جانور کو کسی کی مادہ کے لیے بغیر کچھ لیے نہ دینا، بخاری و مسلم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے بچا ہوا پانی نہ روکا جائے اور نہ بچی ہوئی گھاس روکی جائے، اور روایت میں ہے تین قسم کے گنہگاروں کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا اور نہ ہی ان کی فرد جرم ہٹائے گا بلکہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہیں ایک وہ شخص جو جنگل میں بچے ہوئے پانی پر قبضہ کر کے مسافروں کو اس سے روکے۔ مسند احمد میں ہے جو شخص زائد پانی کو اور زائد گھاس کو روک رکھے اللہ قیامت کے دن اس پر اپنا فضل نہیں کرے گا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کبیرہ گناہ وہ ہیں جو عورتوں سے بیعت لینے کے ذکر میں بیان ہوئے ہیں یعنی آیت «عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» [ 60۔ الممتحنہ: 12 ] میں۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہا اس آیت کو اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان احسانوں میں بیان فرماتے ہیں اور اس پر بڑی خوشنودی کا اظہار فرماتے ہیں یعنی آیت «إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا» [ 4۔ النسآء: 31 ] کو۔ ایک مرتبہ ابن عباس رضی اللہ عنہا کے سامنے لوگوں نے کہا کبیرہ گناہ سات ہیں آپ نے کئی کئی مرتبہ فرمایا سات ہیں، دوسری روایت میں ہے آپ نے فرمایا سات ہلکا درجہ ہے ورنہ ستر ہیں، ایک اور شخص کے کہنے پر آپ نے فرمایا وہ سات سو تک ہیں اور سات بہت ہی قریب ہیں ہاں یہ یاد رکھو کہ استغفار کے بعد کبیرہ گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار اور تکرار سے صغیرہ گناہ صغیرہ نہیں رہتا، اور سند سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا جس گناہ پر بھی جہنم کی وعید اللہ تعالیٰ کے غضب لعنت یا عذاب کی ہے وہ کبیرہ گناہ ہے اور روایت میں ہے جس کام سے اللہ منع فرما دے اس کا کرنا کبیرہ گناہ ہے یعنی کام میں بھی اللہ عزوجل کی نافرمانی ہو وہ بڑا گناہ ہے۔
تابعین کے اقوال بھی ملاحظہ ہوں، عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل نفس بغیر حق، میدان جہاد میں پیٹھ پھیرنا، یتیم کا مال اڑانا، سود خوری، بہتان بازی، ہجرت کے بعد وطن دوستی۔ راوی حدیث ابن عون نے اپنے استاد محمد سے پوچھا کیا جادو کبیرہ گناہ میں نہیں؟ فرمایا یہ بہتان میں آ گیا، یہ لفظ بہت سی برائیوں پر مشتمل ہے، عبید بن عمیر رحمہ اللہ نے کبیرہ گناہوں پر آیات قرآنی بھی تلاوت کر کے سنائیں شرک پر «وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ» [ 22۔ الحج: 31 ] یعنی اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا اور اسے پرندے لپک لے جائیں یا ہوا اسے دور دراز نامعلوم اور بدترین جگہ پھینک دے۔ یتیم کے مال پر «إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا» [ 4-النسأ: 10 ] یعنی جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال ہڑپ کر لیتے ہیں وہ سب پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرتے ہیں۔ سود خواری پر «اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ،» [ 2۔ البقرہ: 175 ] یعنی جو لوگ سود خواری کرتے ہیں وہ قیامت کے دن مخبوط الحواس اور پاگل بن کر کھڑے ہوں گے۔ بہتان پر «اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۠ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ» [ 24۔ النور: 23 ] جو لوگ پاکدامن بیخبر باایمان عورتوں پر تہمت لگائیں۔ میدان جنگ سے بھاگنے پر «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ» [ 8-الأنفال: 15 ] ایمان والو جب کافروں سے مقابلہ ہو جائے تو پیٹھ نہ دکھاؤ، ہجرت کے بعد کفرستان میں قیام کرنے پر «إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى» [ 47۔ محمد: 25 ] یعنی لوگ ہدایت کے بعد مرتد ہو جائیں، قتل مومن پر «وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا» [ 4-النساء: 93 ] یعنی جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر مار ڈالے اس کی سزا جہنم کا ابدی داخلہ ہے۔ عطا رحمتہ اللہ علیہ سے بھی کبیرہ گناہوں کا بیان موجود ہے اور اس میں جھوٹی گواہی ہے، مغیرہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ کہا جاتا تھا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا اور عمر فاروق رضی اللہ عنہا کو برا کہنا بھی کبیرہ گناہ ہے، میں کہتا ہوں علماء کی ایک جماعت نے اسے کافر کہا ہے جو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہے۔
حضرت امام مالک بن انس رحمتہ اللہ علیہ سے یہ مروی ہے، امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں یہ باور نہیں کر سکتا کہ کسی کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہو اور وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا سے دشمنی رکھے [ ترمذی ] زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کبائر یہ ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اللہ کی آیتوں اور اس کے رسولوں سے کفر کرنا جادو کرنا اولاد کو مار ڈالنا اللہ تعالیٰ سے اولاد اور بیوی کی نسبت دینا اور اسی جیسے وہ اعمال اور وہ اقوال ہیں جن کے بعد کوئی نیکی قبول نہیں ہوتی ہاں کی ایسے گناہ ہیں جن کے ساتھ دین رہ سکتا ہے اور عمل قبول کر سکتا ہے ایسے گناہوں کو نیکی کے بدلے اللہ عزوجل معاف فرما دیتا ہے۔
حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مغفرت کا وعدہ ان سے کیا ہے جو کبیرہ گناہوں سے بچیں اور ہم سے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کبیرہ گناہ سے بچو ٹھیک ٹھاک اور درست رہو اور خوشخبری سنو۔ مسند عبدالرزاق میں بہ سند صحیح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا میری شفاعت صرف متقیوں اور مومنوں کے لیے؟ نہیں نہیں بلکہ وہ خطا کاروں اور گناہوں سے آلودہ لوگوں کے لیے بھی ہے۔
اب علماء کرام کے اقوال سنئے جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ کبیرہ گناہ کسے کہتے ہیں بعض تو کہتے ہیں کبیرہ گناہ وہ ہے جس پر حد شرعی ہو۔ بعض کہتے ہیں جس پر قرآن میں یا حدیث میں کسی سزاکا ذکر ہو۔ بعض کا قول ہے جس سے دین داری کم ہوتی ہو اور دیانت داری میں کمی واقع ہوتی ہو۔ قاضی ابوسعید ہروی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جس کا حرام ہونا لفظوں سے ثابت ہو اور جس نافرمانی پر کوئی حد ہو جیسے قتل وغیرہ اسی طرح ہر فریضہ کا ترک اور جھوٹی گواہی اور جھوٹی روایت اور جھوٹی قسم۔ قاضی روبانی فرماتے ہیں کبائر ساتھ ہیں بیوجہ کسی کو مار ڈالنا، زنا، لواطت، شراب نوشی، چوری، غصب، تہمت اور ایک آٹھویں گواہی اور اسی کے ساتھ یہ بھی شامل کئے گئے ہیں سود خواری، رمضان کے روزے کا بلا عذر ترک کر دینا، جھوٹی قسم، قطع رحمی، ماں باپ ک
31۔ 1 کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک وہ گناہ ہیں جن پر حد مقرر ہے، بعض کے نزدیک وہ گناہ جس پر قرآن میں یا حدیث میں سخت وعید یا لعنت آئی ہے، بعض کہتے ہیں ہر وہ کام جس سے اللہ نے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تحریم کے روکا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بات بھی کسی گناہ میں پائی جائے تو کبیرہ ہے۔ یہاں یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ جو مسلمان کبیرہ گناہوں مثلاً شرک، حقوق والدین، جھوٹ وغیرہ سے اجتناب کرے گا، تو ہم اس کے صغیرہ گناہ معاف کردیں گے۔ سورة نجم میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے البتہ وہاں کبائر کے ساتھ فواحش (بےحیائی کے کاموں) سے اجتناب کو بھی صغیرہ گناہوں کی معافی کے لئے ضروی قرار دیا گیا ہے علاوہ ازیں صغیرہ گناہوں پر اصرار و مداومت بھی صغیرہ گناہوں کو کبائر بنا دیتی ہے اسی طرح اجتناب کبائر کے ساتھ احکام و فرائض اسلام کی پابندی اور اعمال صالحہ کا اہتمام بھی نہایت ضروری ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے شریعت کے مزاج کو سمجھ لیا تھا اس لئے انہوں نے صرف وعدہ مغفرت پر ہی تکیہ نہیں کیا بلکہ مغفرت و رحمت الہی کے یقینی حصول کے لئے مزکورہ تمام ہی باتوں کا اہتمام کیا جب کہ ہمارا دامن عمل سے تو خالی ہے لیکن ہمارے قلب امیدوں اور آرزو وں سے معمور ہیں
(آیت 31) ➊ {اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىِٕرَ …:} کبیرہ گناہ وہ ہیں جن کے متعلق قرآن یا حدیث میں صاف طور پر دوزخ کی وعید آئی ہو، یا اللہ کے غصے کا اظہار ہوتا ہو، یا شریعت میں ان پر حد مقرر کی گئی ہو اور { ”سَيِّئَاتٌ“ } سے مراہ یہاں صغیرہ گناہ ہیں جن سے صرف منع کیا گیا ہو اور ان پر وعید وارد نہ ہوئی ہو۔ (رازی، ابن کثیر) ➋ {نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ: } یعنی اگر تم کبائر سے اجتناب کرتے رہو گے تو ہم تمھارے صغیرہ گناہ تمھارے نیک اعمال کی وجہ سے معاف فرما دیں گے۔ بعض روایات میں کبائر کا شمار بھی آیا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا، جوا، شراب نوشی اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا وغیرہ، مگر ان کی کوئی تحدید نہیں ہے، یہ سات سے ستر بلکہ سات سو تک بھی ہو سکتے ہیں اور بعض علماء نے اپنی کتابوں میں کبیرہ گناہوں کو جمع بھی کیا ہے، جن کا ذکر قرآن یا حدیث میں آیا ہے، جیسے امام ذہبی رحمہ اللہ کی {”اَلْكَبَائِرُ“} اور امام ہیثمی رحمہ اللہ کی{ ”اَلزَّوَاجِرُ عَنِ اقْتَرِافِ الْكَبَائِرِ“} مزید دیکھیے سورۂ نجم (۳۲)۔
اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو جو کچھ مَردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق اُن کا حصہ ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو، یقیناً اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اوراس چیز کی آرزو نہ کرو جس کے باعﺚ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر بزرگی دی ہے، مردوں کا اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کے لئے ان میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا، اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو، یقیناً اللہ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ اور اللہ سے اس کا فضل مانگو، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ نے تم سے بعض کو دوسرے بعض پر جو زیادتی (بڑائی) عطا کی ہے۔ تم اس کی تمنا نہ کرو۔ مردوں کا حصہ ہے (مال و اعمال وغیرہ سے) جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کا حصہ ہے جو کچھ انہوں نے کمایا۔ اور اللہ سے اس کے فضل (مال اور اعمال وغیرہ کا) سوال کرو بے شک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، مردوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور عورتوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور اللہ سے اس کے فضل میں سے حصہ مانگو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جائز رشک اور جواب باصواب ٭٭
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ یا رسول اللہ! مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم عورتیں اس ثواب سے محروم ہیں، اسی طرح میراث میں بھی ہمیں بہ نسبت مردوں کے آدھا ملتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3022،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ اس کے بعد پھر «أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ» ۱؎ [3-آل عمران:195] اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9238] اور یہ بھی روایت میں ہے کہ عورتوں نے یہ آرزو کی تھی کہ کاش کہ ہم بھی مرد ہوتے تو جہاد میں جاتے اور روایت میں ہے کہ ایک عورت نے خدمت نبوی میں حاضر ہو کر کہا تھا کہ دیکھئیے مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملتا ہے دو عورتوں کی شہادت مثل ایک مرد کے سمجھی جاتی ہے پھر عمل اس طرح ہے ایک نیکی آدھی نیکی رہ جاتی ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5223/3] سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مردوں نے کہا تھا کہ جب دوہرے حصے کے مالک ہم ہیں تو دوہرا اجر بھی کیوں نہ ملے؟ اور عورتوں نے درخواست کی تھی کہ جب ہم پر جہاد فرض ہی نہیں ہمیں تو شہادت کا ثواب کیوں نہیں ملتا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو روکا اور حکم دیا کہ میرا فضل طلب کرتے رہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مطلب بیان کیا گیا ہے کہ انسان یہ آرزو نہ کرے کہ کاش کہ فلاں کا مال اور اولاد میرا ہوتا؟ اس پر اس حدیث سے کوئی اشکال ثابت نہیں ہو سکتا جس میں ہے کہ حسد کے قابل صرف دو ہیں ایک مالدار جو راہ اللہ اپنا مال لٹاتا ہے، ۱؎ [صحیح بخاری:73] اور دوسرا کہتا ہے کاش کہ میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں بھی اسی طرح فی سبیل اللہ خرچ کرتا رہتا پس یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اجر میں برابر ہیں اس لیے کہ یہ ممنوع نہیں یعنی ایسی نیکی کی حرص بری نہیں کسی نیک کام کو حاصل کرنے کی تمنا یا حرص کرنا محمود ہے اس کے برعکس کسی کی چیز اپنے قبضے میں لینے کی نیت کرنا ہر طرح مذموم ہے جس طرح دینی فضیلت حاصل کرنے کی حرض جائز رکھی ہے اور دنیوی فضیلت کی تمنا ناجائز ہے۔ پھر فرمایا ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا خیر کے بدلے خیر اور شر کے بدلے شر اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ ہر ایک کو اس کے حق کے مطابق ورثہ دیا جاتا ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہم سے ہمارا فضل مانگتے رہا کرو آپس میں ایک دوسرے کی فضیلت کی تمنا بےسود امر ہے ہاں مجھ سے میرا فضل طلب کرو تو میں بخیل نہیں کریم ہوں وہاب ہوں دوں گا اور بہت کچھ دوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لوگو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو اللہ سے مانگنا اللہ کو بہت پسند ہے، یاد رکھو سب سے اعلیٰ عبادت کشادگی اور وسعت و رحمت کا انتظار کرنا اور اس کی امید رکھنا ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3571،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور روایت میں ہے ایسی امید رکھنے والے اللہ کو بہت بھاتے ہیں۔ اللہ علیم ہے اسے خوب معلوم ہے کہ کون دئیے جانے کے قابل ہے اور کون فقیری کے لائق ہے اور کون آخرت کی نعمتوں کا مستحق ہے اور کون وہاں کی رسوائیوں کا سزاوار ہے اسے اس کے اسباب اور اسے اس کے وسائل وہ مہیا اور آسان کر دیتا ہے۔
32۔ 1 اس کی شان نزول میں بتلایا گیا ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا مرد جہاد میں حصہ لیتے ہیں اور شہادت پاتے ہیں۔ ہم عورتیں ان فضیلت والے کاموں سے محروم ہیں۔ ہماری میراث بھی مردوں سے نصف ہے، اس پر آیت نازل ہوئی، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جو جسمانی قوت و طاقت اپنی حکمت اور ارادہ کے مطابق عطا کی ہے اور جس کی بنیاد پر وہ جہاد بھی کرتے ہیں اور دیگر بیرونی کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔ یہ ان کے لئے خاص عطیہ ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے عورتوں کو مردانہ صلاحیتوں کے کام کرنے کی آرزو نہیں کرنی چاہئے۔ البتہ اللہ کی اطاعت اور نیکی کے کاموں میں خوب حصہ لینا چاہیے اور اس میدان میں وہ جو کچھ کمائیں گی، مردوں کی طرح ان کا پورا پورا صلہ انہیں ملے گا۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرنا چاہیے کیونکہ مرد اور عورت کے درمیان استعداد، صلاحیت اور قوت کا جو فرق ہے وہ تو قدرت کا ایک اٹل فیصلہ ہے جو محض آرزو سے تبدیل نہیں ہوسکتا۔ البتہ اس کے فضل سے کسب و محنت میں رہ جانے والی کمی کا ازالہ ہوسکتا ہے۔
(آیت 32){ وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ …:} یعنی یہ نہ کہو کہ کاش! یہ درجہ یا مال مجھے مل جائے، یہ تقدیر پر راضی نہ ہونے کی دلیل ہے اور اگر یہ بھی ہو کہ اس کے پاس یہ نعمت نہ رہے تو حسد ہے، جس کی بہت مذمت آئی ہے، ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ مرد لوگ جہاد کرتے ہیں، ہم اس سے محروم ہیں، میراث میں بھی ہمارا نصف حصہ ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «{ وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ }» [ أحمد: 322/6 ح: ۲۶۷۹۲ ] یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب نیک اعمال سے ہے، مرد کو محض مرد ہونے کی وجہ سے عورت پر عمل میں فضیلت نہیں ہے اور عورت محض عورت ہونے کی وجہ سے نیک عمل کے ثواب سے محروم نہیں ہے، لہٰذا تم بجائے حسد کے اللہ تعالیٰ کا فضل چاہا کرو۔ (ابن کثیر، بغوی)
اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کر دیے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو، یقیناً اللہ ہر چیز پر نگراں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ماں باپ یا قرابت دار جو چھوڑ مریں اس کے وارث ہم نے ہر شخص کے مقرر کر دیئے ہیں اور جن سے تم نے اپنے ہاتھوں معاہده کیا ہے انہیں ان کا حصہ دو حقیقتاً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر حاضر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا انہیں ان کا حصہ دو، بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ہر شخص کے لئے وارث مقرر کر دیئے ہیں، جو کچھ ماں، باپ اور قریب ترین رشتہ دار اور جن سے تم نے عہدوپیمان کر رکھا ہے۔ چھوڑ جائیں انہیں (وارثوں کو) ان کا حصہ دو۔ بے شک اللہ ہر چیز پر گواہ (مطلع) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اس (ترکے) میں جو والدین اور زیادہ قرابت والے چھوڑ جائیں، ہر ایک کے وارث مقرر کر دیے ہیں اور جن لوگوں کو تمھارے عہد و پیمان نے باندھ رکھا ہے انھیں ان کا حصہ دو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر حاضر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسئلہ وارثت میں موالی؟ وارث اور عصبہ کی وضاحت و اصلاحات ٭٭
بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ موالی سے مراد وارث ہے۔ ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:270/8] بعض کہتے ہیں «عصبہ» مراد ہیں؟ چچا کی اولاد کو بھی «موالی» کہا جاتا ہے جیسے فضل بن عباس رحمہ اللہ کے شعر میں ہے۔ پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ اے لوگو! تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے عصبہ مقرر کر دئیے ہیں جو اس مال کے وارث ہوں گے جسے ان کے ماں باپ اور قرابتدار چھوڑ مریں اور تمہارے منہ بولے بھائی ہیں تم جن کی قسمیں کھا کر بھائی بنے ہو اور وہ تمہارے بھائی بنے ہیں انہیں ان کی میراث کا حصہ دو جیسے کہ قسموں کے وقت تم میں عہد و پیمان ہو چکا تھا، یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا پھر منسوخ ہو گیا اور حکم ہوا کہ جن سے عہد و پیمان ہوئے وہ نبھائے جائیں اور بھولے نہ جائیں لیکن میراث انہیں نہیں ملے گی۔ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ موالی سے مراد وارث ہیں اور بعد کے جملہ سے مراد یہ ہے کہ مہاجرین جب مدینہ شریف میں تشریف لائے تو یہ دستور تھا کہ ہر مہاجر اپنے انصاری بھائی بند کا وارث ہوتا اس کے ذو رحم رشتہ دار وارث نہ ہوتے پس آیت نے اس طریقے کو منسوخ قرار دیا اور حکم ہوا کہ ان کی مدد کرو انہیں فائدہ پہنچاؤ ان کی خیر خواہی کرو لیکن میراث انہیں نہیں ملے گی ہاں وصیت کر جاؤ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4580]
قبل از اسلام یہ دستور تھا کہ دو شخصوں میں عہد و پیمان ہو جاتا تھا کہ میں تیرا وارث اور تو میرا وارث اسی طرح قبائل عرب عہد و پیمان کر لیتے تھے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جاہلیت کی قسمیں اور عہد و پیمان کو اسلام اور مضبوظ کرتا ہے لیکن اب اسلام میں قسمیں اور اس قسم کے عہد نہیں اسے اس آیت نے منسوخ قرار دے دیا اور فرمایا معاہدوں والوں کی بہ نسبت ذی رحم رشتہ دار کتاب اللہ کے حکم سے زیادہ ترجیح کے مستحق ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کی قسموں اور عہدوں کے بارے میں یہاں تک تاکید فرمائی کہ اگر مجھے سرخ اونٹ دئیے جائیں اور اس قسم کے توڑنے کو کہا جائے جو دارالندوہ میں ہوئی تھی تو میں اسے بھی پسند نہیں کرتا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2530] ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں اپنے بچپنے میں اپنے ماموؤں کے ساتھ حلف طیبین میں شامل تھا میں اس قسم کو سرخ اونٹوں کے بدلے بھی توڑنا پسند نہیں کرتا“ پس یاد رہے کہ قریش و انصار میں جو تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا تھا وہ صرف الفت و یگانگت پیدا کرنے کے لیے تھا ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9297:صحیح بالشواھد] لوگوں کے سوال کے جواب میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مروی ہے کہ جاہلیت کے حلف نبھاؤ۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9293:صحیح بالشواھد] لیکن فتح مکہ والے دن بھی آپ نے کھڑے ہو کر اپنے خطبہ میں اسی بات کا اعلان فرمایا۔
داؤد بن حصین رحمہ اللہ کہتے ہیں میں سیدہ ام سعد بنت ربیع رضی اللہ عنہا سے قرآن پڑھتا تھا میرے ساتھ ان کے پوتے موسیٰ بن سعد بھی پڑھتے تھے جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی گود میں یتیمی کے ایام گزار رہے تھے میں نے جب اس آیت میں «عاقدت» پڑھا تو مجھے میری استانی جی نے روکا اور فرمایا «عقدت» پڑھو اور یاد رکھو یہ آیت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جب عبدالرحمٰن اسلام کے منکر تھے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی کہ انہیں وارث نہ کریں گے بالآ خر جب یہ مسلمانوں کی بے پناہ تلواروں سے اسلام کی طرف آمادہ ہوئے اور مسلمان ہو گئے تو سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم ہوا کہ انہیں ان کے ورثے کے حصے سے محروم نہ فرمائیں، [ضعیف: اس کی سند میں ابن اسحق مدلس راوی ہے اور اس نے عن سے روایت بیان کی ہے] لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے الغرض اس آیت اور ان احادیث سے ان کا قول رد ہوتا ہے جو قسم اور وعدوں کی بنا پر آج بھی ورثہ پہنچنے کے قائل ہیں جیسے کہ امام ابوحنفیہ رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا خیال ہے اور امام احمد رحمہ اللہ سے بھی اس قسم کی ایک روایت ہے۔
جسے جمہور اور امام مالک اور امام شافعی رحمہ اللہ علیہم سے صحیح قرار دیا ہے اور مشہور قول کی بنا پر امام احمد بھی اسے صحیح مانتے ہیں۔ پس آیت میں ارشاد ہے کہ ہر شخص کے وارث اس کے قرابتی لوگ ہیں اور کوئی نہیں۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حصہ دار وارثوں کو ان کے حصوں کے مطابق دے کر پھر جو بچ رہے تو عصبہ کو ملے [صحیح بخاری:6732:6725] اور وارث وہ ہیں جن کا ذکر فرائض کی دو آیتوں میں ہے اور جن سے تم سے مضبوط عہد و پیمان اور قسموں کا تبادلہ کیا ہے یعنی آس آیت کے نازل ہونے سے پہلے سے انہیں ان کا حصہ دو یعنی میراث کا اور اور اس کے بعد جو حلف ہو وہ کالعدم ہو گا اور یہ بھی کہا گیا ہے خواہ اس سے پہلے کے وعدے اور قسمیں ہوں خواہ اس آیت کے اترنے کے بعد ہوں سب کا یہی حکم ہے کہ ایسے حلف برداروں کو میراث نہ ملے۔ اور بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کا حصہ نصرت امداد خیر خواہی اور وصیت ہے میراث نہیں آپ فرماتے ہیں لوگ عہدو پیمان کر لیا کرتے تھے کہ ان میں سے جو پہلے مرے گا بعد والا اس کا وارث بنے گا پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے «وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُمْ مَعْرُوفًا» ۱؎ [33-الأحزاب:6] نازل فرما کر حکم دیا کہ ذی رحم محرم ایک سے اولیٰ ہے البتہ اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرو یعنی اگر ان سے مال کا تیسرا حصہ دینے کی وصیت کر جاؤ تو جائز ہے یہی معروف و مشہور امر۔
اور بہت سے سلف سے بھی مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور ناسخ آیت «وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُمْ مَعْرُوفًا» ۱؎ [33-الأحزاب:6] والی ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں انہیں ان کا حصہ دو یعنی میراث۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک صاحب کو اپنا مولیٰ بنایا تھا تو انہیں وارث بنایا۔ ابن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جواپنے بیٹوں کے سوا اوروں کو اپنا بیٹا بناتے تھے اور انہیں اپنی جائیداد کا جائز وارث قرار دیتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے ان کا حصہ وصیت میں سے دینے کو فرمایا اور میراث کو موالی یعنی ذی رحم محرم رشتہ داروں کی اور عصبہ کی طرف لوٹا دیا اور اس سے منع فرمایا اور اسے نا پسند فرمایا کہ صرف زبانی دعووں اور بنائے ہوئے بیٹوں کو ورثہ دیا جائے ہاں ان کے لیے وصیت میں سے دینے کو فرمایا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ انہیں حصہ دو یعنی نصرت نصیحت اور معونت کا یہ نہیں کہ انہیں ان کے ورثہ کا حصہ دو تو یہ معنی کرنے سے پھر آیت کو منسوخ بتلانے کی وجہ باقی نہیں رہتی نہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ حکم پہلے تھا اب نہیں رہا۔ بلکہ آیت کی دلالت صرف اسی امر پر ہے کہ جو عہد و پیمان آپس میں امداد و اعانت کے خیر خواہی اور بھلائی کے ہوتے تھے انہیں وفا کرو پس یہ آیت محکم اور غیر منسوخ ہے لیکن امام صاحب کے قول میں ذرا اشکال سے اس لیے کہ اس میں تو شک نہیں کہ بعض عہد و پیمان صرف نصرت و امداد کے ہی ہوتے تھے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ بعض عہد و پیمان ورثے کے بھی ہوتے تھے جیسے کہ بہت سے سلف صالحین سے مروی ہے۔ اور جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر بھی منقول ہے۔ جس میں انہوں نے صاف فرمایا ہے کہ مہاجر انصار کا وارث ہوتا تھا اس کے قرابتی لوگ وارث نہیں ہوتے تھے نہ ذی رحم رشتہ دار وارث ہوتے تھے یہاں تک کہ یہ منسوخ ہو گیا پھر امام صاحب کیسے فرما سکتے ہیں کہ یہ آیت محکم اور غیر محکم منسوخ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
33۔ 1 مَوَالِیْ، مولیٰ کی جمع ہے مولیٰ کے کئی معنی ہیں دوست، آزاد کردہ غلام، چچازاد، پڑوسی، لیکن یہاں اس سے مراد ورثاء ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مرد اور عورت جو کچھ چھوڑ جائیں گے، اس کے وارث ان کے ماں باپ اور دیگر قریبی رشتہ دار ہونگے۔ 33۔ 2 اس آیت کے محکم یا منسوخ ہونے کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ ابن جریر طبری وغیرہ اسے غیر منسوخ (محکم) مانتے ہیں اور اَیْمَانُکُمْ (معاہدہ) سے مراد وہ حلف اور معاہدہ لیتے ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کے لئے اسلام سے قبل دو اشخاص یا دو قبیلوں کے درمیان ہوا اور اسلام کے بعد بھی وہ چلا آرہا تھا۔ نصیبھم (حصہ) سے مراد اسی حلف اور معاہدے کی پابندی کے مطابق تعاون و تناصر کا حصہ ہے اور ابن کثیر اور دیگر مفسرین کے نزدیک یہ آیت منسوخ ہے۔ کیونکہ اَیْمَانُکُمْ سے ان کے نزدیک وہ معاہدہ ہے جو ہجرت کے بعد ایک انصاری اور مہاجر کے درمیان اخوت کی صورت میں ہوا تھا۔ اس میں ایک مہاجر، انصاری کے مال کا اس کے رشتہ داروں کی بجائے، وارث ہوتا تھا، لیکن یہ چونکہ ایک عارضی انتظام تھا، اس لیے پھر (وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ) 33:6 رشتے دار اللہ کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، نازل فرما کر اسے منسوخ کردیا گیا ہے۔ اب " فاتوھم نصیبھم " سے مراد دوستی و محبت اور ایک دوسرے کی مدد ہے اور بطور وصیت کچھ دے دینا بھی اس میں شامل ہے۔ موالات عقد، موالات حلف یا موالات اخوت میں اب وراثت کا تصور نہیں ہوگا اہل علم کے ایک گروہ نے اس سے مراد ایسے شخصوں کو لیا جن میں سے کم از کم ایک لاوارث ہے۔ اور ایک دوسرے شخص سے یہ طے کرتا ہے کہ میں تمہارا مولی ہوں۔ اگر کوئی جنایت کروں تو میری مدد کرنا اور اگر مارا جاؤں تو میری دیت لے لینا۔ اس لاوارث کی وفات کے بعد اس کا مال مزکورہ شخص لے گا۔ بشرطیکہ واقعتا اس کا کوئی وارث نہ ہو۔ بعض دوسرے اہل علم نے اس آیت کا ایک اور معنی بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "ۭوَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ "4:33 سے مراد بیوی اور شوہر ہیں اور اس کا عطف الاقربون پر ہے۔ معنی یہ ہیں کہ ماں باپ نے قرابت داروں نے اور جن کو تمہارا عہد و پیمان آپس میں باندھ چکا ہے یعنی شوہر یا بیوی انہوں نے جو کچھ میراث میں چھوڑا اس کے حقدار یعنی حصے دار ہم نے مقرر کردیئے ہیں۔ لہذا ان حقداروں کو ان کے حصے دے دو گویا پیچھے آیات میراث میں تفصیلا جو حصے بیان کیے گئے تھے یہاں اجمالا ان کی ادائیگی کی مزید تاکید کی گئی ہے۔
(آیت 33) {وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ …:} اس آیت کریمہ کے پہلے حصے میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ مرد ہو یا عورت ہر ایک کے ورثا اور رشتے دار ہوتے ہیں، جو اس کے مرنے کے بعد اس کے وارث بنتے ہیں۔ آیت کے دوسرے حصے «{وَ الَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ}» کا مفہوم یہ ہے کہ تم نے جو حلف یا معاہدہ کسی کے ساتھ کیا ہوا ہے تو اس کا حصہ اسے دو۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب مہاجرین مدینہ آئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ قائم کر دیا تھا، انصاری کا وارث اس کے رشتے داروں کے بجائے مہاجر ہوتا تھا، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: «{وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ}» تو وہ (وراثت جو مہاجرین اور انصار کے درمیان قائم کی گئی تھی) منسوخ ہو گئی، پھر فرمایا: «{وَ الَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ}» سے مراد یہ ہے کہ نصرت، اعانت اور نصیحت کی صورت میں انھیں ان کا حصہ دو، کیونکہ میراث سے ان کا تعلق ختم ہو گیا ہے، ہاں! البتہ ان کے لیے وصیت کی جا سکتی ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب: «ولکل جعلنا موالی …» : ۴۵۸۰ ] نیز دیکھیے سورۂ انفال کی آخری آیت۔ مولانا محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ آیت میں {” مَوَالِيَ “} سے مراد عصبہ ہیں اور عصبہ کی وراثت میں { ”اَلْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ“ } کا اصول مقرر ہے، یعنی اول سب سے قریبی، پھر دوسرا اور ایک حدیث میں بھی [ فَلِأَوْلٰي رَجُلٍ ذَكَرٍ ] کے الفاظ ہیں، یعنی اصحاب فروض سے جو کچھ بچ جائے گا وہ عصبہ میں سے اس شخص کو ملے گا جو میت کے مردوں میں سب سے زیادہ قریب ہو گا اور اس پر علماء کا اجماع بھی ہو چکا ہے۔ [ دیکھیے فتح الباری: 294/6۔ المحلٰی: 271/9۔ أحکام القرآن للجصاص: 224/2 ]
مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ، خواب گاہوں میں اُن سے علیحدہ رہو اور مارو، پھر اگر تم وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو، یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالا تر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں، پس نیک فرمانبردار عورتین خاوند کی عدم موجودگی میں بہ حفاﻇت الٰہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وه تابعداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بے شک اللہ تعالیٰ بڑی بلندی اور بڑائی واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
مرد عورتوں کے محافظ و منتظم (حاکم) ہیں (ایک) اس لئے کہ اللہ نے بعض (مردوں) کو بعض (عورتوں) پر فضیلت دی ہے اور (دوسرے) اس لئے کہ مرد (عورتوں پر) اپنے مال سے خرچ کرتے ہیں۔ سو نیک عورتیں تو اطاعت گزار ہوتی ہیں اور جس طرح اللہ نے (شوہروں کے ذریعہ) ان کی حفاظت کی ہے۔ اسی طرح پیٹھ پیچھے (شوہروں کے مال اور اپنی ناموس کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں اور وہ عورتیں جن کی سرکشی کا تمہیں اندیشہ ہو انہیں (نرمی سے) سمجھاؤ (بعد ازاں) انہیں ان کی خواب گاہوں میں چھوڑ دو اور (آخرکار)۔ انہیں مارو۔ پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو پھر ان کے خلاف کوئی اور اقدام کرنے کے راستے تلاش نہ کرو۔ یقینا اللہ (اپنی کبریائی میں) سب سے بالا اور بڑا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مرد عورتوں پر نگران ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی اور اس وجہ سے کہ انھوں نے اپنے مالوں سے خرچ کیا۔ پس نیک عورتیں فرماں بردار ہیں، غیرحاضری میں حفاظت کرنے والی ہیں، اس لیے کہ اللہ نے (انھیں) محفوظ رکھا اور وہ عورتیں جن کی نافرمانی سے تم ڈرتے ہو، سو انھیں نصیحت کرو اور بستروں میں ان سے الگ ہو جائو اور انھیں مارو، پھر اگر وہ تمھاری فرماں برداری کریں تو ان پر (زیادتی کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بے شک اللہ ہمیشہ سے بہت بلند، بہت بڑا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مرد عورتوں سے افضل کیوں؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مرد عورت کا حاکم رئیس اور سردار ہے۔ اسے درست اور ٹھیک ٹھاک رکھنے والا ہے۔ اس لیے کہ مرد عورتوں سے افضل ہیں یہی وجہ ہے کہ نبوت ہمیشہ مردوں میں رہی بعینہ شرعی طور پر خلیفہ بھی مرد ہی بن سکتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہ لوگ کبھی نجات نہیں پاسکتے جو اپنا والی کسی عورت کو بنائیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4425] اسی طرح ہر طرح کا منصب قضاء وغیرہ بھی مردوں کے لائق ہی ہیں۔ دوسری وجہ افضیلت کی یہ ہے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں جو کتاب و سنت سے ان کے ذمہ ہے مثلاً مہر نان نفقہ اور دیگر ضروریات کا پورا کرنا۔ پس مرد فی نفسہ بھی افضل ہے اور بہ اعتبار نفع کے اور حاجت براری کے بھی اس کا درجہ بڑا ہے۔ اسی بنا پر مرد کو عورت پر سردار مقرر کیا گیا جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [2-البقرة:228] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو مردوں کی اطاعت کرنی پڑے گی اس کے بال بچوں کی نگہداشت اس کے مال کی حفاظت وغیرہ اس کا کام ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے خاوند کی شکایت کی پس آپ نے بدلہ لینے کا حکم دے ہی دیا تھا جو یہ آیت اتری اور بدلہ نہ دلوایا گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9305:مرسل و ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ ایک انصاری رضی اللہ عنہ اپنی بیوی صاحبہ کو لیے ہوئے حاضر خدمت ہوئے اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! میرے اس خاوند نے مجھے تھپڑ مارا ہے، جس کا نشان اب تک میرے چہرے پر موجود ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حق نہ تھا“، وہیں یہ آیت اتری کہ ادب سکھانے کے لیے مرد عورتوں پر حاکم ہیں تو آپ نے فرمایا: ”میں اور چاہتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اور چاہا۔“ ۱؎ [میزان:8131:ضعیف]
شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مال خرچ کرنے سے مراد مہر کا ادا کرنا ہے دیکھو اگر مرد عورت پر زناکاری کی تہمت لگائے تو لعان کا حکم ہے اور اگر عورت اپنے مرد کی نسبت یہ بات کہے اور ثابت نہ کر سکے تو اسے کوڑے لگیں گے۔ پس عورتوں میں سے نیک نفس وہ ہیں جو اپنے خاوندوں کی اطاعت گزار ہوں اپنے نفس اور خاوند کے مال کی حفاظت والیاں ہوں جسے خود اللہ تعالیٰ سے محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”بہتر عورت وہ ہے کہ جب اس کا خاوند اس کی طرف دیکھے، وہ اسے خوش کر دے اور جب حکم دے بجا لائے اور جب کہیں باہر جائے تو اپنے نفس کو برائی سے محفوظ رکھے اور اپنے خاوند کے مال کی محافظت کرے“ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9329:ضعیف] مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جب کوئی پانچوں وقت نماز ادا کرے رمضان کے روزے رکھے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے تو چاہے جنت میں چلی جا۔“ ۱؎ [مسند احمد:191/1،قال الشيخ الألباني:حسن لغیرہ]
پھر فرمایا: ”جن عورتوں کی سرکشی سے ڈرو یعنی جو تم سے بلند ہونا چاہتی ہو نافرمانی کرتی ہو بےپرواہی برتتی ہو دشمنی رکھتی ہو تو پہلے تو اسے زبانی نصیحت کرو ہر طرح سمجھاؤ اتار چڑھاؤ بتاؤ اللہ کا خوف دلاؤ حقوق زوجیت یاد دلاؤ اس سے کہو کہ دیکھو خاوند کے اتنے حقوق ہیں“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اگر میں کسی کو حکم کر سکتا کہ وہ ماسوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ سب سے بڑا حق اس پر اسی کا ہے۔“ ۱؎ [مسند احمد:4/381،قال الشيخ الألباني:صحیح] صحیح بخاری میں ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بسترے پر بلائے اور وہ انکار کر دے تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3237] صحیح مسلم میں ہے کہ جس رات کوئی عورت روٹھ کر اپنے خاوند کے بستر کو چھوڑے رہے تو صبح تک اللہ کی رحمت کے فرشتے اس پر لعنتیں نازل کرتے رہتے ہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:120-1436] تو یہاں ارشاد فرماتا ہے کہ ایسی نافرمان عورتوں کو پہلے تو سمجھاؤ بجھاؤ پھر بستروں سے الگ کرو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی سلائے تو بستر ہی پر مگر خود اس سے کروٹ موڑ لے اور مجامعت نہ کرے، بات چیت اور کلام بھی ترک کر سکتا ہے اور یہ عورت کی بڑی بھاری سزا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں ساتھ سلانا ہی چھوڑ دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عورت کا حق اس کے میاں پر کیا ہے؟ فرمایا یہ کہ جب تو کھا تو اسے بھی کھلا جب تو پہن تو اسے بھی پہنا اس کے منہ پر نہ مار گالیاں نہ دے اور گھر سے الگ نہ کر غصہ میں اگر تو اس سے بطور سزا بات چیت ترک کرے تو بھی اسے گھر سے نہ نکال۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2142،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا اس سے بھی اگر ٹھیک ٹھاک نہ ہو تو تمہیں اجازت ہے کہ یونہی سی ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ سے بھی راہ راست پر لاؤ۔
صحیح مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجتہ الوداع کے خطبہ میں ہے کہ عورتوں کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو وہ تمہاری خدمت گزار اور ماتحت ہیں تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ جس کے آنے جانے سے تم خفا ہو اسے نہ آنے دیں اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں یونہی سی تنبیہہ بھی تم کر سکتے ہو لیکن سخت مار جو ظاہر ہو نہیں مار سکتے تم پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں کھلاتے پلاتے پہناتے اڑھاتے رہو۔ [صحیح مسلم:1218] پس ایسی مار نہ مارنی چاہیئے جس کا نشان باقی رہے جس سے کوئی عضو ٹوٹ جائے یا کوئی زخم آئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس پر بھی اگر وہ باز نہ آئے تو فدیہ لو اور طلاق دے دو۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی لونڈیوں کو مارو نہیں“ اس کے بعد ایک مرتبہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ! عورتیں آپ کے اس حکم کو سن کراپنے مردوں پر دلیر ہو گئیں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کی اجازت دی اب مردوں کی طرف سے دھڑا دھڑ مار پیٹ شروع ہوئی اور بہت سی عورتیں شکایتیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”سنو میرے پاس عورتوں کی فریاد پہنچی یاد رکھو تم میں سے جو اپنی عورتوں کو زدو کوب کرتے ہیں وہ اچھے آدمی نہیں“ [سنن ابوداود:2146،قال الشيخ الألباني:صحیح] اشعث رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا اتفاقاً اس روز میاں بیوی میں کچھ ناچاقی ہو گئی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی صاحبہ کو مارا پھر مجھ سے فرمانے لگے اشعث تین باتیں یاد رکھ جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد رکھی ہیں ایک تو یہ کہ مرد سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ اس نے اپنی عورت کو کس بنا پر مارا؟ دوسری یہ کہ وتر پڑھے بغیر سونا مت اور اور تیسری بات راوی کے ذہن سے نکل گئی۔ ۱؎ [سنن نسائی:5/9168،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرمایا اگر اب بھی عورتیں تمہاری فرمانبردار بن جائیں تو تم ان پر کسی قسم کی سختی نہ کرو نہ مارو پیٹو نہ بیزاری کا اظہار کرو۔ اللہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔ یعنی اگر عورتوں کی طرف سے قصور سرزد ہوئے بغیر یا قصور کے بعد ٹھیک ہو جانے کے باوجود بھی تم نے انہیں ستایا تو یاد رکھو ان کی مدد پر ان کا انتقام لینے کے لیے اللہ تعالیٰ ہے اور یقیناً وہ بہت زورآور اور زبردست ہے۔
34۔ 1 اس میں مرد کی حاکمیت و قوامیت کی دو وجہیں بیان کی گئی ہیں، ایک مردانہ قوت و دماغی صلاحیت ہے جس میں مرد عورت سے خلقی طور پر ممتاز ہے۔ دوسری وجہ کسبی ہے جس کا مکلف شریعت نے مرد کو بنایا ہے اور عورت کو اس کی فطری کمزوری اور مخصوص تعلیمات کی وجہ سے جنہیں اسلام نے عورت کی عفت و حیا اور اس کے تقدس کے تحفظ کے لئے ضروری قرار دیا، عورت کو معاشی جھمیلوں سے دور رکھا۔ عورت کی سربراہی کے خلاف قرآن کریم کی یہ نص قطعی بلکل واضح ہے جس کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے ہوتی ہے۔ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' وہ قوم ہرگز فلاح یاب نہیں ہوسکتی جس نے اپنے امور ایک عورت کے سپرد کردیئے۔ 34۔ 2 نافرمانی کی صورت میں عورت کو سمجھانے کے لئے سب سے پہلے وعظ و نصیحت کا نمبر ہے دوسرے نمبر پر ان سے وقتی اور عارضی علیحدگی ہے جو سمجھدار عورت کے لئے بہت بڑی تنبہ ہے۔ اس سے بھی نہ سمجھے تو ہلکی سی مار کی اجازت ہے۔ لیکن یہ مار وحشیانہ اور ظالمانہ نہ ہو جیسا کہ جاہل لوگوں کا وطیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ظلم کی اجازت کسی مرد کو نہیں دی۔ اگر وہ اصلاح کرلے تو پھر راستہ تلاش نہ کرو یعنی مار پیٹ نہ کرو تنگ نہ کرو، یا طلاق نہ دو، گویا طلاق بلکل آخری مرحلہ ہے جب کوئی اور چارہ کار باقی نہ رہے۔ لیکن مرد اس حق کو بھی بہت ناجائز طریقے سے استعمال کرتے ہیں اور ذرا ذرا سی بات میں فوراً طلاق دے ڈالتے ہیں اور اپنی زندگی بھی برباد کرتے ہیں، عورت کی بھی اور بچے ہوں تو ان کی بھی۔
(آیت 34) ➊ {اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ …:} شریعت نے گھر کے بندوبست اور انتظام کے لیے مرد کو گھر کا قوام (نگران، ذمہ دار) قرار دیا ہے اور عورت کو اس کے ماتحت رکھا ہے۔ قرآن نے اس کی دو وجہیں بیان کی ہیں، ایک تو یہ کہ مرد کو طبعی طور پر امتیاز حاصل ہے کہ وہ منتظم بنے اور دوسرے یہ کہ گھر کے سارے اخراجات بیوی کے نفقہ سمیت مرد کے ذمے ہیں۔ اس بنا پر گھر کا نگران بننے کا حق مرد کو ہے عورت کو نہیں۔ یہی حال حکومتی امور کا ہے کہ مسلمانوں کا خلیفہ یا امیر عورت نہیں ہو سکتی، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً ] ”وہ قوم ہر گز کامیاب نہیں ہو گی جس نے اپنا حاکم عورت کو بنا لیا۔“ [ بخاری، المغازی، باب کتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم إلی کسریٰ و قیصر: ۴۴۲۵ ] ➋ {فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ …:} اس آیت کی تشریح وہ حدیث کرتی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ” بہترین بیوی وہ ہے جسے اگر تم دیکھو تو تمھیں خوش کرے، اگر تم اسے کسی بات کا حکم دو تو وہ تمھاری اطاعت کرے اور جب تم گھر میں نہ ہو تو تمھارے پیچھے وہ تمھارے مال کی اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔“ پھر رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ }» [ مسند أبی داوٗد الطیالسی: ۲۴۴۴۔ ابن جریر: 62/4، و صححہ صاحب ہدایۃ المستنیر ] ➌ { حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ:} یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کو عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم دے کر ان کے حقوق محفوظ کر دیے ہیں، اس کے بدلے میں وہ خاوندوں کی غیر موجودگی میں ان کے مال اور عزت و آبرو کی حفاظت رکھتی ہیں۔ [ دیکھیے نسائی، النکاح، باب أی النساء خیر: ۳۲۳۳ ] یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ان کے مال و عزت اور حقوق کی حفاظت کرتی ہیں اور خیانت سے کام نہیں لیتیں۔ (شوکانی) ➍ { وَ الّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ …:} نشوز کا لفظی معنی ”اونچا ہونا، چڑھائی کرناہے“ اور عورت کے نشوز کا معنی ”خاوند سے بغض رکھنا اور اس کی اطاعت سے اپنے آپ کو اونچا سمجھنا ہے۔“(مفردات) عورت پر مرد کا بہت بڑا حق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ (اللہ کے سوا) کسی دوسرے کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔“ [ ترمذی، الرضاع، باب ما جاء فی حق…: ۱۱۵۹، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ۔ أبو داوٗد: ۲۱۴۰ ] عورت نافرمانی کا رویہ اختیار کرے تو خاوند کو حالات کے مطابق تین چیزوں کا اختیار دیا گیا ہے، تینوں یکے بعد دیگرے اور اکٹھی بھی ہو سکتی ہیں، نصیحت کرنا، گھر میں رہ کر بستر الگ کر لینا اور انھیں مارنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض ناگزیر حالات میں مارنے کی اجازت دی، مگر فرمایا: ”چہرے پر مت مارو، اسے بد صورت نہ کہو اور اسے مت چھوڑو مگر گھر میں۔“ [ أبو داوٗد، النکاح، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا: ۲۱۴۲، عن حکیم بن معاویۃ رضی اللہ عنہ ] اسی طرح ایسی مار سے بھی منع کیا جس سے سخت چوٹ آئے۔ [ مسلم، الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۲۱۸، عن جابر رضی اللہ عنہ ] اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارے جس طرح غلام کو مارتے ہیں، پھر دن کے آخر حصے میں اس سے جماع کرے گا۔“ [ بخاری، النکاح، باب ما یکرہ من ضرب النساء:۵۲۰۴ ] ➎ { فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا:} یعنی اگر وہ تمھاری مطیع ہو جائیں تو ان پر زیادتی کا کوئی راستہ تلاش نہ کرو، مثلاً طلاق دینا، تنگ کر کے خلع پر مجبور کرنا وغیرہ۔
اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان آپس کی ان بن کا خوف ہو تو ایک منصف مرد والوں میں سے اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرو، اگر یہ دونوں صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ دونوں میں ملاپ کرا دے گا، یقیناً اللہ تعالیٰ پورے علم واﻻ پوری خبر واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تمہیں دونوں (میاں بیوی) کی ناچاقی کا خوف دامنگیر ہو تو ایک ثالث مرد کے کنبے سے اور ایک ثالث عورت کے کنبے سے مقرر کرو۔ اگر دونوں اصلاح کا ارادہ کریں گے تو خدا ان دونوں میں موافقت پیدا کر دے گا۔ بے شک اللہ بڑا جاننے والا بڑا باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ان دونوں کے درمیان مخالفت سے ڈرو تو ایک منصف مرد کے گھر والوں سے اور ایک منصف عورت کے گھر والوں سے مقرر کرو، اگر وہ دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ دونوں کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میاں بیوی مصالحت کی کوشش اور اصلاح کے اصول ٭٭
اوپر اس صورت کو بیان فرمایا کہ اگر نافرمانی اور کج بحثی عورتوں کی جانب سے ہو اب یہاں اس صورت کا بیان ہو رہا ہے اگر دونوں ایک دوسرے سے نالاں ہوں تو کیا کیا جائے؟ پس علماء کرام فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں حاکم ثقہ سمجھدار شخص کو مقرر کرے جو یہ دیکھے کہ ظلم و زیادتی کس طرف سے ہے؟ پس ظالم کو ظلم سے روکے، اگر اس پر بھی کوئی بہتری کی صورت نہ نکلے تو عورت والوں میں سے ایک اس کی طرف سے اور مرد والوں میں سے ایک بہتر شخص اس کی جانب سے منصب مقرر کر دے اور دونوں مل کر تحقیقات کریں اور جس امر میں مصلحت سمجھیں اس کا فیصلہ کر دیں یعنی خواہ الگ کرا دیں خواہ میل ملاپ کرا دیں لیکن شارع علیہ السلام نے تو اسی امر کی طرف ترغیب دلائی ہے کہ جہاں تک ہو سکے کوشش کریں کہ کوئی شکل نباہ کی نکل آئے۔ اگر ان دونوں کی تحقیق میں خاوند کی طرف سے برائی بہت ہو تو اس کی عورت کو اس سے الگ کر لیں اور اسے مجبور کریں گے کہ اپنی عادت ٹھیک ہونے تک اس سے الگ رہے اور اس کے خرچ اخراجات ادا کرتا رہے اور اگر شرارت عورت کی طرف سے ثابت ہو تو اسے نان نفقہ نہیں دلائیں اور خاوند سے ہنسی خوشی بسر کرنے پر مجبور کریں گے۔ اسی طرح اگر وہ طلاق کا فیصلہ دیں تو خاوند کو طلاق دینی پڑے گی اگر وہ آپس میں بسنے کا فیصلہ کریں تو بھی انہیں ماننا پڑے گا، بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر دونوں پنچ اس امر پر متفق ہوں گئے کہ انہیں رضا مندی کے ساتھ ایک دوسرے سے اپنے تعلقات نباہنے چاہئیں اور اس فیصلہ کو ایک نے منظور کرلیا اور دوسرا نہیں کرتا اور اسی حالت میں ایک کا انتقال ہو گیا تو جو راضی تھا وہ اس کی جائیداد کا وارث بنے گا لیکن جو ناراض تھا اسے اس کا ورثہ نہیں ملے گا جو راضی تھا۔ ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:325/8]
ایک ایسے ہی جھگڑے میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منصف مقرر کیا تھا اور فرمایا تھا کہ اگر تم ان میں میل ملاپ کرنا چاہو تو میل ہو گا اور اگر جدائی کرانا چاہو تو جدائی ہو جائے گی۔ ایک روایت میں ہے کہ عقیل بن ابوطالب نے فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ سے نکاح کیا تو اس نے کہا تو میرے پاس آئےگا بھی اور میں ہی تیرا خرچ بھی برداشت کرونگی؟ اب یہ ہونے لگا کہ جب عقیل انکے پاس آنا چاہتے تو وہ پوچھتی عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کہاں ہیں؟ یہ فرماتے تیری بائیں جانب جہنم میں اس پر وہ بگڑ کر اپنے کپڑے ٹھیک کر لیتیں۔ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور واقعہ بیان کیا خلیفۃ المسلمین اس پر ہنسے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کا پنچ مقرر کیا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو فرماتے تھے ان دونوں میں علیحدگی کرا دی جائے لیکن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے بنو عبد مناف میں یہ علیحدگی میں ناپسند کرتا ہوں، اب یہ دونوں حضرات سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کے گھر آئے دیکھا تو دروازہ بند ہے اور دونوں میاں بیوی اندر ہیں یہ دونوں لوٹ گئے۔ مسند عبدالرزاق میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ایک میاں بیوی اپنی ناچاقی کا جھگڑا لے کر آئے اس کے ساتھ اس کی برادری کے لوگ تھے اور اس کے ہمراہ اس کے گھرانے کے لوگ بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دونوں جماعتوں میں سے ایک ایک کو چنا اور انہیں منصف مقرر کر دیا پھر دونوں پنچوں سے کہا جانتے بھی ہو تمہارا کام کیا ہے؟ تمہارا منصب یہ ہے کہ اگر چاہو تو دونوں میں اتفاق کرا دو اور اگر چاہو تو الگ الگ کرا دو یہ سن کرعورت نے تو کہا میں اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر راضی ہوں خواہ ملاپ کی صورت میں ہو خواہ جدائی کی صورت میں مرد کہنے لگا مجھے جدائی نامنظور ہے اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تجھے دونوں صورتیں منظور کرنی پڑیں گی۔
پس علماء کا اجماع ہے کہ ایسی صورت میں ان دونوں منصفوں کو دونوں اختیار ہیں یہاں تک کہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہیں دو اور تین طلاقیں بھی دے سکتے ہیں، امام مالک رحمہ اللہ سے بھی یہی قول مروی ہے، ہاں حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں اجتماع کا اختیار ہے تفریق کا نہیں، قتادہ اور زید بن اسلم رحمہ اللہ علیہما کا بھی یہی قول ہے، امام احمد اور ابوثور اور داؤد رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی مذہب ہے ان کی دلیل «اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا» ۱؎ [4-النساء:35] والا جملہ ہے کہ ان میں تفریق کا ذکر نہیں، ہاں اگر یہ دونوں دونوں جانب سے وکیل ہیں تو بیشک ان کا حکم جمع اور تفریق دونوں میں نافذ ہوگا تو کسی سے خلاف منقول بھی نہیں اس میں کسی کو پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ دونوں پنچ حاکم کی جانب سے مقرر ہوں گے اور فیصلہ کریں گے۔ چاہے ان سے فریقین ناراض ہوں یا یہ دونوں میاں بیوی کی طرف سے ان کے بنائے ہوئے وکیل ہوں گے، جمہور کا مذہب تو پہلا ہے اور دلیل یہ ہے کہ ان کا نام قرآن حکیم نے حکم رکھا ہے اور حکم کے فیصلے سے کوئی خوش یا ناخوش بہر صورت اس کا فیصلہ قطعی ہو گا آیت کے ظاہری الفاظ بھی جمہور کے ساتھ ہی ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا نیا قول بھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا بھی یہی قول ہے، لیکن مخالف گروہ کہتا ہے کہ اگر یہ حکم کی صورت میں ہوتے تو پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس خاوند کو کیوں فرماتے؟ کہ جس طرح عورت نے دونوں صورتوں کو ماننے کا اقرار کیا ہے اور اسی طرح تو بھی نہ مانے تو تو جھوٹا ہے۔ «واللہ اعلم»
امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں علماء کرام کا اجماع ہے کہ دونوں پنچوں کا قول جب مختلف ہو تو دوسرے کے قول کا کوئی اعتبار نہیں اور اس امر پر بھی اجماع ہے کہ یہ اتفاق کرانا چاہیں تو ان کا فیصلہ نافذ ہے ہاں اگر وہ جدائی کرانا چاہیں تو بھی ان کا فیصلہ نافذ ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے لیکن جمہور کا مذہب یہی ہے کہ اس میں بھی ان کا فیصلہ نافذ ہے گو انہیں وکیل نہ بنایا گیا ہو۔
35۔ 1 گھر کے اندر مزکورہ تینوں طریقے کارگر ثابت نہ ہوں تو یہ چوتھا طریقہ ہے اور اس کی بابت کہا کہ حکمین (فیصلہ کرنے والے) اگر مخلص ہوں گے تو یقینا ان کی سعی اصلاح کامیاب ہوگی۔ تاہم ناکامی کی صورت میں حکمین کو تفریق بین الزوجین یعنی طلاق کا اختیار ہے یا نہیں؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض اس کو حاکم مجاز کے حکم یا زوجین کے توکیل بالفرقہ (جدائی کے لیے وکیل بنانا) کے ساتھ مشروط کرتے ہیں اور جمہور علماء اس کے بغیر اس کے قائل ہیں (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر طبری، فتح القدیر، تفسیر ابن کثیر)
(آیت 35) {وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا …:} پہلے صرف عورت کی طرف سے نشوز کا ذکر تھا اب اگر دونوں کی طرف سے نفرت اور مخالفت کا سلسلہ چل نکلے اور جدائی کا اندیشہ ہو تو حاکم کو چاہیے کہ میاں بیوی دونوں کی طرف ان کے خاندان کا ایک ایک سمجھدار آدمی بطور حکم (پنچ یا منصف) مقرر کر دیں، اگر وہ دونوں اصلاح کرانے میں مخلص ہوں گے تو اللہ تعالیٰ دونوں میں موافقت پیدا کر دے گا۔ اگر اصلاح کی کوئی صورت نہ بنے تو کیا انھیں علیحدگی کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے یا نہیں؟بعض علماء نے فرمایا کہ اگر میاں بیوی دونوں اسے صلح یا جدائی کا اختیار دیں کہ تم جو فیصلہ کرو ہمیں منظور ہو گا تو اسے علیحدگی کے فیصلے کا بھی اختیار ہے اور بعض نے فرمایا کہ اگر وہ حاکم جس نے اسے حکم مقرر کیا ہے اسے صلح یا جدائی دونوں کے فیصلے کا اختیار دیتا ہے تو اسے علیحدگی کے فیصلے کا اختیار ہے ورنہ نہیں۔ مگر جمہور علماء کا کہنا ہے کہ حکم مقرر کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ حکم دونوں فریقوں کے معاملات کا جائزہ لے کر صلح یا تفریق کا جو فیصلہ کر دیں نافذ ہو گا۔ اس کے لیے میاں بیوی یا حاکم کے اسے الگ اختیار دینے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم میں زیادہ زور موافقت کرانے کی کوشش پر دیا گیا ہے۔
اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کر ے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں، (غلام کنیز) یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے بیشک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والے بڑائی مارنے والا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور قریبی ہمسایہ اور اجنبی ہمسایہ اور پہلو میں بیٹھنے والے رفیق اور مسافر، اپنے مملوکہ (غلاموں کنیزوں) کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ بے شک اللہ مغرور و متکبر اور شیخی بگھارنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور قرابت والے کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت والے ہمسائے اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی اور مسافر (کے ساتھ) اور (ان کے ساتھ بھی) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ بنے ہیں، یقینا اللہ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو اکڑنے والا، شیخی مارنے والا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حقوق العباد اور حقوق اللہ ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے اور اپنی توحید کے ماننے کو فرماتا ہے اور اپنے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے روکتا ہے اس لیے کہ جب خالق رزاق نعمتیں دینے والا تمام مخلوق پر ہر وقت اور ہر حال میں انعام کی بارش برسانے والا صرف وہی ہے تو لائق عبادت بھی صرف وہی ہوا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جانتے ہو اللہ عزوجل کا حق بندوں پر کیا ہے؟“ آپ جواب دیتے ہیں اللہ اور اس کا رسول بہت زیادہ جاننے والے ہیں آپ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ اسی کی عبادت کریں اسی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں“، پھر فرمایا: ”جانتے ہو جب بندے یہ کریں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے؟ یہ کہ انہیں وہ عذاب نہ کرے“ ۱؎ [صحیح بخاری:6500] پھر فرماتا ہے ماں باپ کے ساتھ احسان کرتے رہو وہی تمہارے عدم سے وجود میں آنے کا سبب بنے ہیں۔ قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ ہی ماں باپ سے سلوک و احسان کرنے کا حکم دیا ہے جیسے فرمایا «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ» ۱؎ [31-لقمان:14] اور «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء:23] یہاں بھی یہ بیان فرما کر پھر حکم دیتا ہے کہ اپنے رشتہ داروں سے بھی سلوک و احسان کرتے رہو۔ حدیث میں ہے مسکین کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہی ہے لیکن قریبی رشتہ داروں کو دینا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی،۱؎ [سنن ترمذي:685،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر حکم ہوتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ بھی سلوک و احسان کرو اس لیے کہ ان کی خبرگیری کرنے والا ان کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرنے والا ان کے ناز، لاڈ اٹھانے والا نہیں محبت کے ساتھ کھلانے پلانے والا ان کے سر سے اٹھ گیا ہے۔ پھر مسکینوں کے ساتھ نیکی کرنے کا ارشاد کیا کہ وہ حاجت مند ہے ہاتھ میں محتاج ہیں ان کی ضرورتیں تم پوری کرو ان کی احتیاج تم رفع کرو ان کے کام تم کر دیا کرو۔ فقیرو مسکین کا پورا بیان سورۃ براۃ کی تفسیر میں آئے گا۔ «ان شاءاللہ تعالیٰ»
پڑوسیوں کے حقوق ٭٭
اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو ان کے ساتھ بھی برتاؤ اور نیک سلوک رکھو خواہ وہ قرابت دار ہوں یا نہ ہو، خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہود و نصرانی ہوں یہ بھی کہا گیا ہے کہ «الْجَارِ ذِي الْقُرْبَى» سے مراد بیوی ہے اور «الْجَارِ الْجُنُبِ» سے مراد مرد رفیق سفر ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:341/8] پڑوسیوں کے حق میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں کچھ سن لیجئے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام پڑوسیوں کے بارے میں یہاں تک وصیت و نصیحت کرتے ہیں کہ مجھے گمان ہوا کہ شاید یہ پڑوسیوں کو وارث بنا دیں گے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6015] فرماتے ہیں: { ”بہتر ساتھی اللہ کے نزدیک وہ ہے جو اپنے ہمراہیوں کے ساتھ خوش سلوک زیادہ ہو اور پڑوسیوں میں سے سب سے بہتر اللہ کے نزدیک وہ ہے جو ہمسایوں سے نیک سلوک میں زیادہ ہو“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1944،قال الشيخ الألباني:صحیح] فرماتے ہیں: { ”انسان کو نہ چاہیئے کہ اپنے پڑوسی کی آسودگی بغیر خود شکم سیر ہو جائے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:1/54:منقطع ولہ شواھد] { ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”زنا کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: وہ حرام ہے اللہ نے اور اس کے رسول نے اسے حرام کیا ہے اور قیامت تک وہ حرام ہی رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو دس عورتوں سے زناکاری کرنے والا اس شخص کے گناہ سے کم گنہگار ہے جو اپنے پڑوسی کی عورت سے زنا کرے“، پھر دریافت فرمایا: ”تم چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ نے اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور وہ بھی قیامت تک حرام ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو دس گھروں سے چوری کرنے والے گناہ کا اس شخص کے گناہ سے ہلکا ہے جو اپنے پڑوسی کے گھر سے کچھ چرالے“ }۔۱؎ [مسند احمد:8/6،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے حالانکہ اسی ایک نے تجھے پیدا کیا ہے“، میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”یہ کہ تو اپنی پڑوسن سے زناکاری کرے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6001] { ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گھر سے چلا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب کھڑے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہیں میں نے خیال کیا کہ شاید انہیں آپ سے کچھ کام ہو گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں اور ان سے باتیں ہو رہی ہیں بڑی دیر ہو گئی یہاں تک کہ مجھے آپ کے تھک جانے کے خیال نے بےچین کر دیا بہت دیر کے بعد آپ لوٹے اور میرے پاس آئے میں نے کہا اے اللہ کے رسول! اس شخص نے تو آپ کو بہت دیر کھڑا رکھا میں تو پریشان ہو گیا آپ کے پاوں تھک گئے ہوں گے، آپ نے فرمایا: ”اچھا تم نے انہیں دیکھا“، میں نے کہا: ہاں خوب اچھی طرح دیکھا فرمایا: ”جانتے ہو وہ کون تھے؟ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، مجھے پڑوسیوں کے حقوق کی تاکید کرتے رہے یہاں تک ان کے حقوق بیان کئے کہ مجھے کھٹکا ہوا کہ غالباً آج تو پڑوسی کو وارث ٹھہرا دیں گے“ } ۱؎ [مسند احمد:5/32،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند عبد بن حمید میں ہے { سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص عوالی مدینہ سے آیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام اس جگہ نماز پڑھ رہے تھے جہاں جنازوں کی نماز پڑھی جاتی ہے جب آپ فارغ ہوئے تو اس شخص نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ دوسرا شخص کون نماز پڑھ رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”تم نے انہیں دیکھا؟“ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”تو نے بہت بڑی بھلائی دیکھی یہ جبرائیل تھے مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ عنقریب اسے وارث بنا دیں گے“ }۔ ۱؎ [مسند بزار:1897:صحیح بالشواھد]
آٹھویں حدیث بزار میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی تین قسم کے ہیں ایک حق والے یعنی ادنی، دو حق والے اور تین حق والے یعنی اعلیٰ، ایک حق والا وہ ہے جو مشرک ہو اور اس سے رشتہ داری نہ ہو، دو حق والا وہ ہے جو مسلمان ہو اور رشتہ دار نہ ہو، ایک حق اسلام دوسرا حق پڑوس، تین حق والا وہ ہے جو مسلمان بھی ہو پڑوسی بھی ہو اور رشتے ناتے کا بھی ہو تو حق اسلام کا حق ہمسائیگی حق صلہ رحمی تین تین حق اس کے ہو گئے“ }۔ ۱؎ [مسند بزار:1896:ضعیف] نویں حدیث مسند احمد میں ہے { سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرے دو پڑوسی ہیں میں ایک کو ہدیہ بھیجنا چاہتی ہوں تو کسے بھجواؤں؟ آپ نے فرمایا: ”جس کا دروازہ قریب ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2259] دسویں حدیث طبرانی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا لوگوں نے آپ کے وضو کے پانی کو لینا اور ملنا شروع کیا آپ نے پوچھا: ایسا کیوں کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں، آپ نے فرمایا: ”جسے یہ خوش لگے کہ اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں تو اسے چاہیئے کہ جب بات کرے سچ کرے اور جب امانت دیا جائے تو ادا کرے“ }۔ (تفسیر ابن کثیر میں یہ حدیث یہیں پر ختم ہے لیکن شاید اگلا جملہ اس کا سہوا رہ گیا ہے جس کا صحیح تعلق اس مسئلہ سے ہے وہ یہ کہ اسے چاہیئے پڑوسی کے ساتھ سلوک و احسان کرے۔ مترجم)۔ ۱؎ [بیہقی:2/1533،قال الشيخ الألباني:صحیح] گیارھویں حدیث مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن سب سے پہلے جو جھگڑا اللہ کے سامنے پیش ہو گا وہ دو پڑوسیوں کا ہو گا}۔۱؎ [مسند احمد:4/151،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر حکم ہوتا ہے «الصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ» کے ساتھ سلوک کرنے کا۔ اس سے مراد بہت سے مفسرین کے نزدیک عورت ہے اور بہت سے فرماتے ہیں مراد سفر کا ساتھی ہے اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد دوست اور ساتھی ہے عام اس سے کہ سفر میں وہ یا قیام کی حالت میں «ابن السبیل» سے مراد مہمان ہے اور یہ بھی جو سفر میں کہیں ٹھہر گیا ہو اگر مہمان بھی یہاں مراد لی جائے کہ سفر میں جاتے جاتے مہمان بنا تو دونوں ایک ہو گئے، اس کا پورا بیان سورۃ براۃ کی تفسیر میں آ رہا ہے۔ «ان شاءاللہ تعالیٰ»
غلاموں کے بارے میں احکامات ٭٭
پھر غلاموں کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان کے ساتھ بھی نیک سلوک رکھو اس لیے کہ وہ غریب تمہارے ہاتھوں اسیر ہے اس پر تو تمہارا کامل اختیار ہے تو تمہیں چاہیئے کہ اس پر رحم کھاؤ اور اس کی ضروریات کا اپنے امکان بھر خیال رکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے آخری مرض الموت میں بھی اپنی امت کو اس کی وصیت فرما گئے فرماتے ہیں: { ”لوگو نماز کا اور غلاموں کا خوب خیال رکھنا باربار اسی کو فرماتے رہے یہاں تک کہ زبان رکنے لگی“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1625،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند کی حدیث میں ہے { آپ فرماتے ہیں تو جو خود کھائے وہ بھی صدقہ ہے جو اپنے بچوں کو کھلائے وہ بھی صدقہ ہے جو اپنی بیوی کھلائے وہ بھی صدقہ ہے جو اپنے خادم کو کھلائے وہ بھی صدقہ ہے }۔۱؎ [مسند احمد:131/4:حسن] مسلم میں ہے کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ دراوغہ سے فرمایا کہ کیا غلاموں کو تم نے ان کی خوراک دے دی؟ اس نے کہا اب تک نہیں دی فرمایا جاؤ دے کر آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے انسان کو یہی گناہ کافی ہے کہ جن کی خوراک کا وہ مالک ہے ان سے روک رکھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:996] مسلم میں ہے { مملوکہ ماتحت کا حق ہے کہ اسے کھلایا پلایا پہنایا اڑھایا جائے اور اس کی طاقت سے زیادہ کام اس سے نہ لیا جائے}۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1662] بخاری شریف میں ہے { جب تم میں سے کسی کا خادم اس کا کھانا لے کر آئے تو تمہیں چاہیئے کہ اگر ساتھ بٹھا کر نہیں کھلاتے تو کم از کم اسے لقمہ دو لقمہ دے دو خیال کرو کہ اس نے پکانے کی گرمی اور تکلیف اٹھائی ہے}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5460] اور روایت میں ہے کہ { چاہیئے تو یہ کہ اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھلائے اور اگر کھانا کم ہو تو لقمہ دو لقمے ہی دے دیا کرو، آپ فرماتے ہیں تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کر دیا ہے پس جس کے ہاتھ تلے اس کا بھائی ہو اسے اپنے کھانے سے کھلائے اور اپنے پہننے میں سے پہنائے اور ایسا کام نہ کرے کہ وہ عاجز ہو جائے اگر کوئی ایسا ہی مشکل کام آ پڑے تو خود بھی اس کا ساتھ دے}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:30]
پھر فرمایا کہ خود بین، معجب، متکبر، خود پسند، لوگوں پر اپنی فوقیت جتانے والا، اپنے آپ کو تولنے والا اپنے تیئں دوسروں سے بہتر جاننے والا اللہ کا پسندیدہ بندہ نہیں، وہ گو اپنے آپ کو بڑا سمجھے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ذلیل ہے لوگوں کی نظروں میں وہ حقیر ہے بھلا کتنا اندھیر ہے کہ خود تو اگر کسی سے سلوک کرے تو اپنا احسان اس پر رکھے لیکن رب کی نعمتوں کا جو اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھی ہیں شکر بجا نہ لائے لوگوں میں بیٹھ کر فخر کرے کہ میں اتنا بڑا آدمی ہوں میرے پاس یہ بھی ہے اور وہ بھی ہے۔ ابورجاہروی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر بدخلق متکبر اور خود پسند ہوتا ہے پھر اسی آیت کو تلاوت کیا اور فرمایا ہر ماں باپ کا نافرمان سرکش اور بدنصیب ہوتا ہے پھر آپ نے آیت «وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا» ۱؎ [19-مريم:32] پڑھی، عوام بن حوشب رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ مطرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ملی تھی میرے دل میں تمنا تھی کہ کسی وقت خود سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مل کر اس روایت کو انہی کی زبانی سنوں چنانچہ ایک مرتبہ ملاقات ہو گئی تو میں نے کہا مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ تین قسم کے لوگوں کو دوست رکھتا ہے اور تین قسم کے لوگوں کو ناپسند فرماتا ہے ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ سچ ہے میں بھلا اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان کیسے باندھ سکتا ہوں؟ میں نے کہا اچھا پھر وہ تین کون ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ دشمن رکھتا ہے۔ آپ نے اسی آیت «إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا» ۱؎ [4-النساء:36] کی تلاوت کی اور فرمایا اسے تو تم کتاب اللہ میں پاتے بھی ہو } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:3/5313:صحیح] بنو ہجیم کا ایک شخص رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتا ہے { مجھے کچھ نصیحت کیجئے آپ نے فرمایا کپڑا ٹخنے سے نیچا نہ لٹکاؤ کیونکہ یہ تکبر اور خود پسندی ہے جسے اللہ ناپسند رکھتا ہے}۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2721:صحیح]
36۔ 1 الجار، الجنب، قرابت دار پڑوسی کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ایسا پڑوسی جس سے قرابت داری نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ پڑوسی سے بہ حیثیت پڑوسی کے حسن و سلوک کیا جائے رشتہ دار ہو یا غیر رشتہ دار، جس طرح کہ حدیث میں بھی اس کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔ 36۔ 2 اس سے مراد رفیق سفر، شریک کار، بیوی اور وہ شخص ہے جو فائدے کی امید پر کسی کی قربت و ہم نشینی اختیار کرے بلکہ اسکی تعریف میں وہ لوگ بھی آسکتے ہیں جنہیں تحصیل علم، تعلم صناعت (کوئی کام سیکھنے) کے لئے یا کسی کاروباری سلسلہ میں آپ کے پاس بیٹھنے کا موقع ملے (فتح القدیر) 36۔ 3 اس میں گھر، دکان اور کارخانوں، ملوں کے ملازم اور نوکر چاکر بھی آجاتے ہیں۔ غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید حدیث میں آئی ہے۔ 36۔ 4 فخر و غرور اور تکبر اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے بلکہ ایک حدیث میں یہاں تک آتا ہے کہ " وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہوگا۔ " (صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم الکبر وبیانہ حدیث نمبر۔ 91) یہاں کبر کی بطور خاص مذمت سے یہ مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور جن جن لوگوں سے حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔ اس پر عمل وہی شخص کرسکتا ہے جس کا دل کبر سے خالی ہوگا۔ متکبر اور مغرور شخص صحیح معنوں میں نہ حق عبادت ادا کرسکتا ہے اور نہ اپنوں اور بیگانوں کے ساتھ حسن سلوک کا اہتمام۔
(آیت 36) ➊ {وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ:} میاں بیوی کے معاملات کے بعد دوسرے حقوق والوں کے ساتھ احسان کا ذکر ہے، مگر ابتدا اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حکم اور شرک سے منع کرنے سے کی ہے، کیونکہ ہر کام کی ابتدا اس سے ہوتی ہے، جیسا کہ اس سورت کا موضوع عموماً عورتوں کے مسائل ہیں، مگر سورت کی ابتدا «{ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ }» سے کی ہے۔ (ابن عاشور) ➋ { وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔا:} یعنی کسی چیز کو کسی صورت میں اس کا شریک نہ بنانا۔ اس کا شریک نہ بنانا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا مالک و مختار تسلیم کیا جائے اور اس کی کسی صفت میں کسی زندہ یا مردہ مخلوق کو شریک قرار نہ دیا جائے، تمام مرادیں اور حاجات اسی سے مانگی جائیں کہ وہی عالم میں متصرف ہے، کوئی اور نہیں۔ ➌ {وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا:} توحید کا حکم دینے کے بعد درجہ بدرجہ رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں کے حقوق بیان فرمائے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اول حق اللہ تعالیٰ کا، پھر ماں باپ کا اور پھر ان سب کا درجہ بدرجہ۔“(موضح) انسان کے عدم سے وجود میں آنے کا ذریعہ اللہ تعالیٰ کے بعد ماں باپ بنتے ہیں، اس لیے ان کا حق پہلے رکھا۔ ➍ {وَ بِذِي الْقُرْبٰى:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین پر صدقہ صرف صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ، صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔“ [ ترمذی، الزکاۃ، باب ما جاء فی الصدقۃ…:۶۵۸ ] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص پسند کرے کہ اس کے لیے اس کا رزق فراخ کیا جائے اور اس کے نشان قدم میں تاخیر کی جائے تو چاہیے کہ وہ اپنی رشتے داری کو ملائے۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب صلۃ الرحم…: 2557/21 ] ➎ { وَ الْيَتٰمٰى:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔“ آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیانی انگلی کو ملا کر بتایا۔ [ بخاری، الأدب، باب فضل من یعول یتیمًا: ۶۰۰۵، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] ➏ مسکین کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۶۰)۔ ➐ { وَ الْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ:} قرابت والے ہمسائے سے مراد رشتے دار ہمسایہ ہے اور اجنبی ہمسائے سے مراد غیر رشتے دار ہمسایہ ہے۔ ہمسائیگی کے حقوق کی نگہداشت میں متعدد احادیث وارد ہیں، ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام مجھے ہمیشہ پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو وارث قرار دے دیں گے۔“ [ بخاری، الأدب، باب الوصاءۃ بالجار: ۶۰۱۵، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما ] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمایا: ”اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا۔“ صحابہ نے پوچھا: ”کون شخص؟“ فرمایا: ”وہ شخص جس کی ایذا رسانیوں سے اس کا ہمسایہ بے خوف نہ ہو۔“ [ بخاری، الأدب، باب إثم من لا یأمن جارہ بوائقہ: ۶۰۱۶، عن أبی شریح رضی اللہ عنہ ] ➑ { وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ:} پہلو کے ساتھی سے ہم نشین دوست، سفر کا ساتھی، بیوی، علم سیکھنے کے لیے آنے والے یا کاروباری سلسلے میں پاس آ بیٹھنے والے سب مراد ہیں۔ ➒ { وَ ابْنِ السَّبِيْلِ:} مسافر سے مراد اکثر سلف کے نزدیک مہمان بھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کا اکرام (عزت افزائی) کرے۔“ [ بخاری، الأدب، باب من کان یؤمن…: ۶۰۱۸، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] ➓ {وَ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ:} اس سے مراد غلام اور لونڈیاں ہیں، کیونکہ وہ ملکیت میں ہونے کی وجہ سے بالکل ہی بے بس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ”نماز اور تمھارے غلام (ان دونوں کا خاص خیال رکھنا)۔“ [ أبو داوٗد، الأدب، باب فی حق المملوک: ۵۱۵۶، عن علی رضی اللہ عنہ ] آج کل اگرچہ کفار نے زنا پھیلانے اور دوسرے مذموم مقاصد کے لیے غلامی کو ختم کر دیا ہے اور جنگوں میں گرفتار ہونے والی عورتوں کو غلامی کی صورت میں ایک ایک آدمی کی ملکیت میں دینے کی بجائے کیمپوں میں رکھ کر ان پر فوجیوں کے ظلم و جبر اور آبرو ریزی کا دروازہ کھولا ہے، پھر نہ ان بیچاریوں کا کوئی غم خوار یا ذمہ دار ہوتا ہے نہ ان کی اولاد کا کوئی باپ، جب کہ غلامی کی صورت میں وہ ایک مالک کی غلامی میں رہ کر اس کی اولاد کی ماں بن کر عزت حاصل کرتی ہیں۔ مگر اس آیت پر عمل کرنے کے لیے آدمی کے ماتحت افراد جو اگرچہ غلام نہیں، حسن سلوک کے حق دار ہیں، مثلاً گھر، دکان اور کارخانوں کے ملازم اور نوکر چاکر وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کو اتنا ہی گناہ کافی ہے کہ وہ جن لوگوں کی خوراک کا مالک ہے ان کی خوراک روک لے۔“ [ مسلم، الزکوٰۃ، باب فضل النفقۃ…: ۹۹۶، عن ابن عمرو رضی اللہ عنھما ] ⓫ { مُخْتَالًا فَخُوْرًا: ”مُخْتَالًا“ } جو خرچ کرنے سے پہلے متکبر ہو اور {”فَخُوْرًا“} جو خرچ کرنے کے بعد فخر کرے۔ معلوم ہوا متکبر اور فخر کرنے والا نام و نمود کے لیے خرچ کرے گا، مگر اللہ کی خاطر خرچ نہیں کر سکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت نہیں رکھتا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اکڑنے والے، شیخی باز بخیل ہوتے ہیں، کسی کو اپنے برابر نہیں سمجھتے کہ اس پر خرچ کریں۔ حقیقی سخی متواضع ہوتے ہیں۔ جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی وصیت فرمائیے۔“ تو آپ نے (چند اہم امور کا تذکرہ کرنے کے بعد) فرمایا: ”تہ بند کو نیچے نہ لٹکاؤ، کیونکہ تہ بند کا (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ [ أحمد: 64/5، ح: ۲۰۶۶۳ ]
اور ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اسے چھپاتے ہیں ایسے کافر نعمت لوگوں کے لیے ہم نے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ خود بخیلی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخیلی کرنے کو کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو اپنا فضل انہیں دے رکھا ہے اسے چھپا لیتے ہیں ہم نے ان کافروں کے لئے ذلت کی مار تیار کر رکھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لئے کہیں اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائيں اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو خود کنجوسی سے کام لیتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کرنے کا حکم (ترغیب) دیتے ہیں۔ اور جو کچھ اللہ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے دیا ہے وہ اسے چھپاتے ہیں ہم نے ایسے ناشکروں کے لئے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور اسے چھپاتے ہیں جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے دیا ہے اور ہم نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ سے کترانے والے بخیل لوگ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی خوشنودی کے موقعہ پر مال خرچ کرنے سے جی چراتے ہیں مثلاً ماں باپ کو دینا، قرابت داروں سے اچھا سلوک نہیں کرتے، یتیم مسکین پڑوسی رشتہ دار غیر رشتہ دار پڑوسی ساتھی مسافر غلام اور ماتحت کو ان کی محتاجی کے وقت فی سبیل اللہ نہیں دیتے، اتنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کو بھی بخل اور فی سبیل اللہ خرچ نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کون سی بیماری بخل کی بیماری سے بڑھ کر ہے؟ ۱؎ [صحیح بخاری:4383] اور حدیث میں ہے لوگو بخیلی سے بچو اسی نے تم سے اگلوں کو تاخت و تاراج کیا اسی کے باعث ان سے قطع رحمی اور فسق و فجور جیسے برے کام نمایاں ہوئے۔۱؎ [سنن ابوداود:1698،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا یہ لوگ ان دونوں برائیوں کے ساتھ ہی ساتھ ایک تیسری برائی کے بھی مرتکب ہیں یعنی اللہ کی نعمتوں کو چھپاتے ہیں انہیں ظاہر نہیں کرتے نہ ان کے کھانے پینے میں وہ ظاہر ہوتی ہیں نہ پہننے اوڑھنے میں نہ دینے لینے میں جیسے اور جگہ ہے «اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ وَاِنَّهٗ عَلٰي ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ» ۱؎ [100-العاديات:6-7] یعنی ’ انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے اور وہ خود ہی اپنی اس حالت اور اس خصلت پر گواہ ہے ‘، پھر «وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ» ۱؎ [100-العاديات:8] ’ وہ مال کی محبت میں مست ہے ‘، پس یہاں بھی فرمان ہے کہ اللہ کے فضل کو یہ چھپاتا رہتا ہے۔
پھر انہیں دھمکایا جاتا ہے کہ کافروں کے لیے ہم نے اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھے ہیں، «کفر» کے معنی ہیں پوشیدہ رکھنا اور چھپا لینا پس بخیل بھی اللہ کی نعمتوں کا چھپانے والا ان پر پردہ ڈال رکھنے والا بلکہ ان کا انکار کرنے والا ہے پس وہ نعمتوں کا کافر ہوا۔ حدیث شریف میں ہے اللہ جب کسی بندے پر اپنی نعمت انعام فرماتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کا اثر اس پر ظاہر ہو۔ ۱؎ [مسند احمد:3/473،قال الشيخ الألباني:صحیح] دعا نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے «وَاجْعَلنَْا شَاکِرِیْنَ لِنِعْمَتِکَ مُثْنِیْنَ بِھَا عَلَیْکَ قَابِلِیْھَاوَاتِمَّـهَا عَلَیْناَ» اے اللہ! ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزار بنا اور ان کی وجہ سے ہمیں اپنا ثنا خوان بنا ان کا قبول کرنے والا بنا اور ان کی نعمتوں کو ہمیں بھرپور عطا فرما۔ ۱؎ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح] بعض سلف کا قول ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے اس بخل کے بارے میں ہے جو وہ اپنی کتاب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کے چھپانے میں کرتے تھے اسی لیے اس کے آخر میں ہے کہ کافروں کے لیے ذلت آمیز عذاب ہم نے تیار کر رکھے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ اس آیت کا اطلاق ان پر بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ بظاہر یہاں مال کا بخل بیان ہو رہا ہے گو علم کا بخل بھی اس میں بطور اولیٰ داخل ہے۔ خیال کیجئے کہ بیان آیت «اقرباضعفا» کو مال دینے کے بارے میں ہے اسی طرح اس کے بعد والی آیت میں ریاکاری کے طور پر فی سبیل اللہ مال دینے کی مذمت بھی بیان کی جا رہی ہے۔ پہلے ان کا بیان ہوا جو ممسک اور بخیل ہیں کوڑی کوڑی کو دانتوں سے تھام رکھتے ہیں۔
پھر ان کا بیان ہوا جو دیتے تو ہیں لیکن بدنیتی اور دنیا میں اپنی واہ واہ ہونے کی خاطر دیتے ہیں چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں سے جہنم کی آگ سلگائی جائے گی وہ یہی ریاکار ہوں گے، ریاکار عالم، ریاکار غازی، ریا کار سخی ایسا سخی کہے گا باری تعالیٰ تیری ہر ہر راہ میں، میں نے اپنا مال خرچ کیا تو اسے اللہ تعالیٰ کی جناب سے جواب ملے گا کہ تو جھوٹا ہے تیرا ارادہ تو صرف یہ تھا کہ تو سخی اور جواد مشہور ہو جائے سو وہ ہو چکا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1905] یعنی تیرا مقصود دنیا کی شہرت تھی وہ میں نے تجھے دنیا میں ہی دے چکا پس تیری مراد حاصل ہو چکی۔ اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تیرے باپ نے اپنی سخاوت سے جو چاہتا تھا وہ اسے مل گیا۔ ۱؎ [مسند احمد:258/4:حسن بالشواھد] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عبداللہ بن جدعان تو بڑا سخی تھا جس نے مساکین و فقراء کے ساتھ بڑے سلوک کئے اور نام الہ بہت سے غلام آزاد کئے تو کیا اسے ان کا نفع نہ ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں اس سے تو عمر بھر میں ایک دن بھی نہ کہا کہ اے اللہ میرے گناہوں کو قیامت کے دن معاف فرما دینا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:214] اسی لیے یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان کا ایمان اللہ اور قیامت پر نہیں۔ ورنہ شیطان کے پھندے میں نہ پھنس جاتے اور بد کو بھلا نہ سمجھ بیٹھتے یہ شیطان کے ساتھی ہیں اور شیطان ان کا ساتھی ہے ساتھی کی برائی پر ان کی برائی بھی سوچ لو عرب شاعر کہتا ہے «عن المرء لا تسال وسل عن قرینہ» * «فکل قرین بالمقارن یقتدی» انسان کے بارے میں نہ پوچھ اس کے ساتھیوں کا حال دریافت کر لے۔ ہر ساتھی اپنے ساتھی کا ہی پیرو کار ہوتا ہے۔
پھر ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں اللہ پر ایمان لانے اور صحیح راہ پر چلنے اور ریاکاری کو چھوڑ دینے اور اخلاص و یقین پر قائم ہو جانے سے کون سی چیز مانع ہے؟ ان کا اس میں کیا نقصان ہے؟ بلکہ سراسر فائدہ ہے کہ ان کی عاقبت سنور جائے گی یہ کیوں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے تنگ دلی کر رہے ہیں۔ اللہ کی محبت اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ اللہ انہیں خوب جانتا ہے ان کی بھلی اور بری نیتوں کا اسے علم ہے، اہل توفیق اور غیر اہل توفیق سب اس پر ظاہر ہیں، وہ بھلوں کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما کر اپنی خوشنودی کے کام ان سے لے کر اپنی قربت انہیں عطا فرماتا ہے اور بروں کو اپنی عالی جناب اور زبردست سرکاری سے دھکیل دیتا ہے جس سے ان کی دنیا اور آخرت برباد ہوتی ہے۔ «عَیَاذًا ابِاللہِ مِنْ ذٰلِکَ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 37) اس آیت میں بخل کی مذمت کی گئی ہے اور بخیل کے لیے کافر کا لفظ استعمال کیا ہے، کیونکہ کافر کا معنی چھپانے والا ہے اور بخیل بھی اللہ کی نعمت کو چھپانے والا ہوتا ہے۔ بعض سلف نے اس آیت میں بخل کے لفظ کو یہودیوں کے بخل پر محمول کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور علامات کو لوگوں سے چھپاتے تھے۔ غرض بخل مال کا ہو یا علم کا شدید مذموم ہے۔ (ابن کثیر)
اور وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کیلیے خرچ کرتے ہیں اور در حقیقت نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخر پر سچ یہ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہوا اُسے بہت ہی بری رفاقت میسر آئی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور جس کا ہم نشین اور ساتھی شیطان ہو، وه بدترین ساتھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا، تو کتنا برا مصاحب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو اپنے مال صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں دراصل وہ خدا اور روزِ جزا پر ایمان و یقین نہیں رکھتے (اللہ ایسے لوگوں کو دوست نہیں رکھتا)۔ اور جس کا مصاحب شیطان ہو۔ وہ اس کا بہت بُرا مصاحب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جو اپنے اموال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور نہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور نہ یوم آخرت پر، اور وہ شخص کہ شیطان اس کا ساتھی ہو تو وہ برا ساتھی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ سے کترانے والے بخیل لوگ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی خوشنودی کے موقعہ پر مال خرچ کرنے سے جی چراتے ہیں مثلاً ماں باپ کو دینا، قرابت داروں سے اچھا سلوک نہیں کرتے، یتیم مسکین پڑوسی رشتہ دار غیر رشتہ دار پڑوسی ساتھی مسافر غلام اور ماتحت کو ان کی محتاجی کے وقت فی سبیل اللہ نہیں دیتے، اتنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کو بھی بخل اور فی سبیل اللہ خرچ نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کون سی بیماری بخل کی بیماری سے بڑھ کر ہے؟ ۱؎ [صحیح بخاری:4383] اور حدیث میں ہے لوگو بخیلی سے بچو اسی نے تم سے اگلوں کو تاخت و تاراج کیا اسی کے باعث ان سے قطع رحمی اور فسق و فجور جیسے برے کام نمایاں ہوئے۔۱؎ [سنن ابوداود:1698،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا یہ لوگ ان دونوں برائیوں کے ساتھ ہی ساتھ ایک تیسری برائی کے بھی مرتکب ہیں یعنی اللہ کی نعمتوں کو چھپاتے ہیں انہیں ظاہر نہیں کرتے نہ ان کے کھانے پینے میں وہ ظاہر ہوتی ہیں نہ پہننے اوڑھنے میں نہ دینے لینے میں جیسے اور جگہ ہے «اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ وَاِنَّهٗ عَلٰي ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ» ۱؎ [100-العاديات:6-7] یعنی ’ انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے اور وہ خود ہی اپنی اس حالت اور اس خصلت پر گواہ ہے ‘، پھر «وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ» ۱؎ [100-العاديات:8] ’ وہ مال کی محبت میں مست ہے ‘، پس یہاں بھی فرمان ہے کہ اللہ کے فضل کو یہ چھپاتا رہتا ہے۔
پھر انہیں دھمکایا جاتا ہے کہ کافروں کے لیے ہم نے اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھے ہیں، «کفر» کے معنی ہیں پوشیدہ رکھنا اور چھپا لینا پس بخیل بھی اللہ کی نعمتوں کا چھپانے والا ان پر پردہ ڈال رکھنے والا بلکہ ان کا انکار کرنے والا ہے پس وہ نعمتوں کا کافر ہوا۔ حدیث شریف میں ہے اللہ جب کسی بندے پر اپنی نعمت انعام فرماتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کا اثر اس پر ظاہر ہو۔ ۱؎ [مسند احمد:3/473،قال الشيخ الألباني:صحیح] دعا نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے «وَاجْعَلنَْا شَاکِرِیْنَ لِنِعْمَتِکَ مُثْنِیْنَ بِھَا عَلَیْکَ قَابِلِیْھَاوَاتِمَّـهَا عَلَیْناَ» اے اللہ! ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزار بنا اور ان کی وجہ سے ہمیں اپنا ثنا خوان بنا ان کا قبول کرنے والا بنا اور ان کی نعمتوں کو ہمیں بھرپور عطا فرما۔ ۱؎ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح] بعض سلف کا قول ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے اس بخل کے بارے میں ہے جو وہ اپنی کتاب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کے چھپانے میں کرتے تھے اسی لیے اس کے آخر میں ہے کہ کافروں کے لیے ذلت آمیز عذاب ہم نے تیار کر رکھے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ اس آیت کا اطلاق ان پر بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ بظاہر یہاں مال کا بخل بیان ہو رہا ہے گو علم کا بخل بھی اس میں بطور اولیٰ داخل ہے۔ خیال کیجئے کہ بیان آیت «اقرباضعفا» کو مال دینے کے بارے میں ہے اسی طرح اس کے بعد والی آیت میں ریاکاری کے طور پر فی سبیل اللہ مال دینے کی مذمت بھی بیان کی جا رہی ہے۔ پہلے ان کا بیان ہوا جو ممسک اور بخیل ہیں کوڑی کوڑی کو دانتوں سے تھام رکھتے ہیں۔
پھر ان کا بیان ہوا جو دیتے تو ہیں لیکن بدنیتی اور دنیا میں اپنی واہ واہ ہونے کی خاطر دیتے ہیں چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں سے جہنم کی آگ سلگائی جائے گی وہ یہی ریاکار ہوں گے، ریاکار عالم، ریاکار غازی، ریا کار سخی ایسا سخی کہے گا باری تعالیٰ تیری ہر ہر راہ میں، میں نے اپنا مال خرچ کیا تو اسے اللہ تعالیٰ کی جناب سے جواب ملے گا کہ تو جھوٹا ہے تیرا ارادہ تو صرف یہ تھا کہ تو سخی اور جواد مشہور ہو جائے سو وہ ہو چکا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1905] یعنی تیرا مقصود دنیا کی شہرت تھی وہ میں نے تجھے دنیا میں ہی دے چکا پس تیری مراد حاصل ہو چکی۔ اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تیرے باپ نے اپنی سخاوت سے جو چاہتا تھا وہ اسے مل گیا۔ ۱؎ [مسند احمد:258/4:حسن بالشواھد] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عبداللہ بن جدعان تو بڑا سخی تھا جس نے مساکین و فقراء کے ساتھ بڑے سلوک کئے اور نام الہ بہت سے غلام آزاد کئے تو کیا اسے ان کا نفع نہ ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں اس سے تو عمر بھر میں ایک دن بھی نہ کہا کہ اے اللہ میرے گناہوں کو قیامت کے دن معاف فرما دینا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:214] اسی لیے یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان کا ایمان اللہ اور قیامت پر نہیں۔ ورنہ شیطان کے پھندے میں نہ پھنس جاتے اور بد کو بھلا نہ سمجھ بیٹھتے یہ شیطان کے ساتھی ہیں اور شیطان ان کا ساتھی ہے ساتھی کی برائی پر ان کی برائی بھی سوچ لو عرب شاعر کہتا ہے «عن المرء لا تسال وسل عن قرینہ» * «فکل قرین بالمقارن یقتدی» انسان کے بارے میں نہ پوچھ اس کے ساتھیوں کا حال دریافت کر لے۔ ہر ساتھی اپنے ساتھی کا ہی پیرو کار ہوتا ہے۔
پھر ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں اللہ پر ایمان لانے اور صحیح راہ پر چلنے اور ریاکاری کو چھوڑ دینے اور اخلاص و یقین پر قائم ہو جانے سے کون سی چیز مانع ہے؟ ان کا اس میں کیا نقصان ہے؟ بلکہ سراسر فائدہ ہے کہ ان کی عاقبت سنور جائے گی یہ کیوں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے تنگ دلی کر رہے ہیں۔ اللہ کی محبت اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ اللہ انہیں خوب جانتا ہے ان کی بھلی اور بری نیتوں کا اسے علم ہے، اہل توفیق اور غیر اہل توفیق سب اس پر ظاہر ہیں، وہ بھلوں کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما کر اپنی خوشنودی کے کام ان سے لے کر اپنی قربت انہیں عطا فرماتا ہے اور بروں کو اپنی عالی جناب اور زبردست سرکاری سے دھکیل دیتا ہے جس سے ان کی دنیا اور آخرت برباد ہوتی ہے۔ «عَیَاذًا ابِاللہِ مِنْ ذٰلِکَ»
38۔ 1 بخل (یعنی اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنا) یا خرچ کرنا لیکن ریاکاری یعنی نمود و نمائش کے لئے کرنا۔ یہ دونوں باتیں اللہ کو سخت ناپسند ہیں اور ان کی ندامت کے لئے یہی بات کافی ہے کہ یہاں قرآن کریم میں ان دونوں باتوں کو کافروں کا شیوا اور ان لوگوں کا وطیرہ بتایا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور شیطان ان کا ساتھی ہے۔
(آیت 38) بخیلوں کی مذمت کے بعد اب ریا کاری سے خرچ کرنے والوں کی مذمت کی جا رہی ہے اورانھیں شیطان کا ساتھی قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ تین آدمیوں کو سب سے پہلے آگ میں جھونکا جائے گا اور وہ ہیں: (1) ریا کار عالم (2) ریا کار مجاہد (3) اور ریا کار سخی۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب من قاتل للریاء…: ۱۹۰۵ ] شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”مال دینے میں بخل کرنا جیسا اللہ کے نزدیک برا ہے ویسا ہی خلق کے دکھانے کو دینا۔ قبول وہ ہے جو ان حق داروں کو دے جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اور پھر اللہ کے یقین اور آخرت کی توقع سے دے۔“ (موضح)
آخر اِن لوگوں پر کیا آفت آ جاتی اگر یہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چھپا نہ رہ جاتا
مولانا محمد جوناگڑھی
بھلا ان کا کیا نقصان تھا اگر یہ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ﻻتے اور اللہ تعالیٰ نے جو انہیں دے رکھا ہے اس میں خرچ کرتے، اللہ تعالیٰ انہیں خوب جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللہ اور قیامت پر اور اللہ کے دیے میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے اور اللہ ان کو جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کا کیا نقصان ہوتا اگر وہ اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لاتے اور جو کچھ اللہ نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے کچھ (راہِ خدا میں) خرچ کرتے اور اللہ ان سے خوب واقف ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان پر کیا آفت آجاتی اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آتے اور اس میں سے خرچ کرتے جو انھیں اللہ نے دیا ہے اور اللہ ہمیشہ سے انھیں خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ سے کترانے والے بخیل لوگ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی خوشنودی کے موقعہ پر مال خرچ کرنے سے جی چراتے ہیں مثلاً ماں باپ کو دینا، قرابت داروں سے اچھا سلوک نہیں کرتے، یتیم مسکین پڑوسی رشتہ دار غیر رشتہ دار پڑوسی ساتھی مسافر غلام اور ماتحت کو ان کی محتاجی کے وقت فی سبیل اللہ نہیں دیتے، اتنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کو بھی بخل اور فی سبیل اللہ خرچ نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کون سی بیماری بخل کی بیماری سے بڑھ کر ہے؟ ۱؎ [صحیح بخاری:4383] اور حدیث میں ہے لوگو بخیلی سے بچو اسی نے تم سے اگلوں کو تاخت و تاراج کیا اسی کے باعث ان سے قطع رحمی اور فسق و فجور جیسے برے کام نمایاں ہوئے۔۱؎ [سنن ابوداود:1698،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا یہ لوگ ان دونوں برائیوں کے ساتھ ہی ساتھ ایک تیسری برائی کے بھی مرتکب ہیں یعنی اللہ کی نعمتوں کو چھپاتے ہیں انہیں ظاہر نہیں کرتے نہ ان کے کھانے پینے میں وہ ظاہر ہوتی ہیں نہ پہننے اوڑھنے میں نہ دینے لینے میں جیسے اور جگہ ہے «اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ وَاِنَّهٗ عَلٰي ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ» ۱؎ [100-العاديات:6-7] یعنی ’ انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے اور وہ خود ہی اپنی اس حالت اور اس خصلت پر گواہ ہے ‘، پھر «وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ» ۱؎ [100-العاديات:8] ’ وہ مال کی محبت میں مست ہے ‘، پس یہاں بھی فرمان ہے کہ اللہ کے فضل کو یہ چھپاتا رہتا ہے۔
پھر انہیں دھمکایا جاتا ہے کہ کافروں کے لیے ہم نے اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھے ہیں، «کفر» کے معنی ہیں پوشیدہ رکھنا اور چھپا لینا پس بخیل بھی اللہ کی نعمتوں کا چھپانے والا ان پر پردہ ڈال رکھنے والا بلکہ ان کا انکار کرنے والا ہے پس وہ نعمتوں کا کافر ہوا۔ حدیث شریف میں ہے اللہ جب کسی بندے پر اپنی نعمت انعام فرماتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کا اثر اس پر ظاہر ہو۔ ۱؎ [مسند احمد:3/473،قال الشيخ الألباني:صحیح] دعا نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے «وَاجْعَلنَْا شَاکِرِیْنَ لِنِعْمَتِکَ مُثْنِیْنَ بِھَا عَلَیْکَ قَابِلِیْھَاوَاتِمَّـهَا عَلَیْناَ» اے اللہ! ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزار بنا اور ان کی وجہ سے ہمیں اپنا ثنا خوان بنا ان کا قبول کرنے والا بنا اور ان کی نعمتوں کو ہمیں بھرپور عطا فرما۔ ۱؎ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح] بعض سلف کا قول ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے اس بخل کے بارے میں ہے جو وہ اپنی کتاب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کے چھپانے میں کرتے تھے اسی لیے اس کے آخر میں ہے کہ کافروں کے لیے ذلت آمیز عذاب ہم نے تیار کر رکھے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ اس آیت کا اطلاق ان پر بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ بظاہر یہاں مال کا بخل بیان ہو رہا ہے گو علم کا بخل بھی اس میں بطور اولیٰ داخل ہے۔ خیال کیجئے کہ بیان آیت «اقرباضعفا» کو مال دینے کے بارے میں ہے اسی طرح اس کے بعد والی آیت میں ریاکاری کے طور پر فی سبیل اللہ مال دینے کی مذمت بھی بیان کی جا رہی ہے۔ پہلے ان کا بیان ہوا جو ممسک اور بخیل ہیں کوڑی کوڑی کو دانتوں سے تھام رکھتے ہیں۔
پھر ان کا بیان ہوا جو دیتے تو ہیں لیکن بدنیتی اور دنیا میں اپنی واہ واہ ہونے کی خاطر دیتے ہیں چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں سے جہنم کی آگ سلگائی جائے گی وہ یہی ریاکار ہوں گے، ریاکار عالم، ریاکار غازی، ریا کار سخی ایسا سخی کہے گا باری تعالیٰ تیری ہر ہر راہ میں، میں نے اپنا مال خرچ کیا تو اسے اللہ تعالیٰ کی جناب سے جواب ملے گا کہ تو جھوٹا ہے تیرا ارادہ تو صرف یہ تھا کہ تو سخی اور جواد مشہور ہو جائے سو وہ ہو چکا۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1905] یعنی تیرا مقصود دنیا کی شہرت تھی وہ میں نے تجھے دنیا میں ہی دے چکا پس تیری مراد حاصل ہو چکی۔ اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تیرے باپ نے اپنی سخاوت سے جو چاہتا تھا وہ اسے مل گیا۔ ۱؎ [مسند احمد:258/4:حسن بالشواھد] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عبداللہ بن جدعان تو بڑا سخی تھا جس نے مساکین و فقراء کے ساتھ بڑے سلوک کئے اور نام الہ بہت سے غلام آزاد کئے تو کیا اسے ان کا نفع نہ ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں اس سے تو عمر بھر میں ایک دن بھی نہ کہا کہ اے اللہ میرے گناہوں کو قیامت کے دن معاف فرما دینا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:214] اسی لیے یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان کا ایمان اللہ اور قیامت پر نہیں۔ ورنہ شیطان کے پھندے میں نہ پھنس جاتے اور بد کو بھلا نہ سمجھ بیٹھتے یہ شیطان کے ساتھی ہیں اور شیطان ان کا ساتھی ہے ساتھی کی برائی پر ان کی برائی بھی سوچ لو عرب شاعر کہتا ہے «عن المرء لا تسال وسل عن قرینہ» * «فکل قرین بالمقارن یقتدی» انسان کے بارے میں نہ پوچھ اس کے ساتھیوں کا حال دریافت کر لے۔ ہر ساتھی اپنے ساتھی کا ہی پیرو کار ہوتا ہے۔
پھر ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں اللہ پر ایمان لانے اور صحیح راہ پر چلنے اور ریاکاری کو چھوڑ دینے اور اخلاص و یقین پر قائم ہو جانے سے کون سی چیز مانع ہے؟ ان کا اس میں کیا نقصان ہے؟ بلکہ سراسر فائدہ ہے کہ ان کی عاقبت سنور جائے گی یہ کیوں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے تنگ دلی کر رہے ہیں۔ اللہ کی محبت اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ اللہ انہیں خوب جانتا ہے ان کی بھلی اور بری نیتوں کا اسے علم ہے، اہل توفیق اور غیر اہل توفیق سب اس پر ظاہر ہیں، وہ بھلوں کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما کر اپنی خوشنودی کے کام ان سے لے کر اپنی قربت انہیں عطا فرماتا ہے اور بروں کو اپنی عالی جناب اور زبردست سرکاری سے دھکیل دیتا ہے جس سے ان کی دنیا اور آخرت برباد ہوتی ہے۔ «عَیَاذًا ابِاللہِ مِنْ ذٰلِکَ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 40،39) بخل اور ریا کاری کی مذمت کے بعد ایمان و طاعت اور صدقہ و خیرات کی ترغیب دلائی، پھر مزید ترغیب کے لیے فرمایا کہ جب ذرا ذرا سی چیز کا اللہ تعالیٰ کئی گنا اجر دیتے ہیں، پھر لوگ کیوں نیک کاموں میں سستی کرتے اور ریا کاری سے کام لے کر اپنے اجر کو ضائع کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو خبر دی ہے کہ وہ کسی پر ایک ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرے گا، بلکہ ایک نیکی ہو گی تو اسے بھی بڑھا چڑھا کر اپنے پاس سے اجر عظیم دے کر نجات کا باعث بنا دے گا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک طویل حدیث) میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ (فرشتوں سے) فرمائے گا، تم جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی خیر (یعنی ایمان) کو پاؤ اسے بھی جہنم سے نکال لاؤ، چنانچہ وہ بہت سی مخلوق کو نکال لائیں گے۔“ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد ابو سعید رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”اگر تم مجھے اس حدیث میں سچا نہ جانو تو یہ آیت پڑھو: «{ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْهَا }» [ مسلم، الإیمان، باب معرفۃ الطریق الرؤیۃ: ۱۸۳ ] بے شک اللہ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر ایک نیکی ہو گی تو اسے دگنا کر دے گا اور اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا، یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی ہے۔
اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اُسے دو چند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بے شک اللہ تعالیٰ ایک ذره برابر ﻇلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو تو اسے دوگنی کر دیتا ہے اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا ﺛواب دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اللہ ذرہ برابر (کسی پر) ظلم نہیں کرتا اور اگر وہ (ذرہ برابر) نیکی ہو تو اسے دوگنا (بلکہ چوگنا) کر دیتا ہے اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر ایک نیکی ہوگی تو اسے دوگنا کر دے گا اور اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بے مثال خریدار؟ ٭٭
باری تعالیٰ رب العالمین فرماتا ہے کہ میں کسی پر ظلم نہیں کرتا، کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا، بلکہ بڑھا چڑھا کر قیامت کے روز اس کا اجر و ثواب عطا فرماؤں گا۔ جیسے فرمایا تھا «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا» ۱؎ [21-الأنبياء:47] ’ ہم عدل کی ترازو رکھیں گے ‘۔ اور فرمایا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا تھا «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ اے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہو گو وہ کسی پتھر میں یا آسمانوں میں ہو یا زمین کے اندر ہو اللہ اسے لا حاضر کرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ باریک بین خریدار ہے ‘۔ اور جگہ فرمایا «يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ» * «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» * «وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ۱؎ [99-الزلزلة:6-8] ’ اس دن لوگ اپنے مختلف احوال پر لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا ‘۔
بخاری و مسلم کی شفاعت کے ذکر والی مطول حدیث میں ہے کہ پھر اللہ فرمائے گا لوٹ کر جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے برابر ایمان دیکھو اسے جہنم سے نکال لاؤ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7439] پس بہت سی مخلوق جہنم سے آزاد ہو گی۔ ابوسعید رحمہ اللہ یہ حدیث بیان فرما کر فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو آیت قرآنی کے اس جملے کو پڑھ لو «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان مروی ہے کہ قیامت کے دن کسی اللہ کے بندے یا بندی کو لایا جائے گا اور ایک پکارنے والا سب اہل محشر کو با آواز بلند سنا کر کہے گا یہ فلاں کا بیٹا یا بیٹی ہے اس کا نام یہ ہے جس کسی کا کوئی حق اس کے ذمہ باقی ہو وہ آئے اور لے جائے اس وقت یہ حالت ہو گی کہ عورت چاہے گی کہ اس کا کوئی حق اس کے باپ پر یا ماں پر یا بھائی پر یا شوہر پر ہو تو دوڑ کر آئے اور لے۔ «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] ’ رشتے ناتے کٹ جائیں گے کوئی کسی کا پر سان حال نہ ہو گا ‘۔ اللہ تعالیٰ اپنا جو حق چاہے معاف فرما دے گا لیکن لوگوں کے حقوق میں سے کوئی حق معاف نہ فرمائے گا اسی طرح جب کوئی حقدار آئے گا تو کہا جائے گا کہ ان کے حق ادا کر یہ کہے گا دنیا تو ختم ہو چکی آج میرے ہاتھ میں کیا ہے جو میں دوں؟ پس اس کے نیک اعمال لیے جائیں گے اور حقداروں کو دئیے جائیں گے اور ہر ایک کا حق اسی طرح ادا کیا جائے گا۔ اب یہ شخص اگر اللہ کا دوست ہے تو اس کے پاس ایک رائی کے دانے برابر نیکی بچ رہے گی جسے بڑھا چڑھا کر صرف اسی کی بنا پر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں لے جائے گا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی اور اگر وہ بندہ اللہ کا دوست نہیں ہے بلکہ بدبخت اور سرکش ہے تو یہ حال ہو گا کہ فرشتہ کہے گا کہ باری تعالیٰ اس کی سب نیکیاں ختم ہو گئیں اور ابھی حقدار باقی رہ گئے حکم ہو گا کہ ان کی برائیاں لے کر اس پر لاد دو پھر اسے جہنم واصل کرو۔ «اعاذنا اللہ منہا» اس موقوف اثر کے بعض شواہد مرفوع احادیث میں بھی موجود ہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ آیت «مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» ۱؎ [6-الأنعام:160] اعراب کے بارے میں اتری ہے اس پر ان سے سوال ہوا کہ پھر مہاجرین کے بارے میں کیا ہے، آپ نے فرمایا: اس سے بہت ہی اچھی آیت «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشرک کے بھی عذابوں میں اس کے باعث کمی کر دی جاتی ہے ہاں جہنم سے نکلے گا تو نہیں، چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کے چچا ابوطالب آپ کے پشت پناہ بنے ہوئے تھے، آپ کو لوگوں کی ایذاؤں سے بچاتے رہتے تھے، آپ کی طرف سے ان سے لڑتے تھے، تو کیا انہیں کچھ نفع بھی پہنچے گا، آپ نے فرمایا ”ہاں وہ بہت تھوڑی سی آگ میں ہے اور اگر میرا یہ تعلق نہ ہوتا تو جہنم کے نیچے کے طبقے میں ہوتا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:209] لیکن یہ بہت ممکن ہے کہ یہ فائدہ صرف ابوطالب کے لیے ہی ہو یعنی اور کفار اس حکم میں نہ ہوں اس لیے کہ مسند طیالسی کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ مومن کی کسی نیکی پر ظلم نہیں کرتا دنیا میں روزی رزق وغیرہ کی صورت میں اس کا بدلہ ملتا رہے گا اور آخرت میں اجر و ثواب کی شکل میں بدلہ ملے گا۔ ہاں کافر تو اپنی نیکی دنیا میں ہی کھا جاتا ہے قیامت کے دن اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہو گی۔۱؎ [صحیح مسلم:2808] «اجر عظیم» سے مراد اس آیت میں جنت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم لطف و رحم سے اپنی رضا مندی عطا فرمائے اور جنت نصیب کرے۔ آمین
مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے خبر ملی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکی کا ثواب دے گا مجھے بڑا تعجب ہوا اور میں نے کہا: ابوہریرہ کی خدمت میں تم سے زیادہ رہا ہوں میں نے تو کبھی آپ سے یہ حدیث نہیں سنی اب میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ جاؤں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مل کر ان سے خود پوچھ آؤں چنانچہ میں نے سامان سفر درست کیا اور اس روایت کی چھان بین کے لیے روانہ ہوا معلوم ہوا کہ وہ تو حج کو گئے ہیں تو میں بھی حج کی نیت سے وہاں پہنچا، ملاقات ہوئی تو میں نے کہا: ابوہریرہ! میں نے سنا آپ نے ایسی حدیث بیان کی ہے؟ کیا یہ سچ ہے؟ آپ نے فرمایا کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے؟ تم نے قرآن میں نہیں پڑھا؟ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص اللہ کو اچھا قرض دے اللہ اسے بہت بہت بڑھا کر عنایت فرماتا ہے اور دوسری آیت میں ساری دنیا کو کم کہا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کی قسم! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک نیکی کو بڑھا کر اس کے بدلے دو لاکھ ملیں گی۔ ۱؎ [مسند احمد:2/521:ضعیف] یہ حدیث اور طریقوں سے بھی مروی ہے۔
پھر قیامت کے دن کی سختی اور ہولناکی بیان فرما رہا ہے کہ اس دن انبیاء علیہ السلام کو بطور گواہ کے پیش کیا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے «وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» ۱؎ [39-الزمر:69] ’ زمین اپنے رب کے نور سے چمکنے لگے گی نامہ اعمال دئیے جائیں گے اور نبیوں اور گواہوں کو لاکھڑا کیا جائے گا ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ» ۱؎ [16-النحل:89] ’ ہر امت پر انہی میں سے ہم گواہ کھڑا کریں گے‘۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے کچھ قرآن پڑھ کر سناؤ“، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپ کو کیا پڑھ کر سناؤں گا، آپ پر تو اترا ہی ہے، فرمایا: ”ہاں لیکن میرا جی چاہتا ہے کہ دوسرے سے سنوں“، پس میں نے سورۃ نساء کی تلاوت شروع کی پڑھتے پڑھتے جب میں نے اس آیت «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلَاءِ شَهِيدًا» ۱؎ [4-النساء:41] کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا بس کرو میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5050] سیدنا محمد بن فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنی ظفر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ایک چٹان پر بیٹھ گئے جو اب تک ان کے محلے میں ہے، آپ کے ساتھ سیدنا ابن مسعود، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، آپ نے ایک قاری سے فرمایا: ”قرآن پڑھو“، پڑھتے پڑھتے جب اس آیت «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلَاءِ شَهِيدًا» ۱؎ [4-النساء:41] تک پہنچا تو آپ اس قدر روئے کہ دونوں رخسار اور داڑھی تر ہو گئی اور عرض کرنے لگے، یا رب! جو موجود ہیں ان پر تو خیر میری گواہی ہو گی لیکن جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہی نہیں ان کی بابت کیسے؟ ۱؎ [مسند احمد:374/1:حسن] [ابن ابی حاتم]
ابن جریر میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں ان پر گواہ ہوں جب تک کہ ان میں ہوں پس جب تو مجھے فوت کرے گا تب تو تو ہی ان پر نگہبان ہے۔ ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:9520:صحیح] ابوعبداللہ قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب تذکرہ میں باب باندھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت پر شہادت کے بارے میں کیا آیا ہے؟ اس میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا یہ قول لائے ہیں کہ ہر دن صبح شام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی امت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں مع ناموں کے پس آپ قیامت کے دن ان سب پر گواہی دیں گے پھر یہی آیت تلاوت فرمائی لیکن اولاً تو یہ سعید رحمہ اللہ کا خود کا قول ہے، دوسرے یہ کہ اس کی سند میں انقطاع ہے، اس میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام ہی نہیں تیسرے یہ حدیث مرفوع کر کے بیان ہی نہیں کرتے۔ ہاں امام قرطبی رحمہ اللہ اسے قبول کرتے ہیں وہ اس کے لانے کے بعد فرماتے ہیں کہ پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر پیر اور ہر جمعرات کو اعمال پیش کئے جاتے ہیں پس وہ انبیاء علیہ السلام پر اور ماں باپ پر ہر جمعہ کو پیش کئے جاتے ہیں اور اس میں کوئی تعارض نہیں ممکن ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر جمعہ کو بھی پیش ہوتے ہوں اور ہر دن بھی (ٹھیک یہی ہے کہ یہ بات صحت کے ساتھ ثابت نہیں واللہ اعلم۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ اس دن کافر اور رسول کا نافرمان آرزو کرے گا کہ کاش زمین پھٹ جاتی اور یہ اس میں سما جاتا پھر زمین برابر ہو جاتی کیونکہ ناقابل برداشت ہولناکیوں، رسوائیوں اور ڈانٹ ڈپٹ سے گھبرا اٹھے گا، جیسے اور آیت میں ہے «يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا» ۱؎ [78-النبأ:40] جس دن انسان اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال اپنی آنکھوں دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کاش کہ میں مٹی ہو گیا ہوتا۔ پھر فرمایا یہ ان تمام بدافعالیوں کا اس دن اقرار کریں گے جو انہوں نے کی تھیں اور ایک چیز بھی پوشیدہ نہ رکھیں گے۔ ایک شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا ایک جگہ تو قرآن میں ہے کہ مشرکین قیامت کے دن کہیں گے «وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:23] اللہ تعالیٰ کی قسم رب کی قسم ہم نے شرک نہیں کیا اور دوسری جگہ ہے کہ «وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا» ۱؎ [4-النساء:42] اللہ سے ایک بات بھی نہ چھپائیں گے پھر ان دونوں آیتوں کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا اس کا اور وقت ہے اس کا وقت اور ہے اور جب موحدوں کو جنت میں جاتے ہوئے دیکھیں گے تو کہیں گے آؤ تم بھی اپنے شرک کا انکار کرو کیا عجب کام چل جائے۔ پھر ان کے منہ پر مہریں لگ جائیں گی اور ہاتھ پاؤں بولنے لگیں گے اب اللہ تعالیٰ سے ایک بات بھی نہ چھپائیں گے۔ [ابن جریر] مسند عبدالزاق میں ہے کہ اس شخص نے آ کر کہا تھا بہت سی چیزیں مجھ پر قرآن میں مختلف ہوتی، آپ نے فرمایا کیا مطلب تجھے کیا قرآن میں شک ہے؟ اس نے کہا شک تو نہیں ہاں میری سمجھ میں اختلاف نظر آ رہا ہے، آپ نے فرمایا جہاں جہاں اختلاف تجھے نظر آیا ہو ان مقامات کو پیش کر، تو اس نے یہ دو آیتیں پیش کیں کہ ایک سے چھپانا ثابت ہوتا ہے، دوسرے سے نہ چھپانا پایا جاتا ہے، تو آپ نے اسے یہ جواب دے کر دونوں آیتوں کی تطبیق سمجھا دی۔ ایک اور روایت میں سائل کا نام بھی آیا ہے کہ وہ نافع بن ازرق تھے یہ بھی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ شاید تم کسی ایسی مجلس سے آ رہے ہو جہاں ان کا تذکرہ ہو رہا ہو گا یا تم نے کیا ہو گا کہ میں جاتا ہوں اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کرتا ہوں اگر میرا یہ گمان صحیح ہے تو تمہیں لازم ہے کہ جواب سن کر انہیں بھی جا کر سنا دو پھر یہی جواب دیا۔
پھر سوچو کہ اُس وقت یہ کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اِن لوگوں پر تمہیں (یعنی محمد ﷺ کو) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ایک گواه ہم ﻻئیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواه بناکر ﻻئیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں
علامہ محمد حسین نجفی
اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بے مثال خریدار؟ ٭٭
باری تعالیٰ رب العالمین فرماتا ہے کہ میں کسی پر ظلم نہیں کرتا، کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا، بلکہ بڑھا چڑھا کر قیامت کے روز اس کا اجر و ثواب عطا فرماؤں گا۔ جیسے فرمایا تھا «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا» ۱؎ [21-الأنبياء:47] ’ ہم عدل کی ترازو رکھیں گے ‘۔ اور فرمایا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا تھا «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ اے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہو گو وہ کسی پتھر میں یا آسمانوں میں ہو یا زمین کے اندر ہو اللہ اسے لا حاضر کرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ باریک بین خریدار ہے ‘۔ اور جگہ فرمایا «يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ» * «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» * «وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ۱؎ [99-الزلزلة:6-8] ’ اس دن لوگ اپنے مختلف احوال پر لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا ‘۔
بخاری و مسلم کی شفاعت کے ذکر والی مطول حدیث میں ہے کہ پھر اللہ فرمائے گا لوٹ کر جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے برابر ایمان دیکھو اسے جہنم سے نکال لاؤ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7439] پس بہت سی مخلوق جہنم سے آزاد ہو گی۔ ابوسعید رحمہ اللہ یہ حدیث بیان فرما کر فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو آیت قرآنی کے اس جملے کو پڑھ لو «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان مروی ہے کہ قیامت کے دن کسی اللہ کے بندے یا بندی کو لایا جائے گا اور ایک پکارنے والا سب اہل محشر کو با آواز بلند سنا کر کہے گا یہ فلاں کا بیٹا یا بیٹی ہے اس کا نام یہ ہے جس کسی کا کوئی حق اس کے ذمہ باقی ہو وہ آئے اور لے جائے اس وقت یہ حالت ہو گی کہ عورت چاہے گی کہ اس کا کوئی حق اس کے باپ پر یا ماں پر یا بھائی پر یا شوہر پر ہو تو دوڑ کر آئے اور لے۔ «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] ’ رشتے ناتے کٹ جائیں گے کوئی کسی کا پر سان حال نہ ہو گا ‘۔ اللہ تعالیٰ اپنا جو حق چاہے معاف فرما دے گا لیکن لوگوں کے حقوق میں سے کوئی حق معاف نہ فرمائے گا اسی طرح جب کوئی حقدار آئے گا تو کہا جائے گا کہ ان کے حق ادا کر یہ کہے گا دنیا تو ختم ہو چکی آج میرے ہاتھ میں کیا ہے جو میں دوں؟ پس اس کے نیک اعمال لیے جائیں گے اور حقداروں کو دئیے جائیں گے اور ہر ایک کا حق اسی طرح ادا کیا جائے گا۔ اب یہ شخص اگر اللہ کا دوست ہے تو اس کے پاس ایک رائی کے دانے برابر نیکی بچ رہے گی جسے بڑھا چڑھا کر صرف اسی کی بنا پر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں لے جائے گا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی اور اگر وہ بندہ اللہ کا دوست نہیں ہے بلکہ بدبخت اور سرکش ہے تو یہ حال ہو گا کہ فرشتہ کہے گا کہ باری تعالیٰ اس کی سب نیکیاں ختم ہو گئیں اور ابھی حقدار باقی رہ گئے حکم ہو گا کہ ان کی برائیاں لے کر اس پر لاد دو پھر اسے جہنم واصل کرو۔ «اعاذنا اللہ منہا» اس موقوف اثر کے بعض شواہد مرفوع احادیث میں بھی موجود ہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ آیت «مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» ۱؎ [6-الأنعام:160] اعراب کے بارے میں اتری ہے اس پر ان سے سوال ہوا کہ پھر مہاجرین کے بارے میں کیا ہے، آپ نے فرمایا: اس سے بہت ہی اچھی آیت «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشرک کے بھی عذابوں میں اس کے باعث کمی کر دی جاتی ہے ہاں جہنم سے نکلے گا تو نہیں، چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کے چچا ابوطالب آپ کے پشت پناہ بنے ہوئے تھے، آپ کو لوگوں کی ایذاؤں سے بچاتے رہتے تھے، آپ کی طرف سے ان سے لڑتے تھے، تو کیا انہیں کچھ نفع بھی پہنچے گا، آپ نے فرمایا ”ہاں وہ بہت تھوڑی سی آگ میں ہے اور اگر میرا یہ تعلق نہ ہوتا تو جہنم کے نیچے کے طبقے میں ہوتا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:209] لیکن یہ بہت ممکن ہے کہ یہ فائدہ صرف ابوطالب کے لیے ہی ہو یعنی اور کفار اس حکم میں نہ ہوں اس لیے کہ مسند طیالسی کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ مومن کی کسی نیکی پر ظلم نہیں کرتا دنیا میں روزی رزق وغیرہ کی صورت میں اس کا بدلہ ملتا رہے گا اور آخرت میں اجر و ثواب کی شکل میں بدلہ ملے گا۔ ہاں کافر تو اپنی نیکی دنیا میں ہی کھا جاتا ہے قیامت کے دن اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہو گی۔۱؎ [صحیح مسلم:2808] «اجر عظیم» سے مراد اس آیت میں جنت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم لطف و رحم سے اپنی رضا مندی عطا فرمائے اور جنت نصیب کرے۔ آمین
مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے خبر ملی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکی کا ثواب دے گا مجھے بڑا تعجب ہوا اور میں نے کہا: ابوہریرہ کی خدمت میں تم سے زیادہ رہا ہوں میں نے تو کبھی آپ سے یہ حدیث نہیں سنی اب میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ جاؤں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مل کر ان سے خود پوچھ آؤں چنانچہ میں نے سامان سفر درست کیا اور اس روایت کی چھان بین کے لیے روانہ ہوا معلوم ہوا کہ وہ تو حج کو گئے ہیں تو میں بھی حج کی نیت سے وہاں پہنچا، ملاقات ہوئی تو میں نے کہا: ابوہریرہ! میں نے سنا آپ نے ایسی حدیث بیان کی ہے؟ کیا یہ سچ ہے؟ آپ نے فرمایا کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے؟ تم نے قرآن میں نہیں پڑھا؟ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص اللہ کو اچھا قرض دے اللہ اسے بہت بہت بڑھا کر عنایت فرماتا ہے اور دوسری آیت میں ساری دنیا کو کم کہا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کی قسم! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک نیکی کو بڑھا کر اس کے بدلے دو لاکھ ملیں گی۔ ۱؎ [مسند احمد:2/521:ضعیف] یہ حدیث اور طریقوں سے بھی مروی ہے۔
پھر قیامت کے دن کی سختی اور ہولناکی بیان فرما رہا ہے کہ اس دن انبیاء علیہ السلام کو بطور گواہ کے پیش کیا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے «وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» ۱؎ [39-الزمر:69] ’ زمین اپنے رب کے نور سے چمکنے لگے گی نامہ اعمال دئیے جائیں گے اور نبیوں اور گواہوں کو لاکھڑا کیا جائے گا ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ» ۱؎ [16-النحل:89] ’ ہر امت پر انہی میں سے ہم گواہ کھڑا کریں گے‘۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے کچھ قرآن پڑھ کر سناؤ“، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپ کو کیا پڑھ کر سناؤں گا، آپ پر تو اترا ہی ہے، فرمایا: ”ہاں لیکن میرا جی چاہتا ہے کہ دوسرے سے سنوں“، پس میں نے سورۃ نساء کی تلاوت شروع کی پڑھتے پڑھتے جب میں نے اس آیت «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلَاءِ شَهِيدًا» ۱؎ [4-النساء:41] کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا بس کرو میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5050] سیدنا محمد بن فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنی ظفر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ایک چٹان پر بیٹھ گئے جو اب تک ان کے محلے میں ہے، آپ کے ساتھ سیدنا ابن مسعود، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، آپ نے ایک قاری سے فرمایا: ”قرآن پڑھو“، پڑھتے پڑھتے جب اس آیت «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلَاءِ شَهِيدًا» ۱؎ [4-النساء:41] تک پہنچا تو آپ اس قدر روئے کہ دونوں رخسار اور داڑھی تر ہو گئی اور عرض کرنے لگے، یا رب! جو موجود ہیں ان پر تو خیر میری گواہی ہو گی لیکن جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہی نہیں ان کی بابت کیسے؟ ۱؎ [مسند احمد:374/1:حسن] [ابن ابی حاتم]
ابن جریر میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں ان پر گواہ ہوں جب تک کہ ان میں ہوں پس جب تو مجھے فوت کرے گا تب تو تو ہی ان پر نگہبان ہے۔ ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:9520:صحیح] ابوعبداللہ قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب تذکرہ میں باب باندھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت پر شہادت کے بارے میں کیا آیا ہے؟ اس میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا یہ قول لائے ہیں کہ ہر دن صبح شام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی امت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں مع ناموں کے پس آپ قیامت کے دن ان سب پر گواہی دیں گے پھر یہی آیت تلاوت فرمائی لیکن اولاً تو یہ سعید رحمہ اللہ کا خود کا قول ہے، دوسرے یہ کہ اس کی سند میں انقطاع ہے، اس میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام ہی نہیں تیسرے یہ حدیث مرفوع کر کے بیان ہی نہیں کرتے۔ ہاں امام قرطبی رحمہ اللہ اسے قبول کرتے ہیں وہ اس کے لانے کے بعد فرماتے ہیں کہ پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر پیر اور ہر جمعرات کو اعمال پیش کئے جاتے ہیں پس وہ انبیاء علیہ السلام پر اور ماں باپ پر ہر جمعہ کو پیش کئے جاتے ہیں اور اس میں کوئی تعارض نہیں ممکن ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر جمعہ کو بھی پیش ہوتے ہوں اور ہر دن بھی (ٹھیک یہی ہے کہ یہ بات صحت کے ساتھ ثابت نہیں واللہ اعلم۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ اس دن کافر اور رسول کا نافرمان آرزو کرے گا کہ کاش زمین پھٹ جاتی اور یہ اس میں سما جاتا پھر زمین برابر ہو جاتی کیونکہ ناقابل برداشت ہولناکیوں، رسوائیوں اور ڈانٹ ڈپٹ سے گھبرا اٹھے گا، جیسے اور آیت میں ہے «يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا» ۱؎ [78-النبأ:40] جس دن انسان اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال اپنی آنکھوں دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کاش کہ میں مٹی ہو گیا ہوتا۔ پھر فرمایا یہ ان تمام بدافعالیوں کا اس دن اقرار کریں گے جو انہوں نے کی تھیں اور ایک چیز بھی پوشیدہ نہ رکھیں گے۔ ایک شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا ایک جگہ تو قرآن میں ہے کہ مشرکین قیامت کے دن کہیں گے «وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:23] اللہ تعالیٰ کی قسم رب کی قسم ہم نے شرک نہیں کیا اور دوسری جگہ ہے کہ «وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا» ۱؎ [4-النساء:42] اللہ سے ایک بات بھی نہ چھپائیں گے پھر ان دونوں آیتوں کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا اس کا اور وقت ہے اس کا وقت اور ہے اور جب موحدوں کو جنت میں جاتے ہوئے دیکھیں گے تو کہیں گے آؤ تم بھی اپنے شرک کا انکار کرو کیا عجب کام چل جائے۔ پھر ان کے منہ پر مہریں لگ جائیں گی اور ہاتھ پاؤں بولنے لگیں گے اب اللہ تعالیٰ سے ایک بات بھی نہ چھپائیں گے۔ [ابن جریر] مسند عبدالزاق میں ہے کہ اس شخص نے آ کر کہا تھا بہت سی چیزیں مجھ پر قرآن میں مختلف ہوتی، آپ نے فرمایا کیا مطلب تجھے کیا قرآن میں شک ہے؟ اس نے کہا شک تو نہیں ہاں میری سمجھ میں اختلاف نظر آ رہا ہے، آپ نے فرمایا جہاں جہاں اختلاف تجھے نظر آیا ہو ان مقامات کو پیش کر، تو اس نے یہ دو آیتیں پیش کیں کہ ایک سے چھپانا ثابت ہوتا ہے، دوسرے سے نہ چھپانا پایا جاتا ہے، تو آپ نے اسے یہ جواب دے کر دونوں آیتوں کی تطبیق سمجھا دی۔ ایک اور روایت میں سائل کا نام بھی آیا ہے کہ وہ نافع بن ازرق تھے یہ بھی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ شاید تم کسی ایسی مجلس سے آ رہے ہو جہاں ان کا تذکرہ ہو رہا ہو گا یا تم نے کیا ہو گا کہ میں جاتا ہوں اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کرتا ہوں اگر میرا یہ گمان صحیح ہے تو تمہیں لازم ہے کہ جواب سن کر انہیں بھی جا کر سنا دو پھر یہی جواب دیا۔
41۔ 1 ہر امت میں سے اس کا پیغمبر اللہ کی بارگاہ میں گواہی دے گا کہ یا اللہ! ہم نے تو تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچا دیا تھا، اب انہوں نے نہیں مانا تو ہمارا کیا قصور؟ پھر ان سب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے کہ یا اللہ سچے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ گواہی اس قرآن کی وجہ سے دیں گے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور جس میں گزشتہ انبیاء اور ان کی قوموں کی سرگزشت بھی حسب ضرورت بیان کی گئی ہے۔ یہ ایک سخت مقام ہوگا، اس کا تصور ہی لرزہ براندام کردینے والا ہے، حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے قرآن سننے کی خواہش ظاہر فرمائی وہ سناتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس اب کافی ہے، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے آنسو رواں تھے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ گواہی وہی دے سکتا ہے، جو سب کچھ آنکوں سے دیکھے۔ اس لئے وہ ' شہید ' (گواہ) کے معنی ' حاضر ناظر ' کے کرتے ہیں اور یوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ' حاضر ناظر ' باور کراتے ہیں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر ناظر سمجھنا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی صفت میں شریک کرنا ہے، جو شرک ہے، کیونکہ حاضر ناظر صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ شہید کے لفظ سے ان کا استدلال اپنے اندر کوئی قوت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ شہادت یقینی علم کی بنیاد پر بھی ہوتی ہے اور قرآن میں بیان کردہ حقائق و واقعات سے زیادہ یقینی علم کس کا ہوسکتا ہے؟ اسی یقینی علم کی بنیاد پر خود امت محمدیہ کو بھی قرآن نے (شہدآء علی الناس) (تمام کائنات کے لوگوں پر گواہ) کہا ہے۔ اگر گواہی کے لیے حاضر و ناظر ہونا ضروری ہے تو پھر امت محمدیہ کے ہر فرد کو حاضر و ناظر ماننا پڑیگا۔ بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ عقیدہ مشرکانہ اور بےبنیاد ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔
(آیت 41) اوپر کی آیتوں میں قیامت کے دن ظلم کی نفی اور کئی گنا اجر کا وعدہ فرمایا، اب یہاں بیان فرمایا جا رہا ہے کہ اچھا یا برا بدلہ پیغمبروں یا ان لوگوں کی گواہی سے ملے گا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام اپنی مخلوق تک پہنچایا ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۳) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر اور پہلی امتوں پر دین پہنچانے کی گواہی دیں گے۔
اُس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے رسولؐ کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے، تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس روز کافر اور رسول کے نافرمان آرزو کریں گے کہ کاش! انہیں زمین کے ساتھ ہموار کر دیا جاتا اور اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے، اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپاسکیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن کافر اور پیغمبر کے نافرمان تمنا کریں گے کہ کاش وہ زمین کے برابر کر دیئے جاتے۔ اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور رسول کی نا فرمانی کی، چاہیں گے کاش! ان پر زمین برابر کر دی جائے اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بے مثال خریدار؟ ٭٭
باری تعالیٰ رب العالمین فرماتا ہے کہ میں کسی پر ظلم نہیں کرتا، کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا، بلکہ بڑھا چڑھا کر قیامت کے روز اس کا اجر و ثواب عطا فرماؤں گا۔ جیسے فرمایا تھا «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا» ۱؎ [21-الأنبياء:47] ’ ہم عدل کی ترازو رکھیں گے ‘۔ اور فرمایا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا تھا «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ اے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہو گو وہ کسی پتھر میں یا آسمانوں میں ہو یا زمین کے اندر ہو اللہ اسے لا حاضر کرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ باریک بین خریدار ہے ‘۔ اور جگہ فرمایا «يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ» * «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» * «وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ۱؎ [99-الزلزلة:6-8] ’ اس دن لوگ اپنے مختلف احوال پر لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا ‘۔
بخاری و مسلم کی شفاعت کے ذکر والی مطول حدیث میں ہے کہ پھر اللہ فرمائے گا لوٹ کر جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے برابر ایمان دیکھو اسے جہنم سے نکال لاؤ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7439] پس بہت سی مخلوق جہنم سے آزاد ہو گی۔ ابوسعید رحمہ اللہ یہ حدیث بیان فرما کر فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو آیت قرآنی کے اس جملے کو پڑھ لو «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان مروی ہے کہ قیامت کے دن کسی اللہ کے بندے یا بندی کو لایا جائے گا اور ایک پکارنے والا سب اہل محشر کو با آواز بلند سنا کر کہے گا یہ فلاں کا بیٹا یا بیٹی ہے اس کا نام یہ ہے جس کسی کا کوئی حق اس کے ذمہ باقی ہو وہ آئے اور لے جائے اس وقت یہ حالت ہو گی کہ عورت چاہے گی کہ اس کا کوئی حق اس کے باپ پر یا ماں پر یا بھائی پر یا شوہر پر ہو تو دوڑ کر آئے اور لے۔ «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] ’ رشتے ناتے کٹ جائیں گے کوئی کسی کا پر سان حال نہ ہو گا ‘۔ اللہ تعالیٰ اپنا جو حق چاہے معاف فرما دے گا لیکن لوگوں کے حقوق میں سے کوئی حق معاف نہ فرمائے گا اسی طرح جب کوئی حقدار آئے گا تو کہا جائے گا کہ ان کے حق ادا کر یہ کہے گا دنیا تو ختم ہو چکی آج میرے ہاتھ میں کیا ہے جو میں دوں؟ پس اس کے نیک اعمال لیے جائیں گے اور حقداروں کو دئیے جائیں گے اور ہر ایک کا حق اسی طرح ادا کیا جائے گا۔ اب یہ شخص اگر اللہ کا دوست ہے تو اس کے پاس ایک رائی کے دانے برابر نیکی بچ رہے گی جسے بڑھا چڑھا کر صرف اسی کی بنا پر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں لے جائے گا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی اور اگر وہ بندہ اللہ کا دوست نہیں ہے بلکہ بدبخت اور سرکش ہے تو یہ حال ہو گا کہ فرشتہ کہے گا کہ باری تعالیٰ اس کی سب نیکیاں ختم ہو گئیں اور ابھی حقدار باقی رہ گئے حکم ہو گا کہ ان کی برائیاں لے کر اس پر لاد دو پھر اسے جہنم واصل کرو۔ «اعاذنا اللہ منہا» اس موقوف اثر کے بعض شواہد مرفوع احادیث میں بھی موجود ہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ آیت «مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» ۱؎ [6-الأنعام:160] اعراب کے بارے میں اتری ہے اس پر ان سے سوال ہوا کہ پھر مہاجرین کے بارے میں کیا ہے، آپ نے فرمایا: اس سے بہت ہی اچھی آیت «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشرک کے بھی عذابوں میں اس کے باعث کمی کر دی جاتی ہے ہاں جہنم سے نکلے گا تو نہیں، چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کے چچا ابوطالب آپ کے پشت پناہ بنے ہوئے تھے، آپ کو لوگوں کی ایذاؤں سے بچاتے رہتے تھے، آپ کی طرف سے ان سے لڑتے تھے، تو کیا انہیں کچھ نفع بھی پہنچے گا، آپ نے فرمایا ”ہاں وہ بہت تھوڑی سی آگ میں ہے اور اگر میرا یہ تعلق نہ ہوتا تو جہنم کے نیچے کے طبقے میں ہوتا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:209] لیکن یہ بہت ممکن ہے کہ یہ فائدہ صرف ابوطالب کے لیے ہی ہو یعنی اور کفار اس حکم میں نہ ہوں اس لیے کہ مسند طیالسی کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ مومن کی کسی نیکی پر ظلم نہیں کرتا دنیا میں روزی رزق وغیرہ کی صورت میں اس کا بدلہ ملتا رہے گا اور آخرت میں اجر و ثواب کی شکل میں بدلہ ملے گا۔ ہاں کافر تو اپنی نیکی دنیا میں ہی کھا جاتا ہے قیامت کے دن اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہو گی۔۱؎ [صحیح مسلم:2808] «اجر عظیم» سے مراد اس آیت میں جنت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم لطف و رحم سے اپنی رضا مندی عطا فرمائے اور جنت نصیب کرے۔ آمین
مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے خبر ملی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکی کا ثواب دے گا مجھے بڑا تعجب ہوا اور میں نے کہا: ابوہریرہ کی خدمت میں تم سے زیادہ رہا ہوں میں نے تو کبھی آپ سے یہ حدیث نہیں سنی اب میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ جاؤں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مل کر ان سے خود پوچھ آؤں چنانچہ میں نے سامان سفر درست کیا اور اس روایت کی چھان بین کے لیے روانہ ہوا معلوم ہوا کہ وہ تو حج کو گئے ہیں تو میں بھی حج کی نیت سے وہاں پہنچا، ملاقات ہوئی تو میں نے کہا: ابوہریرہ! میں نے سنا آپ نے ایسی حدیث بیان کی ہے؟ کیا یہ سچ ہے؟ آپ نے فرمایا کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے؟ تم نے قرآن میں نہیں پڑھا؟ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص اللہ کو اچھا قرض دے اللہ اسے بہت بہت بڑھا کر عنایت فرماتا ہے اور دوسری آیت میں ساری دنیا کو کم کہا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کی قسم! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک نیکی کو بڑھا کر اس کے بدلے دو لاکھ ملیں گی۔ ۱؎ [مسند احمد:2/521:ضعیف] یہ حدیث اور طریقوں سے بھی مروی ہے۔
پھر قیامت کے دن کی سختی اور ہولناکی بیان فرما رہا ہے کہ اس دن انبیاء علیہ السلام کو بطور گواہ کے پیش کیا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے «وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» ۱؎ [39-الزمر:69] ’ زمین اپنے رب کے نور سے چمکنے لگے گی نامہ اعمال دئیے جائیں گے اور نبیوں اور گواہوں کو لاکھڑا کیا جائے گا ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ» ۱؎ [16-النحل:89] ’ ہر امت پر انہی میں سے ہم گواہ کھڑا کریں گے‘۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے کچھ قرآن پڑھ کر سناؤ“، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپ کو کیا پڑھ کر سناؤں گا، آپ پر تو اترا ہی ہے، فرمایا: ”ہاں لیکن میرا جی چاہتا ہے کہ دوسرے سے سنوں“، پس میں نے سورۃ نساء کی تلاوت شروع کی پڑھتے پڑھتے جب میں نے اس آیت «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلَاءِ شَهِيدًا» ۱؎ [4-النساء:41] کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا بس کرو میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5050] سیدنا محمد بن فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنی ظفر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ایک چٹان پر بیٹھ گئے جو اب تک ان کے محلے میں ہے، آپ کے ساتھ سیدنا ابن مسعود، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، آپ نے ایک قاری سے فرمایا: ”قرآن پڑھو“، پڑھتے پڑھتے جب اس آیت «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلَاءِ شَهِيدًا» ۱؎ [4-النساء:41] تک پہنچا تو آپ اس قدر روئے کہ دونوں رخسار اور داڑھی تر ہو گئی اور عرض کرنے لگے، یا رب! جو موجود ہیں ان پر تو خیر میری گواہی ہو گی لیکن جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہی نہیں ان کی بابت کیسے؟ ۱؎ [مسند احمد:374/1:حسن] [ابن ابی حاتم]
ابن جریر میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں ان پر گواہ ہوں جب تک کہ ان میں ہوں پس جب تو مجھے فوت کرے گا تب تو تو ہی ان پر نگہبان ہے۔ ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:9520:صحیح] ابوعبداللہ قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب تذکرہ میں باب باندھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت پر شہادت کے بارے میں کیا آیا ہے؟ اس میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا یہ قول لائے ہیں کہ ہر دن صبح شام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی امت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں مع ناموں کے پس آپ قیامت کے دن ان سب پر گواہی دیں گے پھر یہی آیت تلاوت فرمائی لیکن اولاً تو یہ سعید رحمہ اللہ کا خود کا قول ہے، دوسرے یہ کہ اس کی سند میں انقطاع ہے، اس میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام ہی نہیں تیسرے یہ حدیث مرفوع کر کے بیان ہی نہیں کرتے۔ ہاں امام قرطبی رحمہ اللہ اسے قبول کرتے ہیں وہ اس کے لانے کے بعد فرماتے ہیں کہ پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر پیر اور ہر جمعرات کو اعمال پیش کئے جاتے ہیں پس وہ انبیاء علیہ السلام پر اور ماں باپ پر ہر جمعہ کو پیش کئے جاتے ہیں اور اس میں کوئی تعارض نہیں ممکن ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر جمعہ کو بھی پیش ہوتے ہوں اور ہر دن بھی (ٹھیک یہی ہے کہ یہ بات صحت کے ساتھ ثابت نہیں واللہ اعلم۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ اس دن کافر اور رسول کا نافرمان آرزو کرے گا کہ کاش زمین پھٹ جاتی اور یہ اس میں سما جاتا پھر زمین برابر ہو جاتی کیونکہ ناقابل برداشت ہولناکیوں، رسوائیوں اور ڈانٹ ڈپٹ سے گھبرا اٹھے گا، جیسے اور آیت میں ہے «يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا» ۱؎ [78-النبأ:40] جس دن انسان اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال اپنی آنکھوں دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کاش کہ میں مٹی ہو گیا ہوتا۔ پھر فرمایا یہ ان تمام بدافعالیوں کا اس دن اقرار کریں گے جو انہوں نے کی تھیں اور ایک چیز بھی پوشیدہ نہ رکھیں گے۔ ایک شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا ایک جگہ تو قرآن میں ہے کہ مشرکین قیامت کے دن کہیں گے «وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:23] اللہ تعالیٰ کی قسم رب کی قسم ہم نے شرک نہیں کیا اور دوسری جگہ ہے کہ «وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا» ۱؎ [4-النساء:42] اللہ سے ایک بات بھی نہ چھپائیں گے پھر ان دونوں آیتوں کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا اس کا اور وقت ہے اس کا وقت اور ہے اور جب موحدوں کو جنت میں جاتے ہوئے دیکھیں گے تو کہیں گے آؤ تم بھی اپنے شرک کا انکار کرو کیا عجب کام چل جائے۔ پھر ان کے منہ پر مہریں لگ جائیں گی اور ہاتھ پاؤں بولنے لگیں گے اب اللہ تعالیٰ سے ایک بات بھی نہ چھپائیں گے۔ [ابن جریر] مسند عبدالزاق میں ہے کہ اس شخص نے آ کر کہا تھا بہت سی چیزیں مجھ پر قرآن میں مختلف ہوتی، آپ نے فرمایا کیا مطلب تجھے کیا قرآن میں شک ہے؟ اس نے کہا شک تو نہیں ہاں میری سمجھ میں اختلاف نظر آ رہا ہے، آپ نے فرمایا جہاں جہاں اختلاف تجھے نظر آیا ہو ان مقامات کو پیش کر، تو اس نے یہ دو آیتیں پیش کیں کہ ایک سے چھپانا ثابت ہوتا ہے، دوسرے سے نہ چھپانا پایا جاتا ہے، تو آپ نے اسے یہ جواب دے کر دونوں آیتوں کی تطبیق سمجھا دی۔ ایک اور روایت میں سائل کا نام بھی آیا ہے کہ وہ نافع بن ازرق تھے یہ بھی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ شاید تم کسی ایسی مجلس سے آ رہے ہو جہاں ان کا تذکرہ ہو رہا ہو گا یا تم نے کیا ہو گا کہ میں جاتا ہوں اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کرتا ہوں اگر میرا یہ گمان صحیح ہے تو تمہیں لازم ہے کہ جواب سن کر انہیں بھی جا کر سنا دو پھر یہی جواب دیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 42) ➊ { يَوْمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} اس سے مقصود کفار کو وعید سنانا ہے جو اس موقع پر آرزو کریں گے کہ کاش! ہم انسان نہ ہوتے بلکہ زمین میں مل کر خاک ہو جاتے۔ دیکھیے سورۂ نبا کی آخری آیت۔ (ابن کثیر) ➋ { وَ لَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا:} کفار کے متعلق قرآن میں یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شرک سے انکار کر دیں گے کہ ہم نے شرک کیا ہی نہیں۔ (انعام: ۲۳) مگر یہ آیت اس کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ وہ پہلے واقعی شرک کرنے سے انکار کریں گے مگر جب ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے (حٰمٓ السجدۃ: ۲۱ تا ۲۳) تو پھر وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپا نہ سکیں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”قیامت کا دن بہت لمبا دن ہے، کسی موقع پر وہ انکار کریں گے اور دوسرے موقع پر اپنے شرک اور بد اعمالی پر افسوس کریں گے۔“ (رازی، ابن کثیر)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ نماز اُس وقت پڑھنی چاہیے، جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو اور اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک کہ غسل نہ کر لو، الا یہ کہ راستہ سے گزرتے ہو اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو، یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے، یا تم نے عورتوں سے لمس کیا ہو، اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو، بے شک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشش فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ، جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو اور جنابت کی حالت میں جب تک کہ غسل نہ کر لو، ہاں اگر راه چلتے گزر جانے والے ہو تو اور بات ہے اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اپنے منھ اور اپنے ہاتھ مل لو۔ بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ، بخشنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بے نہائے مگر مسافری میں اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتو ں کو چھوا اور پانی نہ پایا تو پاک مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو۔ نماز کے قریب مت جاؤ جبکہ نشہ کی حالت میں ہو یہاں تک کہ (نشہ اتر جائے اور) تمہیں معلوم ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ اور نہ ہی جنابت کی حالت میں (نماز کے قریب جاؤ) یہاں تک کہ غسل کر لو۔ الا یہ کہ تم راستے سے گزر رہے ہو (سفر میں ہو)۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کے آئے۔ یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پھر پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ کہ (اس سے) اپنے چہروں اور ہاتھوں کے کچھ حصہ پر مسح کرلو۔ بے شک اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے، بڑا بخشنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نماز کے قریب نہ جائو، اس حال میں کہ تم نشے میں ہو، یہاں تک کہ تم جانو جو کچھ کہتے ہو اور نہ اس حال میں کہ جنبی ہو، مگر راستہ عبور کرنے والے، یہاں تک کہ غسل کر لو۔ اور اگر تم بیمار ہو، یا سفر پر، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو، پھر کوئی پانی نہ پائو تو پاک مٹی کا قصد کرو، پس اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر ملو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے بہت معاف کرنے والا، بے حد بخشنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بتدریج حرمت شراب اور پس منظر ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے روک رہا ہے کیونکہ اس وقت نمازی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور ساتھ ہی محل نماز یعنی مسجد میں آنے سے روکا جا رہا ہے اور ساتھ جنبی شخص جسے نہانے کی حاجت ہو محل نماز یعنی مسجد میں آنے سے روکا جا رہا ہے۔ ہاں ایسا شخص کسی کام کی وجہ سے مسجد کے ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے نکل جائے تو جائز ہے۔ نشے کی حالت میں نماز کی قریب نہ جانے کا حکم شراب کی حرمت سے پہلے تھا، جیسے اس حدیث سے ظاہر ہے جو ہم نے سورۃ البقرہ کی «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ» ۱؎ [2-البقرة:219] کی تفسیر میں بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وہ آیت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تلاوت کی تو آپ نے دعا مانگی کہ اے اللہ! شراب کے بارے میں اور صاف صاف بیان نازل فرما پھر نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جانے کی یہ آیت اتری اس پر نمازوں کے وقت اس کا پینا لوگوں نے چھوڑ دیا۔ اسے سن کر بھی سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے یہی دعا مانگی تو «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» * «إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» ۱؎ [5-المائدة:90-91] تک نازل ہوئی جس میں شراب سے بچنے کا حکم صاف موجود ہے اسے سن کر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم باز آئے۔ اسی روایت کی ایک سند میں ہے کہ جب سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی اور نشے کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت ہوئی اس وقت یہ دستور تھا کہ جب نماز کھڑی ہوتی تو ایک شخص آواز لگاتا کہ کوئی نشہ والا نماز کے قریب نہ آئے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3670،قال الشيخ الألباني: صحیح]
ابن ماجہ شریف میں ہے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئی ہیں، ایک انصاری نے بہت سے لوگوں کی دعوت کی ہم سب نے خوب کھایا پیا پھر شرابیں پیں اور مخمور ہو گئے پھر آپس میں فخر جتانے لگے ایک شخص نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اٹھا کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو ماری جس سے ناک پر زخم آیا اور اس کا نشان باقی رہ گیا اس وقت تک شراب کو اسلام نے حرام نہیں کیا تھا پس یہ آیت نازل ہوئی یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی پوری مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1748] ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے دعوت کی لوگ گئے سب نے کھانا کھایا پھر شراب پی اور مست ہو گئے اتنے میں نماز کا وقت آ گیا ایک شخص کو امام بنایا اس نے نماز میں سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» میں اس طرح پڑھا «ما اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون» اس پر یہ آیت اتری اور نشے کی حالت میں نماز کا پڑھنا منع کیا گیا۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3026،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن جریر کی روایت میں ہے کہ سیدنا علی، سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما اور تیسرے ایک اور صاحب نے شراب پی اور سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نماز میں امام بنائے گئے اور قرآن کی قرأت خلط ملط کر دی اس پر یہ آیت اتری۔ ابوداؤد اور نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3671،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے امامت کی اور جس طرح پڑھنا چاہیئے تھا نہ پڑھ سکے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/9525:صحیح بالشواھد] اور ایک روایت میں مروی ہے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے امامت کرائی اور اس طرح پڑھا «قل ایھا الکافرون اعبدما تعبدما تعبدون وانتم عابدون ما اعبدو انا عابد ما عبدتم ما عبدتم لکم دینکم ولی دین» پس یہ آیت نازل ہوئی اور اس حالت میں نماز پڑھنا حرام کر دیا گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/9527:صحیح بالشواھد] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شراب کی حرمت سے پہلے لوگ نشہ کی حالت میں نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے پس اس آیت سے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا۔ [ابن جریر]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے نازل ہونے کے بعد لوگ اس سے رک گئے پھر شراب کی مطلق حرمت نازل ہونے کے بعد لوگ اس سے بالکل تائب ہو گئے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے شراب کا نشہ مراد نہیں بلکہ نیند کا خمار مراد ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک یہی ہے کہ مراد اس سے شراب کا نشہ ہے اور یہاں خطاب ان سے کیا گیا ہے جو نشہ میں ہیں لیکن اتنے نشہ میں بھی نہیں کہ احکام شرع ان پر جاری ہی نہ ہو سکیں کیونکہ نشے کی ایسی حالت والا شخص مجنون کے حکم میں ہے۔ بہت سے اصولی حضرات کا قول ہے کہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو کلام کو سمجھ سکیں ایسے نشہ والوں کی طرف نہیں جو سمجھتے ہی نہیں کہ ان سے کیا کہا جا رہا ہے اس لیے کہ خطاب کا سمجھنا شرط ہے تکلیف کی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ گو الفاظ یہ ہیں کہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھو لیکن مراد یہ ہے کہ نشے کی چیز کھاؤ پیو بھی نہیں اس لیے کہ دن رات میں پانچ وقت نماز فرض ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ایک شرابی ان پانچویں وقت نمازیں ٹھیک وقت پر ادا کر سکے حالانکہ شراب برابر پی رہا ہے۔ «واللہ اعلم» پس یہ حکم بھی اسی طرح ہو گا جس طرح یہ حکم ہے کہ ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور نہ مرنا تم مگر اس حالت میں کہ تم مسلمان ہو۔ تو اس سے مراد یہ ہے کہ ایسی تیاری ہر وقت رکھو اور ایسے پاکیزہ اعمال ہر وقت کرتے رہو کہ جب تمہیں موت آئے تو اسلام پر دم نکلے یہ جو اس آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ یہاں تک کہ تم معلوم کر سکو جو تم کہہ رہے ہو، یہ نشہ کی حد ہے یعنی نشہ کی حالت میں اس شخص کو سمجھا جائے گا جو اپنی بات نہ سمجھ سکے نشہ والا انسان قرات میں غلط ملط کردے گا اسے سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کا موقعہ نہ ملے گا نہ ہی اسے عاجزی اور خشوع خضوع حاصل ہو سکتا ہے۔ مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب تم میں سے اگر کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو اسے چاہیئے کہ وہ نماز چھوڑ کر سو جائے جب تک کہ وہ جاننے لگے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:213] بخاری اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے اور اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ممکن ہے کہ چاہے تو وہ اپنے لیے استغفار کرے لیکن اس کی زبان سے اس کے خلاف نکلے۔۱؎ [صحیح بخاری:212]
آداب مسجد اور مسائل تیمم ٭٭
پھر فرمان ہے کہ جنبی نماز کے قریب نہ جائے جب تک غسل نہ کر لے ہاں بطور گزر جانے کے مسجد میں گزرنا جائز ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایسی ناپاکی کی حالت میں مسجد میں جانا ناجائز ہے ہاں مسجد کے ایک طرف سے نکل جانے میں کوئی حرج نہیں مسجد میں بیٹھے نہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/382] اور بھی بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے یزید بن ابوحبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض انصار جو مسجد کے گرد رہتے تھے اور جنبی ہوتے تھے گھر میں پانی نہیں ہوتا تھا اور گھر کے دروازے مسجد سے متصل تھے انہیں اجازت مل گئی کہ مسجد سے اسی حالت میں گزر سکتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/381] بخاری شریف کی ایک حدیث سے بھی یہ بات صاف طور پر ثابت ہوتی ہے کہ لوگوں کے گھروں کے دروازے مسجد میں تھے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری مرض الموت میں فرمایا تھا کہ مسجد میں جن جن لوگوں کے دروازے پڑتے ہیں سب کو بند کر دو ابوبکر کا دروازہ رہنے دو۔۱؎ [صحیح بخاری:467] اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کے بعد آپ کے جانشین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں گے تو انہیں ہر وقت اور بکثرت مسجد میں آنے جانے کی ضرورت رہے گی تاکہ مسلمانوں کے اہم امور کا فیصلہ کر سکیں اس لیے آپ نے سب کے دروازے بند کرنے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھلا رکھنے کی ہدایت فرمائی۔ بعض سنن کی اس حدیث میں بجائے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:3732،قال الشيخ الألباني:صحیح] وہ بالکل غلط ہے صحیح یہی ہے جو صحیح میں ہے اس آیت سے اکثر ائمہ نے دلیل پکڑی ہے کہ جنبی شخص کو مسجد میں ٹھہرانا حرام ہے ہاں گزر جانا جائز ہے، اسی طرح حیض و نفاس والی عورتوں کو بھی بعض کہتے ہیں ان دونوں کے گزرنا بھی جائز نہیں ممکن ہے مسجد میں آلودگی ہو اور بعض کہتے اگر اس بات کا خوف نہ ہو انکا گزرنا بھی جائز ہے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ مسجد سے مجھے بوریا اٹھا دو تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حیض سے ہوں آپ نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:298] اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حائضہ مسجد میں آ جا سکتی۔ ہے اور نفاس والی کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ یہ دونوں بطور راستہ چلنے کے جا سکتی ہیں۔ ابو داؤد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ میں حائض اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں کرتا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:232،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام ابومسلم خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کو ایک جماعت نے ضعیف کہا ہے کیونکہ ”افلت“ اس کا راوی مجہول ہے۔ لیکن ابن ماجہ میں یہ روایت ہے اس میں افلت کی جگہ مخدوج ذہلی ہیں۔۱؎ [سنن ابن ماجہ:645،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پہلی حدیث بروایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسری بروایت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہے لیکن ٹھیک نام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہی ہے۔ ایک اور حدیث ترمذی میں ہے جس میں ہے کہ اے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس مسجد میں جنبی ہونا میرے اور تیرے سوا کسی کو حلال نہیں۔۱؎ [سنن ترمذي:3727،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث بالکل ضعیف ہے اور ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی اس میں سالم راوی ہے جو متروک ہے اور ان کے استاد عظیہ بھی ضعیف ہیں۔ واللہ اعلم۔ اس آیت کی تفسیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جنبی شخص بغیر غسل کئے نماز نہیں پڑھ سکتا لیکن اگر وہ مسافر ہو اور پانی نہ ملے تو پانی کے ملنے تک پڑھ سکتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سعید بن جبیر اور ضحاک رحمہ اللہ علیہما سے بھی یہی مروی ہے، مجاہد، حسن، حکم، زید اور عبدالرحمٰن رحمہ اللہ علیہم سے بھی اس کے مثل مروی ہے۔ عبداللہ بن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سنا کرتے تھے کہ یہ آیت سفر کے حکم میں ہے، اس حدیث سے بھی مسئلہ کی شہادت ہو سکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پاک مٹی مسلمان کی طہارت ہے گو دس سال تک پانی نہ ملے اور جب مل جائے تو اسی کو استعمال کرے یہ تیرے لیے بہتر ہے۔“۱؎ [سنن ترمذي:124،قال الشيخ الألباني:صحیح] [سنن اور احمد]
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان دونوں قولوں میں اولیٰ قول ان ہی لوگوں کا ہے جو کہتے ہیں مراد بطور گزر جانے کے کیونکہ جس مسافر کو جنابت کی حالت میں پانی نہ ملے اس کا حکم تو آگے صاف بیان ہوا ہے پس اگر یہی مطلب یہاں بھی لیا جائے تو پھر دوسرے جملہ میں اسے لوٹانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی پس معنی آیت کے اب یہ ہوئے کہ ایمان والو! نماز کے لیے مسجد میں نہ جاؤ جب کہ تم نشے میں ہو جب تک تم اپنی بات کو آپ نہ سمجھنے لگو۔ اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی مسجد میں نہ جاؤ جب تک نہا نہ لو ہاں صرف گزر جانا جائز ہے «عابر» کے معنی آنے جانے یعنی گزر جانے والے ہیں اس کا مصدر «عبراً» اور «عبورًا» آتا ہے جب کوئی نہر سے گزرے تو عرب کہتے ہیں «عبرفلان النھر» فلاں شخص نے نہر کو عبور کر لیا اسی طرح قوی اونٹنی کو جو سفر کاٹتی ہو «عبرالاسفار» کہتے ہیں۔ امام ابن جیریر رحمہ اللہ جس قول کی تائید کرتے ہیں یہی قول جمہور کا ہے اور آیت سے ظاہر بھی یہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس ناقص حالت میں نماز سے منع فرما رہا ہے جو مقصود نماز کے خلاف ہے اسی طرح نماز کی جگہ میں بھی ایسی حالت میں آنے کو روکتا ہے جو اس جگہ کی عظمت اور پاکیزگی کے خلاف ہے۔ «واللہ اعلم» پھر جو فرمایا کہ یہاں تک کہ تم غسل کر لو امام ابوحنیفہ، امام مالک اور شافعی رحمہ اللہ علیہم اسی دلیل کی روشنی میں کہتے ہیں کہ جنبی کو مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے جب تک غسل نہ کر لے یا اگر پانی نہ ملے یا پانی ہو لیکن اس کے استعمال کی قدرت نہ ہو تو تیمم کر لے۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب جنبی نے وضو کر لیا تو اسے مسجد میں ٹھہرنا جائز ہے چنانچہ مسند احمد اور سنن سعید بن منصور میں مروی ہے۔ عطا بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ وہ جنبی ہوتے اور وضو کر کے مسجد میں بیٹھے رہتے۔ «واللہ اعلم»
پھر تیمم کے مواقع بیان فرمائے جس بیماری کی وجہ سے تیمم جائز ہو جاتا ہے وہ وہ بیماری ہے کہ اس وقت پانی کے استعمال سے عضو کے فوت ہو جانے یا اس کے خراب ہو جانے یا مرض کی مدت بڑھ جانے کا خوف ہو۔ بعض علماء نے ہر مرض پر تیمم کی اجازت کا فتویٰ دیا ہے کیونکہ آیت میں عموم ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک انصاری بیمار تھے نہ تو کھڑے ہو کر وضو کر سکتے تھے، نہ ان کا کوئی خادم تھا جو انہیں پانی دے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اس پر یہ حکم اترا یہ روایت مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:3/5365:مرسل و ضعیف] دوسری حالت میں تیمم کے جواز کی وجہ سفر ہے خواہ لمبا سفر اور خواہ چھوٹا۔ «غائط» نرم زمین کو یہاں سے کنایہ کیا گیا ہے پاخانہ پیشاب سے۔ «لَامَسْتُمُ» کی دوسری قرأت «لمَسْتُمُ» ہے اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک یہ کہ مراد جماع ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ» ۱؎ [2-البقرة:237] یعنی اگر تم اپنی بیویوں کو مجامعت سے پہلے طلاق دو اور ان کا مہر مقرر ہو تو جو مقرر ہے اس کا آدھا دو اور آیت میں ہے، اے ایمان والو! جب تم ایمان والی عورتوں سے نکاح کرو پھر مجامعت سے پہلے انہیں طلاق دے دو تو ان کے ذمہ عدت نہیں، یہاں بھی لفظ «مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ» ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ» سے مراد مجامعت ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/392] سیدنا علی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما مجاہد، طاؤس، حسن، عبید بن عمیر، سعید بن جبیر، شعبی، قتادہ، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/392] سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ اس لفظ پر مذاکرہ ہوا تو چند موالی نے کہا یہ جماع نہیں اور چند عرب نے کہا جماع ہے، میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا آپ نے پوچھا تم کن کے ساتھ تھے میں نے کہا موالی کے فرمایا موالی مغلوب ہو گئے لمس اور مس اور مباشرت کا معنی جماع ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں کنایہ کیا ہے۔
بعض اور حضرات نے اس سے مراد مطلق چھونا لیا ہے۔ خواہ جسم کے کسی حصہ کو عورت کے کسی حصہ سے ملایا جائے تو وضو کرنا پڑے گا۔ «لمس» سے مراد چھونا ہے اور اس سے بھی وضو واجب ہو جاتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «لمس» جماع کے ہم معنی نہیں، آپ فرماتے ہیں بوسہ بھی «لمس» میں داخل ہے اور اس سے بھی وضو کرنا پڑے گا فرماتے ہیں مباشرت سے ہاتھ لگانے سے بوسہ لینے سے وضو کرنا پڑے گا۔ «لمس» سے مراد چھونا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی عورت کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کے قائل تھے اور اسے «لمس» میں داخل جانتے تھے۔ عبیدہ، ابوعثمان، ثابت، ابراہیم، زید رحمہ اللہ علیہم بھی کہتے ہیں کہ «لمس» سے مراد جماع کے علاوہ ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انسان کا اپنی بیوی کا بوسہ لینا اور اسے ہاتھ لگانا ملامست ہے اس سے وضو کرنا پڑے گا۔ ۱؎ [موطا:64] دارقطنی میں خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے لیکن دوسری روایت آپ سے اس کے خلاف بھی پائی جاتی ہے آپ باوضو تھے،آپ نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا پھر وضو نہ کیا اور نماز ادا کی۔ پس دونوں روایتوں کو صحیح ماننے کے بعد یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ آپ وضو کو مستحب جانتے تھے واللہ اعلم۔
مطلق چھونے سے وضو کے قائل امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے ساتھی امام مالک رحمہ اللہ ہیں اور مشہور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت ہے۔ اس قول کے قائل کہتے ہیں کہ یہاں دو قرأتیں ہیں «لَامَسْتُمُ» اور «لمَسْتُمُ» اور لمس کا اطلاق ہاتھ لگانے پر بھی قرآن کریم میں آیا ہے چنانچہ ارشاد ہے «وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَيْدِيْهِمْ لَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [6-الأنعام:7] ظاہر ہے کہ یہاں ہاتھ لگانا ہی مراد ہے۔ اسی طرح سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ شاید تم نے بوسہ لیا ہو گا ہاتھ لگایا ہو گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6844] وہاں بھی لفظ «لَمَسْتُ» ہے۔ اور صرف ہاتھ لگانے کے معنی میں ہی اور حدیث میں ہے «والیدز ناھا اللمس» ہاتھ کا ”زنا“ چھونا اور ہاتھ لگانا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:8/238:صحیح] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں بہت کم دن ایسے گزرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آ کر بوسہ نہ لیتے ہوں اور ہاتھ نہ لگاتے ہوں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2135،قال الشيخ الألباني:صحیح] بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامست سے منع فرمایا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2144] یہ بھی ہاتھ لگانے کے بیع ہے پس یہ لفظ جس طرح جماع پر بولا جاتا ہے، ہاتھ سے چھونے پر بھی بولا جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے «ولمست کفی کفہ اطلب الغنی» میرا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملا تو میں تونگری چاہتا تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ اے اللہ کے رسول! اس شخص کے بارے میں کیا فیصلہ ہے جو ایک اجنبی عورت کے ساتھ تمام وہ کام کرتا ہے جو میاں بیوی میں ہوتے ہیں سوائے جماع کے تو «وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ» ۱؎ [11-هود:114] نازل ہوتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وضو کر کے نماز ادا کر لے“، اس پر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے یا سب مسلمانوں کے لیے عام ہے آپ جواب دیتے ہیں تمام ایمان والوں کے لیے ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:3113،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام ترمذی رحمہ اللہ اسے زائدہ کی حدیث سے روایت کر کے فرماتے ہیں اس کی سند متصل نہیں۔ امام نسائی رحمہ اللہ اسے مرسلاً روایت کرتے ہیں الغرض اس قول کے قائل اس حدیث سے یہ کہتے ہیں کہ اسے وضو کا حکم اسی لیے دیا تھا کہ اس نے عورت کو چھوا تھا جماع نہیں کیا تھا۔ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اولاً تو یہ منقطع ہے ابن ابی لیلیٰ اور معاذ کے درمیان ملاقات کا ثبوت نہیں دوسرے یہ کہ ہو سکتا ہے اسے وضو کا حکم فرض نماز کی ادائیگی کے لیے دیا ہو جیسے کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے کہ جو بندہ کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ یہ پوری حدیث سورۃ آل عمران میں «ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ» ۱؎ [3-آل عمران:135] کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان دونوں قولوں میں سے اولیٰ قول ان کا ہے جو کہتے ہیں کہ مراد اس سے جماع نہ کہ اور کیونکہ صحیح مرفوع حدیث میں آ چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کا بوسہ لیا اور بغیر وضو کئے نماز پڑھی، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9634] ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے بوسہ لیتے پھر بغیر وضو کیے نماز پڑھتے۔
حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیتے نماز کو جاتے، میں نے کہا وہ آپ ہی ہوں گی تو آپ مسکرا دیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:86،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کی سند میں کلام ہے لیکن دوسری سندوں سے ثابت ہے کہ اوپر کے راوی یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سننے والے سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ { وضو کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لیا اور پھر وضو کیے بغیر نماز ادا کی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:178،قال الشيخ الألباني:صحیح] { ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے، پھر نہ تو روزہ جاتا، نہ نیا وضو کرتے }۔ ۱؎ [الطبری:9638:ضعیف] [ابن جریر] { سیدہ زینت بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لینے کے بعد وضو نہ کرتے اور نماز پڑھتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:62/6:ضعیف]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، اس سے اکثر فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ پانی نہ پانے والے کے لیے تیمم کی اجازت پانی کی تلاش کے بعد ہے۔ کتب فروع میں تلاش کی کیفیت بھی لکھی ہے بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ الگ تھلگ ہے اور لوگوں کے ساتھ اس نے نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی تو آپ نے اس سے پوچھا: ”تو نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھی؟ کیا تو مسلمان نہیں؟“، اس نے کہا: یا رسول اللہ! ہوں تو مسلمان لیکن جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس صورت میں تجھے مٹی کافی ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:348] «تیمم» کے لفظی معنی قصد کرنے کے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «تیممک اللہ بحفظہ» یعنی اللہ اپنی حفاظت کے ساتھ تیرا قصد کرے، امراء القیس کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔ «صعید» کے معنی میں کہا گیا ہے کہ ہر وہ چیز جو زمین میں سے اوپر کو چڑھے پس اس میں مٹی، ریت، درخت، پتھر، گھاس بھی داخل ہو جائیں گے۔ امام مالک رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور کہا گیا ہے کہ جو چیز مٹی کی جنس سے ہو جیسے ریت ہڑتال اور چونا یہ مذہب ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ صرف مٹی ہے مگر یہ قول ہے امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہما اور ان کے تمام ساتھیوں کا ہے اس کی دلیل ایک تو قرآن کریم کے یہ الفاظ ہیں «فَتُصْبِحَ صَعِيْدًا زَلَقًا» ۱؎ [18-الكهف:40] یعنی ہو جائے وہ مٹی پھسلتی۔
دوسری دلیل صحیح مسلم شریف کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں تمام لوگوں پر تین فضیلتیں دی گئی ہیں، ہماری صفیں مثل فرشتوں کی صفوں کی ہیں، ہمارے لیے تمام زمین مسجد بنائی گئی اور زمین کی مٹی ہمارے لیے پاک اور پاک کرنے والی بنائی گئی جبکہ ہم پانی نہ پائیں۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:522] اور ایک سند سے بجائے «تربت» کے «تراب» کا لفظ مروی ہے۔ پس اس حدیث میں احسان کے جتاتے وقت مٹی کی تخصیص کی گئی، اگر کوئی اور چیز بھی وضو کے قائم مقام کام آنے والی ہوتی تو اس کا ذکر بھی ساتھ ہی کر دیتے۔ یہاں یہ لفظ «طیب» اسی کے معنی میں آیا ہے۔ مراد حلال ہے اور کہا گیا ہے کہ مراد پاک ہے، جیسے حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پاک مٹی مسلمانوں کا وضو ہے گو دس سال تک پانی نہ پائے،، پھر جب پانی ملے تو اسے اپنے جسم سے بہائے یہ اس کے لیے بہتر ہے“، ۱؎ [سنن ترمذي:124،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہ
43۔ 1 یہ حکم اس وقت دیا گیا کہ ابھی شراب کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی۔ چناچہ ایک دعوت میں شراب نوشی کے بعد جب نماز لئے کھڑے ہوئے تو نشے میں قرآن کے الفاظ بھی امام صاحب غلط پڑھ گئے (تفصیل کے لئے دیکھئے ترمذی، تفسیر سورة النساء) جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نشے کی حالت میں نماز مت پڑھا کرو۔ گویا اسوقت صرف نماز کے وقت کے قریب شراب نوشی سے منع کیا گیا۔ بالکل ممانعت اور حرمت کا حکم اس کے بعد نازل ہوا۔ (یہ شراب کی بابت دوسرا حکم ہے جو مشروطہ ہے) 43۔ 2 یعنی ناپاکی کی حالت میں بھی نماز مت پڑھو۔ کیونکہ نماز کے لئے طہارت بہت ضروری ہے۔ 43۔ 3 اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسافری کی حالت میں اگر پانی نہ ملے تو جنابت کی حالت میں ہی نماز پڑھ لو (جیسا کہ بعض نے کہا ہے) بلکہ جمہور علماء کے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ جنابت کی حالت میں تم مسجد کے اندر مت بیٹھو، البتہ مسجد کے اندر سے گزرنے کی ضرورت پڑے تو گزر سکتے ہو بعض صحابہ کے مکان اس طرح تھے کہ انہیں ہر صورت میں مسجد نبوی کے اندر سے گزر کر جانا پڑتا تھا۔ یہ رخصت ان ہی کے پیش نظر دی گئی ہے (ابن کثیر) ورنہ مسافر کا حکم آگے آرہا ہے۔ 43۔ 4 (1) بیمار سے مراد وہ بیمار جسے وضو کرنے سے نقصان یا بیماری میں اضافے کا اندیشہ ہو، (2) مسافر عام ہے لمبا سفر کیا ہو یا مختصر۔ اگر پانی دستیاب نہ ہو تو تیمم کرنے کی اجازت ہے۔ پانی نہ ملنے کی صورت میں یہ اجازت مقیم کو بھی حاصل ہے۔ لیکن بیمار اور مسافر کو چونکہ اس قسم کی ضرورت عام طرر پر پیش آتی تھی اس لیے بطور خاص ان کے لیے اجازت بیان کردی گئی ہے (3) قضائے حاجت سے آنے والا (4) اور بیوی سے مباشرت کرنے والا ان کو بھی پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کرکے نماز پڑھنے کی اجازت ہے تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ ایک ہی مرتبہ ہاتھ زمین پر مار کر کلائی تک دونوں ہاتھ ایک دوسرے پر پھیرلے۔ (کہنیوں تک ضروری نہیں) اور منہ پر بھی پھیر لے قال فی التیمم: (ضربۃ للوجہ والکفین) (مسند احمد۔ عمار ؓ جلد 4 حفحہ 263) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کے بارے میں فرمایا کہ یہ دونوں ہتھیلیوں اور چہرے کے لیے ایک ہی مرتبہ مارنا ہے (صعیدا طیبا) سے مراد پاک مٹی ہے۔ زمین سے نکلنے والی ہر چیز نہیں جیسا کہ بعض کا خیال ہے حدیث میں اس کی مذید وضاحت کردی گئی ہے (جعلت ترب تھا لنا طھورا اذا لم نجد الماء) (صحیح مسلم۔ کتاب المساجد) جب ہمیں پانی نہ ملے تو زمین کی مٹی ہمارے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنادی گئی ہے۔
(آیت 43) ➊ {لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى …:} شراب کی مذمت اور قباحت کے سلسلے میں سب سے پہلے سورۂ بقرہ کی آیت (۲۱۹) نازل ہوئی، جس میں شراب اور جوئے کے گناہ کو ان کے نفع سے بڑا قرار دیا، اس پر بہت سے مسلمانوں نے شراب چھوڑ دی، تاہم بعض بدستور پیتے رہے کہ ہم اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ہمارے لیے کھانا پکایا، پھر ہمیں بلایا اور ہمیں شراب پلائی، شراب نے ہمیں مدہوش کر دیا، اتنے میں نماز کا وقت آ گیا اور انھوں نے مجھے امام بنا دیا، میں نے پڑھا: {”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُوْنَ لاَ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ، وَ نَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ“} ”کہہ دے اے کافرو! میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم کرتے ہو اور ہم اس کی عبادت کرتے ہیں جس کی تم عبادت کرتے ہو۔“ (ظاہر ہے اس سے آیت کے معنی کچھ سے کچھ ہو گئے) تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «{ لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى }» [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ النساء: ۳۰۲۶ و قال حسن صحیح غریب ] اس پر لوگوں نے نماز کے اوقات میں شراب ترک کر دی، یہاں تک کہ سورۂ مائدہ کی آیات (۹۰، ۹۱) نازل ہوئیں، جس سے شراب قطعی طور پر حرام کر دی گئی۔ (ابن کثیر) بعض علماء نے یہاں { ”وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى“ } (جمع سکران) سے نیند کا غلبہ مراد لیا ہے اور اس کے مناسب صحیح بخاری کی وہ حدیث ذکر کی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند کی حالت میں نماز سے منع فرمایا کہ معلوم نہیں کیا پڑھے اور کیا نہ پڑھے، مگر صحیح یہ ہے کہ اس سے شراب کا نشہ مراد ہے اور یہی جمہور صحابہ و تابعین کا قول ہے، نیز تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ یہ آیت شراب نوشی سے متعلق نازل ہوئی۔ ➋ { وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ:} بعض مفسرین نے اس سے مراد سفر لیا ہے مگر سفر کا ذکر { ”اَوْ عَلٰى سَفَرٍ“ } آگے آ رہا ہے اس تفسیر کی بنا پر سفر کے ذکر میں تکرار لازم آتا ہے، اس لیے اکثر سلف نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ { ”الصَّلٰوةَ“ } سے مراد نماز کی جگہ یعنی مسجد ہے، مطلب یہ ہے کہ جنابت کی حالت میں {” الصَّلٰوةَ “} یعنی نماز کی جگہوں (مسجدوں) میں نہ جاؤ۔ ہاں، اگر مسجد سے گزرنا پڑے تو مجبوری کی صورت میں گزر سکتے ہو (ٹھہر نہیں سکتے)۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے راجح قرار دیا ہے، پس یہاں مضاف محذوف ہے، یعنی { ”لَا تَقْرَبُوْا مَوَاضِعَ الصَّلاَةِ“ } (طبری) اور یہی جمہور علماء کا مسلک ہے کہ جنبی یا حائضہ کے لیے مسجد سے گزرنا جائز ہے، ٹھہرنا جائز نہیں، کیونکہ بہت سے صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف کھلتے تھے، ان کے لیے غسل کر کے گزرنا مشکل تھا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مگر آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دریچے کے سوا مسجد میں کھلنے والے تمام دریچے بند کروا دیے۔ [ بخاری، الصلاۃ، باب الخوخۃ …: ۴۶۷، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ] بعض لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھلا رکھنے کی روایت بھی بیان کی ہے، مگر اہل علم نے اسے ضعیف کہا ہے۔ (ابن کثیر) خلاصہ یہ کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جنبی مسجد سے گزر سکتا ہے، ٹھہر نہیں سکتا۔ گویا آیت کے دو حصے ہیں، پہلے حصے: «{ لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى }» اس میں { ”الصَّلٰوةَ“ } سے مراد نماز ہی ہے کہ نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ اور دوسرے حصے: «{ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا }» میں { ”لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ“ } سے مراد نماز کی جگہ ہے، یعنی اس جنبی ہونے کی حالت میں مسجد کے قریب نہ جاؤ، الا یہ کہ راستہ عبور کر کے گزر جانے والے ہو۔ (طنطاوی) ➌ { وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ …: } سفر سے مراد مطلق سفر ہے، اکثر علماء کے نزدیک تیمم کے جواز کے لیے اتنے سفر کی کوئی شرط نہیں جس میں نماز قصر پڑھی جا سکتی ہے۔ ” یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو“ کے تحت ہر وہ چیز آ جاتی ہے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ عورتوں کو چھونے یا مباشرت سے مراد (راجح مسلک کی بنا پر) جماع ہے، ورنہ صرف چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ میں گھر میں لیٹی ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز پڑھتے تو سجدہ کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے میرے پاؤں سامنے سے ہٹا دیتے۔ [ بخاری، الصلوۃ، باب التطوع خلف المرأۃ: ۵۱۳، ۵۱۴۔ مسلم: ۴۸۶ ] { ”اَوْ عَلٰى سَفَرٍ“ } کا مقصد ہے کہ سفر میں پینے کے لیے تو پانی ہے مگر وضو یا غسل کے لیے نہیں۔ بیماری کا مطلب یہ ہے کہ پانی کے استعمال سے بیمار ہونے یا بیماری بڑھنے کا خطرہ ہے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ایک سرد رات میں احتلام ہوگیا، انھوں نے تیمم کر لیا اور یہ آیت پڑھی: «{ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا }» [النساء: ۲۹ ] ” اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر ہمیشہ سے بے حد مہربان ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔ [ بخاری، التیمم، باب إذا خاف الجنب علی نفسہ المرض…، قبل ح: ۳۴۵، تعلیقاً ] ➍ { فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً:} پانی نہ پانے میں یہ صورت بھی شامل ہے کہ پانی میسر ہی نہ ہو اور یہ بھی کہ بیماری یا عذر کی بنا پر پانی استعمال نہ کیا جا سکے۔ ➎ {فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا …:} تیمم کا معنی ہے قصد کرنا۔ { ”صَعِيْدًا طَيِّبًا“ } سے مراد پاک مٹی ہے، خواہ کپڑے، کاغذ یا کسی جگہ کی گرد سے حاصل ہو جائے۔ اس کی تائید صحیح مسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں تین باتوں میں لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے، جن میں سے ایک یہ ہے: [ وَ جُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُوْرًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ] ”جب ہمیں پانی نہ ملے تو زمین کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے والی بنا دی گئی ہے۔“ [ مسلم، المساجد، باب المساجد ومواضع الصلٰوۃ: ۵۲۲ ] تیمم خواہ وضو کے لیے ہو یا غسل کے لیے، دونوں کا ایک ہی طریقہ ہے، صرف نیت مختلف ہو گی۔ عمار بن یاسر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ ایک جہادی سفر میں انھیں احتلام ہو گیا تو انھوں نے زمین پر لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمھیں اتنا ہی کافی تھا۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک مار کر انھیں اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں پر مل لیا۔ [ بخاری، التیمم، باب المتیمم ھل ینفخ فیھما؟: ۳۳۸ ] اس سے معلوم ہوا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا تیمم کا طریقہ یہی ہے کہ صرف ایک دفعہ زمین پر ہاتھ مار کر اس میں پھونک مار کر چہرے اور ہتھیلیوں پر مل لیا جائے۔ بعض احادیث میں دو دفعہ زمین پر ہاتھ مارنے کا اور کہنیوں تک ملنے کا ذکر ہے، مگر وہ احادیث یا تو صحابہ کا اجتہاد ہیں یا کمزور ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ترین حدیث وہی ہے جو عمار بن یاسر رضی اللہ عنھما سے آئی ہے۔
تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے؟ وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کر دو
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا؟ جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے، وه گمراہی خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راه سے بھٹک جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کو کتاب سے ایک حصہ ملا گمراہی مول لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو کتاب (الٰہی) کا کچھ حصہ دیا گیا کہ وہ گمراہی خرید رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی سیدھے راستے سے بہک جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا، وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم راستے سے بھٹک جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کی ایک مذموم خصلت ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یہودیوں کی ایک مذموم خصلت یہ بھی ہے کہ وہ گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دیتے ہیں، نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کتاب نازل ہوئی اس سے بھی روگردانی کرتے ہیں اور اللہ کا دیا ہوا جو علم ان کے پاس ہے اسے بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں خود اپنی کتابوں میں نبی موعود علیہ السلام کی بشارتیں پڑھتے ہیں۔ لیکن اپنے مریدوں سے چڑھاوا لینے کے لالچ میں ظاہر نہیں کرتے بلکہ ساتھ ہی یہ چاہتے ہیں کہ خود مسلمان بھی راہ راست سے بھٹک جائیں اللہ کی کتاب کے مخالف ہو جائیں ہدایت کو اور سچے علم کو چھوڑ دیں، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں سے خوب با خبر ہے وہ تمہیں ان سے مطلع کر رہا ہے کہ کہیں تم ان کے دھوکے میں نہ آ جاؤ۔ اللہ کی حمایت کافی ہے تم یقین رکھو کہ وہ اپنی طرف جھکنے والوں کی ضرور حمایت کرتا ہے وہ اس کا مددگار بن جاتا ہے۔ تیسری آیت جو لفظ «مِّنَ» سے شروع ہوئی ہے اس میں «مِّنَ» بیان جنس کے لیے ہے جیسے «فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ» ۱؎ [22-الحج:30] میں پھر یہودیوں کے اس فرقے کی جس تحریف کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ کلام اللہ کے مطلب کو بدل دیتے ہیں اور خلاف منشائے الٰہی تفسیر کرتے ہیں اور ان کا یہ فعل جان بوجھ کر ہوتا ہے قصداً افترا پردازی کے مرتکب ہوتے ہیں۔
پھر کہتے ہیں کہ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم جو آپ نے کہا ہم نے سنا لیکن ہم ماننے کے نہیں خیال کیجئے ان کے کفر و الحاد کو دیکھئیے کہ جان کر سن کر سمجھ کر کھلے لفظوں میں اپنے ناپاک خیال کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں آپ سنئے اللہ کرے آپ نہ سنیں۔ یا یہ مطلب کہ آپ سنئے آپ کی نہ سنی جائے لیکن پہلا مطلب زیادہ اچھا ہے۔ یہ کہنا ان کا بطور تمسخر اور مذاق کے تھا اور اللہ انہیں لعنت کرے علاوہ ازیں راعنا کہتے جس سے بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں ہماری طرف کان لگائے لیکن وہ اس لفظ سے مراد یہ لیتے تھے کہ تم بڑی رعونت والے ہو۔ اس کا پورا مطلب «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ» ۱؎ [2-البقرة:104] کی تفسیر میں گزر چکا ہے، مقصد یہ ہے کہ جو ظاہر کرتے تھے اس کے خلاف اپنی زبانوں کو موڑ کر طعن آمیز لہجہ میں کہتے اور حقیقی مفہوم میں اپنے دل میں مخفی رکھتے تھے دراصل یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بےادبی اور گستاخی کرتے تھے پس انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان دو معنی والے الفاظ کا استعمال چھوڑ دیں اور صاف صاف کہیں کہ ہم نے سنا اور مانا، آپ ہماری عرض سنئے! آپ ہماری طرف دیکھئیے! یہ کہنا ہی ان کے لیے بہتر ہے اور یہی صاف سیدھی سچی اور مناسب بات ہے لیکن ان کے دل بھلائی سے دور ڈال دیئے گئے ہیں ایمان کامل طور سے ان کے دلوں میں جگہ ہی نہیں پاتا، اس جملے «فلا يؤمنون إلا قليلا» کی تفسیر بھی پہلے «فَقَلِيلًا مَّا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [2-البقرة:88] میں گزر چکی ہے مطلب یہ ہے کہ نفع دینے والا ایمان ان میں نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 45،44) ➊ { اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا:} اس سے پہلے «{ وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔا }» میں مشرکین کے طرزِ عمل سے متنبہ کرنے کے بعد درمیان میں ضرورت کے کچھ مسائل، مثلاً شراب، نماز اور تیمم وغیرہ ذکر کرنے کے بعد یہود کے فریب اور ان کی دشمنی کا ذکر تفصیل سے شروع ہو گیا ہے۔ یہود کو تیمم میں بھی مسلمانوں سے حسد تھا۔ اسی حسد کی بنا پر وہ خود مسلمان ہونے کے بجائے چاہتے تھے کہ مسلمان بھی کافر ہو جائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ }» [ البقرۃ: ۱۰۹ ] ”بہت سے اہل کتاب چاہتے ہیں کہ کاش! وہ تمھیں تمھارے ایمان کے بعد پھر کافر بنا دیں، اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے۔“ ➋ { اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ:} یعنی انھیں کتاب کا کچھ حصہ ہی ملا ہے، باقی ضائع کر بیٹھے ہیں اور یہ بھی مراد ہے کہ جو حصہ ملا ہے اس کے الفاظ ملے ہیں، عمل کا حصہ عطا نہیں ہوا اور یہ بھی کہ تورات میں انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کی نبوت تو معلوم کر لی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت معلوم نہ کر سکے۔
اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور تمہاری حمایت و مدد گاری کے لیے اللہ ہی کافی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو خوب جاننے واﻻ ہے اور اللہ تعالیٰ کا دوست ہونا کافی ہے اور اللہ تعالیٰ کا مددگار ہونا بس ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو اور اللہ کافی ہے والی اور اللہ کافی ہے مددگار،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور اللہ تمہاری کارسازی و سرپرستی اور مددگاری کے لیے کافی ہے
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ تمھارے دشمنوں کو زیادہ جاننے والا ہے اور اللہ کافی دوست ہے اور اللہ کافی مددگار ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کی ایک مذموم خصلت ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یہودیوں کی ایک مذموم خصلت یہ بھی ہے کہ وہ گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دیتے ہیں، نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کتاب نازل ہوئی اس سے بھی روگردانی کرتے ہیں اور اللہ کا دیا ہوا جو علم ان کے پاس ہے اسے بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں خود اپنی کتابوں میں نبی موعود علیہ السلام کی بشارتیں پڑھتے ہیں۔ لیکن اپنے مریدوں سے چڑھاوا لینے کے لالچ میں ظاہر نہیں کرتے بلکہ ساتھ ہی یہ چاہتے ہیں کہ خود مسلمان بھی راہ راست سے بھٹک جائیں اللہ کی کتاب کے مخالف ہو جائیں ہدایت کو اور سچے علم کو چھوڑ دیں، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں سے خوب با خبر ہے وہ تمہیں ان سے مطلع کر رہا ہے کہ کہیں تم ان کے دھوکے میں نہ آ جاؤ۔ اللہ کی حمایت کافی ہے تم یقین رکھو کہ وہ اپنی طرف جھکنے والوں کی ضرور حمایت کرتا ہے وہ اس کا مددگار بن جاتا ہے۔ تیسری آیت جو لفظ «مِّنَ» سے شروع ہوئی ہے اس میں «مِّنَ» بیان جنس کے لیے ہے جیسے «فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ» ۱؎ [22-الحج:30] میں پھر یہودیوں کے اس فرقے کی جس تحریف کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ کلام اللہ کے مطلب کو بدل دیتے ہیں اور خلاف منشائے الٰہی تفسیر کرتے ہیں اور ان کا یہ فعل جان بوجھ کر ہوتا ہے قصداً افترا پردازی کے مرتکب ہوتے ہیں۔
پھر کہتے ہیں کہ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم جو آپ نے کہا ہم نے سنا لیکن ہم ماننے کے نہیں خیال کیجئے ان کے کفر و الحاد کو دیکھئیے کہ جان کر سن کر سمجھ کر کھلے لفظوں میں اپنے ناپاک خیال کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں آپ سنئے اللہ کرے آپ نہ سنیں۔ یا یہ مطلب کہ آپ سنئے آپ کی نہ سنی جائے لیکن پہلا مطلب زیادہ اچھا ہے۔ یہ کہنا ان کا بطور تمسخر اور مذاق کے تھا اور اللہ انہیں لعنت کرے علاوہ ازیں راعنا کہتے جس سے بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں ہماری طرف کان لگائے لیکن وہ اس لفظ سے مراد یہ لیتے تھے کہ تم بڑی رعونت والے ہو۔ اس کا پورا مطلب «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ» ۱؎ [2-البقرة:104] کی تفسیر میں گزر چکا ہے، مقصد یہ ہے کہ جو ظاہر کرتے تھے اس کے خلاف اپنی زبانوں کو موڑ کر طعن آمیز لہجہ میں کہتے اور حقیقی مفہوم میں اپنے دل میں مخفی رکھتے تھے دراصل یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بےادبی اور گستاخی کرتے تھے پس انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان دو معنی والے الفاظ کا استعمال چھوڑ دیں اور صاف صاف کہیں کہ ہم نے سنا اور مانا، آپ ہماری عرض سنئے! آپ ہماری طرف دیکھئیے! یہ کہنا ہی ان کے لیے بہتر ہے اور یہی صاف سیدھی سچی اور مناسب بات ہے لیکن ان کے دل بھلائی سے دور ڈال دیئے گئے ہیں ایمان کامل طور سے ان کے دلوں میں جگہ ہی نہیں پاتا، اس جملے «فلا يؤمنون إلا قليلا» کی تفسیر بھی پہلے «فَقَلِيلًا مَّا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [2-البقرة:88] میں گزر چکی ہے مطلب یہ ہے کہ نفع دینے والا ایمان ان میں نہیں۔
جو لوگ یہودی بن گئے ہیں اُن میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو اُن کے محل سے پھیر دیتے ہیں اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں سَمِعنَا وَ عَصَینَا اور اِسمَع غَیر مُسمَع اور رَاعِنَا حالانکہ اگر وہ کہتے سَمِعنَا وَ اَطَعنَا، اور اِسمَع اور اُنظُرنَا تو یہ انہی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راستبازی کا طریقہ تھا مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بعض یہود کلمات کو ان کی ٹھیک جگہ سے ہیر پھیر کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور سن اس کے بغیر کہ تو سنا جائے اور ہماری رعایت کر! (لیکن اس کے کہنے میں) اپنی زبان کو پیچ دیتے ہیں اور دین میں طعنہ دیتے ہیں اور اگر یہ لوگ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے فرمانبرداری کی اور آپ سنئےاور ہمیں دیکھیئے تو یہ ان کے لئے بہت بہتر اور نہایت ہی مناسب تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے انہیں لعنت کی ہے۔ پس یہ بہت ہی کم ایمان ﻻتے ہیں،
احمد رضا خان بریلوی
کچھ یہودی کلاموں کو ان کی جگہ سے پھیرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور سنیئے آپ سنائے نہ جائیں اور راعنا کہتے ہیں زبانیں پھیر کر اور دین میں طعنہ کے لئے اور اگر وہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا اور حضور ہماری بات سنیں اور حضور ہم پر نظر فرمائیں تو ان کے لئے بھلائی اور راستی میں زیادہ ہوتا لیکن ان پر تو اللہ نے لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو یقین نہیں رکھتے مگر تھوڑا
علامہ محمد حسین نجفی
یہودیوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کلموں کو ان کے موقع و محل سے پھیر دیتے ہیں اور زبانوں کو توڑ موڑ کر اور دین پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’سمعنا و عصینا‘‘ (ہم نے سنا مگر مانا نہیں) اور ’’اسمع غیر مسمع‘‘ (اور سنو تمہاری بات نہ سنی جائے) اور ’’راعنا‘‘ (ہمارا لحاظ کرو)۔ اگر وہ اس کی بجائے یوں کہتے ’’سمعنا و اطعنا‘‘ (ہم نے سنا اور مانا) اور ‘‘اسمع‘‘ (اور سنیئے) ‘‘وانظرنا‘‘ (اور ہماری طرف دیکھئے) تو یہ ان کے لئے بہتر اور زیادہ درست ہوتا۔ مگر اللہ نے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کی ہے (اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے) اس لئے وہ بہت کم ایمان لائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں سَمِعْنَاوَعَصَیْنَا(ہم نے سنا اور نہیں مانا) اور اِسْمَعْ غَیْرَمُسْمَعٍ(سن اس حال میں کہ تجھے نہ سنایا جائے) اوررَاعِنَا(ہماری رعایت کر) (یہ الفاظ) اپنی زبانوں کو پیچ دیتے ہوئے اور دین میں طعن کرتے ہوئے (کہتے ہیں) اور اگروہ سَمِعْنَاوَاَطَعْنَا(ہم نے سنا اور مانا) اور اِسْمَعْ وَانْظُرْنَا (سن اور ہماری طرف دیکھ)کہتے تو یقینا ان کے لیے بہتر اور زیادہ درست ہوتا اور لیکن اللہ نے ان پر ان کے کفر کی وجہ سے لعنت کی، پس وہ ایمان نہیں لاتے مگر بہت کم۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کی ایک مذموم خصلت ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یہودیوں کی ایک مذموم خصلت یہ بھی ہے کہ وہ گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دیتے ہیں، نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کتاب نازل ہوئی اس سے بھی روگردانی کرتے ہیں اور اللہ کا دیا ہوا جو علم ان کے پاس ہے اسے بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں خود اپنی کتابوں میں نبی موعود علیہ السلام کی بشارتیں پڑھتے ہیں۔ لیکن اپنے مریدوں سے چڑھاوا لینے کے لالچ میں ظاہر نہیں کرتے بلکہ ساتھ ہی یہ چاہتے ہیں کہ خود مسلمان بھی راہ راست سے بھٹک جائیں اللہ کی کتاب کے مخالف ہو جائیں ہدایت کو اور سچے علم کو چھوڑ دیں، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں سے خوب با خبر ہے وہ تمہیں ان سے مطلع کر رہا ہے کہ کہیں تم ان کے دھوکے میں نہ آ جاؤ۔ اللہ کی حمایت کافی ہے تم یقین رکھو کہ وہ اپنی طرف جھکنے والوں کی ضرور حمایت کرتا ہے وہ اس کا مددگار بن جاتا ہے۔ تیسری آیت جو لفظ «مِّنَ» سے شروع ہوئی ہے اس میں «مِّنَ» بیان جنس کے لیے ہے جیسے «فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ» ۱؎ [22-الحج:30] میں پھر یہودیوں کے اس فرقے کی جس تحریف کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ کلام اللہ کے مطلب کو بدل دیتے ہیں اور خلاف منشائے الٰہی تفسیر کرتے ہیں اور ان کا یہ فعل جان بوجھ کر ہوتا ہے قصداً افترا پردازی کے مرتکب ہوتے ہیں۔
پھر کہتے ہیں کہ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم جو آپ نے کہا ہم نے سنا لیکن ہم ماننے کے نہیں خیال کیجئے ان کے کفر و الحاد کو دیکھئیے کہ جان کر سن کر سمجھ کر کھلے لفظوں میں اپنے ناپاک خیال کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں آپ سنئے اللہ کرے آپ نہ سنیں۔ یا یہ مطلب کہ آپ سنئے آپ کی نہ سنی جائے لیکن پہلا مطلب زیادہ اچھا ہے۔ یہ کہنا ان کا بطور تمسخر اور مذاق کے تھا اور اللہ انہیں لعنت کرے علاوہ ازیں راعنا کہتے جس سے بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں ہماری طرف کان لگائے لیکن وہ اس لفظ سے مراد یہ لیتے تھے کہ تم بڑی رعونت والے ہو۔ اس کا پورا مطلب «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ» ۱؎ [2-البقرة:104] کی تفسیر میں گزر چکا ہے، مقصد یہ ہے کہ جو ظاہر کرتے تھے اس کے خلاف اپنی زبانوں کو موڑ کر طعن آمیز لہجہ میں کہتے اور حقیقی مفہوم میں اپنے دل میں مخفی رکھتے تھے دراصل یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بےادبی اور گستاخی کرتے تھے پس انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان دو معنی والے الفاظ کا استعمال چھوڑ دیں اور صاف صاف کہیں کہ ہم نے سنا اور مانا، آپ ہماری عرض سنئے! آپ ہماری طرف دیکھئیے! یہ کہنا ہی ان کے لیے بہتر ہے اور یہی صاف سیدھی سچی اور مناسب بات ہے لیکن ان کے دل بھلائی سے دور ڈال دیئے گئے ہیں ایمان کامل طور سے ان کے دلوں میں جگہ ہی نہیں پاتا، اس جملے «فلا يؤمنون إلا قليلا» کی تفسیر بھی پہلے «فَقَلِيلًا مَّا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [2-البقرة:88] میں گزر چکی ہے مطلب یہ ہے کہ نفع دینے والا ایمان ان میں نہیں۔
46۔ 1 یہودیوں کی خباثتوں اور شرارتوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ' ہم نے سنا ' کے ساتھ ہی کہہ دیتے لیکن ہم نافرمانی کریں گے یعنی اطاعت نہیں کریں گے۔ یہ دل میں کہتے یا اپنے ساتھیوں سے کہتے یا شوخ جسارت کا ارتکاب کرتے ہوئے منہ پر کہتے اسی طرح غیر مُسْمَعٍ (تیری بات نہ سنی جائے) یہ بد دعا کے طور پر کہتے۔ یعنی تیری بات قبول نہ ہو۔ راعنا۔ کی بابت دیکھئے سورة البقرہ آیت 14۔ کا حاشیہ۔ 46۔ 2 یعنی ایمان لانے والے بہت ہی قلیل ہیں پہلے گزر چکا ہے کہ یہود میں سے ایمان لانے والوں کی تعداد دس تک بھی نہیں پہنچی۔ یا یہ معنی ہیں کہ بہت ہی کم باتوں پر ایمان لاتے۔ جب کہ ایمان نافع یہ ہے کہ سب باتوں پر ایمان لایا جائے۔
(آیت 46) ➊ { مِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ …:} اوپر کی آیت میں فرمایا کہ وہ گمراہی مول لیتے ہیں، اب اس آیت میں چند امور کے ساتھ اس گمراہی کی تشریح فرمائی۔ یعنی وہ تورات کے احکام میں تحریف کرتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۳، 41)۔سورۂ مائدہ میں { ”عَنْ مَّوَاضِعِهٖ“ } کے علاوہ { ”مِنْ بَعْدِمَّوَاضِعِهٖ“ } بھی ہے، جس کا معنی تحریف لفظی ہے، یہاں { ”عَنْ مَّوَاضِعِهٖ“ } ہے، اس سے مراد تحریف معنوی ہے، یعنی تاویلات فاسدہ سے کام لیتے ہیں، مثلاً قصۂ ذبیح کا تعلق اسماعیل علیہ السلام کے بجائے اسحاق علیہ السلام کے ساتھ جوڑنا۔ (رازی، شوکانی) ہمارے زمانے میں بھی تمام بدعتیوں کا شیوہ ہو گیا ہے کہ جو آیت یا حدیث امام، مجتہد یا پیرو مرشد کے قول کے خلاف نظر آتی ہے، اس کی تاویل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے حیا نہیں کرتے کہ پیرو مرشد اور امام و مجتہد تو معصوم نہ تھے، بخلاف پیغمبر کے کہ خطا سے ان کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ فرماتا تھا۔ (وحیدی) ➋ { لَيًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ: ”لَيًّۢا“ } یہ {” لَوَي يَلْوِيْ لَيًّا “} سے ہے، بمعنی توڑنا مروڑنا، یعنی زبان کو توڑ مروڑ کر { ”رَاعِيْنَا“ } کہتے، جو توہین کا کلمہ ہے۔ دیکھیے بقرہ (۱۰۴) ان کی ایک گمراہی یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حکم سنتے ہیں تو ظاہر میں {” سَمِعْنَا “} کہتے ہیں (یعنی ہم نے سنا) مگر ساتھ ہی بے حد عداوت کی وجہ سے {”عَصَيْنَا“ } (نہیں مانا) بھی کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرتے تو کہتے {” اسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ “} (سنو، تمھیں کوئی نہ سنائے) ظاہر میں یہ نیک دعا ہے کہ تم ہمیشہ غالب رہو، کوئی تمھیں بری بات نہ سنا سکے اور دل میں نیت رکھتے کہ تو بہرا ہو جائے، سن نہ سکے، ایسی شرارت کرتے۔ (رازی، ابن کثیر) ➌ { وَ طَعْنًا فِي الدِّيْنِ:} یعنی یہ سب حرکتیں کر رہے ہیں اور پھر دین میں طعن کی غرض سے کہتے ہیں کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو ہمارا فریب معلوم کر لیتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے خبث باطن کو ظاہر فرما دیا اور وہی طعن الٹا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے سچا ہونے کی پختہ دلیل بن گیا۔ (رازی) ➍ { وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا …:} یعنی یہ اگر اس قسم کی حرکات اور طعن کے بجائے ایسے کلمات استعمال کرتے جن میں شرارت کی آمیزش نہیں ہو سکتی اور اخلاص سے پیش آتے، مثلاً { ”عَصَيْنَا“ } کے بجائے { ”اَطَعْنَا“ } اور { ”غَيْرَ مُسْمَعٍ“ } کے بجائے صرف { ”اسْمَعْ“ } اور { ”رَاعِنَا“ } کے بجائے { ”انْظُرْنَا“ } تو ان کے حق میں بہتر ہوتا، مگر افسوس کہ یہ بہت ہی تھوڑے احکام پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس {”قَلِيْلًا“} یہاں مصدر محذوف { ”إِيْمَانًا“ } کی صفت ہے اور یہ معنی بھی ہے کہ ان میں سے بہت ہی کم لوگ ایمان لاتے ہیں، حتیٰ کہ یہودیوں میں سے دس بھی بمشکل ایمان لائے ہوں گے۔
اے وہ لوگو جنہیں کتاب دی گئی تھی! مان لو اُس کتاب کو جو ہم نے اب نازل کی ہے اور جو اُس کتاب کی تصدیق و تائید کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی اس پر ایمان لے آؤ قبل اس کے کہ ہم چہر ے بگاڑ کر پیچھے پھیر دیں یا ان کو اسی طرح لعنت زدہ کر دیں جس طرح سبت والوں کے ساتھ ہم نے کیا تھا، اور یاد رکھو کہ اللہ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے اہل کتاب! جو کچھ ہم نے نازل فرمایا ہے جو اس کی بھی تصدیق کرنے واﻻ ہے جو تمہارے پاس ہے، اس پر ایمان لاؤ اس سے پہلے کہ ہم چہرے بگاڑ دیں اور انہیں لوٹا کر پیٹھ کی طرف کر دیں، یا ان پر لعنت بھیجیں جیسے ہم نے ہفتے کے دن والوں پر لعنت کی ہے، اور اللہ تعالیٰ کا کام کیا گیا
احمد رضا خان بریلوی
اے کتاب والو! ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے اتارا تمہارے ساتھ والی کتاب کی تصدیق فرماتا قبل اس کے کہ ہم بگاڑ دیں کچھ مونہوں کو تو انہیں پھیر دیں ان کی پیٹھ کی طرف یا انہیں لعنت کریں جیسی لعنت کی ہفتہ والوں پر اور خدا کا حکم ہوکر رہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے اہل کتاب اس (قرآن) پر (ایمان لاؤ) اس سے پہلے کہ ہم کچھ چہروں کو بگاڑ دیں اور انہیں ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہم نے ہفتہ کے دن والوں پر لعنت کی تھی اور اللہ کا حکم نافذ ہوکر رہتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جنھیں کتاب دی گئی ہے! اس پر ایمان لائو جو ہم نے نازل کیا ہے، اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمھارے پاس ہے، اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو مٹا دیں، پھر انھیں ان کی پیٹھوں پر پھیر دیں، یا ان پر لعنت کریں، جس طرح ہم نے ہفتے کے دن والوں پر لعنت کی تھی اور اللہ کا حکم ہمیشہ (پورا) کیا ہوا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم کا اعجاز تاثیر ٭٭
اللہ عزوجل یہود و نصاریٰ کو حکم دیتا ہے کہ میں نے اپنی زبردست کتاب اپنے بہترین نبی کے ساتھ نازل فرمائی ہے جس میں خود تمہاری اپنی کتاب کی تصدیق بھی ہے اس پر ایمان لاؤ اس سے پہلے کہ ہم تمہاری صورتیں مسخ کر دیں یعنی منہ بگاڑ کر دیں آنکھیں بجائے ادھر کے ادھر ہو جائیں، یا یہ مطلب کہ تمہارے چہرے مٹادیں آنکھیں کان ناک سب مٹ جائیں پھر یہ مسخ چہرہ بھی الٹا ہو جائے۔ یہ عذاب ان کے کرتوت کا پورا بدلہ ہے یہ بھی حق سے ہٹ کر باطل کی طرف ہدایت سے پھر کر ضلالت کی جانب بڑھے جا رہے ہیں تو اللہ بھی انہیں دھمکاتا ہے کہ میں بھی اسی طرح تمہارا منہ الٹ دوں گا تاکہ تمہیں پچھلے پیروں چلنا پڑے تمہاری آنکھیں گدی کی طرف کر دوں اور اسی جیسی تفسیر بعض نے «إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا» ۱؎ [36-يس:8-9] کی آیت میں بھی کی ہے غرض یہ ان کی گمراہی اور ہدایت سے دور پڑ جانے کی بری مثال بیان ہوئی ہے، مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہیں سچ مچ حق کے راستے سے ہٹا دیں اور گمراہی کی طرف متوجہ کر دیں، ہم تمہیں کافر بنا دیں اور تمہارے چہرے بندروں جیسے کر دیں، ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوٹا دینا یہ تھا کہ ارض حجاز سے بلاد شام میں پہنچا دیا۔ یہ بھی مذکور ہے کہ اسی آیت کو سن کر سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ مشرف بااسلام ہوئے تھے۔
ابن جریر میں ہے کہ ابراہیم رحمہ اللہ کے سامنے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے اسلام کا تذکرہ ہوا تو آپ نے فرمایا سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسلمان ہوئے یہ بیت المقدس جاتے ہوئے مدینہ میں آئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور فرمایا اے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ مسلمان ہو جاؤ انہوں نے جواب دیا تم تو قرآن میں پڑھ چکے ہو کہ جنہیں توراۃ کا حامل بنایا گیا انہوں نے اسے کما حقہ قبول نہ کیا۔ ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بوجھ لادے ہوئے ہو اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ میں بھی ان لوگوں میں سے ہوں جو توراۃ اٹھوائے گئے اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا۔ یہ یہاں سے چل کر حمص پہنچے وہاں سنا کہ ایک شخص جو ان کے گھرانے میں سے تھا اس آیت کی تلاوت کر رہا ہے جب اس نے آیت ختم کی انہیں ڈر لگنے لگا کہ کہیں سچ مچ اس آیت کی وعید مجھ پر صادق نہ آ جائے اور میرا منہ مسخ کر پلٹ نہ جائے یہ جھٹ سے کہنے لگے «یَارَبِّ اَسْلَمْتُ» میرے اللہ میں ایمان لایا۔ پھر حمص سے ہی واپس اپنے وطن یمن میں آئے اور یہاں سے اپنے تمام گھر والوں کو لے کر سارے کنبے سمیت مسلمان ہو گئے۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:446/8:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے اسلام کا واقعہ اس طرح مروی ہے کہ ان کے استاد ابو مسلم جلیلی ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے میں دیر لگانے کی وجہ سے ہر وقت انہیں ملامت کرتے رہتے تھے پھر انہیں بھیجا کہ دیکھیں کہ آپ وہی پیغمبر ہیں جن کی خوشخبری اور اوصاف توراۃ میں ہیں؟ یہ آئے تو فرماتے ہیں جب میں مدینہ شریف پہنچا تو نا گہاں میں سنا کہ ایک شخص قرآن کریم کی اس آیت کی تلاوت کر رہا تھا کہ اے اہل کتاب ہماری نازل کردہ کتاب تمہارے پاس موجود کتاب کی تصدیق کرتی ہے بہتر ہے کہ اس پر اس سے پہلے ایمان لاؤ کہ ہم تمہارے منہ بگاڑ دیں اور انہیں الٹا کر دیں۔ میں چونک اٹھا اور جلدی جلدی غسل کرنے بیٹھ گیا اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا جاتا تھا کہ کہیں مجھے ایمان لانے میں دیر نہ لگ جائے اور میرا چہرہ الٹا نہ ہو جائے۔ پھر میں بہت جلد آ کر مسلمان ہو گیا، ۱؎ [میزان الاعتدال:6465:ضعیف] اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یا ہم ان پر لعنت کریں جیسے کہ ہفتہ والوں پر ہم نے لعنت نازل کی یعنی جن لوگوں نے ہفتہ والے دن حیلے کرکے لیے شکار کھیلا حالانکہ انہیں اس کام سے منع کیا گیا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بندر اور سور بنا دئیے گئے ان کا مفصل واقعہ سورۃ الاعراف میں آئے گا انشا اللہ تعالیٰ ارشاد ہوتا ہے اللہ کے کام پورے ہو کر ہی رہتے ہیں وہ جب کوئی حکم کر دے تو کوئی نہیں جو اس کی مخالفت یا ممانعت کر سکے۔
47۔ 1 یعنی اگر اللہ چاہے تو تمہیں تمہارے کرتوتوں کی پاداش میں یہ سزا دے سکتا ہے۔ 47۔ 2 یہ قصہ سورة اعراف میں آئے گا، کچھ اشارہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ یعنی تم بھی ان کی طرح ملعون قرار پاسکتے ہو۔ 47۔ 3 یعنی جب وہ کسی بات کا حکم کر دے تو نہ کوئی اس کی مخالفت کرسکتا ہے اور نہ اسے روک ہی سکتا ہے۔
(آیت 47) { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ …:} یہود کی شرارتوں کو بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں انھیں ایمان کی دعوت دی اور ہٹ دھرمی سے احکام خداوندی بجا نہ لانے پر وعید سنائی، کیونکہ یہود عالم تھے اور علم و معرفت کے باوجود ہٹ دھرمی سے کام لے رہے تھے۔ (رازی) اس وعید کا تعلق یا تو قیامت کے دن سے ہے، یا دنیا میں چہروں کو مسخ کر دینا مراد ہے اور اصحاب سبت جیسی لعنت سے مراد یہ ہے کہ جس طرح ان کو بندر اور خنزیر بنا دیا تھا، تمھیں بھی ویسا ہی بنا دیا جائے۔ اصحاب سبت کے قصہ کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۶۳)۔ اس وقت یہودی ہوں یا نصرانی یا مسلمان سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں، کلمہ پڑھنے والے امت اجابت، یعنی قبول کر لینے والے ہیں اور دوسرے امت دعوت، یعنی جو آپ کی دعوت کے مخاطب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: [ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ مَسْخٌ وَ خَسْفٌ وَ قَذْفٌ ] [ ابن ماجہ، الفتن، باب الخسوف: ۴۰۵۹، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ۔ صحیح الجامع للألبانی: ۲۸۵۶ ] ”قیامت سے پہلے شکلوں کے بدل جانے، زمین میں دھنس جانا اور پتھروں کی بارش کے واقعات رونما ہوں گے۔“ اور سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ سَيَكُوْنُ فِيْ آخِرِ الزَّمَانِ خَسْفٌ وَ قَذْفٌ وَ مَسْخٌ، قِيْلَ وَ مَتٰي ذٰلِكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ إِذَا ظَهَرَتِ الْمَعَازِفُ وَالْقَيْنَاتُ وَاسْتُحِلَّتِ الْخَمْرُ ] [ المعجم الکبیر: ۶؍۱۵۰، ح: ۵۸۱۰۔ صحیح الجامع للألبانی: ۳۶۶۵ ] ” آخر زمانے میں زمین میں دھنسنا، پتھروں کی بارش اور شکلوں کا بدل جانا واقع ہو گا۔“ پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول! یہ کب ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـ: ”جب باجے گاجے اور گانے والیاں عام ہو جائیں گی اور شراب حلال کر لی جائے گی۔“ اب بھی اہل کتاب اور ان کی روش پر چلنے والے مسلمانوں کو ان عذابوں سے ڈر کر توبہ کرنی چاہیے۔
اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا، اِس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھیرایا اُس نے تو بہت ہی بڑا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا،
علامہ محمد حسین نجفی
یقینا اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا (ہر گناہ) جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جس نے کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرایا اس نے بہت بڑے گناہ کے ساتھ بہتان باندھا۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور وہ بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا اور جو اللہ کا شریک بنائے تو یقینا اس نے بہت بڑا گناہ گھڑا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گناہوں کی تین دیوان ٭٭
پھر خبر دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کئے جانے کے گناہ کو نہیں بخشتا، یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ مشرک ہو اس پر بخشش کے دروازے بند ہیں۔ اس جرم کے سوا اور گناہوں کو خواہ وہ کیسے ہی ہوں جس کو چاہے بخش دیتا ہے اس آیت کریمہ کے متعلق بہت سی حدیثیں ہیں ہم یہاں بقدر آسانی ذکر کرتے ہیں۔ پہلی حدیث بحوالہ مسند احمد۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک گناہوں کے تین دیوان ہیں، ایک تو وہ جس کی اللہ تعالیٰ کچھ پرواہ نہیں کرتا دوسرا وہ جس میں سے اللہ تعالیٰ کچھ نہیں چھوڑتا۔ تیسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ ہرگز نہیں بخشتا۔ پس جسے وہ بخشتا نہیں وہ شرک ہے اللہ عزوجل خود فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو معاف نہیں فرماتا اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّـهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» ۱؎ [5-المائدة:72] ’ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کر لے، اللہ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے۔ ‘ اور جس دیوان میں اللہ کے ہاں کوئی وقعت نہیں وہ بندے کا اپنی جان پر ظلم کرنا ہے اور جس کا تعلق اس سے اور اللہ کی ذات سے ہے مثلاً کسی دن کا روزہ جسے اس نے چھوڑ دیا یا نماز چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے اور جس دیوان (اعمالنامہ) کی اللہ تعالیٰ کوئی چیز ترک نہیں کرتا وہ بندوں کے آپس میں مظالم ہیں جن کا بدلہ اور قصاص ضروری ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:240/6،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
دوسری حدیث بحوالہ مسند بزار۔ ۱؎ [مسند بزار:3439،قال الشيخ الألباني:حسن] الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مطلب وہی ہے۔ تیسری حدیث بحوالہ مسند احمد ’ ممکن ہے اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو بخش دے مگر وہ شخص جو کفر کی حالت میں مرا دوسرا وہ جس نے ایماندار کو جان بوجھ کر قتل کیا۔ ‘ ۱؎ [سنن نسائی:3446،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] چوتھی حدیث بحوالہ مسند احمد۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے میرے بندے تو جب تک میری عبادت کرتا رہے گا اور مجھ سے نیک امید رکھے گا میں بھی تیری جتنی خطائیں ہیں انہیں معاف فرماتا رہوں گا میرے بندے اگر تو ساری زمین بھر کی خطائیں بھی لے کر میرے پاس آئے گا تو میں بھی زمین کی وسعتوں جتنی مغفرت کے ساتھ تجھ سے ملوں گا بشرطیکہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو۔ ‘ ۱؎ [مسند احمد:154/5،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پانچویں حدیث بحوالہ مسند احمد۔ { جو بندہ «لا الہ الا اللہ» کہے پھر اسی پر اس کا انتقال ہو وہ ضرور جنت میں جائے گا یہ سن کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ اگر اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو آپ نے فرمایا گو اس نے زناکاری اور چوری بھی کی ہو تین مرتبہ یہی سوال جواب ہوا۔ چوتھے سوال پر آپ نے فرمایا چاہے ابوذر کی ناک خاک آلود ہو، پس سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ وہاں سے اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے نکلے کہ چاہے ابوذر کی ناک خاک آلود ہو اور اس کے بعد جب کبھی آپ یہ حدیث بیان فرماتے یہ جملہ ضروری کہتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5827]
یہ حدیث دوسری سند سے قدرے زیادتی کے ساتھ بھی مروی ہے، { اس میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے میدان میں چلا جا رہا تھا احد کی طرف ہماری نگاہیں تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر!“، میں نے کہا: لبیک، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! میرے پاس اس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو میں نہ چاہوں گا کہ تیسری شام کو اس میں سے کچھ بھی باقی رہ جائے بجز اس دینار کے جسے میں قرضہ چکا نے کے لیے رکھ لوں باقی تمام مال میں اس طرح راہ للہ اس کے بندوں کو دے ڈالوں گا اور آپ نے دائیں بائیں اور سامنے لپیں پھینکیں۔“ پھر کچھ دیر ہم چلتے رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا اور فرمایا: ”جن کے پاس یہاں زیادتی ہے وہی وہاں کمی والے ہوں گے مگر جو اس طرح کرے اور اس طرح کرے“، یعنی آپ نے اپنے دائیں بائیں اور سامنے لپیں (ہتھیلیاں) بھر کر دیتے ہوئے اس عمل کی وضاحت کی۔ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا: ”ابوذر! میں ابھی آتا ہوں تم یہیں ٹھہرو“، آپ تشریف لے گئے اور میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے اور مجھے آوازیں سنائی دینے لگیں دل بےچین ہو گیا کہ کہیں تنہائی میں کوئی دشمن آ گیا ہو میں نے قصد کیا کہ وہاں پہنچوں لیکن ساتھ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آ گیا کہ میں جب تک نہ آؤں تم یہیں ٹھہرے رہنا۔ چنانچہ میں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ آپ تشریف لے آئے تو میں نے کہا یا رسول اللہ! یہ آوازیں کیسی آ رہی تھیں آپ نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے تھے اور فرما رہے تھے کہ آپ کی امت میں سے وفات پانے والا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے تو وہ جنت میں جائے گا“، میں نے کہا گو زنا اور چوری بھی اس سے سرزد ہوئی ہو تو فرمایا: ”ہاں گو زنا اور چوری بھی ہوئی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6268]
یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رات کے وقت نکلا دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف لے جا رہے ہیں تو مجھے خیال ہوا کہ شاید اس وقت آپ کسی کو ساتھ لے جانا نہیں چاہتے تو میں چاند کی چاندنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیا۔ آپ نے جب مڑ کر مجھے دیکھا تو پوچھا: ”کون ہے؟“ میں نے کہا: ابوذر، اللہ مجھے آپ پر سے قربان کر دے۔ تو آپ نے فرمایا: ”آؤ میرے ساتھ چلو“ تھوڑی دیر ہم چلتے رہے پھر آپ نے فرمایا: ”زیادتی والے ہی قیامت کے دن کمی والے ہوں گے مگر وہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیا پھر وہ دائیں بائیں آگے پیچھے نیک کاموں میں خرچ کرتے رہے“ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد آپ نے مجھے ایک جگہ بٹھا کر جس کے اردگرد پتھر تھے فرمایا: ”میری واپس تک یہیں بیٹھے رہو“ پھر آپ آگے نکل گئے یہاں تک کہ میری نظر سے پوشیدہ ہو گئے آپ کو زیادہ دیر لگ گئی پھر میں نے دیکھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیں اور زبان مبارک سے فرماتے آ رہے ہیں گو زنا کیا ہو یا چوری کی ہو جب میرے پاس پہنچے تو میں رک نہ سکا پوچھا کہ یا رسول اللہ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے اس میدان کے کنارے آپ کس سے باتیں کر رہے تھے میں نے سنا کوئی آپ کو جواب بھی دے رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے یہاں میرے پاس آئے اور فرمایا اپنی امت کو خوشخبری سنا دو کہ جو مرے اور اللہ کے ساتھ اس نے کسی کو شریک نہ کیا وہ جنتی ہو گا، میں نے کہا: اے جبرائیل گو اس نے چوری کی ہو اور زنا کیا ہو“، فرمایا: ہاں میں نے پھر یہی سوال کیا جواب دیا ہاں میں نے پھر یہی فرمایا ہاں اور اگرچہ اس نے شراب پی ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6443]
چھٹی حدیث بحوالہ مسند عبد بن حمید { ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: یا رسول اللہ! جنت واجب کر دینے والی چیزیں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بغیر شرک کئے مرا اس کے لیے جنت واجب ہے اور جو شرک کرتے ہوئے مرا اس کے لیے جہنم واجب ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:93] یہی حدیث اور طریق سے مروی ہے جس میں ہے کہ { جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہوا مرا اس کے لیے بخشش حلال ہے اگر اللہ چاہے اسے عذاب کرے اگر چاہے بخش دے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے کو نہیں بخشتا اس کے سوا جسے چاہے بخش دے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5425/3] اور سند سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے پر مغفرت ہمیشہ رہتی ہے جب تک کہ پردے نہ پڑ جائیں“ دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! پردے پڑ جانا کیا ہے؟ فرمایا: ”شرک، جو شخص شرک نہ کرتا ہو اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے اس کے لیے بخشش الٰہی حلال ہو گئی اگر چاہیئے عذاب کرے اگر چاہے بخش دے۔“ پھر آپ نے «إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ» ۱؎ [4-النساء:48] تلاوت فرمائی } ۱؎ [مسند ابو یعلیٰ:303/2] ساتویں حدیث بحوالہ مسند احمد، { جو شخص مرے اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:79/3]
آٹھویں حدیث بحوالہ مسند احمد { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور فرمایا: ”تمہارے رب عزوجل نے مجھے اختیار دیا کہ میری امت میں سے ستر ہزار کا بے حساب جنت میں جانا پسند کر لوں یا اللہ تعالیٰ کے پاس جو چیز میرے لیے میری امت کی بابت پوشیدہ محفوظ ہے اسے قبول کر لوں“، تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ آپ کے لیے یہ محفوظ چیز بچا کر بھی رکھے گا؟ آپ یہ سن کر اندر تشریف لے گئے پھر تکبیر پڑھتے ہوئے باہر آئے اور فرمانے لگے ”میرے رب نے مجھے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار کو جنت عطا کرنا مزید عطا فرمایا اور وہ پوشیدہ حصہ بھی۔“ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ جب یہ حدیث بیان فرما چکے تو سیدنا ابورہم رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ وہ پوشیدہ محفوظ چیز کیا ہے؟ اس پر لوگوں نے انہیں کچھ کچھ کہنا شروع کر دیا کہ کہاں تم اور کہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اختیار کردہ چیز؟ سیدنا ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سنو جہاں تک ہمارا گمان ہے جو بالکل یقین کے قریب ہے یہ ہے کہ وہ چیز جنت میں جانا ہے ہر اس شخص کا جو سچے دل سے گواہی دے کہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:413/5]
نویں حدیث بحوالہ ابن ابی حاتم { ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ! میرا بھتیجا حرام سے باز نہیں آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی دینداری کیسی ہے“، کہا نمازی ہے اور توحید والا ہے، آپ نے فرمایا: ”جاؤ اور اس سے اس کا دین بطور سبہ کے طلب کرو اگر انکار کرے تو اس سے خرید لو“، اس نے جا کر اس سے طلب کیا تو اس نے انکار کر دیا اس نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ نے فرمایا: ”میں نے اسے اپنے دین پر چمٹا ہوا پایا“، اس پر «إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ» ۱؎ [4-النساء:48] نازل ہوئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5424/3:ضعیف]
دسویں حدیث بحوالہ حافظ یعلیٰ { ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ! میں نے کوئی حاجت یا حاجت والا نہیں چھوڑا یعنی زندگی میں سب کچھ کر چکا آپ نے فرمایا: ”کیا تو یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“، تین مرتبہ اس نے کہا: ہاں آپ نے فرمایا: ”یہ ان سب پر غالب آ جائے گا“ }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:3433:صحیح] گیارہویں حدیث بحوالہ مسند احمد { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ضمضم بن جوش یمامی رحمہ اللہ سے کہا کہ اے یمامی! کسی شخص سے ہرگز یہ نہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ تجھے نہیں بخشے گا یا تجھے جنت میں داخل نہ کرے گا، یمامی رحمہ اللہ نے کہا یہ بات تو ہم لوگ اپنے بھائیوں اور دوستوں سے بھی غصے غصے میں کہہ جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: خبردار، ہرگز نہ کہنا سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں دو شخص تھے ایک تو عبادت میں بہت چست چالاک اور دوسرا اپنی جان پر زیادتی کرنے والا اور دونوں میں دوستانہ اور بھائی چارہ تھا عابد بسا اوقات اس دوسرے کو کسی نہ کسی گناہ میں دیکھتا رہتا تھا اور کہتا رہتا تھا اے شخص باز رہ وہ جواب دیتا تو مجھے میرے رب پر چھوڑ دے کیا تو مجھ پر نگہبان بنا کر بھیجا گیا ہے؟ ایک مرتبہ عابد نے دیکھا کہ وہ پھر کسی گناہ کے کام کو کر رہا ہے جو گناہ اسے بہت بڑا معلوم ہوا تو کہا افسوس تجھ پر باز آ اس نے وہی جواب دیا تو عابد نے کہا اللہ کی قسم اللہ تجھے ہرگز نہ بخشے گا یا جنت نے دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس فرشتہ بھیجا جس نے ان کی روحیں قبض کر لیں جب دونوں اللہ تعالیٰ کے ہاں جمع ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس گنہگار سے فرمایا جا اور میری رحمت کی بنا پر جنت میں داخل ہو جا اور اس عابد سے فرمایا کیا تجھے حقیقی علم تھا؟ کیا تو میری چیز پر قادر تھا؟ اسے جہنم کی طرف لے جاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے اس نے ایک کلمہ زبان سے ایسا نکال دیا جس نے اس کی دنیا اور آخرت برباد کر دی“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4901،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بارہویں حدیث بحوالہ طبرانی { جس نے اس بات کا یقین کر لیا کہ میں گناہوں کی بخشش پر قادر ہوں تو میں اسے بخش ہی دیتا ہوں اور کوئی پرواہ نہیں کرتا جب تک کہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرالے }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11615/11:ضعیف]
تیرہویں حدیث بحوالہ بزار، ابو یعلیٰ { جس عمل پر اللہ تعالیٰ نے ثواب کا وعدہ کیا ہے اسے تو مالک ضرور پورا فرمائے گا اور جس پر سزا کا فرمایا ہے وہ اس کے اختیار میں ہے چاہے بخش دے یا سزا دے }۔ ۱؎ [مسند ابویعلی:3316:ضعیف] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم صحابہ رضی اللہ عنہم قاتل کے بارے میں اور یتیم کا مال کھا جانے والے کے بارے میں اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے والے کے بارے میں اور جھوٹی گواہی دینے والے کے بارے میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ «إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ» ۱؎ [4-النساء:48] اتری اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم گواہی سے رک گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9737:ضعیف]
ابن جریر کی یہ روایت اس طرح ہے کہ جن گناہوں پر جہنم کا ذکر کتاب اللہ میں ہے اسے کرنے والے کے جہنمی ہونے میں ہمیں کوئی شک ہی نہیں تھا یہاں تک کہ ہم پر یہ آیت اتری جب ہم نے اسے سنا تو ہم شہادت کے لیے رک گئے اور تمام امور اللہ تعالیٰ کی طرف سونپ دئیے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5421/3:ضعیف] بزار میں آپ ہی کی ایک روایت ہے کہ کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے استغفار کرنے سے ہم رکے ہوئے تھے یہاں تک کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سنی اور { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت میں سے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے مؤخر کر رکھا ہے۔ } ۱؎ [مسند بزار:3254،قال الشيخ الألباني:حسن] ابو جعفر رازی کی روایت میں آپ کا یہ فرمان ہے کہ جب «يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ» ۱؎ [39-الزمر:53] نازل ہوئی یعنی ’ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے تم میری رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ ‘ تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا حضور شرک کرنے والا بھی؟ آپ کو اس کا یہ سوال ناپسند آیا پھر آپ نے «إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:48] پڑھ کر سنائی۔ سورۃ تنزیل کی یہ آیت مشروط ہے توبہ کے ساتھ پس جو شخص جس گناہ سے توبہ کرے اللہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے گو باربار کرے پس مایوس نہ ہونے کی آیت میں توبہ کی شرط ضرور ہے۔ ورنہ اس میں مشرک بھی آ جائے گا اور پھر مطلب صحیح نہ ہو گا کیونکہ اس آیت میں وضاحت کے ساتھ یہاں موجود ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کی بخشش نہیں ہے۔ ہاں اس کے سوا جسے چاہے یعنی اگر اس نے توبہ بھی نہ کی ہو اس مطلب کے ساتھ اس آیت میں جو امید دلانے والی ہے اور زیادہ امید کی آس پیدا ہو جاتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے اللہ کے ساتھ جو شرک کرے اس نے بڑے گناہ کا افترا باندھا، جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [31-لقمان:13] ’ شرک بہت بڑا ظلم ہے ‘ بخاری مسلم میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے کہا { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ فرمایا یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک بنائے حالانکہ اسی نے تجھ کو پیدا کیا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4477] پھر پوری حدیث بیان فرمائی۔ ابن مردویہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ بتاتا ہوں وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا ہے پھر آپ نے اسی آیت کا یہ آخری حصہ تلاوت فرمایا پھر ماں باپ کی نافرمانی کرنا } پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [31-لقمان:14] ’ میرا شکر کر اور اپنے ماں باپ کا شکریہ کر میری طرف لوٹنا ہے ‘۔
48۔ 1 یعنی ایسے گناہ جن سے مومن توبہ کئے بغیر مرجائیں، اللہ تعالیٰ اگر کسی کے لئے چاہے گا، تو بغیر کسی قسم کی سزا دیئے معاف فرما دے گا اور بہت سوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پر معاف فرما دے گا۔ لیکن شرک کسی صورت میں معاف نہیں ہوگا کیونکہ مشرک پر اللہ نے جنت حرام کردی ہے۔ (2) دوسرے مقام پر فرمایا (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31:13" شرک ظلم عظیم ہے " حدیث میں اسے سب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ اکبر الکبائر الشرک باللہ۔
(آیت 48) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ …:} یہود کو وعید اور ڈانٹ سنانے کے بعد اب اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ یہ وعید ایمان نہ لانے اور کفر و شرک کی وجہ سے ہے، ورنہ دوسرے گناہ تو قابل معافی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تحت ہیں، جسے اللہ چاہے گا معاف فرما دے گا، جسے چاہے گا سزا دے کر چھوڑ دے گا، مگر شرک کی معافی نہیں، کیونکہ مشرک پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی ہے۔ (دیکھیے مائدہ: ۷۲) یہود و نصاریٰ کی طرح نام کے مسلمان، جو ایسے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں جس سے انسان ملت اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، جو مصیبت کے وقت غیر اللہ کو پکارتے، اٹھتے بیٹھتے ان کے نام کا وظیفہ کرتے ہیں، ان کے نام کا روزہ رکھتے، ان کی قبروں کو پوجتے، ان کے نام پر جانور ذبح کرتے اور ان کی منتیں مانتے ہیں، وہ بھی اس وعید کے مصداق ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ حج(۳۱)، سورۂ لقمان(۱۳)، سورۂ انعام (۸۸)، سورۂ زمر (۶۵) اور سورۂ نساء (۱۱۶)۔ ➋ { فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِيْمًا:} اس سے بڑا جھوٹ کیا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کا بھی کوئی شریک ہے، فرمایا: «{ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ }» [ لقمان: ۱۳] ”بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔“
تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جو بہت اپنی پاکیز گی نفس کا دم بھرتے ہیں؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اور (انہیں جو پاکیزگی نہیں ملتی تو در حقیقت) ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جاتا
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی اور ستائش خود کرتے ہیں؟ بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے پاکیزه کرتا ہے، کسی پر ایک دھاگے کے برابر ﻇلم نہ کیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ستھرا کرے اور ان پر ظلم نہ ہوگا دانہ خرما کے ڈورے برابر
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی بیان کرتے ہیں (اور خود اپنی تعریف کرتے ہیں) حالانکہ اللہ جسے چاہتا ہے پاکیزگی عطا کرتا ہے (جس کی چاہتا ہے تعریف کرتا ہے)۔ اور ان پر سوت برابر (ذرہ برابر) ظلم نہیں کیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو پاک کہتے ہیں، بلکہ اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ان پر ایک دھاگے کے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منہ پر تعریف و توصیف کی ممانعت ٭٭
یہودونصاری کا قول تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کہ چہیتے ہیں اور کہتے تھے کہ جنت میں صرف یہود جائیں گے یا نصرانی ان کے اس قول کی تردید میں یہ آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا» ۱؎ [4-النساء:49] نازل ہوئی اور یہ قول مجاہد رحمہ اللہ کے خیال کے مطابق اس آیت کا شان نزول ہی ہے کہ یہ لوگ اپنے بچوں کو امام بناتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بےگناہ ہیں، یہ بھی مروی ہے کہ ان کا خیال تھا کہ ہمارے جو بچے فوت ہو گئے ہیں وہ ہمارے لیے قربت الٰہی کا ذریعہ ہیں ہمارے سفارشی ہیں اور ہمیں وہ بچالیں گے پس یہ آیت اتری۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہودیوں کا اپنے بچوں کا آگے کرنے کا واقعہ بیان کر کے فرماتے ہیں وہ جھوٹے ہیں اللہ تعالیٰ کسی گنہگار کو بےگناہ کی وجہ سے چھوڑ نہیں دیتا، یہ کہتے تھے کہ جیسے ہمارے بچے بے خطا ہیں ایسے ہیں ہم بھی بےگناہ ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت دوسروں کو بڑھی چڑھی مدح و ثنا بیان کرنے کے رد میں اتری ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم مدح کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:3002]
بخاری و مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دوسرے کی مدح و ستائش کرتے ہوئے سن کر فرمایا افسوس تو نے اس اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی ‘ پھر فرمایا ’ اگر تم میں سے کسی کو ایسی ہی ضرورت کی وجہ سے کسی کی تعریف کرنی بھی ہو تو یوں کہے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل یہی ہے کہ کسی کی منہ پر تعریف نہ کی جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2662]
مسند احمد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جو کہے میں مومن ہوں وہ کافر ہے اور جو کہے کہ میں عالم ہوں وہ جاہل ہے اور جو کہے میں جنتی ہوں جہنمی ہے، ۱؎ [مسند الفاروق:574/2:ضعیف و منقطع] ابن مردویہ میں آپ کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ کوئی شخص خود پسندی کرنے لگے اور اپنی سمجھ پر آپ فخر کرنے بیٹھ جائے، ۱؎ [ضعیف:اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی راوی ضعیف ہے] مسند احمد میں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہت ہی کم حدیث بیان فرماتے اور بہت کم جمعے ایسے ہوں گے جن میں آپ نے یہ چند حدیثیں نہ سنائی ہوں کہ { جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہوتا ہے اسے اپنے دین کی سمجھ عطافرماتا ہے } اور { یہ مال میٹھا اور سبز رنگ ہے جو اسے اس کے حق کے ساتھ لے گا اسے اس میں برکت دی جائے گی، تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کی مدح و ستائش سے پرہیز کرو اس لیے کہ یہ دوسرے پر چھری پھیرنا ہے } ۱؎ [مسند احمد:93/4،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ پچھلا جملہ ان سے ابن ماجہ میں بھی مروی ہے ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3743،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انسان صبح کو دین لےکر نکلتا ہے پھر جب کہ وہ لوٹتا ہے تو اس کے دین میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا (اس کی وجہ یہ ہوتی ہے) کہ وہ صبح کسی سے اپنا کام نکالنے کے لیے ملا، اس کی تعریف شروع کر دی اور اس کی مدح سرائی شروع کی اور قسمیں کھا کر کہنے لگا آپ ایسے ہیں اور ایسے ہیں حلانکہ نہ وہ اس کے نقصان کا مالک ہے نہ نفع اور بسا اوقات ممکن ہے ان کی تعریفی کلمات کے بعد بھی اس سے اس کا کام نہ نکلے لیکن اس نے تو اللہ کو ناخوش کردیا۔ پھر آپ نے آیت تزکیہ کی تلاوت فرمائی(ابن جریر) اور اس کا تفصیلی بیان «فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ» ۱؎ [53-النجم:32] کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جسے چاہے پاک کر دے کیونکہ تمام چیزوں کی حقیقت اور اصلیت کا عالم وہی ہے، پھر فرمایا کہ اللہ ایک دھاگے کے وزن کے برابر بھی کسی کی نیکی نہ چھوڑے گا، فتیل کے معنی ہیں کھجور کی گٹھلی کے درمیان کا دھاگہ اور مروی ہے کہ وہ دھاگہ جسے کوئی اپنی انگلیوں سے بٹ لے۔
پھر فرماتا ہے ان کی افترا پردازی تو دیکھو کہ کس طرح اللہ عزوجل کی اولاد اور اس کے محبوب بننے کے دعویدار ہیں؟ اور کیسی باتیں کر رہے ہیں کہ ہمیں تو صرف چند دن آگ میں رہنا ہو گا کس طرح اپنے بروں کے نیک اعمال پر اعتماد کیے بیٹھے ہیں؟ حالانکہ ایک کا عمل دوسرے کو کچھ نفع نہیں دے سکتا جیسے ارشاد ہے «تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ وَلَا تُسْـــَٔــلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:134] ’ یہ ایک گروہ ہے جو گزر چکا ان کے اعمال ان کے ساتھ اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ ‘ پھر فرماتا ہے ان کا یہ کھلا کذب و افترا ہی ان کے لیے کافی ہے «جِبْتِ» کے معنی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ وغیرہ سے جادو اور طاغوت کے معنی شیطان کے مروی ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:462/8] یہ بھی کہا جاتا ہے کہ «جبت» حبش کا لفظ ہے اس کے معنی شیطان کے ہیں، شرک بت اور کاہن کے معنی بھی بتائے گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد حی بن اخطب ہے، بعض کہتے ہیں کعب بن اشرف ہے، ایک حدیث میں ہے فال اور پرندوں سے یعنی ان کے نام یا ان کے اڑنے یا بولنے یا ان کے نام سے شگون لینا اور زمین پر لکیریں کھینچ کر معاملہ طے کرنا یہ جبت ہے، ۱؎ [سنن ابوداود:3907،قال الشيخ الألباني:ضعیف] حسن کہتے ہیں «جبت» شیطان کی گنگناہٹ ہے، طاغوت کی نسبت پہلے سورہ بقرہ میں تفصیلی ذکر گزر چکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، جابر رحمہ اللہ سے جب طاغوت کی نسبت سوال کیا گیا تو فرمایا کہ یہ کاہن لوگ ہیں جن کے پاس شیطان آتے تھے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسانی صورت کے یہ شیاطین ہیں جن کے پاس لوگ اپنے جھگڑے لے کر آتے ہیں اور انہیں حاکم مانتے ہیں۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی عبادت اللہ سوا کی جائے۔ پھر فرمایا کہ انکی جہالت بے دینی اور خود اپنی کتاب کے ساتھ کفر کی نوبت ہیاں تک پہنچ گئی ہے کہ کافروں کو مسلمانوں پر ترجیح اور افضلیت دیتے ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے کہ حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ والوں کے پاس آئے تو اہل مکہ نے ان سے کہا تم اہل کتاب اور صاحب علم ہو بھلا بتا ؤ تو ہم بہتر ہیں یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے کہا تم کیا ہو؟ اور وہ کیا ہیں؟ تو اہل مکہ نے کہا ہم صلہ رحمی کرتے ہیں تیار اونٹنیاں ذبح کرکے دوسروں کو کھلاتے ہیں، لسی پلاتے ہیں غلاموں کو آزاد کرتے ہیں حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صنبور ہیں ہمارے رشتہ ناتے تڑوادیے۔ ان کا ساتھ حاجیوں کے چوروں نے دیا ہے جو قبیلہ غفار میں سے ہیں اب بتا ؤ ہم اچھے یا وہ؟ تو ان دونوں نے کہا تم بہتر ہو اور تم زیادہ سیدھے راستے پرہو اس پر یہ آیت اتری دوسری روایت میں ہے انہی کے بارے میں «إِنَّ شانِئَكَ هُوَ الأَبتَرُ» ۱؎ [108-الکوثر:3] اتری ہے۔ بنو وائیل اور بنو نضیر کے چند سردار جب عرب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آگ لگا رہے تھے اور جنگ عظیم کی تیاری میں تھے اس قوت جب یہ قریش کے پاس آئے تو قریشیوں نے انہیں عالم و درویش جان کر ان سے پوچھا کہ بتاؤ ہمارا دین اچھا ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا؟ تو ان لوگوں نے کہا تم اچھے دین والے اور ان سے زیادہ صحیح راستے پر ہو اس پر ہی آیت اتری اور خبر دی گئی کہ یہ لعنتی گروہ ہے اور ان کا ممد و معاون دنیا اور آخرت میں کوئی نہیں اس لیے کہ صرف کفار کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے بطور چاپلوسی اور خوشامد کے یہ کلمات اپنی معلومات کے خلاف کہہ رہے ہیں لیکن یاد رکھ لیں کہ یہ کامیاب نہیں ہو سکتے چنانچہ یہی ہوا زبردست لشکر لے کر سارے عرب کو اپنے ساتھ ملا کر تمام تر قوت و طاقت اکٹھی کر کے ان لوگوں کو مدینہ شریف پر چڑھائی کی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے اردگرد خندق کھودنی پڑی لیکن بالآخر دنیا نے دیکھ لیا ان کی ساری سازشیں ناکام ہوئیں یہ خائب و خاسر رہے، نامراد و ناکام پلٹے، دامن مراد خالی رہا بلکہ نامرادی مایوسی اور نقصان عظیم کے ساتھ لوٹنا پڑا۔ «وَرَدَّ اللَّـهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا ۚ وَكَفَى اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ قَوِيًّا عَزِيزًا» [ 33-الأحزاب: 25 ] اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد آپ کی اور اپنی قوت و عزت سے (کافروں کو) اوندھے منہ گرا دیا، «فالحمداللہ الکبیر المتعال» ۔
49۔ 1 یہود اپنے منہ میاں میٹھو بنتے تھے مثلًا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں وغیرہ، اللہ نے فرمایا تزکیہ کا اختیار بھی اللہ کو ہے اور اس کا علم بھی اسی کو ہے،" فتیل " کھجور کی گٹھلی کے کٹاؤ پر جو دھاگے یا سوت کی طرح نکلتا یا دکھائی دیتا ہے اس کو کہا جاتا ہے۔ یعنی اتنا سا ظلم بھی نہیں کیا جائے گا۔
(آیت 49) {”فَتِيْلًا“} اس پتلے دھاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے کٹاؤ میں نظر آتا ہے۔ یہ محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہو گا۔ (طبری) یہود اپنے آپ کو پاک باز اور مقدس کہتے، کبھی کہتے جنت میں ہم ہی جائیں گے: «{ لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى }» [ البقرۃ: ۱۱۱ ] ”جنت میں ہر گز داخل نہیں ہوں گے مگر جو یہودی ہوں گے یا نصاریٰ۔“ کبھی اپنے آپ کو اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب بتاتے۔ (دیکھیے مائدہ:۱۸) اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی کہ کسی کو پاک باز قرار دینا تو اللہ کا کام ہے، اپنی تعریف آپ کرنا انسان کے لیے مہلک ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى }» [ النجم: ۳۲ ] ”اپنے آپ کو پاک مت قرار دو، وہ زیادہ جانتا ہے کون متقی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے کی تعریف سے بھی، خصوصاً جب کوئی سامنے ہو یا مبالغہ کے ساتھ ہو منع فرمایا۔ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا: [ أَنْ نَحْثِيَ فِيْ وُجُوْهِ الْمَدَّاحِيْنَ التُّرَابَ ] [ مسلم، الزھد، باب النھی عن المدح…: ۳۰۰۲ ] ”ہم زیادہ تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دیں۔“ اور فرمایا: [ إِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ فَإِنَّهُ ذَبْحٌ ] [ ابن ماجہ، الأدب، باب المدح: ۳۷۴۳ ] ”باہمی مدح گوئی سے بچو کیونکہ یہ ذبح کرنا ہے۔“ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دوسرے کی تعریف کرتے ہوئے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ ] ”تجھ پر افسوس! تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔“ پھر فرمایا: ” اگر تم میں سے کسی کو کسی کی لا محالہ تعریف کرنی ہے تو اس طرح کہا کرے کہ میں اسے اس طرح گمان کرتا ہوں، اللہ کے سامنے کسی کا تزکیہ نہ کرے (پاک قرار نہ دے)۔“ [ بخاری، الأدب، باب ما یکرہ من التمادح: ۶۰۶۱ ]
دیکھو تو سہی، یہ اللہ پر بھی جھوٹے افترا گھڑنے سے نہیں چوکتے اور ان کے صریحاً گناہ گا ر ہونے کے لیے یہی ایک گناہ کافی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
دیکھو یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر کس طرح جھوٹ باندھتے ہیں اور یہ (حرکت) صریح گناه ہونے کے لئے کافی ہے
احمد رضا خان بریلوی
دیکھو کیسا اللہ پر جھوٹ باندھا رہے ہیں اور یہ کافی ہے صریح گناہ،
علامہ محمد حسین نجفی
دیکھو کہ یہ کس طرح خدا پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں۔ اور ان کے گنہگار ہونے کے لیے یہی کھلا ہوا گناہ کافی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
دیکھ وہ اللہ پر کس طرح جھوٹ باندھتے ہیں اور صریح گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منہ پر تعریف و توصیف کی ممانعت ٭٭
یہودونصاری کا قول تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کہ چہیتے ہیں اور کہتے تھے کہ جنت میں صرف یہود جائیں گے یا نصرانی ان کے اس قول کی تردید میں یہ آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا» ۱؎ [4-النساء:49] نازل ہوئی اور یہ قول مجاہد رحمہ اللہ کے خیال کے مطابق اس آیت کا شان نزول ہی ہے کہ یہ لوگ اپنے بچوں کو امام بناتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بےگناہ ہیں، یہ بھی مروی ہے کہ ان کا خیال تھا کہ ہمارے جو بچے فوت ہو گئے ہیں وہ ہمارے لیے قربت الٰہی کا ذریعہ ہیں ہمارے سفارشی ہیں اور ہمیں وہ بچالیں گے پس یہ آیت اتری۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہودیوں کا اپنے بچوں کا آگے کرنے کا واقعہ بیان کر کے فرماتے ہیں وہ جھوٹے ہیں اللہ تعالیٰ کسی گنہگار کو بےگناہ کی وجہ سے چھوڑ نہیں دیتا، یہ کہتے تھے کہ جیسے ہمارے بچے بے خطا ہیں ایسے ہیں ہم بھی بےگناہ ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت دوسروں کو بڑھی چڑھی مدح و ثنا بیان کرنے کے رد میں اتری ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم مدح کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:3002]
بخاری و مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دوسرے کی مدح و ستائش کرتے ہوئے سن کر فرمایا افسوس تو نے اس اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی ‘ پھر فرمایا ’ اگر تم میں سے کسی کو ایسی ہی ضرورت کی وجہ سے کسی کی تعریف کرنی بھی ہو تو یوں کہے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل یہی ہے کہ کسی کی منہ پر تعریف نہ کی جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2662]
مسند احمد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جو کہے میں مومن ہوں وہ کافر ہے اور جو کہے کہ میں عالم ہوں وہ جاہل ہے اور جو کہے میں جنتی ہوں جہنمی ہے، ۱؎ [مسند الفاروق:574/2:ضعیف و منقطع] ابن مردویہ میں آپ کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ کوئی شخص خود پسندی کرنے لگے اور اپنی سمجھ پر آپ فخر کرنے بیٹھ جائے، ۱؎ [ضعیف:اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی راوی ضعیف ہے] مسند احمد میں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہت ہی کم حدیث بیان فرماتے اور بہت کم جمعے ایسے ہوں گے جن میں آپ نے یہ چند حدیثیں نہ سنائی ہوں کہ { جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہوتا ہے اسے اپنے دین کی سمجھ عطافرماتا ہے } اور { یہ مال میٹھا اور سبز رنگ ہے جو اسے اس کے حق کے ساتھ لے گا اسے اس میں برکت دی جائے گی، تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کی مدح و ستائش سے پرہیز کرو اس لیے کہ یہ دوسرے پر چھری پھیرنا ہے } ۱؎ [مسند احمد:93/4،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ پچھلا جملہ ان سے ابن ماجہ میں بھی مروی ہے ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3743،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انسان صبح کو دین لےکر نکلتا ہے پھر جب کہ وہ لوٹتا ہے تو اس کے دین میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا (اس کی وجہ یہ ہوتی ہے) کہ وہ صبح کسی سے اپنا کام نکالنے کے لیے ملا، اس کی تعریف شروع کر دی اور اس کی مدح سرائی شروع کی اور قسمیں کھا کر کہنے لگا آپ ایسے ہیں اور ایسے ہیں حلانکہ نہ وہ اس کے نقصان کا مالک ہے نہ نفع اور بسا اوقات ممکن ہے ان کی تعریفی کلمات کے بعد بھی اس سے اس کا کام نہ نکلے لیکن اس نے تو اللہ کو ناخوش کردیا۔ پھر آپ نے آیت تزکیہ کی تلاوت فرمائی(ابن جریر) اور اس کا تفصیلی بیان «فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ» ۱؎ [53-النجم:32] کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جسے چاہے پاک کر دے کیونکہ تمام چیزوں کی حقیقت اور اصلیت کا عالم وہی ہے، پھر فرمایا کہ اللہ ایک دھاگے کے وزن کے برابر بھی کسی کی نیکی نہ چھوڑے گا، فتیل کے معنی ہیں کھجور کی گٹھلی کے درمیان کا دھاگہ اور مروی ہے کہ وہ دھاگہ جسے کوئی اپنی انگلیوں سے بٹ لے۔
پھر فرماتا ہے ان کی افترا پردازی تو دیکھو کہ کس طرح اللہ عزوجل کی اولاد اور اس کے محبوب بننے کے دعویدار ہیں؟ اور کیسی باتیں کر رہے ہیں کہ ہمیں تو صرف چند دن آگ میں رہنا ہو گا کس طرح اپنے بروں کے نیک اعمال پر اعتماد کیے بیٹھے ہیں؟ حالانکہ ایک کا عمل دوسرے کو کچھ نفع نہیں دے سکتا جیسے ارشاد ہے «تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ وَلَا تُسْـــَٔــلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:134] ’ یہ ایک گروہ ہے جو گزر چکا ان کے اعمال ان کے ساتھ اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ ‘ پھر فرماتا ہے ان کا یہ کھلا کذب و افترا ہی ان کے لیے کافی ہے «جِبْتِ» کے معنی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ وغیرہ سے جادو اور طاغوت کے معنی شیطان کے مروی ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:462/8] یہ بھی کہا جاتا ہے کہ «جبت» حبش کا لفظ ہے اس کے معنی شیطان کے ہیں، شرک بت اور کاہن کے معنی بھی بتائے گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد حی بن اخطب ہے، بعض کہتے ہیں کعب بن اشرف ہے، ایک حدیث میں ہے فال اور پرندوں سے یعنی ان کے نام یا ان کے اڑنے یا بولنے یا ان کے نام سے شگون لینا اور زمین پر لکیریں کھینچ کر معاملہ طے کرنا یہ جبت ہے، ۱؎ [سنن ابوداود:3907،قال الشيخ الألباني:ضعیف] حسن کہتے ہیں «جبت» شیطان کی گنگناہٹ ہے، طاغوت کی نسبت پہلے سورہ بقرہ میں تفصیلی ذکر گزر چکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، جابر رحمہ اللہ سے جب طاغوت کی نسبت سوال کیا گیا تو فرمایا کہ یہ کاہن لوگ ہیں جن کے پاس شیطان آتے تھے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسانی صورت کے یہ شیاطین ہیں جن کے پاس لوگ اپنے جھگڑے لے کر آتے ہیں اور انہیں حاکم مانتے ہیں۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی عبادت اللہ سوا کی جائے۔ پھر فرمایا کہ انکی جہالت بے دینی اور خود اپنی کتاب کے ساتھ کفر کی نوبت ہیاں تک پہنچ گئی ہے کہ کافروں کو مسلمانوں پر ترجیح اور افضلیت دیتے ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے کہ حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ والوں کے پاس آئے تو اہل مکہ نے ان سے کہا تم اہل کتاب اور صاحب علم ہو بھلا بتا ؤ تو ہم بہتر ہیں یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے کہا تم کیا ہو؟ اور وہ کیا ہیں؟ تو اہل مکہ نے کہا ہم صلہ رحمی کرتے ہیں تیار اونٹنیاں ذبح کرکے دوسروں کو کھلاتے ہیں، لسی پلاتے ہیں غلاموں کو آزاد کرتے ہیں حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صنبور ہیں ہمارے رشتہ ناتے تڑوادیے۔ ان کا ساتھ حاجیوں کے چوروں نے دیا ہے جو قبیلہ غفار میں سے ہیں اب بتا ؤ ہم اچھے یا وہ؟ تو ان دونوں نے کہا تم بہتر ہو اور تم زیادہ سیدھے راستے پرہو اس پر یہ آیت اتری دوسری روایت میں ہے انہی کے بارے میں «إِنَّ شانِئَكَ هُوَ الأَبتَرُ» ۱؎ [108-الکوثر:3] اتری ہے۔ بنو وائیل اور بنو نضیر کے چند سردار جب عرب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آگ لگا رہے تھے اور جنگ عظیم کی تیاری میں تھے اس قوت جب یہ قریش کے پاس آئے تو قریشیوں نے انہیں عالم و درویش جان کر ان سے پوچھا کہ بتاؤ ہمارا دین اچھا ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا؟ تو ان لوگوں نے کہا تم اچھے دین والے اور ان سے زیادہ صحیح راستے پر ہو اس پر ہی آیت اتری اور خبر دی گئی کہ یہ لعنتی گروہ ہے اور ان کا ممد و معاون دنیا اور آخرت میں کوئی نہیں اس لیے کہ صرف کفار کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے بطور چاپلوسی اور خوشامد کے یہ کلمات اپنی معلومات کے خلاف کہہ رہے ہیں لیکن یاد رکھ لیں کہ یہ کامیاب نہیں ہو سکتے چنانچہ یہی ہوا زبردست لشکر لے کر سارے عرب کو اپنے ساتھ ملا کر تمام تر قوت و طاقت اکٹھی کر کے ان لوگوں کو مدینہ شریف پر چڑھائی کی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے اردگرد خندق کھودنی پڑی لیکن بالآخر دنیا نے دیکھ لیا ان کی ساری سازشیں ناکام ہوئیں یہ خائب و خاسر رہے، نامراد و ناکام پلٹے، دامن مراد خالی رہا بلکہ نامرادی مایوسی اور نقصان عظیم کے ساتھ لوٹنا پڑا۔ «وَرَدَّ اللَّـهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا ۚ وَكَفَى اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ قَوِيًّا عَزِيزًا» [ 33-الأحزاب: 25 ] اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد آپ کی اور اپنی قوت و عزت سے (کافروں کو) اوندھے منہ گرا دیا، «فالحمداللہ الکبیر المتعال» ۔
50۔ 1 یعنی مذکورہ دعوائے تزکیہ کرکے۔ 50۔ 2 یعنی ان کی یہ حرکت اپنی پاکیزگی کا ادعا ان کے جھوٹ افزا کے لئے کافی ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت اور اس کے شان نزول کی روایات سے معلوم ہوا کہ ایک دوسرے کی مدح و توصیف بالخصوص تزکیہ نفوس کا دعویٰ کرنا صحیح اور جائز نہیں۔ اسی بات کو قرآن کریم کے دوسرے مقام پر اسی طرح فرمایا، (فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى) 53:32 اپنے نفسوں کی پاکیزگی اور ستائش مت کرو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تم میں متقی کون ہے؟ حدیث میں ہے حضرت مقداد ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی ڈال دیں " ان نحثو فی وجوہ المداحین التراب (صحیح مسلم، کتاب الزھد) ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک دوسرے آدمی کی تعریف کرتے ہوئے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ویحک قطیت عنق صاحبک) افسوس ہے تجھ پر تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی پھر فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کو کسی کی لا محالہ تعریف کرنی ہے تو اس طرح کہا کرے، میں اسے اس طرح گمان کرتا ہوں۔ اللہ پر کسی کا تزکیہ بیان نہ کرے (صحیح بخاری)
(آیت 50) {وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِيْنًا:} یعنی ان کے یہ جھوٹے دعوے اور اللہ تعالیٰ پر افترا ہی ان کے سخت گناہ گار ہونے کے لیے کافی ہے۔